مواد پر جائیں

کفر، اتمامِ حجت اور جدید مسلم فکر کا بحران

نعیم احمد بلوچ اردو

[’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

دور جدید میں مسلم فکر کو ایک بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ قرآن کی بعض اصطلاحات کو ان کے اصل سیاق، فطری اخلاقیات اور تاریخی پس منظر سے کاٹ کر عام مذہبی اصطلاحات بنا دیا گیا ہے۔

’’کافر‘‘، ’’مشرک‘‘، ’’دار الاسلام‘‘، ’’دار الکفر‘‘، ’’جہاد‘‘، ’’جزیہ‘‘ اور ’’ارتداد‘‘ جیسی اصطلاحات اصل میں نہایت سنجیدہ قرآنی، نبوی اور تاریخی تناظر رکھتی ہیں، مگر بعد کے ادوار میں انھیں اکثر سیاسی طاقت، سلطنتی توسیع، مذہبی غلبے اور اجتماعی نفسیات کے زیرِ اثر استعمال کیا گیا۔ اسی غلط استعمال نے جدید دور میں شدت پسند بیانیوں کو بنیادی غذا فراہم کی۔

قرآن کے متن کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ’’کفر‘‘ محض کسی دوسرے مذہب سے تعلق کا نام نہیں، بلکہ کفر اصل میں حقیقت کا جان بوجھ کر انکار کا نام ہے۔ یہ ایسا انکار ہے جس میں حق واضح ہو چکا ہو، آدمی اسے پہچان چکا ہو، پھر بھی ضد، تکبر، مفاد یا سرکشی کی بنیاد پر اسے رد کر دے۔ یہ ایک باطنی اور اخلاقی جرم ہے، محض شناختی اختلاف نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن اہلِ کتاب کو عام طور پر ’’یہود‘‘، ’’نصاریٰ‘‘، ’’اہلِ کتاب‘‘ اور ’’بنی اسرائیل‘‘ جیسے ناموں سے مخاطب کرتا ہے۔ قرآن ان کے بعض عقائد کو کفر کہتا ہے، بعض افعال کو شرک کہتا ہے، بعض رویوں کو تحریف اور انکار قرار دیتا ہے، مگر انھیں بہ حیثیتِ مجموعی مشرکینِ عرب کی طرح ایک جنگی یا دشمنانہ اصطلاح میں بند نہیں کرتا۔ قرآن فعل پر حکم لگاتا ہے، قول پر تنقید کرتا ہے، عقیدے کی اصلاح کرتا ہے، لیکن ہر فرد یا پوری مذہبی جماعت کے باطن پر انسانی اندازے سے حتمی فیصلہ نہیں لگاتا۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔ ایک بات یہ ہے کہ ہم کہیں:

’’یہ عقیدہ قرآن کے مطابق شرک ہے‘‘،

’’یہ قول کفر پر مبنی ہے‘‘،

’’یہ عمل توحید کے خلاف ہے‘‘۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہم کسی شخص یا پوری قوم کو ’’کافر‘‘ یا ’’مشرک‘‘ کا حتمی دینی نام دے دیں۔ پہلی بات علمی نقد ہے، دوسری بات اللہ کے اختیار میں دخل اندازی بن سکتی ہے۔ کیونکہ ہمیں کسی کے دل کا علم نہیں۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ کسی شخص تک اسلام کس صورت میں پہنچا، اس نے کیا سمجھا، اس کے سامنے دین کی کون سی تصویر آئی، اس کے انکار میں ضد تھی یا غلط فہمی، تعصب تھا یا تاریخی خوف، لاعلمی تھی یا مذہب کے نام پر ہونے والے مظالم کا نفسیاتی اثر۔

زمانۂ رسالت میں یہ معاملہ مختلف تھا۔ وہاں رسول موجود تھے۔ وحی موجود تھی۔ اتمامِ حجت کا فیصلہ اللہ کی طرف سے ہو رہا تھا۔ قرآن بتا رہا تھا کہ کس گروہ نے حق کو پہچان کر رد کیا، کس نے معاہدہ توڑا، کس نے جنگ مسلط کی، کس پر آخری حجت قائم ہو چکی۔ اس لیے قرآن کے بعض جنگی احکام کو اسی خاص تاریخی، نبوی اور الہامی ماحول میں سمجھنا چاہیے۔

سورۂ توبہ میں مشرکین کے خلاف جو سخت ترین سزا کے احکام آئے، وہ آج کے ہر غیر مسلم، ہر مشرک، ہر یہودی، ہر مسیحی یا ہر غیر مسلم قوم کے لیے عمومی حکم نہیں تھے۔ ان کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے ان مخصوص مشرکینِ عرب سے تھا جن کے ساتھ معاہدات تھے، جن میں سے بعض نے عہد شکنی کی، جنھوں نے دعوتِ حق کے مقابلے میں منظم مزاحمت کی اور جن پر رسول کے ذریعے سے حجت تمام ہو چکی تھی۔ آیت میں ’الْمُشْرِکِیْن ‘ کا لفظ بھی اسی متعین تاریخی فریق کی طرف اشارہ کرتا ہے، نہ کہ ہر زمانے کے ہر مشرک کی طرف۔

یہاں ختمِ نبوت کا اصول فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے۔ جب نبوت ختم ہو گئی، وحی کا سلسلہ بند ہو گیا تو کسی فرد یا قوم کے بارے میں یہ کہنا کہ اس پر حق اسی طرح واضح ہو چکا ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست مخاطبین پر ہوا تھا، اب اس کا اطلاق ممکن نہیں رہا۔ ہم دعوت دے سکتے ہیں، مکالمہ کر سکتے ہیں، عقیدے پر تنقید کر سکتے ہیں، ظلم کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں، لیکن ہم کسی انسان کے باطن پر یہ فیصلہ نہیں لگا سکتے کہ اس نے جان بوجھ کر حقیقت کو پہچاننے کے بعد رد کیا ہے۔ یہ فیصلہ اللہ کا ہے۔

اسی بنا پر آج کے دور میں غیر مسلموں کے لیے زیادہ درست اور قرآنی اخلاق کے قریب زبان یہ ہے کہ انھیں ان کی اپنی شناخت سے پکارا جائے: یہودی، مسیحی، ہندو، بدھ، سکھ، ملحد، لا مذہب یا عمومی طور پر غیر مسلم۔ ’’کافر‘‘ کو ایک سماجی، سیاسی یا نفرت انگیز لیبل بنا دینا قرآن کے مزاج کے خلاف ہے۔ قرآن کی اصطلاحات گالی نہیں ہوتیں؛ وہ اخلاقی، دینی اور الہامی فیصلے ہوتے ہیں۔

یہی اصول مسلمانوں کے اندرونی معاملات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان غیر اللہ کو سجدہ کرے، غیر اللہ سے وہ مدد مانگے جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے یا توحید کے خلاف کوئی عمل کرے تو اس عمل کو شرک کہا جا سکتا ہے۔ لیکن فوراً اس شخص کو مشرک کا لیبل دے دینا درست نہیں۔ فعل کا حکم الگ ہے، فاعل کے باطن کا فیصلہ الگ۔ جرم کا نام لینا ضروری ہے، مگر انسان پر آخری مہر لگا دینا نہ علمی دیانت ہے، نہ دینی احتیاط۔

اسی فکری اصول سے جنگ، جہاد اور جزیہ کے مسائل بھی نئے سرے سے سمجھ میں آتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین کے عہد میں جو اقدامات ہوئے، وہ نبوی اتمامِ حجت، عرب کے سیاسی ماحول، معاہدات، جنگی تصادم اور الہامی رہنمائی کے مخصوص تناظر سے وابستہ تھے۔ پانچوں راشدین، یعنی ابو بکر وعمر وعثمان وعلی و معاویہ رضی اللہ عنہم کے بعد مسلم حکومتوں کی تاریخ ایک مختلف چیز ہے۔ ان حکومتوں میں علم بھی تھا، تہذیب بھی، عدل کے نمونے بھی، عظیم ادارے بھی، مگر ان کا ہر سیاسی، عسکری اور مالی اقدام اسلام کا ابدی حکم نہیں بن جاتا۔

مسلم تاریخ میں بہت سی فتوحات سلطنتی سیاست کا حصہ تھیں۔ بہت سے بادشاہوں نے مذہب کو سیاسی غلبے، ٹیکس، خراج، جزیہ اور ریاستی وسعت کے لیے استعمال کیا۔ یہ اسی دور کی عالمی سیاست تھی؛ ہر سلطنت اپنی سرحدیں بڑھانا چاہتی تھی، خزانہ بھرنا چاہتی تھی، طاقت مضبوط کرنا چاہتی تھی، مگر کسی مسلمان حکمران کا ایسا عمل صرف اس لیے اسلامی نہیں ہو جاتا کہ وہ مسلمان تھا یا اس نے مذہبی اصطلاحات استعمال کیں۔

قرآن کا بنیادی اصول یہ ہے: ’ لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ‘، ’’دین میں جبر نہیں‘‘(البقرہ2: 256)۔ اس اصول کی روشنی میں کسی قوم کو محض اس کے غیر مسلم ہونے کی بنا پر جنگ، محکومی یا جزیہ کے الٹی میٹم کے سامنے کھڑا کرنا ختمِ نبوت کے بعد کسی مسلمان ریاست کا دینی حق نہیں ہو سکتا۔ جنگ کا جواز دفاع، ظلم کے خاتمے، عدوان کے جواب، معاہدہ شکنی، مذہبی جبر ( پرسیکیوشن )سے نجات یا مظلوموں کی حفاظت سے متعلق ہو سکتا ہے؛ محض مذہبی شناخت سے نہیں۔

اسی لیے ’’دارالاسلام‘‘ اور ’’دارالکفر‘‘ کی اصطلاحات کو بھی احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ قرآن کی بنیادی اصطلاحات نہیں۔ یہ بعد کے فقہی اور سیاسی حالات میں پیدا ہوئیں۔ اگر انھیں نبوی و راشدی دور کے خاص تناظر میں محدود طور پر سمجھا جائے تو بات الگ ہے، لیکن ختمِ نبوت کے بعد پوری دنیا کو مستقل طور پر اسلام کے گھر اور کفر کے گھر میں تقسیم کر دینا خطرناک فکری تجاوز ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کا فقہی دور قومی ریاستوں کے تصور ہی سے نا آشنا تھا، اس لیے مسلمان جب سیاسی زوال سے نکل کر محدود آزادی کے دور میں داخل ہوئے تو یہ اصطلاحات غیر متعلق ہو گئی تھیں، لیکن روایت پرستی کی وجہ سے علما میں یہی رائج رہیں۔ اور یہ تصور جنگ عظیم دوم کے بعد عالمی دشمنی، مذہبی جنگ اور غیر مسلم دنیا کے بارے میں مستقل بدگمانی کا ذریعہ بنا۔

جدید پین اسلامزم کا بحران بھی اسی مقام پر پیدا ہوا۔ مسلمانوں کی سیاسی شکست، خلافت کا خاتمہ، نوآبادیاتی غلبہ، فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، افغانستان، عراق اور دوسری جگہوں پر مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نے مسلم ذہن میں گہرا زخم پیدا کیا۔ اس زخم کے دو ردعمل سامنے آئے: ایک ردعمل یہ تھا کہ مسلمانوں کی سیاسی عظمت اور اجتماعی طاقت بحال کی جائے۔ دوسرا ردعمل یہ تھا کہ مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائی جائے، ان کی مدد کی جائے، ظلم کے خلاف مزاحمت کی جائے۔

دونوں جذبات اپنی اصل میں قابلِ فہم تھے۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا دینی اور انسانی فریضہ ہے۔ مظلوم مسلمانوں کے لیے درد محسوس کرنا ایمان کی علامت ہے۔ لیکن القاعدہ، داعش، تحریک طالبان اور اس جیسی شدت پسند تنظیموں نے اسی درد کو اپنے بیانیے کا خام مال بنا لیا۔ انھوں نے مسلمانوں کے سیاسی زوال کو عالمی جنگ کا نعرہ بنایا، مظلوم مسلمانوں کے دکھ کو غیر مقاتلین کے قتل کا جواز بنایا اور امت کے تصور کو اخلاقی ذمہ داری کے بجاے عسکری انتقام میں بدل دیا۔

یہی ان کی بنیادی گم راہی تھی۔ انھوں نے ایک حقیقی زخم دکھایا، مگر علاج زہریلا تجویز کیا۔ انھوں نے ظلم کی نشان دہی کی، مگر خود ظلم کا راستہ اختیار کیا۔ انھوں نے امت کی بات کی، مگر بے گناہ انسانوں کو قتل کیا۔ انھوں نے اسلام کا نام لیا، مگر اسلام کی جنگی اخلاقیات، عہد کی پابندی، غیر مقاتلین کی حرمت اور ’ لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ ‘ کے اصول کو پامال کیا۔

نائن الیون اسی غلط تعبیر کا خوف ناک نتیجہ تھا۔ یہ صرف امریکہ کے خلاف حملہ نہیں تھا، یہ اسلام کی روح کے خلاف بھی جرم تھا۔ اس نے بے گناہ انسانوں کو قتل کیا، دنیا میں خوف پھیلایا، مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دی، اور اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے والوں کے ہاتھ میں ہتھیار دے دیا۔ اس جرم نے مظلوم مسلمانوں کی اخلاقی پوزیشن کو بھی نقصان پہنچایا، کیونکہ اس کے بعد ہر جائز درد بھی شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔

درست اسلامی موقف یہ ہے کہ مظلوم کی حمایت کی جائے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ فلسطین، کشمیر، شام، عراق، افغانستان، بوسنیا، میانمار یا کسی بھی جگہ ظلم ہو، اس کے خلاف آواز اٹھانا لازم ہے۔ مگر یہ حمایت اخلاقی، قانونی، سیاسی، سفارتی، علمی اور انسانی بنیادوں پر ہو گی، غیر ریاستی دہشت گردی، خودکش حملوں، شہریوں کے قتل، اور عالمی تکفیری جنگ کے ذریعے سے نہیں۔

امت کا تصور غیروں سے نفرت کا نام نہیں، مذہب کی بنیاد عالمی بھائی چارے کا نام ہے۔ مسلمان اگر دنیا کے مظلوموں کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تو وہ اپنے دین کے اخلاقی پیغام سے دور ہیں۔ لیکن اگر وہ مظلوم کے نام پر بے گناہ کو قتل کرتے ہیں تو وہ اس سے بھی زیادہ دور ہیں۔ اسلام ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سکھاتا ہے، ظالم بن جانا نہیں۔

آج مسلم فکر کو تین بڑے امتیازات دوبارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے:

اول: فعل اور فاعل میں فرق۔ کسی عمل کو شرک، کفر یا ظلم کہنا ایک علمی اور اخلاقی حکم ہو سکتا ہے، مگر کسی شخص کے باطن پر حتمی فیصلہ لگانا اللہ کا کام ہے۔

دوم: دعوت اور جبر میں فرق۔ اسلام دعوت کا دین ہے، مذہبی جبر کا نہیں۔ حق کو واضح کرنا ہمارا کام ہے، دلوں کو بدلنا اللہ کا کام ہے۔

سوم: تاریخ اور دین میں فرق۔ مسلم تاریخ محترم ہو سکتی ہے، مگر مقدس نہیں۔ بادشاہ مسلمان ہو سکتا ہے، مگر اس کی ہر جنگ اسلامی نہیں۔ سلطنت عظیم ہو سکتی ہے، مگر اس کی ہر توسیع دین کا حکم نہیں۔

یہ فکری صفائی آج اس لیے ضروری ہے کہ شدت پسندی ہمیشہ مبہم اصطلاحات، زخمی احساسات اور نیم سچائیوں سے طاقت لیتی ہے۔ وہ ظلم کی حقیقی داستان سناتی ہے، مگر اس کے جواب میں نیا ظلم تجویز کرتی ہے۔ وہ امت کی بات کرتی ہے، مگر انسانیت کو کاٹ دیتی ہے۔ وہ قرآن کے الفاظ لیتی ہے، مگر قرآن کا اخلاق چھوڑ دیتی ہے۔

قرآن کا اخلاق ہمیں اس کے برعکس راستہ دکھاتا ہے:

غیر مسلم کو دشمن نہیں، مخاطب سمجھو۔

مظلوم کی مدد کرو، مگر بے گناہ کو نہ مارو۔

باطل کو باطل کہو، مگر دلوں کا فیصلہ خدا پر چھوڑو۔

تاریخ سے سیکھو، مگر تاریخ کو وحی نہ بناؤ۔

امت سے محبت کرو، مگر انسانیت سے نفرت نہ کرو۔

یہی وہ فہم ہے جو آج کے مسلمان کو تکفیر، انتقام، امپیریل ازم اور شدت پسندی سے نکال کر دعوت، عدل، امن اور اخلاقی ذمہ داری کی طرف واپس لا سکتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کو دوسروں سے پہلے خود مسلمانوں کی غلط تعبیرات سے بچانے کی ضرورت ہے۔