[ مسند احمد کی روایت، رقم 9622 سے ماخوذ]
بیاں ہے یہ مسند میں قصہ تمام
کہ بزمِ پیمبرؐ سجی ایک شام
صحابہ تھے مجلس میں حاضر سبھی
نمایاں تھا سب میں رفیقِ نبی
اچانک کھڑا ہو گیا ایک شخص
صحابہ کی جانب مڑا ایک شخص
مخاطب ہوا وہ ابوبکر سے
جھگڑنے لگا پیکرِ صبر سے
پیمبرؐ کی مجلس میں وہ بدزباں
لگا دینے بوبکر کو گالیاں
یہ سن کر نبیؐ کا رفیقِ سفر
گلستانِ امت کا پہلا شجر
سراپا متانت تھا، خاموش تھا
نہ غصے میں تھا اور نہ پُرجوش تھا
ابوبکر دامن بچاتے رہے
نبیؐ دیکھ کر مسکراتے رہے
بہت دیر تک بھی وہ جب نہ ٹلا
تو صدیقِ اکبر کو طیش آ گیا
اُنھوں نے بھی غصے کو ظاہر کیا
جواب اُس کی تلخی کا کچھ دے دیا
پیمبرؐ جو پہلے تو مسرور تھے
اچانک فسردہ و نالاں ہوئے
نبیؐ جب فسردہ و نالاں ہوئے
ابوبکر بے حد پریشاں ہوئے
ابوبکر نے پھر بصد احترام
پیمبرؐ سے پوچھا یہ بعد از سلام
بھلا مجھ سے سرزد ہوئی کیا خطا
کہ ناخوش ہیں مجھ سے رسولِ خدا؟
میں خاموش تھا، آپ مسرور تھے
میں بولا تو رنجیدہ خاطر ہوئے!
ابوبکر کی سن کے یہ التجا
نبیؐ نے بڑے پیار سے یہ کہا:
تو خاموش جب تک رہا میرے دوست!
فرشتہ ترے ساتھ تھا میرے دوست!