مواد پر جائیں

کونپل

جاوید احمد غامدی اردو

چنار و سرو و صنوبر کھڑے تو ہیں، لیکن

مری نگاہ میں کونپل کی نازک اندامی

ہوا، یہ طفل، یہ بادل، یہ نخل، یہ صرصر

نہیں ہے باغ میں کوئی غریب کا حامی

میں روز و شب کے تسلسل میں دیکھ سکتا ہوں

مثالِ کاہ تھی کونپل، شباب پر آئی

فلک مقام درختوں کے درمیاں ابھری

حریفِ صرصر و باراں، وجودِ رعنائی

یہ برگِ نرم سے نخلِ بلند کی صورت

کسی کے حسنِ تخیل کی دیر پیوندی

ذرا نگاہِ تدبر سے دیکھیے اِس کو

کہاں سے پائی ہے ذرے نے شانِ الوندی!

ورق ورق سے نمایاں ہیں قدرتیں کس کی؟

نفس نفس میں فروزاں ہیں رحمتیں کس کی؟

گفتگو: محمد حسن الیاس

سوالات: نجم سہروردی