انتقل إلى المحتوى

الفصل 28: دل کی میزان

صحابی رسول وابصہ بن معبد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے نیک روی اور گناہ گاری (برواثم) کے بارے میں دریافت کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: اے وابصہ، کیا تم نیک روی اور گناہ گاری کی حقیقت پوچھنے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہاں، یا رسول اللہ۔ آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: اپنے نفس سے پوچھو، اپنے دل سے سوال کرو، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ پھر آپ نے وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ نیک روی (بر) وہ ہے، جس پر تمھارا نفس مطمئن ہو، تمھارا دل اطمینان محسوس کرے۔ اور گناہ گاری (اثم) وہ ہے، جس پر تمھارے نفس میں خلش ہو اور تمھیں اپنے سینے میں الجھن محسوس ہو، اگرچہ لوگوں نے اُس کے جواز کا فتویٰ ہی دے دیا ہو۔ (احمد، رقم 17315)

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایک میزان رکھ دی ہے۔ یہ میزان اُس کا اپنا ضمیر ہے، اُس کا اپنا دل ہے، اُس کا اپنا نفس ہے۔ یہ میزان اتنی سچی ہے کہ اِس کے فتوے کے بعد باہر سے کوئی فتویٰ حاصل کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ جو شخص اپنے قول و عمل اِس ترازو میں تولتا رہتا ہے، اُس کے لیے نیکی اور گناہ میں تمیز کرنا کچھ مشکل نہیں ہوتا اور حق تو یہ ہے کہ جتنا کوئی شخص اِس میزان سے کام لیتا ہے، گناہ اتنا ہی اُس سے دور ہوتا چلا جاتا ہے، اور جتنا اُس سے صرفِ نظر کرتا ہے، اتنا ہی گناہ اُس کے قریب چلا آتا ہے۔

گناہ کس سے نہیں ہوتے، لیکن اگر کوئی اپنے گناہ پر نادم ہوتا ہے، اپنے جرم پر شرمندہ ہوتا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کی میزان درست ہے، اُس نے اپنے ضمیر کی عدالت کا دروازہ بند نہیں کیا، اپنے سازِ دل کی آوازکو منقطع نہیں ہونے دیا اور اپنے چراغِ نفس کی لو کو بجھنے نہیں دیا۔ یہی وہ شخص ہے، نیکیاں جس کی تلاش میں ہمیشہ سرگرداں رہتی ہیں۔ ایسے شخص سے گناہ سرزد تو ہو جاتے ہیں، لیکن اپنے گناہوں پر وہ کبھی سرکش نہیں ہوتا، اپنی غلطیوں پر کبھی اکڑتا نہیں اور اپنی کوتاہیوں پر کبھی فخر نہیں کرتا۔

گناہ ہم سے قدم قدم پر سرزد ہوتے رہتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی عمل کرنے سے پہلے اور کوئی بات کہنے سے پہلے کبھی ہم نے اپنے دل سے اُس کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں سوال کیا ہے؟ اگر اِس کا جواب اثبات میں ہے تو قابلِ اطمینان ہے اور اگر نفی میں ہے تو لائق تشویش ہے۔

[مارچ 1994ء]