مواد پر جائیں

سوالوں کا جنگل

نعیم احمد بلوچ اردو

مجھے تسلیم ہے کہ ایسے کانٹے دار سوال کسی نے نہیں کیے تھے ۔ پہلے کبھی اس محاورے کی سمجھ نہیں آئی تھی کہ دانتوں پسینہ آنا کیا ہوتا ہے مگر آج اس کے سوالوں سے آگیا تھا۔ لیکن میں بھی کیا کرتی ، جو کچھ سنا، پڑھا اور سوچا سمجھا، اس کے مطابق ہی ذہن بناہوا تھا۔ لیکن اس کم بخت نے ایسے ایسے پہلو نکالے کہ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور اگر پاؤں کے کوے ہوتے تو وہ بھی اڑ جاتے ۔

لیجیے میں مزید کسی سنسنی کا اضافہ کیے بغیر بتائے دیتی ہوں۔ میں درسِ قرآن دیتی ہوں ۔ چند برسوں سے یہ عمل چل رہا تھا۔ درس کے آخر پر کبھی کوئی سوال بھی پوچھ لیا جاتا تھا۔آج کے درس میں ایسی آیات تھیں جن میں جنت کی نعمتوں کا ذکر تھا۔حضرت ابراہیم کا ذکر تھا ، وہ بھی ضمناً۔ پہلی دفعہ آئی ایک لڑکی نے ہاتھ کھڑا کیا تو میں نے اجازت دی ۔ بولی:

“میڈم ، مردوں کے جنت پر خوش ہونے کی کوئی وجہ بنتی ہے کہ وہاں عیاشیوں اور بدمستیوں کی خوب اجازت ہو گی مگر آپ ؟ زیادہ سے زیادہ اس 72 کے” ریوڑ” میں پہلا یا دوسرا نمبر بھی آپ کا ہوا تو بھی کیا کریں گی ۔۔۔کتنے دنوں بعد باری یا وکھری ٹائپ کاجوائنٹ فیملی سسٹم ۔۔۔ ؟ نہ کام ،نہ کاج ، کھانا پینا، پینا اور کھانا ۔۔۔ جنسی عمل اور بس ؟ آپ تو پلاسٹک کی ایک روبوٹ ہی ہوں گی ! “

وہ لمحے بھر کو رکی اور پھر بولنے لگی : “یہاں کوئی اسلام پر عورت کے حوالے سے اعتراض کرتا ہے کہ اس میں عورت کی تحقیر ہے تو ماں کی مثال دی جاتی تھی ، وہاں تو وہ بھی نہیں ہوگی ۔نہ کوئی رشتہ نہ کوئی ناتا ۔ وقت گزارنے کو نہ کوئی فلم نہ کوئی ڈراما۔۔۔ وہ بنے بھی کیسے وہاں ۔۔۔۔ سارے ایکٹر اور ایکٹرس ، گانے بجانے والے اپنے اپنے سازوں کے ساتھ جہنم میں سڑ رہے ہوں گے ۔ اور آپ بس ۔ ” اس کے بعد اس نے معنی خیز انداز میں جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

وہ جنت کا صاف مذاق اڑا رہی تھی ۔ اور اس کے سوال کے بعد مجلس میں ایک منحوس سی خاموشی چھا گئی تھی ۔

میری تو کھوپڑی چٹخ گئی اس کے سوال سے ۔ تن بدن کو آگ لگ گئی ۔ بڑی مشکل سے غصے کو قابو پا کرصرف یہ کہہ سکی:

” جنت و دوزخ کا بیان امور متشابہات میں سے ہے ۔۔۔ ہم یہاں ان کو سمجھ نہیں سکتے ”

” ہاں اب ایک سو چالیس فٹ لمبا ہونا کیسے سمجھ میں آئے ۔۔۔۔ اور 72 کا مطلب 72 ہی ہے یا ریاضی بھی وہاں مختلف ہو گی؟ “

اب تو میری قوت برداشت بالکل ہی ختم ہو رہی تھی مگر اس کی لمبی زبان چھوٹی نہیں ہو رہی تھی بولی:

“اچھا آپا ۔۔۔۔ عورتوں میں سب سے زیادہ آزمایش تو شاید اماں حاجرہ کی ہوئی نا ۔۔۔حضرت ابراہیم اسے اور اس کے دودھ پیتے بچے کو تپتے صحرا میں اکیلے چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔۔ اب حاجرہ نے ۔۔۔ دوڑیں تو ان کی لگیں مگر انعام سارے ابراہیم کو ملے ؟ ان کو کیا ملا ؟ کیا ہی اچھا ہو کہ جنت میں ابراہیم کے بجائے انھیں۔۔۔۔”.

میں بھانپ گئی کہ وہ کیا قیامت ڈھانے والی ہے ۔میں حلق کے بل چیخی:” پکڑو اس گستاخ کو، نابکار سلمان رشدی کی کچھ لگتی۔۔۔۔”

میرا خیال تھا کہ وہاں بیٹھی خواتین اسے دبوچ لیں گی ۔ مگر وہ بے چاری جب تک اپنی چادریں اور برقعے سنبھالتیں، وہ کسی ہرنی کی طرح اٹھی اور اچھلتی پھدکتی بھاگ گئی ۔ اس نے صرف ایک شرٹ ، جینز اور ہلکا سا دوپٹا سر پر اٹکایا ہوا تھا ۔

وہ جس خاتون کے ساتھ آئی ہوئی تھی وہ بے چاری تو تھر تھر کانپنے لگی: “آپا معافی چاہتی ہوں ، یہ ڈنمارک سے آئی ہے ۔ ہمیں تنگ کر رہی تھی الٹے پلٹے سوال کر کے ۔ میں نے سمجھا کچھ سنے گی آپ سے تو اثر لے گی ۔۔۔”

میں نے غصے سے کہا : ” کیا اس کے ماں باپ اسے سلمان رشدی کی کتابیں پڑھنے کو دیتے ہیں ؟”

“نہیں جی ۔۔۔ وہ جو چاہتی خود ہی پڑھتی ہے ۔۔یورپ سےہے نا ۔۔۔۔ اس کے ماں باپ بھی بہت عاجز ہیں اس سے”۔

اتنی دیر میں باہر سے پاں پاں کی آوازیں آنے لگیں ۔ دانش کے ابا لینے آ چکے ہیں ۔ تین مسلسل ہارن بج چکے تھے۔ جس کا مطلب تھا کہ وہ جلدی میں ہیں اور میں ان کا غصہ بالکل برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔ فوراً باہر بھاگی ، حالانکہ ابھی چائے آنا باقی تھی ۔ مگر میں تو بھئی خاوند کی فرماں بردار ہوں ، فوراًیہ کہہ کرباہر کو لپکی کہ آئندہ ایسی بدتمیز لڑکیوں کو درس میں نہ لایا جائے۔

گاڑی میں قدم رکھا تو راشد کا موڈ بہت خراب معلوم ہوا۔ اصل میں اس کا موڈ تو تین برسوں سے خراب تھا ۔ کہانی لمبی ہے۔ مختصر یہ کہ ہماری لو میرج ہے ۔ یونیورسٹی میں کلاس فیلو تھے ۔ میں بڑی موڈ سکوڈ تھی ۔ سچی بات ہے راشد نے اسی لیے پسند کیا تھا ۔ مگر جب میرے اوپر تلے دو مس کیرج ہو گئے تو مذہب کی طرف چلی گئی ۔ میرے سسر ہی لے گئے تھے مجھے آپا فرحانہ کے پاس ۔ اس وقت میں تیسری دفعہ پرگننٹ تھی ۔ اور مہینہ بھی آخری تھا ۔ انھوں نے مجھے کہا کہ جتنے دن ڈلیوری میں رہ گئے ہیں یہ وظیفہ کرنا ہے اور یہ تعویذ باندھنا ہے ، وہ بھی خاص جگہ پر ۔ بچہ ٹھیک ہوا تو واپس میرے پاس آ جانا ۔ اور

جب دانش ٹھیک ٹھاک پیدا ہو گیا تو میں تو سوا مہینہ نہا کر آپا فرحانہ کی مریدنی بن گئیں۔ اور پھر تین برس ان کے پاس رہ کر ان کے رنگ میں رنگی گئی ۔ اور ان کا رنگ کیا تھا ؟ بے رنگ ہو جانا ۔ کہاں کٹے بالوں اور فٹ لباس میں اٹھکیلیاں کرتے چلنے والی انیقہ اور کہاں اب برقع پوش ، لپ اسٹک سے بھی بے نیاز اللہ کی نیک بی بی ۔ اور بقول راشد۔۔۔ اللہ میاں کی گائے !بس اس دن کے بعد میرا شوہر روٹھ گیا مجھ سے ۔ وہ اسی انیقہ کی تلاش میں تھا اور میں نے اپنے آپ کو آپا فرحانہ کے آگے فروخت کر ڈالا تھا ۔ میرا سسرال میرے ساتھ تھا ۔ سسر نے کہا: بیٹا ، اگر تم نے دین چھوڑا تو اللہ وہ لے جائے گا جو اس نے تمھیں دیا ہے ۔ رہا راشد تو اسے میں سنبھال لوں گا ۔ سچی بات یہ ہے کہ میرا دین کی طرف آنا خوف کی وجہ سے تھا ۔ذہن میں سوال آتے رہتے تھے لیکن میں لرز جاتی کہ اگر دانش چھن گیا تو ۔۔۔۔ بس اسی عدم تحفظ نے مجھے ” اسلامی راہبہ ” بنا ڈالا تھا ۔ اور چاربرسوں سے یہ معاملہ چل رہا ہے ۔ پھر اس کے بعد مجھے کوئی پریگنینسی بھی نہیں ہوئی۔اب میں بھلا اکلوتے دانش کا رسک کیسے لے سکتی تھی!

میں انھی سوچوں میں تھی کہ راشد بول پڑا: ” تم نے آج آپا فرحانہ کی چاچی کی ممانی ساس کے ختم پر جانا ہے نا؟”

راشد کی عادت تھی کہ وہ اسی طریقے سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتا اور مجھے چڑاتا تھا ورنہ وہ سیدھے طریقے سے بھی کہہ سکتا تھا کہ تم نے آپا فرحانہ کی دادی کے ختم پر جانا ہے؟ خیر۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا : ” نبیل یو کے جا رہا ہے اور آج اس نے اپنے گھر میں پارٹی رکھی ہے ۔میں تمہیں ختم والی جگہ پر چھوڑ کر پارٹی میں چلا جاؤں گا۔۔۔ ٹھیک ہے؟”

نبیل کو معلوم تھا کہ میں اس طرح کی پارٹیوں کی کتنی شوقین تھی۔۔۔ جہاں پر ڈھیر سارا ہلَّہ گُّلہ ہوتا ہے لیکن میں اب دنیا تیاگ چکی تھی۔وہ سمجھتا تھا کہ میں اب بھی پلٹ سکتی ہوں۔لیکن کاش وہ پگلا سمجھے کہ ماں کی کیا مجبوریاں ہوتی ہیں۔خیر ۔۔۔میں نے کہا ٹھیک ہے آپ مجھے راستے میں چھوڑ دیجیے گا۔

راشد کی بات سے میں اس لڑکی کے سوالات کو ذہن سے جھٹک سکتی تھی لیکن میں ابھی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔ مجھے رہ رہ کر اس بدتمیز کے سوالوں پر غصہ آرہا تھا۔میری جھنجھلاہٹ ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔میں جان چکی تھی میرے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب ہی نہیں تھا۔ اس لیے کہ سوال کرنا سکھلایا ہی نہیں گیا تھا۔ جواب کیسے ملتے ۔۔خیر۔ میں اسی طرح پروگرام کے مطابق آپا فرحانہ کی دادی کے ختم پر گئی۔ وہاں پر کئی گھنٹے پروگرام چلتا رہا ۔ بہت ڈسٹرب رہی۔یہ ڈسٹربنس کیسی تھی ،میں عقلمند ہوتی کہ اس کا تجزیہ کر پاتی تو اتنی بزدل ہی کیوں ہوتی۔بس اسی روٹین میں رہی ۔پروگرام کے مطابق راشد نے مجھے وہاں سے پک کیا۔دانش راشد کے ساتھ ہی تھا۔ یہ بھی میرے اندر کا عجیب تضاد تھا۔میں دانش کو اپنے رنگ میں رنگنا نہیں چاہتی تھی۔نہ جانے میں کیوں چاہتی تھی کہ وہ راشد کی طرح بنے۔۔۔ دنیا کی ترقی میں آگے جائے ۔ کھیلے کودے اور زندگی کے رنگوں سے لطف اندوز ہو۔

خیر تھک ہار کر گھرآئی۔ کھانا وانا کیا پکانا تھا، وہاں سے ہم دونوں اپنی اپنی قسمت کا کھا کر آئے تھے ۔راشد بہت کچھ بتا رہا تھا کہ وہاں یہ ہوا، وہ ہوا اور میں” ہوں،ہاں “کرتی رہی ۔سچی بات یہ ہے کہ میں ان سوالوں سے ابھی تک نہیں نکلی تھی۔ رات اس طرح کی نہیں تھی جیسے پہلے ہوا کرتی تھی ۔بہت تھک چکی تھی ۔۔جلد ہی نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔ پھر یوں لگا کہ اٹھ بیٹھی ہوں ۔ میں نے دیکھاکہ آسمان ہے مگر وہ قوس قزح کے رنگوں سے بھرا ہوا ہے ۔ایسا آسمان اور ایسے رنگ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے ۔ میں آپ کو کیسے سمجھاؤں؟ مثال سمجھ میں نہیں آرہی ۔بتانے کو تو بتا دیا کہ رین بو ،مگر وہ رنگ بڑے نرالے تھے ۔ آس پاس کا منظر ، لش گرین مگر سبزہ بھلا ایسا بھی ہوتا ہے ؟ ٹھیک ہے کہ وہ سبزہ تھا ،گرینری تھی ۔مگر نہیں ۔وہ سبزہ نہیں تھا ۔وہاں پھول تھے لیکن وہی بات ، بس پھولوں جیسے تھے ۔

پھول کبھی ایسے نرالے اور خوش رنگ نہیں ہوتے ! کیا نرالا کمبی نیشن تھا !کس کی مثال دوں۔۔۔ میں ابھی ایک عالم ِ تحیر میں تھی کہ ایک آواز سنائی دی :

” بھئی میں تو بہت مصروف رہی ۔۔آج سوچا کہ کچھ تفریح ہو جائے۔۔ میری تو کام کر کر کے طبیعت ہی بہت ا چاٹ ہو گئی ہے ۔ پراجیکٹ ہی میں نے ایسا لے لیا ۔اس زمین یعنی ارتھ کے بننے سے لے کر قیامت کے دن تک ۔معلوم ہے کتنی گھنٹے بنتے ہیں ؟ بے شمار ۔ مجھے ان کی سا ر ی کی ساری ریکارڈنگ دے دی گئی اور یہ اصل میں میرا ہی آئیڈیا تھا ۔ اس سب کاٹھ کباڑ سے ان اہم اور دل چسپ واقعات کو الگ کرنا جن کے بارے میں ہم انسان دنیا کی زندگی میں الجھے رہے، دعوے کرتے رہے کہ یہ ہوا ، وہ ہوا ۔ وہ سچا ، وہ جھوٹا وغیرہ “

” ہاں مجھے یادہے تم نے ہی تو پوچھا تھا کہ اگر مسیح علیہ السلام کو صلیب نہیں دی گئی تھی تو پھر کیا ہوا تھا ؟ “

” اور میں نے ایک فرشتے سے سوال کیا تھا کہ یہ ارتقاء کی اصل کہانی کیا ہے ؟ “

” میں نے پوچھا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن نائن الیون کی دہشت گردی میں ملوث تھا کہ نہیں ؟ آخر کیسے انھوں نے یہ سب کچھ کر لیا؟ “

میں نے بولنے والوں کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے دیکھے بھالے لگے ۔ اوہ ! ایک تو مدر ٹریسا تھی اور دوسری رُتھ فاؤ ۔ اور تیسری شاید مَیری کیوری اور چوتھی مجھے بلقیس ایدھی لگ رہی تھی ۔ “

میں تو حیران رہ گئی۔ یہ لوگ یہاں ؟؟ یہ سوال آتے ہی میرے ذہن میں یوں لگا جیسے کسی نے سرگوشی کی ہو ۔”یہاں مذہب ہی کی بنیاد پر نہیں، فطرت میں رکھی اقدار کی پاس داری پر بھی انسانوں کو نوازا گیا ہے ! “

میرے دل میں بڑی خواہش پیدا ہوئی کہ میں ان سے بات کروں۔ ان سے پوچھوں کہ مجھے بتاؤ ہاجرہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ مجھے اس کی ریکارڈنگ دکھاؤ ۔ اصل میں میرے اپنے ذہن کے سوال جاگ پڑے تھے۔لیکن جیسے میں نے ان کی طرف قدم بڑھایا ۔ عجیب احساس ہوا۔ وہ سب میری موجودگی سے بالکل ناواقف تھیں مگر میں انھیں صاف صاف دیکھ رہی تھی ، سن رہی تھی ۔”

سب سے پہلے بولنے والی مدر ٹریسا تھی۔ کیا حسین خاتون ! وہی نین نقش لیکن اب ان میں بلا کا حسن تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ سانچا تو وہی ہے لیکن اس کے سارے عیب، ساری کمیاں دور ہو چکی ہیں ۔ وہ کہہ رہی تھی:” ہاں بھئی مجھے اس پراجیکٹ کے لیے فرشتوں کی جو ٹیم دی گئی تھی ، انھوں نے میری نگرانی میں بڑی محنت کی۔ہم نے کروڑوں کی تعداد میں فلمیں ایڈٹ کر لی ہیں ۔اور ان کی نمایش کی جارہی ہے۔”

” مگر اب آپ تفریح کے لیے جا کہاں رہی ہیں ؟ ” رتھ فاؤ نے پوچھا۔ “

” میری خواہش ہے کہ ذرا ایچ ڈی ون گلیکسی کی سیر کرنے جاؤں ۔”

” وہ جو زمینی اکائی کے مطابق ساڑھے تیرہ بلین نوری سال کے فاصلے پر ہے؟ خا صا وقت نہیں لگ جائے گا؟ ” میری کیوری نے کہا۔

” نہیں، مجھے بتایا گیا کہ یہاں کے وقت کے مطابق پانچ گھنٹے کی فلائیٹ ہے ۔ چلنا ہے ؟ مزا آ جائے گا ! “

وہ بولی : ” نہیں ۔ بھئی مجھے تو ابھی بہت کام ہیں ۔ میرا پرا جیکٹ ہے غیر متمدن قدیم انسان کو ان کے ماضی سے نکالنا ، کوئی آسان کام ہے یہ ؟ دیکھو نا میں کئی ہفتوں سے ان لوگوں کے شعور کو بلند کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو ضد لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کی کالونی میں وہی کچھ ہو نا چاہیےجو ان کو آزمایش کے زمانے میں بتایا گیا تھا۔ وہی دودھ کی نہریں، شہد کی جھیلیں ، چھلکتے جاموں اور رقاصاؤں کی محفل ، بادشاہوں کے دربار کی سی آسایشیں اور فضائیں۔اب ان کو لاکھ سمجھایا کہ یہ تو تمہارےزمانے میں جو کچھ بہترسے بہترین تھا ، اس کی مثالوں سے ایک رف سا آئیڈیا دیا گیا تھا مگر وہ بضدہیں کہ ایک دفعہ ہی سہی ،وہی چاہیے ۔” رُتھ فاؤ بولی ۔

میں نے سوچا کہ وہ بے چاری یہاں بھی لوگوں کا علاج ہی کر رہی ہے ، جسمانی نہ سہی نفسیاتی ہی !

” تم ان کا سوفٹ وئیر کیوں نہیں اپ ڈیٹ کرا دیتی ؟ ” بلقیس ایدھی بولی ۔

” نہ بھئی نا۔۔ یہاں کے قانون ہی بڑے نرالے ہیں ، کسی پر دھونس زبر دستی نہیں ۔ کوئی خود سے بدلے تو بدلے۔ ہم کسی کو مجبور نہیں کر سکتے۔لیکن میں نے اس کا حل نکال لیا ہے ۔ بتاتی ہوں آپ کو “۔

اس سے پہلے وہ کچھ بتاتی۔ ایک عجیب سواری ہمارے سامنےآگئی۔ اب میں اس سواری کی آپ کو کیا مثال دوں؟ میں نے اس جیسا بھی پہلے کچھ نہیں دیکھ رکھا تھا۔ وہ قریب آکر رکی تو میں آپ سے آپ سمجھ گئی کی یہ کوئی اڑنے والی چیز ہے۔ میں ذرا کبیدہ خاطر ہوئی ۔ ان شان دار خواتین کی رفاقت سے الگ ہونے لگی ہوں۔ مگر ساتھ ہی یہ خبر مجھےغیر محسوس طریقے سے دے دی گئی کہ آپ کے ذہن میں حضرت حاجرہ کے بارے میں سوالات کا جواب دیا جا ئے گا ۔ اور اس کے ساتھ ہی میرے قدم خود بخود اس اڑن کھٹولے کی طرف اٹھنے لگے۔ میں جیسی ہی بیٹھی، وہ خود بخود ہی اڑنے لگا ۔ بڑے غضب کی سواری تھی ۔ میں رنگوں کی دنیا میں، خوشبووں کی فضا میں، موسیقی کے سروں اور پرندوں کی اڑان کے ہمراہ محو ِپرواز تھی ۔ میں نے موسیقی پر غور کیا تو صاف معلوم ہوا کہ یہ آواز تو کسی ہندستانی مغنیہ جیسی ہے ۔ میں آپ کو نام نہیں بتا سکتی ۔ ہنسیں گے آپ مجھ پر ۔خیر میں موسیقی کے سروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئےیہ ایک عجیب جگہ رکی ۔ اتری نہیں ،بس آسمان ہی میں معلق ہوگئی ۔ سامنے یوں لگا جیسے کسی نے کینوس لگا دیا ہے ۔ پھر ایک بہت بڑی سکرین روشن ہو گئی ۔ارد گرد کا ماحول عجیب سے ملگجے اندھیرے میں بدل گیا اور میرے سامنے ایک چونکا دینے والا منظر تھا۔میں جو کچھ دیکھ رہی تھی اس میں مجھے ایک قافلہ نظر آیا اور قافلہ بھی عجیب تھا۔مجھے فوراً سمجھ میں آنے لگا ۔ یہ تو حضرت ابراہیم کا قافلہ تھا۔ جانوروں کے ہمراہ، پورے سازو سامان اور خدمت گاروں کے ساتھ ۔ اور پھر کچھ نہ کہ میں نے کیا کچھ دیکھ ڈالا۔معلوم نہیں کتنے گھنٹے اس عجیب و غریب فلم کو دیکھا ہی نہیں محسوس بھی کیا ۔ میں سب کچھ ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔یہ کسی کیمرے کی کارستانی نہیں تھی ۔ یہ کوئی اداکاروں اور ڈائریکٹر کی مہارت نہیں تھی ، یہ کسی ایڈیٹر کا چمتکار نہیں تھا۔ ۔۔۔ یہ تو ٹھیک وہی دو ر تھا !بالکل وہی دور ۔ میں کسی تھری ڈی ایفیکٹ کی طرح اپنے آپ کو ان کے درمیان محسوس کر رہی تھی۔ مجھے سبھی سوالوں کے جواب مل گئے تھے ۔انسانوں کی کہانیاں دم چوڑ چکی تھیں ۔ حققیقت آخری معنوں میں ظاہر ہو چکی تھی۔ ابراہیم تو پور ے قافلے کے ساتھ مکہ کی وادی میں اپنی ملکاؤں کی طرح کی بیوی کے ساتھ اترے تھے ۔ وہاں انھوں نے کمپنگ کی ۔اور ایسا وہ وحی کے حکم کے مطابق کر رہے تھے۔ انھیں کچھ ہی دنوں بعد وہ چشمہ ملا جسے ہم زم زم کہتے ہیں ۔ قریبی لوگ ان کو وہاں دیکھ کر آگئے تھے ۔ وہ ان کے آباؤاجداد کے جاننے والے تھے ۔ پھر وہ وہاں کئی برس رہے ۔ اسماعیل بھاگنے دوڑنے والے ہوئے تو وہ حاجرہ کو بتا کر ، بہت اچھا بندوبست کرکے روانہ ہوئے ۔ کنعان میں خاندان کے دوسرے حصے سارہ کی فیملی کے پاس گئے ۔ میرے ہر سوال کا جوا ب مل چکا تھا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا ۔ اور بھی لوگ میری طرح اڑن کھٹولوں میں بیٹھے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے ۔

یہ منفرد شو ختم ہوا تو مجھے ایک محفل میں لے جایا گیا۔ مجھے لگا کہ اب یہاں کھانے پینے کا کچھ بندو بست ہو گا۔ یہ بڑے سے شیشے کے پیالے کی طرح کی کوئی جگہ تھی۔اس کے اندر جھولوں کی نشستیں لگی تھیں ۔ لوگ بیٹھے خوش گپیاں کر رہے تھے ۔ ان کے آگے کھانے کی پلیٹیں حرکت کرتی آتیں۔ جس کے جی میں کھانے کی تمنا ہوتی وہ اس کے آگے آکر رک جاتی۔

اس سے پہلے کہ میں ماحول سے اپنے آپ کو مانوس کرتی ایک آواز سنائی دی ۔ کوئی کہہ رہا تھا: “ہاں میرے پروردگار نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں پر نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا ہے نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ یہاں سب کچھ وہی ہوتا ہے جو ہم چاہتے ہیں۔”

پھر میں ایک منظر کو دیکھ کر چونکے بغیر نہ رہ سکی۔ میں جس چہرے پر نظریں مرکوز کیے بیٹھی تھی اس کو کیسےبھلا سکتی تھی۔ یہ تو درس والی وہی ڈنمارک سے آئی لڑکی تھی جس نے مجھ سے جنت کے بارے میں انتہائی گستاخانہ باتیں پوچھی تھیں ۔ پریشان ہو گئی کہ یہ کم بخت یہاں کیا کر رہی ہے؟اتنے میں اس کی نشست گھومتی ہوئی میرے قریب آنے لگی ۔ مجھے تو پہلے ہی اس پر بہت غصہ تھا۔ وہ اب میرے بالکل قریب آچکی تھی۔ میں اس کی طرف جھکی پھر لپکی۔اب میں نے پورے زورسے ہاتھ گھمایا۔ جیسے ہی میں نے ہاتھ گھمایا، ایک تیز آواز سنی :

“یہ کیا کر رہی ہو؟میں ہاتھ بڑھا کر پکڑ نہ لیتا تو تپائی پر رکھا یہ قرآن مجید نیچے گر پڑتا۔ یہ دیکھو میں نے کس مشکل سے پکڑا ہے۔ “

راشد نے گرتا قرآن ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا اور اسے احترام سے چوم رہا تھا۔ وہ شاید پانی پینے اٹھا تھا۔

میری آنکھ کھل چکی تھی۔۔ مکمل کھل چکی تھی!