رسول کی حیثیت اور کردار
مطالعۂ اسلام کی ایک ٹھوس وجہ
یہاں میں جو کچھ آپ کے سامنے پیش کروں گا ، وہ میرے نزدیک اس بات کی انتہائی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ اسلام –بہ طور اللہ تعالیٰ کے پیغام—کو تفصیل سے دیکھنا کیوں ضروری ہے۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ”نبی“ ہونےکا دعویٰ نہیں کیا ، بلکہ اپنی حیثیت یہ بتائی ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے ”رسول“ ہیں۔ قرآن کے مطابق، رسول کے ذریعے سے خدا اپنی عدالت کو دنیا میں برپا کرتا ہے۔ یہ عدالت رسول کے براہِ راست مخاطبین کے لیے برپا کی جاتی ہے اور اس کا مقصد آخرت میں ہونے والی اس جواب دہی کا ناقابل تردید ثبوت فراہم کرنا ہوتا ہے، جس کا سامنا تمام انسانیت کو ایک روز ہو گا۔ لیکن اس موضوع کی مزید تفصیلات میں جانے سے پہلے، میں آپ کو ساتویں صدی کی عرب دنیا میں پیش آنے والے واقعات کی ایک فرضی مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ساتویں صدی کے ان واقعات کا درست فہم اس ضرورت کی ایک مضبوط بنیاد ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو سنجیدگی سےدیکھا جائے اور اس کی حقیقت کو پرکھا جائے۔
انسانی فطرت میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ غیرمعمولی چیزوں کو وقت گزرنے کے ساتھ معمول کا حصہ سمجھ لیتا ہے۔ مثال کے طور پر، آج ہم اپنے فون پر ویڈیو کالز کو معمول کی ایک سہولت کے طور پر استعمال کرتے ہیں، لیکن اگر اسی سہولت کا ذکر ایک صدی پہلے کسی کے سامنے کیا جاتا اور اسے کہا جاتا کہ آپ ایک چھوٹے سے آلے کے ذریعے سے ہزاروں میل دور موجود کسی شخص سے بصری رابطہ قائم کر سکتے ہیں تو یہ جادو یا معجزہ معلوم ہوتا۔ تاہم، چونکہ یہ سہولت ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے، اس لیے ہم اس پر حیران نہیں ہوتے ۔ یہی رجحان ہمیں ان واقعات کے غیرمعمولی پہلو کو نظرانداز کرنے پر مجبور کرتا ہے ، جو اپنی حقیقت میں غیرمعمولی اور انوکھے ہوتے ہیں۔
اسلام اور اس کے تاریخی پس منظر سے مسلمانوں کی گہری شناسائی کے باوجود ”رسولِ خدا“ کی حقیقت پر مسلم دنیا میں سنجیدہ غور و فکر کا فقدان ہے۔ اس کی بنا پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ چاہے کوئی مسلمان ہو یا غیر مسلم، بہت سے لوگ ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعات کی اہمیت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پاتے۔ یہ واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوے اور پیغام پر نہایت سنجیدگی اور ایمان داری کے ساتھ غور کیا جائے۔ اس کے بعد ہر فرد کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ ان واقعات کو الہامی تناظر میں دیکھے یا ان کی غیر الہامی توجیہ کرے۔
اس سے پہلے کہ ہم اللہ کے رسول کی حیثیت اور ان کے ذریعے سے پیش آنے والے ان واقعات کی نوعیت کو سمجھیں، آئیے ایک قیاسی مثال کے ذریعے سے ان واقعات کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ ان کی معنویت واضح ہو سکے۔
فرض کریں کہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں مناؤ نامی ایک عام تاجر رہتا ہے۔ اس کا نہ کوئی علمی پس منظر ہے، نہ شاعری یا سیاست میں کوئی دل چسپی، اور نہ ہی وہ کسی مذہبی سرگرمی میں حصہ لیتا ہے۔ چالیس سال کی عمر میں وہ اچانک اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے سامنے ایک غیر معمولی دعویٰ کرتا ہے۔ مناؤ کا کہنا ہے کہ خدا نے ایک فرشتے کے ذریعے سے اس سے کلام کیا ہے اور اسے نبی کے طور پر منتخب کیا ہے۔ اس کے مطابق خدا نے اسے لوگوں کو اپنی طرف بلانے اور موت کے بعد کی جواب دہی کے لیے خبردار کرنے کا فریضہ سونپا ہے۔
اپنی نوعیت میں یہ دعویٰ منفرد نہیں ہے۔ تاریخ میں کئی روحانی شخصیات، شمن اور دیگر افراد اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے ہوئے ایسے دعوے کرتے رہے ہیں۔ لیکن مناؤ کا دعویٰ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ وہ کہتا ہے کہ خدا نے اسے رسول کے منصب پر بھی فائز کیا ہے، یعنی وہ اپنے براہ راست مخاطبین کے لیے زمین پر خدا کی دینونت کے نفاذ کا ایک ذریعہ ہے۔
مناؤ مزید کہتا ہے کہ جو لوگ خدا کے وجود یا موت کے بعد جزا و سزا کو دلائل کی بنیاد پر تسلیم نہیں کرتے، ان کے لیے خدا دنیا ہی میں اپنے فیصلے کا ظہور کرے گا۔ جزا و سزا کا یہ دنیوی ظہور انسانیت کو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت فراہم کرے گا کہ مرنے کے بعد جزا و سزا ایک حقیقت ہے۔ اس دنیوی قیامت کا مقصد یہ ہے کہ آخرت کا تصور بھی اُسی معیار پر ثابت کر دیا جائے جس معیار پر سائنسی حقائق لیبارٹری میں ثابت کیے جاتے ہیں۔
یہ منظر مزید حیرت انگیز رخ اختیار کرتا ہے۔ مناؤ کا خدا اسے پہلے ہی بتا دیتا ہے کہ یہ واقعات کیسے پیش آئیں گے۔ مناؤ کے خدا کے مطابق، خدا کی زمین پر دینونت کے یہ مظاہر انسانی تاریخ میں متعدد مرتبہ وقوع پذیر ہو چکے ہیں۔ اسی طرح مناؤ کے ذریعے سے بھی یہ دینونت انھی اصولوں پر ظاہر ہوگی، جن پر پہلے ظاہر ہوتی رہی ہے۔ خدا نے اعلان کیا ہے کہ اس کا پیغمبر حق کو اپنے مخاطبین پر اس وقت تک پوری طرح واضح کرتا رہے گا جب تک کہ خدا خود یہ اعلان نہ کر دے کہ انکار کرنے والے اب بغیر کسی جواز کے انکار پر اڑے ہوئے ہیں۔ مگر جو لوگ حق کو قبول کر لیں گے، انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا ہی میں کامیابی سے نوازا جائے گا۔ اس کے بعد منکرین پر خدا کا عذاب نازل ہوگا۔ یہ عذاب دو صورتوں میں ظاہر ہو سکتا ہے: اگر مناؤ کے پیروکار کم تعداد میں ہوں تو قدرتی آفت جیسے طوفان، سیلاب، آگ یا زلزلہ ان منکرین کو تباہ کر دے گا۔ لیکن اگر مناؤ کو قابل ذکر حمایت حاصل ہو یا اس کے مخاطبین کی مکمل تباہی ضروری نہ ہو تو عذاب انسانوں کے ذریعے سے نافذ کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر مناؤ اور اس کے ساتھی خدا کے فیصلے کا نفاذ کریں گے۔
جو لوگ حق کو قبول کر لیں گے اور خدا کے پیغمبر کا ساتھ دیں گے، ان کے لیے دنیوی انعام ایک شان دار سلطنت کی صورت میں ہوگا۔ مناؤ کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ان میں سے کچھ فیصلوں کا مشاہدہ کرے گا، جب کہ باقی اس کی وفات کے بعد ظاہر ہوں گے۔
یاد رکھیں ، مناؤ کو شاعری کا کوئی علم یا تجربہ نہیں، لیکن جو الہامی پیغام اس پر نازل ہوتا ہے اور وہ لوگوں تک پہنچاتا ہے، وہ عام نیپالی زبان میں نہیں، بلکہ نیپالی زبان کا ایک بے مثال ادبی شہ کار ہوتا ہے، جسے زبان و بیان کا بہترین معیار قرار دیا جاتا ہے۔
یاد رکھیں ، مناؤ مذہبی مباحث یا تبلیغ کا کوئی پس منظر نہیں رکھتا، لیکن خدا اس کے ذریعے سے مسیحیوں، ہندوؤں، بدھ اور یہودیوں کے ساتھ عمیق علمی اور مذہبی مکالمے کرتا ہے۔ وہ ان کے صحیفوں کے حوالے پیش کرتا ہے اور ایسے قوی دلائل دیتا ہے جو مذہبی و فلسفیانہ بنیادوں پر ان کے عقائد کو چیلنج کرتے ہیں۔
یاد رکھیں ، مناؤ کے پاس نہ عسکری حکمت عملی کا کوئی علم ہے اور نہ اس کا کوئی سیاسی پس منظر ہے، لیکن مناؤ کا خدا عسکری اور سیاسی معاملات میں ایسے فیصلے کرتا ہے جو ناقابل یقین حد تک کامیاب ہوتے ہیں اور ہر میدان میں مناؤ کی مکمل فتح کا سبب بنتے ہیں۔
پورے واقعے کے دوران میں مناؤ کسی بھی کامیابی کا سہرا اپنے سر نہیں باندھتا، بلکہ ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ محض خدا کی طرف سے بھیجے گئے احکامات پر عمل کر رہا ہے اور خود کچھ نہیں کر رہا۔
یہاں تک کہ معاملہ مزید حیرت انگیز رخ اختیار کرتا ہے۔ مناؤ اپنا پیغام نیپال سے باہر لے جاتا ہے اور قریبی ممالک کے حکمرانوں کو خطوط بھیجتا ہے، جن میں وہ انھیں خدا کے پیغام کی دعوت دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ روس اور چین جیسی سپر پاورز کو بھی خبردار کرتا ہے کہ اگر انھوں نے خدا کے پیغام، جو ایک زندہ خدا کے رسول کے ذریعے سے آیا ہے، کو رد کیا تو انھیں خدا کی زمینی عدالت کا سامنا کرنا ہوگا۔ وہ ان کے لیے واضح کرتا ہے کہ خدا کے احکامات کی نافرمانی انھیں دنیوی شکست سے دوچار کرے گی اور یہ شکست مناؤ اور اس کے پیروکاروں کے ہاتھوں ہوگی۔
مناؤ کے دعوے کے بعد کے 35 سالوں میں، تمام واقعات بالکل اسی ترتیب اور انداز سے پیش آتے ہیں، جیسا کہ مناؤ کے خدا نے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ جو لوگ مناؤ کی حمایت کرتے ہیں، انھیں دنیوی انعامات سے نوازا جاتا ہے، جب کہ جو لوگ خدا کے پیغام کی مخالفت کرتے ہیں، انھیں ایسی عبرتناک شکست ہوتی ہے کہ وہ مناؤ اور اس کے حامیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ شان دار فتح نہ صرف نیپال، بلکہ قریبی ممالک تک پھیل جاتی ہے ، یہاں تک کہ چین اور روس جیسی سپر پاورز بھی اس کے اثر سے باہر نہیں رہتیں۔
مناؤ اور اس کےاولین متبعین کھٹمنڈو کے معمولی کسان اور تاجر تھے اور کسی قابل ذکر عسکری مہارت کے حامل نہ تھے۔ یہی سادہ لوگ اب نیپال، بھوٹان، میانمار، لاؤس، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، روس اور چین کے بلا شرکتِ غیرے حکمران بن چکے ہیں۔ وہ ان 35 سالوں میں پیش آنے والے واقعات کو خدائی معجزہ قرار دیتے ہیں اور اسے مناؤ کی سچائی اور خدا کی جانب سے اُس کے ذریعے سے بھیجے گئے پیغام کی صداقت پر حتمی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دنیا میں خدا کے فیصلے کا مظاہرہ ہے، جو تمام انسانیت کے لیے موت کے بعد ہونے والے آخری فیصلے کا پیش خیمہ ہے۔
اب فرض کریں کہ میں ان غیرمعمولی واقعات کا عینی شاہد ہوں۔ ان واقعات پر میرا ردعمل کیا ہونا چاہیے؟ مناؤ کا یہ دعویٰ کہ وہ خدا کا پیغامبر ہے اور اس کا بالکل اسی طرح پورا ہونا جیسا کہ پیشین گوئی کی گئی تھی، ناقابل یقین حد تک حیرت انگیز ہوتا۔ لیکن میری فطری تشکیک فوراً مجھے اس کے نظریے کو قبول کرنے سے روکتی۔ میں اس امکان پر غور کرتا کہ شاید یہ انسانی تاریخ میں محض ایک بے مثال، مگر اتفاقیہ واقعہ ہے جس کا کسی خدائی ماخذ سے واسطہ نہیں۔ تاہم، ان 35 برسوں کے غیرمعمولی واقعات کے تسلسل کے پیش نظر، میں اخلاقی اور عقلی طور پر مجبور ہوتا کہ مناؤ کے پیغام کو سنجیدگی اور دیانت داری سے پرکھوں۔ میرے ذہن میں یہ سوال بار بار گونجتا رہتاکہ اگر مناؤ واقعی سچ بول رہا ہو تو؟
اگر مناؤ کا پیغام میرے بنیادی اخلاقی اور عقلی سوالات کے اطمینان بخش جوابات مہیا نہ کرتا، خاص طور پر وجود کی حقیقت کے بنیادی مسائل کے بارے میں تو میں یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بہ جانب ہوتا کہ مناؤ کے گرد ہونے والے یہ تمام واقعات تاریخ کا ایک حیران کن، مگر بے معنی اتفاق تھے، جن کا کسی الٰہی منصوبے سے کوئی تعلق نہیں۔
لیکن اگر مناؤ کا پیغام میرے بنیادی سوالات کا معقول اور منطقی جواب فراہم کرتا، اور ان غیرمعمولی واقعات کے ساتھ مل کر یہ ثابت ہوتا کہ یہ واقعی خدا کا پیغام ہے—چاہے یہ میرے ذاتی مفادات اور خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو—تو میں اسے تسلیم کرتا اور مان لیتا کہ مناؤ واقعی خدا کا رسول ہے۔ میرے نزدیک یہی سب سے زیادہ مخلصانہ رویہ ہوتا۔ میں اس عقیدے پر قائم رہتا، یہاں تک کہ مجھے ایسے ٹھوس دلائل نہ مل جاتے، جو اس عقیدے کو چیلنج کر سکیں۔ ایک سنجیدہ اور دیانت دار انسان کی جانب سے ایسے غیرمعمولی حالات میں یہی طرزِ عمل مناسب ردعمل ہوگا۔
مناؤ کے حوالے سے بیان کیا گیا یہ فکری تجربہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حقیقی واقعات کے عین مطابق ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خدا اور اس کی طرف سے دنیوی جزا و سزا کے حوالے سے ایک ایسا دعویٰ پیش کیا جو بہ ظاہر ناممکن معلوم ہوتا تھا، لیکن اس کے وقوع پذیر ہونے کا جو خاکہ پیش کیا گیا تھا، وہ بعینہٖ ویسے ہی ظاہر ہوا۔ یہ واقعات اس حقیقت کی مضبوط ترین دلیل فراہم کرتے ہیں کہ ہر شخص کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو خلوص اور سنجیدگی سے پرکھنا چاہیے تاکہ خدا اور اخروی جزا و سزا کی حقیقت کو سمجھا جا سکے۔
1۔قرآن کا تصورِ رسالت گذشتہ الہامی کتب کی وضاحت کرتا ہے
اگرچہ اس پر مزید تفصیل پانچویں باب میں پیش کی جائے گی، لیکن یہاں مختصر طور پر اس تصور پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ قرآن میں رسالت کا حقیقی تصور، عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید میں بیان کردہ واقعات، جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت لوط کی قوموں کے انجام، کو ایک منفرد اور جامع پس منظر فراہم کرتا ہے۔ قرآن کے ذریعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ”رسول“ کا کردار کیا ہے اور خدا کی طرف سے دنیوی عذاب کس موقع پر نازل ہوتا ہے۔
ابتدا میں، جب مجھے رسول کے تصور سے واقفیت نہ تھی تو میرے لیے بائیبل میں بیان کردہ قوموں پر آنے والے عذاب کو سمجھنا مشکل تھا۔ اگر حضرت نوح اور حضرت لوط کی قوموں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب آیا تو آج کے زمانے میں، جب کہ بدعنوانی اور اخلاقی برائیاں عام ہیں، ایسا عذاب عام کیوں نہیں ہے؟
قرآن اس الجھن کو واضح کرتا ہے کہ دنیوی عذاب صرف گناہوں کے ارتکاب کی بنیاد پر نازل نہیں ہوتا۔ یہ عذاب اس وقت نازل ہوتا ہے، جب خدا اپنی بات کو براہِ راست کسی ”رسول“ کے ذریعے سے اپنی قوم تک پہنچاتا ہے۔ رسول ایک ایسا فرد ہوتا ہے جسے خدا اپنے بندوں میں سے الہام اور ہدایت کے لیے منتخب کرتا ہے اور اسے حق کو واضح کرنے کے لیے کسی قوم کی طرف بھیجتا ہے۔ مختصراً، دنیوی عذاب گناہوں کے ارتکاب پر نہیں آتا، بلکہ یہ رسولوں کو جھٹلانے اور ان کا جانتے بوجھتے انکار کرنے پر نازل ہوتا ہے۔ اگرچہ دیگر گناہ بھی اللہ کے غضب کو بھڑکاتے ہیں، مگر رسولوں کا انکار خدا کی طرف سے دنیا میں عذاب کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔
قرآن کے مطابق رسول، ان کے براہ راسب مخاطبین کے لیے، خدا کے فیصلے کا دنیوی مظہر ہوتے ہیں۔ رسول حق کو واضح کرتے ہیں، اور ان کی دعوت کے دوران میں جو لوگ حق کو قبول کرتے ہیں، وہ نجات پا جاتے ہیں، جب کہ انکار کرنے والوں پر دنیوی عذاب مسلط کیا جاتا ہے۔
جب بائیبل کے قصوں کو قرآن کے قانون رسالت کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان میں پیش کیے گئے واقعات نہایت منظم اور معقول معلوم ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، حضرت نوح کی قوم کا واقعہ لیجیے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان پر وحی کے ذریعے سے حق واضح ہوا اور انھوں نے اپنی قوم کو سالہا سال تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ لیکن جب قوم نے ان کی بات ماننے سے انکار کیا تو آخر کار وہ طوفان میں غرق ہو گئی، جب کہ نوح کے ساتھیوں کو بچا لیا گیا۔ یہی اصول حضرت لوط اور ان کی قوم اور حضرت ابراہیم کے واقعے پر لاگو ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے مقابلے میں نجات پانا اور فرعون کا ہلاک ہونا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل کو انذار اور ان کی اس دعوت کا انجام بھی اسی اصول کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے۔ یہ سب واقعات آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت سے پہلے پیش آئے۔
ان تمام واقعات میں رسول کی بعثت ایک فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی، جہاں رسول کے مخاطبین پر زمین پر ہی الٰہی عدالت کا ظہور ہوا۔ اس طرح بائیبل میں بیان کردہ الٰہی فیصلے اور عذاب کا تسلسل قرآن میں موجود رسولوں کے تصور کے ذریعے سے مکمل طور پر واضح ہو جاتا ہے۔