مواد پر جائیں

گلوبل ویلیج میں رہنے کا مسئلہ

نعیم احمد بلوچ اردو

معاشرے بگڑتے اور سنورتے رہتے ہیں ۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے اور اسی لیے ہجرتیں ایک عالم گیر مظہر ہے ۔ جنگ عظیم دوم کے بعد جب یاجوج ماجوج دنیا کے تما م پھاٹکوں پر حتمی طور پر قابض ہو گئے تو سب سے زیادہ متاثر وہ قومیں ہوئیں جو نو آبادیات رہ چکی تھیں ۔دنیا کے نقشے پر ابھرنے والے ان ممالک میں جن قوموں کو اچھی قیادت ملی، انھوں نے اپنی ترقی کا سفر جلد شروع کر دیا لیکن بعض ملکوں میں بدقسمتی سے اچھی قیادت کا بحران رہا ۔ ان ممالک کے لوگ جب عدم تحفظ کا شکار ہوئے تو بہتر مستقبل کی خاطر ان میں ہجرتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ بالکل فطری عمل تھا۔ جب سے دنیا آباد ہے ، انسان بہتری کی خاطر ہجرتیں کرتا آیا ہے ۔

برصغیر میں قیادت کی عاقبت نا اندیشی کی وجہ سے مسائل زیادہ تھے ۔ اس وجہ سے یہاں سے رخت سفر باندھنے والوں کی تعداد باقی ممالک سے زیادہ تھی ۔ اور حالات و واقعات بھی کچھ ایسے ہوئے کہ پاکستان ، ہندستان اور بنگلہ دیش سے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو زیادہ تر غیر مسلم ممالک میں مستقل قیام کے بہتر مواقع ملے ۔ اس کی وجہ یہاں کی انسان دوست معاشرت اور ویلفیئر اسٹیٹ ماڈل تھا۔ ان میں سے بعض تارکین وطن ایسے ہیں جنھیں شناخت کے مسئلے سے دوچار ہونا پڑا ۔

جن مسلم خاندانوں کو یہ مسئلہ درپیش ہوا ، ان میں سے بعض کو قدرے دیر سے اس کا احساس ہوا کہ زبان محض زبان نہیں ہوتی بلکہ ایک تہذیب بھی ساتھ لاتی ہے ۔ اور جو نسل اس سے کٹ جاتی ہے وہ اس تہذیب سے کٹ جاتی ہے ۔ لباس صرف لباس نہیں ہوتا وہ اپنے ساتھ ایک تمدنی روایت بھی رکھتا ہے ۔ اسے پہننے والا صرف کپڑا ہی نہیں پہنتا ، فیشن ہی اختیار نہیں کرتا، وہ اس قوم کا تمدن اور اس کی اقدار کو بھی گلے لگاتا ہے ۔ ،وہ اس بادوباش ہی کو اختیار نہیں کرتا، اس کے لازمی تقاضے بھی ماننے پر بھی مجبور ہوتا ہے ۔ لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے اختیار بھی دیا ہے ، ارادے اور عزم سے بھی نوازا ہے۔ اسی ارادے اور اسی عزم کے سہارے ہی توان مسلم خاندانوں اور افراد کو یہ قوت، یہ ہمت اور یہ توفیق عطا ہوئی کہ وہ اپنے معاشروں سے کٹ کر ، اپنے ماحول سے علیحدہ ہو کر ایک مختلف اور اجنبی معاشرے میں نئی دنیائیں تلاش کریں ۔ بلاشبہ دوسرے معاشروں میں کامیابی سے اپنی جگہ بنانے والے یہ لوگ اپنے ہم وطنوں سے زیادہ بہادر ، زیادہ محنتی اور زیادہ باصلاحیت ہوتے ہیں ۔

ہمارا مشاہدہ بتاتا ہے کہ انسان اگر َیک طرفہ تمنائیں پالنے ،یک رُخا رویے اختیار کرنے اور حدود نا آشنا جبلتوں کا شکار ہونے کے بجائے محض اپنا رخ سیدھا رکھے تو وہ اسی اجنبی زبان ، اسی غیرشناسا معاشرے کی بودوباش اور بعض معاشروں کی بے خدا تہذیب کی غیر مطلوب اور غیر فطری اقدار کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہے ۔ اگر واقعی ا س کے نزدیک اللہ سے رشتہ سب رشتوں سے بڑھ کر ہے ، اگر آخرت کا واقعہ اس کے نزدیک یقینی ہے اور رسول ﷺ سے محبت اس کے دل ودماغ پر حاوی ہے تو وہ اپنی جڑوں سے کٹ کر نہیں رہ سکتا ۔ یہ جڑیں علم وعمل کی دوری کے سبب ہریالی سے وقتی طور محروم ہوکر خشک تو ہو سکتی ہیں ،مردہ نہیں ہو سکتیں ۔ چنانچہ دیکھا گیا ہے غیر مسلم معاشروں میں موجود خاندانوں کو جیسے ہی شناخت کے کھو دینے کا احساس ہوتا ہے ، وہ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق ہاتھ پاؤں مارتے ہیں ۔ پھر جس کو جہاں سے اور جس انداز سے آگہی ہوتی ہے ان کے اندر کا مسلمان بقدرِ احوال جاگ پڑتا ہے ۔ دل و دماغ پر ہلکی سی بھی دستک اسے متنبہ کر دیتی ہے ۔ یہ دستک کوئی حادثہ بھی ہو سکتا ہے اور کوئی اتفاق بھی ۔ ہمارا احساس ہے غیر مسلم معاشروں میں بسنے والے ان لوگوں کا دینی شعور اپنے آبائی ہم وطنوں سے زیادہ توانا اور تعصب کے بجائے عقلی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے ۔

اگر ہم اسلام کو دیکھیں تو اصطلاحات کے چکر میں پڑے بغیر ہم کچھ چیزیں ایسی متعین کر سکتے ہیں جن کا ہم اگر اہتمام کریں تو کبھی بھی اپنی شناخت ، اپنی مذہبی تہذب اور اپنے تمدن سے محروم نہیں ہوں گے ۔ دوسرے لفظوں میں اپنی شناخت سے علیحدہ نہیں ہو سکیں گے ۔ یہ چیزیں یہ ہیں اور انھیں ہمارے مذہبی علم میں “سنت ” کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے :

1۔ اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ۔ ( یعنی بسم اللہ پڑھنا )

2۔ ملاقات کے موقع پر ’السلام علیکم ‘اور اُس کا جواب : ” وعلیکم السلام ۔

3۔ چھینک آنے پر اور اُس کے جواب میں

4۔ مونچھیں پست رکھنا ۔ ( مردوں کے لیے )

5 ۔ زیر ناف کے بال مونڈنا۔

6 ۔ بغل کے بال صاف کرنا۔

7۔ بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا ۔ (مردو خواتین دونوں کے لیے)

8 ۔ لڑکوں کا ختنہ کرنا۔

9۔ ناک ، منہ اور دانتوں کی صفائی ۔

10۔ حیض و نفاس کے بعد غسل ۔

11۔ غسلِ جنابت ۔( ہر صورت میں )

12۔ استنجا ۔

13۔ میت کا غسل ۔ اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین ۔

14۔ عید الفطراور عید الاضحٰی

15۔ پانچ وقت کی فرض نمازیں ، روزے ، کم ازکم ایک دفعہ حج کی ادائیگی اور ادائیگی زکوٰۃ

اگر ہم ان اٹھارہ چیزوں کو کسی طور پر بھی اپنے سے علیحدہ نہ کریں تو یہ ہماری وہ جڑیں ہیں جو ہمیں کبھی اپنی شناخت سے علیحدہ نہیں ہونے دیں گی۔

اب آئیے ان چیزوں کی طرف جن کا ہم اگر خیال رکھیں گے تو کوئی بھی تہذیب کوئی بھی سماج ہمارے لیے اجنبی نہ ہو گا ۔ ان چیزوں کو مدنظر رکھ کر ہم دنیا کی ہر سوسائیٹی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اگر آپ غور کریں گے تو احساس ہو گا کہ انھیں یونیورسل اقدار کی حیثیت حاصل ہے :

1۔ حفظِ مراتب : اس کا مطلب ہے کہ خلقت کے اعتبار سے تو تمام انسان برابر ہیں لیکن رشتوں میں برابری نہیں ہے ۔ اور یہ رشتے صرف رحمی رشتے ہی نہیں بلکہ اس میں تمام معاشرتی رشتے شامل ہیں ۔ جیسے استاد اور شاگرد کا رشتہ ، میاں اور بیوی کا رشتہ ، ہمسائے کا رشتہ ،عہدے کا رشتہ وغیرہ ۔ اس میں اگر کوئی ہم سے عمر میں چھوٹا ہی کیوں نہ ہو ، اس کا احترام کرنا ہو گا۔ وغیرہ ۔

2۔ حفظ ِفروج : یعنی جنسی فعل صرف اور صرف نکاح تک محدود رکھیں گے اور وہ اعضاء جن کا اظہار ہر سلیم الطبع شخص فحشاء سمجھتا ہے، اس کا ہر جگہ خیال رکھا جائے گا۔

3۔ امر بالمعروف اور نہی عن ِالمنکر : اس کا مطلب ہے کہ خیرو شر کے مُسلِّمات چاہے وہ کھانے پینے سے متعلق ہوں یا تفریح سے ، کاروبار کا معاملہ ہو یا قانون کی پابندی کا ،انسانی فطرت میں جو چیزیں خیر کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں اور جنھیں پوری انسانیت مانتی ہے ،انھیں اختیار کیا جائے گا اور ان کی حمایت کی جائے گی ۔ انھیں ہی پروان چڑھانے میں اپنی حمایت پیش کی جائے گی۔ اور جن چیزوں کو فطرت شر سمجھتی ہے ، اور پوری انسانیت جن سے نفرت کرتی ہے ان سے ہر حال میں ہم خود بھی بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے۔

ان بنیادی باتوں کو سامنے رکھ کر ہم ہر سماج اور ہر معاشرے میں اپنی جڑوں کو بر قرار رکھتے ہوئے اس کا حصہ بھی بن سکتے اور اپنی شاخت بھی بر قرار رکھ سکتے ہیں ۔ان چیزوں کا لحاظ رکھنے سے ہم کبھی کسی اخلاقی بحران سے دوچار نہیں ہوں گے۔ ان شاء اللہ