مواد پر جائیں

کلامِ رسول کا مطالعہ

محمد ذکوان ندوی اردو

]’’نقطۂ نظر‘‘ کا یہ کالم مختلف اصحاب ِفکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس

میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔[

’حافظ ِقرآن‘کی اصطلاح کے مانند’حافظ ِحدیث‘ بھی علما کے درمیان ایک معروف اصطلاح ہے۔ حافظ جمال الدین المِزی نے حافظ ِحدیث کی تعریف بیان کرتے ہوئے درست طور پر لکھا ہے:

الحافظ: ما فاتہ أقلّ ما یعرفہ.

)المختصر الوجیز فی علوم الحدیث 235)

’’حافظ ِحدیث وہ شخص ہے جس کا علم حدیث اُس کے جہل حدیث سے بڑھا ہوا ہو ۔‘‘

یعنی وہ حدیث کا ایک متبحر عالم ہو اور حدیث پر گہری نظررکھتا ہو۔

حافظ ِحدیث کی اصطلاح پر غور کرتے ہوئے خیال آیا کہ اِس کی مذکورہ فنی تعریف سے ہٹ کر، ایک سچے عالم دین کے لیے جس طرح لفظاً یا معناً حافظ ِقرآن ہونا ضروری ہے، اُسی طرح اُس کے لیے ضروری ہے کہ وہ حدیث ِرسول کا گہرا اور تفصیلی مطالعہ کرکے اُس کے اندر حافظ ِحدیث کا درجہ حاصل کرے، وہ اِس بات کی کوشش کرے کہ اُسے زیادہ سے زیادہ ارشادات ِ رسول مستحضررہیں، وہ قرآن کے ساتھ احادیث کا متبحر عالم بنے۔یہ علم کا حسن بھی ہوگا اورفہم دین کا ایک بہترین طریقہ بھی۔ حدیث میں درک کے بغیر کوئی شخص پیغمبرانہ حکمت اور بصیرت سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا۔

صحیح بخاری کی متعدد شرحیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً شرح صحیح البخاری، ابن بطال (449ہجری)، عمدۃ القاری، بدرالدین عینی (855 ہجری)، وغیرہ۔ تاہم علماکے درمیان صحیح بخاری کی شروحات میں سب سے اہم شرح وہ مانی جاتی ہے جوحافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھی ہے۔ اُس کا نام یہ ہے: فتح الباری بشرح صحیح البخاری۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے تقریباً 25 سال کے عرصے میں اِس کتاب کو لکھ کر تیار کیا۔ 817 ہجری سے 842 ہجری کے درمیان یہ کتاب مر تب ہوئی۔ اُس وقت مصنف کی عمر 45 سے 55 کے درمیان تھی۔ ابن حجرکے متعدد تلامذہ اِس کتاب کی تیاری میں اُن کے ساتھ مسلسل تعاون کررہے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ امام شوکانی (وفات: 1250ہجری)سے ایک بار درخواست کی گئی کہ وہ بخاری کی شرح لکھیں۔ امام شوکانی نے بہ طور ِتلمیح ایک خوب صورت جملے میں اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاتھا: ’لاھجرۃَ بعد الفتح‘ (فتح کے بعداب کوئی ہجرت نہیں)، یعنی ’’فتح الباری‘‘ کے بعد اب اِس طرح کی دوسری شرح لکھنا محال ہے۔یہ گویا فتح کے بعددوبارہ ہجرت کے ہم معنی ہو گا۔

’’فتح الباری‘‘ کی بابت علامہ انورشاہ کشمیری(وفات:1933ء) نے بجا طور پر کہا تھا کہ وہ حدیث کا دائرۃ المعارف (انسائیکلو پیڈیا) ہے۔ دین کا ہروہ طالب علم جو احادیث و علوم احادیث کے تفصیلی مطالعے کا ذوق رکھتا ہو، اُس کو چاہیے کہ وہ ’’فتح الباری‘‘ کو ضرور اپنے مطالعے میں رکھے۔ اِس کتاب میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اِس میں ایک ہی مقام پر کسی بحث کے متعدد پہلو یکجا پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ لغوی مباحث، احادیث و آثار کے متعدد طرق، فقہا اور اصحاب و تابعین، نیز دیگر اہل علم کی آرا وغیرہ۔

خدا کا شکر ہے کہ اب انیس السّاری (نبیل بن منصورالکویتی)کے نام سے ’’فتح الباری‘‘ کی تخریج بھی مؤسّسۃ السّماحۃ، بیروت – لبنان -2005ء سے شائع ہوچکی ہے۔

احادیث کے مطالعے میں ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ بے حد اہم کتاب ہے۔اِس میں احادیث کے تقریباًتمام مباحث پر منتخب روایات جمع کر دی گئی ہیں۔ اگر کوئی شخص صرف اِس ایک کتاب سے کما حقہٗ استفادہ کر سکے تو ان شاء اللہ اِسی کا مطالعہ اُس کے لیے کافی ثابت ہو گا۔ ’’مشکوٰۃ‘‘ کی شروحات میں سب سے زیادہ اہم شرح ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ (ملا علی قاری الہروی) نظر آئی۔ یہ شرحی مجموعۂ حدیث، بلاشبہ ایک اہم علمی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔

’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ کے مقدمۃ التحقیق میں اُس کے فاضل محققین نے ’’مشکوٰۃ‘‘ کے متعلق بجا طور پر لکھا ہے: ’فہوکتاب حافل، شامل للأحادیث والآثار المتعلقۃ بالعلم والعمل، وبکل ناحیۃ من نواحي الحیاۃ‘ (مشکوٰۃ المصابیح،دار الارقم، بیروت، 5)

’’مشکوٰۃ‘‘ اصلاً ’’مصابیح السنہ‘‘ (امام بغوی) کی کتاب کا مہذب اور اضافہ شدہ ایڈیشن ہے۔ البغوی کی وفات کے دو سو سال بعد الطیبی (743ہجری) اور الخطیب التبریزی(740 ہجری) جیسے دو بڑے علمانے ’’مصابیح السنہ‘‘ پر کام کیا۔ اُس کے بعد یہ کتاب ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ کے نام سے وجود میں آئی۔

کلامِ رسول کی عظمت

ضماد بن ثعلبہ ازدی رضی اللہ عنہ (وفات: 91 ہجری) کا واقعہ ہے، ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے چند الفاظ سنے تو شدت ِ تاثر کے تحت انھوں نے کہا: ’لقد سمعتُ قولَ الکہنۃ، وقولَ السَحَرۃ، وقولَ الشعراء، فما سمعتُ مثلَ کلماتک ہؤلاء، ولقد بَلغْنَ ناعوسَ البَحر.‘ (مسلم، رقم 2008)، یعنی میں نے کاہنوں، جادوگروں اور شاعروں، سب کا کلام سنا ہے، مگر آپ کے اِس کلام جیسا کبھی میں نے کوئی کلام نہیں سنا۔ یہ کلمات تو سمندر کی گہرائیوں تک پہنچے ہوئے ہیں۔

خداکا پیغمبرہر اعتبار سے، خدا کی ایک روشن دلیل ہواکرتاہے، خواہ اُس کا کلام ہو یا اُس کی شخصیت۔ یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن سلام(وفات:43ہجری)جیسے غیرمعمولی ذہین اور متبحر شخص نے آپ کا چہرہ دیکھا تو اُن کی زبان سے نکلا: ’أن وَجْھَہ لیْسَ بوجہِ کذّاب‘(صحیح ابن خزیمہ، رقم 2648)، یعنی یہ ہرگز کسی کذاب آدمی کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔ ایمان کا تقاضا اور وقت کا مطالبہ ہے کہ اب کلامِ الہٰی کی تلاوت و تدبر کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کلامِ رسول کا مطالعہ اور اُس پر غوروفکر کیاجائے۔