ہم اپنی زندگی کی مشکلات کے کتنے ذمہ دار ہیں ؟ ان مشکلات کو ختم کرنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں ؟ کیا کوئی قابل عمل حل ہے ؟ ثوبیہ نورین کی یہ منفرد اور مشقی تحریر چند تجویزیں لیے ہوئے ہے ۔ یہ تجاویز آپ کو حیران اور چونکا دیں گی !
شمع گھر میں داخل ہوتے ہوئے یہ سوچ رہی تھی کہ آخر ایسا کیا ہو جس سے لوگ اپنی حیثیت اور اپنے کردار کی طاقت کو پہچان سکیں۔ یہ سوچتے ہوئے اس کے دماغ میں آج کے دن کے سب واقعات آنے لگے۔ اسی اثناء میں اس کے خاوند نے اسے مخاطب کیا:” آج کن سوچوں میں گم ہے میری بیگم؟”
“اوہ۔۔۔ آپ پہنچ بھی گئے۔۔ کچھ نہیں بس وہی روز کے قصے!”
“چلیں آپ بھی فریش ہو لیں کھانا کھاتے ہیں۔۔ پانچ منٹ بعد۔ ” دونوں کھانے کی میز پر ۔بیٹھے ڈسکشن میں مصروف تھے۔ شمع اور عاصم ہر روز اپنے دن کی روٹین ایک دوسرے سے شئیر کرتے تھے اور وہ دونوں نہ صرف اپنی زندگی کو خوبصورت بناتے تھے بلکہ ان کے حساس مزاج اور محبت کے باعث وہ لوگوں کو امپاور کرنے، اپنی خامیوں اور غلطیوں کو اون کرنے کا میسج بھی دیتے مگر اس انداز میں کہ لوگ خود اپنی زندگی، اپنے جملوں اور اپنی ذمہ داریوں اور ان کی جوابدہی کے بارے میں سوچنے والے بنیں۔اس سلسلے میں وہ دونوں اکثر اپنے سٹاف کی فرمائش پر چھوٹے چھوٹے کارڈز اور ڈیزائن کرتے۔
کچھ سال پہلے ان کی لوگوں سے فرسٹریشن پر مبنی بحثیں ہوتی کہ ہم لوگ گھروں اور آفسز میں بیٹھ کرواویلے کرتے ہیں کہ ملک کے برے حالات ہیں۔ لوگ کرپٹ اور کام چور،خائن ہیں۔لوگ بے حس ہیں۔ ملاوٹ اور مہنگائی ہے۔سکول ٹیچرز ، والدین ایک دوسرے کی نظر میں غافل ہیں۔سسٹم میں بگاڑ ہے۔سب کو دوسروں کی تو ذمہ داریاں پتہ ہیں مگر اپنی غلطی کی نشاندہی کوئی نہیں کرتا۔یہ ہم نے کیسی تعلیم پائی ہے کہ دوسروں کے صرف فرائض اور اپنے صرف حقوق یاد رہتے ہیں۔
لہذا انہوں نے گفتگو وں کی تہہ میں جا کر تجزیہ کرنا سیکھا اور چھوٹی چھوٹی موثر کاوشوں میں مصروف رہتے۔شام کی چائے پر وہ دونوں اپنے پمفلٹ کے مواد جمع و مرتب کرنے میں مصروف تھے۔
آج کے پمفلٹ کا نام تھا:
“گفتگو بدلیے “
صبح سات بجے سے چار بجے تک جو جو جملے ، ان دونوں نے سنے ، وہ لکھتے گئے۔ ان کے خیال میں یہ جملے کسی اور طرح سے بولے جانے چاہیے۔ کیونکہ ہر جملہ جیسے لوگوں نے بولا ، اس میں ان کو یہی احساس ہوتا ہے کہ وہ خود کچھ نہیں کر رہے۔اس تبدیلی کے بعد پمفلٹ کی تحریر کچھ یوں تھی۔
“کیا آپ کے حالات خود بخود بگڑ رہے ہیں یا روزمرہ کی سیچ وایشنز میں آپ کا بھی کوئی کردار ہے؟ “
“اگر تو سب خود بخود ہوتا ہے یاآپ کے بس اور کنٹرول سے باہر ہے تو پھر تو واقعی،آپ کی ذمہ داری ختم! کیونکہ آپ کا تو کردار ان سیچوایشنز میں ہے ہی نہیں۔ اسی لیے جب ذمہ داری نہیں تو جوابدہی کا احساس بھی نہیں۔ لیکن اگر روزمرہ کی صورتحال میں آپ کا ارادہ و اختیار بھی شامل ہے تو یقینا آپ اپنے حالات اور اقدام کے لیے خدا کے ہاں جوابدہ ہیں۔
“آئیے خود کا محاسبہ کریں اور سوچنے کو تیار ہوں۔اگرہم لوگ یہی جملے بولتے رہے تو کبھی کوئی خود کو بدلنے کو تیار نہیں ہوگا بلکہ ہر خرابی اور کوتاہی کا ذمہ دوسروں پر یا حالات ہی پر دھرے گا۔ لہذا اپنی ذمہ داری پہچانئے اور اپنے جملے بدلئے۔
اس ٹریفک رش میں بندہ کیسے ٹائم پہ پہنچے ۔ یا
ٹریفک رش کو بھانپنے کے باوجود میں اپنے سفر کرنے کا وقت تبدیل نہیں کر رہا۔
روز ٹریفک کے رش آورز جاننے کے باوجود میں اسی وقت ہوں
آج بچوں کی وین چھوٹ گئی اور لیٹ ہوگئے۔
میں لیٹ سونے کے باعث صبح اٹھی نہیں اور یوں بچوں کی گاڑی نکل گئی۔اور وہ لیٹ پہنچے۔
زمانہ ہی ایسا ہے کہ نیکی انسان کر ہی نہیں پاتا
میں اس زمانے میں، میں نیکی کرنے کو مشکل سمجھتا ہوں
نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا
فی زمانہ ، نیکی کرنے کی قیمت دینے کو میں تیار نہیں ہوں
ایک لاکھ کی تنخواہ میں گزارا مشکل ہی ہونا ہے ناں
میں نے اپنے اخراجات اپنی تنخواہ سے بڑھا ر کھے ہیں۔اور نہ اخراجات کم کرنے کو تیار ہوں نہ وسائل بڑھانے کو
سڑکوں بازاروں میں صفائی نہیں رہ سکتی
ہم سڑکوں بازاروں کی صفائی نہیں رکھتے۔نہ صفائی کرنے اور رکھنے کو اہمیت دیتے ہیں
میں اپنے ہذبینڈ سے گفتگو شروع ہی نہیں کر پاتی
میں اپنے ہذبینڈ سے گفتگو کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ٹینشن کا سامنا نہیں کرنا چاہتی
میری بیوی بے وقت بات کر کے مجھے غصہ چڑھا دیتی ہے
میری بیوی مجھے بات بات پہ غصہ چڑھاتی ہے
میں اپنے دماغ میں سوچے بیٹھا ہوتا ہوں کہ میری بیوی کو کسی اور وقت بات کرنی چاہیے۔اور اگر بیوی کو وہ وقت معلوم نہ ہو اور وہ بات کر دے میں یکدم بھڑک کر بات کرتا ہوں،غصہ کرتا ہوں
آج دودھ ابل گیا
میرے نہ دیکھنے کے باعث دودھ ابل گیا
مجھے باس کچھ بھی کہہ دیں تو مجھے ٹینشن ہو جاتی ہے
میں باس کی باتوں کو یہ درجہ دیتا ہوں کہ وہ مجھے بالکل ٹھیک جج کرسکتے ہیں اور میں ، اپنی کام کی نوعیت اور وجہ جاننے کے باوجود اپنے باس کی ڈانٹ کو زیادہ اہم گردانتا ہوں اور سیلف ڈاوٹ کرنے لگتا ہوں
میں انسانوں کی رائے ، اپنے بارے میں اتنی سچ سمجھ لیتا ہوں کہ میں اپنے دماغ ا ور صلاحیتوں پہ شک کرنے لگتا ہوں
مجھے تو گھریلو حالات کی وجہ سے ڈیپریشن ہوگیا
میں نے گھریلو حالات کو نہ سمجھنے کے باعث، اپنے سوچنے کی صلاحیت پر کام نہیں کر رہا ، یا تعمیری انداز میں سوچنے کو تیار نہیں ہوں
گرمی کی وجہ سے میرا تو میٹر گھوم گیا اور بچوں کو ڈانٹ پڑ گئی
میں نے موسم کی شدت کو اس قدر اپنے اوپر حاوی کیا کہ اپنے بچوں پہ غصہ نکالا
لڑکے تو ہوتے ہی شرارتی ہیں ۔
ہم لڑکوں کے مخصوص مزاج کو درست مانتے ہیں
جوانی میں تو ہر بچے سے غلطیاں ہوتی ہیں ۔ لڑکے الٹی سیدھی حرکات کر جاتے ہیں
ہم اپنے لڑکوں کی تربیت اس انداز میں کرتے ہیں کہ وہ اپنے اقدام کے بارے میں زیادہ سوچتے سمجھتے نہیں اور بے پروائی کا رویہ برتتے ہیں
اس معاشرے میں اکیلی عورت کی عزت محفوظ رہنا بڑا مشکل ہے
ہم اکیلی عورت کے آگے ڈھال بننے کو تیار نہیں کہ اس کی حفاظت کریں۔ / ہم اکیلی عورت کو کمزور سمجھ کراس کی حفاظت نہیں کرتے
ابو پرچہ اتنا مشکل تھا کہ اس لیے فیل ہو گیا
میں اپنی پڑھائی ایسے نہیں کرتا کہ مشکل اور مختلف سوالوں کے جواب دینے کے قابل ہو جاوں
امی، میرا فٹ بال پھر گم ہوگیا
امی، میں اپنے فٹبال کی حفاظت نہیں کرتا اور ایک بار پھر میں نے گما دیا
میرے اتنے وسائل نہیں کہ آپ کو قرضہ دے سکوں
میں اپنے محدود وسائل میں اپنی ضروریات کو ترجیح دیتا ہوں اس لیے آپ کو قرضہ نہیں دوں گا یا میں اپنے محدود وسائل میں سے اپنی ضروریات کو پورا کرنا زیادہ اہم سمجھتا ہوں
آج کل کے بچے، اتنے بگڑے ہوئے ہیں کہ کسی بڑے کا حکم نہیں مانتے ہیں،اس لئے ان پر شیر کی نگاہ رکھنی پڑتی ہے
ہم آج کل کے بچوں کے مسائل کو سمجھنے کو تیار نہیں
اس لئے ان کی ہر بات اور مطالبہ کو غلط سمجھتے ہیں/ یا
اس بات سے چڑتا ہوں کہ میری بات کے مقابل اپنی رائے رکھیں۔ یا
ہم بچوں کے الگ انفرادی وجود کو ماننے کو تیار نہیں۔اس لیے اپنا ماتحت رکھنے کے لئے ان کو ڈراتے ہیں
ایک میری ایمانداری سے معاشرہ نہیں بدلے گا
میں اپنے عمل میں اپنے حصے کی ایمان داری کو ضروری نہیں سمجھتا
عورتیں کمزور ہی ہوتی ہیں ۔ان کو ہمیشہ مرد کے سہارے کی ضرورت رہتی ہے
ہم اپنی بیٹیوں کی تربیت بچپن سے ہی یہ بتا کر کرتے ہیں کہ وہ کمزور ہیں۔ اس لیے کسی کا سہارا اور تحفظ لے کر جیئیں ۔
زیادہ مصروفیات آجائیں تو میری نمازیں رہ جاتی ہیں
مصروفیات کے آنے پہ میں اپنے کام کو ختم کرنے کو ترجیح دیتی ہوں، نماز کو نہیں
ان جملوں کو بدلنے سے آپ اپنی زندگی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے سکتے ، اور تب ہی آپ اپنی ذمہ داری کو پہچان کر، اپنے حصے کا کام کرنا شروع کریں گے۔