مواد پر جائیں

(1)

امین احسن اردو

اسلام کے دور جدید کا دوسرا عالم دنیا سے رخصت ہو گیا۔ 1930ء میں امام حمید الدین فراہی نے اِس عالم فانی سے رخت سفر باندھا تو صاحب ’’معارف‘‘ سید سلیمان ندوی نے اِس دور کے پہلے عالم کا ماتم کیا تھا۔ اِس کے کم و بیش 67 برس بعد آج ہم فراہی کے جانشین امین احسن اصلاحی کا ماتم کر رہے ہیں۔ سقراط و فلاطوں، ابوحنیفہ اور ابو یوسف، ابن تیمیہ اور ابن قیم — یہ جس طرح ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے، فراہی و اصلاحی بھی دنیا میں اب ہمیشہ ایک ہی وجود کے دو نام رہیں گے:

چوں تمام افتد سراپا ناز می گرددنیاز

قیس را لیلیٰ ہمی نامند درصحرای من

علم کا جلال و جمال، فقر کا وقار، عجز کی تمکنت، مجسم استغنا، سراپا محبت، خدا کے آخری الہام کا عہد آفریں شارح، دین و شریعت میں ایک نئی دنیا کا نقیب، صاحب طرز انشا پرداز، صاحب طرز خطیب، حسن تکلم کا وہ انداز کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی:

مثل خورشید سحر فکر کی تابانی میں

بات میں سادہ و آزادہ، معانی میں دقیق

میں نے امین احسن کو سب سے پہلے 1973ء میں دیکھا او رپھر کسی اور طرف نہیں دیکھا۔ میرے لیے اُس وقت اُن کا دروازہ ’در نکشودہ‘ ہی تھا، لیکن میں نے ہمت کی اور اِسی بند دروازے پر بیٹھ گیا:

بردرنکشودہ ساکن شد در دیگر نہ زد

پھر وہ دروازہ کھلا اور اِس طرح کھلا کہ گویا اپنے ہی گھر کا دروازہ بن گیا۔ اُس دن سے آج تک علم و عمل کی جو دولت بھی ملی ہے، خدا کی عنایت سے اور اِسی دروازے سے ملی ہے:

ملکت عاشقی و گنج طرب

ہرچہ دارم زیمن ہمت اوست

1987ء میں جب میں نے ’’دبستان شبلی‘‘ کی داستان لکھی تو امام فراہی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا: امین احسن اصلاحی اِسی نابغۂ عصر کے جانشین ہیں۔ وہ اپنے استاد سے آگے نہیں بڑھے تو پیچھے بھی نہیں رہے۔ حمید الدین جس مقام پر پہنچے تھے، اُن کی ساری عمر اِسی کے اسرارورموز کی وضاحت میں گزری ہے۔ اُن کی ’’تدبر قرآن‘‘ تفسیر کی کتابوں میں ایک بے مثال شہ پارۂ علم و تحقیق ہے۔ اُن کے قلم سے پچاس برس کے معرکوں کی روداد سنیے تو بقول عرفی:

رمح او گوید اگر جنگ وگر صلح کہ من

بہ کشاد گرہ جبہۂ خاقاں رفتم

میں نے لکھا تھا: ’’دبستان شبلی‘‘ کی آخری نشانی اب امین احسن ہی ہیں۔ اُن کے تلامذہ و احباب میں کتنے ہیں جو اِس حقیقت سے آگاہ ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ پچھلے دس برس سے اِسی احساس کی آگ ہے جو میرے سینے میں سلگ رہی ہے۔ اِس کی چنگاریاں اپنی ہی راکھ میں دب جاتی ہیں، مگر بجھنے نہیں پاتیں:

کہ آتشے کہ نہ میرد ہمیشہ در دل ماست

اب یہ آخری نشانی بھی دنیا میں نہیں رہی۔ 15 ؍ دسمبر 1997ء کو صبح 3 بجے، ٹھیک اُسی وقت جب وہ اپنے پروردگار کے حضور میں حاضری کے لیے اٹھا کرتے تھے، ہمیشہ کے لیے اُس کے حضور میں حاضر ہو گئے۔ اُن کی ساری زندگی قرآن کے اسلوب و مدعا کی مشکلیں حل کرتے ہوئے گزری۔ اب کیا ہے، جہاں مشکل پیش آئے گی، خود صاحب قرآن سے پوچھ لیں گے۔ اُن کی دنیا تو اب وہ ہے کہ جہاں:

بے پردہ جلوہ ہا بہ نگاہی تواں خرید

امین احسن کیا تھے؟ اب سے کئی برس پہلے جب اِس شہر کے کچھ مذہب فروشوں نے اُن کا مقام معتقدین کی تعداد سے متعین کرنا چاہا تو میں نے اُن کی خدمت میں عرض کیا تھا: مجھے اپنے بارے میں تو کچھ نہیں کہنا کہ میرا سرمایۂ فخر اگر کچھ ہے تو بس یہی ہے کہ مجھے امین احسن سے شرف تلمذ حاصل ہے، لیکن جہاں تک امین احسن کا تعلق ہے تو میں یہ عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ اُس کی تگ و دو کا ہدف وہ چیزیں کبھی رہی ہی نہیں جن پر یہ لوگ جیتے اورمرتے ہیں۔ اِن زخارف کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی اُس نے ہمیشہ اپنی شان سے فروتر سمجھا ہے۔ لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے وہ طریقے جو اِن حضرات کے لیے ’ھَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا‘ہیں، اُن کا ذکر بھی کوئی شخص اگر اُس کی مجلس میں کبھی کر دے تو اُس کے لیے وہاں باریابی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ اُس نے عمر بھر جس چیز کو اپنا شعار قرار دیا ، وہ یہ تھی کہ آدمی کا سایہ بھی اگر اُس کا ساتھ نہ دے تو اُسے ہر حال میں حق پر قائم رہنا چاہیے۔ اُس نے معاشرے میں پھیلی ہوئی فکرو عمل کی سب غلاظتوں کو جمع کر کے اُنھیں دلائل فراہم نہیں کیے، دل و دماغ کو اِن غلاظتوں سے پاک کرنے کی سعی کی ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ ہر پستی میں نہیں اترتا، اُنھیں اُن بلندیوں کی طرف بلاتا ہے جن پر وہ اپنے شعور کے پہلے دن ہی سے فائز رہا ہے۔ اُس کی دنیا علم و دیانت کی دنیا ہے، مذہبی بہروپیوں اور سیاسی بازی گروں کے لیے اِس دنیا میں کوئی جگہ پیدا ہی نہیں کی جا سکتی۔ وہ اپنے ذرۂ ہستی میں ایک صحرا اور اپنے وجود میں ایک سمندر ہے۔ اُس کی اپنی اقلیم ہی میں اُس کے لیے اتنے مشاغل ہیں کہ اِس طرح کی چیزوں کے لیے اُس کے پاس کوئی وقت نہیں ہوتا ۔ اُس نے جس میدان میں عمر بھر محنت کی ہے، وہ پیری مریدی کا نہیں، علم و تحقیق کا میدان ہے۔ اُس کی محنت کا حاصل اگر کسی شخص کو دیکھنا ہو تو وہ اُس شہ پارۂ علم و تحقیق کو دیکھے جسے اب دنیا ’’تدبر قرآن‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ وہ بندۂ امروز نہیں، مردفردا ہے اور اُس کا زمانہ اب بہت زیادہ دور نہیں رہا۔

’’تدبر قرآن‘‘ کی تسوید کا کام اِس مرد فردا نے 1957ء میں کسی وقت شروع کیا۔ اِس کی تیاری وہ اُس زمانے سے کر رہے تھے جب 1925ء میں امام فراہی نے اپنے گھر کے کسی گوشے میں کھڑے ہوئے اُن سے کہا تھا: امین احسن، اخبار نویسی کرتے پھرو گے یا ہم سے قرآن پڑھو گے؟ وہ بتاتے تھے کہ میں اُس زمانے میں ایک اخبار کا ایڈیٹر تھا اور اچھے مشاہرے پر کام کر رہا تھا، لیکن میں نے بغیر کسی توقف کے عرض کیا: میں آپ سے قرآن پڑھوں گا۔ امام فراہی نے اپنی اقامت گاہ ہی کے ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آپ یہاں ٹھیریں گے ، اور میں ادارت سے استعفا دے کر ایک مرتبہ پھر طالب علمانہ زندگی گزارنے کے لیے اُس کمرے میں آ کر ٹھیر گیا۔ بعد میں مولانا سید سلیمان ندوی نے کسی کالج میں پروفیسری کے لیے اُن کا نام تجویز کیا اور کالج کے ذمہ داروں سے ہامی بھر لی کہ وہ اُنھیں راضی کر لیں گے۔ امین احسن کو بتایا گیا تو وہ چلچلاتی دھوپ میں پیدل چلتے ہوئے دارالمصنفین پہنچے اور سید صاحب سے عرض کیا: آپ نے اِس فقیر کا نام تجویز کیا، آپ کا شکریہ، لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں یہ پیش کش قبول نہ کر سکوں گا۔ امام فراہی کو میں اُن کی زندگی میں چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا۔ وہ بتاتے تھے کہ سید صاحب بالکل حیران رہ گئے۔ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک غریب طالب علم اتنی بڑی پیش کش اِس طرح ٹھکرا دے گا۔ بعد میں اُنھوں نے ندوہ میں تقریر کرتے ہوئے بڑے تاثر کے ساتھ اِس واقعے کا ذکر کیا اور طلبہ سے کہا کہ دیکھو، طالب علم ایسے بھی ہوتے ہیں۔ بہرحال میں یہ بات کہہ کر چلا آیا، لیکن مجھے اندیشہ رہا کہ استاذ امام اِن دنوں اگر ’’دارالمصنفین‘‘ آئے تو ہو سکتا ہے کہ سید صاحب اُن سے بات کریں اور وہ مجھے بھیج دینے کا وعدہ کر لیں۔ اُن کا چہرہ ایک عجیب احساس فخر سے تمتما اٹھتا تھا، جب وہ یہ بتاتے تھے کہ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ استاذ امام وہاں گئے بھی اور سید صاحب نے اُن سے بات بھی کی، لیکن اُنھوں نے صاف کہہ دیا: آپ امین احسن کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں۔ میں یہ ساری محنت آخر کس کے لیے کر رہا ہوں؟ فراہی کی یہ محنت رنگ لائی۔ 1930ء میں جب اُن کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اُنھوں نے امین احسن کو بلا بھیجا۔ وہ اُس وقت متھرا کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ امین احسن کمرے میں داخل ہوئے تو فراہی نے اُنھیں دیکھ کر کہا: امین آ گئے۔ امین احسن کہتے تھے: اُنھوں نے میرا نام اپنی زبان سے اِس طرح ادا کیا کہ گویا نام نہیں لے رہے، اِس کے معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے علم و فکر کی امانت میرے سپرد کر رہے ہیں۔ امین احسن نے اپنی پوری زندگی اِسی امانت کا حق ادا کرنے میں صرف کر دی۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے: ڈرتا ہوں، خدا کے حضور میں فراہی سے ملوں تو وہ میرے کام سے مطمئن نہ ہوں۔

’’تدبر قرآن‘‘ کیا ہے؟ وہ اِس کے تعارف میں لکھتے ہیں:

’’میں بلا کسی شائبہ فخر کے، محض بیان واقعہ کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ یہ کتاب میری چالیس سال کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ میں نے اپنی جوانی کا بہترین زمانہ اِس کتاب کی تیاریوں میں بسر کیا ہے، اور اب اپنے بڑھاپے کی ناتوانیوں کا دور اِسی کی تحریر و تسوید میں بسر کر رہا ہوں۔ اِس طویل مدت میں، میں نے زندگی کے بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں اور بہت سے تلخ و شیریں گھونٹ حلق سے اتارے ہیں، لیکن اپنے رب کا شکر گزار ہوں کہ کسی دور اور کسی حال میں بھی میرا ذہنی و قلبی تعلق اِس کتاب سے منقطع نہیں ہوا۔ میں نے اِس ساری مدت میں جو کچھ پڑھا ہے ، اِسی کو محور بنا کر پڑھا ہے۔ جو کچھ سوچا ہے ، اِسی کو سامنے رکھ کر سوچا ہے اور جو کچھ لکھا ہے ، بالواسطہ یا بلاواسطہ اِسی سے متعلق لکھا ہے۔ میں نے قرآن حکیم کی ایک ایک سورہ پر ڈیرے ڈالے ہیں، ایک ایک آیت پر فکری مراقبہ کیا ہے اور ایک ایک لفظ اور ایک ایک ادبی یا نحوی اشکال کے حل کے لیے ہر اُس پتھر کو الٹنے کی کوشش کی ہے جس کے نیچے سے مجھے کسی سراغ کے ملنے کی توقع ہوئی ہے اور یہ راز بھی میں برملا ظاہر کرتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی اِس کام میں کوئی تکان یا افسردگی محسوس نہیں کی، بلکہ ہمیشہ نہایت گہری لذت اور نہایت عمیق راحت کا احساس کیا ہے:

ہر زماں از غیب جانے دیگر است

میری چالیس سال کی محنتوں کے نتائج کے ساتھ ساتھ، اِس میں میرے استاذ مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کی 30،35 سال کی کوششوں کے ثمرات بھی ہیں۔ مجھے بڑا فخر ہوتا اگر میں یہ دعویٰ کر سکتا کہ اِس کتاب میں جو کچھ بھی ہے، سب استاذ مرحوم ہی کا افادہ ہے، اِس لیے کہ اصل حقیقت یہی ہے۔ لیکن میں یہ دعویٰ کرنے میں صرف اِس لیے احتیاط کرتا ہوں کہ مبادا میری کوئی غلطی اُن کی طرف منسوب ہو جائے۔ مولانا سے میرے استفادے کی شکل یہ نہیں رہی ہے کہ ہر آیت سے متعلق یقین کے ساتھ اُن کی راے میرے علم میں آ گئی ہو، بلکہ میں نے اُن سے قرآن حکیم پر غور کرنے کے اصول سیکھے ہیں اور خود اُن کی رہنمائی میں پورے پانچ سال اِن اصولوں کا تجربہ کرنے میں بسر کیے ہیں۔ پھر اِنھی اصولوں کو سامنے رکھ کر آج تک کام کرتا رہا ہوں۔ اِس اعتبار سے اگرچہ یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ یہ سب کچھ استاذ ہی کا فیض ہے، لیکن اِس میں چونکہ بلاواسطہ افادے کے ساتھ ساتھ بالواسطہ افادے کا بھی بہت بڑا حصہ ہے، اِس وجہ سے یہ عرض کرتا ہوں کہ اِس کا جو حصہ مستحکم اور مدلل نظر آئے، اُس کو استاذ مرحوم کا صدقہ سمجھیے اور جو بات کمزور یا غلط نظر آئے، اُس کو میری کم علمی پر محمول فرمائیے۔‘‘

(1/ 41)

اُنھوں نے لکھا ہے:

’’میں اپنے رب کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے اِس کتاب میں کسی ایک آیت کی بھی ایسی تفسیر نہیں کی جس میں مجھے کوئی تردد ہو۔ جہاں ذرا بھی تردد ہوا ہے، میں نے بے تکلف اُس کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ اِسی طرح یہ بات بھی عرض کرتا ہوں کہ کسی ایک مقام میں بھی میں نے یہ کوشش نہیں کی ہے کہ کسی آیت کو اُس کے حقیقی مفہوم سے ہٹا کر اپنے کسی نظریے یا کسی خیال کی تائید کے لیے استعمال کروں۔ قرآن سے باہر کی کسی چیز سے بھی کبھی میری کوئی خاص قلبی و ذہنی وابستگی نہیں ہوئی۔ اگر ہوئی ہے تو قرآن ہی کے لیے اور قرآن ہی کے تحت ہوئی ہے۔ اِس کتاب کے پڑھنے والے محسوس کریں گے کہ جہاں کہیں مجھے اپنے استاذ سے بھی اختلاف ہوا ہے، میں نے بے جھجک اُس کا بھی اظہار کر دیا ہے۔‘‘(1/ 42)

یہ تفسیر لاہور میں بھی لکھی گئی اور برسوں لاہور سے باہر خانقاہ ڈوگراں کے پاس ایک دور افتادہ گاؤں رحمٰن آباد میں سرسے اور شیشم کے درختوں کے نیچے بھی زیر تسوید رہی، جہاں نہ بجلی تھی، نہ پنکھا اور نہ تصنیف و تالیف کے لیے کوئی دوسری سہولت۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ مسودہ پسینے سے بھیگ رہا ہے، لیکن مصنف کا قلم اُسی طرح رواں دواں ہے۔ وہ اِس بات سے آگاہ تھے کہ — بہریک گل زحمت صد خارمی بایدکشید — قرآن کی مشکلوں کو حل کرنے اور اُس سے متعلق اپنے نتائج فکر کو سپرد قلم کرنے میں وہ دنیا کی ہر مشقت اٹھانے کے لیے تیار ہو جاتے تھے:

طالباں را خستگی در راہ نیست

عشق خود راہ ست وہم خود منزل ست

امین احسن نے یہ تفسیر قرآن پر ایمان کی جس کیفیت میں لکھی ہے، اُسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے یاد ہے، وہ سورۂ رحمٰن کی تفسیر لکھ رہے تھے۔ ’یَخْرُجُ مِنْھُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ‘ کے تحت جب یہ مسئلہ سامنے آیا کہ عام خیال کے مطابق موتی صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں، لیکن قرآن بالکل صریح ہے کہ یہ دونوں ہی پانیوں سے نکلتے ہیں تو اُنھوں نے مجھے تحقیق کے لیے کہا۔ میں نے دیکھا، اُن کے چہرے پر تردد کی کوئی پرچھائیں نہ تھی، بلکہ ایک عجیب اطمینان تھا اور ایمان کی ایک عجیب روشنی تھی۔ اِس موقع پر اُنھوں نے جو کچھ کہا، میں اُسے بعینہٖ تو شاید دہرا نہ سکوں، لیکن مدعا یہی تھا کہ خدا کی قسم ، اگر موتی خود آ کر بھی مجھے کہیں کہ وہ صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں تو میں اُن سے کہہ دوں گا، تمھیں اپنی تخلیق میں شبہ ہوا ہے، قرآن کا بیان کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔

اُن کی پیدایش 1904ء میں یوپی کے ایک گاؤں بمہور میں ہوئی۔ اُن کے رشتے کے ایک چچا شبلی متکلم ندوی اُس زمانے میں ’’مدرستہ الاصلاح‘‘ کے مہتمم تھے۔ اُنھی کے ایما سے امین احسن کے والد نے جنوری ؍ 1915ء میں اُنھیں اِس مدرسہ میں داخل کرا دیا۔ اُن کی ساری تعلیم سراے میر اعظم گڑھ کی اِسی درس گاہ میں ہوئی۔ یہ ایک دینی مدرسہ تھا، لیکن انگریزی زبان میں اُن کی استعداد اتنی اچھی تھی کہ علوم عالیہ کی کتابیں اِس زبان میں نہ صرف یہ کہ بغیر کسی دقت کے پڑھتے، بلکہ اُن کے ادق مطالب دوسروں کو سمجھا دے سکتے تھے۔ دینی مدارس کے طلبہ بالعموم عربی بولنے پر قدرت نہیں رکھتے، لیکن وہ جب امام فراہی سے استفادے کے لیے اُن کے پاس مقیم تھے تو بے تکلف عربی بولتے تھے۔ مشہور عالم موسیٰ جار اللہ ہندوستان آئے تو امام فراہی سے ملنے مدرستہ الاصلاح بھی گئے۔ امین احسن ہی اُن کے میزبان تھے۔ عربی زبان میں گفتگو اور تقریر پر اُن کی قدرت دیکھ کر ایک دن اُنھوں نے پوچھا: عرب میں کتنے سال گزار کر آئے ہو؟ امین احسن نے جواب دیا: ’ما مست قدمي ھاتین قط بلاد العرب‘(میرے اِن دونوں پاؤں کو کبھی سرزمین عرب نے نہیں چھوا)۔ موسیٰ جار اللہ بڑی دیر تک اپنی حیرت کا اظہار کرتے رہے۔ اِسی زمانے میں ایک مرتبہ محمد علی جوہر اور سید سلیمان ندوی جیسے لوگوں کی موجودگی میں نوجوان امین احسن نے تقریر کی۔ اُن کی خطابت کا جو رنگ بعد میں نمایاں ہوا اور جس کی داد اپنے وقت کے بے مثل خطیب سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اِس طرح دی کہ خطیب تو میں بھی ہوں، لیکن تم عالم بھی ہو اور خطیب بھی، اُس کی کچھ جھلک اِس تقریر میں بھی تھی۔ لوگوں نے بہت داد دی، لیکن وہ منتظر تھے کہ استاذ امام کیا کہتے ہیں۔ شام کو درس کے لیے حاضر ہوئے تو کسی نے امام فراہی سے ذکر کیا۔ وہ کچھ دیر دوسروں کی باتیں سنتے رہے، پھر اپنے خاص انداز میں فرمایا: ہاں بھئی، یہ بڑے ابوالکلام آزاد ہیں۔ امین احسن بتاتے تھے کہ اُنھوں نے لفظ ’آزاد‘ اِس طرح ادا کیا کہ اُن کی یہ تعریف میرے لیے تعریف کم اور تنبیہ زیادہ ہو گئی۔ میرے استاد کی تربیت کا یہی انداز تھا۔

اِس سے پہلے امام فراہی نے مدرسہ کے زمانے میں بھی اُن کی ایک تقریر کی تحسین اِن الفاظ میں کی تھی: ’’اِس طالب علم نے بہت اچھی تقریر کی ہے۔‘‘ اِس پر اُن کے استاد مولانا عبد الرحمٰن نگرامی نے عرض کیا: آپ کی اِس تحسین کی کوئی یادگار بھی اِس کے پاس ہونی چاہیے۔ فراہی نے اپنا ’’مجموعۂ تفاسیر‘‘ اُنھیں دیا اور اُس پر لکھا: ’’بہ صلۂ حسن تقریر‘‘ اور اپنے دستخط ثبت کر دیے۔

1925ء میں اُن کے حکم پر وہ مدرسہ کے کسی کام سے ملایا گئے تو اپنے رفیق درس اختر احسن کو خط لکھا۔ اُس میں ایک جملہ یہ بھی تھا کہ: ’’سمندر کی سرجوشی کے ایام بہار ہیں۔‘‘ امام فراہی نے پڑھا تو کہا: امین میاں تو ادیب ہیں۔ وہ خود بتاتے تھے کہ زمانۂ طالب علمی میں اگر کوئی شخص اُن سے پوچھتا کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں تو وہ کہتے: ادیب الہند۔

اِس دور میں شاعری کا شوق بھی رہا۔ طبیعت میں شروع سے شوخی تھی۔ مدرسہ میں اپنے ایک استاد کی ہجو لکھ دی۔ مولانا نگرامی نے بلایا، تنبیہ کی، کچھ جرمانہ بھی کیا، لیکن ساتھ ہی فرمایا: اِس میں شبہ نہیں کہ تمھاری نظم بہت اچھی ہے۔ تاہم یہ شوق اُسی زمانے میں ختم ہو گیا۔ بتاتے تھے کہ میں نے شبلی سے موازنہ کیا تو مجھے خیال ہوا کہ میں اُن جیسے شعر نہیں کہہ سکتا۔ اِس کے بعد پھر میں نے اِس کوچے میں قدم نہیں رکھا ۔

مدرسہ کے زمانے میں ’’سبع معلقات‘‘ کا امتحان ہوا۔ سید سلیمان ندوی ممتحن تھے۔ امین احسن کے پرچے پر اُنھوں نے لکھا: یہ ایک طالب علم کا پرچہ ہے۔ مجھے ندوہ کے لیے اِس طرح کے استاد بھی کہاں سے ملیں گے۔

مدرسہ میں جن لوگوں کی اُن سے چشمک رہتی تھی، اُنھوں نے فراہی سے کہا: امین احسن کو نحو سے کچھ زیادہ مناسبت نہیں ہے۔ بتاتے تھے: میں درس میں حاضر ہوا تو آتے ہی استاذ امام نے پوچھا: امین ’لِ‘کیا صیغہ ہے؟ میں نے جواب دیا، معنی عرض کیے تو بڑے خشمگیں انداز میں لوگوں کی طرف دیکھا، پھر فرمایا: کون کہتا ہے کہ امین کو نحو نہیں آتی۔

اِسی طرح کے ایک موقع پر امام فراہی نے اپنے درس کے حاضرین سے پوچھا: اِس درس میں سب سے کم سن کون ہے؟ لوگوں نے کہا: امین احسن۔ اُنھوں نے پوچھا: سب سے بعد میں کون شریک ہوا؟ لوگوں نے کہا: امین احسن۔ اِس پر فرمایا: سیدنا مسیح کا ارشاد ہے کہ کتنے ہیں جو پیچھے آنے والے ہیں، مگر دوسروں سے آگے نکل جائیں گے۔

اپنے اوپر استاد کے اعتماد کا ذکر وہ اِسی اسلوب میں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ بتایا کہ لوگوں نے امام فراہی سے کہا: امین تو کہتے ہیں کہ عربی شاعری بھی کوئی شاعری ہے۔ کچھ پتا نہیں چلتا کہ اونٹنی کی تعریف کر رہے ہیں یا محبوبہ کی۔ امام فراہی نے کہا: اُنھیں کسی نے شعر سمجھایا نہیں ہو گا۔ میں آیا تو اُنھوں نے پوچھا: میں نے وہی بات دہرا دی۔ استاذ امام نے کہا: کوئی شعر پڑھو۔ میں نے معلقۂ امرؤالقیس کا پہلا شعر پڑھ دیا: ’قفا نبک من ذکري حبیب و منزل‘۔امام نے کہا: ترجمہ کرو۔ میں نے اُسی طرح ترجمہ کر دیا، جس طرح بالعموم مدرسوں میں کیا جاتا ہے۔ امام نے کہا: نہیں، یوں نہیں۔ اِس طرح ترجمہ کرو کہ: ٹھیرو، ٹھیرو، دوستو، جاناں اور منزل جاناں پہ دو آنسو بہانے دو۔ میں پکار اٹھا: لاریب، شعر ہو گیا، اب یہ شعر ہو گیا ہے۔ وہ کہتے تھے، اِس کے بعد عربی شاعری ہی میری سب سے زیادہ پسندیدہ شاعری ہو گئی۔

فراہی کا ذکر جب اُن کی زبان پر آتا تو آنکھوں میں ایک عجیب چمک پیدا ہو جاتی تھی۔ اِس کلیم ذروۂ سیناے علم کی باتیں وہ گھنٹوں کرتے، مگر سیر نہ ہوتے تھے۔ بعض واقعات ایسے دل نواز اسلوب میں سناتے کہ معلوم ہوتا، کسی دیوتا کا ذکر کر رہے ہیں۔ بتاتے تھے: ’’سبع معلقات‘‘ پڑھ رہا تھا۔ ایک جگہ ’لا‘سمجھ میں نہیں آیا۔ سب شارحین کو دیکھا، ادیب الہند مولوی فیض الحسن سہارن پوری کی شرح بھی دیکھی، لیکن کسی راے پر اطمینان نہیں ہوا۔ کتاب لے کر امام فراہی کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ اپنے دارالمطالعہ کے باہر کھڑے تھے۔ میں نے مشکل بیان کی، لمحے بھر کو رکے، جیب سے پنسل نکالی اور میری کتاب پر لکھا: ’لا ھي نادرۃ‘۔ میاں، جس طرح تم لوگ نہیں کہتے کہ جس گھڑی میری موت نہ آ جائے، یہ اِسی طرح کا ’لا‘ ہے۔ زبان کے غوامض تک پہنچنے کا یہ انداز صرف استاد ہی کا حصہ تھا۔

فراہی کے آخری زمانے میں ہندوستان کے ایک بڑے عالم نے اُن کی کسی تحریر پر کفر کا فتویٰ لگا دیا۔ اِس سے پورے علاقے میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ مدرستہ الاصلاح کے طلبہ اور اساتذہ، سب پریشان تھے۔ میرے لیے بھی یہ ایک بڑا سانحہ تھا۔ اِسی اضطراب اور پریشانی کے عالم میں فراہی کو ڈھونڈتا ہوا اُن کے دارالمطالعہ کی طرف بھاگا۔ میں نے دیکھا، استاذ امام سیڑھیوں پر کھڑے تھے۔ دوڑ کر وہیں اُنھیں بتایا۔ میں خود جس پریشانی میں تھا، اُن سے بھی اِسی کے لحاظ سے کسی رد عمل کی توقع کر رہا تھا ۔ وہ لمحہ بھر کے لیے زینے پر رکے، پھر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے: اچھا، یہ جن کا تم ذکر کر رہے ہو، وہ تو مجھے نہیں جانتے۔ میں ہکا بکا اُنھیں دیکھتا کھڑا رہ گیا۔ اِس فتوے پر اِس سے زیادہ بلیغ کوئی تبصرہ شاید کبھی نہ ہو سکے۔ وہ بڑے والہانہ انداز میں کہتے: فراہی یہ تھے، اِس شان کا کوئی شخص اب تم کہاں سے پیدا کرو گے؟

فراہی سے اُنھوں نے قرآن پڑھا، اُس کی زبان کا وہ ذوق پایا جو شاید ہی کسی کو نصیب ہوا ہو۔ نظم قرآن فراہی کی دریافت ہے، لیکن امین احسن نے اپنی تفسیر ’’تدبر قرآن‘‘ میں اُسے وہاں پہنچا دیا ہے کہ اُس کے منکر بھی اب انکار کے لیے کوئی راہ نہیں پاتے۔ امین احسن کا پایۂ علم وہی تھا جو اِس امت میں مختلف علوم و فنون کے ائمۂ مجتہدین کا رہا ہے۔ زبان، ادب، فلسفہ و حکمت اور قرآن کے معارف، اِن سب میں وہ جس مقام پر فائز تھے، اُس سے آگے کوئی مقام آسانی سے تصور میں نہیں آتا۔ اِن علوم میں لاریب، وہ اپنے وقت کے امام تھے۔ اُن کی بعض نئی تحقیقات سے متعلق جب کوئی شخص اُن سے متقدمین کے کسی حوالے کا تقاضا کرتا تو وہ بڑے اعتماد کے ساتھ کہتے: مطمئن رہیے، کچھ عرصے کے بعد ہم بھی متقدمین ہی ہو جائیں گے۔ میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ میں نے اُن کی مجلس میں صدیوں کے عقدے لمحوں میں کھلتے دیکھے اور بارہا اعتراف کیا ہے کہ:

طے می شود ایں رہ بدرخشیدن برقے

مابے خبراں منتظر شمع و چراغیم

اُن کا مقام یہی تھا، لیکن اِس کے باوجود اپنی کسی عزیز سے عزیز راے اور تحقیق کے خلاف بھی کوئی حق اگر سامنے آ گیا ہے تو اُن کے دل و دماغ کو میں نے اِس طرح اُس کے سامنے جھکتے دیکھا ہے کہ حیرت ہو جاتی تھی۔ اُن کے مدرسۂ علمی کا میں پچھلی صفوں میں بیٹھنے والا ایک طالب علم ہوں۔ سورۂ توبہ میں ’الْاَشْہُرُ الْحُرُمُ‘کا مفہوم اُنھوں نے جس طرح متعین کیا ہے، اُس پر مجھے اطمینان نہیں ہو سکا۔ میرا خیال تھا کہ بات بہت سادہ ہے، لیکن اُنھوں نے اِسے جس طرح دیکھا ہے، اِس کے نتیجے میں یہ بہت کچھ الجھ گئی ہے۔ اُنھی کے فیض تربیت سے جو کچھ پایا ہے، اُس کی روشنی میں ایک مرتبہ بہت ڈرتے ڈرتے میں نے اپنا نقطۂ نظر اُن کے سامنے رکھ دیا۔ وہ میری بات سنتے رہے، سوالات بھی کیے، اِس کے بعد چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے، پھر فرمایا: میں نے اِس آیت پر برسوں غور کیا اور اِس کے بعد ایک راے قائم کی تھی، لیکن تم ٹھیک کہتے ہو۔ پھر بڑے تاثر کے عالم میں یہ شعر پڑھا:

گماں مبرکہ بہ پایاں رسید کار مغاں

ہزار بادۂ ناخوردہ در رگ تاک است

امام فراہی کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اُنھیں خیال ہوا کہ جس طرح قرآن اُنھوں نے حمید الدین فراہی جیسے جلیل القدر عالم اور محقق سے پڑھا ہے، اِسی طرح حدیث بھی اِس فن کے کسی جید عالم سے پڑھنی چاہیے۔ ترمذی کے شہرۂ آفاق شارح عبد الرحمٰن محدث مبارک پوری کا گاؤں اُن سے زیادہ دور نہیں تھا۔ امین احسن کے والد اُنھیں مولانا کے پاس لے گئے، اُنھوں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو محدث مبارک پوری نے فرمایا:آپ تو سب کچھ پڑھے ہوئے ہیں۔ آپ کہیے تو میں اپنی سند آپ کو دے دوں۔ امین احسن نے جواب دیا: مولانا یہ شاہوں کا تاج ہے، اِسے یہ فقیر اِس طرح اپنے سر پر نہیں رکھنا چاہتا۔ میں سند لینے نہیں آیا، آپ سے حدیث سمجھنے آیا ہوں۔ مولانا نے پوچھا: کیا پڑھو گے؟ عرض کیا: آپ ترمذی کے شارح ہیں، وہی پڑھا دیجیے۔ چنانچہ درس شروع ہو گیا ۔ پھر سردی ہو یا گرمی، میلوں پیدل چل کر امین احسن پوری باقاعدگی کے ساتھ اُن کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے:

شوق تو راہ می برد، درد تو زاد می دہد

اپنے زمانۂ طالب علمی کا ایک واقعہ وہ بڑے لطف میں سنایا کرتے تھے۔ بتاتے تھے کہ ترمذی کی عبارت پڑھتے ہوئے میں نے ایک جگہ بہت اعتماد کے ساتھ ’عرف‘کو ’ر‘کی زیر کے ساتھ پڑھا۔ مولانا نے ٹوکا : ’أنا لا أعرف عرِف‘ (میں اِسے ’ر‘ کی زیر کے ساتھ نہیں جانتا)۔ میں نے اِسی اعتماد کے ساتھ جواب دیا:’ أما أنا فلا أعرف عرَف‘(اور میں اِسے ’ر‘کی زبر کے ساتھ نہیں جانتا)۔ مولانا نے فرمایا: ’راجع اللغۃ‘ (لغت دیکھیے)۔ لغت کی کتاب، غالباً جوہری کی ’’صحاح‘‘ کھولی تو استاد ہی کی بات لکھی ہوئی تھی۔ میں کچھ خفیف ہوا تو مسکرائے، پھر فرمایا: ’استأنف، وللجواد زلۃ‘ (آگے چلو، اصیل گھوڑا بھی پھسل جاتا ہے)۔

امام فراہی کی وفات کے بعد اُن کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے اُنھوں نے ’’دائرۂ حمیدیہ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ اُس کے تحت ’’الاصلاح‘‘ کے نام سے ایک ماہنامہ جاری کیا۔ اِس دوران میں امام کی کتابوں کے ترجمے کیے اور اِس قدر عمدہ ترجمے کیے کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے صاحب طرز انشا پرداز نے اُن کے بارے میں لکھا کہ کسی شخص کو اگر عربی زبان کی اعلیٰ علمی عبارتوں کے اردو میں منتقل کرنے کا سلیقہ سیکھنا ہو تو اُسے یہ ترجمے دیکھنے چاہییں۔

1941ء میں مولانا مودودی حکومت الہٰیہ کے قیام کی دعوت لے کر اٹھے تو مدرستہ الاصلاح، دائرۂ حمیدیہ، استاد کے مسودات اور علمی کاموں کے لیے اُس زمانے میں اپنے نام پر جمع پچاس ہزار روپے کی خطیر رقم چھوڑ کر وہ اُن کے ساتھ ’’دارالاسلام‘‘ منتقل ہو گئے۔ مولانا مودودی سے اُنھیں اتفاق بھی رہا اور اختلاف بھی۔ اتفاق کے زمانے میں جب بعض علما نے اُن کے علم کا استخفاف کرنا چاہا تو امین احسن کی شہادت ایک برہان قاطع بن کر سامنے آئی۔ بعد میں ازراہ تفنن فرمایا کرتے تھے کہ بھائی، وہ میں نے مولویوں کے مقابلے میں اُن کے علم کی شہادت دی تھی، اپنے مقابلے میں نہیں۔ کم و بیش 16سال وہ مولانا کے سب سے زیادہ قابل اعتماد ساتھی رہے۔ اُن کے ساتھ ’’جماعت‘‘ کی علمی و فکری رہنمائی کا کام بھی کیا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی بڑی استقامت کے ساتھ برداشت کیں۔ بتاتے تھے کہ قرآن میں تجزیۂ مطالب اور پیروں کی تقسیم کا کام میں نے ملتان جیل میں مکمل کیا تھا۔1953ء میں مولانا کو موت کی سزا ہوئی تو اُن کے جذبات بے پناہ تھے۔ اختلاف کے زمانے میں بھی، جب وہ اُنھیں اپنے مخصوص اسلوب میں ’’امیرالمومنین‘‘ کہتے اور اُن پر تند و تیز لب و لہجے میں تنقید کر رہے ہوتے تھے، میں نے بارہا اُن کے الفاظ کی تلاطم خیزیوں کے نیچے محبت کا ایک گہرا سمندر موجزن دیکھا ہے۔ اُنھیں افسوس تھا کہ اپنے جس دوست کے بارے میں وہ اتنی اونچی راے رکھتے تھے، وہ کس دلدل میں اتر گیا ہے۔ 1975ء میں، میں مولانا مودودی کے گھر کے بالکل سامنے مقیم تھا۔ وہ میرے ہاں تشریف لائے۔ کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے لیے صحن میں نکلے تو مجھ سے پوچھا: مولانا مودودی کا گھر یہی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ میں نے دیکھا کہ وہ بار بار دہرا رہے تھے:

کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ​​

18 ؍ جنوری 1958 ء کو یہ آشنائی امین احسن کے اِن الفاظ پر ختم ہوئی:

’’میں جانتا ہوں کہ آپ کی رفاقت سے محروم ہو کر میں کیا کچھ کھو رہا ہوں، لیکن آپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر آپ نے مجھ جیسے خیر خواہ مخلص کے مشوروں کی قدر نہیں کی تو آپ کو ’’برے مشیروں‘‘ کے مشورے ماننے پڑیں گے۔ میں دل سے متمنی تھا کہ مجھے آپ کی رفاقت حاصل رہے، لیکن آپ نے اپنے دونوں خطوں میں اُس کی جو قیمت مانگی ہے، میں وہ ادا کرنے سے قاصر ہوں۔‘‘

مولانا دنیا سے رخصت ہوئے تو بڑے تاسف کے ساتھ فرمایا: آج وہ شخص دنیا سے چلا گیا جس سے اتفاق میں بھی لذت تھی اور اختلاف میں بھی۔ جس دن یہ سانحہ پیش آیا وہ میرے گھر میں تشریف فرما تھے، مولانا کی بذلہ سنجی کا ذکر ہوا تو پٹھان کوٹ کے زمانۂ قیام کے بعض دل چسپ واقعات سنائے۔ اُنھی میں ایک یہ لطیفہ بھی تھا۔ کہنے لگے: میری شادی ہوئی، چودھری عبد الرحمٰن صاحب، میرے خسر مجھ سے ملنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ میں کسی وجہ سے اُس روز عصر کی نماز میں حاضر نہیں ہو سکا۔ مولانا سے کسی نے پوچھا: امین احسن نظر نہیں آئے؟ اُنھوں نے برجستہ جواب دیا: بھائی، آج صبح سے وہ ’إن الإنسان لفي خسر‘میں مبتلا ہیں۔

بذلہ سنجی اور شوخی کلام میں امین احسن کا معاملہ بھی یہی تھا۔

قید کے زمانے میں مولانا مودودی کی بتیسی غالباً ٹوٹ گئی۔ امین احسن نہیں جانتے تھے کہ مولانا کے دانت مصنوعی ہیں۔ کسی نے بتایا تو دانتوں کی ’’تعزیت‘‘ کے لیے مولانا کے پاس گئے۔ بظاہر بہت افسردگی کی کیفیت میں تھوڑی دیر کے لیے کوٹھڑی کے دروازے میں کھڑے ہوئے، پھر کہا: مولانا، افسوس ہے، مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ کے کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور۔ ایک صاحب نے، جن سے دین کی خدمت کے معاملے میں وہ ایک زمانے میں اچھی توقعات رکھتے تھے، بڑے اہتمام کے ساتھ کانفرنسیں منعقد کرنا شروع کیں۔ اُن میں وہ تمام مکاتب فکر کے علما کو بلاتے اور اُن سے تقریریں کراتے تھے۔ دین کی خدمت کا جو تصور امین احسن رکھتے تھے، اُس میں ظاہر ہے اِس طرح کی چیزوں کی کوئی گنجایش نہ تھی۔ وہ صاحب اُنھیں بھی دعوت دینے آئے۔ امین احسن نے پوچھا: اِن کانفرنسوں سے آپ کا مقصد کیا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ سب نقطہ ہاے نظر کے لوگ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں۔ اُنھوں نے جواب دیا تو امین احسن نے بے ساختہ کہا: بھانت بھانت کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی یہ خدمت تو ریلوے پچھلے سو سال سے انجام دے رہی ہے۔ میرا خیال ہے، اِس کے لیے آپ کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

اِس معاملے میں بھی وہ صاحب طرز تھے۔ ایک بڑے عالم اور مصنف سے ناراض ہوئے تو اُن پر ’پڑھے کم، لکھے زیادہ‘ کا فقرہ چست کیا۔ مستشرقین کے اسلوب تحقیق پر تنقید کی تو اِس کے لیے مکھی کو گھس گھس کر بھینس بنانے اور ٹڈے کی ٹانگ پر ہاتھی کا خول چڑھانے کے محاورے ایجاد کیے۔ فاطمہ جناح کی حمایت میں متحدہ محاذ بنا تو اُسے مینڈکوں کی پنسیری باندھنے سے تعبیر کیا۔ اِسی زمانے میں مولانا مودودی کا ایک جملہ بہت مشہور ہوا کہ ایک طرف ایک مرد ہے جس میں مرد ہونے کے سوا کوئی خوبی نہیں اور دوسری طرف ایک عورت ہے جس میں عورت ہونے کے سوا کوئی خرابی نہیں۔ امین احسن نے اِس پر تبصرہ کیا: تعجب ہے، اِن لوگوں میں کوئی ایک مرد بھی ایسا نہیں نکلا جو ایک ایسے مرد کا مقابلہ کر سکے جس میں مرد ہونے کے سوا کوئی خوبی نہیں ہے۔ ماچھی گوٹھ کے بعد کوٹ شیر سنگھ کی شوریٰ میں مولانا مودودی امیر جماعت کے لیے غیر معمولی اختیارات کا مطالبہ لے کر اٹھے۔ امین احسن کو اِس سے شدید اختلاف تھا۔ وہ ہمیشہ سے یہ راے رکھتے تھے کہ ’’جماعت‘‘ کے امیر کو شوریٰ کے فیصلوں کا پابند ہونا چاہیے۔ چنانچہ اُنھوں نے جماعت سے استعفا دے دیا۔ اِس پر مولانا مودودی نے اُن کے نام ایک خط میں لکھا:

’’میری اِس راے کو آپ چاہیں تو غلط کہہ سکتے ہیں۔ اِس کے خلاف دلائل دینے کی آپ کو پوری آزادی ہے، حتیٰ کہ آپ کو یہ بھی اختیار ہے کہ اِس کو جو بدتر سے بدتر معنی چاہیں پہنائیں، مگر آپ یہ الزام مجھ پر نہیں لگا سکتے کہ ایک بدنیتی کی بلی مدتوں سے مجرم ضمیر کے تھیلے میں چھپائے پھرتا رہا تھا اور پہلی مرتبہ اِسے موقع تاک کر کوٹ شیر سنگھ میں باہر نکال لایا۔ میں اِس راے کو حق سمجھتا ہوں۔ ہمیشہ اِس کو ظاہر کیا ہے اور تشکیل ’’جماعت‘‘ کے بعد سے آج تک اِس پر عملاً کام کرتا رہا ہوں۔ آپ کو پورا حق ہے کہ اِسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ اِس کی وجہ سے جماعت کو چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ جماعت میں رہتے ہوئے آپ مجلس شوریٰ کے ذہن کو اِس سے مختلف جس راے کے حق میں بھی ہموار کرنا چاہیں،پوری آزادی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔‘‘

امین احسن نے اِس کا جواب دیا، اور دیکھیے کہ کیا جواب دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’آپ نے اپنی ’’بلی‘‘ کی تاریخ پیدایش ناحق بیان کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ میں اِس بات سے ناواقف نہیں ہوں کہ یہ بلی آپ کے تھیلے میں روز اول سے موجود ہے، لیکن آپ کویاد ہوگا کہ تقسیم سے پہلے الٰہ آباد کی شوریٰ کے اجلاس میں، میں نے اِس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ یاد نہ ہو تو مذکورہ شوریٰ کی روداد پڑھ لیجیے۔ اُس وقت تو یہ مر نہ سکی، لیکن میں اور جماعت کے دوسرے اہل نظر اِس کی فکر میں رہے اور شوریٰ میں اِس کی موت و حیات کا مسئلہ بار بار چھڑتا رہا، یہاں تک کہ تقسیم کے بعد ہم نے جو دستور بنایا، اُس میں اِس کی موت کا آخری فیصلہ ہو گیا۔ واضح رہے کہ جب اِس کے قتل کا فیصلہ ہوا تھا تو اُس وقت شرع شریف، مصلحت زمانہ اور اسلامی جمہوریت، سب کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر ہوا تھا۔ اِس کی تائید میں علما کے فیصلے بھی حاصل کیے گئے تھے اور اہل نظر کی رائیں بھی جمع کی گئی تھیں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ آپ اپنے عمل سے وقتاً فوقتاً اِس کو زندہ بھی کرتے رہے، لیکن ہمارے دستور نے اِس کی زندگی تسلیم نہیں کی۔ اِس سلسلہ میں جب کبھی آپ نے دستور کی مخالفت کی تو عموماً اپنے اقدامات میں بے بصیرتی کا ثبوت دیا جس سے جماعت کے اہل الراے اِس بارے میں یک سو ہو گئے کہ یہ ’’بلی‘‘ مردہ ہی رہے تو اچھا ہے۔ لیکن آپ پر اِس کی موت بڑی شاق تھی۔آپ اِس کو حیات تازہ بخشنے کے لیے برابر بے چین رہے۔ اِسی کے عشق میں آپ نے استعفا دیا۔ ماچھی گوٹھ میں آپ نے اِس کے لیے رازداروں کو خلوت میں بلا کر سازش کی۔ پھر کوٹ شیر سنگھ میں اِس پر مسیحائی کا آخری افسوں پڑھا اور یہ واقعی زندہ ہو گئی۔ اب آپ مجھے دعوت دیتے ہیں کہ میں پھر شوریٰ میں آؤں اور اُس کے اندر رہ کر اِس کو مارنے کی کوشش کروں تو میں اِس سے معافی چاہتا ہوں۔ ایک ’’بلی‘‘ برسوں کی محنت سے میں نے ماری، آپ نے وہ پھر زندہ کر دی اور اب آپ کی مجلس عاملہ نے اِس کی رضاعت و پرورش کی ذمہ داری بھی اٹھا لی ہے ۔ اب میں پھر اِس کو مارنے میں لگوں تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ میں اپنی ساری زندگی اِس ’’گربہ کشی‘‘ ہی کی نذر کر دوں۔ آخر یہ کون سا شریفانہ پیشہ ہے۔‘‘

تجزیے اور محاکمے کے موقع پر اُن کا اسلوب یہی تھا۔ ’’جائزہ کمیٹی‘‘ پر الزامات کے جواب میں مولانا مودودی کو جو خط اُنھوں نے لکھا ہے، وہ اِس کا بہترین نمونہ ہے۔ شام کے سفیر کبیر نے اُسے پڑھا تو اُس پر اپنے قلم سے لکھ دیا: مولانا، آپ نے خط نہیں لکھا، قاضی کا فیصلہ لکھا ہے۔ ’’جماعت اسلامی‘‘ پر مولانا محمد منظورصاحب نعمانی کی فرد قرارداد جرم کے جواب میں بھی یہی اسلوب ہے۔ مولانا مودودی کے نظریۂ حکمت عملی کا تجزیہ بھی اِسی انداز سے ہوا ہے۔ عائلی کمیشن کی رپورٹ پر تبصرے میں بھی یہی لب و لہجہ ہے۔ اُن کی یہ تحریریں اُن کے طرز انشا کا ایسا نمونہ ہیں کہ آدمی پڑھتا ہے تو اُن کی شوخی طبیعت اور اُن کے سحر طراز قلم کو داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔

میں نے اُن کا بڑھاپا دیکھا ہے۔ وہ لوگ جو ’’جماعت اسلامی‘‘ سے تعلق کے زمانے میں اُنھیں سنتے رہے ہیں، آج بھی اُن کی خطابت کو یاد کرتے ہیں۔ بعض سننے والوں نے بتایا ہے کہ وہ خطابت کیا تھی، معلوم ہوتا تھا کہ دریا میں ہلکا ہلکا تلاطم آ گیا ہے، پہاڑوں میں کوئی چشمہ ابل رہا ہے، کوئی ندی ہے جو فرازکوہ سے وادیوں میں اتر کر اب میدانوں کی طرف رواں دواں ہے۔ اُن کی زبان سے جو لفظ بھی نکلتا، سیدھا دل میں اتر جاتا تھا۔ وہ پیغمبرانہ اذعان کے ساتھ بولتے اور عہد عتیق کے خطیبوں کی یاد تازہ کر دیتے تھے۔ اُن کی زبان پر استدلال بولتا اور ایمان نازل ہوتا تھا۔ 1945ء میں اُن کی ایک تقریر کا جملہ اِسی کیفیت کا آئینہ دار ہے کہ تم چاہو تو میری گردن پر تلوار رکھ دو ، لیکن مجھ سے یہ بات کبھی نہ منوا سکو گے کہ تزکیۂ نفس جیسا پاکیزہ کام اُن جاہلوں کے سپرد کر دوں جو خانقاہوں میں بیٹھے دین فروشی کرتے ہیں۔ ایک نام ور صحافی نے بتایا کہ ککری گراؤنڈ کراچی میں وہ تقریر کر رہے تھے اور میں اُن کی یہ تقریر لکھ رہا تھا۔ تقریر کے دوران میں اُن کے منہ سے نکلا: ’’اسلام فرماتا ہے۔‘‘ وہ لمحے بھر کو رکے اور پھر یہ کہہ کر کہ اِسے غلط نہ سمجھیے، فرمانے کا حق اگر ہے تو صرف اسلام ہی کو ہے، لفظ و معنی کا وہ بحر مواج پیدا کر دیا کہ میں دیکھتا رہا، سنتا رہا اور یہ بھول گیا کہ مجھے یہ سب کچھ لکھنا بھی ہے۔

[باقی ]

سید منظور الحسن

شق القمر

غامدی صاحب کا موقف

[محمد حسن الیاس کے ساتھ ایک مکالمے سے لیا گیا]

(12)

باب دوم

شق قمر کا واقعہ ــــقرآنِ مجید کی روشنی میں

قرآنِ مجید میں شق قمر کا واقعہ سورۂ قمر (54) کی ابتدا ئی آیات میں مذکور ہے۔ اِس کی نوعیت اورحقیقت اور غرض و غایت کو جاننے کے لیے اِن آیات کے معانی و مطالب کو سمجھنا ضروری ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ. وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ. وَ کَذَّبُوۡا وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ وَ کُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ. (القمر 54:1-3)

’’وہ گھڑی قریب آ گئی، جس سے اِنھیں خبردار کیا جا رہا ہے اور چاند شق ہوگیا۔ (مگر یہ نہ مانیں گے) اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے،جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ (چنانچہ یہی ہوا ہے) اور اِنھوں نے اب بھی جھٹلا دیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔ اور (ہم نے اُسی وقت اِن کو نہیں پکڑا، اِس لیے کہ ہمارے ہاں) ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔‘‘

اِس مقام کو جب قرآنِ مجید کے مجموعی مطالب اور نظم کلام کی روشنی میں پڑھا جائے تو درج ذیل باتیں متعین ہوتی ہیں:

1۔ سورہ کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذارِ عام میں نازل ہوئی ہے۔ سورہ کا موضوع قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ اِس میں خدا کی دینونت کے ظہور سے استدلال کیا گیا ہے۔

2۔ سورہ کے مضمون سے یہ بھی واضح ہے کہ اِس میں خطاب قریش مکہ سے ہے، جو عذاب کے لیے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔درجِ بالا آیات میں ’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ‘ (اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے) کے الفاظ بھی اِسی بات کی تصریح کرتے ہیں۔

3۔ سورہ میں قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کی سرگذشتوں کا حوالہ دیا ہے۔ واضح کیا ہے کہ اِن کی طرف اللہ کے رسول مبعوث ہوئے۔ اُن کے ساتھ اللہ نے اپنی نشانیاں بھی نازل فرمائیں، مگر یہ آخر دم تک جھٹلانے ہی پر کمر بستہ رہیں۔ لہٰذا اللہ نے اُن پر اپنا عذاب نازل فرمایا۔ قریش مکہ کا معاملہ اِن سے مختلف نہیں ہے۔ چنانچہ اُن کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہو گا، جو سابقہ اقوام کے مجرمین کے ساتھ ہوا تھا۔اِس بات کو ایک حتمی پیش گوئی کے طور پر ارشاد فرمایا ہے۔ سورہ کی آیت 45کے الفاظ ہیں:

سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَ یُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ.

(54 :45)

’’اِن کا یہ جتھا عنقریب شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہوں گے۔‘‘

عذاب کی اِس پیش گوئی کے حوالے سے استاذِ گرامی نے لکھا ہے:

’’یہ صریح پیشین گوئی ہے، جو ہجرت سے برسوں پہلے کر دی گئی تھی اور جس طرح کی گئی تھی، حرف بہ حرف اُسی طرح پوری ہو گئی۔ قریش پر اتمام حجت کے بعد یہ منظر پہلی مرتبہ معرکۂ بدر کے موقع پر دیکھا گیا۔ خدا کی افواجِ قاہرہ کے مقابل میں اُن کے جتھے اِس کے بعد کسی میدان میں بھی ٹھیر نہیں سکے، یہاں تک کہ مکہ فتح ہو گیا اور لوگوں نے ہر جگہ اُنھیں اپنی آنکھوں سے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے دیکھ لیا۔‘‘(البیان 91/5)

4۔ سورہ کا آغاز ’اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ‘ (قیامت کی گھڑی قریب آ گئی) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ استاذِ گرامی کے الفاظ میں ’السَّاعَۃُ‘ سے یہاں قیامت کی گھڑی مراد ہے، ’’جو رسول کے مکذبین کے لیے اُس عذاب سے شروع ہو جاتی ہے، جو اُس کی تکذیب پر اصرار کے نتیجے میں اُن پر لازماً آتا ہے۔‘‘1 یعنی اُن کے اخروی فیصلے کا نفاذ اِسی دنیا میں ہو جاتا ہے اور اُن کی سزا بھی یہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔ آخرت میں اُن کا مزید حساب کتاب نہیں ہوتا۔ وہ پہلے دنیوی عذاب جھیلتے ہیں، پھر قبر کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر اُسی کے تسلسل میں دوزخ کا ایندھن بنتے ہیں۔ کفار ِقریش کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ تکذیب اور تکفیر کی اِسی روش پر قائم رہے تو اُن کا انجام بھی یہی ہوگا۔ عنقریب اُن کا فیصلہ صادر ہو جائے گا اور اُن کے سلسلۂ عذاب کا آغاز ہو جائے گا۔

5۔ ’وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ‘ کے الفاظ چاند کے شق ہونے یا اُس کے پھٹ جانے کے بارے میں بالکل صریح ہیں۔ ’انۡشَقَّ‘ ماضی کا فعل ہے، جو کسی عمل کے وقوع اور تکمیل پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی شق ہونے کا فعل واقع ہو کر پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا۔ اِس سے آگے متصل آیت بھی اِسی بات کی تاکید و توثیق کر رہی ہے کہ یہ مستقبل میں ہونے والا کوئی واقعہ2 نہیں ہے، جسے ابھی ظہور پذیر ہونا ہے، بلکہ ایسا واقعہ ہے، جو واقع ہو چکا ہے۔ اگلی آیت یہ ہے: ’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ‘ (اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے)۔

استاذِ گرامی بیان کرتے ہیں:

’’’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ ‘، ’’اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے‘‘ کا جملہ اِس بات کی صریح دلیل ہے کہ شق قمر کا یہ واقعہ مستقبل کی کوئی خبر نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے، جس سے قرآن نے عذاب اور قیامت کے وقوع پر استدلال کیا ہے۔ اِس لیے کہ ’اِنْشَقَّ الْقَمَرُ‘کے معنی اگر یہ کیے جائیں کہ چاند شق ہو جائے گا تو اِس کے بعد یہ جملہ بالکل بے جوڑ ہو جاتا ہے۔‘‘(البیان 83/5)

6۔ اِسی طرح اِسے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے کسی زمانے سے بھی منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ آیت 2 سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ اِس کے مخاطبین قریش ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ وہ اِس نوعیت کی نشانیوں کو جادو قرار دے کر جھٹلانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

شق قمر کے واقعے کی نوعیت

شق قمر کو قرآنِ مجید نے’آیۃ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اِس کے معنی و مصداق اور اطلاق و استعمال کے حوالے سےپہلے باب میں مفصل بحث کی گئی ہے۔ اِس بحث کی نوعیت اگلے مباحث کے فہم میں گویا مقدمے کی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کے علم و استدلال اور تحلیل و تجزیہ میں اِسے اساس کی حیثیت حاصل ہے۔ اِس بنا پر مناسب ہو گا کہ گذشتہ باب کا خلاصہ سامنے رکھ لیا جائے۔ یہ چند نکات میں درجِ ذیل ہے:

* ’آیۃ‘ عربی زبان کا معروف لفظ ہے۔ اِس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔

* یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کی نسبت سے بیان ہو تو اِس سے مراد انفس و آفاق کی وہ نشانیاں ہوتی ہیں، جو اُس کی مختلف صفات کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

* قرآنِ مجید جب انسانوں کو اللہ کی صفات کے بارے میں توجہ دلانا چاہتا ہے تو وہ اِنھی آیات کو بہ طورِ دلیل پیش کرتا ہے اور اِس طرح اُن کے لیے تذکیر و ترغیب، تہدید و تخویف اور تنبیہ و تعذیب کا سامان کرتا ہے۔

* اِس اصطلاحی مفہوم میں یہ لفظ قرآنِ مجید میں چار مختلف مصداقات کے لیے استعمال ہوا ہے۔

ایک، ـــــ انفس و آفاق میں معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی آیاتِ الہٰی کے لیے ـــــ جو انفس و آفاق میں ظاہر و باہر ہیں اور جن کا تعلق اللہ کی قدرت کے عادی امور سے ہے۔ اللہ کا انسان کو مٹی کے خمیر سے تخلیق کرنا یا سورج اور چاند کو ایک قانون کا پابند کرنا یا آسمان سے پانی برسا کر مردہ زمین کے اندر زندگی پیدا کرنااِسی نوعیت کی آیات ہیں۔

دوسرے، ـــــ انفس و آفاق میں معمول کے خلاف ظاہر ہونے والی آیاتِ الہٰی کے لیے ـــــ جو مافوق الفطرت اور خارقِ عادت ہیں اور اللہ کے براہِ راست حکم سے یا کارکنانِ قضا و قدر کے ذریعے سے واقع ہوتی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانۂ رسالت میں بنی اسرائیل پر من و سلویٰ اترنا، صحراے سینا میں اُن پر مستقل بادلوں کا سایہ رہنا، حضرت مسیح علیہ السلام کا بن باپ کے پیدا ہونا اور گہوارے میں کلام کرنا اِسی کی مثالیں ہیں۔

تیسرے، ـــــانفس و آفاق کی خلافِ معمول ظاہر ہونے والی اُن آیاتِ الہٰی کے لیے ـــــ جو مافوق الفطرت اور خارقِ عادت ہیں اور اللہ کے حکم پر اُس کے نبیوں کے ذریعے سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اِنھی کو مذہبی اصطلاح میں ’’معجزہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِس کے نظائر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ بننا، اُس کی ضرب سے بارہ چشموں کا پھوٹنا، حضرت مسیح علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا اور رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پر کلام الہٰی کا جاری ہونا شامل ہیں۔

چوتھے، ــــــ انفس و آفاق میں حسبِ معمول اور خلافِ معمول ظاہر ہونے والی آیاتِ الہٰی کو بیان کرنے والی آیاتِ قرآنی کے لیے ــــــجو قرآن کے بین الدفتین درج ہیں اور اُس کی سورتوں کے فقروں کے طور پر تلاوت کی جاتی ہیں۔

اِن نکات کی روشنی میں اب سوال یہ ہے کہ سورۂ قمر میں لفظ ’ آیۃ‘ مذکورہ چار اطلاقات میں سے کس اطلاق کو قبول کرتا ہے؟

اگر ہم اِسےقرآن کے جملے یا آیت کے مفہوم میں لینا چاہیں تو ظاہر ہے کہ اِس کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ‘ کا جملہ، بلاشبہ قرآن کی آیت ہے، مگر اِس جملے کے اندر استعمال ہونے والے لفظ ’ آیۃ‘ کا مطلب آیت قرآنی ہر گز نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ قرآن کے کسی فقرے یا بیان کے لیے نہیں، چاند شق ہونے کے واقعے کے لیے استعمال ہوا ہے۔

اِسی طرح اگر اِس کا اطلاق انفس و آفاق کی معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی نشانیوں پر کیا جائے تو یہ بھی درست نہ ہو گا، کیونکہ یہ معمول کا واقعہ نہیں ہے۔ معلوم انسانی تاریخ میں یہ واقعہ ایک ہی مرتبہ پیش آیا ہے۔ چاند کا طلوع و غروب، اُس کا عروج و محاق، اُس کی ماہِ نو، ماہِ کامل اور ماہِ مشبہ کی مختلف صورتیں، اُس کا جزوی یا مکمل گرہن، اُس کی سرخی، سفیدی اور سیاہی، اُس کی گردش سے مہ و سال کا تعین، اُس کی کشش سے سمندر کا مد و جزر، اُس کی دل کش روشنی اور اُس روشنی میں رات کے مسافروں کے لیے رہنمائی کا سامان، یہ سب اللہ کی آیات ہیں، اُس کی عظیم نشانیاں ہیں، مگر یہ سب روز مرہ اور معمول کے واقعات ہیں۔ اِن کے وقوع میں تسلسل اور تواتر ہے۔ انسان اِن سے مانوس اور مربوط ہوتے ہیں۔ یہ آفاق کی عاداتِ مستمرہ ہیں، خوارقِ عادات نہیں ہیں۔ اِن سب کے برعکس شق قمر ایک خلاف معمول اور خارقِ عادت واقعہ ہے، اِس لیے آیت کے اِس مفہوم کا بھی اِس پر اطلاق نہیں ہو سکتا۔

جہاں تک اُن آیات کا تعلق ہے، جو معجزات و خوارق کی صورت میں انبیا کے توسط سے ظاہر ہوتی ہیں تو اُن کے زمرے میں بھی اِس واقعے کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا توسط اختیار نہیں کیا گیا۔ یعنی نہ آپ نے اپنی زبان سے کوئی الفاظ صادر فرمائے، نہ دستِ مبارک کے اشارےسے چاند کو دو ٹکڑے ہونے کا حکم دیا اور نہ اُس کی جانب کسی چیز کو پھینکا۔ ایسی کوئی صورت ہوتی تو بلاشبہ، اِس واقعے کا شمار اُن آیات میں ہوتا، جو اللہ کے اذن پر انبیا کے ہاتھ سے ظاہر ہوتی ہیں۔

اب ایک ہی صورت باقی ہے کہ اِسے آیاتِ الہٰی کی اُس نوعیت پر محمول کیا جائے، جو خارقِ عادت تو ہے، مگراللہ کی طرف سے براہِ راست ظاہر ہوئی ہے۔

چنانچہ درست تاویل یہی ہے کہ یہ واقعہ ایسی غیر معمولی نشانی ہے، جو اللہ کے براہ ِ راست حکم سے ظاہر ہوئی اور اِس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط کو اختیار نہیں کیا گیا۔ یعنی اِس کا شمار اُسی طرح کی نشانیوں میں ہوتا ہے، جیسی اِس سے پہلےبنی اسرائیل کے پیغمبروں کے زمانے میں ظاہر کی گئیں۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اِسی طرح کی نشانیاں دکھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ سورۂ حٰم السجدہ اور سورۂ نمل میں بیان ہواہے۔ حٰم السجدہ میں اعلان فرمایاہے:

سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ…. (41: 53)

’’(تم مطمئن رہو، اے پیغمبر، اور یہ بھی متنبہ ہو جائیں)، اِنھیں ہم عنقریب اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود اِن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اِن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن بالکل حق ہے…۔‘‘

سورۂ نمل میں ارشاد ہے:

وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ  سَیُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ فَتَعۡرِفُوۡنَہَا ؕ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ. (27: 93)

’’اور کہہ دو کہ شکر اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ عنقریب اپنی نشانیاں تمھیں دکھائے گا اور تم اُنھیں پہچان لو گے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، تمھارا رب اُس سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے حٰم السجدہ کے اعلان کو ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور مکذبین قرآن کے لیے تہدید و وعید‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ اِس کی وضاحت میں اُنھوں نے لکھا ہے:

’’ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو، اُس کے دلائل کی بنیاد پر، ماننے کے لیے تیار نہیں، بلکہ اُس کی تصدیق کے لیے ہماری نشانیاں ہی دیکھنے پر مصر ہیں تو عنقریب وہ وقت بھی آ رہا ہے، جب مکہ کے اطراف میں بھی اور خود مکہ میں، قریش کے اندر بھی، اِس کی حقانیت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوں گی کہ یہ پکار اٹھیں گے کہ بے شک، قرآن بالکل حق ہے۔ ’آیات‘ سے مراد غلبۂ حق اور ہزیمتِ باطل کے وہ آثار و شواہد ہیں، جن کی قرآن نے پیشین گوئی کی ہے۔ یہ پیشین گوئی اِس سورہ میں بھی پیچھے تاریخی دلائل کی روشنی میں گزر چکی ہے۔ ابتداءً تو قریش کے لیڈروں نے اِن باتوں کو تعلّی پر محمول کر کے اِن کا مذاق اڑایا، لیکن جب مدینہ میں اور خود مکہ کے اندر اور اُس کے اطراف میں، یہاں تک کہ خود قریش کے اچھے لوگوں کے اندر بھی اسلام جڑ پکڑنے لگا، تب اُن کو اور اُن کے پشت پناہوں کو کچھ تنبہ ہوا۔ بالآخر ہجرت کے بعد غلبۂ اسلام کے ایسے واقعات پیش آئے کہ قریش تو درکنار روم و فارس کے لیے بھی اسلام کے مقابل میں ٹکنا ناممکن ہو گیا۔‘‘ (تدبر قرآن 7/129- 128)

استاذ ِگرامی سورۂ نمل کی مذکورہ آیت کے تحت لکھتے ہیں:

’’یعنی تمھیں پتا چل جائے گا کہ یہ وہی نشانیاں ہیں، جن کے بارے میں میں نے تمھیں خبردار کر دیا تھا۔ چنانچہ معلوم ہے کہ ہجرت کے بعد یہ سب نشانیاں ظاہر ہوگئیں اور لوگوں نے بہ چشم سر دیکھ لیا کہ خدا کے پیغمبر نے کتنی سچی باتیں بتائی تھیں۔‘‘ (البیان 581/3)

چاند کا دو ٹکڑے کرنا، درحقیقت اُسی فیصلے کا اظہار تھا، جس کا اعلان پہلے کر دیا گیا تھا۔ یہ آفاق میں ظاہر ہونے والی نہایت غیر معمولی اور عظیم الشان نشانی تھی۔ اِس کی حیرت انگیزی، اِس کی شان، اِس کے ہول اور اور اِس کےرعب و دبدبے نے اِسے ایک عظیم آیتِ الہٰی کے طور پر نمایاں کیا تھا۔نوعیت کے اعتبار سے اِس کا شماراُن آیات میں ہوتا ہے، جو اللہ کی طرف سے براہِ راست ظاہر کی گئی تھیں اور جن میں انبیا کے توسط کو اختیار نہیں کیا گیا تھا۔ گویا یہ اُسی قسم کی نشانیوں میں سے ہے، جیسی اِس سے پہلےبنی اسرائیل کے پیغمبروں کے زمانے میں ظاہر کی گئیں۔ اِن کی مثالیں من و سلویٰ کا اترنا، بدلیوں کا سایہ فگن ہونا، کوہِ طور کا معلق ہونا، سیدنا مسیح علیہ السلام کا بن باپ کے تخلیق پاناہیں۔

[باقی]

  1. ۔ البیان 5/ 82۔
  2. ۔ بعض علما کے نزدیک یہ مستقبل کے واقعے کا بیان ہے۔ اُن کے خیال میں ماضی کا صیغہ اُس کی قطعیت کو نمایاں کرنے کے لیے آیا ہے۔