مواد پر جائیں

باب 11: باب ششم: خدا ہم سے کیا تقاضے کرتا ہے اور کیا تقاضے معقول ہیں

خدا ہم سے کیا تقاضے کرتا ہے

اور کیا تقاضے معقول ہیں

میں ایک بے حد خوش حال اور مکمل کامیاب زندگی بسر کر رہا تھا۔ میں شہرت اور دولت سے مالامال تھا، اور دنیا کی متنوع سرگرمیوں میں مصروف تھا۔ زندگی کی فوری لذتوں کے مقابلے میں مذہب اور خدا جیسے معاملات اکثر بے لطف اور غیر اہم محسوس ہوتے تھے۔ تاہم، ایک خیال مجھے اکثر بہت ہی مضطرب رکھتا تھاکہ جب موت قریب آئے گی تو سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ کیا میں نے خدا اور آخرت کے بارے میں کوئی معقول جواب تلاش کیا؟ اور کیا میں نے اپنی زندگی ان جوابات کے تقاضوں کے مطابق بسر کی؟

میرے شعور کے کسی کونے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم بہ طور اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان کی بعثت کے معجزے کے بارے میں خیالات ہمیشہ موجود رہے۔ میں اس غیر یقینی میں نہیں رہ سکتا تھا، کیونکہ یہ سوچ انتہائی فکر انگیز تھی کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم واقعی حق پر تھے تو پھر کیا ہو گا؟ اگر خدا— ہاں وہی غیر مخلوق بنیادی حقیقت جس نے سب کچھ پیدا کیا، جو عیسیٰ، موسیٰ، ابراہیم علیہم السلام اور بے شمار انبیا سے ہم کلام ہوا—نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی رابطہ کیا ہوا تو پھر! اگر موت کے بعد واقعی اللہ تعالیٰ نے احتساب اور جزا سزا دی، اور اس کا نتیجہ میرے لیے دائمی بھلائی یا بدی کی صورت میں نکلے تو پھر! ذرا تصور کریں، اگر یہ سب سچ ہوا اور میں نے اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی زندگی بسر کی ہو تو موت کے وقت کس قدر شدید پچھتاوا اور ہول ناکی میرے حصے میں آئے گی!

میرے لیے اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ لازم تھا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو تفصیل سے سمجھوں اور یہ جانچوں کہ کیا یہ پیغام عقلی اور اخلاقی لحاظ سے میرے لیے اطمینان بخش ہے اور حقیقت میں اللہ کا پیغام ہے۔

بہ طور اللہ کےرسول، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات معجزاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا جو مجھے ان کے پیغام کی گہرائی تک جانے پر مجبور کرتا تھا۔ اس سفر میں قرآن کے پیغام کا مکمل تجزیہ کرنا میرا اگلا منطقی قدم تھا۔ اسی مطالعے سے میں یہ جان سکتا تھا کہ قرآن کا خدا مجھ سے کیا چاہتا ہے اور کیوں۔ سب سے اہم مجھے یہ سمجھنا تھا کہ بعد از موت محاسبے میں کامیابی کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا۔میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا خدا کی ان توقعات کی بنیاد اخلاقی، انسانی اور عقلی طور پر مضبوط ہے۔ اگر یہ توقعات ان تقاضوں پر پورا نہ اترتیں تو یہ کہنا ممکن تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک انسانی تاریخ میں ایک بے مثال غیر معمولی واقعہ تو ہے، مگر اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم، اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اخلاقی، انسانی، اور عقلی طور پر درست ثابت ہوتا تو ان کی بعثت کے معجزاتی پہلو کو بھی شامل کرتے ہوئے، اسلام کو رد کرنے کا کوئی جواز باقی نہ رہتا۔ اس صورت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول ماننا اور انبیا، رسولوں، فرشتوں، الہامی کتب اور آخرت پر ایمان لانا میرے لیے ناگزیر ہو جاتا۔

لہٰذا مجھے مزید تحقیق کرنی تھی تاکہ یہ سمجھ سکوں کہ خدا مجھ سے کیا چاہتا ہے اور آیا وہ توقعات اپنے اندر کافی معقولیت رکھتی ہیں یا نہیں۔

جو کچھ میں آپ کے ساتھ شیئر کرنے والا ہوں، وہ الہامی صحائف پر کسی پیچیدہ علمی تحقیق کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سادہ، مگر توجہ طلب مطالعے کا حاصل ہے—قرآن کا مکمل مطالعہ اور متعلقہ احادیث پر ایک نظر، جو آن لائن دستیاب تھیں۔

آئیے، اسلام کے مآخذ پر ایک بار پھر نظر دوڑائیں اور ان کے تجزیے کے درست طریقۂ کار کو سمجھیں۔

قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر تئیس برسوں تک نازل ہونے والی الہامی وحی کا محفوظ اور مستند ریکارڈ ہے ۔ اس وحی کے ساتھ زمین پر اللہ تعالیٰ کی آخری دینونت کا ظہور ہوا۔

سنت اسلام میں عملی رسوم اور طرزِ عمل کی وضاحت کرتی ہے۔

قرآن اور سنت اسلام کے بنیادی ماخذ ہیں، جنھیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے براہِ راست مخاطبین، جن کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی، تک منتقل کیا۔ ان مخاطبین نے ان مآخذ کو اپنی آیندہ نسلوں تک اپنے اجماع اور تواتر سے منتقل کیا، اور یہ سلسلہ آج تک بلا تعطل جاری ہے۔

احادیث محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اقوال و افعال پر مبنی تاریخی روایات ہیں جنھیں ان کے صحابہ نے انفرادی طور پر بیان کیا۔ احادیث کو قرآن اور سنت کے سیاق اور روشنی میں سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ قرآن و سنت میں محصور دین کی شرح و وضاحت اور اس کا عملی اطلاق جاننے کا ذریعہ ہیں۔ احایث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر کے بارے میں منقولہ اخبار آحاد ہیں، جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کئی دہائیوں بعد قلم بند کیے گئے۔

اس موقع پر، میں جناب جاوید احمد غامدی کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، جن سے مجھے نہ صرف اللہ کے رسولوں اور اسلام کے مآخذ کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، بلکہ قیامت کے دن کے حساب کے اصولوں کو سمجھنے میں بھی مدد ملی۔ ان اصولوں پر ہم اب تفصیل سے گفتگو کریں گے۔

آئیے، آگے بڑھتے ہیں۔

یہاں ہم دو اہم موضوعات پر گفتگو کریں گے:

اول،ہم دیکھیں گے کہ قرآن میں بیان کردہ اخروی حساب میں کامیابی کا معیار حقیقی طور پر عالم گیر ہے اور تمام مذہبی شناختوں سے بالاتر ہے۔

دوم، ہم ان مخصوص اعمال کا ذکر کریں گے، جنھیں اسلام اپنانے کی ترغیب دیتا ہے تاکہ آخرت کی جواب دہی میں زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل ہو سکے۔

1۔ آخرت میں احتساب میں کامیابی کا عالم گیر معیار

جب میں اپنی نوعمری کے ابتدائی دور میں تھا تو مجھے یہ سکھایا گیا کہ آخرت میں کامیابی کا معیار انتہائی سادہ ہے۔ مسلمان جنت میں جائیں گے اور غیرمسلم جہنم میں ۔اس عمل میں دونوں کی اخلاقی حالات کا کوئی اعتبار نہیں۔ تاہم، قرآن اس سے کہیں بلند تر معیار پیش کرتا ہے۔ وہ مذہبی تقسیم سے بالاتر ہو کر قیامت کے دن نجات کے لیے ایک حقیقی عالم گیر معیار قائم کرتا ہے، جو ہر انسان پر، قطع نظر اس کی مذہبی شناخت کے مساوی طور پر لاگو ہوتا ہے۔ آئیے، مختصر طور پر اس معیار کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس عالم گیر معیار کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ قرآن کے چند بنیادی تصورات کا جائزہ لیا جائے۔

قرآن کی ایک بنیادی تعلیم جو تقریباً ہر صفحے پر دہرائی گئی ہے، وہ یہ ہے :

ہم سب اللہ کی تخلیق ہیں اور مرنے کے بعد اللہ ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور ہر شخص سے اس کی گزاری ہوئی زندگی کا حساب لے گا، جس کا یا تو ابدی اچھا نتیجہ ہو گا یا ابدی سزا ملے گی۔ انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس برے انجام سے بچائے اور نیکی کی زندگی گزار کر جنت کا اہل بنے۔ جنت ایک کامل اور دائمی بقا والی جگہ ہے، جو مکمل سکون، خوشی، لذت، اور اطمینان کا ابدی گہوارہ ہے۔ یہ قرآن کا بنیادی پیغام ہے۔

اکثر مسلمانوں میں یہ عام تصور پایا جاتا ہے کہ صرف وہی لوگ جنت میں جائیں گے، جو اپنی شناخت بہ طور مسلمان کراتے ہیں۔ اس بات کے لیے عموماً سورۂ آل عمران کی اس آیت کو بہ طور دلیل پیش کیا جاتا ہے:

”اورجو اسلام کے سوا کوئی اوردین اختیارکرنا چاہے گا تو اُس سے وہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور قیامت میں وہ نامرادوں میں سے ہوگا ۔“ (آل عمران3 : 85)

اس آیت کے بارے میں میرے ذہن میں ایک سوال تھاکہ اگر یہ آیت واقعی یہ کہتی ہے کہ صرف وہی لوگ جنت میں داخل ہو سکتے ہیں جو خود کو مسلمان کہتے ہیں تو ان غیرمسلم افراد کے بارے میں کیا کہا جائے گا، جو اخلاقی لحاظ سے اچھے ہیں، اعلیٰ کردار کے حامل ہیں اور اپنی مخلصانہ کوششوں کے ساتھ اپنے مذہب کی تعلیمات کو دل سے مان کر ان پر عمل کرتے ہیں؟ بہت سے لوگ اس مصروف زندگی میں مختلف مذاہب کے مطالعے کا وقت نہیں نکال سکتے، کیونکہ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں جُتے رہتے ہیں۔ کیا یہ لوگ محض اس وجہ سے جہنم میں جائیں گے کہ وہ مسلم شناخت نہیں رکھتے؟ اس کے علاوہ، جو فرد کسی مسلم خاندان میں پیدا ہوتا ہے، اس کے لیے اسلام پر قائم رہنے اور اسی حال میں دنیا سے رخصت ہونے کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں، بہ نسبت اس شخص کے جو کسی غیرمسلم خاندان میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ حقیقت اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ کسی فرد کی نجات اس کے پیدایشی حالات سے بڑی حد تک متاثر ہو سکتی ہے۔ بہ ظاہر ، یہ معاملہ غیرمنصفانہ محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو غیرمسلم خاندان میں پیدا ہونے کا فیصلہ کرے تو وہ شخص ابتدا ہی سے ایک بڑے نقصان میں ہوگا، خاص طور پر جنت میں داخلے کے شرائط کے اعتبار سے، وہ ایک واضح خسارے میں رہے گا۔

جب میں نے ان سوالات پر گہرائی سے غور کیا تو یہ واضح ہوا کہ قرآن کا معیارِ نجات کسی مخصوص مذہبی شناخت تک محدود نہیں۔سورۂ آل عمران کی مذکورہ آیت کو جب وسیع سیاق و سباق میں دیکھا گیا تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ قرآن کسی مخصوص گروہ، یعنی صرف مسلمانوں کو جنت کی ضمانت نہیں دیتا۔ میں اس مسئلے کی مزید وضاحت آیندہ ایک فصل میں کروں گا۔قرآن اس تصور کی نفی کرتا ہے کہ صرف مسلمان ہی جنت میں داخل ہوں گے۔ اس کے برعکس، کتاب اللہ نجات اور جنت میں داخلے کے لیے ایک عالم گیر معیار پیش کرتی ہے۔ جو بھی اس معیار پر پورا اترے گا، وہ چاہے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، جنت کا حق دار ہوگا۔ اخروی کامیابی کے اس اصول کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے، ہمیں قرآن کے دو انتہائی اہم تصورات کو دیکھنا ہوگا۔

اپنی ابتدائی جوانی میں مجھے یہ تعلیم دی گئی کہ مختلف مذاہب کے مطابق، انسان میں خدا اور اخلاقیات کا تصور موجود نہیں تھا اور یہ کہ مذہبی صحیفوں نے انسان کو ان تصورات سے روشناس کرایا۔ اس کے برعکس، قرآن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا کا بنیادی شعور اور خیر و شر کا احساس انسانی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ یہی فطری علم وہ بنیاد ہے جس پر ہم سب کا آخرت میں محاسبہ ہوگا، خواہ ہم کسی بھی مذہب یا تہذیب میں پیدا ہوئے ہوں۔

2۔ خدا کا شعور فطری ہے

قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ تمام انسان اپنے ایک اعلیٰ خالق کی تخلیق ہونے کا فطری شعور رکھتے ہیں۔ خاص طور پر سورۂ اعراف کی آیت 172 میں قرآن اعلان کرتا ہے کہ تمام انسان اپنے خالق کے بارے میں فطری آگاہی رکھتے ہیں۔ یہاں قرآن ایک ایسی گواہی کا ذکر کرتا ہے، جو تمام روحوں نے دنیا میں آنے سے قبل اپنے خالق کے بارے میں دی تھی۔ یہ فطری شعور کہ ہم ایک عظیم قوت کی تخلیق ہیں، ہمیں خدا پر یقین رکھنے کی طرف مائل کرتا ہے۔

یہ بات قابلِ فہم ہے، کیونکہ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، تقریباً تمام انسانی تہذیبوں میں—چند استثنائی مثالوں کے سوا—خدا یا خداؤں پر ایمان ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔

مزید برآں، مختلف علمی تحقیقاتی مطالعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انسانوں میں ایک عظیم ہستی پر یقین رکھنے کا مضبوط رجحان موجود ہے۔ اس نظریے کی حمایت میں کئی مطالعات موجود ہیں، جن میں سے ایک جدید ترین تحقیق کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ اس تحقیق میں 57 محققین شامل تھے، جنھوں نے 20 مختلف ممالک کے 40 سے زائد مطالعات کا تجزیہ کیا۔ اس طرح یہ مطالعات تمام ممالک کی متنوع ثقافتوں کی نمایندگی کرتے ہیں۔ تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان بہ ظاہر خدا یا خداؤں اور حیات بعد الموت پر یقین رکھنے کی فطری صلاحیت رکھتے ہیں۔ تحقیق کا ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ پانچ سال سے کم عمر کے بچے خاص طور پر ایک علیم و بصیر اعلیٰ ہستی پر یقین رکھنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

پروجیکٹ کے ڈائریکٹر، آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایان رمزے سینٹر1کے پروفیسر راجر ٹرِگ (Professor Roger Trigg) کہتے ہیں:

”یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ مذہب صرف کچھ مخصوص لوگوں کے لیے اتوار کے دن گولف کھیلنے کے بجاے کچھ اور (عبادت وغیرہ) کرنے کا نام نہیں۔ ہم نے شواہد کا ایک ذخیرہ جمع کیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مذہب مختلف معاشروں میں انسانی فطرت کا ایک عام حصہ ہے۔ اس کا معنی ہے کہ مذہب کو دبانے کی کوششیں مختصر مدت تک ہی کارآمد رہتی ہیں، کیونکہ انسانی فکر بہ ظاہر مذہبی تصورات—جیسے کہ مافوق الفطرت ہستیوں یا خدا کا وجود ہے اور حیات بعد از موت یا قبل از زندگی کے امکانات—میں پیوست ہے۔“2

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگرچہ بہت سے افراد بعد کی زندگی میں مختلف نظریات یا ماحول کے اثرات کی وجہ سے لاادریت یا الحاد کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، ابتدائی زندگی میں ہم سب فطری طور پر ایک اعلیٰ قوت پر یقین رکھنے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم خدا کے شعور کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جیسا کہ قرآن کا بیان ہے۔ حتیٰ کہ آج کے دور میں، جہاں الحاد بڑھ رہا ہے، زیادہ تر لوگ کسی نہ کسی شکل میں خدا، خداؤں یا ایک اعلیٰ قوت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ ہماری فطرت ہمیں اس یقین کی طرف مائل کرتی ہے۔

3۔ نفس انسانی میں خیر و شر کا علم

قرآن کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی فطرت میں نہ صرف یہ علم رکھا ہے کہ اس کا ایک خالق ہے، بلکہ پروردگار نے اسے اچھائی اور برائی کا شعور بھی عطا کیا ہے۔3 قرآن کی اس ایک آیت نے میرے اس پرانے سوال کا جواب فراہم کیا کہ ایسا کیوں ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کسی مذہب یا الہامی رہنمائی کو مانے بغیر ہی اچھے اخلاق و کردار کے مالک ہوتے ہیں؟

قرآن ایک بار پھر ایک ایسا نقطۂ نظر پیش کرتا ہے جو دل پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ ہر صاحبِ عقل انسان میں نیکی اور بدی کے مابین فرق کرنے کی ایک فطری صلاحیت موجود ہوتی ہے، اور عمومی طور پر ہر ایک کو یہ شعور بھی حاصل ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ مثال کے طور پر، تاریخ کے ہر دور میں انسانوں نے ظلم و جبر کو نقصان دہ برائی اور سچائی و دیانت داری کو نیکی اور اخلاقی فضیلت مانا ہے۔ تاریخی طور پر دیکھیں تو جب انسانوں نے ظالمانہ افعال کا ارتکاب کیا بھی تو انھوں نے ان اعمال کو کسی بلند و برتر مقصد کی طرف منسوب کرتے ہوئے جائز ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مثلاً، بہت سے فاتحین نے اپنی ظالمانہ جنگی مہمات کو عالمی امن کے قیام جیسے اعلیٰ مقاصد سے متعلق کیا۔اسی طرح، مختلف ثقافتوں میں انسانوں کی قربانی جیسے ہول ناک اعمال کو اپنے خداؤں کو راضی کرنے کے نیک ارادے سے جائز قرار دیا گیا۔ ان لوگوں کا دعویٰ یہ ہوتا تھا کہ وہ یہ کام اس لیے کرتے ہیں کہ خدا راضی ہوں اور اس طرح قوم یا قبیلے کے لیے خوش حالی اور برکت حاصل ہو۔ اگرچہ مختلف ثقافتوں میں نیکی اور بدی کی تعریف مختلف ہو سکتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں بھی آ سکتی ہیں اور ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں کسی طرح کی دماغی چوٹ نے ایک فرد کی اخلاقی حس کو متاثر کیا، لیکن اس کے باوجود ایک بنیادی حقیقت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ ہمارے اندر ایک فطری نظام موجود ہے جو ہمیں نیکی اور بدی میں تمیز کرنے کی صلاحیت دیتا ہے اور ہمیں اچھائی اور برائی میں فرق کے عمومی ادراک کے قابل کرتا ہے۔

حتیٰ کہ اکثر مجرم اور نفسیاتی مریض بھی اچھائی اور برائی کے فرق کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ ناانصافی، ظلم اور کسی کی جان، عزت یا مال کو ناحق نقصان پہنچانا غلط ہے۔ ہم کہہ سکتے کہ انھیں یہ شعور حاصل ہے، کیونکہ اگرچہ وہ دوسروں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں، مگر خود وہ ایسے نقصانات کا نشانہ نہیں بننا چاہتے۔ یہ نیکی اور بدی میں فرق کرنے کا عالمی معیار ہماری فطرت میں اس قدر نمایاں اور واضح ہے کہ ہم میں سے ہر شخص برے اعمال کو اس وقت فوراً پہچان لیتا ہے، جب وہ ہمارے خلاف کیے جائیں۔ بائیبل کی ایک آیت میں اس معیار کو انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ قیامت کے دن جس عالمی اصول کے مطابق انسانوں کے انجام کا فیصلہ ہو گا، اس کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:

”جس معیار پر تم دوسروں کا حساب لیتے ہو، اسی معیار پر تمھارا بھی حساب لیا جائے گا، اور جس پیمانے سے تم دوسروں کو ماپتے ہو، اسی پیمانے سے تمھارے لیے بھی ماپا جائے گا۔“ (متی 7: 2)

عدل و انصاف کے عالمی معیار پر وارد آیت پر بحث سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ان پانچ بنیادی اصولوں کو سمجھ لیں جن کے مطابق قیامت کے دن احتساب ہو گا۔

4۔ دینونت الٰہی کے کچھ اصول

الف۔ آزمایشیں سب کے لیے یکساں نہیں ہوتیں

ایک طویل عرصے تک میرے ذہن میں یہ سوال گردش کرتا رہا، جس کا کوئی تسلی بخش جواب مجھے نہ مل سکا کہ اگر ایک خدا موجود ہے جو انسانیت کا احتساب کرے گا تو کیا ایک تعلیم یافتہ اور مال دار شخص، جس کے پاس فکر و تدبر کے لیے وافر وقت اور وسائل موجود ہیں، اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا، جس پر ایک غریب مزدور کا احتساب ہوگا، جو اپنی پوری زندگی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشغول رہا اور جس کے پاس ان وجودی سوالات پر غور کرنے کا موقع ہی نہ تھا؟ اسی طرح، کیا ایک ایسے شخص کا حساب، جو مضبوط اخلاقی ماحول میں پروان چڑھا ہو، اس شخص کے برابر ہوگا جو محروم اور بگڑے ہوئے ماحول میں اپنی زندگی گزارتا رہا؟ قرآن کی سورۂ انعام کی آیت 165کے مطابق، تمام لوگوں کا احتساب برابر نہیں ہوگا۔ احتساب کا پیمانہ ہر فرد کے لیے اس کی آزمایش کے مطابق ہوگا۔ تمام انسانوں کا محاسبہ ان کے حالات اور انھیں دی گئی نعمتوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ہر فرد اپنی صلاحیت، عقل اور حالات کے مطابق جواب دہ ہوگا اور اسی انصاف پر اللہ کا عدل مبنی ہوگا۔

ب۔ مکمل انصاف کیا جائے گااور کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

ایک اور انتہائی اہم قرآنی اصول یہ ہے کہ قیامت کے دن کسی پر بھی ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔ جیسا کہ قرآن کی سورۂ انبیاء کی آیت 47 میں فرمایا گیا ہے کہ اس دن انصاف اس قدر مکمل اور بے عیب ہوگا کہ ہر شخص—حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جنھیں سزا دی جائے گی—یہ تسلیم کریں گے کہ مکمل انصاف کیا گیا ہے ۔4

ج۔ آپ کو وہی ملے گا جس کے لیے آپ نے دنیا میں سعی کی ہوگی

قرآن ایک واضح اصول بیان کرتا ہے:

”اور یہ کہ انسان کو آخرت میں وہی ملے گا جو اُس نے دنیا میں کمایا ہے اور یہ کہ جو کچھ اُس نے کمایا ہے، وہ عنقریب دیکھا جائے گا، پھر اُس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔“

(النجم53 : 39-41)

سورۂ کہف کی آیات 17 تا 19 اس حقیقت پر زور دیتی ہیں کہ جو لوگ دنیوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، انھیں ان کی صلاحیتوں اور کوششوں کے مطابق ان کا مکمل اجر اسی دنیا میں دے دیا جائے گا، لیکن آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں ہو گا۔اس کے برعکس، وہ لوگ جو آخرت کی کامیابی کے طلب گار ہیں، انھیں اس دنیا میں ان کا مقررہ رزق تو ضرور ملے گا، لیکن ان کا اصل اجر آخرت میں دیا جائے گا۔قرآن کی یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ دنیوی زندگی کی بہتری کے لیے کوشش کرنا نہ صرف جائز، بلکہ ضروری ہے، بشرطیکہ یہ کوشش آخرت کی قیمت پر نہ ہو۔دنیا اور آخرت، دونوں کی کامیابی کے لیے متوازن رویہ اپنانا ہی قرآنی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔

گویا قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہر انسان وہی پائے گا، جس کے لیے اُس نے کوشش کی ہوگی۔ یہ بات انسانی فطرت اور عقلی اصولوں کے عین مطابق ہے۔

د۔ صغیرہ گناہ قابل معافی ہیں

اللہ کے احتساب اور عدالت کے نظام کا ایک اور نہایت اہم اصول یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بڑے گناہوں اور جرائم سے اجتناب کرتا ہے تو اس کے چھوٹے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ قرآن کی سورۂ نساء کی آیت 31 میں یہ اصول ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

”تمھیں جن چیزوں سے منع کیا جا رہا ہے، اُن کے بڑے بڑے گناہوں سے اگر تم بچتے رہے تو تمھاری چھوٹی برائیوں کو ہم تمھارے حساب سے ختم کر دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ داخل کریں گے ۔ “

ہ۔ یہ بات انتہائی اہم ہے کہ انسان جسے حق سمجھتا ہو، اس پر عمل کرے، چاہے وہ غلطی پر ہی کیوں نہ ہو !

قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ لوگ اخلاص کے ساتھ اس حق پر عمل کریں جسے وہ دل سے حق سمجھتے ہیں، چاہے اس مخصوص معاملے میں ان کا اعتقاد غلط ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعتقاد اور عمل، دونوں میں اخلاص کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔

یہ اصول قرآن کی سورۂ بقرہ کی 187 میں واضح کیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے:

اس آیت میں قرآن چند صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں تبصرہ کرتا ہے، جو غلطی سے یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اللہ نے رمضان کے مہینے میں میاں بیوی کے درمیان مباشرت کو مکمل طور پر حرام قرار دے دیا ہے، یہاں تک کہ رات کو افطار کے بعد بھی یہ عمل جائز نہیں رہتا۔ اس اعتقاد کے باوجود، ان صحابہ نے رات کو افطار کے بعد اپنی بیویوں سے مباشرت کی۔ قرآن نے واضح کیا کہ صحابہ کے اس موقف میں غلطی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ رمضان کی راتوں میں افطار کے بعد میاں بیوی کے درمیان مباشرت جائز ہے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ نے ان صحابہ سے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ عمل اللہ کی طرف سے منع کیا گیا ہے تو پھر اس اعتقاد کے باوجود ان کا ایسا کرنا غلط تھا۔ اصول یہ ہے کہ اگر آپ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ نے کسی چیز کو منع کیا ہے تو آپ کو اس سے باز رہنا چاہیے، چاہے آپ کا یہ اعتقاد غلط ہی کیوں نہ ہو۔ زیر بحث آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

”روزوں کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا تمھارے لیے جائز کیا گیا ہے۔ وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے دیکھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اُس نے تم پر عنایت فرمائی اور تم سے درگذر کیا۔چنانچہ اب (بغیر کسی تردد کے) اپنی بیویوں کے پاس جاؤ اور (اِس کا )جو( نتیجہ) اللہ نے تمھارے لیے لکھ رکھا ہے، اُسے چاہو، اور کھاؤ پیو، یہاں تک کہ رات کی سیاہ دھاری سے فجر کی سفید دھاری تمھارے لیے بالکل نمایاں ہو جائے۔ پھر رات تک اپنا روزہ پورا کرو۔ اور ہاں، تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو رات کو بھی بیویوں کے پاس نہ جانا۔ یہ اللہ کی مقررکی ہوئی حدیں ہیں، سو اِن کے قریب نہ جاؤ۔ اللہ اِسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں ۔“ (البقرہ2: 187)

اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

”ابتدا میں اگرچہ اس قسم کا کوئی صاف حکم موجود نہ تھا کہ رمضان کی راتوں میں کوئی شخص اپنی بیوی سے مباشرت نہ کرے، لیکن لوگ اپنی جگہ یہی سمجھتے تھے کہ ایسا کر نا جائز نہیں ہے۔ پھر اس کے ناجائز یا مکروہ ہونے کا خیال دل میں لیے ہوئے بسا اوقات اپنی بیویوں کے پاس چلے جاتے تھے۔ یہ گویا اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت کا ارتکاب تھا اور اس سے اندیشہ تھا کہ ایک مجرمانہ اور گناہ گارانہ ذہنیت اُن کے اندر پرورش پاتی رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے اس خیانت پر تنبیہ فرمائی اور پھر ارشاد فرمایا کہ یہ فعل تمھارے لیے جائز ہے۔ لہٰذا اب اسے برا فعل سمجھتے ہوئے نہ کرو، بلکہ اللہ کی اجازت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے قلب و ضمیر کی پوری طہارت کے ساتھ کرو ۔“ (تفہیم القرآن1/ 145)

مذکورہ بالا مثال سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قرآن انسانوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ اس حقیقت پر عمل کریں، جسے وہ سچائی سمجھتے ہیں، چاہے ان کے اعتقاد میں کسی قسم کی غلطی ہی کیوں نہ ہو۔تاہم، یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ قرآن انسانوں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ہمیشہ خدا اور دین کے متعلق منطقی اور مدلل باتوں پر غور و فکر کریں، اور ان امور کا جائزہ تعصبات سے بالاتر ہو کر، ان کے اصل دلائل کی بنیاد پر لیں۔یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ قیامت کے دن حقیقی اور خلوص پر مبنی غلطیوں کو معاف کر دیا جائے گا، لیکن جان بوجھ کر غفلت برتنا یا کسی ناحق وجہ سے سچائی کو قبول کرنے سے انکار کرنا ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

5۔ خدا کی طرف سے احتساب کا آفاقی معیار

اب، جب کہ ہم کچھ ابتدائی تصورات پر گفتگو کر چکے ہیں، آئیے، اس آیت کی طرف رجوع کرتے ہیں، جہاں قرآن قیامت کے دن خدائی عدالت کے تین اہم اصولوں کی وضاحت کرتا ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت 62 میں ارشاد ہوتا ہے:

”وہ لوگ جو (نبی امی پر) ایمان لائے ہیں اور جو (اِن سے پہلے) یہودی ہوئے اور جو نصاریٰ اور صابی کہلاتے ہیں، اُن میں سے جن لوگوں نے بھی اللہ کو مانا ہے اور قیامت کے دن کو مانا ہے اور نیک عمل کیے ہیں، اُن کے لیے اُن کا صلہ اُن کے پروردگار کے پاس ہے اور (اُس کے حضور میں) اُن کے لیے نہ کوئی اندیشہ ہو گا اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے۔“

اس آیت کے مطابق، تمام انسانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر ودیعت کردہ فطری ہدایت پر لبیک کہیں اور درج ذیل اعمال انجام دیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو یا وہ کسی بھی مذہبی شناخت کے حامل ہوں:

1۔ تمام انسانوں کو اپنے اندر موجود خدا کے شعور کے جواب میں، اپنی زندگی اس معرفت کے ساتھ گزارنی چاہیے کہ وہ ایک اعلیٰ ہستی کی تخلیق ہیں۔

2۔ تمام انسانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس امکان پر غور و فکر کریں کہ انھیں ایک اعلیٰ طاقت، اللہ تعالیٰ، کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔ اللہ اوراخروی حساب کو اپنی زندگی کے اہم ترین معاملات میں شامل کرنا لازمی ہے۔ ان کے طرزِ عمل میں اللہ کے وجود اور اس کے حضور جواب دہی کا شعور ہمیشہ قائم رہنا چاہیے۔

3۔ انسانوں کو دیانت داری کے ساتھ اچھائی اور برائی کے اپنے فطری شعور اور احساس کو استعمال کرتے ہوئے، جو کچھ وہ سچائی اور اچھائی سمجھتے ہیں، اسے اپنانا چاہیے اور جسے وہ برائی اور غلط سمجھتے ہیں، اسے ترک کرنا چاہیے۔

اسلام اس تصور میں کہاں کھڑا ہے؟ اس سوال کو سمجھنے کے لیے ہمیں چند بنیادی تصورات کا گہرائی سے ادراک کرنا ہوگا۔

6۔ اسلام کیا ہے؟

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، اللہ کا شعور اور اچھائی و برائی کے تصورات انسان کی فطرت میں ودیعت ہیں۔اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے پہلے انسانوں سے براہ راست مخاطب ہو کر ان کے اندر موجود اس فطری شعور کی تفصیلات انھیں پہنچائیں۔ ان تفصیلات میں یہ امور شامل تھے کہ ہمارا خالق کون ہے؟ خالق ہم سے کیا چاہتا ہے؟ زندگی میں ہمارے مقصد کی تکمیل کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ 5جب انسانوں نے وقت گزرنے کے ساتھ اس الہامی ہدایت میں بگاڑ پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے انبیا اور رسولوں کو مبعوث کیا اور کتابیں نازل کیں، تاکہ لوگ حق اور تحریف شدہ حق کے درمیان فرق کر سکیں۔6

قرآن کریم میں موجود یہ الہامی ہدایت وہی ہے جو پہلے انسانوں کو دی گئی تھی۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک برابر جاری رہی ۔ 7 قرآن یہ واضح کرتا ہے کہ یہ الہامی سچائی ہر دور میں یکساں رہی ہے۔ دیگر مذاہب، جیسے یہودیت اور عیسائیت، انبیا کے ذریعے سے پہنچائی گئی، اسی ہدایت کی تقسیم اور اس میں پیدا ہونے والے انحرافات کی شکلیں ہیں۔8

اسلام وہ واحد دین ہے، جو اخروی عدالت میں زیادہ سے زیادہ کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ 9 عربی زبان میں ”اسلام “ کا مطلب ہے ”اطاعت کرنا“، اور ”مسلم“ وہ شخص ہے، جو اللہ اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے سر تسلیم خم کر دے۔

7۔ اسلام یا ”حق “کا بلا جواز انکار: ایک سنگین جرم

انسان کے لیے قیامت کے دن نجات کی راہ میں کچھ سنگین جرائم خطرناک رکاوٹ بن سکتے ہیں، چاہے وہ اپنی زندگی قرآن کی سورۂ بقرہ کی آیت 62 میں بیان کردہ معیار کے مطابق ہی کیوں نہ گزارتا رہا ہو۔فرض کریں کہ ایک شخص اپنی زندگی اس معیار کے تحت گزارتا ہےکہ وہ اپنے خالق کو تسلیم کرتا ہے، اس کے سامنے جواب دہی کا خوف رکھتا ہے اور اپنے اندر موجود اخلاقی شعور کے مطابق عمل کرتا ہے۔ لیکن اگر اس نے کسی بے گناہ شخص کو ناحق قتل کر دیا تو قرآن کے مطابق یہ ایسا جرم ہے کہ اس کے تمام اعمال اور ایمان کی اہمیت کو ختم کر سکتا ہے اور اسے قیامت کے دن ہمیشہ کی ذلت میں مبتلا کر سکتا ہے۔ 10قتل اور دیگر سنگین جرائم کی طرح، کسی رسول کے ذریعے سے آنے والی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو بغیر کسی عذر کے رد کرنا یا اس کے متعلق مجرمانہ غفلت برتنا بھی ایک شدید جرم ہے۔ یہ جرم قیامت کے دن انسان کی نجات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، چاہے اس کی زندگی دیگر معاملات میں اخلاقی اصولوں کے مطابق کیوں نہ رہی ہو، کیونکہ رسول کا انکار درحقیقت خدا کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے۔

چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا کی طرف سے ہدایت کا آخری ذریعہ ہیں، ہر شخص سے یہ سوال کیا جائے گا کہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔ کیا اس نے اس بات پر توجہ دی؟ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا اس نے اسے سنا اور رد کر دیا؟ اگر ہاں تو کیوں؟ کیا اس نے اسے سنا اور قبول کر لیا؟ اگر ہاں تو کیوں؟ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی ہدایت کے متعلق یہی سوالات متوقع ہیں۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر فرد کا احتساب اس کی صلاحیتوں اور حالات کے مطابق ہوگا۔ حقیقی اور مخلصانہ غلطیاں معاف کر دی جائیں گی، لیکن جو لوگ خدا کے پیغام کو بغیر عذر رد کریں گے، انھیں سزا دی جائے گی۔ مثال کے طور پر، اگر مجھے احساس ہو کہ کوئی بات واقعی خدا کی طرف سے آئی ہے، اور میں اسے اپنے نفس، خواہشات، تعصبات، مفادات یا اپنی قوم یا قبیلے کے مفادات کی وجہ سے رد کر دیتا ہوں تو یہ جرم شمار ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ میرے پاس اس کے لیے ضروری وقت اور عقل و سمجھ ہو، لیکن میں خدا کے پیغام کی جانب مجرمانہ غفلت برتتا رہا ہوں، حالاں کہ وہ مجھے مختلف ذرائع سے اس صورت میں پہنچا کہ میرے ذہن میں اس کے بارے میں کچھ ایسے سوالات اٹھے جن کے جواب ضروری تھے۔ اس کے باوجود، میں دنیا کے معاملات میں اتنا مشغول رہا کہ ان شکوک و شبہات کو حل کرنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ یقیناً خدا کے خلاف بغاوت کے زمرے میں آئے گا، اور یہ بالکل معقول بات ہے کہ اگر واقعی کوئی خدا موجود ہے، جو ہر ایک کا احتساب کرے گا تو اس کے پیغام سے ایسی بے اعتنائی کے سنگین نتائج ہوں ۔

غلطی پر سزا نہیں دی جائے گی

جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، اگر کوئی شخص الوہی حق کے بارے میں مخلص ہوتے ہوئے غلط عقیدہ اختیار کرتا ہے مخلصانہ اور حقیقی غلطی کرتا ہے تو اسے معاف کر دیا جائے گا۔ مثال کے طور پر، مسلم دنیا میں اسلام اپنی موجودہ شکل میں ایک پیچیدہ مذہب بن چکا ہے، جس میں نظریاتی تقسیم پائی جاتی ہے۔ اگر کسی شخص کو خالص الہامی حق کے بجاے اس کی کوئی ایسی مسخ شدہ شکل پیش کی جائے جو اخلاقی، عقلی یا اصولی طور پر درست نہ لگے تو اس شخص کو اس غلط فہمی کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔اسی طرح، اگر کوئی شخص بنیادی ضروریات کی جدوجہد میں الجھا ہوا ہو اور مختلف نظریات کو سمجھنے کا وقت نہ نکال سکے تو ایسے افراد کو بھی حقیقی غلطی کرنے والا سمجھا جائے گا اور اس بنیاد پر انھیں قرآن کو حق یا اسلام کو اللہ تعالیٰ کے نظامِ زندگی کے بارے میں منظم ہدایت کے طور پر نہ اپنانے پر بھی معاف کیا جا سکتا ہے۔ ان کا اخروی حساب سورۂ بقرہ کی آیت 62 میں بیان کردہ میزان کے مطابق کیا جائے گا، جس میں ان کے اندر موجود اللہ تعالیٰ کا شعور، اچھائی اور برائی کی تمیز اور اس علم کے مطابق ان کے طرزِ زندگی کو مدنظر رکھا جائے گا۔

ہمارے اندر ودیعت کردہ اچھائی اور برائی کے شعور کے مطابق، جو خدا کی طرف سے ہے، کسی حقیقی غلطی پر سزا دینا غیر منصفانہ ہے۔ مثال کے طور پر، اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی شخص ”زید“نے”بکر“ کو محض ایک حقیقی غلطی کے نتیجے میں قتل کر دیا تو ”زید“ کو قتل کی انتہائی سزا نہیں دی جانی چاہیے، یا کم از کم اس کی سزا عام قتل کی سزا سے نمایاں طور پر کم ہونی چاہیے۔قرآن اس تصور کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور یہ بیان کرتا ہے کہ حقیقی غلطیوں کو دانستہ جرائم کے برابر نہیں سمجھا جاتا۔ مثال کے طور پر، قرآن میں اللہ تعالیٰ کا واضح اعلان موجود ہے کہ وہ صرف ان لوگوں کو سزا دیتا ہے جو جان بوجھ کر خود پر ظلم کرتے ہیں یا دانستہ جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔خدا کس طرح حقیقی غلطیوں کو معاف کرتا ہے اور صرف ان افراد کو سزا دیتا ہے، جو بلا عذر اس کے پیغام کو رد کرتے ہیں، اس حوالے سے تفصیل کے لیے اس کتاب کی فصل ”رسولوں کے بلا عذر انکار کی وجوہات“ ملاحظہ کریں۔

8۔ سورۂ آل عمران کی آیت 85 کی وضاحت

یہ آیت اکثر یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کی جاتی ہے کہ صرف وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں، اور باقی کوئی یہ فوزِ عظیم نہیں پا سکتا۔ تاہم، جیسا کہ ہم نے پہلے تفصیل سے بیان کیا ہے، یہ تصور قرآن میں بیان کردہ عالم گیر نجات کے معیار سے مکمل طور پر متصادم ہے۔

جب سورۂ آل عمران کی آیت 85 کو اس کے صحیح سیاق و سباق میں رکھ کر سمجھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ صرف وہی لوگ جنت میں جائیں گے جو اپنی شناخت ”مسلمان“ کے طور پر کراتے ہیں، بلکہ یہ آیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ جان لے کہ اسلام خدا کی جانب سے مقرر کردہ دین ہے، لیکن اس کے باوجود کسی اور راستے کا انتخاب کرے تو اس کا وہ انتخاب خدا کے ہاں قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہاں سیاق و سباق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کو مخاطب کرتی ہے ، جو یہ جانتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اسلام خدا کا مقرر کردہ دین ہے، لیکن اس کے باوجود بلا عذر اسلام کو ترک کر دیتے ہیں۔ آئیے، آیت پر غور کریں:

”اورجو اسلام کے سوا کوئی اوردین اختیارکرنا چاہے گا تو اُس سے وہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور قیامت میں وہ نامرادوں میں سے ہوگا۔(تم اِن کی ہدایت چاہتے ہو)؟ اللہ اُن لوگوں کو ہدایت کس طرح دے گا جو ماننے کے بعد منکر ہوگئے، دراں حالیکہ وہ اِس بات کے گواہ ہیں کہ یہ رسول سچے ہیں اور(اِن کی سچائی پر گواہی کے لیے) اُن کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں بھی آچکی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ اِس طرح کے ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔“ (آل عمران3 : 85-86)

لہٰذا جب اس آیت کو سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر کسی کو یہ علم ہو جائے کہ اسلام واقعی خدا کی جانب سے ہے اور پھر بھی وہ کسی اور راستے کو اختیار کرے تو یہ راستہ قیامت کے دن قبول نہیں ہوگا۔ یہ بات بالکل منطقی معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص جانتے ہوئے بھی خدا کے مقرر کردہ دین کو رد کرے اور کسی اور راستے پر چلے تو یہ خدا کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے۔ اور اگر واقعی کوئی خدا موجود ہے تو یہ انصاف کے عین مطابق ہے کہ وہ ایسے عمل پر سزا دے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اگر لوگ بغیرالوہی حق کو جانے نجات حاصل کر سکتے ہیں تو پھر اس کے ابلاغ کی ضرورت کیا ہے؟

9۔ پیغمبروں کے ذریعے سے حقائق کاابلاغ: انسانیت کے لیے ایک آزمایش

اللہ تعالیٰ کی جانب سے پیغمبروں کے ذریعے سے دی جانے والی الہامی ہدایت انسان کی اخلاقی صلاحیتوں کو جانچنے کا ذریعہ ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ دنیوی زندگی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان کو مختلف آزمایشوں سے گزار کر اس کے اخلاقی مقام کو حتمی درجے میں واضح کیا جائے۔ جو لوگ انبیا کی لائی ہوئی اس الہامی ہدایت کو قبول کرتے ہیں، ان کے لیے آزمایش یہ ہوتی ہے کہ وہ کتنے خلوص، دیانت داری اور مستقل مزاجی کے ساتھ ان تعلیمات کو سمجھتے ہیں، ان پر عمل کرتے ہیں اور انھیں دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ دوسری طرف، جن لوگوں تک یہ ہدایت پہنچتی ہے، ان کے لیے یہ ایک اخلاقی امتحان ہوتا ہے کہ وہ ان تعلیمات پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ علم حقائق کو تسلیم کر کے دوسروں تک پہنچانے والے اور ان کے مخاطبین، دونوں اس عمل میں ایک اخلاقی آزمایش سے گزرتے ہیں۔ 11

10۔ قیامت کے دن نجات کے لیے قرآنی معیار کا خلاصہ

قرآن میں اخروی احتساب کا جو نظام پیش کیا گیا ہے، وہ ایک ایسا عالم گیر پیغام ہے جو دنیا کی مذہبی شناختوں اور حدود سے بالاتر ہے۔ قیامت کے دن ہر انسان کو انفرادی طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال اور طرزِ زندگی کا حساب دینا ہوگا۔ اس دن کی عدالت میں کامیابی انسان کو دائمی جنت کی نعمتوں کا حق دار بنائے گی، جب کہ ناکامی ہمیشہ کے عذاب کا سبب بنے گی۔اس عدالت میں ہر شخص، چاہے وہ کسی بھی قوم، تہذیب یا مذہب میں پیدا ہوا ہو، درج ذیل اصولوں کی بنیاد پر پرکھا جائے گا:

-کیا اس نے اپنی صلاحیتوں اور حالات کے مطابق خدا کی برتر اور عظیم ہستی کے فطری شعور کو پروان چڑھایا؟

– کیا اس نے اپنے اندر موجود اچھائی اور برائی کے شعور کو ایمان داری اور خلوص کے ساتھ استعمال کیا؟

مزید یہ کہ قیامت کے دن ہر فرد سے یہ سوال بھی کیا جائے گا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اللہ کے الہامی حقائق ان تک پہنچے تو ان پر ان کا ردعمل کیا تھا؟ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں حقیقی اور مخلصانہ غلطیوں کو معاف کر دیا جائے گا اور چھوٹے گناہوں سے درگذر کیا جائے گا ۔ لیکن دانستہ غفلت یا باطل اور بلاجواز رویے اور اعمال پر سزا دی جائے گی۔

انسان صرف جسمانی یا جذباتی وجود نہیں ہے، بلکہ وہ ایک عقلی اور اخلاقی وجود بھی ہے۔ قرآن یہ واضح کرتا ہے کہ ہر انسان ایک امتحان سے گزر رہا ہے، اور یہ امتحان اس کے اخلاق، کردار اور رویے کا ہے۔ آپ اپنی روزمرہ زندگی میں اپنی فطری ہدایت پر کس طرح عمل کرتے ہیں اور بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی ہدایت پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں، یہ تمام چیزیں آپ کی اخلاقی حالت اور درجے کو ظاہر کرتی ہیں۔

قرآن کے قیامت کے دن حساب کے معیار نے مجھے بھی بے حد متاثر کیا ہےاور اس میں مجھے کوئی اخلاقی یا عقلی اعتراض نظر نہیں آتا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن جس خدا کا تصور پیش کرتا ہے، وہ مجھ سے کیا چاہتا ہے تاکہ میں اس امتحان میں کامیاب ہو سکوں اور جنت کی نعمتوں کا حق دار بن جاؤں؟

11۔ اخروی عدالت میں کامیابی کے تقاضے

اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغمبروں اور رسولوں کے ذریعے سے بھیجا گیا حق ہے۔ یہ ایک مخصوص لائحۂ عمل فراہم کرتا ہے، جو قیامت کے دن کے احتساب میں زیادہ سے زیادہ کامیابی کو یقینی بناتا ہے۔

الف۔ تزکیۂ نفس—دین کا واحد مقصد

قرآن کے مطابق، ہر انسان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کا تزکیہ کرے۔ جتنا زیادہ آپ اپنے نفس کا تزکیہ کریں گے، قیامت کے دن آپ کی کامیابی اتنی ہی بلند ہوگی۔12 پورا قرآن ان ہدایات سے بھرا ہوا ہے، جو انسانوں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ خود کو ہر قسم کی اخلاقی آلایشوں سے پاک کریں۔

”البتہ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی۔“ (الاعلیٰ87: 14)

”فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا۔ اور نامراد ہوا وہ جس نے اُسے آلودہ کر ڈالا۔“ (الشمس 91: 9-10 )

ب۔ رہبانیت کی اجازت نہیں: دنیوی آزمایش کے نظام میں بھرپور شرکت لازم ہے۔

جب ہم ایک مثالی مذہبی انسان کا تصور کرتے ہیں تو اکثر ہمارے ذہن میں رہبانیت یا گوشہ نشینی کا خیال آتا ہے، ایک ایسی زندگی جس میں دنیوی مصروفیات کو ترک کر کے مکمل طور پر عبادات اور روحانی معمولات میں مشغولیت اختیار کی جائے۔ لیکن کیا قرآن اس طرزِ زندگی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے؟ہرگز نہیں۔قرآن سورۂ حدید میں عیسائی راہبوں کی رہبانیت کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:

”مگر رہبانیت اُنھوں نے خود ایجاد کر لی۔ ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا۔ یہ بات، البتہ ضرور فرض کی تھی کہ وہ اللہ کی خوشنودی چاہیں۔ پھر(جیسے خود ایجاد کیا تھا)، اُس کی رعایت بھی اُس طرح نہیں کر سکے،جس طرح کہ اُس کا حق تھا۔ تاہم اُن میں سے جو لوگ ایمان پر قائم رہے، اُن کا اجر ہم نے اُنھیں عطا فرمایا، مگر اُن میں سے زیادہ نافرمان ہی نکلے ۔“ (الحدید57 :27)

قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو ایک آزمایش کے طور پر قائم کیا ہے تاکہ ان افراد کا انتخاب کیا جا سکے جو جنت کے مستحق ہوں، یعنی ایک ابدی دنیا جو نیکوکاروں اور اخلاقی طور پر پاکیزہ لوگوں کے لیے موزوں مقام ہے۔ اس آزمایش کے تحت اللہ تعالیٰ انسانوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ دنیوی زندگی میں بھرپور حصہ لیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ہر شخص اخلاقی طور پر کس درجے پر کھڑا ہے۔ اسی لیے قرآن زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے تفصیلی اخلاقی ہدایات فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، قرآن اچھے بیٹے یا بیٹی، شریکِ حیات، تاجر، پڑوسی، حکمران، منصف، مجاہد، اور دیگر کرداروں کے لیے اخلاقی رہنمائی پیش کرتا ہے۔

رہبانیت کی ممانعت معقول ہے کیونکہ اگر یہ دنیا ایک امتحان ہے اور قرآن کا خدا یہ چاہتا ہے کہ ہم اس امتحان میں حصہ لیں تو رہبانیت اختیار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی طالب علم امتحانی ہال سے باہر نکل جائے اور امتحان دینے سے انکار کر دے۔ اب، جب ہم دنیا کو امتحان کے طور پر دیکھنے کے تصور پر بات کر رہے ہیں تو اس پر دو مشہور اعتراضات ہیں، جن پر آگے بڑھنے سے پہلے روشنی ڈالنا ضروری ہے۔

12۔ مشہور اعتراضات کے جوابات

الف۔ اگر اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے تو پھر آزمایش کیوں ؟

یہ ایک عام سوال ہے اور اس کا مختصر جواب دینا ضروری ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وقت کی حقیقت، اللہ تعالیٰ کی ذات کی ماہیت اور یہ کہ اللہ مستقبل کو جانتے ہوئے بھی اسے قابو میں کیوں نہیں لاتے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جو ہماری محدود عقل سے بالاتر ہیں۔قرآن ہمیں ان معاملات میں الجھنے سے روکتا ہے، جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔

جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے:

”وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری ہے جس میں آیتیں محکم بھی ہیں جو اِس کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور (اِن کے علاوہ) کچھ دوسری متشابہات بھی ہیں۔ سو جن کے دل پھرے ہوئے ہیں، وہ اِس میں سے ہمیشہ متشابہات کے درپے ہوتے ہیں، اِس لیے کہ فتنہ پیدا کریں اور اِس لیے کہ اُن کی حقیقت معلوم کریں، دراں حالیکہ اُن کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ (آل عمران 3 : 7)

اس ارشاد کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں انسانوں کو آزمایش میں اس لیے نہیں ڈالتے کہ وہ ان کی اخلاقی حالت جان سکیں، بلکہ وہ انسانوں کو ان کے اپنے اعمال کے ذریعے سے اپنی اخلاقی حیثیت واضح کرنے کا موقع دیتے ہیں۔قرآن اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ انسان کے اعمال اور کردار کی بنیاد پر کرتے ہیں، نہ کہ صرف اپنے علم کی بنیاد پر ۔ 13

یہ بات انصاف کے عین مطابق ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے علم کی بنیاد پر، اور انسانوں کو کچھ کر دکھانے کا موقع دیے بغیر، فیصلہ صادر کر دیتے تو قیامت کے دن کوئی بھی باشعور مخلوق یہ اعتراض کر سکتی تھی کہ اسے اپنے اعمال کے ذریعے سے اپنی سچائی یا قابلیت ثابت کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے ہر انسان کو اپنی صلاحیتوں اور اعمال کے ذریعے سے اپنے آپ کو ثابت کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔

ب۔ کیا اللہ تعالیٰ انسان کی آزمایش کے بغیر اپنے مقاصد حاصل کر سکتے تھے؟

کیا یہ ممکن نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ جنت کے مکینوں کا انتخاب آزمایش کے بغیر کر لیتے؟ مثال کے طور پر، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو براہِ راست پیدا کر سکتے تھے جو جنت کے مستحق تھے اور ان کے دلوں میں یہ شعور ڈال دیتے کہ وہ اس مقام تک کیسے پہنچے، بغیر کسی تفصیلی آزمایش یا مشقت کے۔ بہ ظاہر یہ ممکن ہے، لیکن قرآن اس معاملے کو ایک مختلف زاویے سے بیان کرتا ہے۔ قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات پیدا کی ہیں جو ارادہ اور شعور رکھتی ہیں، جیسے انسان، جنات، فرشتے اور دیگر مخلوقات جن کے بارے میں ہمیں علم نہیں۔ یہ تمام مخلوقات اچھائی اور برائی کی تمیز اور عدل و انصاف کے شعور سے بہرہ مند ہیں۔اس تناظر میں، آزمایش کا یہ نظام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہترین ذریعہ ہے کہ جنت کے مکینوں کا انتخاب انصاف کے تمام اصولوں کے مطابق ہو۔ ہر وہ مخلوق جو آزاد ارادہ رکھتی ہے، اللہ کے فیصلے پر مطمئن ہو سکے۔قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ قیامت کے دن ہر مخلوق اللہ کے عدل کی گواہی دے گی اور اس کے فیصلوں کی کامل حقانیت کو تسلیم کرے گی۔14

13۔ نفس کا تزکیہ کیسے کیا جائے؟

آئیے، دیکھتے ہیں کہ قرآن ہمیں تزکیۂ نفس کے لیے کیا خاص طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت دیتا ہے تاکہ ہم قیامت کے دن کامیابی کی بلند ترین سطح کو حاصل کر سکیں۔

قرآن کے صفحات اخلاقی ہدایات سے بھرپور ہیں اور یہ ان موضوعات میں سے ایک ہے جو کلام پاک میں سب سے زیادہ سمجھنے میں آسان ہیں۔ یہاں میں قرآن کے رہنما نقشے کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا، جو تزکیۂ نفس کے لیے ضروری نکات پر روشنی ڈالتا ہے اور ان شعبوں کی نشان دہی کرتا ہے، جن میں ہمیں اپنی اصلاح کے لیے محنت کرنی چاہیے۔

سادہ الفاظ میں، قرآن کا اصل ہدف یہ ہے کہ انسان کو دو بنیادی پہلوؤں میں اخلاقی طور پر پاکیزہ بنایا جائے:

1۔ انسان کا اپنے رب کے ساتھ تعلق۔

2۔ انسان کا دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق۔

قرآن کے مطابق، اللہ کے ساتھ تعلق اور دوسروں کے ساتھ معاملات میں پاکیزگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان جسمانی طہارت اور کھانے کی پاکیزگی کا بھی خاص خیال رکھے۔ یہ ہدایت نہایت معقول ہے، کیونکہ عام مشاہدہ یہی ہے کہ ہماری جسمانی صفائی اور ہمارا کھانا نہ صرف ہماری جسمانی صحت، بلکہ ہماری نفسیات پر بھی گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔

تزکیۂ نفس کے حصول کے لیے قرآن کی طرف سے دیے گئے اس رہنما نقشے کو چار اہم نکات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1۔ جسم کی پاکیزگی۔

2۔ کھانے کی پاکیزگی۔

3۔ خدا کے تصور اور اس کے ساتھ تعلق کی پاکیزگی۔

4۔ اخلاقی وجود کی پاکیزگی، بالخصوص انسانوں کے ساتھ معاملات میں۔

جتنا زیادہ انسان ان شعبوں میں اپنی بہتری کے لیے محنت کرے گا، اتنا ہی وہ قیامت کے دن کامیابی کے قریب ہوگا۔ قرآن اس اصول کو واضح کرتا ہے کہ ہر انسان کو صرف وہی ملے گا جس کی وہ خود کوشش کرے گا۔

”اور یہ کہ انسان کو آخرت میں وہی ملے گا جو اُس نے دنیا میں کمایا ہے، اور یہ کہ جو کچھ اُس نے کمایا ہے، وہ عنقریب دیکھا جائے گا، پھر اُس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔“

(النجم 53 : 39-41)

آئیے، ان چار نکات کو الگ الگ دیکھتے اور ان کی وضاحت کرتے ہیں۔

1 ۔ جسمانی طہارت

ایک پاکیزہ جسم، پاکیزہ ذہن اور قلب کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ طہارت کے مخصوص طریقے اور اعمال انسان کو یہ یاددہانی کراتے ہیں کہ اسے اپنے نفس اور روح کی پاکیزگی کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔

قرآن میں جسمانی پاکیزگی کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز سے قبل وضو کے ذریعے سے رسمی طہارت کا حکم دیا ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ(2) کی آیت 222 اور سورۂ توبہ(9) کی آیت 108 میں ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح قرآن غسل اور جسم کی مکمل صفائی کا بھی حکم دیتا ہے، خاص طور پر جنابت یا حیض جیسی ناپاکی کی حالت کے بعد ۔ 15 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیا کی سنت اور روایت کے طور پر جسمانی صفائی کے مزید اصول متعارف کراے ، جن میں مردوں کے لیے ختنہ، زیر ناف اور بغل کے بال صاف کرنا اور مونچھوں کی تراش شامل ہیں۔ آپ نے نہ صرف جسمانی صفائی، بلکہ ماحول کو صاف ستھرا رکھنے پر بھی زور دیا۔ صفائی کی اہمیت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا: ”صفائی نصف ایمان ہے۔“(مسلم،رقم432)

2 ۔ خوراک کی پاکیزگی

انسان جو کچھ کھاتا ہے، وہ نہ صرف اس کی جسمانی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ اس کی ذہنی، جذباتی اور روحانی کیفیت پر بھی گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ماضی قریب تک امریکی میرینز کو تربیت کے دوران میں کوبرا کے خون کا استعمال کرایا جاتا تھا تاکہ ان میں جنگجویانہ جذبات پیدا کیے جا سکیں۔

قرآن انسان کو اس کی فطرت میں موجود رہنمائی پر چھوڑتا ہے اور مخصوص کھانوں کی تفصیلات میں جانے کے بجاے ایک عمومی اصول پیش کرتا ہےکہ مومنین کو ایسے چوپاے جانوروں کا گوشت کھانا چاہیے جو نباتات خور ہوں، اور گوشت خور جانوروں کے گوشت سے پرہیز کرنا چاہیے ۔16 یہ اصول انسان کی طبیعت کو نرم خو اور رحم دل بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے، کیونکہ پودے کھانے والے جانوروں کا شکار جارحیت کے بغیر بھی ممکن ہے، اور ان کا گوشت کھانے سے انسان کی شخصیت میں درندگی یا سفاکی جیسے اثرات پیدا نہیں ہوتے۔

اسلام میں جانوروں کو مارنے کی اجازت صرف دو مقاصد کے لیے دی گئی ہے: اپنی حفاظت یا خوراک کے لیے۔ خوراک کے لیے جانور کی جان لینے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے احسان کا شعور پیدا کرے۔اسی لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ جانور کو ذبح کرتے وقت تکبیر پڑھیں۔ یہ چند کلمات پر مشتمل دعا ہے، جس میں اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے کہ اس نے جانور کی جان لینے کے عمل کو جائز قرار دیا اور انسانوں کو گوشت جیسی عظیم نعمت اور غذائی سہولت عطا فرمائی۔

نوٹ: اگر آپ کے ذہن میں یہ سوال ہو کہ اللہ تعالیٰ نے خوراک یا قربانی کے لیے جانوروں کے ذبح کو کیوں جائز قرار دیا ہے تو اس کتاب کے سوال و جواب کے حصے میں اس موضوع پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

اب ہم آگے بڑھتے ہیں۔

اسلام میں ہر وہ خشکی کا درندہ جو خوراک کے لیے شکار کرتا ہے، حرام قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن میں واضح کیا گیا ہے۔ 17 اسی اصول کے تحت سؤر کا گوشت بھی قرآن میں نام لے کر ممنوع قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ سابقہ الہامی کتابوں میں بھی یہی حکم موجود ہے۔سؤر کی حقیقت طویل عرصے تک اشتباہ میں رہی ہے، لیکن اس کی ممانعت کی بنیاد یہ ہے کہ یہ ایک ہمہ خور جانور ہے، یعنی پودے اور گوشت، دونوں کھاتا ہے۔ اگرچہ یہ چوپایوں کی طرح کھُر رکھنے والا جانور ہے، لیکن یہ درندوں کی طرح شکار کر کے گوشت کھاتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے اسے گوشت خور جانوروں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے حرام قرار دیا ہے۔

اس کے برعکس، سمندر سے حاصل ہونے والے تمام جانور حلال قرار دیے گئے ہیں چاہے وہ گوشت خور ہوں یا پودے کھانے والے۔ 18اس کی وجہ یہ ہے کہ سمندری جانوروں کے حصول کے لیے، خشکی کے درندوں کے شکار کے برعکس، کسی جارحانہ یا خوں خوار کوشش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کا شکار ایک نسبتاً پرامن عمل ہے۔اسی بنا پر قرآن نے حج کے دوران میں احرام کی حالت میں مچھلی کے شکار کی اجازت دی ہے، جب کہ خشکی کے جانوروں کا شکار اس دوران میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

قرآن یہ بھی حکم دیتا ہے کہ ہر وہ جانور ممنوع ہے، جسے ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو یا جو کسی باطل معبود یا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسری ہستی کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔یہ حکم اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بندے کی تمام جذباتی اور روحانی وابستگیاں صرف اللہ کے ساتھ قائم رہیں۔ اس لیے ایسی خوراک سے پرہیز کرنا نہ صرف ایک دینی حکم ہے بلکہ ایک منطقی اور اخلاقی تقاضا بھی ہے۔

دیگر کھانے کی اشیا جنھیں قرآن ناپاک قرار دیتا ہے، ان میں خون، طبعی موت مرنے والے جانور، حادثات کا شکار ہونے والے جانور یا دوسرے جانوروں کے حملے سے ہلاک ہونے والے جانور کا گوشت شامل ہے۔اس حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے قرآن کی درج ذیل آیات ملاحظہ کریں: البقرہ2: 173۔ المائدہ5: 1 ،3۔ الانعام6: 121۔ النحل 16: 115۔

مزید برآں، قرآن مسلمانوں کو ان تمام اشیا سے بچنے کی تاکید کرتا ہے جو ذہن پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ انسان ہمیشہ ہوش و حواس میں رہے تاکہ زندگی میں درست اور ذمہ دار فیصلے کر سکے۔اسی بنا پر قرآن ہر قسم کے نشے کو حرام قرار دیتا ہے۔ اس کے مطابق، کوئی بھی چیز جو نشہ پیدا کرتی ہو، خواہ کم مقدار میں ہو یا زیادہ، اس کا استعمال ناجائز ہے۔ ان اشیا میں شراب، چرس، کوکین، میتھ اور ہیروئن جیسی منشیات شامل ہیں۔ 19

3۔ اللہ کے تصور کو درست کرنا اور اس سے تعلق کی پاکیزگی

اس بحث کو چار بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جو درج ذیل ہیں:

الف۔ اللہ تعالیٰ سے متعلق معاملات میں انتہائی سنجیدگی اور خلوص۔

ب۔ اللہ کے تصور کو درست اور ہر قسم کی فکری اور نظریاتی آلایشوں سے پاک رکھنا۔

ج۔ محبت، وفاداری، اطاعت اور عبادت کو محض ایک خدا—جس کا کوئی شریک نہیں ہے—کے لیے مختص رکھنا، اور اس معاملے میں کسی شریک یا واسطے کو درمیان میں نہ لانا۔

د۔ عبادات: اللہ سے محبت، وفاداری، اطاعت اور عقیدت کا عملی اظہار۔

ان نکات کی مختصر وضاحت درج ذیل ہے:

الف۔ اللہ تعالیٰ سے متعلق معاملات میں سنجیدگی اور خلوص

قرآن کا ایک عام قاری بھی یہ بات سمجھ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ زندگی کے حقائق کو سنجیدہ نظر سے دیکھے اور کائنات میں اپنے وجود اور مقصد کے بڑے سوالات پر غور و فکر کرے۔ قرآن کا مطالبہ ہے کہ انسان خلوص نیت کے ساتھ ان باتوں پر توجہ دے، جو اللہ کی ذات اور اس کے احکام کے حوالے سے اہم ہیں اور ان معاملات کو ان کی اصل اہمیت کے مطابق پرکھے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی بات اس کے سامنے سچائی کے طور پر آتی ہے تو قرآن کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات، تعصبات یا دنیوی مفادات کو پس پشت ڈال کر اس حق کے سامنے جھک جائے۔ اللہ کے نزدیک سب سے اہم شرط یہی ہے کہ انسان الٰہی معاملات کو سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ دیکھے۔

یہ بات بالکل معقول ہے۔ جیسا کہ اس کتاب کے آغاز میں بیان کیا گیا، یہ انسان کے لیے ایک بہت بڑی کوتاہی ہوگی اگر وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار ان وجودی سوالات کے معقول اور سنجیدہ جواب تلاش کرنے کی کوشش نہ کرے۔

ب۔ اللہ تعالیٰ کا تصور: درستگی اور فکری آلایشوں سے پاکیزگی

قرآن اس بات پر غیر معمولی زور دیتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا درست اور خالص تصور رکھے۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہےکہ اسلام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان اور اللہ کے درمیان ایک حقیقی اور خالص تعلق قائم ہو۔یہ تعلق اسی وقت ممکن ہے ، جب انسان مکمل طور پر یہ سمجھے کہ وہ کس ذات سے مخاطب ہے اور کس کی بندگی کر رہا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ کے صحیح تصور کو نمایاں کرنے کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب نے اللہ کے تصور کو شدید طور پر بگاڑ دیا ہے۔ قرآن کا بنیادی مقصد ان تمام بگاڑوں کی اصلاح کرنا اور اللہ کی ذات کو اس کی اصل حقیقت کے ساتھ انسانوں کے سامنے پیش کرنا ہے۔آئیے، اس ضمن میں قرآن کے پیش کردہ چند اہم نکات کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ اللہ کی ذات کی حقیقت

اللہ تعالیٰ حقیقت میں کیا ہے؟ وہ کون سی بنیادی حقیقت ہے جو باشعور، ذی عقل اور قدرت کاملہ کی مالک ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ ازل سے ابد تک کس طرح قائم ہے؟ کیا وہ نور ہے یا توانائی؟قرآن واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ اللہ کی ذات کی حقیقت انسانی عقل کی گرفت سے باہر ہے۔ قرآن میں جس خدا کا ذکر ہے، اس کی ذات مکان اور زمان کے حدود سے ماورا ہے،20اور وہ اتنا منفرد اور بے مثال ہے کہ اس کے لیے کوئی نظیر یا تمثیل پیش نہیں کی جا سکتی ۔21اللہ نہ نور ہے، نہ توانائی، بلکہ وہ تمام انسانی تصورات سے برتر اور بالاتر ایک حقیقی ذات ہے۔ یہ حقیقت عقلی بنیاد پر بھی قابل فہم ہے۔ یہاں میں اس پہلو کی مزید وضاحت کروں گا۔

ہم انسان اپنی عقل اور شعور کے ذریعے سے صرف انھی چیزوں کا ادراک کر سکتے ہیں جو زمان و مکان کی قید میں ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی حقیقت زمان و مکان کی حدود سے باہر موجود ہو—چاہے وہ اللہ کی ذات ہو یا کوئی اور ماورائی حقیقت—تو اس کے لیے انسانی ذہن کوئی نظیر یا مثال پیش کرنے سے قاصر ہوگا۔ ہمارے تمام فکری اور عقلی وسائل اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ناکافی ہیں اور ہم کسی بھی درجے میں اس کی نوعیت اور اس کے نظام کو پوری طرح ذہنی گرفت میں نہیں لا سکتے۔

البتہ امید کی ایک کرن موجود ہے۔ یہ درست ہے کہ قرآن کے مطابق اللہ کی ذات کی اصل حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں، لیکن اس کے باوجود اللہ کی لامحدود ذات کو محدود پیمانے پر سمجھنے کی راہیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ لامحدود اور بے انتہا صفات کا مالک ہے، لیکن ان صفات کا ایک محدود عکس ہمیں اپنی ذات میں بھی نظر آتا ہے۔ انھی صفات کے ذریعے سے ہم اللہ کی ذات کو ایک حد تک سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ قرآن اور دیگر الہامی کتب سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ”کوئی چیز“ نہیں بلکہ ”کوئی ذات“ہے۔ ایک شعور رکھنے والی ہستی جو خوشی اور محبت کا تجربہ کرتی ہے، ناراضگی کا اظہار کرتی ہے، اپنے بندوں سے گفتگو کرتی ہے اور انصاف، حق اور باطل کا شعور رکھتی ہے۔

اب کچھ لوگ یہ استدلال کر سکتے ہیں کہ ہم انسانی خصوصیات کو اللہ کی ذات سے منسوب کر رہے ہیں۔ تاہم، اللہ کی تعلیمات کے نقطۂ نظر سے، یہ دراصل الٰہی صفات ہیں۔ قرآن کی تعلیمات 22کے مطابق، جب الٰہی صفات مثلاً زندگی، شعور، عقل، جذبات، جمالیات اور حق و باطل کا شعور بے جان مادے کو منتقل ہوتا ہے تو وہ انسان اور زندگی کی دیگر اشکال میں ظاہر ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دو میں سے کون سا نقطۂ نظر صحیح ہے؟ کیا ہم اللہ کی ذات کو انسانی خصوصیات دے رہے ہیں یا ہم بہ طور انسان، الٰہی صفات کے حامل ہیں؟ بدقسمتی سے، یہ ایسا سوال نہیں ہے جسے سائنسی طور پر ثابت یا رد کیا جا سکے۔ لہٰذا یہ بنیادی طور پر عقیدے پر منحصر ہے۔ نتیجتاً، ہر فرد کو دستیاب شواہد کا تجزیہ کرنے اور اپنے نتائج اخذ کرنے کا حق حاصل ہے۔ میں اس کتاب میں اپنا نقطۂ نظر پیش کر رہا ہوں، جو یہ ہے کہ جو کچھ میں نے شواہد کے طور پر سمجھا، اس کا جائزہ لینے کے بعد، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ موقف زیادہ منطقی ہے کہ یہ الٰہی صفات ہی ہیں، جو مختلف اشکال میں بے جان مادے کو زندگی، شعور، عقل، جذبات اور اخلاقی وجود عطا کرتی ہیں۔

اب ہم قرآن کی روشنی میں اللہ کی وحدانیت کے بارے میں کچھ نہایت اہم تصورات پر بات کریں گے۔

ج۔ محبت، وفاداری، عقیدت اور اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مختص ہے

قرآن میں توحید کو نہایت شدت اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہ قرآن کا مرکزی موضوع ہے ،جو مختلف زاویوں سے ہر دوسرے صفحے پر بیان کیا گیا ہے۔

قرآن نہایت تاکید سے اور صاف الفاظ میں یہ اعلان کرتا ہے کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس وحدانیت کو دو پہلوؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1۔ اللہ کی ذات کی وحدانیت۔ قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اللہ نہ کسی سے پیدا ہوا ہے اور نہ کوئی اس سے پیدا ہوا ہے۔ سورۂ اخلاص (112) کی آیت 3 میں فرمایا ہے کہ نہ اس نے کسی کو جنا ہے، نہ وہ جنا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ غلط ہے کہ اللہ کسی چیز سے وجود میں آیا یا وہ کسی مادی شے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہ بیان کئی تصورات کی نفی کرتا ہے، مثلاً:

– یہ مسیحی عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کا انسانی شکل میں ایک مظہر تھے، قرآن کی اس تعلیم کے خلاف ہے۔ اسی طرح، کسی بھی مذہب کا یہ تصور کہ خدا نے زمین پر انسانی یا مادی شکل اختیار کی، رد ہو جاتا ہے۔

– مکہ کے مشرکین کے اس تصور کی بھی تردید ہو گئی کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین مکہ کے اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے اسی مادے سے بنے ہیں، جس پر اللہ تعالیٰ مشتمل ہے اور یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے فرشتوں کی شکل میں ظہور کیا۔

-مسلمانوں کے ہاں یہ غلط تصور کہ کائنات اللہ کا حصہ ہے، یعنی اللہ نے اپنے آپ کو مادی طور پر کائنات اور اس کے اندر موجود ہر چیز کی شکل میں ظاہر کیا ہے، بھی قرآن کی تعلیمات کی رو سے غلط ہے۔ قرآن کے مطابق صحیح نظریہ یہ ہے کہ کائنات اللہ کی مخلوق ہے، لیکن یہ اللہ کی ذات کا مادی مظہر نہیں ہے۔

2۔ اللہ کے اختیارات اور تکوینی اور شرعی فیصلوں میں کسی شریک یا معاون کی گنجایش نہیں ہے۔ یہ ایک عام تصور ہے جو کئی مذاہب میں پایا جاتا ہے کہ اگرچہ ایک خالق خدا موجود ہے، لیکن دیگر معبود بھی کائنات کے معاملات چلاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہندو مت میں دیوتا برہما کو خالق مانا جاتا ہے، لیکن وشنو اور شیوا کو کائنات کے انتظامی امور کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ یہی طرزِ فکر کئی دوسرے مشرکانہ مذاہب میں بھی نظر آتا ہے۔

یہاں تک کہ اسلام میں بھی ایک ایسی روایت موجود ہے کہ کچھ انسان، خواہ وہ زندہ ہوں یا انتقال کر چکے ہوں، اس قدر نیک ہوتے ہیں کہ اللہ انھیں اپنے اختیارات میں شراکت داری عطا کرتا ہے اور وہ اس کی طرف سے تکوینی فیصلے کرتے ہیں۔ اس روایت میں ایسے افراد کو غوث، ابدال اور قطب کہا جاتا ہے۔

قرآن ہر اس قسم کے تصور کو سختی سے مسترد کرتا ہے جو یہ ظاہر کرے کہ اللہ کے اختیارات میں کوئی شریک ہے۔ اگرچہ قرآن میں فرشتوں کا ذکر موجود ہے، لیکن ان کی ذمہ داری صرف اللہ کے فیصلوں کو نافذ کرنا ہے۔ قرآن واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ تمام تخلیقی قوتیں اور فیصلہ سازی کے اختیارات صرف اللہ کے لیے مخصوص ہیں اور ان میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ اس اہم اصول پر قرآن کی کئی آیات میں زور دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر:

”سنو، خلق بھی اُسی کی ہے اور حکم بھی اُسی کا ہے۔“ (الاعراف7 : 54)

پھر فرمایا:

”اور اپنے اختیار میں وہ کسی کو شریک بھی نہیں کرتا۔“ (الکہف 18: 26)

3۔ قرآن انسان کو اللہ کے ساتھ براہ راست تعلق قائم رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس میں کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ اس حوالے سے قرآن تین امور کو قطعی طور پر واضح کرتا ہے:

الف۔انسانوں کو اپنی محبت، وفاداری، عقیدت اور اطاعت کے تمام بنیادی جذبات صرف اور صرف اللہ کے لیے مخصوص رکھنے چاہییں۔

ب۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی بات براہ راست سنتا ہے۔

ج۔ ہر انسان کو صرف اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسا کرنا چاہیے۔

آئیے، ان نکات پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

الف۔ انسانوں کو اپنے محبت، وفاداری، عقیدت اور اطاعت کے بنیادی جذبات صرف اللہ کے لیے مخصوص رکھنے چاہییں۔ عبادت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے محبت، وفاداری، عقیدت اور اطاعت کے جذبات کو کسی کی جانب متوجہ کرے۔قرآن اعلان کرتا ہے کہ انسانوں کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ کی عبادت ہے ۔ 23

کیا اس آیت کا یہ تقاضا ہے کہ انسان ہمیشہ رسمی عبادات میں مشغول رہے؟ ہرگز نہیں۔ اس ارشاد ربانی کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان اللہ کو اپنی محبت، وفاداری، عقیدت اور اطاعت کا بنیادی مرکز بنائے۔ اگر ان جذبات کو کسی اور کی طرف متوجہ کرنا بھی ہو تو یہ صرف ثانوی درجے پر ہو۔ قرآن میں اس موضوع پر کئی آیات موجود ہیں، لیکن یہاں میں کچھ خاص آیات پیش کرنا چاہوں گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”اور (زمین و آسمان کی اِن نشانیوں کے باوجود) لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو اوروں کو اللہ کے برابر ٹھیراتے ہیں۔ وہ اُن سے اُسی طرح محبت کرتے ہیں، جس طرح اللہ سے محبت کرتے ہیں، دراں حالیکہ ایمان والوں کو تو سب سے بڑھ کر (اپنے) اللہ سے محبت ہوتی ہے۔“ (البقرہ 2: 165)

مزید فرمایا:

”اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، لہٰذا اُسی کو پکارو، اطاعت کو اُس کے لیے خالص کرکے۔ “(المومن40: 65)

کسی اور کو اللہ کے برابر مقام دینا، اس کے ساتھ شریک ٹھیرانا یا کسی اور کے لیے عبادات یا رسومات ادا کرنا ”شرک “کہلاتا ہے، یعنی ”اللہ کے ساتھ شریک ٹھیرانا“۔ قرآن شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیتا ہے اور تاکید کرتا ہے کہ یہ ایسا جرم ہے جسے معاف نہیں کیا جائے گا ۔ 24ہم نے پہلے یہ بات واضح کی تھی کہ اگر کوئی شخص اپنی لاعلمی یا مخلصانہ غلطی کی وجہ سے شرک کا مرتکب ہو تو امید ہے کہ اللہ اسے معاف کر دے گا۔ مثلاً، اگر کسی کو صحیح رہنمائی میسر نہ ہو اور وہ لاعلمی کے باعث شرک کرے تو یہ شاید ایک مخلصانہ غلطی کے زمرے میں آ سکتا ہے اور معاف کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اگر کسی کو صحیح رہنمائی میسر آ گئی ہو، لیکن اس نے غفلت برتی یا وہ غلط وجوہات کی بنا پر شرک میں ملوث ہوا، مثلاً آبائی عقائد کی پیروی، ذاتی یا قبیلے کے مفادات یا اپنے نفس اور انا کی وجہ سے تو قرآن کے مطابق یہ ناقابل معافی جرم ہے، جیسا کہ سورۂ نساء کی آیت 48 میں واضح کر دیا گیا ہے۔

یہ بات بالکل منطقی اور قابل فہم ہے کہ شرک سب سے بڑا اخلاقی جرم ہے۔ یہ اللہ کے ساتھ انتہائی درجے کی غداری ہے۔ آئیے، اس مقدمے کو قدرے تفصیل سے سمجھیں۔

اگر میں ایک ایسے حیرت انگیز وجود کو دریافت کروں، جو نہ صرف مجھے عدم سے وجود میں لانے والا ہے، بلکہ مجھے رزق بھی عطا کرتا ہے اور مجھے نیکی کے بدلے دائمی جنت کی پیشکش بھی کرتا ہے تو ایسی ہستی میری تمام تر محبت اور عبادت کا مرکز ہونی چاہیے۔ میرا واحد حقیقی تعلق اسی اللہ کے ساتھ ہوگا، اور میرے تمام دوسرے تعلقات—جیسے والدین، بہن بھائی، شریک حیات، بچے اور دوست—اسی اللہ کی مرضی کے تحت ہوں گے، کیونکہ یہی اللہ ہے جس نے میرے پیدا ہونے کے وقت اور جگہ کا فیصلہ کیا۔ اگر اللہ مجھے کسی اور وقت یا جگہ پیدا کرتا تو میں ان لوگوں کو جانتا تک نہ ہوتا جنھیں میں آج عزیز رکھتا ہوں۔ ایسے اللہ کے وجود کے علم کے بعد، یہ انتہائی غیر اخلاقی اور سب سے بڑا ظلم ہوگا کہ میں کسی اور کو— چاہے وہ کوئی اور شخصیت ہو، کوئی دوسرا معبود ہو یا میرا اپنا نفس، خواہشات یا انا —اللہ کے برابر محبت، اطاعت اور وفاداری کے مقام پر رکھوں۔

ایک خدا کی مکمل اطاعت کا ایک اور اہم مقصد ہے کہ اگر جنت ایک کامل جگہ ہے تو ایک اعلیٰ ترین مقتدر ہستی کے مکمل ماتحت ہونا ضروری ہے۔ بہ صورت دیگر، اختلاف اور انتشار پیدا ہوگا۔ اسی لیے جنت میں کسی بھی قسم کے شرک کی گنجایش نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا قیامت کے دن اگر کوئی شخص شرک کے جرم میں ملوث پایا جائے تو یہ بالکل منطقی ہے کہ اسے جنت میں داخلے سے محروم رکھا جائے۔

ب۔ اللہ براہِ راست سنتا ہے۔

قرآن واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ اللہ ہر انسان کی پکار براہِ راست سنتا ہے اور اسے کسی واسطے کی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں فرمایا:

”اور میرے (کسی حکم کے) بارے میں، (اے پیغمبر)، جب میرے بندے تم سے کوئی سوال کریں تو (اُن سے کہہ دو کہ اِس وقت) میں اُن سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اُس کی پکار کا جواب دیتا ہوں ۔“ (2: 186)

اور دوسری آیت میں فرمایا:

”اور تمھارا پروردگار کہہ چکا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمھاری التجائیں قبول کروں گا ۔“

(المومن 40: 60)

قرآن اس بات کو مزید واضح کرتا اور بہت موکد کرتا ہے کہ اللہ انسان کے کتنا قریب ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

”ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اُس کے دل میں جو وسوسے گزرتے ہیں، اُنھیں بھی ہم جانتے ہیں اور ہم تو اُس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اُس سے قریب ہیں۔“

(ق 50: 16)

ج۔ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا چاہیے۔ قرآن میں کئی جگہوں پر انسان کو صرف اور صرف اللہ پر توکل اور بھروسا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس سلسلے کی چند اہم آیات یہ ہیں:

”(یاد رکھو)، اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔“(التغابن64 : 13)

”اور اُنھیں وہاں سے رزق دے گا، جدھر اُن کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ اور جو اللہ پر بھروسا کریں گے، وہ اُن (کی دست گیری) کے لیے کافی ہے ۔“ (الطلاق65: 3)

…”تو اللہ پر بھروسا کرو، اِس لیے کہ اللہ کو وہی لوگ پسند ہیں جو اُس پر بھروسا کرنے والے ہوں۔ (ایمان والو)، اگر اللہ تمھاری مدد پر ہو تو کوئی تم پر غلبہ نہیں پاسکتا اور وہ تمھیں چھوڑ دے تو اُس کے بعد کون ہے جو تمھاری مدد کرے گا؟ اور اِیمان والوں کو تو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے ۔“ (آل عمران3 : 159 – 160)

”سب خدا کے پاس ہے اور تمام معاملات اُسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں۔ سو، (اے پیغمبر)، اُسی کی بندگی کرو اور اُسی پر بھروسا رکھو۔ تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو، تیرا پروردگار اُس سے بے خبر نہیں ہے۔“ (ہود11 : 123)

اب تک کی بحث سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن میں خدا انسان کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ کوئی بھی اللہ کے اختیار اور قدرت میں شریک نہیں۔ انسانوں کو اپنے تمام جذبات اور رسوم و عبادات صرف ایک اللہ کی طرف موڑنی چاہییں۔ قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اللہ انسان کے بہت قریب ہے۔ وہ براہ راست سب کی سنتا ہے اور اپنے بندوں کی مدد کے لیے کافی ہے۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسا اور توکل کرنا چاہیے۔ اس سب سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر انسان کو اللہ کے ساتھ براہ راست تعلق قائم کرنا چاہیے۔

اسلام کے بعض حلقوں میں مقدس شخصیات کی تعظیم اور ان کی عبادت کا رجحان پایا جاتا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس معاملے کا قرآن کی روشنی میں مختصر طور پر تجزیہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ اس بحث سے براہ راست تعلق رکھتا ہے، جس میں قرآن کی اس تاکید کا ذکر کیا گیا ہے کہ انسانوں کو اللہ کے ساتھ براہِ راست تعلق قائم کرنا چاہیے ۔

1۔ اولیا اور بزرگ ہستیوں کی تعظیم و عبادت کا رائج رجحان

اللہ کے دین کی تعلیم دینے والے کسی ماہر استاد تک رسائی بلا شبہ فائدہ مند ہے۔ تاہم، اسلام کے بعض حلقوں میں ایک ایسا عمومی رجحان پایا جاتا ہے، جس میں زندہ یا گزر جانے والی مقدس شخصیات کی بے جا تعظیم و عبادت کی جاتی ہے۔ عقیدت مند عموماً ان شخصیات کی خدمت میں لگ جاتے ہیں اور ان کے لیے مخصوص عبادات مقرر کر لیتے ہیں۔مثال کے طور پر، ان سے دعائیں مانگتے ہیں، عبادات کے مخصوص اعمال انجام دیتے ہیں، ان کی خوشنودی کے لیے کھانے تقسیم کرتے ہیں، جانوروں کی قربانیاں کرتے ہیں اور ان کے نام پر خیرات و صدقات کرتے ہیں۔لوگ یہ اعمال مختلف وجوہات کی بنا پر کرتے ہیں۔ میں ان وجوہات میں میں سے چند کا ذکر کروں گا۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کروں گا کہ قرآن ان وجوہات کو کس طرح رد کرتا ہے۔

2۔ زندہ یا انتقال کر جانے والی شخصیات کے وسیلے سے دعا کی قبولیت کا عقیدہ

لوگ زندہ یا وفات پا جانے والی مقدس شخصیات کی تعظیم اور ان کی عبادت اس اعتقاد کے تحت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بلند و بالا اور نہایت مقدس ہے، اور عام انسان اس کی بارگاہ میں براہ راست رجوع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ مقدس ہستیاں ان کے اور اللہ کے درمیان واسطہ بن کر ان کی دعاؤں کو سنیں گی اور اللہ تک پہنچا کر انھیں قبول کرائیں گی۔

یہ تصور اوپر بیان کردہ قرآن کی ان واضح تعلیمات کے سراسر خلاف ہے جو اللہ کے قرب اور اس کی بے پایاں محبت کو بیان کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے نہایت قریب ہے۔ وہ انسان سے ایسی محبت کرتا ہے جو کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ وہ ہر انسان کی دعاؤں کو براہ راست سنتا ہے اور قبول فرماتا ہے۔ قرآن بار بار انسان کو اللہ پر مکمل بھروسا کرنے کی دعوت دیتا ہے اور یہ تعلیم دیتا ہے کہ بندے کو اللہ سے براہ راست تعلق قائم کرنا چاہیے اور اپنی تمام حاجات اور دعائیں اسی سے طلب کرنی چاہییں۔

ثانیاً، اسلام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بندہ اپنے رب، اللہ تعالیٰ، کے ساتھ ایک براہِ راست اور مضبوط تعلق قائم کرے۔ یہ عظیم مقصد اس وقت فوت ہو جاتا ہے جب انسان یہ یقین کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ تک براہ راست رسائی ممکن نہیں اور اس کی دعاؤں کو سننے اور انھیں قبول کرانے کا اختیار کسی زندہ یا مردہ مقدس شخصیت کو حاصل ہے۔ غور فرمائیں کہ ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو اس کی دعائیں سنتا ہے اور نہ انھیں سننے میں کوئی دل چسپی رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ کوئی خاص ولی یا مقدس شخصیت، خواہ زندہ ہو یا گزر چکی ہو، اس کی دعائیں سنتی ہے اور اللہ کے حضور ان کی قبولیت کی ضمانت دے سکتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس انسان کی محبت، وفاداری، عقیدت اور اطاعت کا مرکز کون بنے گا؟ جواب بالکل واضح ہے کہ وہ مقدس شخصیت جسے وہ اپنے لیے قابلِ رسائی اور اپنی دعاؤں کا سننے والا سمجھتا ہے۔ اس عقیدے کا سب سے سنگین اور افسوس ناک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسے افراد، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اللہ تعالیٰ کو اپنی زندگی میں ثانوی حیثیت پر دھکیل دیتے ہیں، حالاں کہ اللہ ہی حقیقی معبود اور دعاؤں کا سننے والا ہے۔

علاوہ ازیں، قرآن مقدس شخصیات یا اولیا کی کسی بھی قسم کی عبادت کو واضح الفاظ میں ممنوع قرار دیتا ہے۔ ایک آیت میں یہود و نصاریٰ کے ان گروہوں سے خطاب کیا گیا ہے جو اپنی مقدس شخصیات کی تعظیم اور پرستش میں مشغول تھے۔ ارشاد ہوتا ہے:

”اللہ کے سوا اُنھوں نے اپنے فقیہوں اور راہبوں کو رب بنا ڈالا ہے اور مسیح ابن مریم کو بھی۔ دراں حالیکہ اُنھیں ایک ہی معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔“ (التوبہ9: 31)

3۔ زندہ یا انتقال کر جانے والی مقدس شخصیات کی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ماننا

بعض افراد جو زندہ یا وفات پا جانے والی مقدس شخصیات کی تعظیم اور عبادت کرتے ہیں، اپنے اس عمل کے جواز میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ مقدس ہستیاں انھیں اللہ کے قریب کر دیں گی۔ ان کا گمان ہے کہ چونکہ اولیا اور مقدس شخصیات اللہ کے مقرب اور اس کی محبت کے مستحق ہیں، اس لیے ان کی خدمت، تعظیم اور عبادت اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنے گی اور بندے کو اللہ سے قریب کر دے گی۔

یہ تصور قرآن کی ان تعلیمات کے صریحاً برعکس ہے، جن میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہِ راست تعلق قائم کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اللہ کے قریب ہونے یا اس کی محبت حاصل کرنے کا اصل راستہ اس کی یاد اور اس کے احکام کی پیروی میں ہے۔ جو شخص اپنی زندگی میں اللہ کے احکام کی پابندی اور اس کے ذکر میں زیادہ مخلص اور محتاط ہوگا، وہ اللہ کو زیادہ محبوب ہوگا۔ یہ اصول درج ذیل آیات میں بیان کیا گیا ہے:

”(لوگو) سنو، اللہ کے دوستوں کے لیے، (قیامت کے دن) نہ کوئی خوف ہوگا، نہ وہ غم زدہ ہوں گے۔جو ایمان لائے اور خدا سے ڈرتے رہے۔“ (التوبہ 9: 62 – 63(

”حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ۔“ (الحجرات 49: 13)

چنانچہ قرآن واضح طور پر اس تصور کی نفی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کسی کو مقدس شخصیات کی خدمت یا نیک افراد کی عبادت کرنی پڑے۔ اس کے برعکس، قرآن یہ اعلان کرتا ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ پرہیزگار ہوگا اور اللہ کے احکام پر عمل کرے گا، وہ اللہ کے نزدیک اتنا ہی زیادہ محبوب اور قریب ہوگا۔

قرآن مقدس شخصیات کی عبادت کو، اس امید پر کہ اس سے اللہ کا قرب حاصل ہوگا، سختی سے منع کرتا ہے۔ سورۂ زمر میں فرمایا گیا:

”ہم نے، (اے پیغمبر)، اِس کتاب کو تمھاری طرف قول فیصل کے ساتھ اتارا ہے۔ سو اللہ ہی کی بندگی کرو، اپنی اطاعت کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ سنو، خالص اطاعت اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا جن لوگوں نے دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم تو اُن کی عبادت صرف اِس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ سے قریب تر کر دیں، اللہ یقیناً اُن کے درمیان اُس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ بے شک، اللہ اُن لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا جو جھوٹے اور ناشکرے ہیں۔“

(الزمر39: 2 -3 )

جب کہ اللہ تعالیٰ مقدس شخصیات کی عبادت اور تعظیم کے ذریعے سے اپنا قرب حاصل کرنے کی کوشش کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ بعض افراد سورۂ مائدہ کی ایک خاص آیت سے اس بات پر استدلال کرتے ہیں کہ یہ عمل جائز ہو سکتا ہے۔ اس آیت میں فرمایا گیا:

”(یہ خدا کی شریعت ہے)۔ ایمان والو، تم (اِس کے بارے میں) خدا سے ڈرتے رہو، اُس کا تقرب ڈھونڈو اور اِس کے لیے اُس کی راہ میں برابر جدوجہد کرتے رہو تاکہ فلاح پاؤ۔“ (المائدہ5 : 35)

ان لوگوں میں سے جو مقدس شخصیات کی عبادت کو اللہ کے قرب کا ذریعہ قرار دینے پر اصرار کرتے ہیں، بعض افراد سورۂ مائدہ کی آیت میں موجود لفظ ”وسیلہ “کو اپنی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ”وسیلہ“ کا لغوی مطلب ذریعہ ہے، اور ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس سے مراد مقدس شخصیات کی تعظیم یا عبادت کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ یہ تشریح نہ صرف قرآن کے عمومی پیغام کے خلاف ہے، بلکہ غیر معقول بھی ہے۔ قرآن کی دیگر آیات، خصوصاً سورۂ زمر (39) کی آیات 2-3 واضح طور پر مقدس شخصیات کی عبادت کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کرنے کے تصور کو مسترد کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سورۂ مائدہ کی مذکورہ آیت انسان کو اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ان ذرائع کو اپنانے کی ترغیب دیتی ہے جو اللہ کے نزدیک مقبول اور جائز ہیں۔ ان ذرائع میں تقویٰ اختیار کرنا، نیک اعمال انجام دینا، اخلاقی اور روحانی پاکیزگی کا حصول اور عبادات کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا شامل ہیں۔

4۔ زندہ یا مرحوم شخصیات کی عبادت کرنا تاکہ وہ قیامت کے روز ہمارے حق میں شفاعت کریں

اسلام میں ”شفاعت“کے تصور کو بعض لوگ اس انداز میں پیش کرتے ہیں، جو قرآن کی حقیقی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی اور مقدس شخصیت کی تعظیم کرے تو قیامت کے دن یہ مقدس ہستی اللہ تعالیٰ کے حضور اس کی سفارش کر کے اسے جہنم سے بچا لے گی، چاہے وہ شخص اپنے اعمال کے لحاظ سے جہنم کا مستحق ہی کیوں نہ ہو۔ قرآن اس تصور کو مکمل طور پر رد کرتا ہے۔

قیامت کے دن تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کے پاس ہوں گے اور صرف وہی فیصلہ کرے گا کہ کون جنت میں داخل ہوگا اور کون جہنم میں جائے گا۔ شفاعت کا اختیار بھی اسی کے حکم اور اجازت سے مشروط ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہی طے کرے گا کہ کون شفاعت کا مستحق ہے اور کس کی سفارش قبول کی جائے گی۔ قرآن میں شفاعت کے تصور کو واضح کرنے والی کئی آیات موجود ہیں، جو یہ بیان کرتی ہیں کہ شفاعت کا اختیار مکمل طور پر اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔میں ان میں سے کچھ آیات کا بہ طور خاص ذکر کرنا چاہوں گا:

اس موضوع سے متعلق چند آیات یہ ہیں : الانعام6: 70، الانعام6: 51، السجدہ 32: 4، الزمر39 :43 – 44، البقرہ2 : 255، یونس10: 3، مریم19 : 87 ، طٰہٰ20: 109، سبا 34 : 23، الزخرف43: 86، الانبیاء 21: 26- 28 اور المدثر74: 46- 48۔

آئیے ،ان میں سےکچھ خاص آیات کا مطالعہ کرتے ہیں۔

درج ذیل آیات صراحت کرتی ہیں کہ شفاعت کے بارے میں تمام امور اللہ کے فیصلے سے ہوں گے۔ فرمایا:

”کہو کہ سفارش تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے ۔“ (الزمر39 : 44)

مزید برآں، قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ شفاعت صرف اسی شخص کے لیے کی جا سکتی ہے جس کے لیے اللہ اجازت دے:

”اُس کے حضور کوئی شفاعت کام نہیں آتی، الاّ یہ کہ وہ خود کسی کے لیے اُس کی اجازت دے ۔“(سبا 34: 23 )

درج ذیل آیت میں کہا گیا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو قیامت کے دن یہ فیصلہ کرے گا کہ کس کو شفاعت کی اجازت ہو گی۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سفارش تب قبول ہوگی، جب شفیع حق کے مطابق سفارش کرے اور سچ بات کہے:

”اُس دن شفاعت نفع نہ دے گی، الاّ یہ کہ رحمٰن کسی کو اجازت دے اور اُس کے لیے کوئی بات کہنا پسند کرے۔“ (طٰہٰ20 :109)

لہٰذا قرآن میں شفاعت سے متعلق تمام آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے، قرآن کا صحیح تصور یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جہنم کا مستحق قرار دیا ہو، ان کے حق میں کسی کی شفاعت قبول نہیں ہوگی۔ مزید وضاحت کے لیے سورۂ اعراف کی آیت 73 اور سورۂ مدثر کی آیات 46 – 48 کا مطالعہ کریں ۔

تاہم، ایسے افراد جو نہ اتنے نیک ہوں کہ جنت کے مستحق ٹھہریں اور نہ اتنے بدکار کہ جہنم کے حق دار قرار پائیں، ان کے بارے میں فیصلہ کرنا اللہ ہی کا کام ہے کہ آیا، انھیں جہنم سے نجات دینی ہے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ خود کسی ایسے کو منتخب کرتا ہے جو اس شخص کے حق میں سچی گواہی دے اور اس گواہی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ اس فرد کو بچا لیتا ہے۔

لہٰذا میں اس بات پر دوبارہ زور دینا چاہوں گا کہ یہ تصور قطعی طور پر غلط ہے کہ اللہ کسی کو جہنم میں ڈالے اور پھر کوئی اور اسے وہاں سے نکال لے۔ درست اور حقیقت پر مبنی تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو نجات دینی ہے۔یہ بھی واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور عدل کے تحت کسی کی سچی گواہی یا سفارش کو بہ طور ذریعہ قبول کر سکتا ہے۔ شفاعت محض اللہ کی رحمت اور حکمت کا ایک پہلو ہے، جس کے ذریعے سے وہ اپنی مزید عنایت اور مہربانی کا اظہار فرماتا ہے اور کسی شخص کو جہنم سے نجات عطا کرتا ہے۔

مسلمانوں میں شفاعت کا ایک غلط تصور عام ہے، جس کے تحت یہ سمجھا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو جہنم میں ڈال دے گا، لیکن پھر کوئی مقدس شخصیت آ کر اسے وہاں سے نکال لے گی۔ یہ تصور نہ صرف قرآن کی واضح تعلیمات کے خلاف ہے، بلکہ اس کے کئی سنگین اور گم راہ کن نتائج بھی ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ کوئی مقدس ہستی اس کی دعاؤں کو سن رہی ہے اور انھیں اللہ کے حضور قبول کرا رہی ہے تو اس کے عبادت کے تمام جذبات—محبت، وفاداری، خشوع و خضوع—اللہ تعالیٰ کے بجاے اس ہستی کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہی سنگین غلطی شفاعت کے اس باطل تصور کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔ اگر کسی شخص کو یہ یقین ہو کہ کوئی مقدس شخصیت اسے اس وقت بچا لے گی، جب اللہ اسے جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ کر چکا ہو تو اس کی عقیدت اور اطاعت کا اصل محور اللہ تعالیٰ کے بجاے وہ مقدس شخصیت بن جائے گی۔

کچھ احادیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انھیں بعض لوگوں کے لیے شفاعت کا اختیار دیا جائے گا۔ قرآن کی روشنی میں اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن، اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو سزا سے نجات دینے کا فیصلہ کرے تو بعض صورتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے حق میں گواہی دینے کی اجازت دی جائے گی۔ یہی گواہی اس کی نجات کا ذریعہ بنے گی۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ اصل تصور یہ نہیں ہے کہ اللہ کسی کو جہنم میں ڈال دے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر مداخلت کر کے اسے بچا لیں گے، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی کسی شخص کو نجات دینے کا فیصلہ کرے گا، اور اس مقصد کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی کو بہ طور ذریعہ استعمال کرے گا۔

د۔ عبادات:محبت، وفاداری، عقیدت، اور اطاعتِ خداوندی کا اظہار

جب اللہ تعالیٰ کا صحیح تصور ذہن نشین ہو جائے اور بندہ اس سے اپنا تعلق درست طور پر قائم کر لے تو اسلام اس تعلق کے اظہار کے لیے مخصوص رسوم متعین کرتا ہے۔ ان میں رسمی عبادات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

انسان اپنے خالق کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار نماز، روزہ اور دیگر عبادات کے ذریعے سے کرتا ہے۔ یہ اعمال اس کے اور اللہ کے درمیان تعلق کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے ہیں اور اللہ کی یاد کو تازہ رکھتے ہیں۔ یہ عبادات نفس کی تطہیر اور تزکیے کا ذریعہ بنتی ہیں اور انسان کو راہِ راست سے بھٹکنے کے رجحان سے باز رکھتی ہیں۔

یہ کہنا بجا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ اور ہر حال میں عبادت کا مستحق ہے۔ تاہم، اس نے خود اسلام میں عبادت کی ایک کم از کم مقدار متعین کی ہے، جسے فرض کہا جاتا ہے۔

فرض عبادات وہ تعبدی اعمال ہیں جو ہر مسلمان پر لازم کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، مگر سب سے بنیادی فرض، یعنی نماز، کو بھی ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن سخت گناہ گار شمار ہوگا۔

فرض عبادات کی ادائیگی کے بعد ہر فرد کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ جتنی چاہے نفلی عبادات کے ذریعے سے اللہ سے مزید قربت حاصل کرے۔

اللہ کے ساتھ تعلق کی تطہیر کے ضمن میں، اسلام اللہ تعالیٰ کے درست تصور کو اپنانے کی تاکید کرتا ہے۔ وہ اس پر زور دیتا ہے کہ اللہ کے صحیح تصور کی بنیاد ہر پہلو سے اس کی وحدانیت، یکتائی اور اس کے اقتدار میں کسی بھی طرح کی شراکت سے پاک ہونے پر قائم ہو۔ اسلام بندے کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ بلا واسطہ اللہ سے تعلق استوار کرے اور براہ راست اسی سے رجوع کرے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام محبت، وفاداری، عقیدت اور اطاعت کے اظہار کے طور پر کچھ لازمی اور نفلی عبادات کی بھی تلقین کرتا ہے۔

4۔ انسانوں کے ساتھ تعلق کے ضمن میں اخلاقی کردار کی تطہیر

جہاں تک اخلاق، کردار اور اقدار کا تعلق ہے، قرآن اپنے ماننے والوں کو نیک، راست باز، مخلص، ایمان دار، رحم دل، عادل، فیاض اور منکسر المزاج انسان بننے کی تلقین کرتا ہے۔ میں اس پہلو میں قرآن کی تعلیمات سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں، کیونکہ اسلام جن اعلیٰ اقدار کو اپنانے کی تاکید کرتا ہے، وہ محض اسلامی یا مذہبی اقدار نہیں، بلکہ تمام انسانی معاشروں اور تہذیبوں میں ہمیشہ سے سب سے بلند اخلاقی اصول سمجھی جاتی رہی ہیں۔

قرآن میں اخلاقی اصولوں اور ہدایات کی بھرپور تعلیم دی گئی ہے۔ ذیل میں چند منتخب ہدایات پیش کی جا رہی ہیں، جن کے مطابق اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا بندہ بنانا چاہتے ہیں:

1۔ ایسا انسان بنیں جو دوسروں کے لیے خیرخواہ اور صلح جو ہو، دل میں کسی کے لیے کینہ نہ رکھے، اور اگر اس پر ظلم بھی کیا جائے، تب بھی صلح کی کوشش کرے۔ 25

2۔ ایسا شخص بنیں جو غصے پر قابو رکھے اور دوسروں کو معاف کرنے کا رویہ اپنائے۔26

3۔ بدلہ لینے کا قانونی حق رکھنے کے باوجود، معاف کرنے کو ترجیح دے۔27

4۔ اگر کسی حاجت مند یا سائل کو خالی ہاتھ لوٹانا بھی پڑے تو نرمی اور محبت کے ساتھ ایسا کرے ۔28

5۔ صدقہ و خیرات کے بعد احسان نہ جتائے اور نہ ہی ایسے الفاظ کہے جو دل آزاری کا باعث بنیں ۔ 29

6۔ اپنے دشمن کے ساتھ بھی انصاف کرے ۔30

7۔ دوسروں کا مذاق نہ اڑائے، ان پر طنز نہ کرے، برے ناموں سے نہ پکارے، اور ان کی خامیوں کو نہ تلاش کرے ۔31

8۔ عاجزی اختیار کرے، تکبر سے بچے، اور فخر و غرور سے دور رہے ۔32

9۔ خودنمائی اور ذاتی بڑائی کی خواہش نہ رکھے ۔33

10۔ انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ چلے اور اگر جاہل لوگ اس سے دل آزار گفتگو کریں تو نرمی اور صلح کے ساتھ جواب دے ۔34

11۔ والدین، رشتہ داروں، حاجت مندوں اور یتیموں کے ساتھ انتہائی مہربانی اور سخاوت کا مظاہرہ کرے ۔35

12۔ معاملات میں انتہائی دیانت داری اور انصاف کے ساتھ پیش آئے۔36

13۔ ظلم و ستم کے خلاف کھڑا ہونے میں پس و پیش نہ کرے ۔37

14۔ دوسروں کے مذاہب اور ان کے معبودوں کو برا بھلا نہ کہے، چاہے وہ انھیں باطل ہی کیوں نہ سمجھتا ہو ۔ 38

15۔ دوسروں کی غیبت اور چغلی نہ کرے۔ 39

16۔ ہر حال میں انصاف کرے اور سچی گواہی دے، چاہے یہ اس کے اپنے یا اس کے خاندان، قبیلے یا قوم کے خلاف ہی کیوں نہ ہو ۔ 40

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ اقدار عالم گیر طور پر اعلیٰ ترین صفات میں شمار ہوتی ہیں، جنھیں کوئی بھی مہذب انسان اپنا سکتا ہے، اور ان سے اختلاف کرنا کسی کے لیے بھی آسان نہیں۔ قرآن میں متعدد آیات موجود ہیں جو انسانی اخلاقیات کے اصولوں اور ممنوعات کو واضح کرتی ہیں۔ میں یہاں ایک نہایت اہم آیت کو زیر بحث لانا چاہوں گا، کیونکہ یہ پانچ بنیادی اقسام کے اخلاقی ممنوعات کی نشان دہی کرتی ہے۔ اسلام میں ممنوع قرار دیے گئے تمام گناہ اور جرائم انھی پانچ بنیادی اقسام کے تحت آ جاتے ہیں، اور یہی وہ اصول ہیں جو اسلامی اخلاقیات کی بنیاد بنتے ہیں۔

قرآن مجید، سورۂ اعراف (7) کی آیت 33 میں تصریح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لیے صرف پانچ اقسام کے گناہ حرام کیے ہے:

1۔ نکاح کے بندھن سے باہر کسی بھی قسم کا جنسی عمل یا رویہ، چاہے وہ خفیہ ہو یا علانیہ ۔

2۔ ’اثم ‘۔ عربی لفظ ’اثم‘کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔اس کا ایک مطلب تو ”گناہ “ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ آیت انسانوں کو کسی بھی ایسی چیز سے بچنے کا حکم دیتی ہے, جسے وہ گناہ سمجھتے ہیں۔ اس لفظ کا دوسرا مطلب ”ناانصافی“یا کسی کے حقوق کی پامالی ہے۔ چنانچہ اس اعتبار سے، آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ انسانوں کو ہر قسم کی ناانصافی اور دوسروں کے حقوق چھیننے سے گریز کرنا چاہیے۔

3۔ ظلم و زیادتی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو دوسرے کے مال، عزت یا زندگی کے خلاف کسی بھی غیر شرعی اقدام سے باز رہنا چاہیے۔

4۔ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا۔

5۔ اللہ کے بارے میں جھوٹ بولنا یا بغیر کسی یقینی علم کے اس کے بارے میں بات کرنا۔

سورۂ اعراف کی اس آیت میں پانچ بڑی اخلاقی ممانعتوں کا ذکر کیا گیا ہے، جو عقلی اور اخلاقی اعتبار سے بالکل درست اور قابل فہم ہیں۔ یہ وہ بنیادی ممنوعات ہیں ، جن سے قرآن انسانوں کو سختی سے باز رہنے کی تاکید کرتا ہے۔ ان میں تمام وہ گناہ اور اخلاقی جرائم شامل ہیں، جو انھی وسیع زمرہ جات کے تحت آتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اسلامی شریعت میں سود کی ممانعت دوسرے زمرے میں آتی ہے، کیونکہ یہ اقتصادی ناانصافی کی ایک شکل ہے، جب کہ مردوں اور عورتوں کے باہمی تعلقات سے متعلق اخلاقی احکام پہلے زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔

میرے نزدیک یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ان پانچوں زمرہ جات میں سے کسی پر بھی کوئی معقول اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کو ان چیزوں سے باز رہنا چاہیے جنھیں وہ خود بھی گناہ تسلیم کرتا ہے، ہر طرح کی ناانصافی سے اجتناب کرنا چاہیے، اور کسی کی جان، عزت یا مال کو غیر قانونی طور پر نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے۔

علاوہ ازیں، اگر کوئی شخص خالصتاً عقلی اور فکری عدم اطمینان کی بنا پر خدا کے وجود پر ایمان لانے سے انکار کرتا ہے تو یہ کسی حد تک قابل فہم اور قابل معافی ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ بات ہر شخص کے لیے واضح ہونی چاہیے کہ جب کوئی خدا پر ایمان لے آئے تو اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا یقیناً نہایت نامناسب اور غیر منطقی عمل ہے۔ اسی طرح، ہم سب اس پر متفق ہوں گے کہ کسی بھی معاملے میں، خصوصاً خدا کے بارے میں، دانستہ جھوٹ بولنا کسی طور قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

قرآن میں مرد اور عورت کے جنسی تعلق کو نکاح کے حدود میں رکھنے پر غیر معمولی زور دیا گیا ہے، جیسا کہ سورۂ اعراف (7) کی آیت 33 میں بیان کردہ پہلے بنیادی اصول میں بھی واضح کیا گیا ہے۔ اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ خدا نے تمام جنسی رویوں کو نکاح کے حدود تک محدود رکھنے پر اتنی سخت تاکید کیوں کی ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ نکاح کا ادارہ انسانی معاشرت اور اخلاقیات کے استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مسئلے کی مزید تفصیلات آگے چل کر سوال و جواب کے سیکشن میں زیر بحث لائی جائیں گی۔

مرد اور عورت کا بندھن دنیا میں نئی انسانی زندگی کو وجود میں لانے کا ایک ذریعہ ہے۔ جب کوئی نئی جان اس دنیا میں آتی ہے تو اسے اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں سے لے کر کم از کم پندرہ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک، بھرپور نگہداشت اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان محض ایک جسمانی وجود نہیں رکھتا، بلکہ اس کی نفسیاتی، جذباتی، اخلاقی اور روحانی ضروریات بھی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک نوزائیدہ بچے کی پرورش ایسی ہونی چاہیے جو ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کرے۔ اس تربیت کا مقصد صرف دنیوی زندگی میں بہتری نہیں، بلکہ آخرت میں کامیابی بھی ہونا چاہیے۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حیاتیاتی خاندان کے ادارے کو قائم کیا، جو ایک مرد اور عورت پر مشتمل ہوتا ہے، جو نکاح کے ذریعے سے ایک مضبوط رشتے میں بندھتے ہیں۔ قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے ایک مستحکم خاندانی نظام کا تصور پیش کیا ہے، جو انسان کی ہمہ جہت تربیت کا ذریعہ بنتا ہے اور اسے زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

یہ بات بالکل منطقی ہے کہ ایک مستحکم خاندانی نظام سے بہتر کوئی دوسرا ذریعہ نہیں، جو ایک نوزائیدہ کو ایک دہائی یا اس سے زیادہ عرصے تک جسمانی، نفسیاتی، جذباتی، اخلاقی اور روحانی تربیت فراہم کر سکے۔

شادی کے بندھن سے باہر جنسی رویوں اور اعمال کا عام ہونا اور ان کا معاشرتی طور پر مقبول ہو جانا نکاح کے ادارے کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نکاح کے دائرے میں جنسی تعلقات کو محدود رکھنے کی غیر معمولی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ درحقیقت، اس نے نکاح کے دائرے سے باہر ہر قسم کے جنسی عمل کو سختی سے ممنوع اور جرم قرار دیا ہے ۔

ہم عموماً نکاح کو مرد اور عورت کے نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ نکاح کو بچے کے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ ایک نوزائیدہ کو اس دنیا اور آخرت، دونوں کے لحاظ سے درست نشوونما کے لیے کئی سالوں کی محبت، توجہ اور پرورش درکار ہوتی ہے۔

خاندان کے ادارے کا ایک اور نہایت اہم مقصد یہ ہے کہ وہ افراد کو بڑھاپے میں سہارا فراہم کرے۔ ایک مستحکم خاندانی نظام بزرگوں کی جسمانی اور جذباتی ضروریات کو پورا کرنے کا سب سے موثر اور فطری ذریعہ ہے۔ اگرچہ نرسنگ ہومز بعض افراد کے لیے ایک قابل عمل متبادل ہو سکتے ہیں، اور ترقی یافتہ معاشروں میں کچھ لوگ انھیں اپنی پہلی ترجیح بھی بنا سکتے ہیں، لیکن یہ حقیقت کسی تفصیلی تحقیق کے بغیر بھی واضح ہے کہ نرسنگ ہومز وہ نفسیاتی اور جذباتی اطمینان اور محبت بھری دیکھ بھال فراہم نہیں کر سکتے، جو ایک مضبوط خاندانی نظام فراہم کرتا ہے۔

میرے لیے یہ بات قابل فہم ہے کہ نکاح سے باہر جنسی رویوں اور اعمال کا معمول بن جانا اور ان کا عام ہو جانا لازمی طور پر نکاح کے ادارے کو کم زور کر دیتا ہے۔ اگر مقصد نکاح اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے خاندانی نظام کا تحفظ اور استحکام ہے تو یہ ناگزیر ہے کہ تمام جنسی تعلقات اور رویے نکاح کے دائرے تک محدود رکھے جائیں۔معمول کے حالات میں، نکاح کی بنیاد جنسی وفاداری پر قائم ہوتی ہے۔ اگر یہ وفاداری متاثر ہو جائے تو نکاح کا ادارہ یا تو بے جان اور زہریلا ہو جاتا ہے یا پھر مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔

لہٰذا اگر کوئی نکاح کے بغیر کسی بھی قسم کی جنسی سرگرمی میں ملوث ہوتا ہے یا ایسے رویوں اور اعمال کو فروغ دیتا ہے— جیسے اجنبی عورت سے ناجائز تعلق قائم کرنا یا میڈیا کے ذریعے سے جنسی اشتعال انگیزی پھیلانا— تو وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے وضع کردہ خاندانی نظام کے خلاف کھلی بغاوت کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے نکاح کے دائرے سے باہر ہر قسم کے جنسی رویوں اور اعمال کو اللہ تعالیٰ نے سنگین جرائم قرار دیا ہے۔ ان پر دنیا میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں اور آخرت میں ان کے نتائج کہیں زیادہ شدید ہوں گے۔

اسلام میں طلاق کی اجازت مردوں اور عورتوں، دونوں کے لیے موجود ہے، تاہم اللہ تعالیٰ اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ افراد خاندان کو مستحکم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ ازدواجی تعلقات میں بگاڑ کے سب سے گہرے اثرات بچوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ تحقیقات اور مشاہدات واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ غیر مستحکم خاندانی ماحول، والدین کے درمیان کشیدگی اور بالآخر طلاق، بچوں کے نفسیاتی، جذباتی اور سماجی ارتقا پر طویل مدتی اور اکثر ناقابلِ تلافی نقصان چھوڑ جاتی ہے۔

اس سیکشن میں اب تک کی بحث کا خلاصہ یہ ہے۔

قرآن کے مطابق، خدا کی رضا حاصل کرنے اور جنت کا مستحق بننے کے لیے، مجھے اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ خدا اور وجود کے حقائق کی تلاش کرنی ہوگی۔ قرآن چاہتا ہے کہ میں خدا کا درست فہم حاصل کروں اور اپنی محبت، وفاداری، اطاعت اور عقیدت کا مرکز صرف خدا کو بناؤں۔ مزید برآں، قرآن مجھ سے یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ میں اپنے جسم اور خوراک کی پاکیزگی کا خیال رکھوں، نشہ آور اشیا سے اجتناب کروں، اور اپنے اخلاق و کردار کو اعلیٰ انسانی اقدار کے مطابق ڈھالوں۔ مجھے اس حوالے سے مزید وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ قرآن کی ان تعلیمات میں ایسا کچھ بھی نہیں جس سے اختلاف کیا جا سکے۔

آخر میں ہمیں اس اہم سوال کا مختصر جائزہ لینا ہوگا کہ کیا اللہ تعالیٰ مجھے جنگ کرنے اور مسلح تصادم میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے؟ اور اگر ہاں تو کن حالات میں؟

5۔ اسلام میں قتال کی اجازت

ذیل میں پیش کیے گئے نظریات اس کتاب میں مختلف مقامات پر زیر بحث آ چکے ہیں، لیکن چونکہ یہاں ہم اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے آخرت میں کامیابی کے لیے کیا توقع رکھتا ہے، اس لیے ان نکات کو یہاں بھی اجاگر کرنا ضروری ہے۔

جہاں تک طاقت یا تشدد کے استعمال کا تعلق ہے، قرآن مسلمانوں کو جنگ یا مسلح جدوجہد کی اجازت دیتا ہے، لیکن یہ اجازت مخصوص اخلاقی اور قانونی بنیادوں پر دی گئی ہے۔ اس کا جواز دو بنیادی امور پر مبنی ہے:

1۔ ان لوگوں کے خلاف جنگ، جو اللہ کے نازل کردہ حق کو واضح ہو جانے کے بعد جانتے بوجھتے اس کا انکار اور رد کرتے ہیں۔

قرآن مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کا مقابلہ کریں، یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ 41 یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں بھی حکم دیا گیا ہے کہ یا تو وہ اسلام قبول کریں یا مسلمانوں کی ماتحتی میں رہنے اور زیردستی کی علامت کے طور پر جزیہ ادا کرنے پر راضی ہوں ۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، یہ آیات خدا کے رسول کے فوری مخاطبین کے لیے خاص ہیں۔ ہم یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ اللہ کے رسول نہ صرف پوری انسانیت کے لیے ہدایت لاتے ہیں، بلکہ اپنے فوری مخاطبین کے لیے خدا کی عدالت کا زمینی مظہر بھی بنتے ہیں۔ رسول اپنے مخاطبین پر حق کو پوری طرح واضح کر دیتے ہیں، اور ایک مخصوص مدت کے بعد جو لوگ رسول کے پیغام کو قبول کرتے ہیں، وہ دنیا میں انعام پاتے ہیں، جب کہ انکار کرنے والوں پر دنیا ہی میں خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے۔

جب ان آیات کو ان کے سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان میں اللہ کے رسول کے براہ راست مخاطبین پر نازل کیے گئے آسمانی عذاب کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ باطل اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر منزلِ حق کو رد کرتے تھے۔

لہٰذا یہ آیات محض محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور آپ کے معاصرین کے لیے مخصوص ہیں۔ ان کا اطلاق صحابۂ کرام اور ان کے معاصرین کے بعد کسی اور پر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ مسلمانوں پر یہ ہرگز لازم نہیں کہ وہ غیر مسلموں کے خلاف محض ان کے مذہب کی بنیاد پر جنگ کریں، انھیں اسلام قبول کرانے کے لیے قتال کریں یا انھیں زیر کرنے کے ارادے سے لڑیں۔بلکہ قرآن کا دائمی اور ابدی اصول یہ ہے کہ دین کے معاملات میں کوئی جبر روا نہیں رکھا جائے گا۔

”دین کے معاملے میں (اللہ کی طرف سے) کو ئی جبر نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت (اِس قرآن کے بعد اب) گم راہی سے بالکل الگ ہو چکی ہے … ۔“

(البقرہ2 : 256)

2۔ دفاعی جنگ اور ظلم و ستم اور فتنہ (Persecution) کے خلاف قتال

قرآن مسلمانوں کو دفاع کے لیے اور شدید ناانصافی، ظلم و ستم، خصوصاً مذہبی جبر (Persecution)کے خلاف لڑنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ احکامات بنیادی طور پر جن آیات میں بیان کیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں : البقرہ2 : 190-193، الحج22 : 39-40 اور الحجرات49 : 9-10۔ یہ احکامات آفاقی اور ابدی ہیں اور ہر دور کے تمام مسلمانوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ تاہم، قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ایسی جنگ صرف ایک جائز حکمران کی قیادت میں کی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

”ایمان والو، (یہ خدا کی بادشاہی ہے، اِس میں) اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور اُن کی بھی جو تم میں سے معاملات کے ذمہ دار بنائے جائیں۔“

(النساء 4: 59)

مجھے اس بات سے اتفاق ہے کہ کچھ انتہائی حالات اور استثنائی صورتوں میں کسی قائم حکومت کے خلاف یا حکمران کی اجازت کے بغیر ہتھیار اٹھانا اخلاقی طور پر جائز ہو سکتا ہے۔ تاہم، عمومی اصول کے طور پر قرآن سورۂ نساء کی آیت 59 میں واضح ہدایت دیتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے جائز حکمرانوں کی اطاعت کرنی چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلح جدوجہد صرف ایک جائز طور پر قائم حکومت کے ماتحت رہ کر ہی کی جا سکتی ہے، اور بغیر کسی منظم قیادت یا حکومتی نظم و نسق کے خلاف خود سے اقدام کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

آج کے دور میں مسلّم قانونی مقتدرہ کسی ملک کی حکومت ہوتی ہے۔ لہٰذا قرآنی تعلیمات کی روشنی میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اگرچہ بعض انتہائی حالات میں استثنائی اجازت ممکن ہو سکتی ہے، لیکن عمومی اصول یہی ہے کہ مسلمان صرف اپنی جائز حکومت کے تحت ہی دفاع، ظلم و جبر، مذہبی جبر اور ناانصافی کے خلاف جنگ کر سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا نکات کو سامنے رکھتے ہوئے، یہ ضروری ہے کہ دو نہایت اہم سوالات کے جواب دیے جائیں:

1۔ کیا مسلمانوں کا کوئی گروہ اسلامی حکومتی نظام کی اپنی مخصوص تشریح کو نافذ کرنے کے لیے دوسرے مسلمانوں کے خلاف جنگ کر سکتا ہے؟

جواب: ہماری پچھلی گفتگو کی روشنی میں—ہرگز نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، مسلمانوں کو صرف اپنے دفاع میں یا کسی واضح ظلم، جبر اور مذہبی جبر (پرسیکیوشن) کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اجازت ہے اور وہ بھی صرف ایک قانونی قیادت کے تحت۔

مزید برآں، قرآن اجتماعی معاملات کے حوالے سے واضح ہدایت دیتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے امور باہمی مشاورت سے طے کرنے چاہییں، نہ کہ زبردستی یا مسلح تصادم کے ذریعے سے۔ قرآن سورۂ شوریٰ (42) کی آیت 38 میں اس اصول کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

…”(سچے مومنین وہ ہیں)…کہ جنھوں نے اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہی ہے اور نماز کا اہتمام رکھا ہے اور اُن کا نظام اُن کے باہمی مشورے پر مبنی ہے اور ہم نے جو رزق اُنھیں عطا فرمایا ہے، اُس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔“

مندرجہ بالا آیت کی روشنی میں، اجتماعی معاملات، جیسے قیادت کا انتخاب اور حکومتی امور کے انتظامی فیصلے، عوامی مشاورت کے ذریعے سے کیے جانے چاہییں۔

البتہ مشاورت کا نظام مختلف شکلیں اختیار کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نظام مختلف قبائل کے اہم رہنماؤں کے درمیان ابتدائی نوعیت کی مشاورت پر مبنی تھا۔ آج کی دنیا میں یہ مشاورت صدارتی یا پارلیمانی انتخابات کی شکل میں ظاہر ہو سکتی ہے یا ایسے دیگر طریقوں کے ذریعے سے جن میں عوام کو اجتماعی فیصلہ سازی میں مشاورت کے ذریعے سے شامل کیا جا سکے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ مشاورت کا طریقہ کوئی بھی ہو، قرآن نے اصولی طور پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اجتماعی معاملات کو زبردستی کے بجاے باہمی مشاورت سے طے کیا جانا چاہیے۔

2۔ کیا مسلمان حکومتیں اپنی تعبیر اسلام عوام پر نافذ کرنے کے لیے طاقت استعمال کر سکتی ہیں؟

جواب: قرآن کی سورۂ حج کی آیت 41 کے مطابق، ایک مسلم حکومت کو زکوٰۃ جمع کرنے، مسلمانوں کو فرض نمازوں، خصوصاً جمعہ کی نماز کے لیے بلانے، اور ان جرائم پر اسلامی سزائیں نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے، جن کے بارے میں قرآن میں واضح احکام موجود ہیں۔ تاہم، کچھ معاملات—جیسے حجاب پہننا لازم ہے یا نہیں، حجاب میں چہرے کو ڈھانپنا چاہیے یا نہیں، ڈاڑھی رکھنا ضروری ہے یا نہیں اور اس کی لمبائی کیا ہو، یا مرد و خواتین کے ایک ساتھ پڑھنے یا کام کرنے کا جواز—ایسے ہیں جو اجتہادی دائرے میں آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ ایسے اخلاقی اور سماجی معاملات میں اپنی مخصوص اسلامی تعبیرات دوسروں پر زبردستی نافذ کرے؟

اس کا جواب ایک زوردار نفی کی صورت میں ہے۔ اس کی مختصر وضاحت یہ ہے:

قرآن کی اصطلاح ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر “کا مطلب ”لوگوں کو بھلائی کی طرف بلانا اور برائی سے روکنا“ہے۔ یہ قرآن کی ایک مشہور تعلیم ہے اور بعض اوقات حکومتیں اس کو جواز بنا کر خواتین کو سر ڈھانپنے یا چہرے کا پردہ کرنے اور مردوں کو ڈاڑھی رکھنے پر مجبور کرتی ہیں ۔ یہ ہدایت قرآن میں تین بنیادی مقامات پر مسلمانوں کو دی گئی ہے: سورۂ آل عمران (3) کی آیات 104اور 110اور سورۂ توبہ (9) کی آیت 71۔ تاہم، ان آیات کا صحیح مفہوم اور حکومتی جبر کے جواز کے طور پر ان کے غلط استعمال پر مزید وضاحت ضروری ہے۔ اس حوالے سے تین اہم نکات سمجھنا ضروری ہیں:

1۔ ”امر“ کا مفہوم: لفظ ”امر“ کا عمومی مطلب ”کسی کو کچھ کرنے کا حکم دینا“ہے، تاہم قرآن میں اس کا ایک اور معنی بھی استعمال ہوتا ہے، یعنی ”کسی کو بھلائی کی دعوت دینا“۔ جیسا کہ سورۂ بقرہ (2) کی آیت 169 میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر آپ کسی اتھارٹی کی پوزیشن پر ہیں، جیسے پولیس فورس میں تو آپ کو لوگوں کو برائی سے روکنے کا فعال اختیار دیا گیا ہے۔ تاہم، اگر آپ ایک عام فرد ہیں تو آپ کا کردار صرف مشورہ دینے اور نصیحت کرنے تک محدود ہے، اور آپ کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے۔

2۔ ان آیات میں بھلائی اور برائی کے لیے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ ”معروف“اور ”منکر“ ہیں۔ ان الفاظ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو عام طور پر بھلائی اور برائی کے طور پر جانی جاتی ہیں اور معروف ہیں، نہ صرف اسلامی نقطۂ نظر سے، بلکہ انسانی اخلاقیات کے عمومی اصولوں کے مطابق بھی وہ معروف ہیں۔ یہ الفاظ اس بات کی نشان دہی نہیں کرتے کہ حکومتوں کو ہر معاملے میں اسلام کی اپنی تعبیر دوسروں پر نافذ کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، بلکہ یہ آیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ حکومتیں معاشرے میں عمومی طور پر مانی جانے والی بھلائیوں کو فروغ دیں، جیسے دیانت داری، صفائی ستھرائی اور رحم دلی وغیرہ۔ اسی طرح، وہ برائیاں جو عام طور پر بری سمجھی جاتی ہیں، جیسے چوری، بے ایمانی، دھوکا دہی، ڈکیتی، تشدد اور ناانصافی، ان کو زبردستی روکیں۔

3۔ اگر کوئی حکومت اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر کوئی خاص ضابطہ نافذ کرنے کا انتخاب کرتی ہے تو اس کے لیے قرآن کی صریح اجازت ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی حکومت کو اپنے شہریوں پر کسی خاص حکم نافذ کرنے کے لیے اس حکم کا قرآن میں واضح طور پر موجود ہونا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، قرآن حکومتوں کو درج ذیل امور کی اجازت دیتا ہے:

زکوٰۃ کی وصولی: یہ صدقہ و خیرات کی ایک شرعی صورت ہے جسے حکومت عوام سے وصول کر سکتی ہے۔

کھلے عام فحاشی اور علانیہ بدکاری کے انسداد کے اقدامات، اور ان مخصوص جرائم کی شرعی سزائیں نافذ کرنا، جن کا ذکر قرآن میں واضح طور پر موجود ہے اور جن کے لیے قرآن سزا تجویز کرتا ہے۔

اس تناظر میں، اگر قرآن کسی خاص اسلامی حکم کو نافذ کرنے کی اجازت حکومت کو نہیں دیتا تو حکومت کو اسے نافذ کرنے کا حق نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، یہ کہ کوئی عورت اپنے سر یا چہرے کو ڈھانپے یا نہ ڈھانپے، یا کوئی مرد ڈاڑھی رکھنے کا پابند ہے یا نہیں—ان معاملات میں قرآن کسی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ اپنی تشریح دوسروں پر نافذ کرے۔ ہر فرد کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ جس تعبیر کو درست سمجھتا ہے، اس پر عمل کرے۔

ذاتی طور پر، اسلام کی اس تعبیر کے مطابق جس سے میں متفق ہوں اور جس کے علم بردار اس وقت محترم جناب جاوید احمد غامدی ہیں، اس میں مردوں پر ڈاڑھی رکھنے کی کوئی شرعی پابندی نہیں ہے اور عورتوں کے لیے سر یا چہرہ ڈھانپنا ضروری نہیں ہے (یہ ایک مستحب نیک عمل سمجھا جا سکتا ہے)۔اسی طرح، اللہ تعالیٰ نے عوامی اجتماعات میں مرد و زن کے لیے علیحدگی کو فرض نہیں کیا۔ مزید برآں، قرآن کسی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ ان معاملات میں اپنی تعبیر کو افراد پر نافذ کرے۔

__________

خاتمہ

وجودی سوالات کے تسلی بخش جوابات کی تلاش کے دوران میں سائنس نے مجھے یہ یقین دلایا کہ ہر چیز کے پیچھے ایک ذہانت کارفرما ہے۔ اس یقین کے تحت کہ کوئی بھی الہامی سچائی بہ آسانی قابلِ رسائی ہونی چاہیے، میں نے مذہب کی سب سے نمایاں روایت—ابراہیمی مذاہب—کا مطالعہ کیا۔ اسی روایت کے تحت، سب سے پہلے میں نے قرآن کا رخ کیا کیونکہ اس کا تاریخی ثبوت نمایاں طور پر مضبوط تھا۔ اسلام کے ماخذوں کے متعلق درست علم حاصل کرنے کے بعد، مجھے اس کی جانچ کا موقع ملا۔ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت، ان کا یہ دعویٰ کہ وہ اللہ کے پیغمبر ہیں اور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ گزرنے والے حالات، یہ سب اس بات پر قائل کرنے کے لیے کافی بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم واقعی اللہ کے پیغام کا ابلاغ کر رہے تھے۔ میں نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ قرآن جس خدا کا تعارف کراتا ہے، وہ مجھ سے کیا چاہتا ہے اور کیا اس کی توقعات اخلاقی اور عقلی اصولوں کے مطابق ہیں۔اس باب میں، میں نے اپنی اس جستجو کے نتائج کو آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔

زندگی کی تیسری دہائی کے اوائل میں، میں اس نتیجے پر پہنچا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اللہ تعالیٰ سے وحی پانے کے دعوے میں سچے تھے۔ وہ الہامی ہدایات جو انھوں نے پیش کیں، مجھے اخلاقی اور عقلی طور پر بالکل درست محسوس ہوئیں۔ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے پیغام کو رد کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آئی۔میں خدا کی حقیقت، فرشتوں، موت کے بعد کی جواب دہی ، جہنم، جنت، انبیا، رسولوں اور الہامی کتب کے وجود پر ایمان لے آیا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ پورا نظام حقیقت پر مبنی ہے!

لیکن میں نے ابھی تک مکمل طور پر اسلام کے پیغام کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا تھا—میرے ذہن میں چند سوالات موجود تھے، اور اسلام کے پیغام کو پوری طرح قبول کرنے سے پہلے، مجھے ان سوالات کے معقول جوابات تلاش کرنا تھے۔ یہاں ایک پیغامِ تشکر دینا ضروری ہے۔ کئی دیگر شخصیات کے ساتھ، جن میں مرکزی دھارے کے اسلامی علما، غیر مسلم محققین، علمی شخصیات اور سائنس دان شامل ہیں، ایک اہم شخصیت جنھوں نے میرے سوالات کے جوابات فراہم کرنے میں مدد دی، وہ جناب جاوید احمد غامدی ہیں۔ میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے جناب غامدی صاحب کو میرے لیے ایک وسیلہ بنایا، جنھوں نے اسلام اور زندگی کے متعلق میرے کئی پیچیدہ سوالات کے جوابات فراہم کیے۔

مجھے اپنے تمام سوالات کے ایسے جوابات ملتے رہے جو اخلاقی اور عقلی طور اطمینان بخش تھے، یہاں تک کہ میرے پاس کوئی سوال باقی نہ رہا۔ میں ان جوابات کو درست مانتا ہوں جب تک کہ ان پر کوئی معقول اعتراض وارد نہ ہو جائے، کیونکہ میں غلطی کے امکان کو تسلیم کرتا ہوں۔ چنانچہ، یہ بات تقریباً 2019ءکے اوائل کی ہے کہ میں اپنی زندگی کے اس مرحلے پر پہنچا جہاں میرے تمام وجودی سوالات کا اطمینان بخش جواب مل چکا تھا۔ مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے پاس اسلام کو مسترد کرنے کی کوئی معقول وجہ باقی نہیں رہی۔ اس فہم نے مجھے اسلام کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کر دیا، اور میں نے سمجھ لیا کہ اسلام کا مطلب ’سر تسلیم خم کرنا‘ کیوں ہے—کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب انسان یہ سمجھ لے کہ یہ حقیقت الہامی ہے تو وہ اس کے سامنے جھک جاتا ہے۔

اگلے باب میں، میں آپ کے ساتھ اسلام اور وجود کے بارے میں اپنے سوالات کے تسلی بخش جوابات شیئر کروں گا ۔

__________

  1. 1۔ University of Oxford Ian Ramsey Centre – ۔
  2. 2۔ دیکھیے:

    “Humans ‘predisposed’ to Believe in Gods and the Afterlife,”-ScienceDaily, https://www.sciencedaily.com/releases/2011/07/110714103828.html

  3. 3۔ الشمس91 : 8۔
  4. 4۔ الزمر39 : 75۔

    مصطفیٰ خطاب کے ترجمے میں اس آیت پر ان کے نوٹس کا مطالعہ کریں۔

  5. 5۔ دیکھیے: الاعراف7 : 11 – 25 ، البقرہ2 : 31 – 38۔
  6. 6۔ دیکھیے: البقرہ2 :213۔
  7. 7۔ دیکھیے: الشوریٰ 42: 13۔
  8. 8۔ دیکھیے : الشوریٰ42 : 14 ، الانعام 6 : 159۔
  9. 9۔ دیکھیے: آل عمران 3 : 19۔
  10. 10۔ دیکھیے: النسا 4 : 93۔
  11. 11۔ دیکھیے: آل عمران3: 179 ۔ صحیح مسلم، رقم 5113۔
  12. 12۔ الاعلیٰ 87: 14، الشمس91 : 9-10۔
  13. 13۔ الملک67: 2 ۔
  14. 14۔ الزمر39 : 75۔
  15. 15۔ المائدہ5 : 6۔
  16. 16۔ المائدہ5 : 1۔
  17. 17۔ المائدہ5: 1۔
  18. 18۔ المائدہ5: 96۔
  19. 19۔ النساء4: 43۔
  20. 20۔ الحدید57: 3۔
  21. 21۔ الشوریٰ42 : 11۔ الاخلاص112: 4۔
  22. 22۔ الحجر15: 29۔
  23. 23۔ الذاریات 51: 56۔
  24. 24۔ النساء4: 48 ۔
  25. 25۔ حٰمٓ السجدہ 41 : 34۔
  26. 26۔ آل عمران3 : 133-134 ۔
  27. 27۔ النحل 16 : 126۔
  28. 28۔ الضحیٰ 93 :10، بنی اسرائیل 17: 28۔
  29. 29۔ البقرہ2 : 262-263۔
  30. 30۔ المائدہ5 : 8۔
  31. 31۔ الحجرات 49 : 11۔
  32. 32۔ لقمان31 : 18۔
  33. 33۔ القصص 28 : 83۔
  34. 34۔ الفرقان25 : 63۔
  35. 35۔ بنی اسرائیل 17: 23-24۔
  36. 36۔ بنی اسرائیل17 : 35۔
  37. 37۔ النساء 4: 75۔
  38. 38۔ الانعام 6 : 108۔
  39. 39۔ الحجرات49 : 12۔
  40. 40۔ النساء4 : 135۔
  41. 41۔ التوبہ 9 : 5 – 20۔