Skip to content

Chapter 4: باب دوم

باب دوم

نزولِ مسیح ـــــــ علما کا موقف

گذشتہ باب میں حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع الی اللہ اور نزول الی الارض کے جملہ نصوص سامنے آ گئے ہیں۔ اِن کے بارے میں استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کا موقف واضح کرنے سے پہلےعلماے امت کے نقطۂ نظر کو بیان کرنا ضروری ہے۔ اِس کے نتیجے میں وہ پس منظر نمایاں ہو جائے گا، جس میں استاذِ گرامی نے اپنا موقف پیش کیا ہے۔

ہماری علمی روایت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کے تصور کو ’’نزولِ مسیح‘‘ کے زیرِعنوان بیان کیا جاتا ہے۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو تحویل میں لے کر اپنی طرف اٹھا لیا۔ اُس وقت سے تاحال وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ قرب قیامت میں وہ براہ ِراست زمین پر نازل ہوں گے۔ وہ فرشتوں کے ہم راہ دمشق کی ایک مسجد کے مینار پر اتریں گے اور مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کریں گے۔ پھر وہ دجال اور اُس کے یہودی لشکریوں کو قتل کر دیں گے۔ اُن کی دعا سے یاجوج و ماجوج بھی فنا ہو جائیں گے۔ دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے گی اور کرۂ ارض پر اسلام کے سوا کوئی اور مذہب باقی نہیں رہے گا۔ وہ چالیس سال تک دنیا پر امام عادل کی حیثیت سے حکمرانی کریں گے۔ اِس کے بعد وفات پا جائیں گے۔ مسلمانآپ کا جنازہ پڑھیں گے اور آپ کی تدفین کریں گے۔آپ کی وفات کے بعد جلد ہی قیامت برپا ہو جائے گی۔

علما کے اِس موقف اور اِس کے دلائل کی تفصیل درجِ ذیل عنوانات کے تحت پیش ہے:

  • رفع مسیح کے دلائل
  • نزولِ مسیح کے دلائل
  • تصورِ نزولِ مسیح کے متعلقات

رفع مسیح کے دلائل

حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے اور وہاں زندہ موجود ہونے کے تصور کے لیے قرآنِ مجید سے استدلال کیا جاتا ہے۔ علما ومفسرین کتاب الٰہی کے بعض نصوص کو اِن مباحث کی تائید میں قطعی دلائل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ دلائل اور اِن کا استدلال درجِ ذیل ہے۔

1۔ سورۂ آل عمران(3) کی آیات 54-55 سے استدلال

سورۂ آلِ عمران (3)کی آیات 54تا55 سے واضح ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت مسیح علیہ السلام کے خلاف خفیہ تدبیریں شروع کیں تاکہ آپ کو کسی جرم کے بہانے مصلوب کیا جا سکے۔مگر اللہ کے حکم سے وہ ایسا نہیں کر سکے۔ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو تسلی دی کہ ایسی تدبیروں کی اُس کی قدرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اللہ ایسی تدبیر کرے گا، جو اُن کی تمام تدبیروں کو اکارت کر دے گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی اِس تدبیر سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ. اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ.

’’اور بنی اسرائیل نے (اُس کے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اور اللہ نے بھی (اِس کے جواب میں ) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کی حفاظت کے لیے اپنی تدبیر کو ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ (میں تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اٹھا لوں گا) کے الفاظ میں بیان فرمایاہے۔ مفسرین نے اِن سے رفع مسیح اور حیاتِ مسیح کا مفہوم اخذ کیا ہے۔ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘ (میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا)سے یہ مطلب لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو زندہ اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ چنانچہ وہ آسمانوں پر اپنے جسمانی وجود کے ساتھ بہ قید ِحیات ہیں۔ جہاں تک ’رَافِعُکَ ‘ سے پہلے ’مُتَوَفِّیۡکَ‘ (یعنی میں تجھے وفات دوں گا ) کے الفاظ کا تعلق ہے تو اِس کا مطلب موت دینا نہیں، بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سالم اور سموچا تحویل میں لے لینا ہے۔ چنانچہ ’مُتَوَفِّیۡکَ‘ کے الفاظ بجاے خود حیاتِ مسیح کی دلیل ہیں، اِنھیں وفاتِ مسیح کے مفہوم میں استعمال کرنا درست نہیں ہے۔31

’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ (میں تجھے وفات دوں گا) کے الفاظ کو موت کے معنی میں نہ لینے کے لیے جو دلائل دیے گئے ہیں، وہ متقدمین سے متاخرین تک ایک ہی نوعیت کے ہیں۔ گویا یہ اصلاً علماے سلف کا استدلال ہے، جسے بعد میں آنے والوں نے من و عن اختیار کیا ہے۔ ہم نے اِنھیں دورِ جدید کے علما کی کتب سے نقل کیا ہے۔اِس کا مقصدمواد کا مناسب حد تک احاطہ اور آسان اسلوب میں اُس کی تفہیم ہے۔32

علما کے دلائل درجِ ذیل ہیں:

i۔ ’توفیٰ‘ کا حقیقی معنی موت نہیں ہے

علما و مفسرین کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ اِس آیت کے الفاظ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ میں ’توفیٰ‘ کے فعل کو بلا تامل موت کے معنی میں استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ موت کے مفہوم میں اِسے مجازی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس کے حقیقی معنی ’أخذ الشيء وافيًا‘ یا ’أخذ الشيء بتمامه‘، یعنی کسی چیز کو پورا لے لینے کے ہیں۔ کسی جملے میں لفظ کے حقیقی یا مجازی مفہوم کا تعین جملے، سیاق و سباق اور کلام کے قرائن سے ہوتاہے۔ اِس مقام کے قرائن سے واضح ہے کہ یہاں یہ لفظ اپنے مجازی معنی میں نہیں، بلکہ حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ کا معنی یہ ہے کہ میں تم کو پورا پورا لے لوں گا اور اِس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیں گے۔ یعنی اُن کے وجود کے دونوں اجزا ــــ روح اوربدن ــــ اللہ کے قبضے میں چلے جائیں گے۔ یہ مفہوم عربی لغت کے شواہد اور قرآنِ مجید کے نظائر اور حدیث کی روایات سے بھی مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری کی کتاب ’’ حیاتِ ابن مریم علیہ السلام ‘‘ 33 میں بیان ہوا ہے:

’’لفظ ’توفیٰ‘ کو لے لیجیے کہ اِس کے تمام مشتقات کسی چیز کو پورا پورا وصول کرنے کے لیے آتے ہیں، اِسی لیے بڑی اور برگزیدہ شخصیات کی وفات کے لیے بجاے ’’موت‘‘ از راه ِاحترام ’توفیٰ‘کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ہاں کسی ضرورت کے تحت لفظِ ’’موت‘‘ بھی استعمال ہوتا ہے۔

الغرض، لفظِ ’توفیٰ‘ یہاں بلا کسی تردد کے اپنے اصلی معنی میں ہے، اِس سے ذرابھی ہٹا نہیں ہے اورایسا ممکن بھی نہیں، کیونکہ یہ لفظ ’’موت‘‘ کا مرادف ہو کر بعینٖہ موت کے معنی میں ہوتا تو متکلم کا مقصد،یعنی ستر اور اظہارِ تقدیس جاتا رہتا۔‘‘(122)

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اِس لفظ کو موت کے بجاے وصول کر لینے کے معنی میں لیاہے۔ تاہم، اِس کی تفسیر اُنھوں نےعہدے سے سبک دوشی کے مفہوم میں کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اصل میں لفظ ’مُتَوَفِّیْکَ‘ استعمال ہوا ہے۔ ’تَوَفِّی‘ کے اصل معنی لینے اور وصول کرنے کے ہیں۔ ’’روح قبض کرنا‘‘ اِس لفظ کا مجازی استعمال ہے، نہ کہ اصل لغوی معنی۔ یہاں یہ لفظ انگریزی لفظ(To recall) کے معنی میں مستعمل ہوا ہے، یعنی کسی عہدہ دار کو اُس کے منصب سے واپس بلا لینا۔ چونکہ بنی اسرائیل صدیوں سے مسلسل نافرمانیاں کر رہے تھے، بار بار کی تنبیہوں اور فہمایشوں کے باوجود اُن کی قومی روش بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی، پے در پے کئی انبیا کو قتل کر چکے تھے اور ہر اُس بندۂ صالح کے خون کے پیاسے ہو جاتے تھے، جو نیکی اور راستی کی طرف اُنھیں دعوت دیتا تھا، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے اُن پر حجت تمام کرنے اور اُنھیں ایک آخری موقع دینے کے لیےحضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام جیسے دو جلیل القدر پیغمبروں کو بہ یک وقت مبعوث کیا،جن کے ساتھ مامور من اللہ ہونے کی ایسی کھلی کھلی نشانیاں تھیں کہ اُن سے انکار صرف وہی لوگ کر سکتے تھے، جو حق و صداقت سے انتہا درجہ کا عناد رکھتے ہوں اور حق کے مقابلہ میں جن کی جسارت و بے باکی حد کو پہنچ چکی ہو۔ مگر بنی اسرائیل نے اِس آخری موقع کو بھی ہاتھ سے کھو دیا اور صرف اتنا ہی نہ کیا کہ اِن دونوں پیغمبروں کی دعوت رد کر دی، بلکہ اُن کے ایک رئیس نے علی الاعلان حضرت یحییٰ جیسے بلند پایہ انسان کا سر ایک رقّاصہ کی فرمایش پر قلم کرا دیا، اور اُن کے علما و فقہا نے سازش کر کے حضرت کو رومی سلطنت سے سزاے موت دلوانے کی کوشش کی۔ اِس کے بعد بنی اسرائیل کی فہمایش پر مزید وقت اور قوت صرف کرنا بالکل فضول تھا،اِس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو واپس بلا لیا اور قیامت تک کے لیے بنی اسرائیل پر ذلت کی زندگی کا فیصلہ لکھ دیا۔‘‘ (تفہیم القرآن 1/ 257)

پیر کرم شاہ الازہری نے زبیدی کی ’’تاج العروس‘‘ اور قرطبی کی ’’الجامع لاحکام القرآن‘‘ کے حوالے سے بیان کیا ہےکہ ’توفیٰ‘کا لفظ حقیقی و مجازی، دونوں معانی کا حامل ہے۔ حقیقی معنی پورا لے لینا ہے اور مجازی معنی موت یا نیند ہے۔ زبان و بیان کا اصول یہ ہے کہ حقیقی و مجازی معانی کا حامل کوئی لفظ جب کسی جملے میں استعمال ہو تو اولاً اُسے حقیقی معنی پر محمول کرنا چاہیے۔ اگر جملہ اُسے قبول نہ کرے یا قرائن اُس کے خلاف ہوں تو اُس کے بعد مجازی معنی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ سبقت کرتے ہوئے مجازی معنی کو ترجیح دینا درست نہیں ہے۔ مذکورہ آیت میں ایسا کوئی قرینہ نہیں ہے، جو ’توفیٰ‘کو مجازی معنی میں لینے کی دلیل بن سکے۔ اِس کے برعکس، اِسےحقیقی معنی میں لینے کے دو واضح قرائن موجود ہیں: ایک یہ کہ آیات کے شانِ نزول سے معلوم ہے کہ اِن کے مخاطبین نجران کے نصاریٰ ہیں، جو ایک وفد کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ وہ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے قائل تھے، اِس لیے یہاں اِسی باطل عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔ دوسرا قرینہ نزولِ مسیح کی احادیث ہیں، جو بالصراحت آپ کی حیات کے تصور کو موکد کرتی ہیں۔ چنانچہ اِن قرائن کا تقاضا ہے کہ یہاں ’توفیٰ‘ کو اِس کے حقیقی معنی ـــــ پورا لے لینا ـــــ ہی پر محمول کیا جائے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’علم معنی کایہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ اگرکسی لفظ کا ایک حقیقی معنی ہو اور دوسر امجازی تو حقیقی معنی کو مجاز ی معنی پرترجیح دی جائے گی۔ ہاں اگر کوئی ایسا قرینہ پایا جائے، جس کے ہوتے ہوئے حقیقی معنی متعذر ہو تو اُس وقت معنی حقیقی کو ترک کر کے معنی مجازی مراد لیا جائے گا۔ لیکن اگر ایسے قوی قرائن موجو دہوں، جو حقیقی معنی مراد لینے کے ہی موید ہوں تو اِس حالت میں حقیقی معنی کو ترک کر کے مجازی معنی مراد لینے پر اصرار کرنا تو الٹی گنگا بہانے کے مترادف ہے۔ اب آپ لفظِ ’توفیٰ‘کے معنی پر غور فرمائیے۔ ’’تاج العروس‘‘ میں لفظ ’وفی‘ کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’وتوفاه اى لم يدع منه شيئًا‘۔یعنی، ’’پورے کاپورا لے لیا اور اُس سے کوئی چیز باقی نہیں رہنے دی۔‘‘ امام ابی عبد اللہ القرطبی ’’الجامع لاحکام القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں: ’توفيت مالي من فلان ای قبضته‘۔ یعنی، ’’میں نے اُس سے سارا مال واپس لے لیا۔‘‘ یہ تو ہے لفظ ’توفیٰ‘ کا حقیقی معنی۔

ہاں یہ موت کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے، لیکن یہ اِس کا مجازی معنی ہے، جیسے صاحبِ ’’تاج العروس‘‘ نے لکھا ہے۔ ’ومن المجاز ادركته الوفاة ای الموت والمنية وتوفي فلان اذ مات و توفاه اللّٰه عزوجل اذاقبض روحه‘۔ اب آپ خود فیصلہ فرما لیں کہ ایک لفظ کاحقیقی معنی ترک کر کے بغیر قرینہ کے اُس سے مجازی معنی اخذ کرنے پر اصرار کرنا اِس لفظ کے ساتھ کتنی بے جازیادتی ہے۔ اور یہاں صرف اتنا ہی نہیں کہ مجازی معنی لینے کاکوئی قرینہ موجود نہیں، بلکہ ایسے قوی قرائن موجود ہیں،جو اِس لفظ کے حقیقی معنی لیے جانے پر دلالت کرتے ہیں۔

آپ پوچھیں گے کہ وہ کون سے ایسے قرائن ہیں تو اِس کے متعلق عرض ہے کہ ایک تو اِس آیت کا سیاق و سباق اِس امر کاقوی قرینہ ہے۔ یہاں گفتگو نجران کے عیسائیوں سے ہو رہی ہے، جو حضرت مسیح کی الوہیت کے قائل تھے۔ مقصدِ کلام ہے: اثباتِ توحیدِ باری اور بطلانِ الوہیتِ مسیح۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہوتے تو کتنی صاف بات تھی کہ نجران کے عیسائیوں سے کہہ دیا جاتا کہ جن کو تم خدا مانتے ہو، وہ تو مر چکے ہیں اور جو مر جائے کیا وہ بھی کہیں خدا بن سکتا ہے! لیکن قرآن کا اِس اسلوب کو اختیار نہ کرنا، بلکہ اِس انداز کو اپنانا اِس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن کی اِس آیت کا مدعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو بیان کرنا نہیں۔

دوسرا واضح قرینہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ ارشادِ گرامی ہے: ’قال الحسن قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وآلہ وسلم للیہود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘، ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اور قیامت سے پہلے وہ تمھاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔‘‘ اِن تصریحات کی موجودگی میں حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنی مراد نہیں ہو سکتا۔ اِسی لیے جمہور مفسرین اِس حقیقی معنی کو مدِنظر رکھتے ہوئے لکھتے ہیں:

’متوفیک ای مستوفی اجلک ومؤخرک الی اجلک المسمی عاصمًا ایاک عن قتلہم‘۔ (بیضاوی) ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی مقررہ مدت تک زندہ رکھے گا اورتمھیں قتل سے بچائے گا۔‘‘۔’متوفیک ای مستوفی اجلک معناہ انی عاصمک من ان یقتلک الکفار‘۔ (الکشاف)۔ امام ابن جریر لکھتے ہیں: ’واولی الاقوال بالصحۃ عندنا قول من قال معنی ذلک انی قابضک من الارض ورافعک الیّ لتواتر الاخبار من رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم‘۔ یعنی میرے نزدیک صحیح ترین قول یہ ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے زمین سے قبض کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں، کیونکہ حضور ِکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی احادیثِ متواترہ سے یہی چیز ثابت ہے کہ آپ کو زندہ آسمان پر اٹھایا گیا۔‘‘

(ضیاء القرآن 1/ 235-236)

ii۔ ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ ’توفیٰ‘ کے مجازی معنی لینے میں مانع ہیں

یہ درست ہے کہ ’توفیٰ‘ کا فعل موت کے مجازی مفہوم میں بھی مستعمل ہے، مگر یہاں اِسے اِس مفہوم میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جملہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ تک محدود نہیں ہے، اِس کے بعد ’رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ یہ الفاظ مانع ہیں کہ ’توفیٰ‘ کو موت کے معنی پر محمول کیا جائے۔

اِس ضمن میں مولانا مودودی کا استدلال یہ ہے کہ آلِ عمران کی یہ آیات درحقیقت مسیحیوں کے اُس باطل عقیدے کی تردید میں نازل ہوئی ہیں، جس کے مطابق وہ عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے قائل تھے۔ آیات کا یہ تناظر متقاضی ہے کہ اگر آپ وفات پا چکے ہوتے تو یہاں محتمل المعانی اسلوب کے بجاے ایسا اسلوب اختیار کیا جاتا، جو مر کر مٹی ہو جانے کے لیے قطعی اور صریح ہوتا۔ مگر قرآن نے، اِس کے برعکس ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہ الفاظ نہ صرف موت کے مفہوم میں صریح نہیں ہیں، بلکہ اِن میں حیات کے مفہوم کا پورا احتمال موجود ہے۔ عقیدۂ الوہیت کی تردید کے محل میں یہ اسلوب اِس امر پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ نے آپ کو موت دیے بغیر زندہ اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں:

’’یہاں یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کی یہ پوری تقریر دراصل عیسائیوں کے عقیدۂ الوہیّتِ مسیح کی تردید و اصلاح کے لیے ہے۔ اور عیسائیوں میں اِس عقیدہ کے پیدا ہونے کے اہم ترین اسباب تین تھے :

1۔ حضرت مسیح کی اعجاز ی ولادت۔

2۔ اُن کے صریح محسوس ہونے والے معجزات۔

3۔ اُن کا آسمان کی طرف اُٹھایا جانا،جس کا ذکر صاف الفاظ میں اُن کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔

قرآن نے پہلی بات کی تصدیق کی اور فرمایا کہ مسیح کا بے باپ پیدا ہونا محض اللہ کی قدرت کا کرشمہ تھا۔ اللہ جس کو جس طرح چاہتا ہے، پیدا کرتا ہے۔ یہ غیر معمولی طریق پیدایش ہرگز اِس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مسیح خدا تھا یا خدائی میں کچھ بھی حصّہ رکھتا تھا۔

دوسری بات کی بھی قرآن نے تصدیق کی اور خود مسیح کے معجزات ایک ایک کر کے گنائے، مگر بتا دیا کہ یہ سارے کام اُس نے اللہ کے اذن سے کیے تھے، باختیار ِ خود کچھ بھی نہیں کیا، اِس لیے اِن میں سے بھی کوئی بات ایسی نہیں ہے، جس سے تم یہ نتیجہ نکالنے میں کچھ بھی حق بہ جانب ہو کہ مسیح کا خدائی میں کوئی حصّہ تھا۔

اب تیسری بات کے متعلق اگر عیسائیوں کی روایت سرے سے بالکل ہی غلط ہوتی تب تو اِن کے عقیدۂ الوہیّتِ مسیح کی تردید کے لیے ضروری تھا کہ صاف صاف کہہ دیا جاتا کہ جسےتم الٰہ اور ابن اللہ بنا رہے ہو، وہ مر کر مٹی میں مل چکا ہے، مزید اطمینان چاہتے ہو تو فلاں مقام پر جا کر اُس کی قبر دیکھ لو۔ لیکن ایسا کرنے کے بجاے قرآن صرف یہی نہیں کہ اُن کی موت کی تصریح نہیں کرتا، اور صرف یہی نہیں کہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے، جو زندہ اُٹھائے جانے کے مفہوم کا کم از کم احتمال تو رکھتے ہی ہیں، بلکہ عیسائیوں کو اُلٹا یہ اور بتا دیتا ہے کہ مسیح سرے سے صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے۔ یعنی وہ جس نے آخری وقت میں ’’ایلی ایلی لما شبقتانی‘‘ 34 کہا تھا اور وہ جس کی صلیب پر چڑھی ہوئی حالت کی تصویر تم لیے پھرتے ہو، وہ مسیح نہ تھا، مسیح کو تو اُس سے پہلے ہی خدا نے اُٹھا لیا تھا۔

اِس کے بعد جو لوگ قرآن کی آیات سے مسیح کی وفات کا مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ دراصل یہ ثابت کرتے ہیں کہ اللہ میاں کو صاف سلجھی ہوئی عبارت میں اپنا مطلب ظاہر کرنے تک کا سلیقہ نہیں ہے۔ اعاذ نا اللّٰہ من ذلک۔‘‘

(تفہیم القرآن 1/ 257-258)

علامہ انور شاہ کشمیری کی دلیل یہ ہے کہ ’توفیٰ‘ کے اصل معنی پورا لے لینے کے ہیں۔ موت کے معنی میں یہ لفظ بہ طورِ کنایہ استعمال ہوتا ہے۔ زبان کا مسلمہ ہے کہ کوئی لفظ کنایۃً بھی استعمال ہو، تب بھی اپنے حقیقی مفہوم کو شامل رہتا ہے، اُس سے علیحدہ یا متغائر نہیں ہو سکتا۔چنانچہ ’توفیٰ‘ جب موت کے مجازی معنی میں آئے تو اتمام و اکمال کے حقیقی معنی اِس میں شامل ہوتے ہیں، وہ کسی حال میں اِس سےمنفک نہیں ہوتے۔ اِس صورت میں اِس سے ابدی مرگ مراد ہوتی ہے، جو زندگی سے مبرا ایک مکمل اور مستقل امر کا نام ہے۔ تاقیامت اِس کے درمیان ایسا کوئی رخنہ نہیں ہوتا، جو زندگی سے عبارت ہو یا زندگی کو لازم کرتاہو۔ بہ الفاظِ دیگر ’توفیٰ‘ کا لفظ اِس بنا پر موت کے لیے موزوں اور مستعمل ہوا ہے کہ موت نہ ادھوری ہوتی ہے، نہ منقسم ہوتی ہے، بلکہ سالم اور کامل ہوتی ہے۔

آلِ عمران کی مذکورہ آیت میں ’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘ کے الفاظ چونکہ زندگی کو لازم کرتے ہیں، اِس لیے ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ کو موت کے معنی پر محمول کرنے کی صورت میں اضافی اور غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ یہ ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ‘ سے اُسی صورت میں مربوط ہو سکتے ہیں، جب ’توفیٰ‘ کو موت کے بجاے پورا وصول کرنے کے معنی پر محمول کیا جائے۔ پھر یہ پوری طرح متعلق اور بامعنی ہو جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اگر ارشاد ِباری: ’انی متوفیک‘ میں ’متوفی‘ بہ معنی ’ممیت‘ ہوتا تو ’رافعک الی‘ کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ اِس وقت ’توفیٰ‘ جو موت کے معنی میں مشہور ہے، وہ کنایۃً ہے نہ کہ وضعاً۔ …اِس لیے میری تحقیق یہ ہے کہ لفظ کا اصل مفہوم ہی بتقاضاے بلاغت لفظ کا مصداق ہوتا ہے۔ …پس آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ: میں آپ کو وہ پوری مدت دے دوں گا، جو آپ کے لیے مقدر ہے، آپ کے دشمن آپ کے قتل پرقادر نہ ہوسکیں گے، بلکہ میں آپ کو طبعی موت دوں گا۔

’توفیٰ‘ از ابتدا تا انتہا ساری عمر کو محیط ہے اور اِس کے بیچ میں ’رفع‘ ہے۔ پس چونکہ ’توفیٰ‘ عمر کے دونوں سروں میں ہے (اِس لیے ’توفیٰ‘ کا تذکرہ پہلے کیا) اور ’رفع‘ وسط میں ہے، اس لیے اِس کو مؤخر کیا، لہٰذا یہ اوقات میں عمر کو پورا کرنا ہوا۔ …حاصل یہ کہ حضرت عیسٰی کی بابت ’توفیٰ‘ کی بات جبھی ہوسکتی ہے، جب کہ آپ پوری عمر گزاریں اور ایسا نزول کے بعد ہوگا۔سورۂ مائدہ میں اِسی کا تذکرہ ہے۔ ایسانہیں کہ یہاں دو ’توفیٰ‘ پائی جا رہی ہیں، ایک رفع سے پہلے، دوسری نزول کے بعد اور نہ ہی یہ کہنا صحیح ہے کہ ’متوفیک ورافعک إلى‘ میں تقدیم و تا خیر ہے۔‘‘(حیات ابن مریم127-128)

iii۔ ’ رَافِعُکَ ‘ سے مراد جسم اور روح، دونوں کا اٹھایا جانا ہے

یہ گذشتہ استدلال ہی کا ایک جز ہے۔دلیل یہ ہے کہ بہ طورِ انسان عیسیٰ علیہ السلام کی ذات روح اور جسم، دونوں کا مجموعہ ہے۔چنانچہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب کر کے ’رَافِعُکَ اِلَیَّ ‘،’’میں آپ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں‘‘کہا گیا تو اِس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ اُس انسان کو اٹھانے والے ہیں، جو عیسیٰ کے اسم کا مصداق ہے اور اِس بنا پر روح اور جسم، دونوں کا مجموعہ ہے۔ گویا اگر اکیلی روح یا اکیلے جسم کو اٹھایا گیا ہوتا تو پھر بیان یہ ہوتا کہ میں آپ کی روح کو اٹھانے والا ہوں یا میں آپ کے جسم کو اٹھانے والا ہوں۔ اِس تصریح کے بغیر اگر حضرت مسیح کو اٹھانے کی بات ہوئی ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں حضرت مسیح کا پورا وجود اٹھانا مقصود ہے، جو جسم اور روح، دونوں سے مل کر مکمل ہوتا ہے۔ مفتی شفیع عثمانی نے ’’معارف القرآن‘‘میں لکھا ہے:

’’(ورافعک الی) اِس کا مفہوم ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو خطاب کر کے کہا گیا ہے کہ آپ کو اپنی طرف اٹھا لوں گااور سب جانتے ہیں کہ عیسیٰ نام صرف روح کا نہیں، بلکہ روح مع جسم کا ہے، تو رفع عیسیٰ کا یہ مفہوم لینا کہ صرف رفع روحانی ہوا، جسمانی نہیں اٹھایا گیا، بالکل غلط ہے۔‘‘(2/76)

لفظِ ’اِلٰی‘کی تاکید کو نمایاں کرتے ہوئے وہ مزید لکھتے ہیں:

’’اِس جگہ لفظ ِ’رفع‘ کے ساتھ لفظِ ’الی‘ استعمال فرما کر اِس مجازی معنی کا احتمال بالکل ختم کردیا گیا ہے، اِس آیت میں ’رافعک الیّ‘ فرمایا، اور سورۂ نسا کی آیت میں بھی جہاں یہودیوں کے عقیدہ کا رد کیا گیا،وہاں بھی یہی فرمایا: ’وما قتلوہ یقینًا بل رفعہ اللّٰہ الیہ‘۔ یعنی یہودیوں نے یقیناً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا، بلکہ اُن کو تو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اپنی طرف اٹھا لینا روح مع جسد کے زندہ اٹھالینے ہی کے لیے بولا جاتا ہے۔‘‘( 2/ 76)

iv۔ سیاقِ کلام تسلی کا ہے، جب کہ موت خلافِ تسلی ہے

ایک دلیل یہ بھی دی گئی ہے کہ یہاں حضرت مسیح علیہ السلام کو اُن کے دشمنوں سے بچانے کی اطمینان دہانی کرائی گئی ہے۔ اُنھیں بتایا گیا ہے کہ دشمنوں کی سب سازشیں ناکام ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اُنھیں ہر طرح سے محفوظ رکھیں گے۔ اِس تسلی و تشفی کے موقع پر زندگی کے خاتمے کی ایک غیر تسلی بخش خبر کیسے دی جا سکتی ہے؟ موت کی صورت میں تو تسلی اور اطمینان کا سارا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ مولانا ادریس کاندھلوی اِس دلیل کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’جمہور صحابہ و تابعین اور عامۂ سلف صالحین یہ کہتے ہیں کہ اِس آیت میں ’توفیٰ‘ سے موت کے معنی مراد نہیں، بلکہ ’توفیٰ‘ کے اصلی اور حقیقی معنی مراد ہیں، یعنی کسی شے کا پورا پورا لے لینا،کیونکہ دشمنوں کے ہجوم اور نرغہ کے وقت ’توفیٰ‘ کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی اور تسکین کے لیے ہے کہ اے عیسیٰ تم دشمنوں کے ہجوم اور نرغہ سے گھبرانا نہیں۔ میں تم کو پورا پورا روح اور جسم سمیت اِن نابکاروں سے چھین لوں گا۔تیرا وجود اِن کے لیے میری ایک عظیم نعمت تھا۔ اِن کے کردار سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ نابکار اور ناہنجار اِس قابل نہیں کہ تیرے وجود کی نعمت کو اِن کے لیے باقی رکھا جائے۔ اِن کی ناقدری اور ناسپاسی کی سزا یہ ہے کہ اِن سے یہ نعمت پوری پوری واپس لے لی جائے۔…

غرض یہ کہ آیت میں ’توفیٰ‘ سے پورا پورا لے لینے کے معنی مراد ہیں۔ موت کے معنی مراد نہیں اور نہ اِس مقام کے مناسب ہیں، اِس لیے کہ جب ہر طرف خون کے پیاسے اور جان لیوا کھڑے ہوئے تو اُس وقت تسلی اور تسکین خاطر کے لیے موت کی خبر دینا کہ میں تجھ کو موت دوں گا مناسب نہیں۔ دشمنوں کا تو مقصود ہی جان لینا ہے۔اُس وقت تو مناسب یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ تم گھبراؤ نہیں ہم تم کو تمھارے دشمنوں کے نرغہ سے پورا پورا اور صحیح و سالم نکال لے جائیں گے کہ دشمنوں کو تمھارا سایہ بھی نہ مل سکے گا۔ پس اگر آیت میں’توفیٰ‘سے موت کے معنی مراد ہوں تو عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی تو نہ ہو گی، البتہ یہود کی تسلی ہو جائے گی اورمطلب یہ ہو گا کہ یہود تم بالکل نہ گھبراؤ اور نہ مسیح کے قتل کی فکر کرو،میں خود ہی اِن کو موت دوں گا۔ اور میں خود ہی تمھاری تمنا اور آرزو پوری کر دوں گا،تمھیں کوئی مشقت نہ ہو گی۔ یہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تسلی نہ ہوئی، بلکہ یہود کی تسلی ہوئی۔‘‘ (معارف القرآن 1/629-630)

v۔ ’مُتَوَفِّیْکَ ‘کو ’رَافِعُکَ‘ سے موخر سمجھ کر موت کا معنی لیا جا سکتا ہے

بعض اہل علم کے نزدیک یہاں ’توفیٰ‘ موت ہی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے، مگر بہ اعتبارِ وقوع یہ رفع سے موخر ہے۔ یعنی آیت کے بیان کی جو ترتیب ’اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘ میں ہے، یہ ترتیبِ زمانی نہیں ہے۔ اِس میں ’توفیٰ‘ بہ معنی موت اگرچہ مقدم الذکر ہے، مگر وقوع کے لحاظ سے موخر ہے۔اور رفع بہ معنی زندہ اٹھا لینا موخر الذکر ہے، مگر وقوع کے لحاظ سے مقدم ہے۔ ’توفیٰ‘ کی تقدیم سے احادیث میں مذکور اُس عظیم الشان واقعے کی طرف اشارہ کیاہے، جو نزول مسیح سے شروع ہو کر وفات مسیح پر مکمل ہو گا اور آپ کو قتل اور صلیب کی بے حرمتی سے محفوظ کر کے پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ طبعی موت دی جائے گی۔ مزید برآں، اِس تقدیم سے عیسائیوں کے الوہیتِ مسیح کے باطل نظریے کی تردید کو بھی نمایاں فرمایا ہے اور واضح کیا ہے کہ حضرت مسیح نوعِ انسانی سے تعلق رکھتے ہیں اور اُن پر اُسی طرح موت آئے گی،جس طرح باقی انسانوں پر آتی ہے۔

اِس ضمن میں اگر کوئی شخص ’رَافِعُکَ‘ کے ’مُتَوَفِّیْکَ ‘ پر معطوف ہونے کا اعتراض اٹھائے اور یہ خیال کرے کہ ترتیبِ بیان کے باعث موت کے واقعے کو رفع کے واقعے پر مقدم سمجھنا ضروری ہے تو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ عطف کی واؤ ترتیبِ وقوع پر دلالت نہیں کرتی۔ قرآنِ مجید میں اِس کی مثالیں موجود ہیں کہ بعد میں ہونے والے واقعے کو پہلے بیان کر دیا ہے۔

مفتی شفیع عثمانی لکھتے ہیں:

’’تفسیر در منثور میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت اس طرح منقول ہے: ’’اسحاق بن بشر اور ابن عساکر نے بروایت جوہر عن الضحاک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آیت ’انی متوفیک ورافعک الیّ‘ کی تفسیر میں یہ لفظ نقل کیے ہیں کہ میں آپ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا، پھر آخر زمانہ میں آپ کو طبعی طور پر وفات دوں گا۔‘‘ (2/36)

اِس تفسیر کا خلاصہ یہ ہے کہ ’توفیٰ‘ کے معنی موت ہی کے ہیں، مگر الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے۔ (رافعک) کا پہلے اور (متوفیک) کا وقوع بعد میں ہوگا، اور اِس موقع پر ’متوفیک‘ کو مقدم ذکر کرنے کی حکمت و مصلحت اِس پورے معاملے کی طرف اشارہ کرنا ہے، جو آگے ہونے والا ہے، یعنی یہ اپنی طرف بلا لینا ہمیشہ کے لیے نہیں، چند روزہ ہوگا اور پھر آپ اِس دنیا میں آئیں گے اور دشمنوں پر فتح پائیں گے، اور بعد میں طبعی طور پر آپ کی موت واقع ہوگی، اِس طرح دوبارہ آسمان سے نازل ہونے اور دنیا پر فتح پانے کے بعد موت آنے کا واقعہ ایک معجزہ بھی تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اعزازو اکرام کی تکمیل بھی، نیز اِس میں عیسائیوں کے عقیدۂ الوہیت کا ابطال بھی تھا، ورنہ اُن کے زندہ آسمان پر چلے جانے کے واقعہ سے اِن کا یہ عقیدۂ باطل اور پختہ ہوجاتا کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرح حی و قیوم ہے، اِس لیے پہلے ’متوفیک‘ کا لفظ ارشاد فرما کر اِن تمام خیالات کا ابطال کردیا پھر اپنی طرف بلانے کا ذکر فرمایا۔…

(حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات سے متعلق )یہی عجائب قدرت تو جاہل نصاریٰ کے لیے اِس عقیدہ میں مبتلا ہونے کا سبب بن گئے، کہ اُن کو خدا کہنے لگے، حالانکہ اِنھی عجائب کے ہر قدم اور ہر چیز پر غور کیا جائے تو ہر ایک واقعہ میں اُن کی عبدیت و بندگی اور تابع فرمانِ الٰہی ہونے اور بشری خصائص سے متصف ہونے کے دلائل ہیں، اور اِسی لیے ہر ایسے موقع پر قرآنِ حکیم نے عقیدۂ الوہیت کے ابطال کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ آسمان پر اٹھانے سے یہ شبہ بہت قوی ہوجاتا، اِس لیے ’متوفیک‘ کو پہلے بیان کر کے شبہ کا قلع قمع کردیا۔ اِس سے معلوم ہوا کہ اِس آیت میں یہود کی تردید تو مقصود ہی ہے کہ یہود جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے اور سولی دینے کا عزم کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے اُن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اِس تقدیم و تاخیر ِالفاظ کے ذریعہ اِسی کے ساتھ نصاریٰ کی بھی تردید ہوگئی کہ وہ خدا نہیں، جو موت سے بری ہوں، ایک وقت آئے گا، جب اُن کو بھی موت آئے گی۔‘‘(معارف القرآن 2/74- 76)

2۔ سورۂ نساء(4) کی آیات 156- 159

یہ آیات سورۂ نساء کے اختتامی اجزا میں سے ہیں۔ اِس مقام پر بیان ہوا ہے کہ یہود نے سیدہ مریم علیہا السلام پر بہتان طرازی کی اور پھر اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی اور اِس پر یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ اِس گھناؤنی حرکت میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اِس سازش میں ناکام رہے تھے اور اللہ نے اُنھیں شبہے میں مبتلا کر کے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَ بِکُفۡرِہِمۡ وَ قَوۡلِہِمۡ عَلٰی مَرۡیَمَ بُہۡتَانًا عَظِیۡمًا. وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا. بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا. وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا.

’’پھر اپنے کفر میں اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا، اور خود کہا کہ ہم نے مسیح، عیسیٰ ابنِ مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے۔ حالاں کہ فی الواقع اُنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا، نہ صلیب پر چڑھایا، بلکہ معاملہ اُن کے لیے مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جن لوگوں نے اِس کے بارے میں اختلاف کیا ہے، وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، اُن کے پاس اِس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے۔ اُنھوں نے مسیح کو یقین کے ساتھ قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اُس کو اپنی طرف اٹھا لیا، اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے۔ اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا، جو اُس کی موت سے پہلے اُس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ اُن پر گواہی دے گا۔‘‘35

اِس مقام سے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پراستدلال کیا جاتا ہے۔ اِس ضمن میں علما کا استدلال دو نکات پر مبنی ہے:

i۔ ’ وَ مَا قَتَلُوۡہُ ‘ کے الفاظ موت کا مفہوم لینے میں مانع ہیں

سورۂ نساء (4) کی آیت 157 میں ’ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ‘، ’’حالاں کہ فی الواقع اُنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا، نہ صلیب پر چڑھایا ‘‘کے الفاظ بھی عیسیٰ علیہ السلام کی موت کی تردید کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہےکہ بنی اسرائیل آپ کی موت پر قادر نہ ہو سکے۔وہ نہ آپ کو قتل کر کے مار سکے اور نہ صلیب دے کر مار سکے۔مقتول اور مصلوب ہونے کی یہ نفی درحقیقت موت کی نفی کے مترادف ہے۔ آیت کا اختتام ’وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًا‘، ’’اُنھوں نے مسیح کو یقین کے ساتھ قتل نہیں کیا ‘‘ کے الفاظ پر ہوتا ہے، جس سے موت کی پرزور تردید ہو گئی ہے۔ اِس زور دار تردید کے بعد یہ درست نہیں ہے کہ آلِ عمران (3) کی آیت 55 میں ’توفیٰ‘ کے لفظ کو ــــ جو موت کے معنوں میں صریح نہیں ہے ــــ موت کے مفہوم پر محمول کیا جائے۔

قاضی ثنا اللہ ’’تفسیر مظہری‘‘ میں لکھتے ہیں:36

ان المراد بالتوفى هو الرفع الى السماء بلا موت يشهد به الوجدان بعد ملاحظة قوله تعالىــــــ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ ــــــ ولولا نفى الموت عنه لما كان من نفى القتل فائدة إذ الغرض من القتل الموت.

(2/56)

’’’توفیٰ‘سے مراد بغیر موت کے آسمانوں کی طرف اٹھانا ہے، کیونکہ رب العٰلمین کے اِس ارشاد: ’وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ‘ کے ملاحظہ کے بعد وجدان اِس بات کی گواہی دیتا ہے، کیونکہ اگر موت کی نفی نہ کی جائے تو قتل کی نفی کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ قتل سے غرض بھی تو موت ہوتی ہے۔‘‘

ii۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلےاہل کتاب کا آپ پر ایمان

آیت 159 کے الفاظ ہیں: ’وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا‘، ’’اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا جو اُس (عیسیٰ علیہ السلام)کی موت سے پہلے اُس ( عیسیٰ علیہ السلام ) پرایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ( عیسیٰ علیہ السلام) اُن پر گواہی دے گا۔‘‘ علما و مفسرین کے نزدیک اِس کے الفاظ ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ میں دونوں مفعولی ضمیروں کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ مراد یہ ہے :

’اہل کتاب میں سے ہر شخص عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر لازماً ایمان لائے گا۔‘

اِس تاویل کے نتیجے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا اثبات ہوتا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ آیت کی رو سے مسیح علیہ السلام کی موت اور اہل کتاب کا آپ پر ایمان لانا لازم و ملزوم ہیں۔یعنی آپ کی موت اُس وقت واقع ہو گی، جب آپ کے یہ منکرین آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ چنانچہ اگررفع الی اللہ کے موقع پر آپ کی موت واقع ہونی تھی تو لازم تھا کہ اُس سے پہلے آپ کےقتل کی سازش کرنے والے یہود آپ پر ایمان لے آتے۔ اِسی طرح یہ بھی ضروری تھا کہ رفع الی اللہ سے تاحال یہود کا ہر فرد آپ پر ایمان لا چکا ہوتا اور گذشتہ دوہزار سالوں میں دنیا یہود کے وجود سے مسلسل خالی ہوتی۔ تاریخ شاہد ہے کہ اِن دونوں میں سے کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ اگر ایسا نہیں ہوا اور یقیناً نہیں ہوا تو اِس کا صاف مطلب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ و سلامت ہیں، اُنھیں موت لاحق نہیں ہوئی ہے۔

بعض دیگر مفسرین کے نزدیک ’لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ‘ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ’قَبۡلَ مَوۡتِہٖ‘ کی ضمیر کا مرجع اہل کتاب کا ہر فرد ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے:

’اہل کتاب میں سے ہر شخص اپنی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر لازماً ایمان لائے گا۔‘

اِس سے مراد یہ لیا گیا ہے کہ یہود کا ہر شخص موت کو سامنے پا کر حضرت مسیح کی رسالت پر یقین کر لے گا اور مرنے سے چند لحظے پہلے آپ پر ایمان لے آئے گا۔

اِس بنا پر علما کا موقف ہے کہ یہ آیت نزولِ مسیح کی روایات کی موید اور موکد ہے۔ اِن دونوں کے مطالب کو یک جا کیا جائے تو مسیح علیہ السلام کی حیات اور نزول کا تصور برحق ثابت ہوتا ہے۔ اِس موقف کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اُس قول سے مزید تقویت ملتی ہے، جس میں اُنھوں نے سورۂ نساء کی مذکورہ آیت کو نزولِ مسیح کی احادیث کی تائید میں پیش کیا ہے۔ مفتی محمد شفیع عثمانی اِس موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’’موتہ‘ کی ضمیر حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ اہل کتاب اگرچہ اِس وقت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے، یہود تو اُنھیں نبی ہی تسلیم نہیں کرتے، بلکہ اُنھیں العیاذ باللہ مفتری اور کاذب قرار دیتے ہیں اور نصاریٰ اگرچہ اُن پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر بعض تو اُن میں اپنی جہالت میں یہاں تک پہنچ گئے کہ یہود ہی کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقتول اور مصلوب ہونے کے قائل ہوگئے اور بعض اعتقاد کے غلو میں اِس حد تک آگے نکل گئے کہ اُنھیں خدا اور خدا کا بیٹا سمجھ لیا۔ قرآنِ کریم کی اِس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اِس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر صحیح ایمان نہیں رکھتے، لیکن جب وہ قیامت کے قریب اِس زمین پر پھر نازل ہوں گے تو یہ سب اہل کتاب اُن پر صحیح ایمان لے آئیں گے۔ نصاریٰ تو سب کے سب صحیح اعتقاد کے ساتھ مسلمان ہوجائیں گے، یہود میں جو مخالفت کریں گے، قتل کر دیے جائیں گے، باقی مسلمان ہوجائیں گے۔ اُس وقت کفر اپنی تمام قسموں کے ساتھ دنیا سے فنا کردیا جائے گا اور اِس زمین پر صرف اسلام ہی کی حکمرانی ہوگی۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے:

”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم ایک عادل حکمران بن کر ضرور نازل ہوں گے، وہ دجال اور خنزیز کو قتل کردیں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور اُس وقت عبادت صرف پروردگارِ عالم کی ہوگی۔اِس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اگر تم چاہو تو قرآنِ کریم کی یہ آیت بھی پڑھ لو، جس میں اِسی حقیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ: ’’ اہل کتاب میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا،مگر یہ کہ وہ اُن پر اُن کی موت سے پہلے ایمان لے آئے گا۔آپ نے فرمایا :’’عیسیٰ کی موت سے پہلے‘‘۔ اور تین بار اِن الفاظ کو دہرایا۔“

آیتِ مذکورہ کی یہ تفسیر ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بروایت صحیحہ ثابت ہے، جس میں’ قبل موتہ‘ سے مراد ’قبل موت عیسیٰ‘قرار دیا ہے،جس نے آیت کا مفہوم واضح طور پر متعین کردیا کہ یہ آیت قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے متعلق ہے۔

اِس تفسیر کی بنا پر یہ آیت ناطق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ابھی نہیں ہوئی، بلکہ قیامت کے قریب جب وہ آسمان سے نازل ہوں گے اور اُن کے نزول سے اللہ جل شانہ کی جو حکمتیں وابستہ ہیں، وہ حکمتیں پوری ہوجائیں گی، تب اِس زمین پر ہی اُن کی وفات ہوگی۔…

خلاصہ یہ ہے کہ آیتِ مذکورہ ’قبل موتہ‘ کے ساتھ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح کے ساتھ تفسیر کو شامل کیا جائے تو اِس سے واضح طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا اور پھر قرب قیامت میں نازل ہو کر یہود پر مکمل غلبہ پانا ثابت ہوجاتا ہے۔‘‘(معارف القرآن 2/603-605)

دوسری تاویل کے حوالے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے کسی فرد کی اچانک موت کی صورت میں یہ موقع کیسے پیدا ہو گا کہ وہ حضرت مسیح کی رسالت کا ادراک کر کے اُس پر ایمان لے آئے؟ اِس کے جواب میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے اقوال پیش کیے جاتے ہیں۔ اُن میں بیان ہوا ہے کہ ہر یہودی اپنی موت سے معاً پہلے آپ کی نبوت کا لازماً اقرار کر لے گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اِن اقوال کو امام جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر ’’درِ منثور‘‘ میں نقل کیا ہے:

قيل لابن عباس: أرأيت إن خر من فوق بيت قال: يتكلم به في الهواء فقيل: أرأيت إن ضرب عنق أحدهم قال: يتلجلج بها لسانه وأخرج ابن جرير عن ابن عباس قال: لو ضربت عنقه لم تخرج نفسه حتى يؤمن بعيسى. (2 / 733)

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ عرض کی گئی کہ اگر وہ (یہودی) مکان سے گرے تو پھر آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: (زمین پر گرنے سے پہلے)وہ ہوا ہی میں اِس بارے میں زبان سے اظہار کر دے گا۔ پوچھا گیا کہ اگر اُن (یہودیوں) میں سے کسی کی گردن اڑائی جائے؟ اُنھوں نے فرمایا : وہ اپنی زبان سے جلدی جلدی اِسے ادا کرے گا۔ امام ابنِ جریر نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ اگر کسی یہودی کی گردن اڑائی جائے تو اُس کی روح اُس وقت تک نہیں نکلتی، جب تک وہ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لائے۔“

سورۂ آلِ عمران (3) کی آیات 54–55 سے استدلال

سورۂ نساء (4) کی آیات 156-159

نزولِ مسیح کے دلائل

حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان سے زمین پر نازل ہونے کے تصور کے لیے احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔ علما ومفسرین اِس موضوع کی جملہ احادیث کو اِس کی تائید میں قطعی دلائل کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

جہاں تک قرآنِ مجید کا تعلق ہے تو اُس میں ایسی کوئی نص نہیں ہے،جو نزولِ مسیح پر براہِ راست اور بالصراحت دلالت کر رہی ہو۔ تاہم، علما کے نزدیک قرآن کی بعض آیات میں ایسے اشارات موجود ہیں، جو نزولِ مسیح کی تائید کرتے ہیں۔ اِن میں اصل حیثیت تو رفع مسیح اور حیاتِ مسیح کی مذکورہ بالا آیات ہی کو حاصل ہے۔ اِن کے علاوہ سورۂ زخرف (43) کی آیت61میں مسیح علیہ السلام کے لیے قیامت کی نشانی کے الفاظ بھی آپ کے نزول کی تصویب کرتے ہیں۔

چنانچہ رفع مسیح اور حیاتِ مسیح کی آیات اور نزولِ مسیح اور وفاتِ مسیح کی احادیث کو باہم دگر سمجھا جائے تو اللہ کی پوری اسکیم واضح ہوجاتی ہے۔ آیات کو پڑھیے تو وہ مسیح علیہ السلام کے رفع اور حیات کو ثابت کرتی اور نزول کے اشارات کو نمایاں کرتی ہیں۔ احادیث کو دیکھیے تو اُن سے آپ کے نزول اور اُس کے بعد وفات کا اثبات ہوتا ہے۔ یہ اثبات آپ کے رفع اور آپ کی حیات کو لازم کرتا ہے،37 لہٰذا یہ احادیث مذکورہ آیات کی موید اور موکد قرار پاتی ہیں۔

اِس تمہید کے بعد اب نزولِ مسیح کے باب میں علما کے دلائل کی تفصیل ملاحظہ کر لیجیے:

نزولِ مسیح کے تصور کی اساس : احادیث

1۔ نزولِ مسیح کے تصور کی اساس : احادیث

علما کے نزدیک نزولِ مسیح کا تصور احادیث پر مبنی ہے۔ اِس موضوع کی روایتیں صحیح اور حسن اسناد کے ساتھ حدیث کی بیش تر کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔اُن میں بیان ہوا ہے کہحضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب آسمان سے براہ ِراست زمین پر نازل ہوں گے۔ وہ دمشق کی ایک مسجد کے مینار پر اتریں گے اور مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کریں گے۔ پھر وہ دجال اور اُس کے یہودی لشکریوں کو قتل کر دیں گے۔ اُن کی دعا سے یاجوج و ماجوج بھی فنا ہو جائیں گے۔ دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے گی اور کرۂ ارض پر اسلام کے سوا کوئی اور مذہب باقی نہیں رہے گا۔

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ’’تفہیم القرآن‘‘ میں نزولِ مسیح کی نمایندہ احادیث درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’یہ جملہ 21 روایات ہیں جو 14صحابیوں سے صحیح سندوں کے ساتھ حدیث کی معتبرترین کتابوں میں وارد ہوئی ہیں۔ …یہ تمام حدیثیں صاف اور صریح الفاظ میں اُن عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دے رہی ہیں، جو اب سے دو ہزار سال پہلے باپ کے بغیر حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ … اگر کوئی شخص حدیث کو مانتا ہو تو اُسے یہ ماننا پڑے گا کہ آنے والے وہی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہوں گے۔ اور اگر کوئی شخص حدیث کو نہ مانتا ہو تو وہ سرے سے کسی آنے والے کی آمد کا قائل ہی نہیں ہو سکتا، کیونکہ آنے والے کی آمد کا عقیدہ احادیث کے سوا کسی اور چیز پر مبنی نہیں ہے۔‘‘ (4/162)

نزولِ مسیح کی روایات میں تواتر

2۔ نزولِ مسیح کی روایات میں تواتر

علما کے نزدیک نزولِ مسیح کی روایات بہ کثرت بھی ہیں اور متواتر بھی ہیں۔ اِن کی نوعیت عام اخبارِ آحاد کی نہیں ہے، جو چند راویوں سے مروی ہوتی ہیں۔ اِنھیں متعدد صحابہ نے بیان کیا ہے، کئی راویوں نے روایت کیا ہے اور بیش تر محدثین نے نقل کیا ہے۔

امام ابنِ کثیر بیان کرتے ہیں کہ نزولِ مسیح کی روایات حدِ تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اِن روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نازل ہوں گے۔ اُس موقع پر آپ کی حیثیت ایک عادل حکمران کی ہو گی۔ تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:

وقد تواترت الأحاديث عن رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم أنه أخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيامة إمامًا عادلاً وحكمًا مقسطًا.

(4/169)

”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب احادیث اِس معاملے میں متواتر ہیں کہ آپ نے یہ خبر دی ہے کہ قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور منصف حکمران کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔“

امام شوکانی بھی نزولِ مسیح کی روایتوں کو من جملہ متواترات سمجھتے ہیں۔اُن کے نزدیک خروجِ دجال کی روایتیں بھی اِسی زمرے میں شامل ہیں۔سنن ابوداؤد کی شرح ’’عون المعبود‘‘ میں اُن کا موقف اِن الفاظ میں نقل ہوا ہے:

وقال الشوكاني: وجميع ما سقناه بالغ حد التواتر … الأحاديث الواردة في المهدي المنتظر متواترة والأحاديث الواردة في الدجال متواترة والأحاديث الواردة في نزول عيسى عليه السلام متواترة.

(11/ 308)

’’اور شوکانی نے کہا ہےکہ وہ سب روایتیں جو ہم نے بیان کی ہیں، حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں … چنانچہ جو احادیث ظہورِ مہدی، خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ کے بارے میں آئی ہیں، وہ سب حدِ تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔‘‘

سورۂ زخرف (43) کی آیت 61

3۔ سورۂ زخرف(43) کی آیت61

سورۂ زخرف (43) کی آیت 61 میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کو قیامت کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ اِس کے لیے ’وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی آپ قیامت کی ایک علامت ہیں۔ جب کسی امر کو قیامت کی علامت کہا جائے گا تو اُس کا تعلق، ظاہر ہے، قرب ِ قیامت سے ہو گا۔کتبِ حدیث کی متعدد روایات میں قیامت کے مختلف آثار بیان ہوئے ہیں۔ اُنھی میں سے بعض روایات میں نزولِ مسیح کو قیامت کی نشانی شمار کیا گیا ہے۔ اِسی بنا پر علما کا موقف ہے کہ مذکورہ آیت میں سیدنا مسیح علیہ السلام کو جس پہلو سے قیامت کی نشانی کہا گیا ہے، وہ آپ کا آسمان سے نازل ہونا ہے۔ چنانچہ یہ آیت روایات میں مذکور نزولِ مسیح کے واقعے کی تائید اور تصدیق کرتی ہے۔

آیت اپنے سیاق و سباق کے ساتھ درج ذیل ہے:

وَلَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ. وَقَالُوۡۤا ءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ. اِنۡ ہُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَیۡہِ وَ جَعَلۡنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ. وَ لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الۡاَرۡضِ یَخۡلُفُوۡنَ. وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ. وَ لَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ.(43: 57-62)

’’اور جونہی کہ ابن مریم کی مثال دی گئی، تمھاری قوم کے لوگوں نے اِس پر غل مچا دیا اور لگے کہنے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ یہ مثال وہ تمھارے سامنے محض کج بحثی کے لیے لائے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔ ابن مریم اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا، جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا۔ ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کر دیں، جو زمین میں تمھارے جانشین ہوں۔ اور وہ (ابن مریم ) دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے۔ پس تم اِس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہے، ایسا نہ ہو، شیطان تم کو اِس سے روک دے کہ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘38

بیش تر مفسرین کا یہی موقف ہے۔ تفسیرابنِ کثیر میں بیان ہوا ہے:

”یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اِس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے۔ اور یہ واضح رہے کہ مراد یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے۔ جیسے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ’وان من اہل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ‘۔ یعنی اُن کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب اُن پر ایمان لائے گا۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے۔ پھر قیامت کے دن یہ اُن پر گواہ ہوں گے۔ اِس مطلب کی پوری وضاحت اِسی آیت کی دوسری قراءت سے ہوتی ہے، جس میں ہے ’انہ لعلم للساعۃ‘ یعنی جناب روح اللہ نشان اور علامت ہیں قیامت کے قائم ہونے کی۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ نشان ہیں قیامت کے، یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اِسی طرح روایت کی گئی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور یہی مروی ہے ابو العالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ سے اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا ہونا یقینی جانو،اِس میں شک شبہ نہ کرو۔“ (تفسیر ابن کثیر 4 / 631، ترجمہ:مولانا محمد جونا گڑھی)

مولانا محمد مالک کاندھلوی لکھتے ہیں:

’’جمہور مفسرین کےنزدیک ’واِنَّہ‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے، یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام بے شک، ایک علامت ہیں قیامت کے لیے۔ اور اِس سے مراد اُن کا آسمان سے نزول فرمانا اور زمین پر آنا ہے، تو اُن کا یہ آنا من جملۂ علامات قیامت کے ایک عظیم نشانی بنایا گیا۔‘‘39 (معارف القرآن 7/ 307)

تصورِ نزولِ مسیح کے متعلقات

سطورِ بالا میں نزولِ مسیح کے جملہ دلائل بیان ہو گئے ہیں۔ اِنھی کی بنا پر حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے، وہاں ذی حیات ہونے، پھرقیامت کے قریب زمین پر اترنے اور بعض امور انجام دے کر وفات پا جانے کا تصور قائم ہے۔ علماے امت قرآن و حدیث کے مذکورہ نصوص کی بنا پر اِس تصور کو مبنی بر حق قرار دیتے اور اِس کے انکار کا ابطال کرتے ہیں۔ علامہ زاہد الکوثری 40نے اپنی کتاب ’’نظرة عابرة في مزاعم من ينكر عيسى علیہ السلام قبل الآخرة‘‘ میں نزولِ مسیح کےدلائل درج کرنےکے بعدلکھا ہے:

فظهر مما سبق ان نصوص القرآن الكريم وحدها تحتم القول برفع عيسى عليه السلام حيًا وبنزوله في آخر الزمان. حيث لا اعتداد باحتمالات خيالية لم تنشاء من دليل. كيف، والاحاديث قد تواترت في ذلك. واستمرت الامة خلفًا عن سلف على الاخذ بها وتدوين موجبها في كتب الاعتقاد من قديم العصور الى اليوم. (106)

”گذشتہ بحث سے واضح ہے کہ فقط قرآنِ کریم کے نصوص ہی عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ اٹھائے جانے اور آخری زمانے میں نازل ہونے کا قطعیت کے ساتھ اثبات کرتے ہیں۔ اِن کی موجودگی میں خیالی احتمالات، جن کی کوئی دلیل نہ ہو، ان کا اعتبار نہیں کیا جا ئے گا۔ اِن کا اعتبار بھلا کیسے ہو سکتا ہے، جب کہ اِس موضوع پر متواتر احادیث موجود ہیں؟ امت نے ہمیشہ ان پر عمل کیا ہے ، نسل در نسل ان کو قبول کیا ہے اور قدیم ادوار سے لے کر آج تک عقائد کی کتابوں میں درج کرتی چلی آ رہی ہے۔ “

یہ اقتباس علما کے عمومی موقف کا خلاصہ ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ جب نزولِ مسیح کے نصوص کا ذکر ہو تو اُن کے ساتھ بعض لوازم اور نتائج بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ اِن کی نوعیت ضمنی اور اضافی بحثوں کی ہے، جو موقف کی تاکید اور اُس کے بارے میں رفع اعتراضات کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ تاہم، دین کے مجموعی تناظر میں اِن کی خاص اہمیت ہے۔ اِس لیے اِن کا ذکر بھی ضروری ہے۔ اِس ضمن میں تین نمایاں مباحث درجِ ذیل ہیں۔

نزولِ مسیح کا عقائد میں شمول

1۔ نزولِ مسیح کا عقائد میں شمول

نزولِ مسیح کے تصور کو ایمانیات کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ گویاعلما کے نزدیک یہ توحید، رسالت اور آخرت جیسے عقائد ہی کی طرح ایک عقیدہ ہے، جس پر ایمان لانا ضروری ہے۔مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایمان رکھنا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے براہِ راست نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جسے زمانۂ مستقبل میں رونما ہونا ہے۔چونکہ یہ صحیح اور متواتر احادیث پر مبنی ہے، لہٰذا اِس پر یقین ایمان کا تقاضا اور اِس کا انکار کفر کے مترادف ہے۔

احناف کے مذہبی عقائد کی نمایندہ کتاب ’’عقیدۃ الطحاویہ‘‘41 میں لکھا ہے:

ونؤمن بأشراط الساعة منها: خروج الدجال ونزول عيسى ابن مريم عليه السلام من السماء.

(1/59)

’’ہم قیامت کی نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ دجال کے خروج اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے آسمان سے نزول پر ایمان بھی اِنھی میں سے ہے۔‘‘

امام ابو حنیفہ سے منسوب کتاب ’’الفقہ الاکبر‘‘ میں بیان ہوا ہے:

خروج الدجال ويأجوج ومآجوج وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيامة على ما وردت به الأخبار الصحيحة حق كائن.

( 72)

’’دجال اور یاجوج و ماجوج کا خروج، سورج کا مغرب سے طلوع، عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول اور صحیح روایات میں مذکور تمام علاماتِ قیامت برحق ہیں اور واقع ہونے والی ہیں۔‘‘

امام نووی صحیح مسلم کی شرح میں لکھتے ہیں:

قال قاضی رحمہ اللّٰہ: نزول عيسى عليه السلام وقتله الدجال حق وصحيح عند أهلِ السنة، للأحاديث الصحيحة في ذلك. وليس فى العقل ولا فى الشرع ما يبطله فوجب إثباته.

(شرح النووی على مسلم 7/599)

”قاضی عیاض رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اہل سنت کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور ان کا دجال کو قتل کرنا برحق اور درست ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صحیح احادیث پر مبنی ہے۔ عقل و شرع میں اِس کے ابطال کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ لہٰذا اِس کو ماننا واجب ہے۔“

امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں:

إما نفي نزول عيسى، أو نفي النبوة عنه وكلاهما كفر؟

(الحاوى للفتاوى 2/201)

”جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول یا اُن کی نبوت کے انکار کا تعلق ہے تو یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔“

نزولِ مسیح کے تصور پر امت کا اجماع

2۔ نزولِ مسیح کے تصور پر امت کا اجماع

علما کے نزدیک نزولِ مسیح کے تصور پر امت کے اہل علم میں اتفاق پایا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ اُن تصورات میں شامل ہے، جن پر امت کا اجماع ہے:

امام ابنِ جریر طبری نے اپنی تفسیر ’’جامع البیان‘‘ میں لکھا ہے:

والاجماع على انه حي في السماء وينزل ويقتل الدجال ويؤيد الدين.(2/52)

” امت کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ وہ (آسمان سے) نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے اور دین کی تائید کریں گے۔“

امام ابن عطیہ ’’البحر المحیط‘‘ میں لکھتے ہیں:

وأجمعت الأمة على ما تضمنه الحديث المتواتر من: أن عيسى في السماء حي، وأنه ينزل في آخر الزمان، فيقتل الخنزير.

( 2/360)

’’حدیثِ متواتر کی بنا پر تمام امت کا اِس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ موجود ہیں۔ وہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔‘‘

امام اشعری لکھتے ہیں:

وأجمعت الأمة على أن اللّٰہ سبحانه رفع عيسى صلى اللّٰہ عليه وسلم إلى السماء.

(الابانہ عن اصول الدیانہ1/ 115)

’’امت کا اِس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا لیا تھا۔ ‘‘

’’تلخیص الحبیر‘‘ میں ہے:

فاتفق أصحاب الأخبار والتفسير على أنه رفع ببدنه حيًا.

(3/ 462)

”مورخین اور مفسرین اِس بات پر متفق ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف زندہ اٹھائے گئے۔ “

حنابلہ کے معروف عالم امام شمس الدین سفارینی42 لکھتے ہیں:

واما الاجماع فقد اجتمعت الامۃ علی نزولہ ولم یخالف فیہ احد من اہل الشریعۃ وانما انکر ذلک الفلاسفۃ والملاحدۃ مما لا یعتد بخلافۃ وقد انعقد اجماع الامۃ علی انہ ینزل ویحکم بہذہ الشریعۃ المحمدیہ.

(شرح عقیدۂ سفارینی 2 / 90)

”جہاں تک عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا معاملہ ہے تو اِس پر امت کا اجماع ہے۔اہل شریعت میں سے کوئی اِس کا مخالف نہیں ہے۔ اہل فلسفہ اور ملحدین کے علاوہ کسی نے اِس کا انکار نہیں کیا۔ اِن کا اختلاف (دین میں) قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ چنانچہ اجماعِ امت ہے کہ مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اِسی شریعت کا حکم دیں گے۔ “

نزولِ مسیح اور ختم نبوت

3۔ نزولِ مسیح اور ختم نبوت

حضرت مسیح علیہ السلام کی آمدِ ثانی نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ہو گی، اِس لیے نزولِ مسیح کا تصور بہ ظاہر ختم نبوت کے تصور سے معارض محسوس ہوتا ہے۔ چنانچہ فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نزولِ مسیح کو ماننے کی صورت میں قرآن وحدیث کے صریح نصوص ــــ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ’’ محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔‘‘ 43 اور وأنا خاتم النبیین، وإنہ لا نبي بعدي ’’میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا‘‘44 ـــــ کی کیا توجیہ ہو گی؟

علما کے نزدیک اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نہ وحی نازل ہو گی اور نہ وہ اپنی شریعت، یعنی شریعتِ موسوی کے پیرو ہوں گے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ایک فرد کی حیثیت سے دنیا میں آئیں گے اور آپ ہی کی شریعت کی پیروی کریں گے۔ اُن کی آمد چند خاص فرائض کی انجام دہی کے لیے ہو گی۔ اُنھیں انجام دے کر وہ وفات پا جائیں گے۔استدلال یہ ہے کہ چونکہ وہ رسالت کے دو بنیادی اوصاف ــــ وحی اور اجراے شریعت ـــــ سے متصف نہیں ہوں گے، اِس لیے اُن کی آمد ختم نبوت کے واقعے کو تبدیل نہیں کرے گی۔

علامہ تفتازانی 45’’شرح عقائد نسفی‘‘ میں لکھتے ہیں :

ثبت انہ اٰخرالانبیاء … فان قیل: قد روی فی الحدیث نزول عیسی علیہ السلام بعدہ، قلنا: نعم لکنہ یتابع محمد علیہ السلام لان شریعۃ قد نسخت لا یکون الیہ وحی ولا نصب احکام بل یکون خلیفۃ رسول اللّٰہ علیہ السلام. (135)

’’یہ ثابت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں… اگر کہا جائے کہ آپ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر احادیث میں آیا ہے، تو ہم کہیں گے کہ ہاں، آیا ہے، مگر وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے تابع ہوں گے، کیونکہ اُن کی شریعت تو منسوخ ہو چکی ہے، اِس لیے، نہ اُن کی طرف وحی ہو گی اور نہ وہ احکام مقرر کریں گے، بلکہ وہ خلیفۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر اپنے امور انجام دیں گے۔‘‘

علامہ آلوسی 46 نے اپنی تفسیر ’’روح المعانی‘‘ میں لکھا ہے کہ مسیح علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو اُن کی نبوت اُن سے منفک نہیں ہو گی۔تاہم وہ اصول و فروع، دونوں میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت کے پابند ہوں گے :

ثم انہ علیہ السلام حین ینزل باق علی نبوتہ السابقۃ لم یعزل عنھا بحال لکنہ لا یتعبد بھا لنسخھا فی حقہ وحق غیرہ وتکلیفہ باحکام ہذا الشریعۃ اصلاً وفرعًا فلا یکون الیہ علیہ السلام وحی ولا نصب احکام بل یکون خلیفة لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم وحاکمًا من حکام ملتہ بین امتہ.

(22/290)

’’پھر عیسٰی علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ اپنی سابق نبوت پر باقی ہوں گے، اُس سے معزول نہیں ہوں گے، مگر وہ اپنی پچھلی شریعت کے پیرو نہ ہوں گے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شریعت اُن کے لیے اور باقی لوگوں کے لیے منسوخ ہو چکی ہے۔ چنانچہ اب وہ اصول اور فروع میں اِسی شریعت کی پیروی کے مکلف ہوں گے۔ لہذا اُن پر نہ وحی آئے گی اور نہ اُنھیں احکام مقرر کرنے کا اختیار ہو گا، بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نائب اور آپ کی امت میں ملت ِ محمدیہ کے حاکموں میں سے ایک حاکم کی حیثیت سے کام کریں گے۔ ‘‘

امام رازی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا زمانہ ختم ہو گیا ہے۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی آخر الزماں ہی کے تابع ہوں گے۔ ’’التفسیر الکبیر‘‘ میں ہے:

انتہاء الانبیاء الی مبعث محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم فعند مبعثہ انتھت تلک المدۃ، فلا یبعد ان یصیر (ای عیسی ابن مریم) بعد نزولہ تبعًا لمحمد علیہ الصلاۃ والسلام.

(11/ 83)

’’انبیا کا دور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہو گئے تو انبیا کی آمد کا زمانہ ختم ہو گیا۔ اب یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ آپ، (یعنی حضرت عیسیٰ ابنِ مریم) اپنے نزول کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوں گے۔ ‘‘

مولانا مودودی نے ’’تفہیم القرآن‘‘ میں سلف کے اِسی موقف کو نقل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’حضرت عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کا یہ دوبارہ نزول نبی مقرر ہو کر آنے والے شخص کی حیثیت سے نہیں ہو گا۔ نہ اُن پر وحی نازل ہو گی، نہ وہ خدا کی طرف سے کوئی نیا پیغام یا نئے احکام لائیں گے، نہ وہ شریعتِ محمدی میں کوئی اضافہ یا کوئی کمی کریں گے، نہ اُن کو تجدیدِ دین کے لیے دنیا میں لایا جائے گا، نہ وہ آ کر لوگوں کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دیں گے، اور نہ و ہ اپنے ماننے والوں کی ایک الگ اُمت بنائیں گے۔

وہ صرف ایک کارِ خاص کے لیے بھیجے جائیں گے، اور وہ یہ ہو گا کہ دجال کے فتنے کا استیصال کر دیں۔ اِس غرض کے لیے وہ ایسے طریقے سے نازل ہوں گے کہ جن مسلمانوں کے درمیان اُن کا نزول ہو گا، اُنھیں اِس امر میں کوئی شک نہ رہے گا کہ یہ عیسیٰ ابنِ مریم ہی ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشین گوئیوں کے مطابق ٹھیک وقت پر تشریف لائے ہیں۔ وہ آ کر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے، جو بھی مسلمانوں کا امام اُس وقت ہو گا، اُ سی کے پیچھے نماز پڑھیں گےاور جو بھی اُس وقت مسلمانوں کا امیر ہو گا،اُسی کو آگے رکھیں گے، تاکہ اِس شبہ کی کوئی ادنیٰ سی گنجایش بھی نہ رہے کہ وہ اپنی سابق پیغمبرانہ حیثیت کی طرح اب پھر پیغمبری کے فرائض انجام دینے کے لیے واپس آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کسی جماعت میں اگر خدا کا پیغمبر موجود ہو تو نہ اُس کا کوئی امام دوسرا شخص ہو سکتا ہے اور نہ امیر۔ پس جب وہ مسلمانوں کی جماعت میں آ کر محض ایک فرد کی حیثیت سے شامل ہوں گے تو یہ گویا خود بخود اِس امر کا اعلان ہو گا کہ وہ پیغمبر کی حیثیت سے تشریف نہیں لائے ہیں، اور اِس بنا پر اُن کی آمدسے مہر ِنبوت کے ٹوٹنے کا قطعاً کوئی سوال پیدا نہ ہو گا۔

اُن کا آنا بلا تشبیہ اُسی نوعیت کا ہو گا،جیسے ایک صدرِ ریاست کے دور میں کوئی سابق صدر آئے اور وقت کے صدر کی ماتحتی میں مملکت کی کوئی خدمت انجام دے۔ …

اِسی طرح اُن کی آمد سے مسلمانوں کے اندر کفر و ایمان کا بھی کوئی نیا سوال پیدا نہ ہو گا۔ اُن کی سابقہ نبوت پر تو آج بھی اگر کوئی ایمان نہ لائے تو کافر ہو جائے۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم خود اُن کی اِس نبوت پر ایمان رکھتے تھے اور آپ کی ساری امت ابتدا سے اُن کی مومن ہے۔ یہی حیثیت اُس وقت بھی ہو گی۔ مسلمان کسی تازہ نبوت پر ایمان نہ لائیں گے، بلکہ عیسٰی ابن مریم علیہ السلام کی سابقہ نبوت ہی پر ایمان رکھیں گے، جس طرح آج رکھتے ہیں۔ یہ چیز نہ آج ختم نبوت کے خلاف ہے، نہ اُس وقت ہو گی۔‘‘ (4/163-164)

  1. یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ‘مُتَوَفِّیۡکَ’ میں ‘توفیٰ’ کا فعل عموماً وفات، یعنی موت کے مفہوم میں مستعمل ہے اور قرآنِ مجید میں بھی جا بہ جا اِس معنی میں استعمال ہوا ہے تو پھر علما کو اِس متداول مفہوم کے باوجود اِس کے دیگر معانی کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ہمارے خیال میں اِس کا سبب غالباً یہ ہے کہ اِس کے نتیجے میں قرآن و حدیث میں تعارض واقع ہوتا ہے۔ احادیث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور قربِ قیامت میں آپ کے آسمانی نزول کو بالصراحت بیان کرتی ہیں۔ اِس تناظر میں اگر ‘توفیٰ’ کا معنی فوت ہونا کیا جائے تو مذکورہ آیت اور احادیثِ نزول میں تناقض کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اب چونکہ مسلمہ یہ ہے کہ کلام الٰہی اور قولِ رسول میں منافات ممکن نہیں ہے، لہٰذا اِس تناقض کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔ اِس کی دو ہی ممکنہ صورتیں ہیں: ایک یہ کہ آیت کو وفات ہی کے معنی پر محمول کیا جائے اور حیاتِ مسیح اور نزولِ مسیح کی روایات کو اِس سے معارض قرار دے کریا رد کر دیا جائے یا اُن کی ایسی توجیہ کی جائے، جو وفات کے معنی سے متجاوز نہ ہو۔ دوسری یہ کہ آیت کو روایت کی روشنی میں سمجھا جائےاور ‘توفیٰ’ کی ایسی تاویل کی جائے، جو حیات کے معنی کی گنجایش پیدا کر دے۔ علما و مفسرین کی اکثریت نے دوسری صورت اختیار کی۔ تاہم، اُن کی ایک قلیل تعداد نے پہلی صورت کو ترجیح دینا مناسب سمجھا۔اِس بنا پر بادی النظر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ علما کے اکثریتی گروہ نے احادیث کے بیان کو اصل مانتے ہوئے مذکورہ آیت کی تاویل کی یا بہ الفاظِ دیگر قرآن کو حدیث کی روشنی میں دیکھا۔ اِس صورت میں آلِ عمران کی یہ آیت نہ صرف احادیثِ نزول کی موکد اور مصدق قرار پائی، بلکہ منفرد طور پر حیات اور نزول کے مقدمات کے لیے دلیل بھی بن گئی۔ اِس کے برعکس، اقلیتی گروہ نے آیت کو اصل قرار دیتے ہوئے احادیث کا مطالعہ کیا اور اُنھیں قرآن کے خلاف سمجھا یا دوسرے الفاظ میں اُنھوں نے حدیث کو قرآن کی روشنی میں دیکھا اور معارض جان کر اُن کی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کو قبول کرنے سے انکار کیا۔
  2. احاطہ اِس پہلو سے کہ اِن میں علماے سلف کی مجموعی آرا کی عکاسی ہے اور آسان اِس پہلو سے کہ اِنھیں عام فہم اسلوب میں بیان کیا گیا ہے ۔
  3. یہ علامہ کی عربی تصنیف ” عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام ”کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ مولانا ابوطلحہ محمد صغیر پرتاپ گڑھی نے کیا ہے۔
  4. یہ زبور کی ایک آیت ہے۔ اِس کا مفہوم ہے: ”اے میرے خدا، اے میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟” (زبور 22: 1)۔ انجیل کے مطابق جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا تو اُس حالت میں اُنھوں نے پکار پکار کر یہ الفاظ دہرائےتھے (متی27 :46) ۔
  5. ترجمہ از ”تفہیم القرآن”۔
  6. اِس دلیل کو ایک مثال سے سمجھ لیجیے: ملک کا حکمران اگر یہ اعلان کرے کہ میں فلاں محسن قوم کے خلاف جلا وطنی کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا، اُس کے دشمن نہ اُسے اغوا کر سکیں گے اور نہ ملک سے نکال سکیں گے۔ اِس کے بعد اگلے ہی جملے میں اگر وہ یہ کہے کہ اِس محسن کو میں خود باہر نکال دوں گا تو اِس باہر نکالنے کا معنی دشمنوں کے نرغے سے باہر نکالنا تو ہو سکتا ہے، ملک سے باہر نکالنا نہیں ہو سکتا، کیونکہ ملک سے باہر نکالنے کا معنی لینے کی صورت میں سازش عملاً کامیاب ہو جائے گی۔ یعنی حکمران وہی کام کر دے گا، جو دشمن کا مقصود تھا۔
  7. مطلب یہ ہے کہ نزول اُسی صورت میں ممکن ہے، جب رفع ہو چکا ہو۔ اِسی طرح وفات اُسی صورت میں ہو سکتی ہے، جب حیات برقرار ہو۔
  8. ترجمہ از”تفہیم القرآن”۔
  9. یہ مولانا ادریس کاندھلوی کی تفسیر ”معارف القرآن” کا اقتباس ہے۔ پانچویں جلد کی تکمیل کے بعد وہ وفات پا گئے تھے۔ لہٰذا باقی اجزا اُن کے بیٹے مولانا مالک کاندھلوی نے مکمل کیے۔
  10. سلطنت عثمانیہ کے آخری دور کے معروف عالم اور مصنف (1879ء-1952ء) ۔
  11. یہ امام ابو جعفر طحاوی کی تصنیف ہے۔
  12. فلسطین کے علاقے سفارین سے تعلق رکھنے والے عالم اور مصنف (1701 ء -1774ء) ۔
  13. الاحزاب 33: 40۔
  14. ترمذی، رقم 2219۔
  15. سعد الدین تفتازانی، 722 ھ- 792ھ۔
  16. سید محمود بن عبداللہ آلوسی بغدادی، 1217ھ – 1270ھ۔