مواد پر جائیں

یہی زہراب ہے، یہی تریاق

جاوید احمد غامدی اردو

پڑھ رہے تھے فسانہ ہاے وجود

دل اگر ہو خدا سے بے گانہ

درسِ حکمت ہے زندگی کے لیے

غم سے ایوان کلبۂ احزاں

برق آسا تھی ہر نوا، لیکن

آرزو، جستجو، وصال و فراق

پھر کسی نے الٹ دیے اوراق

صبر ہوتا ہے آدمی پر شاق

اے مہِ نو، ترا عروج و محاق

سر خوشی ہو تو جھونپڑے بھی رواق

تیرا جوہر نہ کر سکی براق

سوے بطحا یہ رہرووں کا ہجوم

دل اِسی رہ گذر کا تھا مشتاق