عنوان: کیا ہم زندہ ہیں نام کتاب : اردو
مصنفہ: نجف
صفحات :240
قیمت : 399 انڈین روپے
ناشر : نجف
رابطہ : Alizey.najaf@gmail.com
کیا زندگی صرف موت کے ساتھ ہی ختم ہوگی؟ لیکن اگر زندگی خود موت بن جائے؟ زندہ ہوکر بھی زندگی کی رنگینیوں کی قدر نہ کر پائیں۔ زندہ ہوکر بھی، ہر روز دل اور احساسات مردہ ہوں۔اور اگر فی الوالقع نفسیاتی اور روحانی موت برپا ہو جائے تو اس کو زندہ کرنے کے لیے کیا اوزار استعمال کریں؟ یہ سب سوالات جتنے اہم آج کی دنیا میں ہیں، اتنے کبھی بھی نہیں تھے۔ علیزے نجف نے انہی سوالات اور کئی اور مسائل کا بہت اثرانگیز نسخہ اس کتاب کی صورت میں دیا ہے۔یاد رہے یہاں موت کا لفظ بطور استعارہ استعمال ہواہے۔
کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ آج کی دنیا میں ہر عمر کے گروپ سے تعلق رکھنے والے لوگ زندہ ہو کر بھی اتنی تاریکی میں ہیں کہ وہاں سے زندگی کے طرف واپسی نا ممکن لگتی ہے لیکن اصلاً ناممکن ہے نہیں۔ یہ تاریکی کئی راستوں سے امنڈ کر ہمیں گھیر سکتی ہے۔ نے تفصیل سے ایک ایک نفسیاتی مرض کی وضاحت کی ہے۔ ایک بہت اہم بات جو ہر زیر عنوان نظر آئی وہ یہ کہ کس طرح انسان کی نفسیات کا ہر پہلو، اس کی ذہنی صحت، اس کے بچپن میں والدین کی پرورش، اس کی عزت اور آبرو کی تعظیم، اس کے ارد گرد کے ماحول پر منحصر ہوتا ہے۔
نے جہاں نرگسیت میں مبتلا افراد کی تصویر کھینچتے ہوئے، اس مرض کی روک تھام کے تجاویز پیش کی ہیں، وہاں اس کے برعکس ٹاکسک پوزیٹیوٹی کے گہرے اثرات پر تبصرہ بھی کیا ہے۔ کیا اقدام لینے چاہییں؟ کہاں سے مدد لیں؟ اکیلے موت جیسی تاریکی میں ان امراض سے لڑنا کوئی بہادری نہیں ہے، مدد لینا ناگزیر ہے!
مصنفہ نے ہر باب کے شروع میں اُس باب کے مسئلے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دنیا کی مشہور شخصیات کا ایک گہرا قول شامل کر کے ایک بہت ہی منفرد اسلوب استعمال کیا ہے۔ مہاتما گاندھی، اوپرا ونفری، سن زو، نپولیین بوناپارٹ وغیرہ چند نام ہیں جن کے اہم اقوال زندگی کو روشن بنانے میں انسان کی مدد کر سکتے ہیں، جو اس کتاب کا منفرد حصہ ہیں۔
مصنفہ نے ذہنی غربت کے تصور کی تفصیل کو بیان کرتے ہوئے توجہ دلائی ہے کہ کیسے یہ مرض انسان کے اندر کے کو زنگ آلود کر دیتا ہے، کیسے اس کے اثرات ناصرف اُس پر بلکہ آگے آنے والی نسلوں پر بھی منفی اثر ڈال دیتے ہیں۔ اس سے نکل نے کے لیے کیوں ہمیں نئی مہارتیں اور کارآمد علم سیکھنے کی کوشش کرنی چاہ یئے! یہاں پر اس حقیقت پر زور دیا جا سکتا تھا کہ ذہنی غربت حکومت کی طرف سے دستیاب ناکافی سہولیات، تعلیم اور وسائل کی وجہ سے بھی انسان کو گھیرے میں لے سکتی ہے۔ اس صورت میں انسان کی خود کی کوشش، خود ارادیت اور خود میں نظم و ضبط ڈھونڈنا اور اس کو برقرار رکھنا مشکل تو ہے لیکن نا ممکن نہیں۔
ا سی سے متعلق مصنفہ نے کم فرٹ زون کی قید کے باب میں اس مرض میں بندھے ہوئے انسان کی بالکل صحیح تصویر کھینچی ہے۔ اس معاملے پر فاراگرے کے قول نے مجھ پر گہرا اثر کیا کہ “کم فرٹ زون کامیابی کا دشمن ہے”!
یہ باب خاص ان لوگوں کے لیئے پڑھنا ضروری ہے جو زندگی سے مایوس ہیں،مختلف قسم کے نتائج چاہتے ہیں، بڑی کامیابیوں کے حصول کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں لیکن یہ سب کچھ چاہنے کے باوجود کوئی تبدیلی آتی نظر میں نہیں۔ سوال بنتا ہےکیوں؟”
مصنفہ نے بے چینی، ڈپریشن، ناکامیوں سے نمٹنے کےسمیت کئی حساس موضوعات پر گفتگو کی ہے۔ وہ اپنی کتاب کا اختتام اپنے لیے خوشی کے حصول، ذہن سازی اور شکر گزاری کے فوائد، روحانی ذہانت کو فروغ دینے کے متاثر کن اور حوصلہ افزا ابواب کے ساتھ کرتی ہے۔ اردو زبان میں خودآگہی کی شاید یہ پہلی کاوش ہے جو پڑھنے والے کو سوچنے پر آمادہ کرتی ہے کہ کیا ہم واقعی زندہ ہیں؟