مواد پر جائیں

کاروانِ عزیمت کا سرخیل

خطاب: محمد حسن الیاس / ترتیب: شاہد رضا اردو

ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ

الحمدللّٰہ رب العالمين، والصلاة والسلام علی محمد الأمین، فأعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم، بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم.

عزیزان گرامی قدر،

آج کی اس تقریب کا مقصد ہمارے عہد کے ایک بڑے عالم اور مدرسۂ فراہی کی روح رواں جناب ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب کو ان کی زندگی بھر کی مساعی، ان کے خلوص، ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ اس تقریب کا جو محرک ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس کو بھی واضح کروں تاکہ اس کی معنویت لوگوں تک پہنچ سکے۔ اللہ تعالیٰ کی اس کائنات میں آپ کو ہر جگہ اختلافات نظر آتے ہیں؛ لوگوں کے چہرے، صورتیں، رنگ و روپ، صوت و آہنگ اور اسی طریقے سے صلاحیتوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔

اللہ کی اس دنیا میں نظام ایسا بنایا گیا ہے کہ بعض لوگوں کو اللہ کچھ غیر معمولی صلاحیتیں دے کر بھیجتے ہیں؛ وہ رہنمائی کے منصب پر فائز ہوتے ہیں، وہ معلمین ہوتے ہیں، محققین ہوتے ہیں، مجتہدین ہوتے ہیں، علما ہوتے ہیں، ناصح ہوتے ہیں، خیرخواہ ہوتے ہیں، لیڈر ہوتے ہیں، سیاست دان ہوتے ہیں، رہبر و رہنما ہوتے ہیں۔ صلاحیتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کی جاتی ہیں، ودیعت کی جاتی ہیں اور یہ صلاحیتیں جہاں ایک بہت بڑی نعمت ہوتی ہیں، اللہ کا احسان، فضل، کرم، احسان، انعام ہوتی ہیں، وہیں ایک بہت بھاری ذمہ داری اپنے ساتھ لے کر آتی ہیں۔ اس دنیا میں دو ہی طرح کے طبقات ہوتے ہیں: ایک وہ جو رہبری کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو رہبری قبول کرتے ہیں۔ جن لوگوں کو یہ صلاحیتیں نہیں ملتیں، اللہ کا ان پر بھی بڑا غیر معمولی احسان ہوتا ہے، اس لیے کہ محرومی بہت ساری صورتوں میں خود ایک بڑی نعمت بن جاتی ہے، لیکن جب آپ کو اللہ صلاحیت دے تو پھر امتحان بھی سخت ہوتا ہے، ذمہ داری بھی سخت ہوتی ہے۔ اس ذمہ داری کو نبھانے والی شخصیات تاریخ کے صفحۂہستی پر اپنے نقوش قائم کرتی ہیں، نسلوں کی تربیت کا باعث بنتی ہیں اور قوموں کی تقدیر اور زندگی کو بھی بدل دیتی ہیں، اور یہی با صلاحیت لوگ اگر اپنی ذمہ داری کو نہ پہچانیں تو یہ قوموں کی ہلاکت کا باعث بھی بن جاتے ہیں، کیونکہ ان کے بعض اشاروں سے، ان کے بعض نظریات و افکار سے ملت اور نسلیں تک متاثر ہوتی ہیں۔ تو بڑی صلاحیت کا ہونا یہ محض خدا کی ایک عنایت کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا امتحان ہے، ایک بہت بڑی آزمایش ہے۔ وہ لوگ بہت زیادہ خراج تحسین و ہدیۂ تبریک کے مستحق ہیں جن کو یہ صلاحیتیں اللہ نے دی ہیں اور وہ ان کا صحیح اور درست استعمال کرتے ہیں۔ اور دنیا میں خدا کی اسکیم یہ ہے کہ انسان کو جب کوئی صلاحیت ملتی ہے تو انسان استکبار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ انسان اس صلاحیت کو اپنی برتری اور زعم کا باعث سمجھ لیتا ہے۔ روے زمین پر اللہ تعالیٰ نے یہ کام جب پیغمبروں کی قوموں کے ساتھ کیا تو اس کی تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے کہ جیسے ہی ان کو کوئی منصب ملا، کوئی صلاحیت ملی، کوئی برتری ملی تو بجاے اس کے کہ وہ اس کو اللہ کی نعمت سمجھ کر احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اس کو ادا کریں، وہ اسی کو اپنے لیے باعث فخر اور تمرد اور تکبر سمجھ لیتے ہیں۔

ایسے لوگ جنھوں نے اپنی زندگی کو خلوص، جدوجہد، محنت اور محبت کے ساتھ لوگوں اور نسلوں کی تربیت کے لیے وقف کر دیا، وہ لوگ بہت غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں، اور ہماری کوشش اور خواہش یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو دنیا کا تعارف بھی ہو اور دنیا کو ان لوگوں کا تعارف بھی ہو، اور ان کی خدمات کو بھی سراہا جائے۔ بڑی محرومی ہوتی ہے کسی قوم کی، کسی ملت کی اور پھر ان کے اجتماعی نظم اور اداروں کی کہ وہ ان افراد کی قدر و قیمت کو نہیں پہچانتے۔ مادیت کی اس دنیا میں لوگوں کی ویلیوز(values) اور قدر و قیمت ان کے benefits tangible (ظاہر فائدوں) سے طے کی جاتی ہے۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ غامدی صاحب کا جو مدرسۂ فکر ہے، اس کے اندر امت کے ہر طبقۂ فکر کے جو بڑے افراد گزرے ہیں، ان کی اہمیت کو دنیا تک پہنچایا جائے۔ چنانچہ جب آپ اس ادارے کے اندر داخل ہوتے ہیں تو آپ کے دائیں بائیں لگی تصویریں یہ پیغام دیتی ہیں کہ کسی بھی مدرسۂ فکر میں تعبیرات کا اختلاف ہو سکتا ہے، نقطۂ نظر کا تفاوت ہو سکتا ہے، لیکن امت کے تمام بڑے لوگ ہمارے محسنین ہیں، ہمارے مربی ہیں اور ہم ان سب کی اسی درجہ عزت کرتے ہیں، جتنا اپنے اکابرین اور اپنے بزرگوں کی کرتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی کہ ہم لوگ دین کے خدام کی حیثیت سے مذہب پر غور و فکر کے لیے مختلف اداروں میں جمع ہوئے ہیں تو ان اداروں کے اندر بھی یہ سپرٹ (spirit) ہمیشہ کارفرما رہنی چاہیے کہ ہم کوئی گروہی تعصب، کوئی مسلکی شناخت، کوئی فرقہ دارانہ برتری قائم کرنے کے لیے یہاں نہیں آئے اور نہ ہم پہلے لوگ ہیں جو دین کی خدمت کے لیے اٹھے ہیں۔

یہ امت کی تاریخ کی ایک جاوداں، ایک زندہ، ایک درخشاں اور روشن تاریخ ہے، جس کے تسلسل میں ہم کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ فقہ و تدبر ہی کا منہاج ہے، جس کو مدرسۂ فراہی یا دبستان غامدی یا افکار اصلاحی آگے بڑھاتا ہے۔ ہمارے ہاں، بالعموم جو لوگ غامدی صاحب سے متاثر ہوتے ہیں، ان کی چیزوں کو سنتے ہیں، ان کے ذہن میں جو تصویر بنتی ہے، وہ یہ ہے کہ جیسے روایت کے مقابل میں ایک نیا منہاج کھڑا ہو گیا ہے؛ یہ بالکل غلط تصویر ہے۔ ہم ہر ہر سطح پر اس کی مکمل نفی بھی کرتے ہیں اور اپنے حلقۂ ارادت کو یہ بتانے کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ امت کی جو تاریخ ہے، جو روایت ہے، ہم اسی کے تسلسل میں کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم کوئی منفرد، کوئی نیا ایسا زاویہ پیش نہیں کر رہے کہ جس سے لوگ واقف نہیں ہیں؛ وہی ٹولز(tools) ہیں، وہی پیرامیٹرز (parameters) ہیں، وہی پروٹوکولز (protocols) ہیں۔ ان میں اطلاق کے اختلافات سامنے آتے ہیں تو ہمارے اداروں کا بھی یہی مقصد ہے، ہماری تحریک کا بھی یہی مقصد ہے کہ اس وقت اگر ہمیں مدرسۂ فراہی کے اصولوں پر اطمینان ہے تو اس کی ترویج کریں، اس کی دعوت دیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تمام امت کا جو تاریخی علمی ذخیرہ ہے، اس سے استفادہ کریں اور لوگوں کو اپنے ذہنوں کو بند کرنے پر مجبور نہ کریں۔ جو کوئی ہمارے ادارے میں داخل ہو، اس کے اندر یہ احساس اجاگر ہو کہ ہم یہاں پر اپنے آپ کو کسی کا مرید، کسی کا مقلد اور کسی سے متاثر ہونے کے لیے نہیں آ رہے، بلکہ ہم تلاش حق کی جستجو کے مسافر ہیں، اور وہ حق اگر آج ہمیں غامدی صاحب کے افکار میں نظر آتا ہے تو اس تک اپنی رسائی کو ممکن کریں گے۔ کل اس پر تنقید ہوگی تو یہی ادارے ان شاءاللہ انھی مجلسوں میں، انھی اداروں میں، انھی کے علما، سب مل کر غامدی صاحب کے افکار پر بھی تنقید کریں گے۔ ہم ان کو یا اس مدرسۂ فکر کے کسی شخص کو معصومیت کے کسی درجے پر فائز نہیں سمجھتے۔ تو یہ ہماری اس موومنٹ (movement) اور اس تحریک کا سررشتہ ہے، اس میں افراد کی غیر معمولی اہمیت ہے اور ان افراد کے افکار کو بھی انھی کریٹیکل (critical) پس منظر میں ہم پرکھتے ہیں۔

یہ چیز پیش نظر رہے کہ جب فرد کی توقیر ہوتی ہے، اس کی حشمت و تحسین ہوتی ہے تو یہ کوئی شخصیت پرستی نہیں ہے ، بلکہ اس کی فکر کی تحسین ہے۔ جہاں تک فکر ہے تو وہ رواں دواں دریا کی طرح ہے؛ آج ایک جگہ ہے، کل دوسری جگہ ہے، یہ سب بدلتی جائے گی۔ تو اس پس منظر میں آج اس تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔ غامدی صاحب کا یہ جو فکر ہے، یہ جو تحریک ہے، یہ جو دعوت ہے، اس کو کم و بیش پچاس سال ہونے کو آ رہے ہیں۔ اس دعوت کے اولین رفقا میں سے ایک رفیق جناب ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب ہیں۔ ان کے کارہاے نمایاں، ان کی مساعی، ان کی خدمات سے آپ سب لوگ واقف ہیں۔ ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ اس ادارے میں ایک شخص جس نے اپنی پوری زندگی بہت ہی اخلاص اور بڑی محبت کے ساتھ ایک مشن کو دی ہے، اس کے اس اپنے آپ کو وقف کرنے کو ہم سیلیبریٹ(celebrate) کریں، اور اپنی نسلوں کو اور اپنی تاریخ کو بھی یہ پیغام دیں کہ لوگوں کو زندگی میں سراہنا سیکھیں۔

ہمارے ہاں ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو مرنے کے بعد سراہا جاتا ہے۔ ہمارے ممدوح و مخدوم مولانا وحید الدین خان صاحب کا بڑا معروف جملہ ہے کہ تاریخ کے پیغمبر کو تو سب مانتے ہیں، وقت کے پیغمبر کو کوئی نہیں مانتا۔ تو یہ امتِ مسلمہ کی بھی بڑی محرومی ہے کہ ہم اپنے عہد کے بڑے اذہان، بڑی آوازوں، بڑے افکار کی کبھی قدر افزائی نہیں کرتے۔ معاصرانہ چشمک کے اس دور میں کبھی ان چیزوں کو ان کی اوریجنیلیٹی (originality) میں اپریشیٹ(appreciate) نہیں کرتے۔ ایک اور زاویہ بھی ہوتا ہے کہ بہت لوگ اس کو معیوب سمجھتے ہیں کہ بھئی، یہ تو اپنے ہی حلقے کے لوگ ہیں، ان کی عزت و تکریم کر رہے ہیں تو میں یہاں پر بہت ہی اعتماد سے اور پورے فخر سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ہمارے لیے باعث شرف ہے کہ ہم اپنے اساتذہ، اپنے بزرگوں کی توقیر، ان کی حشمت، ان کی لیاقت سے دنیا کو بھی متعارف کرائیں اور ان کو بھی یہ پیغام دیں کہ ہمارے دلوں میں ان کی بہت قدر ہے، اور ان کی یہ قدر محض کوئی مفادات یا وقتی فائدوں کی نظر سے نہیں، بلکہ ان کی تاریخ کی وجہ سے ہے، ان کے کردار کی وجہ سے ہے، ان کے تسلسل کی وجہ سے ہے۔

ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری نسلوں کو یہ پیغام جائے کہ یہ جو ادارہ ہے، یہ جو موومنٹ ہے، یہ اپنے تسلسل میں کھڑی ہوئی ہے۔ اس کی بڑی جاودا ں روایتیں ہیں۔ اس کے اندر ایسے روشن ضمیر پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے اپنے کردار سے اس کو آگے بڑھایا ہے۔ ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب انھی عظمتوں کی داستان کے سرخیل ہیں۔ میرے لیے یہ چیز بہت باعث تشکر ہے کہ مجھے یہ موقع مل رہا ہے کہ اس ادارے میں ہم ان کی خدمات کا باقاعدہ اعتراف کریں اور ان کو سینتیس سال کے اس طویل سفر کے بعد ، کم و بیش چالیس کتابوں کی تصنیف کے بعد اور بے شمار زندگی کے مراحل کے گزرنے کے بعد ان کی استقامت کو خراج تحسین پیش کریں۔

شہزاد صاحب کی علمی خدمات اور محاسن سے لوگ واقف ہیں۔ خود ذاتی طور پر اس مدرسے سے میرا تعارف 2009ء میں باقاعدہ طور پر ہوا؛ جب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب مجھے اقدام کر کے ان کے کسی ادارے میں قدم رکھنا چاہیے۔ اس وقت میں جامعۃ الرشید کراچی میں درجۂ رابعہ کا طالب علم تھا۔تو 2009ء دسمبر کی یہ بات ہے، بہت ہمت کر کے اور بڑا حوصلہ باندھ کر میں نے پہلی دفعہ کراچی جیبیز ہوٹل(Hotel Jabees) میں قدم رکھا اور وہاں سب سے پہلے ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب ہی ہیں جن سے میری ملاقات ہوئی۔ مجھے آج بھی یاد ہے، ’’کیمیائے سعادت‘‘ جو امام غزالی کی کتاب ہے، اس پر مبنی ایک ورکشاپ وہ کرا رہے تھے، اور اس ورکشاپ کے بعد ان سے پہلی دفعہ تعارف ہوا۔ ہم بالکل اپنی مدرسے کی بودو باش میں تھے اور ابتدائی سا تعارف تھا۔ ایک خوف بھی تھا، ڈر بھی تھا کہ پتا نہیں، یہ کیا نیا حلقہ ہے، کس طریقے کے یہ لوگ ہیں، کیسے یہ لوگ کام کرتے ہیں۔ تو وہ پہلی ملاقات جس وقت ان سے ہوئی تو اس کے خاتمے کے بعد انھوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے اپنا تعارف کرایا ۔ ان کی شام یا رات کی فلائٹ تھی۔ شہزاد صاحب نے اتنا اعتماد کیا کہ وہ کلاس سے فارغ ہوئے اور کہا کہ چلیں، اب میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں اور شام کو میری فلائٹ ہے، مجھے ڈراپ کر دیجیے گا۔ تو مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہم نے پہلی ملاقات میں پورا دن ساتھ گزارا، ہم ساحل سمندر پر بیٹھے۔ اس کے بعد میں ان کو اپنے مدرسے لے گیا، وہاں پر ہم پھرتے رہے۔ اور وہ پہلی ملاقات ہی تھی جس نے اس مدرسۂ فکر کا جو عملی پہلو ہے، اس سے میرا تعارف کرایا اور مجھے یہ اندازہ ہوا کہ اس مدرسۂ فکر کے اندر محض علم نہیں ہے، بلکہ اصل چیز کردار ہے، عمل ہے ، صداقت اور سچائی ہے۔

2009ء اور آج 2025ء ہونے کو آ رہا ہے؛ کم و بیش سولہ سترہ سال شہزاد صاحب سے روزانہ کی بنیاد پر تعلق ہے، بات چیت ہے، معاملات ہیں اور کرائسز بھی آئے اور مشکلات بھی آئیں، لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ ان کا سب سے بڑا وصف، سب سے بڑی خدمت کیا ہے؟ لوگ بہت ساری کتابوں کا بھی نام لیں گے تو میں پوری سچائی کے ساتھ یہ عرض کرتا ہوں کہ اگر کوئی ایک چیز بیان کروں گا تو وہ یہ ہے کہ ان سولہ سالوں میں میں نے کبھی ڈاکٹر شہزاد سلیم صاحب کی زبان سے کسی شخص کے بارے میں کوئی منفی کلمہ نہیں سنا۔ یعنی یہاں تک بھی ہوا کہ ہمیں خود مشاہدہ ہوا کہ بڑے پیمانے پر لوگوں نے ان کے ساتھ بڑی بڑی زیادتیاں کر دی ہیں اور بڑا بڑا ظلم کر دیا ہے ، لیکن کبھی ہم نے ان کی زبان سے کسی شخص کے بارے میں، کسی ادارے کے بارے میں ، کسی طبقے کے بارے میں کوئی ایک منفی کلمہ کبھی نہیں سنا۔ تو میرے خیال سے یہ ان سینتیس سالوں میں اگر انھوں نے کوئی اور علمی کام نہ بھی کیا ہوتا اور اگر یہ ایک ہی خدمت ہوتی، اس کو ہی برقرار رکھتے تو ہمارے دلوں میں ان کی یہی قدر و قیمت اور عزت ہوتی۔

یہ ہمارے ادارے کی خوش نصیبی ہے، خوش قسمتی ہے کہ ہم اس تقریب کا انعقاد کر رہے ہیں۔ اس کے پس منظر میں ایک سوچ، ایک فکر کار فرما ہے۔ اور میری جو اجتماعی کوشش ہے اس ادارے کو آگے بڑھانے کی، اس میں میں اس تنبیہ اور اس تحذیر کو ہمیشہ دامن گیر رکھتا ہوں اور رکھوانے کی سعی کرتا ہوں کہ دنیا بھر میں جب مذہبی افکار کی تائید اور نصرت میں ادارے وجود پذیر ہوتے ہیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ادارے خود مقصد بن جاتے ہیں۔ وہ ادارہ ہی اول ہوتا ہے، ادارہ ہی آخر ہوتا ہے۔ ادارے کا ہدف، ادارے کی مالیات، ادارے کے فوائد، ادارے کا روپ، ادارے کے لوگوز (logos)، ادارے کی منزل اور ادارے کی ستایش اور پذیرائی لوگوں کا ہدف اور نصب العین بن جاتا ہے، لیکن ہماری آنکھیں دیکھتی ہیں کہ جب ان اداروں سے افراد رخصت ہوتے ہیں تو بڑی بڑی تحریکیں، بڑی بڑی عظمتیں، بڑی بڑی عمارتیں، بڑے بڑے ادارے قبرستان کا روپ پیش کرتے ہیں۔ تو یہ ادارے افراد پر مشتمل ہیں اور ان افراد کی نصرت اور تائید کے لیے لوگ رضاکارانہ خدمات پیش کرتے ہیں۔ یہ ترتیب ہمیشہ درست رہنی چاہیے؛ جس دن اس ترتیب کو پلٹنے کی، الٹنے کی کوشش کی جائے گی تو یہ ادارے اسی طریقے کی ترقی معکوس کا شکار ہوں گے، جیسے دنیا بھر کے مذہبی دینی ادارے ہمیں نظر آتے ہیں۔

افراد کی اہمیت ہے، ا فراد کی مدد ہے، افراد کی تائید ہے، افراد کا ویژن (vision) ہے، افراد کا نصب العین ہے، افراد کا لائحۂ عمل ہے اور افراد وہ ہیں جو اس تحریک کو پیدا کرنے والے ہیں، اس کو لے کر چلنے والے ہیں، اس فکر کے علما ہیں، اس فکر کے اکابرین ہیں۔

آخر میں میں بس یہ عرض کر دوں کہ اس ادارے کے اندر ہماری ایک ہی کوشش ہے کہ جتنے غامدی صاحب کے رفقا ہیں ، جتنے تلامذہ ہیں، ان کی خدمت پر مامور ہو کر اور بغیر کسی اس چیز کے اور اس جذبے کے کہ شاید یہ کوئی ان کے اوپر ہمارا کوئی احسان ہے، یہ انھی کی بنائی ہوئی بستی ہے، یہ انھی کی محنت سے معاشرے کا ایثار ہے، جس کو ان تنظیموں کی صورت میں ان کی خدمت پر مامور کر دیا گیا ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ، ان شاءاللہ، خدمت کا یہ عمل جاری رہے گا۔ أقول قولي ھذا و أستغفر اللّٰہ لي و لکم و لسائر المسلمین.

خطاب : مکرم عزیز1*

  1. * چیئر آف دی بورڈ، المورد ، امریکہ۔