مواد پر جائیں

مسئلہ ہماری جڑوں کا

اغنٰی جاوید اردو

جڑیں کیا ہیں؟ جو ہمیں مضبوطی سے جکڑ کر رکھیں۔ہمیں سہارہ دیں۔ استقامت اور ثابت قدمی دیں۔

اس حسین دنیا میں خواہ وہ درخت ہوں یا پودے، ان کی جڑیں ان کو زمین سے جوڑ کر رکھتی ہیں۔ چاہے طوفان آئے یا آندھی، جتنی گہری جڑیں اتنی ہی ثابت قدمی۔ بقا کا اتنا ہی امکان۔

لیکن ہمارا اصرار ہے کہ جڑیں انسان کی بھی ہوتی ہیں ۔ اسی سے وہ اپنے معاشرے سے جڑا رہتا ہے۔ معاشرے میں وطن، تہذیب ، مذہب، زبان اور وہ ساری سوغاتیں ہیں جو وہ اپنے ماحول میں پاتا ہے۔

اس حقیقت سے بھی ہم سبھی واقف ہیں کہ اگر پودے کی جڑیں کمزور ہوں تو وہ جتنا بھی سر سبز کیوں نہ ہو ،وہ جتنا بھی بلندو بالا کیوں نہ ہو ، اس کا کتنا ہی خیال کیوں نہ رکھا گیا ہو ، وہ زمین بوس ہو کر رہتا ہے۔ یعنی جڑ مضبوط تو پیڑ مضبوط۔

اب پودوں کے برعکس انسان نے تو چلنا ہے۔ اور وہ اس شان سے چلا کہ تاریخ کے ہر صفحے پر اور زمین کے ہر خطے پر اس نے اپنی سطوت اور صَنَّاعی کے نشان چھوڑے ہیں ۔ اور ہم جانتے ہیں وہ اپنی جڑوں سے الگ بھی ہوا ہے اور اس کو ساتھ بھی لے کر چلا ہے ۔

ریچل ولچن نے کیا عمدہ بات کہی ہے کہ اگر ہمیں ایک ہی جگہ رہنا ہوتا تو یقیناً ہمارے پاؤں نہ ہوتے ، جڑیں ہی ہوتیں ۔ اسی لیے معاش کی تلاش، بہتر زندگی کی لگن، اپنے آپ کو منوانے کی جستجو اور تجارت و تحفظ کی ضروریات نے انسان کو پوری دنیا میں بکھیر کر رکھ دیا ہے ۔ ذرائعِ آمد و رفت جتنے زیادہ آسان اور کثیر ہو رہے ہیں، انسان کی ہجرتیں اور کثیر سے سیاحتیں کثیر تر ہو تی جارہی ہیں ۔

ان حقائق کے پیشِ نظر میں اگر میں اپنا جائزہ لوں تو میں دیکھتی ہوں کہ ہمارا خاندان چار افراد پر مشتمل ہے۔ اور ہم بہتر زندگی کی تلاش میں کراچی کے ساحل سے اٹھے اور سب سے پہلے سوئٹزرلینڈ کی چوٹیوں میں جا پہنچے ۔ پھر سنگاپور کی رونقوں میں جا بسے ، وہاں سے سیگون میں کچھ وقت گزارا، پھر ہمیں سیول راس آیا اور آخر میں کینیڈا کا ٹورنٹو ہمیں بھا گیا۔ کچھ معلوم نہیں کہ قسمت نے اور کہاں کہاں کا نمک ہماری زندگی میں رکھا ہے ۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ انسان جن کی جڑیں اپنے ماحول سے مضبوط تھیں اور جنھیں اپنی جڑوں پر یقین اور اعتماد تھا کہ وہ برتر ہیں ،انھوں نے چاہے ایک برِّاعظم سے دوسرے براعظم تک کاسفر بھی کر لیا ،وہ نوآبادیاتی دور سے بھی گزرے یا ملک ملک اپنی صنعتیں قائم کر لیں ،انھوں نے نشاۃ ثانیہ کا مرحلہ بھی طے کر لیا ، اگر ان کی جڑیں اپنے ماحول کے ساتھ وابستہ تھیں تو ان کا کلچر بھی باقی رہا ، جتنا ایک مذہب پر ایمان تھا ،اتنا مذہب بھی سلامت رہا ، طریقہ بودو باش بھی اور زبان بھی پوری طرح قائم دائم رہی۔

مشہور واقعہ ہے ہندستانی لیڈر مولانا ابو لکلام آزاد سے ایک سیاسی ملاقات کے لیے انگریز وائس رائے ویول ان کے گھر آئے ۔ مولانا آزاد نے ترجمان کی خدمات لیں ۔ دوران ِگفتگو مولاناآزاد نے اردو میں جو بات وائس رائے سے کہی ، ترجمان نے اسے ٹھیک طرح سے نہ سمجھا اور وائس رائے ویول کو انگریزی میں بیان کر دیا۔ مولانا آزاد نے ترجمان کو ٹوکا اور انگریزی ہی میں کہا کہ میری بات یہ ہے، یہ نہیں ۔ وائس رائے حیرت سے بولے : مسٹر آزاد اگر آپ کی انگریزی اتنی اچھی تھی تو آپ کو ترجمان کی کیا ضرورت تھی؟

انھوں نے جواب دیا : “جناب آپ سات سمندر پار آکر اپنی زبان نہیں بھولے تو میں اپنے گھر میں اسے کیسے بھول سکتا ہوں ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ہم جس ماحول میں رہتے ہیں ، ناگزیر طور پر اس کے اثرات قبول کرتے ہیں اور اگر ہمارا ماضی اور ہمارا کلچر ہماری ترقی میں رکاوٹ اور ماحول ہمیں اجنبی سمجھ کر اگل دینے کا خدشہ ظاہر کر رہا ہو تو ہماراتعلق اپنی جڑوں سے کم زور ہونے لگتا ہے ۔ یہ احساس اس وقت پوری شدت سے ہوتا ہے جب عید ین جیسے تہوار آتے ہیں ، کوئی ثقافتی محفل یا شادی بیاہ کی تقریب منعقد ہوتی ہے تو ہماری ” جڑوں ” سے محبت عود کر آتی ہے ۔ یہ محبت اس وقت بھی محسوس ہوتی ہے جب ہم اپنے روایتی کھانوں کی لذت سے محرومی محسوس کرتے ہیں ۔ اپنے مخصوص لباس کے حسن اور آسانی کی ہمیں یاد آتی ہے ۔ اس موقع پر یہ احساس بڑی شدت سے ہمیں دامن گیر ہوتا ہے کہ ہم اپنی روایات سے دور ہو رہے ہیں ۔

وہ روایات کیا ہیں؟ روایات تو رسم و رواج اور ثقافت کا مجموعہ ہے جو نسل در نسل ہماری پہچان بن چکی ہیں اور یہ خاص طور پر مختلف کلچرل اور مذہبی تہواروں پر نظر آتی ہیں اور ہمیں غیر ملکیوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ایک دوسرے کلچر کے ساتھ اس کے کلی ٹکراؤ پر ہمیں بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے ۔

اسی موقع پر ہمیں اس حقیقت کو ماننا ہو گا کہ انسانی تہذیب ارتقاء سے عبارت ہے اور اس میں تبدیلی ناگزیر ہے ، چاہے ہم اپنے ماحول میں ہوں یا کسی اور ماحول میں ۔ یہی وہ چیز ہے جسے اقبال نے اپنے خوب صورت شعر میں یوں بیان کیا ہے؎

سکوں محال ہے قدرت کے کار خانے میں

ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں !!!!

اجنبی سماج اور معاشرےبھی ہمیں بہت سی خوبصورت تعلیمات دیتے ہیں۔ ہم اس میں رہ کر سیکھتے ہیں کہ دنیا کو اور اس کے مسائل کو ایک الگ نقطہ نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہم تنوع کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ اس کے رنگوں کو اپنے حدود میں رہ کر اپناتے ہیں۔ اس سے ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔

ہم اور ہماری نسلیں انھیں بنیادی باتوں کو سامنے رکھ کر ہر سماج اور ہر معاشرے میں اپنی جڑوں کو بر قرار رکھ سکتے ہیں۔ اس کا ایک اہم رکن بن کر اس کا حصہ بھی بن سکتے اور اپنی شاخت بھی بر قرار رکھ سکتے ہیں۔ اور پھر دنیا دیکھے گی کہ ہم کس طرح گلوں کی طرح کھلیں گے، پھلیں اور پھولیں گے۔ نسلوں در نسلوں تک زندہ اور برقرار رہیں گے۔