مواد پر جائیں

کرسمس کی مبارک باد اور ہمارا رویہ

کوکب شہزاد اردو

مسلمان معاشروں میں غیر مسلموں سے عمومی طور پر فاصلہ رکھا جاتا ہے۔ ان کی ہر قسم کی تقریبات میں شرکت کو اسلامی شریعت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ دین کا تقاضا تو صرف یہی ہے کہ مسلمان ان تقریبات کے خلافِ شریعت کاموں میں شریک نہ ہوں۔ لیکن ان کے تہواروں اور دوسری سماجی تقریبات جن میں اس طرح کی کوئی قباحت نہ ہو، شرکت کی کوئی ممانعت نہیں ہے، بلکہ سماجی تعلقات کو بحال رکھنا ضروری ہے۔ کرسمس کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

جب ہم لوگوں سے ملتے ہیں تو ہمیں ان کی طرف عجیب و غریب سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سوال و جواب کی ایک نشست میں ایک خاتون نے مجھ سے پوچھا کہ ہمیں کرسمس کے موقع پر مسیحیوں کو حضرت عیسیٰ کی پیدائش پر مبارک باد نہیں دینی چاہیے؟

میں نے جواب دینے کے بجائے انھی سے پوچھا کہ ہمیں حضرت عیسیٰ کی پیدائش پر مسیحیوں کو کیوں مبارک نہیں دینی چاہیے؟ وہ بھی تو ہمارے نبی تھے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ہر نبی پر ایمان لانا لازمی قرار دیا ہے۔ ان پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہیں بن سکتے۔

اس خاتون نے کہا کہ مسیحیوں کا ایک گروہ انھیں خدا کا بیٹا کہتا ہے، بلکہ بعض تو انھیں خدا ہی مانتے ہیں۔ میں نے اس خاتون سے کہا کہ اس قسم کی باتیں تو ہر مذہب کے پیروکار کرتے ہیں۔ عرب کے یہودی بھی حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا

کہتے تھے کیونکہ جب تورات کھو گئی تو حضرت عزیر نے اپنی یادداشت سے تورات کو دوبارہ لکھا تھا۔ اس وجہ سے یہودی انھیں خدا کا بیٹا کہنے لگے۔ لیکن اس وجہ سے پیغمبروں کا مقام و مرتبہ تو کم نہیں ہو جاتا اور نہ ہی انھوں نے خود کبھی اپنی قوم کے لوگوں سے ان باتوں کا تقاضا کیا ہے کہ انھیں خدا کا شریک مانا جائے، بلکہ اس کے برعکس وہ اپنی پوری زندگی توحید کی تعلیم دیتے رہے ہیں۔

اسی طرح میں نے اپنی ایک کلاس میں حضرت عیسیٰ کے حوالے سے کہا کہ انھوں نے فرمایا تھا کہ نبی آخر الزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنا اور ان کنواری دلہنوں کی طرح نہ ہو جانا جو ہاتھوں میں دیا لیے ساری رات اپنے دلہے کا انتظار کرتی ہیں اور جب دلہے کے آنے کا وقت ہوتا ہے تو وہ سو جاتی ہیں۔ میری یہ بات سن کر ایک خاتون کہنے لگیں:

آپ ہمیں صرف قرآن کی باتیں بتایا کریں، کسی اور نبی کی باتیں نہ بتایا کریں۔

میں نے واضح کیا کہ اس مثال میں جس شخص کی بات کی گئی ہے اس سے مراد نبی خاتم الزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جب آپ کی تعلیمات سے پورا ماحول روشن ہو گیا تو ان یہودیوں نے جانتے بوجھتے کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں، آپ کا انکار کر دیا۔

وہ کہتے تھے کہ امیوں کے بارے میں ہماری کوئی ذمہ داری نہیں اور نہ ہی ان کے نبی کو ماننا ہمارے لیے ضروری ہے۔ ان کی ان باتوں سے اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوئے۔ نبیوں کے معاملے میں تعصب کا شکار ہونے سے ہم دین کے معاملے میں اس خیر کو نہیں پاسکتے جو اللہ تعالیٰ ہمیں دینا چاہتے ہیں۔ اور سورۂ بقرہ میں مسلمانوں کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا:

كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ

ترجمہ: یہ سب اللہ پر ایمان لائے، اور اُس کے فرشتوں، اُس کی کتابوں اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان لائے۔ (ان کا اقرار ہے کہ) ہم اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔

یہ نبیوں کی ایک لڑی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہر بستی، ہر قریہ میں یکے بعد دیگرے بھیجا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے اس وقت لیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو تخلیق کیا اور انھیں زمین پر اتارتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں تمھاری اولاد کی ہدایت کے لیے ہر بستی اور نگر میں ان کے اندر سے ہی نبی اور رسول بھیجوں گا، جو ان کے تمام سوالوں کا جواب دیں گے اور آخری دم تک ان کو صحیح راستے پر چلانے کی کوشش کریں گے۔

فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّي هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۝ (البقرۃ: 38-39)

پھر میری طرف سے اگر کوئی ہدایت تمھارے پاس آئے تو اُسی پر چلنا، اس لیے کہ جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے، اُن کا صلہ جنت ہے، سو اُن کے لیے نہ وہاں کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا، اس مقصد کو اگر سمجھ لیا جائے تو کوئی بھی ان نبیوں میں فرق نہیں کرے گا، چاہے وہ یہود و نصاریٰ ہوں یا پھر مسلمان۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کا ایک گروہ جو خلافِ حقیقت باتیں کرتا ہے، انھیں اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء میں بالکل واضح کر دیا ہے۔ وہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ وہ خدا کے وجود کا حصہ ہیں، اور بعض نے تو یہاں تک جرأت کر ڈالی کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ عین خدا ہیں، لیکن اس میں حضرت عیسیٰ کا اپنا تو کوئی قصور نہیں۔ یہ بالکل ایسے ہے کہ ہم مسلمان اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بہت سی خلافِ حقیقت باتیں منسوب کرتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں فرمائی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام نظریات کی نفی سورۂ نساء میں کی ہے۔

ترجمہ: “اے اہلِ کتاب، اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کے حق میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ کا ایک رسول اور اُس کا ایک کلمہ ہی تھا جو اُس نے مریم کی طرف القا فرمایا تھا اور اُس کی جانب سے ایک روح تھا (جو اللہ نے اُس میں پھونک دی تھی)۔ سو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور (اللہ کو) تین نہ بناؤ۔ باز آجاؤ، یہی تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اللہ ہی تنہا معبود ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ اُس کے اولاد ہو۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے اور ان کے معاملات کو دیکھنے کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ مسیح کو ہرگز اس بات سے کوئی عار نہ ہوگی کہ وہ اللہ کا ایک بندہ ہو اور نہ اللہ کے مقرب فرشتے اسے کبھی عار سمجھیں گے۔ اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لیے عار سمجھتا اور تکبر کرتا ہے تو عنقریب وہ سب کو گھیر کر اپنے حضور میں اکٹھا کر لے گا۔ پھر جو ایمان لائے اور جنھوں نے اچھے عمل کیے ہیں، اُنھیں وہ اُن کا پورا اجر دے گا اور اپنے فضل سے اُن کو زیادہ بھی عطا فرمائے گا۔ اور جن لوگوں نے اُس کی بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے، انھیں وہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے مقابل میں وہ اپنے لیے کوئی حمایتی اور کوئی مددگار نہ پائیں گے۔”

(النساء: 171-173)

اس لیے حضرت عیسیٰ کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت اونچا مقام ہے اور انھوں نے اپنے پیروکاروں کو کبھی نہیں کہا تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا جائے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے نبی ہونے کی حیثیت سے ان کی پیدائش پر خوشی منانا اور ان کے پیروکاروں کو مبارک باد دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ ہمیں قرآن مجید کے ہوتے ہوئے دوسری آسمانی کتابوں کو نہیں پڑھنا چاہیے، تو یہ بالکل غلط بات ہے۔ ہمیں جس طرح تمام نبیوں کو ماننا چاہیے، اسی طرح تمام آسمانی کتابوں پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ ان کتابوں پر ایمان لانا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ان کی اہمیت اور بھی زیادہ اس وقت بڑھ جاتی ہے جب ہم ان کتابوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی پیش گوئیاں پڑھتے ہیں۔ ان کتابوں میں آپ کے بارے میں جو ذکر آیا ہے، اس سے آپ کی حیثیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے، اور قرآن مجید اہلِ کتاب کو بار بار توجہ دلاتا ہے کہ تم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیسے انکار کر سکتے ہو، جبکہ ان کا ذکر تم اپنی کتابوں میں پڑھتے ہو اور تم ان کو ایسے پہچانتے ہو جس طرح انسان اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ (سورۃ الصف، آیت 6)

اس ساری بحث کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قاعدے اور قانون کے مطابق دین کی پیروی کرنی چاہیے۔ دین کو اپنے جذبات کی نذر نہیں کرنا چاہیے، ورنہ ہم دین کے معاملے میں بہت سی خیر و برکت سے محروم ہو جائیں گے۔