مواد پر جائیں

ہیومن مِلک بینک اور رضاعت ـــ غامدی صاحب کا موقف

سید منظور الحسن اردو

(محمد حسن الیاس صاحب کے ساتھ ایک مکالمے سے ماخوذ)

حقیقی ماں کی جگہ اگر کوئی دوسری عورت بچے کو اپنا دودھ پلائے تو وہ اُس کے لیےبمنزلۂ ماں ہے۔ شریعت نے اُسے رضاعی ماں کا درجہ دیا ہے اور اُس کے رشتہ داروں کو اِسی مادرانہ تعلق پر محمول کیا ہے۔چنانچہ اُس کا شوہر بچے کا رضاعی باپ ہوتا ہے اور بیٹے اور بیٹیاں رضاعی بہن بھائی قرار پاتے ہیں۔ یہی معاملہ باقی رشتوں کا ہے۔ اِن رشتوں پر نکاح سے متعلق وہ تمام پابندیاں عائد ہیں، جو نسب کی بنا پر مشروع ہیں۔ یعنی نکاح کے لیے جو رشتے رحم اور خون کے تعلق سے حرام ہیں، وہ چھاتی اوردودھ کے تعلق سے بھی حرام ہیں۔ یہی وہ تناظر ہے، جس میں رضاعت اور مرضعہ کے مفہوم و مصداق اور اطلاق و انطباق کے حوالے سے متنوع فقہی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اِن میں سے چند نمایاں یہ ہیں:

* رضاعت کا اطلاق ہر عمر کے بچے پر ہو گا یا دودھ پینے کی عمر والے بچے ہی اِس زمرے میں شمار ہوں گے؟

*رضاعی ماں کا درجہ پانے کے لیے کیا دودھ کی کوئی مقدار یا دودھ پلانے کا کوئی عرصہ مقرر ہے؟

* کوئی خاتون اگر کسی بچے کو اتفاقاً یا وقتی ضرورت کے تحت چند گھونٹ دودھ پلا دے تو کیا اُسے رضاعی ماں کا درجہ حاصل ہو جائے گا؟

* اگر چھاتی سے دودھ نچوڑ کر کسی اور ذریعے سے بچے کو پلا دیا جائے تو کیا اُسے بھی رضاعت سے تعبیر کیا جائے گا ؟

یہ اور اِس نوعیت کے بعض دیگر سوال ہمیشہ علما و فقہا کے سامنے آئے ہیں اور اُنھوں نے اپنے اپنے علم و فہم کے مطابق اِن کا جواب دیا ہے۔

موجودہ زمانے میں قائم ہونے والے ہیومن مِلک بینک ــــ جس میں متعدد خواتین کا دودھ اکٹھا کر کے مختلف صورتوں میں دستیاب کیا جاتا ہے ــــکے بارے میں بھی اِسی نوعیت کے بعض سوال پیدا ہوئے ہیں۔ اِن میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ایسے بینک کا جمع کیا ہوا دودھ پلانے پر رضاعت کے احکام کا اطلاق ہو گااور نتیجتاً دودھ فراہم کرنے والی تمام خواتین رضاعی مائیں قرار پائیں گی؟

ہمارے فقہا کی عمومی راے کے مطابق اِس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ وہ ایسی ہر صورت پر رضاعت کا حکم لگاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دودھ بچے کے پیٹ میں جا کر اُس کی خوراک کا حصہ بن جائے۔ اُن کے نزدیک رضاعت کے حکم کی علت دودھ کی پیٹ میں منتقلی ہے، منتقلی کا ذریعہ نہیں ہے۔ چنانچہ ماں کا دودھ چھاتی سےپلایا جائے یا کسی برتن ـــ مثلاً گلاس، بوتل، چمچ وغیرہ ـــ سے، ہر دو صورتوں میں وہ اُسے رضاعت پر محمول کرتے ہیں۔ فقہا کے اِس موقف کی روشنی میں ہیومن مِلک بینک پر کوئی اصولی اعتراض وارد نہیں ہوتا ۔ اِس صورت میں تعددِ رضاعت واقع ہوتی ہے، جو ممنوع نہیں ہے۔ یعنی وہ تمام خواتین بچے کی رضاعی ماں قرار پاتی ہیں، جن کا دودھ اُس کے حلق سے اتر کر خوراک کا حصہ بنا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے علما نے اِس پر کوئی اصولی تنقید نہیں کی۔ اُن کی تنقید اِس کے طریقۂ کار اور اُس کے ممکنہ نتائج پر ہے۔ اِس طریقۂ کار میں یہ مسئلہ ہے کہ نہ دودھ مہیا کرنے والی خاتون کی شناخت ہو سکتی ہے اور نہ اُس کے پلائے گئے دودھ کی مقدار کا تعین کیا جا سکتا ہے،1 لہٰذا رضاعت کا معاملہ محل اشتباہ میں آ جاتا ہے۔ اِس اشتباہ کے نتیجے میں یہ اندیشہ قائم ہو جاتا ہے کہ انجانے میں ایسے افراد باہم رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو جائیں، جو درحقیقت رضاعی رشتہ دار ہوں اور اُن سے نکاح ممنوع ہو۔ یہی وہ اندیشہ ہے کہ جس کی پیشگی روک تھام کے لیے ہمارے علما نے سدِ ذریعہ کے اصول پر ہیومن مِلک بینک اور اُس کی مصنوعات کو ناجائز قرار دیاہے۔

اِس ضمن میں استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کا موقف درجِ ذیل نکات پر مبنی ہے:

اولاً، اللہ تعالیٰ نے جن معاملات میں حرمت قائم کی ہے، اُن کے بارے میں حساسیت ناگزیر ہے۔ یہ حساسیت اُس حدود آشنائی کی اساس ہے، جو نفس کی پاکیزگی کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ دین کا منشا ہے کہ لوگ اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کے قریب بھی نہ جائیں اور اگر کوئی مشتبہ صورت درپیش ہو تو اُس سے گریز اور کنارہ کشی کا رویہ اختیار کریں۔ مجبوری اور اضطرار کی حالت میں البتہ، ایسی چیزوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اِس صورت میں بھی بہ قدرِ ضرورت استعمال کرنا چاہیے، هنيئاً مريئا ہر گز نہیں بنا لینا چاہیے۔ اِنھیں مرغوب اور مستعمل بنانے سے حرمت کی شناعت کا احساس بہ تدریج ختم ہو جاتا ہے اور انسان آگے بڑھتے بڑھتے اُن حدود سے بھی گزر جاتا ہے، جن کی پابندی اُس کے تزکیۂ نفس کے لیے ضروری ہے۔ ہیومن مِلک بینک سے وہ حساسیت مجروح ہوتی ہے، جو رضاعت کے باب میں شریعت کا مقصود ہے۔ طبی لحاظ سے اگر یہ ناگزیر ہے تو اِس کی مصنوعات کو حالتِ اضطرار تک محدود رکھنا چاہیے اور اُسی موقع پر استعمال کرنا چاہیے، جب کوئی متبادل صورت میسر نہ ہو۔

ثانیاً، جہاں تک اِس سوال کا تعلق ہے کہ کیا ہیومن مِلک بینک یا اِس طرح کے کسی بندوبست کو رضاعت پر محمول کیا جا سکتا ہےتو اِس کا جواب نفی میں ہے۔ رضاعت کی علت فقط دودھ کا حلق سے اترنا نہیں ، بلکہ وہ پورا مادرانہ عمل ہے، جو ایک عورت ماں کے قائم مقام کے طور پر انجام دیتی ہے۔ اِس میں پہلے وہ بچے کو دودھ پلانے کی ذمہ داری اٹھانے کا فیصلہ کرتی ہے، پھر اُسے گود لیتی ہے اور اپنی چھاتی کے ذریعے سے دودھ پلانے کا سلسلہ شروع کرتی ہے ۔ قرآنِ مجید میں اِس عمل کے لیے رضع اور ارضاع کے افعال استعمال ہوئے ہیں ۔ اِن کےمعنی چھاتی کو چوسنے کے ہیں۔ رَضِعَ، رَضَعَ: امْتصَّ ثَدْيَها: یعنی (بچے کا )عورت کی چھاتی کو چوسنا۔2

اِن میں ’ارضاع‘ کافعل مبالغے پر دلالت کرتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہی عمل حقیقی معنوں میں رضاعت قرار پائے گا، جس میں دودھ پلانا اتمام، اکمال اور اہتمام پر مبنی ہو۔اِس کے بغیر دودھ پینے یا پلانے کو رضاعت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :

’’رضاعت کے رشتہ کو مادرانہ رشتے سے مشابہت حاصل ہے۔ …جو بچہ جس ماں کی آغوش میں، اُس کی چھاتیوں کے دودھ سے پلتا ہے، وہ اُس کی پوری نہیں تو آدھی ماں تو ضرور بن جاتی ہے۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جس کا دودھ اُس کے رگ و پے میں جاری و ساری ہے، اُس سے اُس کے جذبات و احساسات متاثر نہ ہوں۔ اگر نہ متاثر ہوں تو یہ فطرت کا بناؤ نہیں، بلکہ بگاڑ ہے اور اسلام، جو دین فطرت ہے، اُس کے لیے ضروری تھا کہ اِس بگاڑ کو درست کرے۔ … لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ تعلق مجرد کسی اتفاقی واقعے سے قائم نہیں ہو جاتا۔ قرآن نے یہاں جن لفظوں میں اِس کو بیان کیا ہے، اُس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ یہ اتفاقی طور پر نہیں، بلکہ اہتمام کے ساتھ، ایک مقصد کی حیثیت سے عمل میں آیا ہو، تب اِس کا اعتبار ہے۔ اول تو فرمایا ہے: ’’تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہے۔‘‘ پھر اُس کے لیے رضاعت کا لفظ استعمال کیا ہے۔’وَاَخَوَاتِکُمْ مِنَ الرَّضَاعَۃ‘۔عربی زبان کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ ’ارضاع‘باب افعال سے ہے، جس میں فی الجملہ مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اِسی طرح ’’رضاعت‘‘ کا لفظ بھی اِس بات سے ابا کرتا ہے کہ اگر کوئی عورت کسی روتے بچے کو بہلانے کے لیے اپنی چھاتی اُس کے منہ سے لگا دے تو یہ رضاعت کہلائے۔‘‘ (تدبر قرآن 2/ 275)

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ دوددھ پلانے کے کسی عمل کو اُسی صورت میں رضاعت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، جب کوئی خاتون کسی بچے کو حقیقی ماں کی طرح آغوش میں لے اورپورے اہتمام سے دودھ پلانے کا سلسلہ شروع کرے۔ اِس بنا پر اطلاقی لحاظ سے دیکھا جائے تو رضاعت درج ِذیل اوضاع و افعال کی مجموعی صورت کا نام ہے:

*بچہ دودھ پینے کی عمر میں ہو،

*خاتون رضاعی ماں کے طور پر اُسے دودھ پلانے کا فیصلہ کرے،

* اِس مقصد کے لیے وہ اُسے اپنی آغوش میں لے،

* پھر اُسےاپنی چھاتیوں سے براہِ راست دودھ پلانے کا سلسلہ شروع کرے۔3

اِن اقدامات کے بعد ہی دودھ پلانے والی خاتون رضاعی ماں کا مقام حاصل کر تی ہے اور دودھ پلانے کا عمل رضاعت قرار پاتا ہےاور اِسی کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃ.(الموطا ، رقم 1887)

’’ہر وہ رشتہ جو ولادت کے تعلق سے حرام ہے ، رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے ۔ ‘‘

البیان

  1. ۔ واضح رہے کہ رضاعت کے حکم کے اطلاق کے لیے فقہا کے نزدیک دودھ کی خاص مقدار مقرر ہے۔
  2. ۔ تاج العروس21/96۔امام محمد بن اسماعیل صنعانی نے ’’ بلوغ المرام ‘‘ کی شرح میں لکھا ہے:’’فمتَى الْتَقَمَ الصَّبِيُّ الثَّدْيَ وامتصَّ منهُ ثمَّ تركَ ذلكَ باختيارِهِ منْ غيرِ عارضٍ كانَ ذلكَ رضعةً.‘‘(6/260)’’جب بچہ پستان کو اپنے منہ میں لے لے اور اُسے چوسے اور پھر اپنے اختیار سے کسی رکاوٹ کے بغیر چھوڑ دے تو یہ ایک دفعہ دودھ پینا کہلائے گا۔‘‘رضاعت کی حقیقت کے حوالے سے امام ابن حزم کا بھی یہی موقف ہے۔ وہ لکھتے ہیں:وَأَمَّا صِفَةُ الرِّضَاعِ الْمُحَرِّمِ، فَإِنَّمَا هُوَ: مَا امْتَصَّهُ الرِّاضِعُ مِنْ ثَدْيِ الْمُرْضِعَةِ بِفِيهِ فَقَطْ.فَأَمَّا مَنْ سُقِيَ لَبَنَ امْرَأَةٍ فَشَرِبَهُ مِنْ إنَاءٍ، أَوْ حُلِبَ فِي فِيهِ فَبَلَعَهُ؛ أَوْ أُطْعِمَهُ بِخُبْزِ، أَوْ فِي طَعَامٍ، أَوْ صُبَّ فِي فَمِهِ، أَوْ فِي أَنْفِهِ، أَوْ فِي أُذُنِهِ، أَوْ حُقِنَ بِهِ: فَكُلُّ ذَلِكَ لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا، وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ غِذَاءَهُ دَهْرَهُ كُلَّهُ. (المحلی 10/185)’’جہاں تک رضاعت کی حرمت کا تعلق ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کسی نے عورت کی چھاتی سے منہ لگا کر چوسا ہو۔ جہاں تک ایسے فرد کا تعلق ہے، جسے کسی عورت کا دودھ کسی برتن سے پلایا گیا یا اُسےبرتن میں ڈالا گیا اور اُس نے اُسے پی لیا یا وہ دودھ اُس کی روٹی یا کھانے میں ملا دیا گیا یا اُس کے منہ یا ناک یا کان میں ڈالا گیا یا حقنہ کے ذریعے سے جسم میں داخل کیا گیا۔ اِن صورتوں میں سے کوئی صورت بھی رضاعت کی حرمت کو قائم نہیں کرتی۔ یہاں تک کہ اگر وہ زندگی بھر یہی (دودھ) بہ طورِ خوراک استعمال کرتا رہے۔‘‘
  3. ۔اِس کے بعد خواہ وہ ایک دن پلائے یا ایک سے زیادہ دن پلائے، رضاعت کا اعتبار قائم ہو جائے گا۔