مواد پر جائیں

کیا زمانۂ فترت میں رسول اللہ ﷺ نے خودکشی کا ارادہ کیا تھا؟

تحریروتحقیق:علامہ شبیراحمدازہرمیرٹھی / ترتیب وتدوین:ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی اردو

[مختارات کا حصہ قدیم و جدید مصنفین کی منتخب تحریروں کے لیے مخصوص ہے۔ اس کا مقصد ماضی اور حال کے فکر و نظر کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس میں ماضی کے نمایندہ اہل علم کی تصانیف سے ایسے اقتباس نقل کیے جاتے ہیں، جو ان کے افکار اور اسالیب کو نمایاں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ نئے لکھنے والوں کی موثر اور معتبر تحریروں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ اِس حصے کے مندرجات سے مدیر اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ]

یہ بات کہ زمانۂ فترت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خودکشی کا ارادہ کیا تھا، حدیث کے صحیح ترین مجموعہ صحیح بخاری میں بیان ہوگئی ہے اوروہیں سے یہ شہرت پاگئی۔ بادی النظرمیں آدمی چونکتا ہے اوراُسے خیال ہوتاہے کہ بخاری میں آئی ہے توکوئی توبات ہوگی، حالاں کہ خودکشی توگناہ کبیرہ ہے، کسی نبی سے اس کا صدورکیااس کاخیال بھی متصورنہیں کیاجاسکتا۔علامہ میرٹھی رحمہ اللہ کی تحقیق یہ ہے کہ یہ بات حدیث مرفوع متصل میں نہیں آئی، بلکہ راوی ِحدیث زہری کا اپناادراج ہے۔ یہ زہری کے بلاغات یامراسیل میں سے ہے، جس کی اہل علم کے ہاں کوئی قیمت نہیں۔ وہ تحریرفرماتے ہیں:

’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کی ابتدا اور نزولِ قرآن کے آغاز کا قصہ بیان فرمایا تھا۔ اس قصہ کا نصف اول ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا ہے اور نصف ثانی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے۔ حضرت عائشہ کی روایت اِن شاء اللہ تعالیٰ شرح و بسط کے ساتھ تفسیر سورۃ العلق میں بیان کروں گا۔ یہاں (یعنی سورۂ مدثرکی تفسیرمیں) سورہ میں اس کا خلاصہ لکھنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نزولِ وحی سے پہلے خلوت پسندی چھا گئی تھی۔ آپ آبادی سے دور غارِ حرا نامی پہاڑی کے ایک غار میں مصروفِ عبادت رہنے لگے۔ گھر سے کھانے پینے کا کچھ سامان لے جاتے جب وہ ختم ہو جاتا تو گھر واپس آ کر ایک آدھ دن ٹھہرتے اور سامان لے کر ہفتہ دو ہفتہ کے لیے پھر چلے جاتے۔ آپ نے بتایا کہ ایک رات یکایک غار میں ایک عجیب و غریب شخص میرے سامنے آیا اور بولا ”پڑھ“ میں نے کہا: میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، تب اس نے مجھے پکڑ کر خوب زور سے بھینچا اور چھوڑ کر کہا پڑھ، میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس نے دوبارہ خوب زور سے بھینچا اور چھوڑ کر کہا پڑھ۔ میں نے پھر وہی عذر کیا۔ اس نے تیسری بار مجھے خوب زور سے بھینچا اور چھوڑ کر کہا: ’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ. خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ. الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ‘۔یہ کلمات تلقین کر کے وہ غائب ہو گیا۔ میری زبان پر یہ کلمات جاری ہو گئے، لیکن اب میں وہاں نہ رک سکا، کپکپاتا ہوا فوراً گھر واپس ہو گیا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کہا مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ جب طبیعت میں کچھ سکون ہوا تو انہیں ماجرا سنایا اور کہا مجھے اپنی جان کا خطرہ ہو گیا تھا۔ انھوں نے بھرپور تسلی دی۔ پھر صبح کو اپنے بوڑھے نابینا عم زاد بھائی وَرَقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عیسائی تھے اور تورات و انجیل کے عالم تھے۔ ورقہ نے ماجرا سن کر کہا۔ گھبرایئے نہیں۔ آپ نے کوئی جن یا شیطان نہیں دیکھا، بلکہ ناموس دیکھا ہے۔ یعنی نبیوں کے پاس اللہ کی وحی لانے والا فرشتہ جو حضرت موسیٰ کے پاس اللہ کا پیام لایا کرتا تھا۔ آپ کو تبلیغ حق کرنے کا حکم ہو گا۔ قوم آپ کے خلاف ہو جائے گی، کاش میں اس وقت تک زندہ رہوں اور آپ کے کام آؤں، مگر ورقہ کا چند روز بعد انتقال ہو گیا۔ اور اس واقعہ کے بعد کچھ دنوں تک نہ وحی آئی نہ میں نے اُس فرشتہ کو دیکھا۔

حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک بیان کیا تھا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بھی آ گئے۔ آگے کی بات انھوں نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چند روز بعد میں پھر غارِ حرا میں جا کر معتکف ہوا اور اللہ کے ذکر و عبادت میں لگ گیا۔ مدتِ اعتکاف ختم ہوئی (اس مدت کو اوزاعی نے ایک ماہ بتایا ہے) تو گھر واپس ہوا، پہاڑ سے اتر کر بطیف وادی میں پہنچا تو یکایک کسی پکارنے والے کی آواز آئی جو مجھے پکار رہا تھا اِدھر اُدھر اور آگے پیچھے دیکھا کوئی نظر نہ آیا۔ آگے بڑھا تو پھر آواز آئی پھر دیکھا تو کوئی دکھائی نہ دیا آگے بڑھا تو پھر صدا آئی اور محسوس ہوا کہ اوپر کی جہت سے آئی ہے تب میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں۔ وہی شخص جس نے مجھے غار میں بھینچا تھا آسمان و زمین کے درمیان فضا میں ایک تخت پر بیٹھا ہوا ہے۔ اسے دیکھتے ہی مجھ پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ زمین پر گر گیا۔ ہوش آیا تو کپکپاتا ہوا گھر کی طرف چلا۔ گھر آ کر خدیجہ سے کہا مجھے کپڑا اوڑھا دو کپڑا اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو۔ کپڑا اوڑھا دیا گیا۔ اسی حالت میں مجھ پر یہ آیات نازئی ہوئیں: یٰٓاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ۔‘‘

مولانامیرٹھی مزید لکھتے ہیں:

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آغازِ وحی کی حدیث عروہ بن زبیر نے سنی تھی اور عروہ سے زہری نے اور حضرت جابر سے حدیث مذکور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے دو شخصوں زہری اور یحییٰ بن ابی کثیر نے۔ میں نے بحمداللہ زہری و یحییٰ، دونوں کی روایتوں کا حاصل جمع تحریر کر دیا ہے۔ پس زہری نے حدیث عائشہ وحدیث جابر دونوں سنی تھیں اور ثقہ و معتبر شخصوں سے سنی تھیں۔ حضرت عائشہ عروہ سے اور حدیث جابر ابو سلمہ سے اور خود زہری بھی ثقہ ہیں لہٰذا ان کی بیان کردہ یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔ لیکن زہری کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ بہت سی باتیں غیر ثقہ لوگوں سے سنی ہوئی نقل کر دیا کرتے تھے اور اُن غیر اشخاص کا نام نہ لیتے تھے۔ پس یوں کہہ دیا کرتے تھے: ”ہمیں معلوم ہوا ہے کہ“، ’’ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ“، ’’ہم سے بیان کیا گیا ہے۔“ ایسی روایات کو بلاغات الزھری یا مراسیل الزھری یا مرسلات الزھری کہا جاتا ہے۔ محدثین نے زہری کی ان روایات کو تبعاً نقل تو کیا ہے، لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ زہری کی بیان کردہ یہ روایات ناقابل اعتماد، غیر علمی اور بے سروپا ہوتی ہیں۔ مشہور ہے ’مُرْسَلات الزھری شبہُ لا شیء مراسیل الزھری کالریح‘۔‘‘1

’’مفتاح القرآن‘‘ میں زہری کی بیان کردہ متعدد مرسل روایات زیر نقد آ چکی ہیں۔ زہری کی مرسل و بے سروپا روایات میں سے ہی وہ روایت ہے جسے زہری نے آغازِ وحی سے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث مذکور بیان کرنے کے بعد نقل کر دینے کی غلطی کی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیان کردہ حدیث کے آخر میں ہے: ’وفتر الوحی فترۃ‘، یعنی ’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق‘۔ جوپہلی وحی فرشتہ نے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غارِ حرام میں تلقین کی تھی، اس کے بعد کچھ دن تک کوئی وحی نہیں آئی، نہ آپ نے فرشتہ کو دیکھا۔ یہ بیان کر کے زہری نے کہا:

حتی حزن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی ما بلغنا حزنًا غدا منہ مرارًاکی یتردی من رؤس شواھق الجبال فکلما اوفی بذروۃ جبل لکی یلقی نفسہ منہ تبدی لہ جبرئیل فقال: یا محمد، انک رسول اللّٰہ حقًا فیسکن لذلک جأشہ و تقر نفسہ فیرجع فاذا طالت علیہ فترۃ الوحی غدا لمثل ذلک فاذا رقی بذروۃ الجبل تبدی لہ جبرئیل فقال لہ مثل ذلک.

( بخاری، رقم 6581)

’’یہاں تک کہ جیسا کہ ہمیں کسی سے معلوم ہوا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نہ آنے کا ایسا غم چھایا کہ اس کی وجہ سے آپ کئی بار اس ارادہ سے پہاڑوں پر گئے کہ کسی چوٹی سے خود کو نیچے گرا کر ہلاک کر دیں۔ (یعنی خاکم بدہن اس غم کی وجہ سے آپ زندگی سے بے زار ہو رہے تھے) مگر جب کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر خود کو نیچے گرا دینا چاہتے جبریل آپ کے سامنے نمودار ہو کر کہتے کہ اے محمد، بے شک تو واقعی اللہ کا رسول ہے۔“ جبریل کی یہ بات سن کر آپ کے دل کو قرار آ جاتا۔ پھر جب انقطاعِ وحی آپ پر گراں ہو جاتا تو خود کشی کے قصد سے پھر کسی پہاڑ پر چڑھ جاتے۔ چوٹی پر پہنچ کر نیچے گر جانے کا ارادہ فرماتے تو جبریل نمودار ہو کر آپ سے کہتے: اے محمد، بے شک تو واقعی اللہ کا رسول ہے۔‘‘

اللہ ہی جانے کہ زہری نے یہ بے سروپا بات کس یاوہ گو سے سن لی تھی۔ اور پھر اسے نقل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ممکن ہے، زہری کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد معلوم نہ ہو کہ ’کفی بالمرء کذبًا ان یحدث بکل ما سمع‘، یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کر دے۔ یہ سوچے سمجھے اور تحقیق کیے بغیر کہ یہ بات صحیح ہے یا نہیں۔ پھر زہری نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف سے اور ابوسلمہ نے حضرت جابر انصاری رضی اللہ عنہ سے سنی تھی اور روایت کی تھی۔ وہ حدیث اس بے برسروپا بات کے غلط ہونے کی واضح دلیل ہے، کیونکہ یہ کہانی تو یہ بتا رہی ہے کہ ’فَتْرۃ الوحی‘ (وحی نہ آنے)کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل کو بار ہا دیکھا تھا۔ جب بھی آپ نے وحی نہ آنے کے غم میں کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر گر جانے اور خودکشی کر لینے کا قصد کیا، تبھی جبریل نے نمودار ہو کر آپ کو تسلی دی کہ ’یا محمد، انک رسول اللّٰہ حقًا‘۔

حالاں کہ حدیث جابر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غارِ حرا میں ملاقات کے بعد آپ نے جبریل کو بس اسی دن دیکھا تھا جس دن سورۂ مدثر کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئی تھیں۔ فترت کے دنوں میں نہیں دیکھا تھا۔ اگر اس سے پہلے ایامِ فترت میں آپ جبریل کو بار ہا دیکھ چکے ہوتے تو سورۂ مدثر کے نزول کے دن جبریل کو دیکھ کر آپ پر ایسی دہشت طاری نہ ہوتی کہ بے ہوش ہو کر گر جاتے۔ نہ ہی زہری نے اس پر غور کیا کہ ’اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق‘کے بعد چند روز تک آپ پر وحی کا نازل نہ ہونا اتنے شدید رنج و غم کا باعث نہ تھا کہ آپ اس کی وجہ سے خودکشی پر آمادہ ہو جائیں۔ وہ غارِ حرا والی پہلی ملاقات تو آپ کو اس قدر دہشت زدہ اور لرزہ براندام کر گئی تھی کہ آپ کو اپنی جان کا خطرہ ہو گیا تھا۔ اور اُس ملاقات میں جبریل نے نہ آپ سے اپنا تعارف کرایا تھا کہ میں اللہ کا فرشتہ جبریل ہوں، نہ آپ کو یہ بتایا تھا کہ آپ کو اللہ نے نبی بنایا ہے نہ یہ کہا تھا کہ جو کلمات میں نے آپ کو تلقین کیے ہیں، یہ اللہ کا کلام ہے جسے میں آپ تک پہنچانے کے لیے آیا ہوں۔ یہ باتیں ہو گئی ہوتیں تو آپ کے دل میں شوق کی آگ بھڑک اٹھنا معقول ہوتا۔

پھر زہری کی عقل کو کیا ہو گیا تھا، کیا موصوف کو معلوم نہ تھا کہ خود کشی کبیرہ گناہ ہے اور گناہ کا قصد کرنا بھی گناہ ہوتا ہے، اس لیے نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کی نسبت قطعاً غلط ہے۔ افسوس کہ زہری کے دل میں یہ سوال بھی نہ ابھرا کہ شدتِ غم کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار پہاڑوں پر چڑھنا اور کسی پہاڑ کی چوٹی سے خود کو گرا دینے کا قصد کرنا اور جبریل کا نمودار ہو کر ’یا محمد، انک رسول اللّٰہ حقًا‘کہہ کر تسلی دینا کسی تابعی کو اس صورت سے معلوم ہو سکتا تھا کہ اس نے کسی صحابی سے سنا ہو یا کسی صحابی کی لکھی ہوئی کتاب میں پڑھا ہو۔ اور کسی صحابی کو اس کا علم اسی طرح ہو سکتا تھا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہو، مگر جب بے شمار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے یہ بات بیان نہیں کی تو اُس شخص کو جس سے زہری نے یہ بات سنی تھی، اس کا علم کیسے ہو گیا اور زہری نے اُس سے کیوں نہ پوچھا کہ یہ بات تجھے کس سے معلوم ہوئی ہے؟

الغرض، زہری کی بیان کردہ یہ بات روایتًا غیر ثابت اور درایتاً منکر و غیر معقول ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے سخت غلطی کی ہے کہ اسے سورۂ مدثر کی تفسیر کے مقدمہ میں اس طرح ثبت کر دیا ہے، جس طرح یہ کوئی پکی اور واقعی و قطعی بات ہو۔

مولانامودوی نے ابن جریرطبری کے حوالہ سے لکھاہے کہ امام زہری اس کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں:

’’ایک مدت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول بندرہااوراُس زمانہ میں آپ پر اس قدرشدت ِغم کی کیفیت طاری رہی کہ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑوں پر چڑھ کراپنے آپ کوگرادینے کے لیے آمادہ ہوجاتے تھے۔لیکن جب کبھی آپ کسی چوٹی پر پہنچتے جبریل علیہ السلام نمودارہوکرکہتے آپ اللہ کے نبی ہیں،اس سے آپ کے دل کوسکون حاصل ہوجاتاتھا۔اوروہ اضطراب کی کیفیت دورہوجاتی۔“ (تفہیم القرآن 6/ 138)

ابن جریرکے الفاظ یہ ہیں:’حدثناابن عبدالاعلی قال:ثناثورعن معمرعن الزہری قال:فترالوحی عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فترۃً فحزن حزنًافجعل یغدوالی شواہق رؤس الجبال لیتردی منہا فکلما اوفی بذروۃ جبل تبدی لہ جبریل علیہ السلام فیقول:انک نبی اللّٰہ حقًا فیسکن لذالک جأشہ وترجع الیہ نفسہ‘۔2 (اس کا مولانامودودی نے جوترجمہ کیاہے، وہ اوپرگزرا) ابن جریرکی اس سندسے بھی یہ حدیث زہری کا اپناقول ہے۔ حدیث مرفوع متصل نہیں ہے۔اورزہری نے اپنی اس راے یاقول کا کوئی ماخذ ذکرنہیں کیا، لہٰذااس پر اعتبارنہیں کیاجاسکتا ہے اوراس پر وہی حکم لاگوہوگاکہ ’مُرْسَلات الزھری شبہُ لا شیء. مراسیل الزھری کالریح‘، ’’زہری کی مراسیل ہوائی ہوتی ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں‘‘۔

(تفسیر ’’مفتاح القران‘‘، سورۂ مدثر،جلد پنجم، زیر طبع )

  1. ۔ ملاحظہ ہو:ابن حجر،تہذیب التہذیب9/ 398، حرف المیم، طبع: دارالفکر، بیروت، الطبعۃ الاولی، 1404ھ 1984ء۔
  2. ۔ تفسیرالطبری جامع البیان عن تاویل آی القرآن تحقیق الدکتور عبداللہ بن المحسن الترکی، مرکز البحوث والدراسات الاسلامیۃ بدارہجر24/ 3-4۔