ـــــــ ڈاکٹر شہزاد سلیم کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کی تقریب کے موقع پر ـــــــ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ جماعت اسلامی کے ایک بزرگ تھے خرم مراد صاحب، وہ کہا کرتے تھے کہ کسی دینی، علمی شخصیت کو اگر پرکھنا ہو تو میرے نزدیک ان کی کامیابی کے لیے سب سے اہم پیمانہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے جانشین کتنے چھوڑے۔ استاذ محترم جاوید احمد غامدی صاحب اس لحاظ سے بہت نمایاں ہیں کہ ان کے شاگردوں کی ایک بڑی لمبی فہرست ہے۔ یہ سلسلہ شروع ہوا کوئی 70ء کے وسط میں ایک بیچ تھا ،جس کو آپ نے پڑھایا، پھر اس کے بعد 80ء کے آغاز میں ایک بیچ تھا جس میں میں بھی شامل تھا، نعیم بلوچ صاحب بھی تھے اور دوسرے حضرات بھی تھے اور پھر 80ء کے اواخر میں جس میں ڈاکٹر شہزاد سلیم اور دوسرے کچھ احباب تھے۔ پھر اس کے بعد تو سلسلہ ایسا چلا ہے کہ الحمدللہ جس کو پنجابی میں کہتے ہیں: چل سو چل تو اللہ تعالیٰ اس کو اور موثر اور بابرکت کرے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سارے سلسلے میں، قافلے میں سب سے زیادہ نمایاں ڈاکٹر شہزاد سلیم رہے ہیں۔
یہ میں آپ کو حقیقت بتا رہا ہوں کہ جب آپ باقی دنیوی امکانات کو چھوڑ کر ایک مقصد کے لیے اپنے آپ کو devote کرتے ہیں اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھ اور لوگ بھی اسی سفر میں شامل ہیں تو مقابلے کا احساس فطری ہے، اس سے آپ بچ نہیں سکتے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور اس میں ایسے ہی ہوتا ہے، جیسے آپ دوڑ رہے ہیں اور دائیں بائیں آپ کے کچھ اور لوگ بھی ہیں، کچھ آگے ہیں، کچھ پیچھے ہیں۔ اس میں اس وقت بڑی آسانی ہو جاتی ہے، جب کوئی بہت آگے نکل جاتا ہے اور اس وقت انسان اپنے آپ سے کہتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہی کام ڈاکٹر شہزاد سلیم نے ہم جیسے لوگوں کے ساتھ کیا اور بہت آگے نکل گئے۔
ڈاکٹر شہزاد سلیم کے آگے نکلنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ان کی جو چند خوبیاں ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے، جو قرآن مجید نے کئی جگہ بیان کیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی پیروی میں کامل یک سوئی، جس کے نتیجے میں پھر ان کے ہاں مستقل مزاجی پیدا ہوئی، جس کا ابھی ایک بیان سامنے آیا کہ انجینئرنگ انھوں نے کر لی، مگر ڈگری پانے کے لیے ان کو کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ کبھی کوئی نوکری نہیں کی۔ انھوں نے طے کر لیا کہ مجھے یہی کام کرنا ہے۔ یہ غیر معمولی کلیئرٹی تھی ان کے اندر۔ اس کے ساتھ پھر محنت، یعنی انسانوں میں ایسے محنتی لوگ ہوتے ہیں، I am sure ہوتے ہوں گے، میں نہیں جانتا، سنا ہے کہ جنات میں ہوتے ہیں، لیکن یہ محنت ان کی کمال درجہ کی تھی۔ اس کا بھی جب میں تصور کرتا ہوں، اس کے بعد خیال یہی ہوتا ہے کہ there is no comparison اور وہ واقعی بڑی غیر معمولی چیز ہے۔
علم کی جستجو میں کوئی کسر نہیں چھوڑی انھوں نے۔ مجھے یاد ہے کہ جو بھی موقع ہوتا تھا بالکل ابتدا سے غامدی صاحب کی صحبتوں کو، ان سے سیکھنے کے مواقع کو پانے کا تو یہ سب سے آگے ہوتے تھے اور ترجمہ یہ کرتے تھے، اتنی تیزی سے کرتے تھے کہ بعض اوقات ہم مذاق میں یہ کہتے تھے کہ جاوید صاحب شاید تحریر بعد میں لکھیں گے اس کا ترجمہ پہلے آجائے گا، یعنی اس قدر ان کے اندر شوق بھی تھا، لگن بھی تھی،it’s amazing۔
اس قدر خوش مزاج آدمی کہ بس کمال ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ جب آپ ادارے میں ہوتے ہیں تو وہاں بہت سارے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کےآپس میں اختلافات بھی ہوتے ہیں، ان کی مشکلات بھی ہوتی ہیں۔مگر یہ اللہ کا بندہ بالکل الگ ہی تھا، یعنی ہر آدمی اپنے اختلاف کا، اپنی مشکل کا اظہار انھی سے کرتا تھا اور یہ ہر شخص کے مدد گار بن جاتے تھے۔ اتنے لوگوں سے بیک وقت محبت اور کمیونیکیشن کا تعلق قائم رکھنابڑی غیر معمولی چیز ہے۔
میں انھیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اس ایوارڈ کے واقعی مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں بہت زیادہ کامیابی عطا فرمائے۔