[آٹھ سے بارہ برس کے بچوں کے لیے کہان]
وہ آج پھر سخت پریشان ہو رہی تھی۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا، مگر اس کا ربن مل ہی نہیں رہا تھا…اس نے جو فراک پہنا تھا، جو نئی جرابیں اورجوتے پہنے تھے، سب میچنگ (ایک رنگ کے ) تھے ۔ اب اگر ربن کسی اور رنگ کا لگا لیتی توکتنا برا لگتا!
’’ ہائے میرا نیا ربن کہاں گیا!‘‘ اس نے رونی آواز میں کہا ۔
لیکن اس ساری مصیبت کا ذمے دار کون تھا؟ کیا کسی نے اس کا ربن چرالیا تھا یا جان بوجھ کر چھپا لیا تھا؟ ایسی کوئی بات نہیں تھی … بات صرف اتنی تھی کہ اسے اپنی چیزیں اِدھر اُدھر پھینکنے کی عادت تھی ۔ وہ کوئی چیز سلیقے سے نہیں رکھتی تھی۔ اسکول سے آئی ، بیگ کہیں پھینکا ، کوٹ کہیں اتارا ، بالوں کا کلپ اگر باورچی خانے میں اتارا تو وہیں رکھ دیا۔ ایک جراب بیڈ روم میں اتاری تو دوسری ٹی وی والے کمرے میں! اس کی اس عادت سے ہر کوئی تنگ تھا۔
اب وہ پریشان تھی کہ ربن کہاں رکھ بیٹھی ہے؟ کمرے میں ہر جگہ تلاش کے بعد بھی جب اسے ربن نہ ملا تو اس نے رونے کے ساتھ ساتھ چِلانا بھی شروع کردیا۔
’’ کیا مصیبت ہے! میری چیزوں کو کون گم کرتا ہے؟‘‘
اچانک اسے خیال آیا کہ پلنگ کے نیچے دیکھا جائے کہ کہیں سوتے ہوئے نیچے نہ گر پڑا ہو۔ لیکن پلنگ کے نیچے ربن نہ ملا۔
پھر اچانک اس کی آواز آئی …
’’اوہو! یہ کیا ؟ اسے تو میں بہت دنوں سے تلاش کر رہی تھی …!‘‘
اسے اپنے جیولری بکس کا ڈھکنا مل گیا۔ اسے دیکھ کر وہ خوشی سے بولی :’’ اچھا ہوا کہ مل گیا۔ ‘‘ اس نے ڈھکنا جیولری بکس میں رکھا اور پھر ربن کی تلاش شروع کر دی۔ اب اس نے الماری کی درازوں میں دیکھنا شروع کیا، لیکن ربن کے بجاے اسے اپنی گھڑی نظر آگئی۔
’’شکر ہے گھڑی کی شکل دیکھی! کئی دنوں سے نہیں مل رہی تھی۔‘‘ کرن نے اسے اپنی کلائی پر لگاتے ہوئے کہا۔
’’اب کہاں دیکھوں؟‘‘ وہ سوچنے لگی۔ پھر کچھ دیرکے بعد اس نے قالین کے نیچے دیکھا۔ وہاں اسے کوئی چمکتی ہوئی چیز دکھائی دی۔ اس نے جلدی سے ہاتھ بڑھایا۔
’’یہ تو میری ٹرین کی چابی ہے !‘‘
اس نے خوشی خوشی چابی لی اور کھلونوں والی الماری کی طرف گئی۔ ٹرین میں چابی لگانے کے بعد وہ دوبارہ ربن کی تلاش میں لگ گئی۔
اب اسے ردی کی ٹوکری کا خیال آیا،لیکن ربن تو اسے وہاں بھی نہ ملا۔ البتہ اسے اپنی گڑیا کا کھویا ہوا جوتا مل گیا،جس کو وہ پورے ہفتے سے تلاش کر رہی تھی۔ اس نے جوتا گڑیا کے پاؤں میں پہنایا اور پھر ربن ڈھونڈنے لگی۔
اس دفعہ اسے اپنے اسکول بیگ کاخیال آیا۔ اسکول بیگ میں بھی ربن نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی مگر وہاں اسے اپنا پنسل تراش مل گیا، جسے اس نے کل بہت تلاش کیاتھا۔ پنسل تراش ملنے پر اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ مگر ربن تو اسے ابھی بھی نہ ملا تھا۔ وہ ایک دفعہ پھر چیزیں الٹنے پلٹنے لگی۔ اب اس کے ذہن میں کپڑوں کی الماری کا خیال آیا۔ وہ بھاگتی ہوئی الماری کی طرف گئی۔ لیکن ربن وہاں ہوتا تو اسے ملتا، مگر اس دفعہ الماری سے اسے اپنے بالوں کا کلپ مل گیا۔ یہ کلپ بہت قیمتی تھا، اس کے ماموں نے اسے دیا تھا۔ اس نے شکر ادا کیا اور پھر ربن کے متعلق سوچنے لگی۔ وہی ایک آخری چیز رہ گئی تھی۔
’’و ہ ضرور کھلونوں کے ڈبے میں ہوگا، اور کہاں ہو سکتا ہے ۔ اب تو میں نے ایک ایک چیز دیکھ ڈالی ہے۔ ‘‘
کرن نے یہ سوچتے ہوئے جب کھلونوں کا ڈبہ دیکھا تو ربن وہاں بھی موجود نہ تھا، لیکن اس دفعہ اسے اپنی کوئی گم شدہ چیز بھی نہ ملی۔ اسے بہت غصہ آیا۔ تھک ہار کر وہ امی کے کمرے کی طرف دوڑی اورجاتے ہی زور سے چلائی:
’’امی …! میرا ربن کہاں ہے؟ مل ہی نہیں رہا، جیولری بکس کا ڈھکن ، گھڑی ، ٹرین کی چابی، گڑیا کا جوتا، پنسل تراش ، بالوں کا کلپ … تمام چیزیں مل گئی ہیں، لیکن یہ ربن کہیں سے نہیں ملا … مجھے پارٹی سے دیرہو رہی ہے‘‘
امی، کرن کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگیں … پھر بولیں …’’ معلوم ہے ربن کیوں گم ہوا؟‘‘
’’نہیں تو … آپ بتائیں … ‘‘کرن نے اپنی گول گول آنکھیں جھپکتے ہوئے پوچھا۔
’’اس لیےکہ تمھاری تمام چیزیں مل جائیں۔‘‘
’’ہاں امی چیزیں تومل گئی ہیں، لیکن میرا ربن ! ہائے اللہ ‘‘ کرن نے تقریباً روتے ہوئے کہا۔
’’وہ بھی مل جائے گا، لیکن اس کے لیے تمھیں ایک وعدہ کرنا ہوگا۔‘‘اس کی امی نے کہا۔
’’ہاں میں کرتی ہوں وعدہ! آپ بتائیں نا، جلدی کریں۔ مجھے ناہید کی سالگرہ پر جانا ہے، دیر ہو رہی ہے ‘‘ کرن نے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔
اس کی امی نے کہا:’’تم وعدہ کرو کہ آیندہ سے اپنی ہر چیز سیلقے سے رکھوگی، ادھر اُدھر نہیں پھینکو گی۔‘‘
’’میں وعدہ کرتی ہوں۔ میری توبہ! واقعی یہ بہت بری عادت ہے۔ اس کی وجہ سے مجھے پارٹی سے دیر ہو رہی ہے اور اسکول سے بھی اکثر دیر ہوجاتی ہے۔‘‘
’’پکا وعدہ کر رہی ہو نا؟‘‘
’’جی امی، بالکل پکا وعدہ۔ اگر میں اپنے وعدے پر قائم نہ رہی تو آپ بے شک مجھے اس دن جیب خرچ نہ دیں۔‘‘ اس نے بڑے یقین سے کہا۔
’’بالکل ٹھیک ، لیکن تمھارا ربن میرے پاس نہیں ہے، بلکہ تمھارے ہی پاس ہے۔‘‘
’’میرے پاس؟… ہائیں … ‘‘ کرن سٹپٹا گئی۔
’’تمھارے بالوں میں! ‘‘ امی نے کہا۔
کرن نے سر پر ہاتھ رکھا تو ربن وہیں تھا۔