مواد پر جائیں

(2)

امین احسن اردو

دین کی دعوت وہ ہمیشہ اِسی اذعان اور ایمان کی اِسی حرارت کے ساتھ دیتے تھے۔ اِس باب میں ایک لطیفہ بھی ہوا۔1951ء کے انتخابات میں ’’جماعت اسلامی‘‘ نے اُنھیں الیکشن لڑنے کے لیے کھڑا کر دیا۔ وہ بتاتے تھے کہ میں نے بہت کہا کہ اِس کام کے لیے مجھ سے زیادہ ناموزوں آدمی کسی ماں نے نہیں جنا، لیکن ’’امیرالمومنین‘‘ نہیں مانے۔ طوعاً و کرہاً میں راضی ہوا تو ایک دن مجھ سے کہا گیا: حلقہ میں تقریر بھی کرنا ہوگی۔ میں گیا تو اپنی تقریر کی ابتدا میں نے یہاں سے کی کہ خواتین و حضرات، مجھ پر خدا کی اور اُس کے فرشتوں اور اہل ایمان، سب کی لعنت ہو اگر میں آپ سے ووٹ مانگنے کے لیے آیا ہوں۔ میں تو آپ کو یہ بتانے کے لیے آیا ہوں کہ ووٹر کی حیثیت سے آپ کے فرائض کیا ہیں۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ وہ مجھے اِس الیکشن میں کسی تقریر کے لیے بلانے کی حماقت نہیں کر سکتے تھے۔ اُن کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اِسی جماعت میں گزرا۔ وہ برسوں اِس کی دعوت کے نقیب رہے۔ اِس پس منظر میں یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ جماعت جس فکر پر قائم ہے، زندگی کے اِس آخری دور میں اُس کے متعلق اُن کا نقطۂ نظر کیا تھا؟ میں نے جو کچھ اُن سے سنا اور جو کچھ سمجھا ہے، اُس کی بنیاد پر میں پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ اب نہ وہ اقامت دین کے اُس مفہوم کے قائل تھے جو جماعت اِس سے مراد لیتی ہے، نہ اظہار دین کے وہ معنی اُن کے نزدیک درست تھے جو مولانا مودودی نے بیان کیے ہیں، نہ ’’جماعت اسلامی‘‘ قسم کی جماعتیں بنانے کو وہ صحیح سمجھتے تھے، نہ حکومت کے بغیر جہاد اور امارت اور بیعت سمع و طاعت جیسی لغویات کے لیے اُن کے فکر میں کوئی گنجایش تھی، نہ اقتدار کی سیاست کو وہ علما کے لیے موزوں خیال کرتے تھے۔ اُن کی پختہ راے اب یہی تھی کہ علما کی ہر جدوجہد کا ہدف صرف ذہنی اور فکری انقلاب ہونا چاہیے۔ عالم جب تک عالم ہے اور عالم رہنا چاہتا ہے، اِس سے آگے اُسے ہر گز کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سب باتیں اِس آخری زمانے میں اُن کی تقریروں، تحریروں اور گفتگوؤں میں بڑی صراحت کے ساتھ کہی گئی ہیں۔ اِن میں سے ایک ایک چیز کے بارے میں خود اُن کے الفاظ کی شہادت پیش کی جا سکتی ہے۔ امین احسن کی اقلیم فکر کیا ہے؟ جن لوگوں نے بھی اِس کی سیر کے لیے کچھ فرصت پائی ہے، وہ جانتے ہیں کہ مذہبیات کی دنیا میں یہ ایک بالکل نئی اقلیم ہے۔ اِس میں ساری حکومت، سارا اقتدار قرآن کے ہاتھ میں ہے۔ اُس کی زبان سے جو لفظ بھی نکلتا ہے، قانون بن جاتا ہے۔ ہر جگہ اُس نے ایک میزان نصب کر رکھی ہے۔ بو حنیفہ و شافعی، بخاری و مسلم، اشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی، سب اپنی اپنی چیزیں لاتے اور اِس میزان میں تولتے ہیں۔ پھر جس کی کوئی چیز ذرا بھی وزن میں کم ہو، اِس اقلیم میں وہ اُسے کہیں بیچ نہیں سکتا۔ علم و دانش، فلسفہ و حکمت، سب قرآن کے حضور میں دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ اُس کا ہر لفظ ایک شہرعجائب ہے اور یہ عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ پہلے محکم بولتا اور پھر اُس کی تفصیل کر دیتا ہے۔ اُس کی باتوں کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آ جائے تو خود اُسی کی دوسری باتیں وضاحت کر دیتی ہیں۔ اُس کا ایک ایوان خاص ہے جس کے بام و در پر ہر جگہ جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے کہ جو ہماری باتوں میں نظم و ترتیب کو نہیں مانتا، وہ ہمارے اِس ایوان میں داخل نہیں ہو سکتا۔ امین احسن کی ساری زندگی اِسی اقلیم میں بسر ہوئی ہے:

اُس کا انداز نظر اپنے زمانے سے جدا

اُس کے احوال سے محرم نہیں پیران طریق

تاہم ’’پیران طریق‘‘ میں بھی کبھی کوئی محرم مل ہی جاتا تھا۔ مولانا محمد منظور صاحب نعمانی لاہور آئے تو امین احسن نے اُنھیں بتایا: میری اہلیہ کہتی ہیں کہ تمھاری کتابیں تو میری سمجھ میں نہیں آتیں، لیکن مولانا نعمانی کی کتابیں میں خوب سمجھ لیتی ہوں۔ مولانا نعمانی نے فوراً کہا: مولانا، ہم اُن کے لیے لکھتے ہیں اور آپ ہمارے لیے لکھتے ہیں۔ ’’تدبر قرآن‘‘ مکمل ہوئی تو مولانا نعمانی نے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ وہ امین احسن کے ہاں آئے ہیں، وہاں مزعفر کی ایک دیگ پکی ہوئی ہے جس سے خوش بو کی لپٹیں آ رہی ہیں۔ مولانا نعمانی نے لکھا کہ وہ اِسے ’’تدبر قرآن‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ امین احسن کو اللہ تعالیٰ نے خوب صورت سراپا دیا تھا، خوش ذوق اور خوش لباس بھی تھے، لیکن اٹھنے بیٹھنے، رہنے سہنے میں ہمیشہ بہت سادہ رہے۔ اُن کے ایک پرانے ساتھی نے بتایا کہ ’’جماعت‘‘ کی طرف سے اُنھیں میانوالی بھیجا گیا۔ میں اُن کا رفیق سفر تھا۔ ہم بس کے ذریعے سے جا رہے تھے۔ سرگودھا کے اڈے پر بس رکی تو اُنھوں نے مجھ سے کہا: گھی سمجھ کر تیل کھانے سے بہتر ہے کہ تیل سمجھ کر تیل ہی کھایا جائے، جاؤ ایک نان اور کچھ پکوڑے لے آؤ۔

وہ فرشتہ نہیں، انسان ہی تھے اور اُن میں کچھ کمزوریاں بھی تھیں، لیکن معیار زندگی بڑھانے کا کوئی فتنہ کبھی اُن کے قریب سے نہیں گزرا۔ اللہ تعالیٰ سے تفویض و توکل کا ایسا تعلق تھا کہ اُس پر رشک آتا تھا۔ زبان اکثر ذکر الہٰی سے تر رہتی۔ مولانا عبد الرحیم اشرف سفر حج میں اُن کے ساتھ تھے، اُنھوں نے ایک مرتبہ بتایا کہ وہاں پہنچ کر اُن کی ساری دل چسپی صرف بیت اللہ کے ساتھ تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کی ہر چیز سے بالکل بے تعلق ہو گئے ہیں۔ زندگی کے سردو گرم میں ہمیشہ اپنے پروردگار کی رضا پر مطمئن رہے۔ حادثۂ قاہرہ میں ابو صالح جیسے فرزند کی وفات پر ’’میثاق‘‘ میں جو کچھ لکھا ہے، اُس سے اُن کے جذبات کا کچھ اندازہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اِس موقع پر جزع فزع کا کوئی کلمہ اُن کی زبان سے نہیں نکلا۔ آخری دو سال اُنھوں نے جس معذوری اور بے بسی کی حالت میں بستر پر گزارے ہیں، اُس کی تکلیف جھیلنا آسان نہ تھا، لیکن اِس میں بھی اگر کچھ کہا تو یہی کہا کہ آخرت کی تکلیف نہ ہو تو دنیا کی کوئی تکلیف بھی تکلیف نہیں ہے۔ طبیعت میں بڑی غیرت، بڑا وقار، بڑی تمکنت اور بڑی بے نیازی تھی۔ ایوب خان صاحب نے پوچھا: مولانا، کوئی خدمت بتائیے۔ اُن کا جواب تھا: آپ سے جو کچھ کہنا ہوتا ہے، ’’میثاق‘‘ کے اداریوں میں کہہ دیتا ہوں، اُس پر عمل کیجیے، یہی سب سے بڑی خدمت ہے۔ بھٹو صاحب نے پیغام بھیجا کہ حکومت آپ کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے۔ جواب دیا: میں حکومت کے وظیفہ خواروں کو ہمیشہ ملت فروش کہتا رہا ہوں۔ کیا اب خود بھی یہی کام کروں گا؟ ضیاء الحق صاحب کی طرف سے سلسلہ جنبانی ہوئی، لیکن اگر کچھ کہا تو صرف یہی کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے، اُسے اپنی لائبریریوں تک پہنچائیے، یہی کافی ہے۔ اُن کی ہر ادا میں یہ صدا تھی:

مگذر از نغمۂ شوقم کہ بیابی دروے

رمز درویشی و سرمایۂ شاہنشاہی

دوستوں کے لیے، البتہ طبیعت میں بڑی تواضع اور بڑی شفقت تھی۔ جن دنوں رحمٰن آباد میں تھے، میں ایک مرتبہ ملنے کے لیے گیا تو رات وہیں ٹھیرا۔ فجر سے کچھ پہلے میں نے محسوس کیا کہ ذرا دور کوئی ہاتھ کے نل سے پانی کی بالٹی بھرتا اور پھر اُسے انڈیل دیتا ہے۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ امین احسن ہوں گے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ میری چارپائی کے پاس آئے اور فرمایا: میں نے تازہ پانی نکال دیا ہے، اٹھیے اور وضو کر لیجیے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کہوں اور کیا کروں۔

وہ اتنے سچے، اتنے بے لاگ اور اتنے دو ٹوک تھے کہ مصلحت اندیشی کے پیمانے سے اُسے خطرناک سمجھا جائے گا۔ جو کچھ کہنا چاہتے، بغیر کسی تردد کے کہہ دیتے۔ اپنے رفقا میں فکر و عمل کا کوئی تضاد کسی حال میں برداشت نہ کرتے۔ اُن کی محبت بے پناہ تھی، مگر اخلاص کی گہرائی سے جس طرح یہ محبت چشمہ بن کر پھوٹتی تھی، اِسی طرح رنج بھی ابل پڑتا تھا۔ تاہم دیکھنے والے دیکھتے کہ اِس میں کسی بغض، کسی کینے اور کسی دشمنی کا کوئی شائبہ نہ ہوتا۔ گویا وہی معاملہ تھا کہ:

قہر بھی اُس کا ہے اللہ کے بندوں پہ شفیق

اُن کی باتیں کہاں تک لکھوں؟ آج اُن کا مرقع کھینچ رہا ہوں تو اپنے عجز بیان کو دیکھ کر بار بار خیال ہوتا ہے کہ امین احسن سے کم و بیش پچیس سال تک ملاقات اور تلمذ کا جو شرف مجھے حاصل رہا ہے، اے کاش، کسی ایسے شخص کو بھی حاصل ہوتا جسے زبان و بیان پر امین احسن ہی کی طرح قدرت ہوتی۔ یہ زمانے کی بدقسمتی ہے کہ اِس نابغۂ روزگار کو جاننے کے لیے اُسے مجھ جیسا شکستہ قلم ہی میسر ہو سکا جس کا حال یہ ہے کہ:

در زباں حرف نماندہ ست و سخنہا ماندہ ست

وہ صرف دین ہی کے عالم نہ تھے، دستور وقانون اور سیاست دوراں کے مسائل پر بھی اُن کی نظر اتنی گہری تھی کہ اِن کے ماہرین اُن کی صحبت میں بیٹھ کر بہت کچھ سیکھ سکتے تھے۔ اِن چیزوں کو دیکھنے کا اُن کا اپنا ایک انداز تھا جو اہل زمانہ سے بہت کچھ مختلف تھا۔ بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا ہوئی تو مذہبی حلقوں میں بالعموم اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اِس سے اگلے روز میں رحمٰن آباد حاضر ہوا تو امین احسن کو افسردہ دیکھا۔ میں نے پوچھا توکچھ دیر کے لیے خاموش رہے، پھر فرمایا: مجھے بھٹو صاحب سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے، لیکن جن احمقوں نے ایک قومی رہنما کو ختم کر دینے کا یہ طریقہ اختیار کیا ہے، وہ نہیں جانتے کہ اِس طرح اُنھوں نے اِس ملک کی سیاست میں ایک مستقل عناد کی بنیاد رکھ دی ہے۔ افغانستان میں جو کچھ ہوا، اُس کے مضمرات اُنھوں نے جس طرح ابتدا ہی میں سمجھ لیے تھے، اُسے آج لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ الجزائر، ترکی اور مصر و شام میں اسلامی تحریکوں کے معاملات کو وہ جس نظر سے دیکھتے تھے، ہمارے مذہبی رہنما شاید اُس وقت دیکھیں گے، جب بہت کچھ ڈوب چکا ہو گا۔ جماعت اسلامی سے اُن کی علیحدگی جس موقف کی بنیاد پر ہوئی، وہ اب اپنی صحت کے لیے کسی بحث و استدلال کا محتاج نہیں رہا۔ اِس کی اصابت خود اُن لوگوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دی ہے جو اِس وقت مولانا مودودی کے مشیروں میں اُن کے سب سے بڑے مخالف تھے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سن لیا ہے کہ اپنے امیر سے وہ آج وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو آج سے برسوں پہلے امین احسن نے اُن کے ’’امیرالمومنین‘‘ سے کہا تھا۔

وہ ایک زندہ انسان تھے اور زندگی کے مسائل کو ایک زندہ اور بیدار انسان جس طرح دیکھتا ہے، اُسی طرح دیکھتے تھے۔ علم و عمل کے جس مرتبے پر وہ فائز تھے، وہاں کھیل تماشے کا کیا گزر؟ لیکن ملک سے اُن کی محبت کا یہ عالم تھا کہ پاکستان اور بھارت اگر کبھی میدان میں اترتے تو بار بار پوچھتے اور اُس وقت تک مطمئن نہ ہوتے، جب تک پاکستان کی فتح کا یقین نہ ہو جاتا۔ غالب، اقبال اور شبلی کے بڑے مداح تھے۔ اُن کے اشعار اکثر پڑھتے۔ طبیعت میں شگفتگی تھی، اپنی بیماری کا ذکر بھی کرتے تو لب و لہجہ ایسا ہوتا کہ چہروں پر مسکراہٹ پھیل جاتی۔ مذہبی حماقتوں پر اُن کی خاص نظر رہتی تھی، یہ ذکر چھڑ جاتا تو اُن کی گل افشانی گفتار کا عالم دیکھنے کی چیز ہوتا۔ لفظ لفظ میں تلمیح و تعریض سے وہ مضمون پیدا کرتے کہ سننے والا صاحب ذوق ہوتا تو اش اش کر اٹھتا۔ اُن کے پرانے دوستوں میں سے ایک مذہبی رہنما سے اِسی طرح کی بعض باتیں سرزد ہوئیں تو اُن پر تبصرے کے لیے ایسے خوب صورت اسالیب ایجاد کیے کہ خوف فساد خلق نہ ہوتا تو میں سناتا اور لوگ دیکھتے کہ امین احسن کو قدرت نے لفظ و معنی کو رشتہ بپا کرنے کی کیا صلاحیت بخشی تھی اور کس کمال سے نوازا تھا۔ وہ دنیا سے کیا گئے، حقیقت یہ ہے کہ:

خاموش ہو گیا ہے چمن بولتا ہوا

حالی غالب کے شاگرد تھے۔ اُن کے مرثیے کا اختتام اُنھوں نے جن شعروں پر کیا ہے، اُنھیں لوگوں نے اُس زمانے میں حالی کے حسن عقیدت پر محمول کیا ہوگا۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ غالب وہی تھا، جسے حالی کی آنکھوں نے دیکھا۔ میں نے بھی بہت عالم دیکھے، بہتوں کو پڑھا اور بہتوں کو سنا ہے، لیکن امین احسن اور اُن کے استاذ حمید الدین فراہی کا معاملہ وہی ہے کہ:

غالب نکتہ داں سے کیا نسبت!

خاک کو آسماں سے کیا نسبت!

[1997ء]

سید منظور الحسن

شق القمر

غامدی صاحب کا موقف

[محمد حسن الیاس کے ساتھ ایک مکالمے سے لیا گیا]

(13)

شق قمر کے واقعے کا مقصد

قرآن سے یہ بھی واضح ہے کہ شق قمر کی نشانی کفارِ قریش کے لیے تھی اور اِس کا مقصد اُنھیں ’الساعۃ ‘، یعنی قیامت کی گھڑی کے بارے میں متنبہ کرنا تھا۔ رسول کے مکذبین کے لیے قیامت کی یہ گھڑی اُس عذاب سے شروع ہوتی ہے جو اُس کی تکذیب پر اصرار کے نتیجے میں دنیا ہی میں برپا ہو جاتا ہے اور اِس گھڑی کا اتمام اُس وقت ہو گا، جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت واقع ہو جائے گی۔

اِس عذاب کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے انبیا کی دعوت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اِس کی تفصیل اِس طرح ہےکہ اللہ کے نبی دعوت الیٰ اللہ اور قیامت کے انذار و بشارت کے لیے دنیا میں آتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے مخاطبین کو اللہ پروردگارِ عالم کی طرف بلاتے ہیں اور ماننے والوں کو قیامت میں اچھے انجام کی خوش خبری سناتے ہیں اور نہ ماننے والوں کو برے انجام سے خبردار کرتے ہیں۔ یہ نبیوں کا منصبی فریضہ ہے۔ اُن کے اِس فریضے کو قرآن نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ….

(البقرہ2: 213)

’’لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر (اُن میں اختلاف پیدا ہوا تو) اللہ نے نبی بھیجے، بشارت دیتے اور انذار کرتے ہوئے…۔‘‘

نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ حکم اِن لفظوں میں آیا ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا. وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا.

(الاحزاب33: 45-46)

’’اے نبی، (تم بھی بے پروا ہو جاؤ)، ہم نے تمھیں گواہی دینے والا اور خوش خبری سنانے والا اور خبردار کرنے والابنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کے اذن سے اُس کی طرف دعوت دینے والا اور (لوگوں کو تاریکیوں سے نکالنے کے لیے) ایک روشن چراغ۔‘‘

اِن نبیوں میں سے بعض ہستیوں کو اللہ ’’نبوت‘‘ کے ساتھ ’’رسالت‘‘کے منصب پر بھی فائز کرتے ہیں۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ نبی اپنے مخاطبین پر حق کو آخری درجے میں واضح کر کے اُن پر اللہ کی حجت تمام کر دے۔ آسمان کی عدالت زمین پر لگ جائے اور جھٹلانے والوں کے اخروی اور حتمی انجام کو اِسی دنیا میں طے اور عملاً نافذ کر دیا جائے۔ گویا رسول کے مکذبین کے لیے ایک قیامتِ صغریٰ برپا ہو اور اُن کی جنت اور جہنم کا فیصلہ اِسی زندگی میں ہو جائے۔ قرآن میں اِن رسولوں کی جوسرگذشتیں بیان ہوئی ہیں، اُن سے واضح ہے کہ حضرت نوح، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت ہود، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ علیہم السلام کے منکرین کے ساتھ یہی معاملہ ہوا۔ وہ آفاتِ سماوی کے ذریعے سے نیست و نابود کیے گئے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مکذبین کو بھی اِسی قانون کے تحت آپ کے صحابہ کی تلواروں کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔

اِس تناظر میں دیکھیے، سورہ کے آغاز میں فرمایا ہے کہ قریش کے منکرین کے لیے ’الساعۃ‘، یعنی عذاب کی گھڑی قریب آ گئی، جس کے بارے میں اللہ کا رسول اُنھیں متنبہ کر رہا تھا او ر اِس کی نشانی کے طور پر اللہ نے چاند کو شق کر کے دکھا دیا ہے۔ اِس تمہید کے بعد انبیاے سابق کی سرگذشتوں کا حوالہ دیا ہے اور بتایا ہے کہ اُن کے مخاطبین نے بھی اُنھیں جھٹلایا تھا تو اللہ نے اُنھیں نیست و نابود کر دیا۔ چنانچہ قوم نوح نے جھٹلایا تو اُسے پانی میں غرق کر دیا، عاد نے جھٹلایا تو اُنھیں بادِ تند سے ہلاک کر دیا اور اُن کی لاشیں کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح ہو گئیں، جو ہوا کے زور سے ادھر ادھر لڑھک رہے تھے، ثمود نے جھٹلایا تو اللہ نے اُن کے لیے اونٹنی کو نشانی بنا دیا اور جب اُنھوں نے اُس کی کونچیں کاٹ دیں تو اللہ نے اُنھیں ہول ناک کڑک اور ہیبت ناک چیخ سے ہلاک کر دیا اور اُن کی آبادیوں کو بالکل پامال کر ڈالا، قوم لوط نے تکذیب کی تو اُنھیں پتھر برسانے والی ہوا سے تباہ و برباد کر دیا، قوم فرعون نے جھٹلایا تو اُسے بھی زبردست قوت سے دبوچ کر فنا کر ڈالا۔ اِن تاریخی شہادتوں کو پیش کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اگر اِن قوموں کے جھٹلانے کا نتیجہ عذاب کی صورت میں نکلا ہے تو تمھارے جھٹلانے کا نتیجہ مختلف کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر تم کچھ دیر اور اِسی روش پر قائم رہے تو سمجھ لو تمھارے عذاب کا وقت بھی قریب آ لگا ہے۔ شق قمر کا غیر معمولی واقعہ اِسی کی ایک نشانی ہے۔یہ اِس حقیقت کا پتا دیتی ہے کہ جو قادر ِمطلق چاند جیسے عظیم کرّے کو دو ٹکڑے کر کے پھر جوڑ سکتا ہے، اُس کے لیے تمھارے جوڑ بند الگ کر کے دوبارہ جوڑنا چنداں مشکل نہیں ہے۔ چنانچہ آگاہ رہو کہ تمھاری قیامتِ صغریٰ کی ساعت بھی قریب ہے اور اُسی کے تسلسل میں قیامت کبریٰ کی ساعت بھی زیادہ دور نہیں ہے۔ سورہ کے آخری حصے میں ارشاد فرمایا ہے:

اَکُفَّارُکُمۡ خَیۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓئِکُمۡ اَمۡ لَکُمۡ بَرَآءَۃٌ فِی الزُّبُرِ. اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ نَحۡنُ جَمِیۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ. سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَیُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ. بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَ السَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَ اَمَرُّ.

(القمر 54: 43-46)

’’(قریش کے لوگو، پھر) تمھارے یہ منکرین کیا اُن سے کچھ بہتر ہیں یا صحیفوں میں تمھارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟ کیا اِن کا زعم ہے کہ ہم ایسا جتھا ہیں، جو مقابلہ کر لے گا؟ (سن لو)، اِن کا یہ جتھا عنقریب شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہوں گے۔ نہیں، بلکہ اِن سے جو وعدہ ہے، اُس کے پورا ہونے کا اصل وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کا دن (اِن منکروں کے لیے) بڑا سخت اور بڑا ہی تلخ ہو گا۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے سورہ کے آغاز اور اختتام میں لفظ ’اَلسَّاعَۃُ‘ کی جس طرح وضاحت کی ہے، اُس سے شق قمر کا مقصد پوری طرح واضح ہو گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’’اَلسَّاعَۃُ‘ سے مراد فیصلہ اور عذاب کی گھڑی ہے۔…یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک تو اُس عذاب سے جو اِس دنیا میں لازماً قوم پر آ کے رہتا ہے، اگر وہ رسول کے انذار کو خاطر میں نہیں لاتی، بلکہ اُس کی تکذیب پر اڑ جاتی ہے۔ دوسرے اُس عذاب سے جو آخرت میں پیش آئے گا۔ اِن دونوں عذابوں میں فرق صرف آغاز و تکمیل یا تمہید اور خاتمہ کا ہے۔ رسول کی تکذیب کے عذاب میں جو قوم پکڑی جاتی ہے، وہ درحقیقت آخرت کے عذاب ہی کے لیے پکڑی جاتی ہے، اِس وجہ سے لفظ ’اَلسَّاعَۃُ‘ بسا اوقات ان دونوں ہی عذابوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اِس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ہر قوم جس کے اندر رسول آ گیا، اُس کے فیصلہ کی گھڑی سر پر آ گئی۔ گویا ’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ‘ کا اسلوب بیانِ مبالغہ کا اسلوب نہیں، بلکہ یک سر بیانِ حقیقت ہے۔

’وَانْشَقَّ الْقَمَرُ‘۔ یہ علامت بیان ہوئی ہے عذاب کی گھڑی کے قریب آنے کی۔ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کا حوالہ ہم اِس کتاب میں جگہ جگہ دے چکے ہیں کہ یوں تو اِس زمین و آسمان کے چپہ چپہ پر اِس کی قدرت و حکمت کی نشانیاں موجود ہیں اور آئے دن نئی نئی نشانیاں بھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں، لیکن رسولوں کی بعثت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر ایسی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے، جن سے رسول کے انذار اور اُس کے دعواے رسالت کی صداقت ظاہر ہوتی ہے…

اِن نشانیوں کا مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، رسول کے انذار کو تقویت پہنچانا ہوتا ہے۔ رسول جن باتوں کی منادی زبان سے کرتا ہے، اُس کی تائید کے آثار و شواہد اِس کائنات میں بھی، مختلف شکلوں میں، ظاہر ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت اچھی طرح پوری ہو جائے۔ اِسی طرح کی ایک نشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کی تائید کے لیے چاند کے پھٹنے کی صورت میں ظاہر ہوئی تاکہ منکرین عذاب و قیامت پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ قرآن اُن کو جو ڈرا رہا ہے کہ زمین اُس دن ہلا دی جائے گی، پہاڑ پاش پاش ہو کر فضا میں اڑنے لگیں گے، سمندر ابل پڑیں گے، سورج تاریک ہو جائے گا؛ یہ باتیں اُن کو مرعوب کرنے کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں، بلکہ یہ حقائق ہیں، جو ایک دن پیش آ کے رہیں گے اور یہ بعید از امکان بھی نہیں ہیں، اِن کے شواہد کسی نہ کسی شکل میں اِس دنیا میں بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔…

کفارِ قیامت کو جو بہت بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے، اِس کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہو جائے۔ پہاڑوں سے متعلق اُن کا جو سوال قرآن میں نقل ہوا ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن چیزوں کو وہ بالکل اٹل، غیرمتزلزل اور غیر فانی سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر اُن کو بتایا کہ اِس کائنات کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی، خواہ وہ کتنی ہی عظیم ہو، نہ خود مختار ہے، نہ غیر فانی، نہ غیر متزلزل، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا، اُن سب کو درہم برہم کر کے رکھ دے گا۔…

یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اوپر والی آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ) میں اُس عذاب و ہزیمت کا ذکر تھا، جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً اِسی دنیا میں سابقہ پیش آتا ہے۔ اِس آیت (بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَ السَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَ اَمَرُّ)میں اُس عذاب کا حوالہ ہے، جو اصل روزِ حساب، یعنی قیامت میں اُن کے سامنے آئے گا اور جو بڑا ہی کٹھن ہو گا۔ اِس کتاب میں جگہ جگہ ہم اِس سنت الہٰی کا حوالہ دے چکے ہیں کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والے اِس دنیا میں بھی لازماً شکست کھاتے ہیں اور آخرت تو اُن کی رسوائی کی جگہ ہے ہی۔‘‘(تدبر قرآن8/ 90-91، 113)

[باقی]