مواد پر جائیں

ہم سفر

جاوید احمد غامدی اردو

مقامِ شرح ِ جنوں پر وہی سرور و حضور

نفس نفس وہی تنہا سرودِ نیم شبی

مری نگاہ سرابوں کی آرزو کا وجود

کہاں سے آئے ندیموں میں ذوق ِ تشنہ لبی!

اِسی خطا پہ گریزاں ہیں ہم سفر میرے

کہ میری طبعِ رواں مصلحت شناس نہیں

وہ ہم سفر کہ زمانے میں جن کی دھوم ہوئی

مثال ِ ماہ تھی تیرہ شبوں میں جن کی جبیں

مرے وجود میں پنہاں وجود کا حاصل

زبانِ شعر میں اپنے معلقات کہوں

مری نواؤں سے اب وہ بھی آشنا نہ رہے

مرے ندیم، میں شہرِ جنوں میں تنہا ہوں

مجھے رفیقِ صبوحی کی جستجو ہی رہی

مرے سبو کی حقیقت تہِ سبو ہی رہی