انسانوں کی فلاح، بلاشبہ قرآنِ مجید پر ایمان اور اُس کی تعلیمات پر عمل ہی سے ممکن ہے، لیکن اِس حقیقت سے نا آشنا بعض لوگ اپنے کسی تعصب میں مبتلا ہو کر یا محض جدت پسندی کی رو میں قرآنِ مجید کو اتنی اہمیت دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے، جتنی اہمیت وہ کسی عام کتاب کو دیتے ہیں۔ جب اُنھیں اِس کتاب کے مطالعے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب چودہ سو سال پہلے کے لوگوں کے لیے، ممکن ہے مفید ہو، لیکن تہذیب و تمدن کے ارتقا نے جو حالات اور مسائل پیدا کیے ہیں، اُن کا حل تو بہرحال نئے علوم و فنون اور جدید فلسفہ و فکر میں پنہاں ہے۔ چنانچہ اُن کے نزدیک قرآن کی فکرِ قدیم کو پڑھنا محض وقت کا زیاں ہے۔
اُن لوگوں کے اِس نقطۂ نظر سے توہم بحث نہیں کرتے، البتہ اتنا ضرور کہتے ہیں کہ اِس کتاب کے بارے میں بعض ایسے مشہود حقائق ہیں، جن سے صرفِ نظر کسی عاقل اور سلیم الفطرت شخص کے لیے ممکن نہیں۔
کلام الٰہی
ایک حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی کم و بیش ایک چوتھائی آبادی اِس کتاب کے متعلق یہ دعویٰ کرتی ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے، جو اللہ کے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے اور اُسی کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق اِس کلام کو کتاب کی شکل میں منظم کیا گیا۔ یہ عظیم اکثریت دعویٰ کرتی ہے کہ گذشتہ چودہ صدیوں سے یہ کتاب اِس دنیا میں موجود ہے۔ اِس پورے عرصے میں اِس کے الفاظ میں، اِس کے جملوں میں، اِس کے مضامین میں اور اِس کی ترتیب میں کوئی معمولی تغیر بھی واقع نہیں ہوا۔
مقبولیت
قرآن مجید کے بارے میں دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ لاکھوں لوگوں کے حافظوں میں اِس کا ایک ایک لفظ محفوظ ہے۔ مسلمانوں کا کوئی گھر ایسا نہیں ہو گا، جس میں یہ کتاب موجود نہ ہو۔ اِس کے علاوہ دنیا کی تمام اہم زبانوں میں اِس کے تراجم ہو چکے ہیں۔ کروڑوں مسلمان جن کی قومیں مختلف ہیں، جن کی نسلیں جدا ہیں، جن کے خطے الگ الگ ہیں، جن کی زبانیں ایک نہیں، وہ سب یکساں طور پر قرآنِ مجید پر اللہ کی کتاب کی حیثیت سے ایمان رکھتے ہیں۔ یہ مقام دنیا میں کسی دوسری کتاب کو حاصل نہیں۔
انقلاب آفرین
اِس کے بارے میں تیسری حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب خطۂ عرب میں ایک ایسا انقلاب برپا کر چکی ہے، جس کی نظیر معلوم تاریخ میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ ہر شخص مانتا ہے کہ اِس کتاب نے عربوں کو اِس طرح تبدیل کر دیا کہ وہ جو رہزن تھے، رہنما ہو گئے، جنگ و فساد جن کا روزمرہ تھا، وہ امن و صلح کے علم بردار بن گئے۔ وہ لوگ جو مٹی اور پتھر کے بتوں کی عبادت کرنے والے تھے، بت شکن کہلائے۔اخلاقی قباحتوں میں مبتلا لوگ نمونۂ اخلاق قرار پائے۔ یہی وہ ذہنی و فکری انقلاب تھا، جس نے عربوں کو صدیوں تک دنیا کی امامت کے منصب پر فائز رکھا۔
انسانی فلاح کا ذریعہ
اِس کتاب کے بارے میں چوتھی حقیقت یہ ہے کہ اِس کتاب کے ماننے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کتاب انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں فلاح کا اصل ذریعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فرد کی روحانی و مادی ضروریات، خاندان کے ساتھ اُس کے تعلقات، اور سیاست، معیشت اور معاشرت کے حوالے سے انسانوں کی اجتماعی احتیاجات کا احاطہ جس طرح قرآن مجید کرتا ہے، انسانی عقل اُس کے سامنے عجز ہی کے اعتراف پر مجبور ہے۔
قرآنِ مجید کے بارے میں یہ وہ نمایاں حقائق ہیں، جن کا انکار کوئی شخص بھی نہیں کر سکتا۔ کیا یہ حقائق اِس بات کے لیے کافی نہیں کہ ایک بار غیر جانب دار ہو کر پورے شعور کے ساتھ اِس کتاب کا مطالعہ کیا جائے؟