বিষয়বস্তুতে যান

অধ্যায় 2: باب دوم

حج وعمرہ کے مناسک

مناسکِ عمرہ ــــــــــ اجمالی بیان

سوال: اسلامی شریعت میں عمرہ کے مناسک اور اِن کا طریقہ وترتیب کیا ہے؟1

جواب: عمرہ کے مناسک اور اسلامی شریعت میں اِس کا جو طریقہ مقرر کیا گیا ہے، ذیل میں اُس کو پہلے اجمالاً سمجھ لیجیے:

عمرہ کی نیت سے اِس کا احرام باندھا جائے اور تلبیہ کا وِرد شروع کیا جائے۔

بیت اللہ میں حجرِ اسوَد کے پاس پہنچنے تک تلبیہ کا وِرد جاری رکھا جائے۔

وہاں پہنچ کر حجرِ اسود کا استلام کیا جائے۔

پھر بیت اللہ کا طواف کیا جائے۔

اِس کے بعد صفا و مروہ کی پہاڑیوں کے مابین سعی کی جائے۔

ہدی کے جانور اگر ساتھ ہوں تو اُن کی قربانی کی جائے۔2

مرد اپنا سر منڈا کر یا حجامت کرا کے، جب کہ عورتیں اپنی چوٹی کے آخر سے کچھ بال کاٹ کر احرام کھول دیں۔

اسلامی شریعت میں عمرہ کے یہ مناسک اور طریقہ وترتیب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے علمی اتفاق اور عملی تواتر سے ثابت ہیں۔

مناسک عمرہ ـــــــــ تفصیلی بیان

اب ذیل میں مناسکِ عمرہ اور اِن کی ادائیگی کا طریقہ قارئین کی خدمت میں بالتفصیل پیش کیا جائے گا:

1۔احرام کی تعریف اور شریعت

سوال: حج وعمرہ میں ’احرام‘ کسے کہتے ہیں؟ اِس کے معنی اور اِس کی شریعت کیا ہے؟

جواب: حج وعمرہ میں ’احرام‘ ایک اصطلاح ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ حج یا عمرہ کرنے والے نے اِس عبادت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ چند پابندیاں اختیار کر لی ہیں، جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:

مرد وعورت کے لیے یکساں پابندیاں

سوال: احرام کی وہ پابندیاں کیا ہیں جن کا خیال مرد وعورت، دونوں کو رکھنا لازم ہے؟

جواب:وہ پابندیاں درجِ ذیل ہیں:

جنسی نوعیت کا کوئی فعل ہی نہیں، بلکہ شہوت کی کوئی بات بھی نہیں کی جا سکتی۔

عقدِ نکاح کیا جاسکتا ہے، نہ کسی کا نکاح کرایا جا سکتا ہے۔

زیب وزینت کی کوئی چیز، مثلاً خوش بو اور میک اپ وغیرہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم احرام کی نیت سے پہلے جسم پر خوش بو لگانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے ثابت ہے، خواہ اِس کا اثر نیت کے بعد بھی باقی رہے۔

ناخن نہیں تراشے جا سکتے۔

جسم کے کسی حصے کے بال نہیں اُتارے جاسکتے۔

خشکی کا شکار نہیں کیا جاسکتا۔ خوراک کی ضرورت کے لیے سمندری شکار، البتہ اللہ تعالیٰ نے جائز قرار دیا ہے۔

صرف مردوں کے ساتھ خاص پابندیاں

سوال: احرام کی وہ پابندیاں کون سی ہیں جن کی رعایت شریعت میں صرف مردوں پر لازم کی گئی ہے ؟

جواب: ایسی ممنوعات تین طرح کی ہیں:

مرد سلے ہوئے کپڑے نہیں پہن سکتے۔ اِس کے بجاے وہ ایک چادر تہ بند کے طور پر باندھیں گے اور ایک اوڑھ لیں گے۔

مرد اپنے سر اور چہرے کو کھلا رکھیں گے۔ یعنی وہ نہ سر پر کوئی ٹوپی، عمامہ یا رومال وغیرہ پہن سکتے ہیں اور نہ چہرے پر نقاب ڈال سکتے ہیں۔

مرد اپنے پاؤں کا ٹخنوں سے اوپر کا حصہ لازماً کھلا رکھیں گے۔ یعنی وہ کوئی ایسا جوتا یا موزہ نہیں پہن سکتے جو ٹخنوں کو چھپاتا ہو۔

صرف عورتوں کے ساتھ خاص پابندیاں

سوال: احرام کی وہ ممنوعات کیا ہیں جو صرف عورتوں پر لازم کی گئی ہیں؟

جواب: عورتوں کے لیے حالتِ احرام میں اپنا چہرہ اور ہاتھ کھلے رکھنا ضروری ہے۔ یعنی وہ اپنے چہرے پر نقاب اور ہاتھوں پر دستانے نہیں پہن سکتیں۔

2۔عمرہ میں احرام باندھنے کا مقام

سوال: عمرہ کا احرام کہاں باندھا جائے؟

جواب: اسلامی شریعت کے مطابق باہر سے آنے والے عازمین عمرہ کا احرام اپنی میقات سے باندھیں گے۔ مکہ مکرمہ میں مقیم لوگ، خواہ وہ مکی ہوں یا عارضی طور پر مکہ میں ٹھیرے ہوئے ہوں، عمرہ کا احرام حدودِ حرم سے باہر جا کر قریب کی کسی بھی جگہ سے باندھ سکتے ہیں۔ اور جو لوگ حِل کے علاقے میں، یعنی حدودِ حرم سے باہر، لیکن میقاتوں کے حدود کے اندر کہیں مقیم ہوں، اُن کی میقات وہی مقام ہے، جہاں وہ رہتے ہیں، لہٰذا وہ اپنا احرام وہیں سے باندھیں گے۔

3۔تلبیہ

سوال: تلبیہ سے کیا مراد ہے؟

جواب: مناسکِ حج وعمرہ کی اصطلاح میں تلبیہ سے مراد اِن کلمات کا ورد ہے: ’لبيك، اللّٰهم لبيك؛ لبيك لا شريك لك، لبيك؛ إن الحمد، والنعمة، لك والملك؛ لا شريك لك‘۔یہ تنہا ذکر ہے، جس کا آغاز اِن دونوں عبادتوں میں احرام باندھتے ہی ہوجاتا ہے۔ پھر بیت اللہ میں پہنچنے تک یہ مسلسل جاری رہتا ہے ۔ حج و عمرہ کی شریعت میں تنہا اِسی ذکر کو عازمین بیت اللہ کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

تلبیہ کے اِس وِرد کا ترجمہ یہ ہے: ’’میں حاضر ہوں، اے اللہ، حاضر ہوں؛ حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں؛ میں حاضر ہوں، حمد تیرے لیے ہے، سب نعمتیں تیری ہیں اوربادشاہی بھی تیرے ہی لیے ہے؛ تیرا کوئی شریک نہیں‘‘۔

4۔طوافِ بیت اللہ اور اِس کا طریقہ

سوال: طوافِ بیت اللہ سے کیا مراد ہے اور اِس کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: اصطلاح میں طواف سے مراد بیت اللہ کے وہ سات پھیرے ہیں جو جسم اور لباس کی طہارت کے ساتھ کعبۃ اللہ کےگرد لگائے جاتے ہیں۔3 یہ پھیرے بیت اللہ کو اپنی بائیں جانب رکھ کر لگائے جاتے ہیں۔ اِن میں سے ہر چکر حجرِ اسوَد سے شروع ہوتا اور اُسی پر ختم ہوتا ہے اور ہر چکر کے آغاز میں اِس پتھر کا ’اِستلام‘ کیا جاتا ہے ۔

سوال: حجرِ اسود کے ’اِستِلام‘ کا مطلب اور طریقہ کیا ہے؟

جواب: ’استلام‘ اُس عمل کے لیے اصطلاح ہے جس میں حجرِ اسود کو بوسہ دیا جاتا ہے یا اُس کو ہاتھ سے چھو کر اپنے ہاتھ کو چوم لیا جاتا ہے۔ ہجوم کی وجہ سے یہ اگر ممکن نہ ہو تو ہاتھ، چھڑی یا کسی اور چیز کے ذریعے سے اِس پتھر کی طرف اشارہ کر دینا بھی استلام کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔

ہر استلام کے موقع پر تکبیر، یعنی’اللہ اکبر ‘کہنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے ثابت ہے۔4 طواف کرتے ہوئے ’رکن یمانی‘ کو صرف ہاتھ سے چھونا بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض روایتوں میں نقل ہوا ہے۔5

5۔سعی کا طریقہ

سوال: صفا ومروہ کی پہاڑیوں کے مابین طواف کا کیاطریقہ مشروع کیا گیا ہے؟

جواب: سنت میں صفا ومروہ کی پہاڑیوں کے مابین اِس طواف کے بھی سات پھیرے مقرر ہیں، جن میں سے ہر پھیرا ’صفا‘ سے شروع ہوکر ’مروہ‘ پر ختم ہوتا ہے۔ اصطلاح میں اِسے ’سعی‘ کہتے ہیں۔ صفا سے مروہ تک جانا ایک چکر، جب کہ مروہ سے واپس صفاتک آنا دوسرا چکر شمار ہوتا ہے۔شریعت کی بتائی ہوئی اِس ترتیب کے مطابق ساتواں اور آخری پھیرا جبلِ مروہ پرختم ہوتا ہے۔

6۔ہدی کی قربانی

اصطلاح میں ’ہدی‘ اُن جانوروں کو کہا جاتا ہے جو حج، عمرہ یا عید الاضحیٰ وغیرہ کے موقع پر حرمِ مکی میں قربانی کے لیے خاص کیے گئے ہوں۔ دوسرے جانوروں سے امتیاز قائم رکھنے کے لیے اِن کےجسم پر نشان لگایا جاتا اور گلے میں پٹا ڈالا جاتا ہے۔’الْقَلَائِدَ‘ کا لفظ قرآن نے اِنھی کےپٹوں کے لیے استعمال کیا ہے۔6 جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے، عمرہ میں ہدی، یعنی قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے کر جانا بھی اِس کے مناسک میں ایک پسندیدہ سنت ہے، جیسا کہ واقعۂ صلح حدیبیہ کے سال عمرہ کی نیت سے جاتے ہوئےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کیا تھا۔7 یہ بھی عمرہ کے لازمی مناسک میں سے نہیں ہے۔ تاہم عمرہ کرنے والے ہدی کا جانور اگر ساتھ لے کر حرمِ مکہ آئیں تو وہ عمرہ میں یہ قربانی صفا ومروہ کی سعی کے بعد اور حلق یا قصر سے پہلے کریں گے ۔

7۔ حلق وقصر

جو لوگ عمرہ میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہیں آتے، جیسا کہ آج کے جدید تمدن میں اب بالعموم یہی رواج ہے، وہ سعی کے بعد مناسکِ عمرہ کے آخری عمل کے طور پر اپنے سر منڈائیں گے یا پورے سر کی حجامت کرائیں گے اور عورتیں اپنے بالوں کے آخر سے تھوڑے بال کاٹ کر احرام کھول دیں گی۔ اِس کے ساتھ ہی عمرہ مکمل ہو جاتا ہے۔

مناسکِ حج ـــــــــ اجمالی بیان

سوال: اسلامی شریعت میں مناسکِ حج اور اِس کا طریقہ وترتیب کیا ہے؟

جواب: حج کے مناسک اور اسلامی شریعت میں اِس کا جو طریقہ مقرر کیا گیا ہے، ذیل میں اِسے پہلے ہم قارئین کے لیے مختصراً پیش کریں گے تا کہ تمام مناسک کی ایک اجمالی تصویر پہلے واضح ہوجائے:

8/ذو الحجہ کوحج کی نیت سے اِس کا احرام باندھا جائے اور تلبیہ کا وِرد شروع کیا جائے۔

8/ذو الحجہ کو منیٰ پہنچ کر وہاں قیام کیا جائے۔

9/ذو الحجہ کی صبح تلبیہ پکارتے ہوئے حجاج میدانِ عرفات پہنچیں اورغروب آفتاب تک اُسی میدان میں وقوف کریں۔

9/ذو الحجہ کو غروبِ آفتاب کے بعد حجاج تلبیہ کے ورد کے ساتھ مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں اور وہاں پہنچ کر رات کو اُسی میدان میں وقوف کریں۔

10/ ذ و الحجہ کی صبح دوبارہ منیٰ میں داخل ہو ں اور جمرۂ عقبہ کے پاس پہنچ کر تلبیہ کا ورد موقوف کر دیں اور اُس جمرے کی رمی کریں۔

پھراُسی دن قربانی کی جائے، سر کا حلق یا قصر کرایا جائے اور اگر میسر ہو تو بیت الحرام پہنچ کر حج کا طواف اور سعی کی جائے۔

11 اور 12/ ذو الحجہ کو منیٰ ہی میں قیام کرتے ہوئے تینوں جمرات کی رمی کی جائے۔

جسے اللہ توفیق دے تو افضل یہ ہے کہ وہ 13/ ذو الحجہ تک منیٰ میں قیام کرے اور اُس دن بھی تینوں جمرات کی رمی کر کے حج سے فارغ ہو۔

اسلامی شریعت میں حج کے یہ مناسک اور طریقہ وترتیب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے علمی اتفاق اور عملی تواتر سے ثابت ہیں۔

مناسکِ حج ـــــــــ تفصیلی بیان

اب ذیل میں مناسکِ حج اور اِن کی ادائیگی کا طریقہ قارئین کی خدمت میں بالتفصیل پیش کیا جائے گا۔

1۔ یوم الترویہ 8/ذو الحجہ کے مناسک

احرام

سوال: مناسکِ حج ہر سال کس تاریخ کو شروع ہوتے ہیں اور اِس عبادت کی ابتدا کس عمل سےکی جاتی ہے؟

جواب: اسلامی شریعت کے مطابق حج کے مناسک کی ابتدا یوم الترویہ، یعنی 8/ ذو الحجہ کی صبح کو ہوتی ہے اور عمرہ کی طرح حج میں بھی پہلا کام احرام باندھنے کا ہوتا ہے۔’احرام‘ کے معنی کیا ہیں، اِس کی ممنوعات اور مباحات کیا ہیں؛ پیچھے مناسکِ عمرہ کے تحت ہم اس کی تفصیل بیان کرچکے ہیں۔حج اور عمرہ، دونوں میں احرام کی شریعت بالکل یکساں ہے۔

احرامِ حج کا مقام

سوال: حج کا احرام کس مقام پر باندھا جائے گا؟

جواب: مکہ مکرمہ میں مقیم لوگ، خواہ وہ مکہ کے رہنے والے ہوں یا عارضی طور پروہاں ٹھیرے ہوئے ہوں یا وہ لوگ جو حدود ِحرم سے باہر ہوں، لیکن میقاتوں کے حدود کے اندر کہیں مقیم ہوں،؛احرامِ حج کے لیے اِن سب کی میقات وہی مقام ہے، جہاں وہ رہتے ہیں۔ یہ اپنا احرام وہیں سے باندھیں گے۔ باہر سے آنے والے حجاج، البتہ حج کا یہ احرام اپنی اپنی میقات یا اُس کے محاذات سے باندھیں گے۔ اِس کی تفصیل یہ ہے کہ آفاقی حاجی اگر حج کی نیت سے بیت الحرام جا رہا ہے تو اُس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی میقات یا اُس کی محاذات سے حج کی نیت سے اُس کا احرام باندھ لے۔ پھر اگر وہ 8/ ذو الحجہ ہی کو بیت الحرام پہنچ رہا ہے تو اُسے چاہیے کہ وہ تلبیہ پکارتے ہوئے براہِ راست میدانِ منیٰ پہنچ کر اپنے مناسکِ حج کا آغاز کرے۔ اور اگر ابھی یوم الترویہ آنے میں کچھ وقت یا دن باقی ہیں تو اُس صورت میں وہ احرامِ حج کی پابندیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ میں رہ سکتا ہے۔

تلبیہ

سوال: یوم الترویہ کو نیتِ حج کے ساتھ احرام باندھنے کے بعد کیا عمل مشروع ہے؟

جواب: نیت اور احرامِ حج کے ساتھ تلبیہ کا وِرد شروع کیا جائے گا، جیسا کہ عمرہ کی شریعت میں بھی ہم بیان کرچکے ہیں۔

قیام منیٰ

سوال: اِس کے بعد حجاج کو اِس دن مزید کیا عمل کرنا ہوتا ہے؟

جواب:تلبیہ کا ترانہ پکارتے ہوئے حجاج منیٰ کے لیے روانہ ہوں اور ظہر سے پہلے وہاں پہنچ کر پڑاؤ ڈالیں اور اگلے دن کی صبح وہیں قیام کریں ۔

2۔یومِ عرفہ 9 /ذو الحجہ کے مناسک

سوال: 9/ذو الحجہ کے مناسک کیا ہیں؟

جواب: یومِ عرفہ، یعنی 9/ ذو الحجہ کی صبح حجاج تلبیہ کا ورد جاری رکھتے ہوئےعرفات کے لیے روانہ ہوں اور وہاں پہنچ کر غروب آفتاب تک وہیں وقوف کیا جائے۔ عرفات میں امام ظہر کی نماز سے پہلے حج کا خطبہ دے، پھر ظہر اور عصر کی نماز جمع اور قصر کر کے پڑھی جائے۔ نماز سے فارغ ہو کر جتنی دیر کے لیے ممکن ہو، اللہ تعالیٰ کے حضور میں تسبیح وتحمید، تکبیر وتہلیل اور دعا ومناجات کی جائے اور تلبیہ کا ورد جاری رکھا جائے۔غروب آفتاب کے بعد تلبیہ کا ترانہ پکارتےہوئے حجاج مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں ۔وہاں پہنچ کر مغرب اور عشا کی نماز جمع اور قصر کر کے پڑھی جائے۔پھر اُس رات کو مزدلفہ کے اِسی میدان میں وقوف کیا جائے۔

3۔ یوم النحر 10/ذو الحجہ کے مناسک

سوال:10/ذو الحجہ کے مناسک کی کیا تفصیل وترتیب ہے؟

جواب:یوم النحر، یعنی 10/ذو الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد مزدلفہ میں بھی تھوڑی دیر کے لیے عرفات ہی کی طرح تسبیح وتحمید، تکبیر وتہلیل اور دعا ومناجات کی جائے اور تلبیہ کا ورد جاری رکھا جائے۔پھر حجاج منیٰ کے لیے روانہ ہوں اور وہاں ’جمرۂ عقبہ‘ کے پاس پہنچ کر تلبیہ کا ورد موقوف کردیں اور پھر اِس جمرے کو سات کنکریاں ماری جائیں۔ ہدی کے جانور ساتھ ہوں یا فدیہ یا نذر کی کوئی قربانی واجب ہو چکی ہو تو یہ قربانی کی جائے۔پھر مرد سر منڈا کر یا پورے سر کی حجامت کرا کے اور عورتیں اپنی چوٹی کے آخر سے تھوڑے سے بال کاٹ کر اپنا احرام کھول لیں۔اِس کے بعد بیت اللہ پہنچ کر حج کا طواف کیا جائے۔ اِس طواف کو اصطلاح میں”طواف الاِفاضۃ“ یا”طواف الزیارة“ کہا جاتا ہے۔احرام کی تمام پابندیاں اِس طواف کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہیں۔اِس طواف کے بعد صفا و مروہ کی سعی کی جائے۔

4۔ایام تشریق کے مناسک

سوال: اِس کے بعد حج کے بقیہ مناسک اور اُن کی ترتیب کیا ہوگی؟

جواب: یوم النحر کے بعد کے تین دنوں، یعنی 11 ، 12 اور13/ذو الحجہ کو’ ایامِ تشریق‘ کہا جاتا ہے ۔ مکہ مکرمہ سے واپس منیٰ پہنچ کر کم از کم دو دن، یعنی 11 اور 12/ذو الحجہ کو منیٰ میں قیام کیا جائے اور ہر دن پہلے ’جمرۂ اولیٰ ‘، پھر ’جمرۂ وسطیٰ‘ اور اُس کے بعد ’جمرۂ عَقبہ‘؛ ہر ایک کو سات سات کنکریاں ماری جائیں۔ جن حجاج کو اللہ توفیق دے تو افضل یہ ہے کہ وہ 13/ذوالحجہ تک منیٰ میں قیام کریں اور اِس تیسرے دن بھی اِسی ترتیب سے تینوں جمرات کی رمی کریں۔ البتہ جو حجاج چاہیں، وہ 12/ذو الحجہ کی رمی کے بعد ہی منیٰ سے رخصت ہوسکتے ہیں۔ ایامِ تشریق میں قیام منیٰ اور اِس طرح جمرات کی رمی کے ساتھ مناسکِ حج پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں۔

مناسک ِحج وعمرہ کا ماخذ اور ثبوت

سوال: حج وعمرہ سے متعلق اسلامی شریعت کے مندرجہ بالا مناسک ہم تک کس ذریعے سے پہنچے ہیں،دین میں اِن کا ماخذ کیا ہے؟

جواب: دین اسلام کی تاریخ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے حج وعمر ہ کے یہی مناسک چلے آرہے ہیں۔ قرآن مجید نے بھی اِن میں کوئی تبدیلی نہیں کی، صرف اتنا کیا ہے کہ جاہلی دور کی رائج شدہ بعض بدعتوں کی اصلاح کی اوربعض فقہی مسائل کی توضیح فرما دی ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے ماننے والوں میں اِن دونوں عبادات کو سنت کے طور پر جاری فرمایا ہے،اور آپ کے صحابہ نے اپنے عملی تواتر اور علمی اتفاق سے اِنھیں آگے مسلمانوں تک پہنچایا ہے۔ چنانچہ اب مسلمانوں کےلیے سنت کا یہی اجماع وتواتر اِن عبادات کا ماخذ ہے۔

  1. 1۔ باہر سے جانے والے حجاج اپنے حج کے سفر میں مکہ مکرمہ پہنچ کر بالعموم پہلے عمرہ ادا کرتے ہیں، اِس لیے عمرہ کے بیان کو اِس کتاب میں مقدم رکھا گیا ہے۔
  2. 2۔ عمرہ کی یہ قربانی تطوع ہے، لازم نہیں ہے۔ اور جدید تمدن میں ہوائی اور بحری جہازوں کے جدید سفری ذرائع کی وجہ سے اِس پر عمل اب کم وبیش نہ ہونے کے برابر ہوگیا ہے، ورنہ قدیم زمانے میں حج اور عمرہ، دونوں میں یہ نفل قربانی بہ کثرت کی جاتی تھی۔
  3. 3۔ کیا حج وعمرہ میں طواف بیت اللہ کے لیے با وضو ہونا شرط ہے یا نہیں؟ اِس مسئلے کی تفصیل اِس کتاب میں آگے”اہم فقہی مسائل اور اُن کا حل“ کے زیرِ عنوان بیان ہوگی۔
  4. 4۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 4987۔
  5. 5۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم1606،1526۔ صحیح مسلم ، رقم 1267، 1268۔
  6. 6۔ دیکھیے: المائدۃ5: 2، 97۔
  7. 7۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 3926۔ مسندِ احمد، رقم 18920۔