ایک مومن کے لیے اِس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں کہ وہ صرف اللہ کا بندہ اور رسول کا امتی ہے، نہ کہ دوسرے کسی اور شخص یا فکر ونظریے کااسیر۔اِس کلمۂ اسلام کا یہ اوّلین تقاضا ہے کہ انسان صرف اللہ کو اپنا معبود ِ برحق و وحدہٗ لاشریک خدا تسلیم کرے،اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کوپورے دل و جان سے اپنا مطاعِ مطلق قراردے۔ چنانچہ اللہ کے سوا نہ کوئی اُس کا معبود ہے، اور نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا کسی اورزندہ یا غیرزندہ ہستی کو یہ حیثیت حاصل ہے کہ وہ رسول جیسے مطاعِ مطلق قائداوررہنما وامام کا درجہ پاسکے۔
خدا اور رسول، دونوں میں سے کسی ایک کی اِس استثنائی حیثیت کے متعلق کوتاہی اور بے شعوری عملاً ’کلمۂ اسلام‘ کی تصغیر اور اُس کے ساتھ دغاوبے وفائی کے ہم معنی ہوگا۔ اسلام کا یہ کلمہ سادہ معنوں میں، محض ایک کلمہ نہیں، بلکہ وہ ایک ایسا انقلابی نظریۂ حیات ہے جو ایک سچے مومن کو تمام معبودانِ باطل کی بندگی اور تمام بتانِ رشتہ وپیوند کی قیدسے آزادی عطا کرتاہے۔
گویا یہی ’کلمۂ اسلام‘ وہ ’’ ایک سجدہ‘‘ہے جو آدمی کو تما م ’’سجدوں ‘‘سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ ایک خداے واحدپر ایمان دوسرے تمام ’خداؤں‘سے بلند اور رسولِ برحق کی رسالت کا اقرار دوسرے تمام مفروضہ ر ہنماؤں کی غیر مشروط رہنمائی سے آزاد کردیتا ہے۔یہ ایمان تمام مربیین و اساتذہ کوانتہائی محترم بناتاہے، مگراِس استفادہ وا حترام سے ہٹ کر،رسولِ برحق کے سواکسی اور نظریہ و انسان کو غیر مشروط اطاعت کا مقام دینے کی نفسیات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیتاہے، جس میں آدمی کی اپنی شخصیت اور اُس کا پورا وجود ہمیشہ کے لیے ایک کورانہ تقلید ِ محض کااسیر بن کر رہ جائے،یہاں تک کہ وہ جب بھی دیکھےتو اُسی کے ذہن سے اور سوچے توہمیشہ اُسی کے متعین کردہ خطوط پرسوچے۔
اِس موقع پر ترجمانِ حقیقت ڈاکٹراقبال کا ایک قیمتی شعرر اقم کے ذہن میں گونج رہاہے:
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات!
یہاں ایک لطیف ترمیم کے ساتھ یہ شعر پیش خدمت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
یہ ایک ’کلمہ‘ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار’کلموں‘ سے دیتا ہے آدمی کو نجات!
یہی ’کلمۂ اسلام‘ وہ اصل ربانی آیئڈیالوجی اور راہِ فکرو عمل ہے جسے پوری طرح ماننے اور اختیار کرنے کا مطالبہ خدا کا دین ایک سچے مومن سے کرتا ہے۔ یہی ’کلمۂ اسلام‘ وہ ’ شجرۂ طیبہ‘ (ابراہیم 14: 26-24) ہے جو ہر موقع پر اہل ایمان کے لیے سایۂ رحمت بن کر ایک خزاں نا آشنا درخت کی مانند لہلہاتارہتاہے:
یہ نغمہ فصل گل ولالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لاالٰہ الاللہ!
اِس ’کلمۂ اسلام‘ کادوٹوک فیصلہ ہے کہ خدا ے وحدہٗ لاشریک کے سوا،اِس کائنات میں کوئی اورالٰہ و معبود نہیں، اور رسولِ برحق وپیغمبر آخرالزماں (حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)کے سوا کسی قائد اور رہنما کو یہ مقام حاصل نہیں کہ وہ ایک ایسے مطاعِ مطلق کا درجہ پاسکے جو مستند وحیِ ربانی پر مبنی ایک خالی از خطا (infallible)ماخذ کی حیثیت رکھتاہو۔اِس اعتبار سے، یہ ’کلمۂ اسلام‘ آدمی کے لیے سچے استغنا اور کامل حریت کے ایک ابدی اور ربانی پروانے کی حیثیت رکھتا ہے۔