Skip to content

Chapter 1: باب اول

حج وعمرہ ـــــــــ بنیادی مقدمات

1۔ حج وعمرہ کی تاریخ

سوال: حج وعمرہ کی عبادات کا آغاز کب ہوا تھا؟دین اسلام میں حج وعمرہ کی تاریخ کیا ہے؟

جواب: حج عمرہ کی تاریخ کا آغاز سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اُس منادی سے ہوتا ہے، جس کا ذکر قرآن مجید میں ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالۡحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ لِّیَشۡہَدُوۡا مَنَافِعَ لَہُمۡ وَ یَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ فِیۡۤ اَیَّامٍ مَّعۡلُوۡمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ ۚ فَکُلُوۡا مِنۡہَا وَ اَطۡعِمُوا الۡبَآئِسَ الۡفَقِیۡرَ ثُمَّ لۡیَقۡضُوۡا تَفَثَہُمۡ وَ لۡیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمۡ وَ لۡیَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ. (الحج 22: 27 – 29)

’’ اور حکم دیا تھا کہ لوگوں میں حج کی منادی کرو، وہ تمھارے پاس پیدل بھی آئیں گے اور ہر طرح کی اونٹنیوں پر سوار ہو کر بھی کہ (سفر کی وجہ سے) دبلی ہو گئی ہوں گی۔ وہ (قافلوں کی آمدورفت سے) گہرے ہو چکے ہر دور دراز پہاڑی راستے سے آئیں گی۔ اِس لیے آئیں گے کہ اپنی منفعت کی جگہوں پر حاضر ہوں اور چند متعین دنوں میں اُن مواشی جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے اُنھیں بخشے ہیں۔ (تم اُن کو ذبح کرو) تو اُن سے خود بھی کھاؤ اور برے حال فقیروں کو بھی کھلاؤ۔ پھر چاہیے کہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں، اپنی نذریں پوری کریں اور اِس قدیم گھر کا طواف کریں۔‘‘

حج وعمرہ کی تاریخ کواستاذ جاوید احمد غامدی نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ میں نہایت عمدگی سے اِس طرح بیان کیا ہے:

’’یہ صدا ہے جو صدیوں پہلے بلند ہوئی اور جس کے جواب میں ’لبيك لبيك‘ کہتے ہوئے ہم ام القریٰ مکہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنائی ہوئی اُس مسجد کے لیے عزم سفر کرتے ہیں جسے’بیت الحرام ‘کہا جاتا ہے۔یہ وہی بیت عتیق ہے جوامام فراہی کے الفاظ میں اِس وادی بطحا میں خدا کا پہلا گھر تھا اورجس کے حق میں ازل سے طے کردیا گیا تھا کہ توحید سے انحراف کرنے والوں کو دور پھینکتا رہے۔ چنانچہ اِس کے باشندوں نے جب بت پرستی اختیار کرلی اوراِس کے جوارسے منتشر ہوئے تو پرستش کی غرض سے اِس معبد کے پتھر بھی ساتھ لیتے گئے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بابل سے ہجرت کے بعد اِس کو تلاش کرتے ہوئے یہاں پہنچے تو اِس کی پرانی تعمیر کا صرف ایک چمکتا ہوا پتھر باقی رہ گیا تھا۔حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُنھیں حکم دیا کہ اِس معبد کو دوبارہ تعمیر کریں۔ چنانچہ باپ بیٹے، دونوں نے مل کر اِسی یادگار پتھر کے نیچے زمین کھودنا شروع کی۔ پرانی بنیادیں کچھ تگ ودو کے بعد نکل آئیں تو اُنھیں بلند کیا اوراِس پتھر کو عمارت کے ایک گوشے میں نصب کردیا۔ حضرت اسمٰعیل اِسی گھر کی نذر کیے گئے تھے، لہٰذا وہ اِس کے خادم مقرر ہوئے اور اللہ کے حکم سے یہ صدا بلند کردی گئی کہ لوگ اب خداوند کی نذر چڑھانے کے لیے آئیں اوریہاں آ کر توحید پرایمان کا جو عہد اُنھوں نے باندھ رکھا ہے، اُسے تازہ کریں۔ اصطلاح میں اِس عمل کا نام ’حج‘ و’ عمرہ‘ ہے۔‘‘ (میزان 373)

غامدی صاحب مزید لکھتے ہیں:

’’سیدنا ابراہیم کے بعد حج وعمرہ کی اِن عبادات پر عمل کا یہ سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بھی عرب کے لوگ ہر جگہ سے گروہ در گروہ حج و عمرہ کے لیے آتے تھے اور آپ کی بعثت کے بعد بھی یہ سلسلہ اِسی طرح جاری رہا۔ قرآن نے ایک جگہ اِسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے :’وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا‘1، ’’ اور جو لوگ وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں، اُن پراللہ کے لیے اِس گھر کا حج ہمیشہ فرض رہا ہے ‘‘۔

اِس میں شبہ نہیں کہ اِس کے مناسک اور رسوم و آداب میں بعض بدعتیں اِن لوگوں نے داخل کردی تھیں، لیکن روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اِنھی میں سے بعض لوگ اِن بدعتوں پرپوری طرح متنبہ بھی تھے اور اپنا حج ابراہیمی طریقے کے مطابق ہی کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں منقول ہے کہ بعثت سے پہلے جبیر بن مطعم نے آپ کو عرفات میں دیکھا تو اُسے حیرت ہوئی کہ قریش کے لوگ تو مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے اور بنی ہاشم کا یہ فرزند وقوف عرفہ کے لیے یہاں حاضر ہے۔ اُس کا بیان ہے:’أضللت بعیرًا لي، فذھبت أطلبہ یوم عرفۃ، فرأیت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم واقفًا بعرفۃ، فقلت: ھٰذا، واللّٰہ، من الحمس، فما شأنہ ھاھنا؟‘2، ’’میرا اونٹ کھو گیا۔ عرفہ کے دن میں اُسے تلاش کرتا ہوا گیا تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں کھڑے ہیں۔ میں نے خیال کیا: بخدا، یہ تو قریش میں سے ہیں، پھر یہ یہاں کیا کررہے ہیں؟‘‘۔

اِس سے واضح ہے کہ قرآن نے جب حج کا حکم دیا تو اُس کے مخاطبین کے لیے یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ وہ دین میں اِس کی اہمیت اور اِس کے رسوم وآداب سے پوری طرح واقف تھے اور ہر سال نہایت اہتمام کے ساتھ اِس کے لیے حاضر ہوتے اور اِس کے مناسک ادا کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن نے اِس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ اِن کی بدعتوں اور انحرافات کو ختم کرکے حج و عمرہ، دونوں کو اُن کے اصل ابراہیمی طریقے پربحال کردیا۔ یہ اِس عظیم عبادت کی تاریخ کا آخری باب ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے رقم ہوا ہے۔ اِس کے بعد اب اِس کے تمام مناسک مسلمانوں کے اجماع اور تواتر عملی سے نسلاً بعد نسلٍ منتقل ہورہے ہیں، اِن میں کسی نوعیت کا کوئی ترمیم وتغیر یا اضافہ نہیں ہوا۔‘‘ 3

2۔ حج وعمرہ کی اہمیت وفضیلت

سوال: دین میں عبادتِ حج کی اہمیت وفضیلت کیا ہے؟

جواب: دین اسلام میں حج ایک غیر معمولی اہمیت کی حامل عبادت ہے ۔اِس کی اہمیت کا اندازہ اِس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاریٰ کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اِس سے بے پروائی کا نتیجہ کفر ہے اور وہ اگر اپنے اس رویے پراصرار کریں گے تو پھر اللہ کو بھی اُن کی کو ئی پروا نہ رہے گی۔ ارشاد فرمایا ہے : ’ وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ‘4،’’اور جو لوگ وہا ں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں، اُن پراللہ کے لیے اِس گھر کا حج ہے ، اور جو اِس کے بعد بھی انکار کریں، اللہ کو اُن کی کچھ پروا نہیں، اِس لیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے ‘‘۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:’بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ‘5،’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: ( اِس حقیقت کی ) گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا ، بیت اللہ کا حج کرنااور رمضان کے روزے رکھنا‘‘ ۔

بعض روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان اور جہاد کے بعدحج بیت اللہ ہی کی فضیلت بیان کی ہے۔6 آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ کے لیے اُس کے گھر کا حج کرے ، پھر اِس عبادت کی ادائیگی کے دواران میں وہ شہوت یا نافرمانی کی کوئی بات نہ کرے تو وہ حج سے گویا اِس طرح لوٹتا ہے ، جس طرح اُس کی ماں نے اُسے آج جنا ہے۔7 اِسی طرح آپ کا ارشاد ہے :ایک عمرے کے بعد دوسراعمرہ اِن کے درمیان میں ہونے والی لغزشوں اور گناہوں کے لیے کفارہ ہے اور سچے حج کا بدلہ صرف جنت ہی ہے۔ 8

غامدی صاحب لکھتے ہیں:

”’ اسلام‘ کا لفظ جس طرح پورے دین کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اُسی طرح بندۂ مومن کے وجود میں دین کے ظاہر کو بھی بعض اوقات اِسی لفظِ ’اسلام‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اپنے اِس ظاہر کے لحاظ سے یہ اُن پانچ چیزوں سے عبارت ہے جن کی تاکید قرآنِ مجید نے بھی جگہ جگہ فرمائی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں یہ ایک ہی جگہ اِس طرح بیان ہوئے ہیں : ’ الاسلام ان تشهد ان لا إله إلا اللّٰه و ان محمدا رسول اللّٰه، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاۃ، وتصوم رمضان، وتحج البيت ‘9،’’اسلام یہ ہے کہ تم اِس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اُس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرواور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت الحرام کا حج کرو‘‘۔“10

قرآن وحدیث کے مندرجہ بالا نصوص سے نہ صرف یہ کہ حج وعمرہ کی اہمیت وفضیلت واضح ہوتی ہے، بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حج کی عبادت دین کے اُن بنیادی اعمال میں سے ایک ہے ، جن سے ایک بندۂ مومن کا دین اُس کے خارج میں ظہور پذیرہوتا ہے ۔عمرہ ، اعتکاف اور قربانی کی عبادات کا ذکر اِس سیاق میں محض اِس و جہ سے نہیں ہوا ہے کہ حکم کے اعتبار سے وہ مسلمانوں پر لازم نہیں کی گئی ہیں ، تاہم حقیقت کے لحاظ سے اُن کی حیثیت بھی ’اسلام‘ ہی کی ہے ۔

3۔حج وعمرہ کا مقصد

سوال: حج وعمرہ کا مقصد کیا ہے؟

جواب: حج وعمرہ کا مقصد یہ ہے کہ اِن عبادات کے ذریعے سے ہم اِس بات کی یاد دہانی حاصل کریں کہ اسلام قبول کرکے ہم اپنے آپ کو اپنے خداوند کی نذر کر چکے ہیں۔ اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر اللہ کی توحید کا اقرار کریں، اُس کی شکر گزاری کا اعلان کریں، اُس کی نعمتوں کا اعتراف کریں اور اُس کے حضور میں اپنی کامل بندگی کا اظہار کریں۔

حج وعمرہ کا یہ مقصد تلبیہ کے اُن الفاظ میں بڑی خوبی سے واضح ہوتا ہے جو اِن دونوں عبادتوں میں ایک متعین ذکر کے لیے مشروع کیے گئے ہیں۔ اِن الفاظ پر تدبر کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اِسی مقصد کو نمایاں کرنے اور اچھی طرح ذہن نشین کرانے کے لیے شریعت نے اِنھیں منتخب کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احرام باندھ لینے کے بعد یہی الفاظ ہیں، جو ہرعازمِ بیت اللہ کی زبان پر مسلسل جاری رہتے ہیں:

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ.

’’میں حاضر ہوں، اے اللہ، حاضر ہوں؛ حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں؛ میں حاضر ہوں، حمد تیرے لیے ہے، سب نعمتیں تیری ہیں اور بادشاہی بھی تیرے ہی لیے ہے؛ تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘

4۔حج کے دوران میں مطلوب رویہ

سوال: حج وعمرہ کے دوران میں اللہ تعالیٰ کو عازمین بیت اللہ سے کیسا رویہ مطلوب ہے؟

جواب: اِس مبارک سفر میں خدا کا یہ مطلوب رویہ کیا ہے، قرآن مجید کی روشنی میں اِس کا جواب قارئین استاذ جاوید احمد غامدی کی کتاب ”میزان“ کے درجِ ذیل اقتباس میں دیکھ سکتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:

’’ زمانۂ جاہلیت میں حج نے عبادت سے زیادہ ایک نیم مذہبی میلے کی صورت اختیار کر لی تھی۔چنانچہ لوگ اِس کے لیے ہر طرح کا اہتمام کرتے، لیکن اِس بات کو بہت کم اہمیت دیتے تھے کہ اِس سفرمیں اصل زادِراہ، تقویٰ کا زادِراہ ہے ،اور وہ حج کے لیے نکلے ہیں تو اُنھیں اب کوئی شہوت ، نافرمانی یا لڑ ائی جھگڑ ے کی بات نہیں کرنی چاہیے ۔یہ اِس عظیم عبادت کی روح کے منافی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اِس طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ اِس سفر کے لیے آدمی کوسب سے زیادہ اِسی تقویٰ کے زادِراہ کا اہتمام کرنا چاہیے :’اَلۡحَجُّ اَشۡہُرٌ مَّعۡلُوۡمٰتٌ ۚ فَمَنۡ فَرَضَ فِیۡہِنَّ الۡحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوۡقَ ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الۡحَجِّ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ یَّعۡلَمۡہُ اللّٰہُ ؕ وَ تَزَوَّدُوۡا فَاِنَّ خَیۡرَ الزَّادِ التَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوۡنِ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ ‘11،’’حج کے متعین مہینے ہیں۔ سو اِن میں جو شخص بھی (احرام باندھ کر)حج کا ارادہ کر لے ، اُسے پھر حج کے اِس زمانے میں نہ کوئی شہوت کی بات کرنی ہے، نہ خدا کی نافرمانی کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی کوئی بات اُس سے سرزد ہونی چاہیے۔ اور (یاد رہے کہ) جو نیکی بھی تم کرو گے ، اللہ اُسے جانتا ہے۔ اور (حج کے اِس سفر میں تقویٰ کا) زاد راہ لے کر نکلو، اِ س لیے کہ بہترین زاد راہ یہی تقویٰ کا زاد راہ ہے ۔ اور اِس کے لیے، عقل والو، مجھ سے ڈرتے رہو۔‘‘12

5۔حج کا حکم

سوال: دین اسلام میں حج کا حکم کیا ہے؟ کیا اِسے ادا کرنا ہر مسلمان پر لازم کیا گیا ہے؟

جواب: بیت الحرام کا حج دین اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ سے ایک دینی فر یضہ رہا ہے۔ سورۂ حج میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’ وَ اِذۡ بَوَّاۡنَا لِاِبۡرٰہِیۡمَ مَکَانَ الۡبَیۡتِ اَنۡ لَّا تُشۡرِکۡ بِیۡ شَیۡئًا وَّ طَہِّرۡ بَیۡتِیَ لِلطَّآئِفِیۡنَ وَ الۡقَآئِمِیۡنَ وَ الرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالۡحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ ‘13،’’اِنھیں یاد دلاؤ، جب ہم نے ابراہیم کے لیے اِس گھر کی جگہ کو ٹھکانا بنایا تھا، اِس ہدایت کے ساتھ کہ کسی چیز کو میرا شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا۔ اور حکم دیا تھا کہ لوگوں میں حج کی منادی کرو، وہ تمھارے پاس پیدل بھی آئیں گے اور ہر طرح کی اونٹنیوں پر سوار ہو کر بھی کہ (سفر کی وجہ سے) دبلی ہو گئی ہوں گی۔ وہ (قافلوں کی آمدورفت سے) گہرے ہو چکے ہر دور دراز پہاڑی راستے سے آئیں گی‘‘۔

سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا‘14، ’’اور جو لوگ وہا ں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں، اُن پراللہ کے لیے اِس گھر کا حج ہے ‘‘۔

اِس عظیم عبادت کوہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر عمر بھر میں ایک مرتبہ ادا کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فر ما یا : لوگو،تم پر حج فرض کیا گیا ہے، لہٰذا حج کرو ۔ ایک شخص نے عرض کیا : کیا ہر سال، اے اللہ کے رسول ؟اِس پر آپ خاموش رہے، یہاں تک کہ اُس نے یہ سوال تین مرتبہ دہرایا۔ پھر آپ نے فرمایا:” اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ ہر سال لازم ہوجاتا اور تم اِس کی استطاعت نہ رکھتے۔ “15

سیدنا عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا:یا رسول اللہ، کیا حج ہر سال ادا کرنا لازم ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یہ بس ایک ہی مرتبہ فرض ہے،لیکن جو شخص مزید حج کا اہتمام کرے تو یہ تطوع ہے۔16

6۔عمرہ کا حکم

سوال: شریعت میں عمرہ کا کیا حکم ہے؟

جواب: عمرہ کی حیثیت ایک تطوع عبادت کی ہے ۔جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے، یہ حج کا اجمال ہے، چنانچہ اِسی بنا پر عمرہ کو ’حج اصغر‘ بھی کہا جاتا ہے۔اِسے مسلمانوں پر لازم نہیں کیا گیا ہے ۔اِس کا درجۂ حکم اسلامی شریعت میں ایسے ہی ہے، جیسے اعتکاف کی عبادت کا ہے۔لہٰذا جو صاحبِ استطاعت مسلمان اپنے شوق سے عمرہ کرتا ہے تو بلا شبہ، یہ اُس کے لیے بہت ہی باعثِ اجر وفضیلت عبادت ہے۔

سوال: استطاعت سے کیا مراد ہے؟

جواب: استطاعت سے مراد یہ ہے کہ حج کرنے والے کی مالی وسفری استطاعت اور جسمانی استعداد بھی ہو اور یہ کہ سفر کر کے اُس کے لیے بیت اللہ الحرام پہنچنے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو۔

7۔حج وعمرہ کے ایام

سوال: کیا اسلامی شریعت میں حج وعمرہ کے کوئی ایام مقرر ہیں؟

جواب: عمرہ کی تطوع عبادت کے لیے اسلامی شریعت میں کوئی وقت مقرر نہیں ہے ۔ یہ پورے سال میں جب چاہے ، کی جاسکتی ہے ۔ حج کے لیے ، البتہ ہمیشہ سے 8 / ذوالحجہ سے 13/ ذوالحجہ تک کے ایام مقررہیں، اِسی لیے یہ ہر سال صرف اِنھی ایام میں ادا ہوتا ہے۔

8۔حج وعمرہ کے مقامات: شعائر ومشاعر

سوال: حج وعمرہ کے مقامات اور دین میں اُن کی حیثیت کیا ہے؟

جواب: مقاماتِ حج وعمرہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے ’شعائر‘ قرار دیا ہے ۔ چنانچہ فرمایا ہے:’اِنَّ الصَّفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَیۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ وَ مَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ ‘17،’’بلا شبہ صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں ۔ چنانچہ وہ لوگ جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرنے کے لیے آئیں ، اُن پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اِن دونوں کا طواف بھی کر لیں، (بلکہ یہ ایک نیکی کا کام ہے) اور جس نے اپنے شوق سے نیکی کا کوئی کام کیا تو اللہ اُسے قبول کرنے والا ہے ، اُس سے پوری طرح باخبر ہے‘‘۔

آیت میں ’شَعَآئِر‘ کےاِس لفظ کی وضاحت میں استاذ جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں:

’’یہ ’شَعِیرۃ‘ کی جمع ہے، جس کے معنی علامت کے ہیں۔ اصطلاح میں اِس سے مراد وہ مظاہر ہیں جو کسی حقیقت کا شعور ذہنوں میں قائم رکھنے کے لیے اللہ ورسول کی طرف سے بہ طور ایک نشان کے مقرر کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ اِن کی تعظیم کی جائے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے‘‘۔(میزان 385)

سوال: اِن شعائرکی حقیقت کیا ہے؟ اِن کے حوالے سے ہم مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہیے اور یہ کہ اِن کی تعظیم کا کیا مطلب اور حدود ہیں؟

جواب: اِس سوال کے مشمولات کے حوالے سے امام امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر”تدبرِ قرآن “میں نہایت عمدہ بحث کی ہے۔ امام اصلاحی لکھتے ہیں:

’’ اِن شعائر سے متعلق چند اصولی باتیں یاد رکھنی چاہییں:

ایک یہ کہ یہ شعائر، اللہ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ ہیں۔ کسی دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے طور پر کسی چیز کو دین کے شعائر میں سے قرار دے دے یا جو چیز شعائر میں داخل ہے اس کو شعائر کی فہرست سے خارج کر دے۔ دین میں اس قسم کے من مانے تصرفات سے شرک وبدعت کی راہیں کھلتی ہیں جن قوموں نے اپنے جی سے شعائر قرار دیے، تاریخ گواہ ہے کہ انھوں نے اس طرح شرک و بت پرستی کی راہیں کھول دیں ۔

دوسری یہ کہ جس طرح شعائر اللہ کے مقرر کردہ ہیں اسی طرح اسلام میں ان شعائر کی تعظیم کے حدود بھی خدا اور رسول ہی کے مقرر کردہ ہیں۔ جس شعیرہ کی تعظیم کی جو شکل شریعت میں ٹھہرا دی گئی ہے وہی اس حقیقت کے اظہار کی واحد شکل ہے جو اس شعیرہ کے اندر مضمر ہے، اس سے سرمو انحراف نہ صرف اس شعیرہ کی حقیقت سے انسان کو محروم کر دینے والی بات ہے بلکہ اس سے شرک و بدعت کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ حجر اسود ایک شعیرہ ہے۔ اس کی تعظیم کے لیے اس کو حالت طواف میں بوسہ دینے یا اس کو ہاتھ لگا کر ہاتھ کو چوم لینے یا اس کی طرف اشارہ کرنے کی شکلیں خود دین کے لانے والے کی طرف سے مقرر کر دی گئی ہیں۔ اگر کوئی شخص تعظیم کی صرف انھی شکلوں پر قناعت نہ کرے، بلکہ تعظیم شعائر اللہ کے جوش میں وہ اس پتھر کے آگے گھٹنے ٹیکنے لگے یا اس کے سامنے نذریں پیش کرنے لگے یا اس پر پھول نثار کرنے لگے یا اس طرح کی کوئی اور حرکت کرنے لگے تو ان باتوں سے وہ نہ صرف یہ کہ اس حقیقت سے بالکل دور ہو جائے گا جو اس شعیرہ کے اندر مضمر ہے بلکہ وہ شرک و بدعت میں بھی مبتلا ہو جائے گا۔

تیسری یہ کہ اِن شعائر میں اصل مطمح نظر وہ حقیقتیں ہوا کرتی ہیں جو ان کے اندر مضمر ہوتی ہیں۔ اِن حقیقتوں کے اظہار کے لیے یہ شعائر گویا قالب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے ملت کی زندگی کے لیے سب سے زیادہ ضروری کام یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں یہ حقیقتیں برابر زندہ اور تازہ رکھی جائیں۔ اگر یہ اہتمام سرد پڑ جائے تو دین کی اصل روح نکل جاتی ہے، صرف قالب باقی رہ جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ لوگوں کی اصل توجہ صرف قوالب پر مرکوز ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دین صرف ایک مجموعۂ رسوم بن کر رہ جاتا ہے۔‘‘18

شعائر کے علاوہ حج وعمرہ کے اِن مقدس مقامات میں سے بعض کے لیے قرآن نے ’الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ‘ کے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں، جیسا کہ میدانِ مزدلفہ کے لیے ارشاد فرمایا: ’فَاِذَاۤ اَفَضۡتُمۡ مِّنۡ عَرَفٰتٍ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ عِنۡدَ الۡمَشۡعَرِ الۡحَرَامِ ‘،19’’لیکن جب عرفات سے چلو تو مشعر حرام کے پاس اللہ کو یاد کرو‘‘۔چنانچہ اِسی بنا پر حج وعمرہ کے اِن مقامات کو ’مشاعر ‘ بھی کہا جاتا ہے۔20

حج وعمرہ کی میقاتیں

سوال: حج وعمرہ کے اِن شعائر اللہ اور مشاعرِ مقدسہ کا مکمل تعارف کیسے حاصل کیا جائے؟

جواب: اِن سب کا تعارف اور محل وقوع کی تفصیل درج ذیل ہے :

حج و عمرہ کی غرض سے بیت الحرام جانے والوں کے لیے حدودِ حرمِ مکی سے کچھ فاصلے پر چند مقامات متعین کر دیے گئے ہیں، جن سے آگے بڑھنے کے لیے احرام باندھنا شریعت میں ضروری قرار دیا گیا ہے۔

عازمین حج وعمرہ پر لازم ہے کہ وہ اِن مقامات پر یا اپنے راستے میں اِنھی کے محاذات میں کسی دوسرے مقام پر پہنچ کر اپنا احرام باندھ لیں۔دین کی اصطلاح میں اِن مقامات کو ’میقات‘ کہا جاتا ہے۔ یہ میقاتیں پانچ ہیں، جن کا تعارف درج ذیل ہے:

1۔ ذُو الحُلَيْفَة: یہ مدینہ منورہ سے آنے والوں کی میقات ہے ۔مدینہ سے اِس کا فاصلہ چھ سے سات میل کا ہے ۔ آج کل اِس جگہ کو ’اَبْیَارعَلِی‘بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مکہ مکرمہ سے شمالی جانب تقریبًا 450 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔

2۔الجُحْفة: یہ مصر وشام سے آنے والوں کے لیے ہے ۔رابغ شہر کے قریب میں واقع ہونے کی بنا پر لوگ آج کل رابغ سے احرام باندھتے ہیں۔ مکہ مکرمہ سے یہ میقات تقریباً 183 کلو میٹر کے فاصلے پر شمال مغرب میں واقع ہے۔

3۔يَلَمْلَم: یہ یمن سے آنے والے حجاج ومعتمرین کی میقات ہے۔ یہ ایک وادی ہے، جو مکہ مکرمہ سے جنوب میں تقریباً 120کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ آج کل اِس مقام کو ’السَّعْدِیَہ‘کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ بحری سفر کرنے والے پاکستانی حجاج کا گزر اِسی میقات کے قریب سے ہوتا ہے۔

4۔قَرْنُ المنازل: یہ نجد سے آنے والوں اور اہل طائف کی میقات ہے۔ یہ ایک پہاڑ ہے، جو مکہ مکرمہ سے تقریباً 75کلو میٹر دور مشرقی جانب واقع ہے ۔اِس مقام کو آج کل ’السَیْلُ الْکَبِیْر‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پاکستانی حجاج ہوائی سفر کرتے ہوئے اِسی میقات کے محاذات سے گزرتے ہیں۔

5۔ذَاتُ عِرْق: یہ مشرق کی طرف سے آنے والوں، یعنی اہل عراق وایران کی میقات ہے۔ یہ مکہ مکرمہ سے شمال مشرقی جانب تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ آج کل اِس مقام کو ’الضَّرِیْبَۃ‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

حرمِ مکہ: اِس کےحدود اور حرمت

’حرم‘ سے مراد شہر مکہ کا وہ خاص حصہ ہے جوکعبۃ اللہ کے گرد کئی کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور جس کے حدود ہمیشہ سے بالکل متعین اور معروف ہیں۔ اِس پورے علاقے میں انسانوں یا جانوروں، بلکہ خود رو پودوں کو بھی نقصان پہنچانا خاص طور پر ممنوع قرار دیا ہے ۔

اِس حرم کے حدود بیت اللہ کے مشرقی جانب جعرانہ کی طرف ساڑھے چودہ کلومیٹر تک وسیع ہیں۔ شمالی سمت میں تنعیم کی طرف یہ 5 کلومیٹر تک محیط ہے۔ مغربی سمت میں حدیبیہ کے محلہ کی طرف یہ 18 کلومیٹر تک پہنچی ہوئی ہے، جب کہ جنوبی سمت میں عرفات کی جانب یہ حد 20کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔

استاذ غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’قرآن نے ’حَرَمًا آمِنًا‘،21اور’مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا ‘ 22کے الفاظ میں حرمِ مکہ کی یہی حیثیت وحرمت بیان فرمائی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’ إن هذا البلد حرمه اللّٰه يوم خلق السماوات والأرض، فهو حرام بحرمة اللّٰه إلى يوم القيامة، وإنه لم يحل القتال فيه لأحد قبلي، ولم يحل لي إلا ساعه من نهار، فهو حرام بحرمة اللّٰه إلى يوم القيامه، لا يعضد شوكه، ولا ينفر صيده، ولا يلتقط إلا من عرفها، ولا يختلى خلاها ‘23، ’’یہ وہ شہر ہے جسے اللہ نے اُس دن سے حرام ٹھیرایا ہے، جب اُس نے زمین وآسمان پیدا فرمائے تھے۔ لہٰذا اللہ کی قائم کردہ اِسی حرمت کی وجہ سے یہ قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ مجھ سے پہلے کسی شخص کو اِس میں قتال کی اجازت نہیں دی گئی۔ میرے لیے بھی یہ دن کی ایک گھڑی ہی کے لیے حلال کیا گیا۔ چنانچہ اللہ کی قائم کردہ اِسی حرمت کی وجہ سے یہ اب بھی قیامت تک حرام ہی رہے گا، نہ اِس کے کانٹوں والے درخت کاٹے جائیں گے ، نہ اِس کے شکار کو بھگایا جائے گا، نہ اِس میں گری ہوئی کوئی چیز اٹھائی جائے گی، الاّ یہ کہ کو ئی اُسے مالک تک پہنچانے کے لیے اٹھائے، اور نہ اِس کی گھاس کاٹی جائے گی۔‘‘24

بیت اللہ الحرام

یہ وہی معبد ہے جس کا ذکرقرآن مجید میں متعدد ناموں سے ہوا ہے۔قرآن نے اِس معبدکو ’الْبَيْت ‘ ، ’الْبَيْتِ الْعَتِيقِ ‘اور ’الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ‘ کے مختلف ناموں سے ذکر کیا ہے۔25اِس کی عمارت چونکہ مکعب ہے، یعنی وہ اپنی ہر سمت سے مربع(Square)کی شکل رکھتی ہے، اِس لیے لوگ اِسے’کعبہ‘ بھی کہتے ہیں۔ 26 حج وعمرہ میں اِسی معبدکا طواف کیا جاتا ہے۔ یہ معبد سرزمین عرب کے شہرِ مکہ میں واقع ہے۔ قرآن مجید میں اِس شہر کا ذکر ’’بَكَّة‘‘ کے نام سے بھی آیا ہے، جس کے معنی آباد بستی کے ہیں۔سطح سمندرسے اِس کی بلندی تقریباً 277 میٹر ہے اوریہ ہر طرف سے پہاڑ وں میں گھرا ہوا ہے ۔

حَطِیم

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کم وبیش پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے، جب قریش نے بیت اللہ کی تعمیر نو کے لیے مالی بندوبست کیا تو اُن کے پاس سرمایہ کم پڑجانے کے باعث کعبے کی عمارت کو اصل ابراہیمی بنیادوں پر مکمل طور پر قائم نہیں کیا جا سکا۔ چنانچہ بیت اللہ کے اصل عمارت سے باہر رہ جانے والے حصے کو ’حطیم‘ کہا جانے لگا۔ تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کعبۃ اللہ کی اِس تعمیر کے بعد حجرِ اسود کو دوبارہ اپنی جگہ پر نصب کرنے کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن تدبیر سے طے ہوا۔27

روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے فرمایا کہ اگر قریش کی تالیفِ قلب ملحوظ نہ ہوتی تو بیت اللہ کی عمارت سے باہر رہ جانے والے حصے کو، جو ’حطیم‘ کہلاتا ہے ، آپ اِس کو اصل عمارت میں شامل کر کے کعبۃ اللہ کو اصل ابراہیمی بنیادوں پر قائم کر دیتے۔ 28

حجر اسوداور ارکانِ کعبہ

حجرِاَسوَدسیاہ رنگ کا ایک پتھر ہے جو ہمیشہ سے کعبۃ اللہ کی عمارت کے مشرقی کونے میں عام انسانی قد کی اونچائی پر نصب ہے ۔ اِس سے آگے عمارت کے شمالی کونے کو ’رُکن عراقی‘، مغربی کونے کو’ رُکن شامی‘ اور جنوبی کونے کو’ رُکن یَمانی‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔

بیت اللہ کا دروازہ ، ملتزَم اور غلاف

بیت اللہ کا دروازہ حجرِ اسود اور ر’رُکن عراقی‘ کے مابین اِس کی دیوار میں واقع ہے۔اِس دروازےکی چوکھٹ کا نیچے والا حصہ زمین سے تقریباً دو میٹر اونچائی پر ہے۔اِس کےاور حجرِاسود کے درمیان کی دیوار کو ’ملتزَم‘ کہا جاتا ہے، جو گویا آستانۂ الٰہی کی دہلیز ہے۔ بیت اللہ کےزائرین دیوار کے اِس حصےسے چمٹ کر دعائیں کرتے ہیں، جس کی بنا پر ہی اِسے’ملتزَم‘ کہتے ہیں ۔ کعبے کی عمارت پر ہر سال سیاہ کپڑے کا ایک نیا غلاف ڈالا جاتا ہے ۔

ابراہیمی پتھر اور زمزم

کعبۃ اللہ کی عمارت کے صحن میں ایک مقام پر شیشے کےایک حفاظتی خول میں خاکستری رنگ کا ایک پتھر رکھا ہوا ہے، جسے بالعموم ’مقامِ ابراہیم‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب بیت اللہ کی دیواریں بلند کی تھیں تو اِسی پتھر پر کھڑے ہو کر کی تھیں۔29اِس سے کچھ فاصلے پر ایک قدرتی چشمہ بھی ہے جسے ’زمزم‘ کہا جاتا ہے ۔ بیت اللہ کے زائرین اِسی چشمے سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔

صفا و مروہ

صفا اور مروہ بیت اللہ کے قریب میں واقع دو پہاڑیاں ہیں، جن کے مابین بھی حج وعمرہ کے موقع پر طواف کیا جاتا ہے، جسے عام طور پر ’سعی‘ کہا جاتا ہے ۔ صفا کی پہاڑی بیت اللہ سے 130 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اِن دونوں پہاڑیوں کے مابین تقریباً 395میٹر کا فاصلہ ہے۔

صفا ومروہ کےشعائر اللہ میں سے ہونے کی وجہ عام طور پر تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ اِنھی دونوں پہاڑیوں کے درمیان سیدہ ہاجرہ نے سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں تگ و دو کی تھی۔تاہم امام فراہی رحمہ اللہ نے اِس باب میں اپنی تحقیق میں بہ دلائل ثابت کیا ہے کہ اصل قربان گاہ، جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی کی، یہی ’مروہ‘ ہے جس کا ذکر تورات میں آیا ہے، لیکن یہود نے بیت اللہ سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا تعلق کاٹ دینے کے لیے تحریف کر کے اس لفظ کو کچھ سے کچھ کر دیا۔چنانچہ جاننا چاہیے کہ یہ واقعہ در اصل اِن دونوں میں سے ایک پہاڑی ’مروہ ‘پر پیش آیا تھا،لیکن یہود نے اپنے صحیفوں میں اِس مقام کا تعلق ابراہیم علیہ السلام سے کاٹ دینے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔اِس لحاظ سے یہ بات متحقق ہوتی ہے کہ چونکہ سیدنا ابراہیم نے صفا ومروہ کے ما بین اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں یہ فرماں بردارانہ اور غلامانہ سرگرمی دکھائی، اِس وجہ سے ان دونوں پہاڑیوں کو شعائر اللہ میں سے قرار دے دیا گیا اور اِن کی سعی کی یادگار ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دی گئی۔ اِس کی تفصیلات امام حمید الدین فراہی کی کتاب ’’الرأی الصحیح فی من هو الذبیح‘‘ میں دیکھ لی جاسکتی ہیں۔

اِس لحاظ سے یہی اصل قربان گاہ ہے، جسے حجاج کی سہولت کے لیے منیٰ تک وسعت دے دی گئی ہے۔ اِس قربان گاہ کے طواف میں ہر پھیرا ’صفا‘ سے شروع ہوکر ’مروہ‘ پر ختم ہوتا ہے۔ اصطلاح میں اِسے ’ سعی‘کہتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ لوگ جو اِس گھر کا حج یا عمرہ کرنے کے لیے آئیں، اُن پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اِن دونوں کا طواف بھی کر لیں۔30

یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ یہود نے جب صفا ومروہ کا تعلق سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے کاٹ دینے کی کوشش کی تو اِس کے ساتھ یہ بات بھی لازماً کہی ہوگی کہ اِن پہاڑیوں کے درمیان سعی محض ایک مشرکانہ بدعت ہے، دین ابراہیمی سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ قرآن نے یہ اِسی کی تردید میں واضح کیا ہے کہ اِن کا طواف کر لینے میں ہرگز کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مشروع عبادت ہے اور اِس لیے یقیناً نیکی اور خیر کا کام ہے، جو اگر شوق سے کیا جائے تو اللہ تعالیٰ اُسے قبول فرمائے گا۔

منیٰ

مکہ مکرمہ سے مشرقی جانب دو پہاڑیوں کے درمیان یہ ایک وسیع میدان ہے، جس کا رقبہ سوا آٹھ مربع کلومیٹر کے قریب ہے۔ بیت الحرام سے منیٰ کا فاصلہ تقریباً سات کلو میڑ ہے۔ 8/ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ سے یہاں پہنچنے کے بعد اور 10/ ذوالحجہ کو عرفات سے واپسی پر حجاج اِسی میدان میں قیام کرتے ہیں اور ایامِ تشریق میں یہیں حج کے آخری مناسک ادا کرتے ہیں۔

عرفات

منیٰ سے تقریباً 17 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک وسیع میدان واقع ہے جسے ’عرفات‘ کہا جاتا ہے۔ یومِ عرفہ، یعنی 9/ ذوالحجہ کو تمام عازمین حج یہاں غروبِ آفتاب تک وقوف کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا امام یہاں ظہر کے وقت اُنھیں حج کاخطبہ دیتا ہے۔

مزدلفہ

یہ منیٰ اور عرفات کے مابین واقع ایک میدان ہے۔عرفات سے واپسی کے بعد حجاج اِسی میدان میں رات گزارتے ہیں۔یہ میدان 12 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ بیت الحرام سے مزدلفہ کا فاصلہ تقریباً دس کلو میٹر ہے۔ یہ میدان منیٰ سے عرفات جانے والوں کے راستے میں آتا ہے۔ عرفات سے واپسی پر حدودِ حرم یہاں ’قُزح‘ نامی ایک پہاڑ سے شروع ہوتے ہیں، اِس لیے اُسے ’المشعر الحرام‘ کہا جاتا ہے۔ مزدلفہ سے عرفات کے مابین فاصلہ تقریبًا 6 کلومیٹر ہے۔

جمرات

’جمرات‘ سے مراد وہ تین ستون ہیں جو منیٰ کے میدان میں ہمیشہ سے اپنے متعین مقامات پر نصب ہیں ، جنھیں شیطان کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ مزدلفہ سے منیٰ کی طرف آتے ہوئے جو ستون سب سے پہلے واقع ہے، اُسے’ جمرۂ اُولی ‘ یا ’جمرۂ صُغریٰ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مسجدِ خیف کے قریب میں واقع ہے۔ پھر اِسی سمت میں 135میٹر کے فاصلہ پر جو ستون اِس کے بعد واقع ہے، اُسے ’جمرۂ وسطیٰ‘ کہتے ہیں۔ اِس کے بعد اِسی رخ پر 225 میٹر کی مسافت پر واقع آخری ستون، جو تینوں جمرات میں مکہ مکرمہ سے قریب تر ہے، ’جمرۂ عَقبہ‘ یا ’جمرۂ کبریٰ‘ کے نام سے موسوم ہے۔ 10/ ذو الحجہ کے دن اور ایام تشریق میں حجاج اِنھی ستونوں پرسنگ باری کرتے ہیں۔

  1. 1۔ آلِ عمران 3: 97۔
  2. 2۔ صحیح بخاری ، رقم 1664۔
  3. 3۔ جاوید احمد غامدی، میزان 376-377۔
  4. 4۔ آلِ عمران 3: 97۔
  5. 5۔ صحیح بخاری ، رقم8۔
  6. 6۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم26۔ صحیح مسلم ، رقم83۔
  7. 7۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1723۔ صحیح مسلم ، رقم 1350۔
  8. 8۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1683۔ صحیح مسلم ، رقم1349۔
  9. 9۔ صحیح مسلم ، رقم8۔
  10. 10۔ جاوید احمد غامدی، میزان75۔
  11. 11۔ البقرۃ 2: 197۔
  12. 12۔ جاوید احمد غامدی، میزان382۔
  13. 13۔ الحج 22: 26- 27۔
  14. 14۔ آلِ عمران3: 97۔
  15. 15۔ دیکھیے: مسندِ احمد، رقم 10607۔ صحیح مسلم ، رقم 1337۔
  16. 16۔ دیکھیے:مصنف ابن ابی شيبہ، رقم15674۔
  17. 17۔ البقرۃ 2: 158۔
  18. 18۔ دیکھیے: امام امین احسن اصلاحی، تدبرِ قرآن1/ 385۔
  19. 19۔ البقرۃ 2: 198۔
  20. 20۔ دیکھیے: ابراہیم مصطفىٰ، احمد الزيات، حامد عبد القادر، محمد النجار، المعجم الوسيط، مجمع اللغۃ العربيۃ بالقاہرۃ 1/ 485۔
  21. 21۔ القصص 28: 57” حرمت والا مقام امن۔ “
  22. 22۔ البقرۃ2: 125۔ ”لوگوں کا مرجع اور اُن کے لیے پناہ کی جگہ ۔ “
  23. 23۔ صحیح مسلم ، رقم 1353۔
  24. 24۔ جاوید احمد غامدی، میزان 387-388۔
  25. 25۔ الحج 22: 25، 26، 29۔
  26. 26۔ المائدۃ 5: 95، 97۔
  27. 27۔ دیکھیے: السیرۃا لنبویۃ ، ابن ہشام1/192۔
  28. 28۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1506، 1508۔
  29. 29۔ دیکھیے: الازرقی، اخبار مکۃ 1/59۔
  30. 30۔ دیکھیے: البقرۃ 2 : 158۔