مواد پر جائیں

ڈاکٹر شہزاد سلیم سے وابستگی کی روداد

گفتگو: محمد ذکوان ندوی / ترتیب: شاہد محمود اردو

ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ

یہ بہت خوشی کا موقع ہے کہ آج جناب ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب کو ان کی خدمات کے طور پر ایک اعزاز دیا جا رہا ہے۔ بہت مبارک باد۔ ان کے لیے بہت خوشی کا موقع ہے اور وہ اس کے ہر طرح سے مستحق ہیں۔ یہ ایک بہتر روایت قائم ہو رہی ہے کہ اس طرح کے لوگ، جنھوں نے اپنی پوری زندگی وقف کی ہے کسی کام کے لیے اور خدمت کی ہے تو ان کی زندگی ہی میں ان کا اعتراف کیا جائے، نہ یہ کہ جو ہمارے ہاں روایت ہے کہ بعد از مرگ تعزیتی جلسے ہوتے ہیں تو یہ روایت درست نہیں ہے، بلکہ زندگی ہی میں اس کو سراہنا چاہیے۔ یہ بہت بڑی چیز ہے، بہت مبارک باد کا موقع ہے۔ اصل میں شہزاد سلیم صاحب پہلے شخص ہیں جن کے ذریعے سے میں ’’المورد‘‘ سے اور اس پورے سلسلے سے واقف ہوا۔ ’سلسلے‘ کا لفظ یہاں پر میں تصوف کے سلسلے کے مفہوم میں نہیں بول رہا ہوں، یہ مکتب فراہی کا سلسلہ، سلسلۂ فراہی۔ اصل میں ہوا یہ کہ میں چونکہ seeker تھا، متلاشی تھا تو میرے ذہن میں مختلف قسم کے علمی سوالات ہوا کرتے تھے تو جب کہیں سے سراغ ملا کہ ’’المورد‘‘ کوئی ادارہ ہے، وہاں سے یہ سب چیزیں پوچھی جا سکتی ہیں تو پہلے میں نے ای میل حاصل کیا اور ای میل پر غالباً 2013ء کی بات ہے، پہلی بار شہزاد سلیم صاحب سے رابطہ ہوا اور مجھے حیرت ہوئی جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ یہ بتائیے کہ آپ کی ٹیم میں کون سا شخص ہے ایسا جس سے میں علمی فکری سوالات کرسکوں؟ اس کا نام، ای میل مجھے بتا دیجیے تو میں ان سے رابطے میں رہوں گا اور سیکھتا رہوں گا تو شہزاد صاحب نے فرمایا کہ ہماری ٹیم میں کسی بھی شخص سے آپ سوال کرسکتے ہیں۔ میرے لیے بہت حیرت ناک بات تھی کہ اچھا ایسی ٹیم بھی موجود ہے! ورنہ عام طور پر یہ تو ہے نہیں ہمارے ہاں۔ تو بہت خوشی ہوئی اس سے اور پھر میں مسلسل ان کو ای میل کرتا رہا۔ یہ واٹس ایپ سے پہلے کے زمانے کی بات ہے اور وہ ہر چیز کا جواب دیتے تھے۔

ان کی خاصیت یہ ہے کہ ماشاءاللہ بہت ہی متعین اور مختصر انداز میں، لیکن فوراً جواب دیتے ہیں۔ یہ صفت بھی بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔گویا کہ میں نے طالب کے طور پر ان سے سیکھا اور استفادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو بہت جزاے خیر عطا فرمائے، ان کی عمر میں، صحت میں، ہر چیز میں برکت عطا فرمائے۔

دوسرے نمبر پر ریحان صاحب تھے، جن سے میں استفادہ کرتا رہا اور پھر تیسرے نمبر پر ہمارے حسن بھائی تھے، ان سے ابھی تک استفادہ اور رابطہ جاری ہے۔ اس کی شکل یہ ہوئی کہ حسن صاحب کی استاذ کے ساتھ حدیث کے موضوع پر سوال و جواب کی غالباً پہلی ریکارڈنگ تھی، ان کی جب میں نے آواز سنی تو آواز بہت پرکشش تھی اور بہت کھینچ رہی تھی تو میں نے پوچھا شہزاد صاحب سے بھی اور ریحان صاحب سے بھی کہ بھائی، یہ کون صاحب ہیں، کوئی لڑکا نوجوان لگ رہا ہے تو یہ کون صاحب ہیں؟ ذرا مجھے ان کا رابطہ وغیرہ دیجیے تو انھوں نے کہا کہ یہ غالباً حسن ہیں۔ اس کے بعد پھر حسن صاحب سے میرا رابطہ ہو گیا۔

میں جو اس وقت کہنا چاہتا ہوں، وہ صرف یہ کہ شہزاد صاحب اس بات کی بہت عمدہ مثال ہیں کہ آدمی کس طرح اپنے آپ کو پہچانے اور پہچان کر اپنے متعین ہدف پر کس طرح وہ اپنا سفر جاری رکھے۔ ہم سب کو اس مثال کو اختیار کرنا چاہیے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے کہ انھوں نے پہلے دن سے استاذ کی صحبت میں آ کر اپنے آپ کو پہچانا اور اس کے بعد اسی شاہ راہ پر اپنے آپ کو قائم رکھا اور اس کے نتیجے میں بہت اعلیٰ چیزیں ان کے قلم سے الحمدللہ آئی ہیں۔ خاص طور پر ابھی جو چیز آئی ہے ’’History of the Quran‘‘ کے نام سے، وہ بہت ہی عظیم چیز ہے۔ میں نے گزارش بھی کی تھی کہ اس کا ترجمہ بھی ہونا چاہیے، کم سے کم اردو دان طبقے تک یہ باتیں پہنچیں۔ بس مجھے اتنا ہی کہنا تھا۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزاے خیر دے جو سب یہاں اکٹھا ہوئے اور ڈاکٹر صاحب کے لیے یہ چیز بہت مبارک باد کا باعث ثابت ہو۔ جزاکم اللہ۔