Skip to content

Chapter 12: باب ہفتم: سوال و جواب

سوال و جواب: حصہ اول

سوال 1: خدا کی ذات کیسی ہے؟

خدا حقیقت میں کیا ہے؟ وہ بنیادی اور حتمی حقیقت، جو باشعور، ذہین اور ہر چیز پر قادر ہے، اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟ وہ کس چیز سے بنی ہے؟ وہ ہمیشہ کے لیے کیسے موجود رہ سکتی ہے اور لامحدود کیسے ہو سکتی ہے؟ کیا وہ توانائی ہے؟ کیا وہ روشنی ہے؟ قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ ہم اس دنیا میں خدا کی ذات کو اس کی حقیقی ماہیت کے اعتبار سے پوری طرح نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ وہ زمان و مکان سے بالاتر ہے۔ (الحدید57 : 3) وہ اس قدر جداگانہ، یکتا اور منفرد ہے کہ دنیا کی کسی بھی چیز کو اس کی ذات کی مثال کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی چیز سے اس کے جوہر کو سمجھا جا سکتا ہے ۔(الشوریٰ 42: 11، الاخلاص112: 4) چنانچہ اللہ نہ روشنی ہے اور نہ توانائی—بلکہ وہ ان سب سے ماورا ایک ایسی حقیقت ہے، جسے ہماری محدود عقل اور فہم کے ذریعے سے سمجھنا ممکن نہیں۔

قرآن جنت، جہنم، فرشتے اور روح جیسی غیر مرئی حقیقتوں کو سمجھانے کے لیے تمثیلوں کا استعمال کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی بالکل واضح کر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کسی تمثیل میں مکمل طور پر نہیں سماتی۔ اس کی اصل حقیقت ہماری سمجھ اور ادراک سے بالاتر ہے۔

یہ بات بالکل معقول معلوم ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے زمان و مکان کو پیدا کیا اور خود ان سے ماورا ہے تو یہ امر بدیہی ہے کہ ہم اللہ کی حقیقی ذات کا تصور کبھی نہیں کر سکتے، کیونکہ ہماری سوچ اور فہم لازماً زمان و مکان کے حدود میں مقید ہے۔ ہماری دنیا میں ہر چیز کسی نہ کسی مقام اور شکل میں موجود ہے۔ جب تک ہم زمان و مکان کے قیدی ہیں، ان حدود سے باہر کسی بھی چیز کو پوری طرح سمجھنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔

چنانچہ قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ کی ذات کائنات میں موجود ہر چیز سے بالکل مختلف ہے۔ اگرچہ ہم اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو سمجھ سکتے ہیں، مگر اس کی اصل ذات کو اس محدود دنیوی وجود میں رہتے ہوئے سمجھنا ناممکن ہے۔ قیامت کے دن ہی ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات کی حقیقت کا مکمل ادراک حاصل ہو سکے گا۔

سوال 2: اللہ تعالیٰ نے کائنات اور زمین کی تخلیق میں اربوں سال کیوں صرف کیے ؟

پہلی بات یہ ہے کہ—جیسا کہ ہم نے وقت کی حقیقت پر پہلے گفتگو کی— وقت ایک ایسی شے ہے جو انسانی تجربے کے دائرے میں محدود ہے، مگر کائنات کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ روشنی کے ایک ذرّے (فوٹون) کے لیے اربوں سال کسی حیثیت کے حامل نہیں، کیونکہ وہ وقت کو محسوس ہی نہیں کرتا۔ اسی طرح، جب کوئی شے روشنی کی رفتار کے قریب پہنچتی ہے تو وقت اس کے لیے آہستہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو اربوں سال میں تخلیق کیا، ہماری محدود انسانی تفہیم کے مطابق ہے، جب کہ اللہ کے لیے یہ تخلیق شاید ایک لمحے سے زیادہ نہ ہو۔ قرآن نے وقت کو نسبتی تصور کے طور پر بیان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اللہ کے ہاں وقت انسانوں کے وقت سے مختلف ہے۔ ان کے ہاں ایک دن ہمارے چوبیس گھنٹے جتنا نہیں ہے۔ (الحج22 : 47)

دوسری بات یہ ہے کہ قرآن ایک ایسا تصورِ وجود پیش کرتا ہے جو انسان مرکزیت سے بالاتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے معاملات محض انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی سلطنت میں دیگر مخلوقات اور سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر،قرآن ایک مخلوق—جنات — کا ذکر کرتا ہے جو کائنات میں موجود ہے، آزمایش سے گزر رہی ہے، اور انسانوں سے بہت پہلے تخلیق کی گئی ہے ۔ قرآن بیان کرتا ہے کہ یہ مخلوق ”آگ کی لپٹ “ یا ” لو کی لپٹ “سے تخلیق کی گئی ہے۔(الرحمٰن 55 : 15، الحجر 15: 27) لہٰذا قرآن کے غیر انسان مرکزیت والے تصور کے مطابق، انسانوں کی تخلیق سے پہلے بھی کائنات میں خدا تعالیٰ کی سرگرمیاں جاری تھیں اور اللہ کے دیگر امور سرانجام پا رہے تھے۔

سوال 3: شرک کیوں ناقابلِ معافی ہے؟

قرآن میں شرک کو ناقابلِ معافی گناہ قرار دینے کی تین بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

1۔ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ نے اپنے لیے شریک مقرر کر لیے ہیں تو درحقیقت وہ اللہ پر ایک ایسا جھوٹ باندھتا ہے، جس کے حق میں نہ تو انسانی فطرت کوئی شہادت دیتی ہے اور نہ ہی کائنات کی حقیقتیں اس کی تائید کرتی ہیں۔ لہٰذا کوئی بھی مخلص اور سنجیدہ شخص اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتا کہ ایک سے زیادہ خدا موجود ہیں۔قرآن سورۂ اعراف (7) کی آیت172 میں اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اللہ نے ہر انسان کی فطرت میں ایک خالق کی پہچان ودیعت کر دی ہے۔ دہریت یا خدا کے انکار کے لیے تو کسی حد تک انسان اپنے ذہن میں کوئی عقلی جواز گھڑ سکتا ہے، مگر شرک ایک ایسا عقیدہ ہے جس کے لیے نہ کوئی عقلی بنیاد ہے، نہ فطری سند اور نہ ہی کوئی اخلاقی جواز۔ اسی لیے شرک اللہ پر سب سے بڑا بہتان اور انسان کے خالق کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔

2۔ اگر ایک انسان یہ جانتا ہو کہ اللہ ہی اس کا خالق ہے، وہی اسے زندگی بخشنے والا، رزق دینے والا اور ابدی جنت کا وعدہ کرنے والا ہے، پھر بھی وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو محبت، وفاداری اور اطاعت میں شریک کرے تو اس کا یہ عمل اللہ کے ساتھ سب سے بڑی بے وفائی اور غداری ہے۔

3۔ شرک کے ناقابلِ قبول اور ناقابل معانی ہونے کی ایک عملی وجہ بھی ہے۔ جب کوئی شخص اللہ کے ساتھ کسی اور کو اس کا شریک ٹھہراتا ہے تو یہ اللہ کی حاکمیت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص ایک ریاست میں رہتے ہوئے دو یا تین صدور یا وزراے اعظم یا بادشاہوں کی حکمرانی کو تسلیم کرے، یا ایک فوج میں شامل ہو کر دو مختلف سپہ سالاروں سے وفاداری کا اعلان کرے۔ یہ قابل قبول نہیں ہے۔ اگر جنت ایک کامل اور پرامن جگہ بننی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہاں صرف ایک اعلیٰ اور مطلق اختیار رکھنے والے اللہ کی مکمل حاکمیت ہو۔ اس مقتدر قوت کے ساتھ کسی بھی قسم کی شراکت یا اس کے خلاف کوئی بھی سرکشی قابل قبول نہیں ہے۔

جیسا کہ پہلے گزر چکا کہ اگر کسی شخص نے غلط فہمی یا نادانی کی بنیاد پر شرک کا ارتکاب کیا ہو اور اسے حق کی پہچان کا موقع ہی نہ ملا ہو تو اللہ کے ہاں اس کے لیے معافی کا دروازہ کھلا ہے۔ مثلاً، کوئی شخص ایسے ماحول میں پیدا ہوا ہو ،جہاں توحید کی تعلیمات مسخ کر دی گئی ہوں یا اس کے ذہن اور دل کو اس قدر بگاڑ دیا گیا ہو کہ اس کے لیے حق کو پہچاننا دشوار ہو جائے تو ایسی صورت میں اللہ کی رحمت اس کے حال کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔

سوال 4: جانوروں میں تشدد اور انسانوں پر قدرتی آفات، مہلک بیماریوں اور پیدایشی نقائص کی کیا حکمت ہے؟

ایک باشعور اور تجزیاتی ذہن کے لیے انسان کی اپنی پیدا کردہ برائی کا وجود قابل فہم ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو آزمایش کا میدان بنایا ہے اور انسان کو آزادی عطا کی ہے کہ وہ اپنے اعمال کے ذریعے سے اپنے انجام کا فیصلہ کرے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قدرتی آفات، شدید بیماریاں اور پیدایشی نقائص کیوں رونما ہوتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ انسانوں اور جانوروں کو ان تکالیف میں کیوں مبتلا کرتا ہے؟ قرآن کی روشنی میں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ سب انسانی آزمایش اور تربیت کے لیے ہے۔

قرآن ان لوگوں کے لیے، جو دنیا کو انسان کے پیدا کردہ شر کے سوا ہر قسم کی تکلیف سے پاک سمجھنے کی امید رکھتے ہیں، ایک بالکل مختلف حقیقت پیش کرتا ہے۔ قرآن کے مطابق، یہ دنیا انسان کے لیے آرام و سکون کی جگہ نہیں، بلکہ آزمایش کی سرزمین ہے۔ یہاں کی زندگی بنیادی طور پر ناقص اور خامیوں سے بھرپور ہے، لیکن یہی نقص اور خامیاں انسان کی آزمایش کے لیے موزوں ترین ہیں۔اس دنیا میں انسانوں کو کبھی خوش حالی ، دولت، اور آسایش کے ذریعے سے آزمایا جاتا ہے اور کبھی دکھ، مصیبت، خوف، اور شدید تکلیف کے ذریعے سے۔

اس کے ساتھ ہی یہ دنیا انسان کے لیے ایک درس گاہ ہے۔ انسان ہر چیز کو اس کے مخالف پہلو سے سمجھ کر سیکھتا ہے۔ مثلاً، مہربانی کا حقیقی شعور اسے ظلم کے تجربے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی فطرت اور دنیا میں خیر و شر، رحم اور تشدد، دونوں کا امتزاج پایا جاتا ہے۔اس کے مقابلے میں، جنت کو کامل مقام کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جہاں دکھ، درد یا تکلیف کا کوئی تصور نہیں ہوگا۔ لیکن یہ دنیا آزمایش اور سیکھنے کے لیے بنائی گئی ہے، جہاں ہمارے اندر اور خارجی دنیا میں رحمت اور شدت، دونوں موجود ہیں تاکہ انسان کی شخصیت کو نکھارا اور سنوارا جا سکے۔

سوال 5: جانوروں کو خوراک بنانے کے لیے انھیں تکلیف دینے کی اجازت کیوں ہے، اور اسلام میں قربانی کا مقصد کیا ہے؟

یہ دنیا اپنی ساخت کے لحاظ سے ایک عارضی اور ناقص جگہ ہے، جس کا مقصد یہاں کے باسیوں کی آزمایش اور تربیت ہے۔ اسی لیے درد و تکلیف بھی اس آزمایش کا ایک لازمی جزو بنائے گئے ہیں۔اس کے برعکس، آخرت میں جنت کو کامل اور ہر قسم کی تکلیف سے پاک بنایا گیا ہے۔ وہاں ہر قسم کی خوراک بغیر کسی جان لیوا عمل کے دستیاب ہوگی۔

اگرچہ موجودہ صنعتی دور میں یہ نکتہ زیادہ نمایاں نہیں رہا، لیکن تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جانور کو خوراک کے لیے ذبح کرنا ایک غیر معمولی عمل سمجھا جاتا تھا، جس کا مقصد انسان کے اندر شکر گزاری کے جذبات کو پروان چڑھانا تھا۔ یہ عمل ایک جان کی قربانی کے ذریعے سے یہ احساس اجاگر کرتا تھا کہ انسان کو اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ وہ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے اور کھانے کی لذت حاصل کرنے کے لیے کسی مخلوق کی جان لے رہا ہے۔

جب میں خدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا تو میں نے اپنے ایک دوست سے اس مسئلے پر بات کی کہ اللہ جانوروں کو خوراک کے لیے ذبح کرنے اور قربانی کی اجازت کیسے دے سکتا ہے۔ میں نے اس معاملے میں جانوروں پر ہونے والی تکلیف کو بہت زیادہ اہمیت دی۔ لیکن میرے دوست، جو ایک مضبوط ایمان رکھنے والے تھے، نے ایک نہایت اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی۔ انھوں نے کہا کہ اگر خدا رحیم ہے اور اس نے جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت دی ہے تو یقیناً اس نے ان کے درد کی شدت کو بھی اس حد تک محدود کر دیا ہوگا کہ وہ غیر ضروری تکلیف کا شکار نہ ہوں۔

یہ بات میرے دل کو لگی۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ بہت سے جانور انسانوں کی طرح جذباتی تکلیف محسوس نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر، جب کسی جانور کے بچے کو ہلاک کیا جاتا ہے تو وہ جانور بہت کم تکلیف کا اظہار کرتا ہے یا بالکل نہیں کرتا اور کچھ ہی دیر بعد اس کی زندگی معمول پر واپس آ جاتی ہے ۔ ہاتھی اور چند دیگر مخلوقات اپنے مردہ ساتھیوں کے لیے کچھ زیادہ جذباتی ردعمل ظاہر کرتے ہیں، لیکن یہ بھی چند دنوں سے زیادہ نہیں رہتا۔ اگر جانور جذباتی تکلیف کو انسان کے برابر محسوس نہیں کر سکتے تو ممکن ہے کہ خدا نے ان جانوروں کے جسمانی درد کو بھی کم کر دیا ہو جن کے ذبح کی اجازت دی گئی ہے۔

کبھی کبھار میں سوچتا ہوں کہ خدا ایک ایسا نظام کیوں نہیں بنا سکتا تھا جہاں جنت کو آباد کرنے کے لیے دنیا میں کسی بھی طرح کی تکلیف یا آزمایش نہ ہوتی۔ لیکن پھر میں اپنے محدود علم اور ناقص بصیرت کا اعتراف کرتا ہوں۔ اگر ہم یہ تصور کریں کہ خدا نے کھربوں شعور رکھنے والی مخلوقات کو پیدا کیا ہے، جو انصاف اور اخلاقیات کا احساس رکھتی ہیں تو ان مخلوقات کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے ہر ممکن پہلو کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ شاید یہی وہ بہترین منصوبہ تھا جو تمام اصولوں اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا۔

سوال6: کیا جانوروں کو ان کی تکلیف کا بدلہ دیا جائے گا؟

اسلامی تعلیمات کے مطابق، جانوروں کے اندر وہ اخلاقی شعور نہیں پایا جاتا جو انسان کو مکلف بناتا ہے، اس لیے وہ کسی آزمایش کے مکلف نہیں ہیں اور ان کے لیے جہنم میں جانے کا کوئی امکان نہیں۔قرآن 1میں ذکر ملتا ہے کہ قیامت کے دن جانوروں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ لیکن کچھ احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے عدل کا مکمل نفاذ فرما چکے گا تو ان جانوروں کو مٹی بنا دیا جائے گا۔ دوسری طرف، کچھ احادیث میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ بعض جانور جنت کے باسی ہوں گے۔ مثلاً، ایک حدیث کے مطابق، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکریوں کے احترام کی تلقین فرمائی اور انھیں جنت کے جانوروں میں شمار فرمایا ۔ (سنن الکبریٰ، بیہقی ، رقم 4357)

قرآن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قیامت کے دن جانور زندہ کیے جائیں گے۔ البتہ، یہ بات غیر یقینی ہے کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے یا نہیں۔ مناسب طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ مانیں کہ اگر کسی جانور میں شعور کی وہ سطح موجود ہے جو اسے جزا کے مستحق بناتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ انصاف فرمائے گا اور اسے اس کا حق ضرور عطا کرے گا۔

اسلام میں قربانی کا مقصد

دنیا بھر میں روزانہ لاکھوں جانور خوراک کے لیے ذبح کیے جاتے ہیں، اور اسلام نے بھی بعض جانوروں کو کھانے کے لیے ذبح کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن حج کے بعد انجام دی جانے والی قربانی ایک خاص عبادت ہے۔ اس قربانی کا ایک دنیوی فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے لاکھوں غریب افراد کو گوشت ملتا ہے، جو عام طور پر اس نعمت سے محروم رہتے ہیں۔ یہ قربانی نہ صرف غریبوں کو گوشت مہیا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے، بلکہ ایسے افراد کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے جو ممکنہ طور پر لمبے عرصے سے گوشت کھانے سے محروم رہے ہوں۔ البتہ، قربانی کی اصل مذہبی اہمیت یہ ہے:

زندگی میں انسان مختلف قسم کے تعلقات رکھتا ہے اور ان تعلقات میں محبت اور عقیدت کے اظہار کے لیے مخصوص مراسم انجام دیتا ہے۔ اسلام میں سب سے اہم تعلق بندے اور اللہ کے درمیان ہے۔ عبادات، مثلاً نماز اور روزہ، اسی تعلق کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسی طرح حج اور قربانی بھی بندے کی اس آمادگی کی علامت ہیں کہ اگر اللہ کی راہ میں اپنی ہر چیز قربان کرنی پڑے تو وہ اس کے لیے تیار ہو۔2

سوال7 : اللہ کو انسانوں کو آزمانے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا اللہ کو پہلے سے سب کچھ معلوم نہیں؟

یہ بات ظاہر ہے کہ ایک استاد کو اپنے طلبہ کی قابلیت کا علم ہوتا ہے کہ کون کامیاب ہوگا اور کون ناکام، لیکن وہ صرف اپنے علم کی بنیاد پر کسی کے بارے میں فیصلہ نہیں کرتا بلکہ طلبہ کو امتحان دینے کا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کے نتائج کا فیصلہ کرے۔

قرآن کے مطابق اللہ نے انسان کو ارادے کی آزادی دی ہے تاکہ وہ اپنے اخلاقی فیصلے خود کرے۔ اگرچہ اللہ ہمارے ان فیصلوں کو کنٹرول نہیں کرتا، لیکن وہ پہلے ہی جانتا ہے کہ ہم کیا انتخاب کریں گے۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے ایک استاد طلبہ کی محنت اور ان کے رویے کو دیکھ کر ان کے نتائج کا اندازہ لگا سکتا ہے، حالاں کہ وہ طلبہ کی محنت پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا۔ مزید یہ کہ ہم انسان وقت کی حدود میں قید ہیں اور مستقبل کو نہیں دیکھ سکتے، لیکن اللہ جیسی اعلیٰ ہستی وقت کے تمام پہلوؤں کو دیکھ سکتی ہے۔ چونکہ ہم تین جہات میں محدود ہیں، لہٰذا ہم اس حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہیں۔ لیکن اصولی طور پر یہ سمجھنا ممکن ہے کہ اللہ ہمارے اعمال کو کنٹرول کیے بغیر بھی مستقبل کو جان سکتا ہے، حالاں کہ ہماری محدود عقل اس کی مکمل حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

سوال 8: کیا اللہ اپنی جنت کے لیے افراد کے انتخاب کا مقصد آزمایش کے بغیر بھی حاصل کر سکتا تھا؟

مثال کے طور پر، کیا اللہ یہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ صرف ان افراد کو پیدا کرتا جو جنت میں داخل ہونے والے تھے اور انھیں اس بات کا علم دے دیتا کہ انھوں نے یہ مقام کیسے حاصل کرنا ہے، اور اس طرح آزمایش کے نظام کو نافذ کیے اور لوگوں کو امتحان سے گزارے بغیر افراد کو منتخب کر لیتا؟ بلاشبہ، یہ ممکن تھا۔ لیکن اگر قرآن کے اس بیان کو مدنظر رکھا جائے کہ اللہ نے بے شمار آزاد ارادہ رکھنے والی مخلوقات پیدا کی ہیں—جیسے انسان، جن، فرشتے، اور دیگر جن کے بارے میں ہمیں علم نہیں—اور ان سب کو خیر و شر اور عدل و انصاف کا شعور عطا کیا ہے تو شاید آزمایش کا یہی طریقہ ان تمام آزاد ارادہ رکھنے والی مخلوقات کے لیے انصاف کے تمام پیمانوں کو پورا کرنے کا سب سے بہتر ذریعہ تھا۔ یہی نظام ان کے لیے بھی ضروری تھا جو ہمیشہ کے لیے جنت میں رہیں گے، تاکہ وہ جنت میں اپنی موجودگی کا حقیقی استحقاق محسوس کریں۔

ایک مثال سے اس بات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ جنت کے رہایشیوں کے انتخاب کے ساتھ، یہ امتحان ان حکمرانوں کے چناؤ کا بھی ذریعہ بنتا ہے جو جنت میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ اگر اللہ نے کچھ افراد کو محض اپنے علم کی بنیاد پر جنت کے حکمران مقرر کر دیا ہوتا اور انھیں کسی امتحان کے عمل سے نہ گزارا ہوتا تو جنت کے دیگر رہایشی یہ اعتراض کر سکتے تھے کہ ان حکمرانوں کو، جو اپنی حیثیت کے تمام فوائد اور اختیارات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، اپنے مقام کا ثبوت پیش کرنا چاہیے تھا۔ چنانچہ یہ زیادہ مناسب اور منصفانہ ہے کہ اللہ اپنے فیصلے محض اپنے علم کی بنیاد پر نہ کرے، بلکہ افراد کے اعمال اور کارکردگی کی بنیاد پر کرے۔

سوال 9: خدا کی دوہری صفات –خدا صرف محبت اور رحمت کا مظہر نہیں!

قرآن اللہ تعالیٰ کو ایک طرف نیک اور راست باز بندوں کے لیے محبت کرنے والا اور معاف کرنے والا قرار دیتا ہے، اور دوسری طرف ظالموں اور برے اعمال کرنے والوں کے لیے نہایت سخت گیر اور عذاب دینے والے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس طرح اللہ کی صفات میں رحمت اور غضب، دونوں پہلو نمایاں ہیں۔یہ دوہری صفات فطرت کے مشاہدے سے بالکل منطقی معلوم ہوتی ہیں۔ اگر اللہ نے کائنات کو تخلیق کیا ہے تو اس کی ذات میں یہ دونوں صفات پائی جانی لازم ہیں۔ ہم قدرت میں محبت، رحمت اور خوب صورتی کے مظاہر دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی قدرت کے مظاہر میں شدت، تشدد اور تکلیف بھی موجود ہے۔

سوال10: اللہ کا قانونِ ہدایت کیا ہے؟

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے ایک واضح قانون مقرر کر رکھا ہے۔ اللہ نے ہر انسان کی فطرت میں حق و باطل کے شعور کو ودیعت کر دیا ہے اور یہ احساس بھی کہ وہ ایک اعلیٰ ہستی کے تخلیق کردہ ہیں۔جو شخص اپنے ضمیر کی آواز سن کر اور فطری ہدایت کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی کے فیصلے کرتا ہے، اللہ اسے مزید ہدایت عطا کرتا ہے۔ لیکن جو شخص اس فطری ہدایت کو نظرانداز کرکے غلط کاموں میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس کا دل رفتہ رفتہ زنگ آلود ہو جاتا ہے اور آخرکار اللہ تعالیٰ اس کے دل اور دماغ پر مہر لگا دیتا ہے، جس کے بعد وہ کبھی ہدایت نہیں پا سکتا۔

اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو خلوصِ نیت، مسلسل جستجو اور سنجیدہ کوشش کے ساتھ ہدایت کی تلاش کرتے ہیں، اور غرور، تعصب اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر ہمیشہ آمادہ رہتے ہیں کہ وہ امور کو تجزیہ کرنے کے بعد انھیں میرٹ پر قبول کریں۔ جتنی زیادہ انسان ان باتوں میں محنت کرتا ہے، اتنی ہی زیادہ ہدایت اسے عطا کی جاتی ہے۔قرآن واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی نشانیوں کو مسلسل نظرانداز کرتے ہیں اور اپنی اخلاقی آلودگیوں کو ختم نہیں کرتے، وہ بالآخر گم راہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔

سوال 11: ” بیویاں اپنے شوہروں کی کھیتی ہیں “ کا معنی کیا ہے؟

قرآن کی سورۂ بقرہ کی آیت 223 میں اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ ان کی بیویاں ان کے لیے کھیت کے مانند ہیں۔ بعض ناقدین اس آیت کی غلط تشریح کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ عورت کی کم تری کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے نزدیک اس آیت میں عورت کو شوہر کی ملکیت قرار دیا گیا ہے جس کا وہ استحصال کر سکتا ہے۔ البتہ یہ تمثیل کی غلط تشریح ہے۔

درحقیقت، یہ تمثیل اس کے بالکل برعکس ہے اور ایک نہایت خوب صورت حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ کسان کے لیے اس کا کھیت زندگی کی اساس ہوتا ہے۔ وہ اپنے کھیت کا استحصال نہیں کرتا، بلکہ اسے سنوارتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے، اور اس میں بیج بونے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔کھیت کا خیال اور اس کی بہتری کی سوچ اسے دن رات جگائے رکھتی ہے۔ یہ تمثیل شوہروں کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ بیویوں کا استحصال کریں، بلکہ انھیں بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ محبت، وفاداری اور دیکھ بھال کا معاملہ کریں اور ان کے آرام و سکون کے لیے فکر مند رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اس آیت میں مزید تاکید کرتا ہے کہ شوہر ہر معاملے میں اللہ کا خوف دل میں رکھیں اور اپنے تعلقات میں تقویٰ کو پیش نظر رکھیں۔

سوال 12: کیا یہ حضرت حوا کا قصور تھا کہ حضرت آدم نے اُن کے ساتھ مل کر شجر ممنوعہ کھا لیا؟

ہرگز نہیں۔ قرآن میں جہاں کہیں بھی حضرت آدم اور حضرت حوا کے معاملے کا ذکر آتا ہے، وہاں یہ بیان کیا گیا ہے کہ دونوں نے غلطی کی۔ ذمہ داری کسی ایک پر نہیں ڈالی گئی۔ البتہ، ایک خاص مقام پر قرآن حضرت آدم کو اس معاملے میں زیادہ ذمہ دار ٹھہراتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ سورۂ طٰہٰ کی آیت 115 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”ہم نے اِس سے پہلے آدم پر ایک عہد کی ذمہ داری ڈالی تھی تو وہ بھول گیا تھا اور ہم نے اُس میں ارادے کی پختگی نہیں پائی تھی۔“

سوال 13: کیا حضرت حوا حضرت آدم کی پسلی سے پیدا کی گئی تھیں؟

ہرگز نہیں۔ اس معاملے میں قرآن ارشاد فرماتا ہے:

”لوگو، اپنے اُس پروردگار سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا ۔“ (النساء4 : 1)

لہٰذا قرآن کے مطالعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم سب حضرت آدم کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی جان یا ان کی نوع سے حضرت حوا کو پیدا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

” عورتوں کے بارے میں نصیحت حاصل کرو۔ بے شک، عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اور پسلی کا اوپر کا حصہ سب سے زیادہ ٹیڑھا ہوتا ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو یہ ٹوٹ جائے گی اور اگر اسے ایسا ہی چھوڑ دو گے تو یہ ٹیڑھی رہے گی۔ چنانچہ عورتوں کے بارے میں نصیحت حاصل کرو۔“ (بخاری، رقم 5185۔ مسلم، رقم 3468)

اگر اس روایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت درست ہے تو ممکن ہے کہ آپ نے ایک تمثیل کے طور پر عورت اور پسلی کا موازنہ کیا ہو تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ عورت کی فطرت پیچیدہ ہے، اور مردوں کو چاہیے کہ وہ انھیں زبردستی اپنے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کریں۔

سوال 14: حدیث جبریل کی اہمیت کیا ہے؟

اگر کوئی اسلام کو اس کے بنیادی نکات کے ذریعے سے سمجھنا چاہے تو اس معاملے میں حدیث جبریل تمام حدیث لٹریچر میں سب سے زیادہ قابل اعتماد روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری مہینوں میں ایک اجنبی شخص مسجد میں داخل ہوا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ مدینہ ایک چھوٹا سا شہر تھا، جہاں تمام مقامی لوگ ایک دوسرے سے واقف تھے، اس لیے کسی کا غیر معروف ہونا حیران کن تھا۔ مزید یہ کہ وہ شخص بالکل تروتازہ اور نئے لباس میں ملبوس تھا، جس پر سفر کی کوئی علامت نہ تھی۔ یہ اجنبی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ بیٹھا اور دین کے بارے میں سوالات کرنے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابات دیے، اور وہ شخص ان جوابات کی تائید میں سر ہلاتا رہا۔ صحابۂ کرام حیران تھے کہ یہ شخص کون ہو سکتا ہے جو اللہ کے رسول کی باتوں کی تصدیق کر رہا ہے۔ اس شخص کے جانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکشاف کیا کہ یہ جبریل تھے، جو انسان کی شکل میں آئے تاکہ دین کی تعلیمات کو آسان اور جامع انداز میں واضح کیا جا سکے۔ میں یہاں اس حدیث کو بیان کرنا چاہوں گا، کیوں کہ یہ دین اسلام کے پورے پیغام کا ایک بہترین اور مکمل خلاصہ ہے۔

حضرت جبریل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”ایمان کیا ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، قیامت کے دن اللہ سے ملاقات، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لاؤ۔“ حضرت جبریل نے پوچھا: ”اسلام کیا ہے؟“ آپ نے جواب دیا: ”اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔“ حضرت جبریل نے مزید پوچھا: ”احسان (کمال) کیا ہے؟“ آپ نے جواب دیا: ”احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو یہ یقین رکھو کہ اللہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔“ حضرت جبریل نے پوچھا: ”قیامت کب برپا ہوگی؟“ آپ نے جواب دیا: ”جس سے سوال کیا جا رہا ہے، اسے سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں، یعنی (کسی کو اس کا معین وقت معلوم نہیں)۔ لیکن میں تمھیں اس کی نشانیاں بتاتا ہوں: 1۔ جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی۔ (اس کی تعبیر جناب جاوید احمد غامدی کے مطابق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمثیلی انداز میں کہا کہ دنیا سے غلامی کا خاتمہ ہو جائے گا، جو ایک اچھی بات ہے۔ میں اس تعبیر کو درست سمجھتا ہوں)۔ 2۔جب بدو چرواہے (عرب) بلند و بالا عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔“ (بخاری، رقم 43۔ مسلم، رقم 1)

یہ بات قابل غور ہے کہ قیامت کی یہ دونوں نشانیاں تقریباً ایک ہی دور میں پوری ہو چکی ہیں۔ غلامی کا عالمی سطح پر خاتمہ 1948ء میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیے میں ہوا، اور عربوں نے 2000ء کی دہائی کے آغاز سے عالمی سطح پر بلند و بالا عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا شروع کیا۔

سوال 15: غیب پر ایمان کیا ہے؟

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ قرآن میں ”ایمان بالغیب“ کا مطلب کسی دلیل یا سوچ بچار کے بغیر اندھا اعتقاد رکھنا ہے۔ یہ تصور درست نہیں۔ قرآن تقریباً ہر جگہ عقل و شعور کے استعمال کی تلقین کرتا ہے۔

ایمان کا مطلب ہے کہ کسی بات پر اعتماد کرنا، لیکن یہ اعتماد کسی معقول دلیل یا ثبوت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اندھا ایمان اس کے برخلاف ہوتا ہے، کیونکہ وہ بغیر کسی ثبوت یا دلیل کے بھروسا کرنے کا نام ہے۔ قرآن ہمیں ایسے ایمان کی طرف بلاتا ہے جو ٹھوس دلائل اور عقلی شواہد پر مبنی ہو۔ ”ایمان بالغیب“سے مراد یہ ہے کہ ہم ایک غیر مرئی خدا اور اُس کے پیدا کردہ عالم پر اُن شواہد کی بنیاد پر یقین رکھیں جو ہمارے مشاہدے اور عقل سے مطابقت رکھتے ہوں۔

سوال 16: کائنات اتنی وسیع کیوں ہے؟

قرآن کی سورۂ ابراہیم کی آیت 48 میں بیان کرتا ہے کہ یہ موجودہ کائنات اُس ابدی اور لامحدود جہان کی ایک ابتدائی شکل ہے جسے ابھی وجود میں آنا ہے۔ یہ کائنات اُس آنے والے دائمی عالم کا ابتدائی خام مواد ہے، جو خدا کی حکمت سے ترتیب پائے گا۔

سوال 17: خدا کو ”اللہ“ کیوں کہا جاتا ہے؟

قرآن میں اللہ نے اپنے دو بنیادی نام بیان کیے ہیں: رحمٰن، یعنی سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور اللہ، جو عربی زبان میں ”خدا“ کا مترادف ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بائیبل میں بھی خدا کے لیے ایسے ہی نام استعمال ہوئے ہیں، جیسے عبرانی زبان میں ”ایلوہیم“ (پیدایش 1: 1-2: 4الف) اور آرامی زبان میں ”ایلائی“ (مرقس 15: 34)۔ چاہے وہ عربی میں”اللہ“ہو، عبرانی میں ”ایلوہیم“ یا آرامی میں ”ایلائی“، یہ تمام نام متعلقہ زبانوں میں خدا کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

قرآن کی سورۂ اعراف کی 180 میں ارشاد فرماتا ہے کہ تمام خوب صورت نام اُس کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ لہٰذا خدا کو کسی بھی ایسے نام سے پکارا جا سکتا ہے جو قرآن میں بیان کردہ اُس کی صفات کے مطابق ہو۔

سوال 18: ہمارے حدود کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ کیا ہم واقعی خدا، فرشتوں، روح اور آنے والے عالم کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں؟

انسان ہزاروں سال سے مابعد الطبیعیات کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ چند صدیوں قبل یہ شعور پیدا ہوا اور اس پر انسانوں کا اجماع ہو گیا کہ انسان کو اپنے علمی حدود کو تسلیم کرنا چاہیے۔ انھیں اُن چیزوں پر توجہ مرکوز نہیں کرنی چاہیے جو اُن کے حسی علم سے باہر ہیں۔ انھیں اپنی توجہ کامرکز انھی امور تک محدود رکھنا چاہیے، جو ہمارے معروضی مشاہدے اور پیمایش میں آتی ہیں۔ یہی شعور وہ بنیاد تھی جس کی بنیاد پر جدید سائنسی انقلاب برپا ہوا۔

قرآن ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ ہم اپنے علم کے حدود کو پہچانیں۔یہ ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ روح، فرشتے، آنے والے عالم، اور خدا کی ذات کی حقیقت کو انسان اس دنیا میں نہیں سمجھ سکتا۔ اس محدود دنیوی زندگی میں یہ امور ہمارے مشاہدے لہٰذا ادراک سے باہر ہیں۔ وہ آیات جو ان امور کو بیان کرتی ہیں، انھیں قرآن ”متشابہات“کہتا ہے، یعنی وہ امور جنھیں صرف تمثیلوں اور تشبیہوں کے ذریعے سے سمجھایا جا سکتا ہے۔ کتاب اللہ ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ان متشابہ امور کی اصل حقیقت کو سمجھنے کی کوشش سے گریز کریں۔ سورۂ آل عمران کی آیت 7 میں فرمایا ہے:

”وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری ہےجس میں آیتیں محکم بھی ہیں جو اِس کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور (اِن کے علاوہ) کچھ دوسری متشابہات بھی ہیں۔ سو جن کے دل پھرے ہوئے ہیں، وہ اِس میں سے ہمیشہ متشابہات کے درپے ہوتے ہیں، اِس لیے کہ فتنہ پیدا کریں اور اِس لیے کہ اُن کی حقیقت معلوم کریں، دراں حالیکہ اُن کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ “

سوال 19: اگر قرآن کا خدا عالم گیر ہے تو دنیا میں اتنے زیادہ مذاہب کیوں موجود ہیں؟

قرآن کا خدا – ایک عالمی خدا

عام طور پر بہت سے مذاہب خدا کو کسی مخصوص علاقے یا تہذیب کے ساتھ خاص کرتے ہیں۔ یہ مذاہب اکثر ان سوالات کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ خدا محض ایک مخصوص علاقے یا قوم کے لیے کیوں سرگرم رہا، اور باقی دنیا کے لیے اس کا کوئی کردار کیوں دکھائی نہیں دیتا؟

قرآن ایک عالم گیر خدا کا تصور پیش کرتا ہے، ایک ایسا خدا جو پوری انسانیت کے دلوں میں ہدایت کا نور پیدا کرتا ہے اور مختلف ادوار میں رسولوں کے ذریعے سے یہ ہدایت تفصیل، یاددہانی اور اصلاح کے ساتھ پہنچاتا رہا۔ بالآخر، اس خدا نے انبیا کو اپنا رسول بنا کر مختلف قوموں کو اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چنا اور ان کےذریعے سے دنیا میں اپنی عدالت لگا کر قیامت صغریٰ برپا کر کے دکھا دی۔ پھر نبوت کو حضرت ابراہیم کی نسل تک محدود کر دیا تاکہ خدا کے دین کو دنیا میں پھیلانے اور غالب کرنے کے لیے قوموں کو کھڑا کرے۔

قرآن میں دیگر مذاہب کی موجودگی کی وضاحت

اس کے مطابق، مختلف مذاہب کے ظہور کے وجوہات درج ذیل ہیں:

1۔ قرآن سورۂ بقرہ کی آیت 213 میں بیان کرتا ہے کہ تمام انسانیت ابتدا میں ایک ہی دین پر قائم تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ باہمی اختلافات اور دشمنیوں کی وجہ سے مختلف گروہوں میں بٹ گئی۔

2۔ قرآن مزید بیان کرتا ہے کہ انسانوں نے جنات، فرشتوں اور اپنے معاشروں کے نیک افراد کو معبود بنا لیا، جیسا کہ قرآن میں ذکر کیا گیا ہے۔ (الانعام6 : 100، سبا34 : 40-41، التوبہ9 : 31) ان شخصیات کے بارے میں من گھڑت کہانیاں اور توہمات باندھ لیے گئے اور ان کی پرستش کی جانے لگی۔

سوال 20: خدا کو بار بار کتابیں بھیجنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اسلام کوئی نیا دین اور ہدایت کا پیغام نہیں، بلکہ وہی ازلی پیغام ہے جو انسانیت کو ابتدا سے دیا جاتا رہا ہے۔ یہ پیغام انسانی تہذیب کے ارتقا کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ضروریات کے مطابق مکمل ہوتا گیا اور بالآخر یہ ساتویں صدی عیسوی میں تکمیل کو پہنچا۔ چنانچہ قرآن کے خدا نے اعلان فرمایا:

”تمھارے دین کو آج میں نے تمھارے لیے پورا کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند فرمایا ہے۔“ (المائدہ5 : 3)

سوال 21: اسلام کا مطلب کیا ہے؟

اسلام ایک عربی لفظ ہے، جس کا مطلب ہے ”سرِ تسلیم خم کرنا“۔ قرآنی سیاق و سباق میں، اسلام کا مطلب ہے: خدا کے حکم کے آگے جھک جانا اور حق کو قبول کرنا۔

سوال 22: اگر اخلاقیات صرف مذہبی کتب سے حاصل کی جا سکتی ہیں تو پھر اخلاقی طور پر اچھے دہریے کیوں موجود ہیں؟

مذہب کے ناقدین عام طور پر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر اخلاقیات کے لیے کسی مذہبی کتاب کی ضرورت ہے تو پھر ایسے لوگ کیوں پائے جاتے ہیں جو دہریہ ہونے کے باوجود اعلیٰ اخلاق کے حامل ہیں؟ قرآن اس شبہے کا جواب دیتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ انسانوں کو صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے کے لیے کسی کتاب کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ علم ان کی فطرت میں پہلے سے ودیعت ہے۔ (الشمس91:7-8) انبیا کے ذریعے سے دی گئی کتب انسان کو اس کے اندر موجود اخلاقی ہدایت کی یاد دہانی کرانے کے لیے ہیں اور وہ ان مواقع پر مزید وضاحت پیش کرتی ہیں، جہاں انسانی اخلاقی شعور بگاڑ کا شکار ہو چکا ہو۔

سوال 23: قرآن کی کون سی پیشین گوئیاں پوری ہوئیں؟

قرآن میں بعض ایسی پیشین گوئیاں کی گئیں جو قریب الوقوع مستقبل کے بارے میں تھیں اور معجزانہ طور پر پوری ہوئیں۔ یہ حقیقت ان اضافی وجوہات میں سے ایک ہے جنھوں نے قرآن کی صداقت پر میرے ایمان کو مزید مضبوط کیا:

الف۔ 615 عیسوی میں خسرو پرویز نے بازنطینی (رومی) سلطنت پر حملہ کیا اور شام، فلسطین اور شمالی افریقہ پر قبضہ کر لیا۔ ایرانیوں نے یروشلم کو لوٹا، کلیساے مقبرہ مقدس (Holy Sepulcher)کو نذر آتش کیا، اور متعدد شہروں کو تباہ کر دیا۔ جنگ کا خاتمہ فارس کی واضح فتح کے ساتھ ہوا۔ اب بازنطینی سلطنت کا زوال یقینی نظر آتا تھا۔ لیکن قرآن نے فوراً پیشین گوئی کی کہ چند سالوں کے اندر بازنطینی فارس کے خلاف فتح حاصل کریں گے۔ اسی دن مسلمانوں کے لیے بھی خوشی کی خبر ہوگی، کیونکہ انھیں بھی اللہ کی طرف سے فتح نصیب ہوگی۔ (الروم 30:2-7)

یہ پیشین گوئی انتہائی پرخطر تھی، کیونکہ اگر یہ پوری نہ ہوتی تو قرآن کی الہامی حیثیت مشکوک ہو جاتی۔ حیرت انگیز طور پر، نو سال بعد 624 عیسوی میں بازنطینی سلطنت نے فارس کے خلاف فیصلہ کن فتح حاصل کی اور اسی دن مسلمانوں نے بدر کے معرکے میں مکہ کے مشرکین کے خلاف اپنی پہلی جنگ جیتی۔

ب۔ سورۂ قصص کی آیت 85 اس وقت نازل ہوئی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا تھے اور ابھی تک چند لوگ ہی آپ پر ایمان لائے تھے۔ یہاں تک کہ آپ مکہ سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔ اس وقت نازل ہونے والی اس آیت نے مکہ میں آپ کی فاتحانہ واپسی کی پیشین گوئی کی، جو تاریخ میں حقیقت ثابت ہوئی۔

ج۔ 628 عیسوی میں حدیبیہ کے معاہدے کے بعد مسلمانوں نے سمجھا کہ انھوں نے مکہ کے ساتھ ایک نقصان دہ معاہدہ کیا ہے جو آنے والے سالوں میں ان کے لیے انتہائی مشکلات پیدا کرے گا۔ لیکن قرآن (الفتح48: 27) نے پیشین گوئی کی کہ مکہ جلد ہی مسلمانوں کے قبضے میں ہوگا اور صرف دو سال کے اندر مسلمان مکہ فتح کرنے میں کامیاب ہوئے۔

د۔ سورۂ نور کی آیت 55 پیشین گوئی کرتی ہے کہ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کریں گے، وہ ایک وسیع سلطنت کے حکمران بنائے جائیں گے، جو ان پر اللہ کا انعام ہوگا۔ یہ پیشین گوئی اس وقت پوری ہوئی ، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی ساتھی، جو ابتدا میں کسی قابل ذکر فوجی طاقت کے حامل نہ تھے، ایک بڑی وسیع سلطنت کے حکمران بن گئے جسے ”خلافتِ راشدہ “کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ سلطنت، جو اس دور کی دو سپر پاورز—بازنطینی اور فارسی سلطنتوں—کو شکست دے کر قائم ہوئی، جدید دور کے متعدد ممالک کو محیط تھی۔ یہ لیبیا، مصر، ترکی، آرمینیا، آذربائیجان، یروشلم، شام، عراق، اردن، سعودی عرب، یمن، عمان، متحدہ عرب امارات، ایران، افغانستان، ترکمانستان اور پاکستان کے کچھ حصوں تک شامل ہے۔

سوال 24: کیا قرآن سابقہ مذہبی متون کو غلط طور پر نقل کرتا ہے؟

قرآن کا ایک اہم اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ یہ سابقہ الہامی کتب میں موجود تاریخی غلطیوں کی تصحیح کرتا ہے۔ اس سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ قرآن نے جن تاریخی حقائق کو واضح کیا، ان تک اس وقت کسی انسان کی رسائی ممکن نہ تھی۔ اس ضمن میں دو مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:

الف۔ بائیبل کی کتاب ”آستر “ کے مطابق ہامان ایک ایرانی بادشاہ کا وزیر تھا۔ 3 اس کے برعکس، قرآن میں ہامان کو فرعون کا وزیر بتایا گیا ہے، جو بادشاہ کے تعمیراتی منصوبوں کی نگرانی کرتا تھا۔ (سورۂ غافر 40: 36) جن لوگوں کا یہ گمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو بائیبل سے نقل کیا، ان کے نزدیک یہ بات قرآن پر ایک اعتراض کے طور پر پیش کی جاتی ہے اور اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلطی شمار کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ سوال کہ ہامان فرعون کے ساتھ تھا یا بابلی بادشاہ کے ساتھ، اس وقت ناقابل حل تھا، کیونکہ مصری زبان معدوم ہو چکی تھی۔ ”روزٹا اسٹون“(Rosetta Stone) کی دریافت سے قبل اسے کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اور یہ دریافت 1799 عیسوی میں ہوئی۔ فرانسیسی محقق مورس بوکائے (Maurice Bucaille)نے اپنی کتاب ”Moses and Pharaoh in the Bible, Quran, and History “میں تحقیق کی کہ ہامان (مصری ہیرو غلیفی رسم الخط میں HMNH) کا ذکر فرعونوں کے دور میں تعمیراتی مواد کے انچارج کے طور پر آتا ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگرچہ یہ عام تاثر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون رعمسیس (Rameses)تھا، لیکن اس کا کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں اور قرآن رعمسیس کا نام نہیں لیتا۔ لہٰذا یہ موقف زیادہ درست ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ حضرت موسیٰ کے تعلق سے قرآن کس فرعون کا حوالہ دیتا ہے۔

ب۔ بائیبل میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کے مصری بادشاہوں کو ”فرعون“ کہا گیا ۔ (پیدایش 12: 10-20۔ 41 :1-57)

لیکن تاریخی طور پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مصری بادشاہوں کو ”فرعون“کا لقب بہت بعد میں دیا گیا۔ خاص طور پر یہ نئی سلطنت (New Kingdom) کے دور میں (یعنی 1400 قبل مسیح کے بعد) دیا گیا۔ 4

اگرچہ یہ متعین کرنا ممکن نہیں کہ حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کس دور میں تھے، لیکن عمومی اتفاق راے یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے ابتدائی دور میں تھے، یعنی عبرانیوں کی اجتماعی ہجرت سےپہلے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بعد کے دور میں تشریف لائے، جب مصریوں نے عبرانیوں کو اپنا غلام بنا لیا تھا۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ حضرت یوسف کے زمانے میں مصر کے حکمرانوں کو ”فرعون“نہیں کہا جاتا تھا۔ اب جب کہ بائیبل نے تمام مصری حکمرانوں کو ”فرعون“ کہا، لیکن قرآن نے حیرت انگیز طور پر اس تاریخی حقیقت کو مدنظر رکھا اور حضرت یوسف علیہ السلام کے وقت کے مصری حکمران کو ”بادشاہ“ (یوسف12: 54) کہا، جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کے حکمران کو ”فرعون“ کہا۔ (غافر 40 :26)

سوال 25: اگر اللہ رب العالمین ہے تو پھر دنیا میں بھوک، قحط اور افلاس کیوں ہے؟

اس سوال کا جواب تین نکات میں دیا جا سکتا ہے:

۱۔ قرآن بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو آزمایش میں ڈالتا ہے، کبھی خوش حالی کے ذریعے سے اور کبھی تنگی کے ذریعے، اس لیے ضروری ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس دوسروں کے مقابلے میں زیادہ مال اور وسائل ہوں۔

2۔ یہ دنیا ایک عارضی مقام ہے، جہاں زندگی اور موت کے قدرتی چکر جاری رہتے ہیں۔ لہٰذا خاص طور پر جانور کبھی کبھار قحط یا بھوک کے باعث موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

3۔ انفرادی سطح پر انسان کو اللہ کی طرف سے دیے گئے رزق کے حصول کے لیے کوشش کرنا لازم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے۔ زمین پر کھیتی باڑی، تجارت یا کوئی محنت طلب کام کیے بغیر رزق حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کے ”رزاق “ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور انتظار کرے کہ اللہ اس پر پیسا اور رزق برسائے گا۔ یہ اصول سب پر لاگو ہے۔ اللہ کے رزاق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے دنیا میں ہر شخص کے لیے کافی وسائل فراہم کر دیے ہیں۔ اب یہ انسانیت کی ذمہ داری ہے کہ ان وسائل کو حاصل کرنے کی کوشش کرے اور یہ یقینی بنائے کہ یہ سب تک پہنچیں۔ دنیا میں بھوک اور افلاس کے مسائل اکثر انسانی بدانتظامی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ سیاسی کرپشن، ناقص اقتصادی پالیسیاں، خوراک کا ضیاع، وسائل پر قبضہ اور نقل و حرکت پر پابندیاں وہ عوامل ہیں جو بھوک اور افلاس کا باعث بنتے ہیں، حالاں کہ زمین پر اتنے وسائل موجود ہیں کہ دنیا کی موجودہ آبادی سے بھی زیادہ افراد کی کفالت کی جا سکے۔

سوال 26: دنیا اتنی ناقص کیوں ہے؟

یہ دنیا اپنی تخلیق میں ہی ناقص اور عیب دار ہے کیونکہ اسے انسانوں کے امتحان کے لیے بنایا گیا ہے۔ قرآن بار بار یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ ہر انسان کو آزمایا جا رہا ہے، کبھی خوش حالی ، آسایش اور فراوانی کے ذریعے اور کبھی تنگ دستی، مصائب اور نقصان کے ذریعے۔ اس لیے یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ یہ دنیا رہنے کے لیے ناقص ہے، مگر امتحان کے لیے بہترین ہے۔قرآن کے مطابق، جنت وہ کامل دنیا ہے جو ہمیشہ کی زندگی کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہر طرح کی کمی اور کوتاہی کا خاتمہ ہوگا اور انسانی زندگی کو اس کی حقیقی تکمیل نصیب ہوگی۔

سوال 27: اللہ کے پیغام کی تبلیغ کے خواہش مند افراد کے لیے قرآن کیا رہنمائی دیتا ہے؟

قرآن ان افراد کے لیے واضح اور تفصیلی رہنمائی فراہم کرتا ہے جو اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سورۂ نحل کی آیت 125 میں خاص ہدایات دی گئی ہیں:

”تم، (اے پیغمبر)، اپنے پروردگار کے راستے کی طرف دعوت دیتے رہو حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ، اور اِن کے ساتھ اُس طریقے سے بحث کرو جو پسندیدہ ہے۔“

اس آیت میں یہ بات واضح طور پر بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کا کام بہترین طریقے سے انجام دینا چاہیے، اور ایمان کے معاملات میں دوسروں پر فیصلہ صادر کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”یقیناً تیرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ اُن کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت پانے والے ہیں۔“(النحل 16: 125)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان کے معاملات میں فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن میں بار بار تاکید کی گئی کہ ان کا فریضہ صرف اللہ کا پیغام کھول کھول کر پہنچا دینا ہے۔ فیصلہ صادر کرنا یا کسی کے ایمان یا کفر کا حکم لگانا صرف اور صرف اللہ کا اختیار ہے۔ جب دنیا میں اللہ کا کوئی رسول موجود ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایمان کے معاملات میں اپنا فیصلہ زمین پر نافذ کرتا ہے۔ لیکن چونکہ اب دنیا میں کوئی رسول نہیں آئے گا، اس لیے ایمان کے تمام معاملات کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ خود کرے گا۔ دنیا میں کسی کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ ایمان کے معاملات میں کسی دوسرے شخص کے بارے میں فیصلہ دے یا سزا نافذ کرے۔

قرآن مختلف مقامات پر، جیسے سورۂ ابراہیم کی آیت4 میں واضح کرتا ہے کہ داعی کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ حق کی تبلیغ کرے۔ لیکن یہ داعی کے اختیار میں نہیں کہ وہ دوسروں کو ہدایت پر مجبور کرے۔ ہدایت دینا یا نہ دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت کا فیصلہ مختلف عوامل کی بنیاد پر کرتا ہے، جیسا کہ انسان اخلاقی شعور کی کس حد تک اخلاص کے ساتھ پیروی کرتا ہے، یعنی وہ اپنے ضمیر اور اخلاقی شعور کو کتنی دیانت داری سے اپناتا ہے۔ اس کےعلاوہ وہ حق کی تلاش میں کتنی سنجیدگی اور استقامت دکھاتا ہے۔ اس کی دیانت اور سچائی بھی ایک اہم عامل ہے۔ اس کا تعلق اس سے بھی ہے کہ ایک شخص حقائق کو تمام تعصبات سے آزاد ہو کر دیکھنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔

سوال 28: کیا قرآن قدرتی مظاہر کی سائنسی وضاحت کے لیے نازل ہوا ہے؟

جب قرآن سورج، چاند، ستاروں اور دیگر قدرتی مظاہر پر روشنی ڈالتا ہے تو اس کا مقصد ان مظاہر کے سائنسی پہلوؤں کو بیان کرنا نہیں ہوتا۔ بلکہ، اس کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے اولین سامعین اور مخاطبین، یعنی ساتویں صدی کے عربوں کو ان نشانیوں پر غور و فکر کرنے کی دعوت دے، جنھیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے۔ اس طرح ان کے شعور کو بیدار کرکے انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور آخرت کے متعلق سوچنے پر مائل کیا جائے۔ مثال کے طور پر، سورۂ یٰسین کی آیت 40 میں قرآن ان عربوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ غور کریں کہ کس طرح سورج چاند سے آگے نہیں بڑھتا اور نہ ہی چاند سورج کو پکڑتا ہے۔ اس طرح انھیں کائنات کے اس نظم و ضبط پر غور کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی حقیقت اور انجام کے بارے میں غور و فکر کریں۔ اس آیت میں یہ بتانا مقصود نہیں کہ اپنے اولین مخاطبین یا بعد کے لوگوں کو علم فلکیات یا ایسٹروفزکس کا علم دیا جائے۔

لہٰذا قرآن کو ایک سائنسی کتاب سمجھنا ایک غلط تصور ہے۔ قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے اور نہ ہی یہ کبھی ایسا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ البتہ، جہاں کہیں قرآن میں ایسی معلومات موجود ہوں جن کا سائنسی مفہوم نکلتا ہو، جیسے کہ کائنات کے متعدد جہانوں یا انسان کی تخلیق کے مراحل تو ان میں قرآن اور مستند سائنس کے درمیان کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔

سوال 29: قرآن میں جنت میں مردوں کے لیے جسمانی لذتوں کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟ عورتوں کو اس معاملے میں کیا ملے گا ؟

سورۂ زخرف کی آیت 31 اور قرآن کی دیگر کئی آیات یہ واضح کرتی ہیں کہ جنت میں داخل ہونے والوں—خواہ مرد ہوں یا عورتیں—کو وہ سب کچھ دیا جائے گا جو وہ چاہیں گے۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ جنت میں کوئی ایسی خواہش ممکن نہیں ہوگی جو غیر اخلاقی یا غیر منصفانہ ہو۔ اس لیے، خواہ کوئی مرد ہو یا عورت، جنت میں ہر شخص کو اپنی جائز خواہشات کی تکمیل کا موقع ملے گا۔

قرآن میں خاص طور پر مردوں کی جسمانی خواہشات کی تکمیل کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ نزولِ قرآن کے وقت کے سامعین بنیادی طور پر مرد تھے، جو اسلام کے سیاسی اور عسکری فرائض کا مرکز تھے۔ ان مردوں سے تقاضا تھا کہ وہ اپنی دنیوی زندگی میں شدید ضبط نفس کا مظاہرہ کریں، جنگوں میں حصہ لیں، اور اسلام کی جدوجہد کے لیے سخت ذمہ داریاں نبھائیں۔

اسلام میں جنسی خواہش کو بہ ذات خود گناہ نہیں سمجھا جاتا، البتہ دنیوی زندگی میں اس کے اظہار کو نکاح تک محدود رکھا گیا ہے تاکہ خاندان کے نظام کو محفوظ رکھا جا سکے، جیسا کہ پہلے وضاحت کی گئی ہے۔ جنت میں خاندان کا ادارہ ایک انسانی ضرورت نہیں، بلکہ ایک اختیاری خواہش ہوگا، اور وہاں جنسی خواہشات پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

سوال 30 : قرآن جنت کو کس طرح بیان کرتا ہے اور کیا یہ بیانات حقیقی ہیں یا تمثیلی؟

قرآن اصولی طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ آنے والی زندگی— جنت، دوزخ، اللہ کی ذات، فرشتے اور دیگر غیبی حقائق—کو موجودہ دنیا میں مکمل طور پر سمجھنا انسان کے بس سے باہر ہے۔ لہٰذا ان حقائق کو سمجھانے کے لیے قرآن ان کی تمثیلات اور تشبیہات پیش کرتا ہے تاکہ انسانی ذہن آیندہ دنیا کی حقیقت کی کچھ جھلک محسوس کر سکے۔

قرآن جنت کے بارے میں یہ اصولی بات بتاتا ہے کہ وہ اطمینان، خوشی، مسرت، سکون اور خوش حالی کا مقام ہوگا۔ ساتھ ہی جنت کے بارے میں کچھ مخصوص تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں، جیسے کہ وہاں دودھ اور شہد کی نہریں ہوں گی، اور لوگ ریشم کے لباس پہنیں گے اور زیورات سے آراستہ ہوں گے۔ یہ تفصیلات قرآن کے اولین مخاطبین کے تصورات اور ان کے معاشرتی معیارات کے مطابق ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہی عیش و عشرت اور خوش حالی کی علامات تھیں۔

قرآن جنت کے ابدی اصول بیان کرتا ہے جو کسی زمانے اور مقام سے مشروط نہیں۔ مثلاً، جنت میں ہر شخص کو وہ کچھ میسر ہوگا جو وہ چاہے گا، اور ہر طرح کی خوشی اور اطمینان حاصل ہوگا۔ لیکن جنت کے بارے میں جو مخصوص تفصیلات بیان کی گئی ہیں، وہ اس وقت کے سامعین کے فہم کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش کی گئی ہیں۔

سوال 31: اللہ نے اپنی آخری کتاب کے لیے عربی زبان کا انتخاب کیوں کیا؟

اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عربی زبان میں اس لیے نازل فرمایا کیونکہ اس وقت کے اولین مخاطب عرب تھے اور یہ ان کی زبان تھی ۔ (یوسف12: 2۔ فصلت 41: 3)

سوال 32: اللہ نظر کیوں نہیں آتا؟

یہ اس لیے ہے کہ انسان کو اپنے اعمال کے بارے میں آزادانہ اختیار حاصل ہو۔ یہ آزادی اس دنیوی آزمایش کی بنیاد ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس آزمایش کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا انسان سچائی اور نیکی کا راستہ اختیار کرتا ہے یا جھوٹ اور بدی کی راہ پر چلتا ہے۔ یہ عقلی طور پر بھی درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگر اللہ اور فرشتے ظاہر ہوتے اور فوراً انسانوں کو ان کے اعمال پر جواب دہ بناتے تو انسان کی آزادی عمل ختم ہو جاتی۔ مثال کے طور پر، اگر ایک ٹریفک اہل کار کسی سگنل پر کھڑا ہو تو کوئی بھی عقل مند شخص سرخ بتی کے دوران میں اشارہ توڑنے کی جرات نہیں کرے گا۔

مزید یہ کہ اگر اللہ براہ راست نظر آتا تو کوئی شخص اس کے وجود اس کے پیغام کا انکار کیسے کر سکتا؟ اس لیے انسان کو آزادی دینے کے لیے اللہ کی ذات اور اس کی حقیقت کو پردے میں رکھا گیا ہے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ نے اپنی موجودگی کی بے شمار نشانیاں ہمارے اردگرد پھیلا رکھی ہیں، جو اس کی ذات اور اس کے نظام کی گواہی دیتی ہیں۔

سوال 33: کیا انسان کائنات کا مرکز ہے؟

ہم انسان عموماً یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم کائنات کی سب سے اہم مخلوق ہیں اور یہ خود کو اہم سمجھنے کا احساس اکثر مختلف مذہبی نظریات میں ظاہر ہوتا ہے، جو انسان کو کائنات میں مرکزی مقام پر رکھتے ہیں۔

یہ تصور مسلمانوں میں بھی عام ہے، جو اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن انسان کو ”اشرف المخلوقات“قرار دیتا ہے۔تاہم، قرآن میں کہیں بھی یہ الفاظ مذکور نہیں ہیں۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیت 70 میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اس نے انسانوں کو اپنی ”کئی“ مخلوقات پر فضیلت عطا کی ہے، مگر اس آیت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان خدا کی تمام مخلوقات سے برتر ہیں۔ علاوہ ازیں، قرآن فرشتوں اور جنات کا ذکر کرتا ہے، جو جسمانی طور پر انسانوں سے زیادہ طاقت ور ہیں۔ انسانوں کو زمین پر خلافت عطا کرنے کا واقعہ اس بات کا امتحان تھا کہ خدا کے حکم پر فرشتے اور جنات میں سے کون سجدہ کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں، حالاں کہ وہ جسمانی لحاظ سے انسانوں سے برتر تھے۔ ابلیس کا انکار بھی اسی بنیاد پر تھا۔ اس نے اپنی جسمانی برتری کو دلیل بناتے ہوئے انسانوں کے آگے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ مزید برآں، قرآن سورۂ جن میں یہ واضح کرتا ہے کہ جنات بھی انسانوں کی طرح اخلاقی آزمایشوں سے گزرتے ہیں۔ لہٰذا قرآن کے مطابق، وجود کا پورا نظام انسانیت مرکوز نہیں ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن اگرچہ یہ بیان کرتا ہے کہ انسان کئی مخلوقات سے زیادہ خاص ہیں، لیکن یہ کسی طور پر وجود کے ایک انسان مرکوز ماڈل کی تائید نہیں کرتا۔

سوال 34: ہم جنس پرستی اور ٹرانس جینڈرزم کے بارے میں اسلام کا کیا موقف ہے؟

اس مسئلے پر گفتگو سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم جنس پرستی اور ٹرانس جینڈرزم کے موضوعات لبرل اور قدامت و روایت پسند کے درمیان سخت اختلافات کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے دونوں جانب علمی اور تجربہ کار افراد موجود ہیں، اور ہر فریق اپنے نظریات کی حمایت میں سائنسی تحقیق پیش کرتا ہے۔ اگر آپ جنسی رجحانات اور صنفی شناخت کے معاملات میں لبرل نقطۂ نظر رکھتے ہیں تو آپ کو ایسی تحقیقات مل جائیں گی جو آپ کے مؤقف کی تصدیق کریں گی۔ اسی طرح، اگر آپ ان معاملات میں قدامت پسند سوچ رکھتے ہیں تو آپ کو ایسے شواہد بھی دستیاب ہوں گے جو آپ کی راے کو تقویت دیں گے۔

ٹرانس جینڈرزم کے بارے میں اسلام کا موقف

ٹرانس جینڈرزم کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ حیاتیاتی جنس (biological sex) اور جنسی شناخت (gender identity) دو علیحدہ تصورات ہیں۔ ان کے نزدیک کروموسوم، جنسی اعضا اور دیگر حیاتیاتی خصوصیات جنس کو متعین نہیں کرتی ، بلکہ جنسی شناخت ایک ذہنی کیفیت اور سماجی تشکیل ہے۔

اسلام اس طرح کی تفریق کو تسلیم نہیں کرتا۔ اگر آپ حیاتیاتی طور پر مرد ہیں تو آپ مرد ہیں، اور اگر آپ حیاتیاتی طور پر عورت ہیں تو آپ عورت ہیں۔ قرآن کریم اس بات کو ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور یہ سوال کہ کوئی شخص اپنی حیاتیاتی جنس کے برخلاف اپنی شناخت کر سکتا ہے، قرآن میں زیر بحث نہیں آیا۔ تاہم، بعض احادیث میں اس موضوع کا تذکرہ آیا ہے، جن میں مردوں کو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے اور عورتوں کو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (بخاری، رقم 5885۔ سنن ابو داؤد، رقم 4098 ، 4099)

علما کے درمیان ایک عمومی اتفاق یہ ہے کہ اگر کسی فرد میں کوئی حیاتیاتی نقص ہو تو اسے جراحی کے ذریعے سے اپنی جنس کو درست کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر اس طرح کا کوئی طبعی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ معاملہ محض نفسیاتی نوعیت کا ہو تو اسلام کے نزدیک اسے نفسیاتی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔

ہم جنس پرستی پر اسلام کا موقف

جہاں تک ہم جنس پرستی کا تعلق ہے، قرآن واضح طور پر اسے گناہ قرار دیتا ہے، خاص طور پر قوم لوط کے تناظر میں اس کی شناعت کو صریح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ عمل گناہ کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم تمام جنسی تعلقات کو ممنوع قرار دیتا ہے، جو ایک حیاتیاتی مرد اور حیاتیاتی عورت کے درمیان اور عقدِ نکاح کے بغیر ہوں۔ یہ پابندی درحقیقت خاندان کے ادارے کو محفوظ رکھنے اور اسے مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے عائد کی گئی ہے۔ اگرچہ پہلے وضاحت کی گئی ہے کہ قرآن خاندان کے ادارے کی حفاظت اور اس کے استحکام پر کیوں اس قدر زور دیتا ہے، میں اس تناظر میں مزید وضاحت پیش کرتا ہوں۔

ایک مرد اور عورت کے نکاح کے ذریعے سے اتحاد کا بنیادی مقصد نئی نسل کو اس دنیا میں لانا ہے۔ جو بچے پیدا ہوتے ہیں، انھیں ان کی پیدایش کے پہلے دن سے لے کر کم از کم پندرہ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک بھرپور توجہ اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان محض ایک جسمانی مخلوق نہیں ہے، بلکہ ایک نفسیاتی، جذباتی، اخلاقی اور روحانی وجود بھی ہے۔ اس لیے، ایک نوزائیدہ بچے کی مناسب پرورش کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ان تمام پہلوؤں میں نگہداشت کی جائے۔ ایک انسان کو جسمانی، نفسیاتی، جذباتی، اخلاقی اور روحانی ضروریات کے لیے نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کی دنیوی اور اخروی فلاح و بہبود بہتر طریقے سے ہو سکے۔ اسی مقصد کے تحت اللہ تعالیٰ نے خاندان کے ادارے کو قائم کیا ہے، جو ایک حیاتیاتی مرد اور حیاتیاتی عورت کے نکاح پر مشتمل ہے۔ قرآن کے مطابق، خدا ایک مضبوط اور مستحکم خاندانی یونٹ چاہتا ہے جو ان تمام پہلوؤں میں بچوں کی موثر نگہداشت فراہم کر سکے، تاکہ وہ ایک متوازن اور کامیاب زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں۔

خاندان کے ادارے کا ایک نہایت اہم اور بنیادی مقصد یہ ہے کہ جب افراد بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں، اس وقت بھی ان کی دیکھ بھال کی جا سکے۔ ایک مستحکم خاندانی نظام بزرگوں کو جسمانی اور جذباتی سہارا دینے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ اگرچہ اولڈ ایج ہومز بہت سے لوگوں کے لیے ایک متبادل منصوبہ (Plan B) ہو سکتے ہیں، اور ترقی یافتہ ممالک میں بعض افراد انھیں اپنے اولین انتخاب (Plan A) کے طور پر ترجیح دے سکتے ہیں، تاہم یہ بات بالکل واضح ہے کہ—کسی خاص تحقیق کا حوالہ دیے بغیر بھی—اولڈ ایج ہومز وہ نفسیاتی اور جذباتی سکون فراہم نہیں کر سکتے جو ایک مستحکم خاندانی نظام فراہم کرتا ہے۔

چنانچہ خاندان کے ادارے کو محفوظ رکھنے اور اس کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے قرآن ہر اس جنسی فعل کو گناہ قرار دیتا ہے، جو نکاح کے مقدس رشتے کے دائرے سے باہر ہو اور جو ایک حیاتیاتی مرد اور عورت کے درمیان نہ ہو۔

قرآن کے مطالعے سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ اگر کوئی مسلمان بائی سیکشوئل یا جینڈر فلوئڈ کے طور پر اپنی شناخت کرتا ہے تو اللہ کے طے کردہ نظام کو قبول کرتے ہوئے ہیٹروسیکشوئل طرز زندگی اپنانا اور اپنی حیاتیاتی جنس کے مطابق زندگی گزارنا ایک ایسا ذاتی فیصلہ ہو گا ، جس کے لیے عمومی طور پر کسی خارجی مدد کی ضرورت نہیں پڑتی۔

لیکن اگر آپ ٹرانس جینڈر یا ہم جنس پرست ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے یہ رجحانات اس قدر گہرے اور فطری ہیں کہ آپ ان پر قابو پانے سے قاصر ہیں تو میں آپ سے دلی ہم دردی رکھتا ہوں، کیونکہ یہ واقعی ایک سخت آزمایش ہے۔ قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ اپنی خواہشات پر قابو پائیں۔ اگر یہ توقع آپ کو بہت زیادہ اور سخت معلوم ہوتی ہے تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ بہت سے ہیٹروسیکشوئل افراد بھی اپنی جنسی اور جذباتی خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت قربانیاں دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اپنے شریک حیات کے لیے جنسی اور جذباتی وفاداری کا مظاہرہ کرنا، خاص طور پر اس وقت جب ازدواجی زندگی جذباتی یا جنسی تسکین سے خالی ہو، ایک بڑی قربانی کا متقاضی ہوتا ہے۔ تاہم، حقیقت یہی ہے کہ اگر آپ خود کو ایک زبردست ٹرانس سیکشوئل یا ہم جنس پرست کے طور پر پہچانتے ہیں تو آپ کی آزمایش منفرد نوعیت کی ہے، اور یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپ کے مسائل کو حل کرنے اور آپ کے دکھوں کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرے۔ اگر آپ اپنی ان خواہشات پر قابو پانے میں ناکام رہتے ہوئے گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں تو قرآن آپ سے توقع کرتا ہے کہ آپ اس کی تشہیر نہ کریں بلکہ اسے چھپائیں۔ آپ اپنی پوری کوشش جاری رکھیں کہ ان سے باز رہیں، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہیں، اور اپنی زندگی کے دیگر پہلوؤں میں اللہ کی رضا کے مطابق عمل کرنے کی جدوجہد جاری رکھیں۔ نماز قائم کریں، صدقات دیں اور ایک نرم دل، عاجز اور نیک انسان بننے کی کوشش کریں۔

ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے، اگر میرا سامنا کسی ٹرانس جینڈر یا ہم جنس پرست فرد سے ہو تو باوجود اس کے کہ میں ان کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتا، میں ان کے ذاتی فیصلوں کا احترام کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ میں ان کے ساتھ اسی عزت اور وقار کے ساتھ پیش آتا ہوں، جس طرح کسی اور فرد کے ساتھ برتاؤ کیا جاتا ہے۔ میرا یہ طرزِ عمل ان لوگوں کے لیے بھی ہے جن کے بارے میں میں جانتا ہوں کہ وہ کھلے عام یا چھپ کر ان اعمال میں ملوث ہوتے ہیں جنھیں اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر، میرے جاننے والوں میں کئی ایسے افراد شامل ہیں جو نکاح کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں، جوا کھیلتے ہیں، یا شراب نوشی کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ اعمال میرے اخلاقی اور دینی عقائد کے سراسر منافی ہیں اور میں ان سے کسی طور پر اتفاق نہیں کرتا، لیکن میں ان افراد کے ان فیصلوں کے حق کا احترام کرتا ہوں، کیونکہ یہ ان کے ذاتی معاملات ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا خدا ہر انسان کو آزادی انتخاب عطا کرتا ہے، اور یہی آزادی انسان کی آزمایش کا مرکزی نکتہ ہے۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے، جب کوئی گناہ علانیہ اور بغاوت کے انداز میں کیا جائے تو اس کے دنیوی نتائج لازم ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم جنس پرستی کی دنیوی سزا کا مسئلہ بھی اسی قاعدے کے تحت آتا ہے اور میں یہاں اس پر مختصر بات کرنا چاہوں گا۔ اسلام میں ہر قسم کے جنسی تعلقات، جو نکاح کے بغیر قائم ہوں، گناہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ اگر یہ تعلقات خفیہ طور پر قائم کیے جائیں تو یہ معاملہ صرف گناہ گار فرد اور اللہ کے درمیان رہتا ہے۔ لیکن اگر یہ اعمال کھلے عام اور بے شرمی کے ساتھ کیے جائیں تو ان پر قانونی کارروائی کے لیے چار قابل اعتماد گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تحقیقات سے گناہ کا ثبوت فراہم ہو جائے تو یہ عمل ایک جرم مانا جاتا ہے، جس پر اسلامی شریعت کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ اصول ہر قسم کے غیرازدواجی تعلقات پر لاگو ہوتا ہے، خواہ وہ جنس مخالف کے درمیان ہوں یا ہم جنس افراد کے درمیان۔

قرآن نے ہم جنس پرستی کے لیے کسی مخصوص دنیوی سزا کا ذکر نہیں کیا۔ تاہم، یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ قرآن میں زنا کے لیے مقرر کردہ سزا ہی ہم جنس پرستی پر بھی لاگو ہو سکتی ہے۔ تمام علما اس بات پر متفق ہیں کہ ہم جنس پرستی ایک گناہ اور جرم ہے، مگر اس جرم کی سزا کے تعین میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ فقہ اسلامی میں ہمیشہ سے اس بات پر بحث رہی ہے کہ ہم جنس پرستی کی سزا کی نوعیت اور شدت کیا ہونی چاہیے۔ بعض احادیث میں صحابۂ کرام کی یہ راے ملتی ہے کہ ہم جنس پرستی کے لیے زنا سے زیادہ سخت سزا ہونی چاہیے۔ دوسری طرف، ایسی احادیث بھی ہیں جن سے امام شافعی اور امام احمد نے یہ استدلال کیا کہ ہم جنس پرستی کی سزا وہی ہونی چاہیے جو زنا کی ہے۔ امام ابو حنیفہ جیسے علما کا موقف یہ تھا کہ ہم جنس پرستی کی سزا زنا سے کم سخت ہونی چاہیے اور اس کا تعین قاضی کی صواب دید (تعزیر) پر چھوڑ دیا جانا چاہیے، بجاے اس کے کہ اسے الٰہی حکم یا حد کے زمرے میں رکھا جائے۔5

احادیث کے ذخیرے میں یہ روایتیں ملتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم جنس پرستی کے لیے موت کی سزا مقرر فرمائی۔ (ترمذی، رقم 1456۔ ابو داؤد، رقم 4462۔ ابن ماجہ، رقم 2561) تاہم، ان احادیث کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن کے فراہم کردہ اصولی فریم ورک کی طرف رجوع کریں۔ جیسا کہ قرآن سورۂ مائدہ کی 32 میں واضح کرتا ہے کہ موت کی سزا صرف قتل یا ان جرائم کے لیے دی جا سکتی ہے جو ”فساد فی الارض“ یعنی زمین میں فساد پھیلانے کے زمرے میں آتے ہوں۔ جب زنا مسلسل علانیہ اور سرکشی کے ساتھ کیا جائے، اور اسے روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو یہ جرم ”فساد فی الارض“کی تعریف میں آ جاتا ہے۔ احادیث کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حالات میں زنا کے مجرم کو موت کی سزا دی تھی۔ لہٰذا اگر ان احادیث کا انتساب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درست ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح علانیہ اور مسلسل کیے جانے والے زنا کے لیے موت کی سزا دی جا سکتی ہے، اسی طرح علانیہ اور مسلسل کیے جانے والے ہم جنس پرستی کے اعمال کے لیے بھی یہی سزا دی جا سکتی ہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ نکاح کے دائرے سے باہر قائم کیے جانے والے ہر قسم کے جنسی تعلقات، خواہ وہ جنس مخالف کے درمیان ہوں یا ہم جنسوں کے درمیان، قرآن و سنت کی رو سے کبیرہ گناہ ہیں اور قیامت کے دن سخت سزا کا موجب بن سکتے ہیں۔ اگر یہ اعمال علانیہ، مستقل اور سرکشی کے ساتھ کیے جائیں تو ان کا درجہ ایک جرم کا ہو جاتا ہے، جس پر اسلامی قانون کے مطابق دنیوی سزا بھی عائد ہو سکتی ہے۔

سوال 35: قرآن بار بار یہ کیوں کہتا ہے کہ تمام تعریفیں اور حمد اللہ ہی کے لیے ہے؟

قرآن میں بارہا یہ الفاظ آئے ہیں کہ ’الحمد للّٰہ‘، یعنی تمام تعریفیں اور حمد اللہ ہی کے لیے ہیں۔

جس لفظ کا ترجمہ تعریف کیا گیا ہے، اس کے لیے عربی زبان کا لفظ ”حمد“استعمال ہوا ہے، جو محض تعریف تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں شکر گزاری اور اعترافِ احسان کے جامع معنی شامل ہیں۔

چنانچہ یہ آیات ایک بنیادی حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق اور پروردگار ہے، اس لیے تمام تر حمد و شکر کا اصل مستحق بھی وہی ہے۔

قرآن کے دیگر مقامات پر جہاں یہ کہا گیا ہے کہ ”حمد اللہ ہی کے لیے ہے“، وہاں اللہ تعالیٰ کی ذات کی ایک بنیادی حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ آئیے، اس بات کو تفصیل میں سمجھیں۔

جب ہم اس بات کو انسانی زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں تو یہ عجیب معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کہے ”تمام تعریفیں میرے لیے خاص ہیں“۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی دائرے میں قابل تعریف ہونا ایک اضافی معاملہ ہے۔ لیکن جب ہم اسے اللہ کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو یہ بات محض ایک دعویٰ نہیں، بلکہ ایک حقیقتِ مطلق ہے۔ اگر واقعی اللہ کا وجود ہے تو یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام تعریفیں اور حمد اسی کے لیے ہیں، کیونکہ وہی ہر شے کا خالق ہے۔

مزید برآں، جب ہم کسی اور چیز کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں تو حقیقتاً ہم اللہ ہی کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں، کیونکہ وہی اس چیز کا خالق ہے۔ اس لیے یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام تعریفیں، خواہ براہِ راست ہوں یا بالواسطہ، صرف اور صرف اللہ ہی کے لیے خاص ہیں۔

سوال 36: کیا اللہ اپنے مقاصد بغیر جہنم تخلیق کیے پورے کر سکتا تھا؟ کیا جہنم ابدی ہے؟

جہنم بعض اہم اور ناگزیر مقاصد پورے کرتی ہے۔

میرے نزدیک اللہ کی عدالت اور جزا و سزا کا تصور معقول اور منطقی ہے۔ عقل و فطرت کا تقاضا ہے کہ انسان کو اپنے گناہوں اور جرائم کی سزا کسی نہ کسی شکل میں یا تو اس دنیا میں یا آخرت میں ملے۔ وہ اس سزا کے ذریعے سے گناہوں سے پاک ہونے کے بعد نجات پائیں۔ اس اعتبار سے، جہنم کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے لیے ایک مقام ہو جو اپنے اعمال کی وجہ سے سزا کے مستحق ہوں، تاکہ وہاں وہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر سکیں اور پھر جنت میں داخل ہو سکیں۔ اس لحاظ سے، جہنم کو اللہ نے گناہ گاروں کو پاکیزہ کرنے کے ایک عارضی مقام (purgatory) کے طور پر تخلیق کیا ہے۔

لیکن ابدی جہنم کا تصور کیا ہے؟ اس کا مختصر تجزیہ ضروری ہے۔ اگر کسی کے جرائم اس قدر شدید ہوں کہ کوئی تطہیر بھی ان کے لیے نجات کا جواز نہ بن سکے تو دائمی موت ایک مناسب سزا معلوم ہو سکتی ہے۔ لیکن ابدی عذاب کے تصور پر غور کرتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں کیے گئے محدود جرائم کے لیے غیر محدود اور دائمی سزا کیسے دی جا سکتی ہے؟ میری اس بات میں غلطی کا امکان ہے۔ ممکن ہے کہ ایک مجرم دائمی بدبختی کا مستحق ہو، خاص طور پر، اگر وہ مکمل طور پر ذہنی صحت کا حامل ہونے کے باوجود محض شہوت کی تسکین کے لیے کسی بچے پر تشدد ، جنسی زیادتی اور قتل جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کرے ۔

قرآن کریم کی سورۂ لیل کی آیت 15 میں فرمایا گیا ہے کہ جہنم کی سب سے سخت سزا ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو بدترین اخلاق کے حامل اور بدبخت ہیں۔ قرآن واضح الفاظ میں بتاتا ہے کہ جو لوگ جہنم کے دائمی عذاب کے مستحق قرار دیے گئے ہیں، وہ ہمیشہ کے لیے اس میں رہیں گے۔ تاہم، قرآن میں ایک اور اشارہ بھی موجود ہے جو یہ امکان ظاہر کرتا ہے کہ جب تمام لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا دے دی جائے گی تو اللہ جہنم اور اس کے مکینوں کو ختم کر دے گا، اور انھیں دائمی موت کے حوالے کر دے گا۔ کیونکہ دائمی طور پر ”کچھ نہ ہونا“ بھی بہ ذات خود ایک عذاب کی شکل ہو سکتی ہے۔

قرآن کی سورۂ ہود کی آیات 106-107 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

”سو جو بدبخت ہوں گے، وہ دوزخ میں جائیں گے۔ اُنھیں وہاں چیخنا اور چلانا ہے۔وہ اُسی میں پڑے رہیں گے، جب تک (اُس عالم کے) زمین و آسمان قائم ہیں، الّا یہ کہ تیرا پروردگار کچھ اور چاہے۔اِس میں شک نہیں کہ تیرا پروردگار جو چاہے، کر گزرنے والا ہے۔“

یہ آیات بتاتی ہیں کہ جو لوگ شدید بدبختی اور بداعمالیوں کے مرتکب ہوں گے، وہ جہنم میں ڈال دیے جائیں گے اور وہاں اس وقت تک رہیں گے، جب تک کہ جہنم باقی رہے گی۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر وہ اس فیصلے کو بدلنا چاہیں تو وہ سب کچھ کر سکتے ہیں، یعنی وہ جہنم اور اس کے باسیوں کو ختم کرنا چاہیں تو یقیناً ایسا کر سکتے ہیں۔

اسی سوال کے تناظر میں جنت کے بارے میں بھی یہ استفسار پیدا ہوتا ہے کہ کیا اگر اللہ چاہے تو وہ جنت کو ختم کر سکتا ہے؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت 108 میں دیا ہے۔ فرمایا ہے کہ نہیں۔ جنت ابدی ہے، اور کبھی بھی ختم نہیں کی جائے گی:

”رہے وہ جو نیک بخت ہیں تو وہ جنت میں ہوں گے۔ وہ اُسی میں رہیں گے، جب تک (اُس عالم کے) زمین و آسمان قائم ہیں، الاّ یہ کہ تیرا پروردگار کچھ اور چاہے، اُس کی طرف سے ایسی عطا کے طور پر جو کبھی منقطع نہ ہوگی۔“

اس بات کا امکان ضرور موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے جہنم کو مستقل طور پر ختم کر دے اور اس کے تمام بدبخت رہایشیوں کو دائمی موت دے دے۔ لیکن یہ بات کہ ”جہنم ایک عارضی سزا گاہ ہے“ یا ”جہنم کے مستقل خاتمے کا امکان“ کسی کے لیے اطمینان یا راحت کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ کیونکہ جو شخص جہنم میں جائے گا، وہ وہاں خدا جانے کتنے کھربوں سال تک اذیت ناک عذاب برداشت کرے گا، اس کے بعد ہی کوئی راحت ممکن ہو سکتی ہے۔

سوال 37: شیطان کون ہے؟ کیا ہم شیطان کی وجہ سے گناہ کرتے ہیں؟

قرآن کی سورۂ یوسف کی آیت 53 یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ برائی کا رجحان انسان کے اپنے نفس میں پایا جاتا ہے۔ آیت بتاتی ہے کہ نفسِ امارہ مسلسل انسان کو برائی کی رغبت دلاتا ہے۔ تاہم، یہ انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ اس اندرونی رجحان کے آگے جھک جائے یا اس کے خلاف جدوجہد کرے۔

قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جنوں کی ایک قوم انسان کی کھلی دشمن ہے۔ جنات شعور رکھنے والی مخلوق ہیں جو جسمانی طور پر انسانوں سے زیادہ قوت اور طاقت رکھتی ہے۔ سورۂ اعراف کی آیت 27 میں بیان کیا گیا ہے کہ جنات ہمیں ایسی جگہوں سے دیکھ سکتے ہیں ، جہاں سے ہم انھیں نہیں دیکھ سکتے۔ اس سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ جنات ممکنہ طور پر ایک بلند جہتی مخلوق ہیں۔

جنات بھی انسانوں کی طرح اپنی آزاد مرضی اور اخلاقی ذمہ داری کے امتحان سے گزر رہے ہیں ۔ ان کے درمیان بھی نیک اور بد افراد پائے جاتے ہیں۔ تاہم، قرآن میں سورۂ کہف کی آیت 50 میں ایک خاص جن کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی ابلیس۔ جسے اور اس کی اولاد کو انسانیت کا دشمن قرار دیا گیا ہے۔ ابلیس کی انسانوں سے دشمنی اس وقت شروع ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ وہ انسان کے سامنے سجدہ کرے، لیکن اس نے تکبر کی بنا پر انکار کر دیا۔ اس نے اپنی نافرمانی کی وجہ یہ بیان کی کہ وہ انسانوں سے برتر ہے، کیونکہ وہ ایک اعلیٰ مادے سے تخلیق کیا گیا ہے۔ یہی غرور اور امتیازی سوچ اس کے اللہ کی بارگاہ سے نکالے جانے کا سبب بنی ۔ (سورۂ الاعراف7: 12 ۔ سورۂ ص38: 76) جنت سے دھتکارے اور باہر نکالے جانے کے بعد، ابلیس اور اس کی نسل نے قسم کھائی کہ وہ زیادہ سے زیادہ انسانوں کو گم راہ کریں گے، تاکہ انھیں اللہ کی جنت میں داخل ہونے سے روک سکیں۔

ابلیس اور اس کی اولاد کے پاس صرف یہی اختیار ہے کہ وہ انسانوں کے ذہنوں میں وسوسے ڈالیں اور انھیں گم راہی کی راہ پر لگانے کی کوشش کریں۔ مگر یہ مکمل طور پر انسان کا اختیار ہے کہ وہ ان وسوسوں کو قبول کرے یا ان سے بچنے کی کوشش کرے۔ چنانچہ قیامت کے دن، جب لوگ اپنے گناہوں کا الزام ابلیس پر ڈالنا چاہیں گے تو وہ یوں جواب دے گا:

”اور میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اِس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ تمھیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اِس لیے مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو ۔ اب نہ میں تمھاری فریاد کو پہنچ سکتا ہوں، نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو ۔“

(ابراہیم14 : 22)

لہٰذا برائی کرنے کی صلاحیت اور رجحان انسان کے اپنے نفس میں موجود ہے، اور یہ انسان کا فیصلہ ہے کہ وہ برائی کے راستے پر چلے یا اس سے پرہیز کرے۔ شیطان اور اس کی اولاد کا کردار محض وسوسے ڈالنے،انسان کی کم زوریوں کو بھڑکانے اور اسے برائی کی طرف مائل کرنے تک محدود ہے ۔

سوال 38: خدا کو سب کی عبادت کی ضرورت کیوں ہے؟

قرآن میں سورۂ ذاریات کی آیت 56 میں ارشاد ہوتا ہے کہ انسانوں اور جنوں کو خدا کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اور جن مسلسل رسمی عبادات میں مصروف رہیں۔ رسمی عبادت، عبادت کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔

عبادت ایک جامع اصطلاح ہے جو محبت، وفاداری، عقیدت، شکر گزاری اور اطاعت جیسے معانی پر محیط ہے۔ اسی لیے قرآن بیان کرتا ہے کہ انسانوں اور جنوں کو اس شعور کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے کہ وہ خدا کے پیدا کردہ ہیں، اور یہ خدا ہی ہے جس نے انھیں سب کچھ عطا کیا۔ جواباً، بنیادی اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ وہ خدا کے سامنے عاجزی اور شکر گزاری کا مظاہرہ کریں، نہ کہ سرکشی اور تکبر کا۔

سوال 39: ایک اداکار اور فن کار کے طور پر مجھے کن دینی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے؟

جواب: 2014ء سے میں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ شاید اسلام سچا دین ہو۔ میں نے ”شاید“ کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیونکہ، اگرچہ اسلام نے میرے وجودی سوالات کے کئی جوابات دیے، لیکن اس وقت تک بہت سے سوالات باقی تھے۔ اس اہم عرصے میں جناب جاوید احمد غامدی نے میرے سوالات کے جوابات تک کے سفر میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ میں وقت کی مکمل تعیین تو نہیں کر سکتا، لیکن یہ تقریباً 2018 ء یا 2019ء کا دور تھا جب مجھے احساس ہوا کہ میرے تمام سوالات کے جوابات مل چکے ہیں اور میں اس موقف سے کہ اسلام ”شاید“الہامی حقیقت ہے، اس یقین تک پہنچا کہ اسلام ”واقعی“الہامی حقیقت ہے۔ اس ادراک نے میری زندگی میں انقلاب برپا کر دیا۔

2019 ء میں، میں نے ایک ویڈیو کے ذریعے سے لوگوں کو بتایا کہ میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسلام، صحیفے، انبیا، رسول، فرشتے، اور قیامت کا دن یہ سب کچھ حق ہے! میں نے اعلان کیا کہ میں اداکاری سے ایک طویل وقفہ لوں گا تاکہ اسلام کے بارے میں مزید سیکھ سکوں اور اس پیغام کی تبلیغ کروں، جسے میں اب خدا کی طرف سے حق مانتا ہوں۔

اس ویڈیو پیغام میں، جو آج بھی میرے یوٹیوب چینل پر موجود ہے، میں نے دو امور پر خاص طور پر زور دیا:

1۔ میں نے صریح الفاظ میں کہا کہ میری اداکاری سے وقفہ لینے کو اس طرح نہ سمجھا جائے کہ میں نے شوبز کو اس بنیاد پر ترک کر دیا ہے کہ اسلام آرٹ کو حرام قرار دیتا ہے۔ میں نے صاف وضاحت کی کہ جس تعبیرِ اسلام سے میں متفق ہوں، وہ کسی بھی قسم کے آرٹ—جیسے موسیقی، مصوری، مجسمہ سازی اور اداکاری—کو ممنوع قرار نہیں دیتی، بلکہ یہ صرف ان کے لیے اخلاقی حدود مقرر کرتی ہے، جن کے اندر رہتے ہوئے ایک مسلمان ان تمام فنون میں شریک ہو سکتا ہے۔

2۔ میں نے یہ بھی کہا کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ میں کب اداکاری میں واپس بھی آؤں گا، کیونکہ اب، ایک ایسے شخص کے طور پر جو قیامت کے دن خدا کے سامنے اپنی جواب دہی کے بارے میں سنجیدہ فکر رکھتا ہے، میں صرف انھی منصوبوں میں کام کر سکتا ہوں جو خدا کے مقرر کردہ اخلاقی حدود کے اندر آتے ہوں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ خاص طور پر فلموں کے میدان میں ایسے منصوبے بہت کم ہیں، جو مکمل طور پر ان خدائی اخلاقی حدود کے اندر مکمل کیے جاتے ہیں۔ میں نے یہ عہد کیا کہ اگر مجھے ایسے منصوبے نہیں ملے جو ان حدود کے اندر ہوں تو میں اس کام سے کنارہ کشی اختیار کر لوں گا، کیونکہ خدا نے مجھے اپنی زندگی کو معقول حد تک آرام دہ انداز میں گزارنے کے دیگر ذرائع عطا کیے ہیں۔

تاہم، اگرچہ ویڈیو پیغام میں بیان واضح اور غیر مبہم تھا، مگر اس کے باوجود، اگلے دن اخبارات اور نیوز چینلز کی سرخیاں یہ تھیں: ’’حمزہ علی عباسی نے اسلام کی خاطر شوبز چھوڑ دیا۔‘‘ میرا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس عقیدے کی جڑیں بہت گہری ہیں کہ اسلام تمام قسم کے آرٹ کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بہت سے لوگوں نے میرا مکمل ویڈیو پیغام سننے کی زحمت ہی نہیں کی۔

اسلام کی اس تعبیر کے مطابق، جسے میں درست سمجھتا ہوں اور جسے عصرِ حاضر میں جناب جاوید احمد غامدی نے وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے، مرد و زن کو تعلیم حاصل کرنے، ساتھ کام کرنے اور مختلف فنونِ لطیفہ میں حصہ لینے کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ ان اخلاقی حدود کی پاس داری کریں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہیں۔ قرآن ان اخلاقی حدود کو نہایت تفصیل کے ساتھ واضح کرتا ہے، لیکن یہاں میں سورۂ اعراف کی آیت نمبر 33 کا حوالہ دوں گا کیونکہ یہ آیت ان حدود کو بہت ہی صراحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔

اس آیت میں درج ذیل امور کو ممنوع قرار دیا گیا ہے:

1۔ ہر قسم کے جنسی تعلقات کو نکاح کے بندھن میں محدود ہونا چاہیے اور یہ تعلق صرف گھر میں اور پردے میں رہتے ہوئے قائم کیا جا سکتا ہے۔

لہٰذا خواہ یہ کسی گانے کے بول ہوں، فلم یا ڈرامے کے مکالمے، فن کاروں کے لباس یا ان کی آپس کی حرکات و سکنات، کسی بھی چیز میں جنسی نوعیت کا کوئی پہلو حتیٰ کہ معمولی درجے میں بھی موجود ہو تو یہ اسلام کے مطابق قطعی طور پر ممنوع ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اداکار کے طور پر، میں کسی ایسی سرگرمی میں شریک نہیں ہو سکتا، جس میں مجھے کوئی ایسا کام کرنا ، کچھ ایسا کہنا یا ایسا لباس پہننا پڑے جو کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں جنسی جذبات کو ابھارے۔ مزید برآں، میں کسی خاتون سے کسی قسم کی قربت نہیں کر سکتا اور جنسی انداز میں چھو نہیں سکتا۔ جہاں تک خواتین کے لباس کا تعلق ہے، سورۂ نور کی چند آیات کی روشنی میں، جن پر میں بعد میں گفتگو کروں گا، خواتین کو ایسا لباس نہیں پہننا چاہیے جو تنگ ہو یا جو گردن سے لے کر کلائیوں اور ٹخنوں تک جسم کے کسی بھی حصے کو نمایاں کرے۔ اگر کسی خاتون کو زیورات یا دیگر آرایش کا استعمال کرنا ہو تو اسے اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ وہ ان زیورات کو چھپا لے، سواے چہرے، ہاتھوں اور پیروں کے زیورات کے۔ اگر کسی وجہ سے زیورات کو مکمل طور پر چھپانا ممکن نہ ہو تو کم از کم اسے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کے زیورات اس کے جسم کے حساس حصوں کو نمایاں نہ کریں یا ان پر توجہ مبذول نہ کرائیں۔ مثلاً، ایسے ہار پہننے سے گریز کرنا چاہیے جو سینے کو نمایاں کریں یا اس پر توجہ دلائیں۔

2۔ ظلم ممنوع ہے۔

قرآن کے مطابق ظلم ایک ایسا گناہ ہے جسے کسی صورت بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، خواہ وہ کسی گانے کے بول میں ہو، کسی فلم یا ڈرامے کی کہانی میں، یا کسی فن پارے کے ذریعے سے، اگر کسی بھی صورت میں ظلم کو جائز یا قابل تعریف بنا کر پیش کیا جائے تو ایسا فن سختی سے ممنوع ہے۔

3۔ جان، مال اور آبرو کو ناحق نقصان پہنچانا ممنوع ہے۔

اسلام انسانی زندگی، مال اور عزت کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ اگر کسی فن میں ایسی چیزوں کو فروغ دیا جائے جو کسی انسان کی زندگی، اس کی ملکیت یا اس کی عزت کو نقصان پہنچانے کو جائز یا اچھا قرار دیں تو وہ فن قرآن کے اصولوں کے مطابق حرام ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح ہے کہ تشدد کی نمایش بہ ذاتِ خود ممنوع نہیں ہے، لیکن اگر اسے غیر اخلاقی یا ناجائز مقاصد کے حق میں پیش کیا جائے تو وہ قابل قبول نہیں۔ مثال کے طور پر، کسی فلم میں ظلم و زیادتی کو معمولی یا قابل تعریف انداز میں پیش کرنا اسلام کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

4۔ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ممنوع ہے۔

قرآن کریم شرک کو ناقابل معافی گناہوں میں شمار کرتا ہے۔ اگر کسی گانے، فلم یا کسی اور فن پارے میں شرک کو فروغ دیا جائے یا اس کی تعریف کی جائے تو وہ فن اسلام کے اصولوں کے مطابق ممنوع ہے۔

5۔ اللہ کے متعلق جھوٹ بولنا ممنوع ہے۔

اسلام حق اور سچائی پر زور دیتا ہے۔ اگر کسی فن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے متعلق جھوٹ یا گم راہ کن خیالات پھیلائے جائیں تو یہ بھی ممنوع ہے۔ ایسے فن کو کسی صورت قابل قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔

ان پانچ ممنوعات کے علاوہ قرآن کریم متعدد مقامات پر کہتا ہے کہ اگر کوئی جائز عمل دینی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ بنے تو وہ عمل جائز نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر، تجارت بہ ذات خود جائز ہے، لیکن اگر یہ عبادات میں رکاوٹ ڈالے تو قرآن ایسی تجارت سے منع کرتا ہے ۔ (الصف 61 : 11) یہی اصول ہر فن پارے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص فن میں اس قدر مشغول ہو جائے کہ دینی فرائض سے غافل ہو جائے تو یہ مشغولیت گناہ کے زمرے میں آتی ہے۔

ایک اور نہایت اہم بات یہ ہے کہ بہ حیثیت مسلمان، میں کسی ایسی چیز کی حمایت نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دی ہو۔ مثال کے طور پر، میں شراب نوشی کی اجازت یا اس کی ترویج کی کسی بھی صورت میں حمایت نہیں کر سکتا۔

اس کے ساتھ، میرے معاشرے میں رائج اسلام کی عام تشریح کے مطابق مردوں اور عورتوں کے درمیان مکمل علیحدگی کو لازم سمجھا جاتا ہے، موسیقی کے تمام آلات کو حرام قرار دیا جاتا ہے، جان داروں کی تصویر کشی یا ان کے مجسمے بنانے کو ممنوع سمجھا جاتا ہے، مثالی مسلم خاتون کے لیے گھر سے باہر نکلنا معیوب گردانا جاتا ہے، اور یہ تصور دیا جاتا ہے کہ اسے سر سے پاؤں تک مکمل طور پر پردے میں ہونا چاہیے اور اس کی آواز گھر کے باہر کسی غیر محرم کو سنائی نہ دے۔ لیکن جس تشریح کو میں نے صحیح اور معقول پایا ہے، وہ ان تمام خیالات کی تردید کرتی ہے۔ ان نکات کو میں تفصیل سے آیندہ ایک سیکشن میں بیان کروں گا۔

ان اصولوں کی پابندی کرنا آج کے دور میں ایک مسلسل جدوجہد ہے، کیونکہ موجودہ میڈیا کے ماحول میں کئی ایسی چیزیں معمول کا حصہ بن چکی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے ممنوع قرار دیا ہے۔ اس لیے، جب کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کسی ایسی چیز میں ملوث ہو گیا ہوں جو اللہ کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرتی ہے تو میں خود کو قرآن کی اس آیت کی یاد دہانی کراتا ہوں، جس میں اللہ تعالیٰ نے چھوٹے گناہوں کی معافی کی خوش خبری دی ہے۔ سورۂ نساء کی آیت 31 میں ارشاد ہے:

”(اِن گناہوں سے بچو، اِس لیے کہ) تمھیں جن چیزوں سے منع کیا جا رہا ہے، اُن کے بڑے بڑے گناہوں سے اگر تم بچتے رہے تو تمھاری چھوٹی برائیوں کو ہم تمھارے حساب سے ختم کر دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔“

__________

سوال و جواب :حصہ دوم

جناب جاوید احمد غامدی کے نقطۂ نظر سے کچھ اہم سوالات کے جوابات

یہاں میں اس کتاب کے آغاز میں کہی گئی اپنی بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ میں جاوید احمد غامدی صاحب کا کوئی باقاعدہ شاگرد نہیں ہوں۔ میں ایک عام شخص ہوں، جسے غامدی صاحب کی تعلیمات کے ذریعے سے اپنے کچھ سوالات کے جوابات ملے ہیں۔ اگر میری سمجھ بوجھ یا ان تعلیمات کی وضاحت میں کسی قسم کی غلطی ہو تو اس کا ذمہ دار غامدی صاحب کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

جو حضرات ان جوابات کی مزید تفصیلات میں جانا چاہتے ہوں، میں ان سے گزارش کرتا ہوں کہ جاوید احمد غامدی صاحب کی تصانیف اور آن لائن موجود ویڈیوز سے رجوع کریں۔ ان کی چند اہم کتب میں ”میزان“، ”مقامات“، ”برہان“اور ”الاسلام“ شامل ہیں۔ مزید برآں، ان کی ویڈیو لیکچر سیریز ” 23 اعتراضات کے جواب میں “ اور ”ڈیلس لیکچرز“ ان کے یوٹیوب چینل ”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“پر دستیاب ہیں۔

آئیے، جاوید احمد غامدی صاحب سے سیکھے گئے اسلام کے ماخذ کی درست تفہیم پر ایک نظر دوبارہ ڈالیں۔ حالاں کہ ہم اس موضوع کو پہلے ایک تفصیلی حصے میں زیر بحث لا چکے ہیں، مگر سوال و جواب کے حصے میں داخل ہونے سے قبل اس امر کو مختصراً دوبارہ سمجھنا اور اس کے فہم کو تازہ کرنا ضروری ہے۔

اسلام کے مآخذ

قرآن بارہا یہ بات واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام اور دین صرف اپنے رسولوں اور آسمانی کتب کے ذریعے سے پہنچایا ہے۔ چونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں، اس لیے دین میں کسی بھی عقیدے یا عمل کو شامل کرنے یا خارج کرنے کے لیے واضح شواہد درکار ہیں کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویب حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو بہ طور دین اسی صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے جب اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تصدیق موجود ہو۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے احکامات قرآن اور سنت کی صورت میں دیے ہیں۔

قرآن یہ تاکید کرتا ہے کہ دیگر تمام دینی مآخذ کو سمجھنے کے لیے قرآن کو بنیادی کسوٹی کے طور پر اپنایا جائے۔ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کے لیے قرآن کا براہ راست حکم یا اصول ہونا ضروری ہے۔ اگر قرآن دین کی تھیوری ہے تو سنت اس تھیوری کی عملی شکل ہے۔ قرآن اور سنت، دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر موجودہ دور تک نسل در نسل تواتر اور اجماع سے منتقل ہوئے ہیں۔ اسلام تمام کا تمام تر قرآن اور سنت میں محصور ہے۔

قرآن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس کا درست تعارف حاصل کیا جائے۔ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام اور ہدایت ہے، جو پوری طرح سے محفوظ ہے۔ اس میں اللہ کی زمین پر اس کی آخری دینونت کے اظہار کی سرگذشت ہے، جو آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے نافذ کی گئی۔ قرآن میں درج ذیل ہدایات شامل ہیں:

قیامت کے دن تمام انسانوں کے اللہ کے حضور جواب دہی کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ اس جواب دہی میں کامیابی حاصل کرنے کے اصول۔

ان حالات و واقعات کا ذکر جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کے ساتھ پیش آئے، اور ان کےمتعلق اللہ تعالیٰ کے احکامات اور ہدایات۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کے لیے ابدی قوانین اور ہدایات۔

قرآن اس الہامی وحی کا مجموعہ ہے جو اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وقتاً فوقتاً نازل فرمائی اور یہ یہود، نصاریٰ، اور مشرکین کو مخاطب کرتی ہے۔

یہ تفصیل کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے اسرائیل کی اولاد میں ایک قوم کو کھڑا کیا، انھوں نے اللہ کا پیغام دنیا میں کیسے پھیلایا، اور پھر اللہ نے ان کے ساتھ اپنا عہد کیوں ختم کیا ۔

اللہ تعالیٰ کے احکامات اور یہ کہ کس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ایک نئی امت کو دنیا میں اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا۔

قرآن میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے دیگر رسولوں کے ذریعے سے زمین پر کیسے عدالت قائم کی۔

ان لوگوں کے لیے سزا اور جزا کے احکامات بھی قرآن میں بیان کیے گئے ہیں، جو رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کے لیے بھی جو ان کی نصرت اور حمایت کرتے ہیں۔

قرآن کریم اصرار کرتا ہے کہ اس کی زبان عربی مبین ہے۔ یہ کتاب بہت وضاحت کے ساتھ امور کو بیان کرتی ہے۔ اس طرح اس کا سمجھنا آسان ہے۔ اس لیے قرآن کی تفسیر میں فہم زبان کے بنیادی اصولوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ مثلاً، جب قرآن کی آیات کے معانی طے کیے جائیں تو الفاظ کے عمومی معروف معنی کو اختیار کیا جائے۔ جملے کی ساخت سے پیدا ہونےوالے معانی اور سیاق و سباق کے ان مضمرات کو مدنظر رکھا جائے، جو اس کے اولین مخاطبین کے ہاں معروف اور مسلم تھے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کی آیات کو الگ الگ سمجھنے کے بجاے، کسی خاص موضوع سے متعلق تمام آیات کو یکجا کر کے سمجھا جائے۔ مثلاً، اگر یہ جانچنا ہو کہ قرآن مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات کے بارے میں کیا کہتا ہے تو اس موضوع سے متعلق تمام آیات کا تجزیہ ضروری ہے تاکہ درست راے قائم کی جا سکے۔

ایک عام مسلمان کی حیثیت سے قرآن کے متن کو سمجھنے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کتاب کا درست تعارف حاصل کیا جائے، جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، اور پھر اس کا ایک سادہ اور آسان فہم ترجمہ ابتدا سے انتہا تک پڑھا جائے۔ میرا طریقہ یہ رہا ہے کہ جہاں کہیں متن میں کوئی بات سمجھ نہیں آتی، میں اسے نشان زد کر لیتا ہوں۔ پھر اس کے متعلق انٹرنیٹ سے یا مستند کتب میں موجود علما کی آرا کا مطالعہ کرتا ہوں۔ اگر ان ذرائع سے بھی بات واضح نہ ہو تو اس معاملے کی توضیح کے لیے اہل علم سے رجوع کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ترجمے کے مطالعے کے دوران میں اس امر کا خاص خیال رکھتا ہوں کہ اصل ترجمے اور حواشی یا قوسین میں دی گئی اضافی تشریحات کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھوں، کیونکہ یہ تعلیقات عموماً مترجم کی ذاتی آرا یا اس کی طرف سے متن کی وضاحت پر مبنی ہوتی ہیں۔

روایاتِ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال سے متعلق ہیں، لیکن یہ قرآن اور سنت کی طرح تواتر کے ذریعے سے نقل نہیں ہوئیں، بلکہ اخبار آحاد، یعنی انفرادی روایات کے ذریعے سے ہم تک پہنچی ہیں۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کا ایک تاریخی ریکارڈ ہے اور اسے قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ یہ روایات قرآن و سنت میں موجود دین کے احکام کی تشریحات اور اطلاقات کو بیان کرتی ہیں، لیکن دین میں کسی نئے حکم کا اضافہ نہیں کرتیں۔ دین کے تمام احکام قرآن اور سنت میں یا تو براہ راست موجود ہیں یا ان میں اصولی شکل میں پائے جاتے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام کی تاریخ بھی ایک اہم ماخذ ہے۔ اس سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ انھوں نے دین کو کیسے سمجھا۔ تاہم، یہ روایات بھی انفرادی ذرائع سے ہم تک پہنچی ہیں، اس لیے انھیں بھی قرآن و سنت کے دائرے میں رکھ کر جانچنا اور سمجھنا ضروری ہے۔

اب ہم سوال و جواب کی طرف بڑھتے ہیں۔

سوال 1: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول اور نبی ہیں؟

جی ہاں۔ قرآن اور احادیث نبویہ صراحت کے ساتھ یہ حقیقت بیان کرتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، اور ان کے بعد کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں ہوگا۔

پہلے آسمانی صحائف، جیسے عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید حتیٰ کہ بعض دیگر مذاہب کی کتب میں بھی آخری مسیحا اور نبی کی آمد کی پیشین گوئیاں موجود ہیں، جنھیں مسلمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے منسوب کرتے ہیں۔ لیکن قرآن نہ صرف اس بات کی نفی کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی آئے گا، بلکہ واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ نبوت کا سلسلہ ان پر ختم ہو چکا ہے۔

قرآن کی سورۂ احزاب میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”(حقیقت یہ ہے کہ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ (اِس لیے یہ ذمہ داری اُنھی کو پوری کرنی تھی)، اور اللہ ہر چیز سے با خبر ہے۔ “ (33: 60)

اس آیت میں ”خاتم “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جس کے معنی ہیں: کسی چیز پر مہر لگانا یا اس کا اختتام کرنا۔ اس کے مطابق، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صراحت کے ساتھ نبوت کی مہر یا اس کا اختتام قرار دیا گیا ہے۔

قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اللہ کا پیغام اور دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے مکمل کر دیا گیا ہے اور اس طرح مزید کسی نبی یا رسول کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ سورۂ مائدہ میں فرمایا گیا:

”تمھارے دین کو آج میں نے تمھارے لیے پورا کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند فرمایا ہے ۔“ (5: 3)

ختم نبوت کا یہ تصور مستند احادیث کے ذریعے سے مزید وضاحت کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے۔ ان روایات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرمایا کہ نبوت اور رسالت کا سلسلہ ان پر ختم کر دیا گیا ہے۔ آئیے، اس ضمن میں چند اہم احادیث کا جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے نبیوں کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک شخص نے عمارت بنائی، نہایت حسین و جمیل، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اُس عمارت کے گرد پھرتے اور اُس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے تھے، مگر کہتے تھے کہ یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی؟ فرمایا کہ وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں ۔ (بخاری، رقم3525۔ مسلم، رقم2287)

2۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا:

”مجھے دوسرے انبیا پر چھ چیزوں سے فضیلت عطا کی گئی ہے: مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے ہیں، رعب کے ذریعے سے میری مدد کی گئی ہے، مال غنیمت میرے لیے حلال کیا گیا ہے، میرے لیے تمام زمین سجدہ گاہ اور پاک قرار دی گئی ہے، مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے، اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ “ (مسلم، رقم524)

3۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا:

”میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔“ (مسلم، رقم 1842، 2404)

4۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا:

” بنی اسرائیل کی قیادت اُن کے نبی کرتے تھے۔ ایک نبی دنیا سے رخصت ہوتا تو دوسرا اُس کا جانشین بن جاتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا ۔“

(بخاری، رقم3455۔ مسلم، رقم1842)

5۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے فرمایا:

”نبوت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہی، صرف بشارت دینے والی باتیں رہ گئی ہیں۔ عرض کیا گیا: وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں؟ فرمایا: اچھا خواب۔“

(بخاری، رقم 6589)

بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سورۂ احزاب کی آیت 40 میں صرف شریعت لانے والے انبیا کے خاتمے کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کے تحت ایسے انبیا کے لیے گنجایش موجود ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہی کی تبلیغ کریں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کے الفاظ اتنے واضح اور صاف ہیں، اور حدیث کے ذخیرے سے یہ بات اتنی مضبوطی سے ثابت ہے کہ اس طرح کی تاویلات کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی۔

سوال 2: نبوت اور رسالت کا سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں ختم ہوا؟

اگر کوئی عام شخص بھی قرآن کا مطالعہ کرے تو اسے یہ بات بہ خوبی سمجھ آ جائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعے سے تین بنیادی مقاصد پورے کیے۔ چونکہ یہ تینوں مقاصد کامیابی کے ساتھ پورے ہو چکے ہیں، اس لیے نبوت کا سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کر دیا گیا۔ آئیے، ان تینوں مقاصد کو مختصراً سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کیسے مکمل ہوئے۔

1۔ ایک نئی قوم کی تشکیل تاکہ وہ اللہ کی ہدایت پر عمل کرے اور اس کے پیغام کو دنیا تک پہنچائے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی، لیکن جب وہ اپنی اس ذمہ داری کو کماحقہٗ پورا نہ کر سکے تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسمٰعیل میں ایک نئی قوم کو اُٹھایا تاکہ وہ اس ذمہ داری کو نبھائے۔ یہ مقصد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے پورا ہوا، جب اللہ نے ایک ایسی قوم کو وجود بخشا جو تعداد میں لاکھ سے تجاوز کر گئی اور جنھیں ان کےالٰہی مشن کے لیے مکمل طور پر تربیت دی گئی۔

2۔ انسانیت کے لیے قیامت کے دن کی سب سے مضبوط دنیوی دلیل فراہم کرنا۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا، اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کے ذریعے سے ان کے مخاطبین کے لیے دنیا میں اپنی عدالت برپا کرتا ہے۔ یہ عدالت اور اس کا مظاہرہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کے سامنے قیامت اور اخروی جزا و سزا کا قطعی ثبوت آ جائے اور اس معاملے میں اتمام حجت ہو جائے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی دینونت کا یہ مظاہرہ انتہائی وسیع اور عالمی پیمانے پر ہوا۔ مزید یہ کہ یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب تاریخ کو بڑی تفصیل کے ساتھ محفوظ کیا جا رہا تھا۔ دینونت کے اس مظاہرے کے واقعات تاریخی طور پر مستند اور ناقابل انکار ہیں۔ چاہے کوئی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو مانے یا نہ مانے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ اور آپ کے صحابہ کے ساتھ پیش آنے والے اہم واقعات تاریخی حقائق ہیں اور ان کے وقوع پذیر ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کیا جا سکتا۔

اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ تھا کہ انسانیت کے لیے قیامت کے روز کی عدالت کی قطعی دلیل فراہم کی جائے اور اسے محفوظ رکھا جائے۔ یہ مقصد پورا ہو چکا ہے کیونکہ ان واقعات کو جو دینونت الٰہی کے مظاہر تھے، انسانی تاریخ میں محفوظ کر دیا گیا ہے اور یہ مستند تاریخی حقائق کے طور پر ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔

3۔ آیندہ تمام نسلوں کے لیے الہامی ہدایت کو محفوظ رکھنا۔ سورہ مائدہ کی آیت 3 میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان وارد ہوا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے انسانیت کے لیے دین کو مکمل کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد کسی نئی ہدایت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔اللہ تعالیٰ کی یہ ہدایت قرآن کی صورت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ ہی میں بڑے پیمانے پر محفوظ کر لی گئی۔ اسی طرح، سنتِ رسول کو بھی آپ کے ایک لاکھ سے زائد صحابۂ کرام نے محفوظ کر کے اجماع سے اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو مکمل اور محفوظ کرنے کا یہ مقصد بھی پایۂ تکمیل تک پہنچا۔

سوال 3: اسلام میں مذہبی اتھارٹی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کی کیا حیثیت ہے؟

دنیا میں ہمیں اللہ تعالیٰ براہ راست نظر نہیں آتا تاکہ انسان کو اختیار اور آزادی کے ساتھ آزمایا جا سکے، مگر قرآن مختلف مواقع پر اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی رہنمائی بالواسطہ طور پر کرتا ہے۔ کبھی وہ براہ راست ان کے دلوں میں خیالات ڈالتا ہے (سورۂ انفال8: 24) اور کبھی فرشتوں کے ذریعے، جو نیکوکاروں پر مسلسل برکتیں نازل کرتے ہیں (حمٰ السجدہ41: 30)۔ تاہم، قرآن یہ بات بھی صاف صاف بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جن افراد کو براہ راست اپنی ہدایت کے لیے منتخب کرتا ہےاور انھیں اپنے احکامات کو دنیا تک پہنچانے کا حکم دیتا ہے وہ صرف انبیا اور رسول ہیں ۔

چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، اس لیے آپ اللہ کی ہدایت اور احکامات کا آخری اور حتمی ماخذ ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے جو کچھ ہمیں ملا ہے، وہی اسلام کی اصل اساس ہے۔ کوئی بھی حکم، جو اسلام کا حصہ قرار دیا جائے یا جسے اسلام سے خارج کیا جائے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ثابت ہو۔

مزید برآں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے تمام افراد، خواہ وہ کتنا ہی علم یا مرتبہ رکھتے ہوں، اس بات کے پابند ہیں کہ وہ دین کے طالب علم کے طور پر اپنی محدودیت کا اعتراف کریں۔ ان کی تفہیم اور تشریحات درست بھی ہو سکتی ہیں اور ان میں غلطی کا امکان بھی ہے۔ کوئی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی بلند مقام رکھتا ہو، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ اسلام کے بارے میں کسی بھی بات میں معصوم عن الخطا ہے یا اس پر اتھارٹی ہونے کا حق رکھتا ہے۔

اس سلسلے میں ایک نہایت اہم حدیث رسول سے منقول ہے، جس میں آپ نے دین میں کسی بھی اضافے یا بدعت کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے، جو قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو:

”بے شک بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اوربہترین ہدایت محمدکی ہدایت ہے،اور بدترین امور دین میں نئی نکالی ہوئی باتیں ہیں۔ ہر ایسی نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گم راہی ہے ۔“ (مشکوٰۃ ، رقم134)

سوال 4: اسلام میں معجزات کی حیثیت کیا ہے؟

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ معجزات بالعموم انبیا اور رسل کے لیے مخصوص تھے۔ یہ خدا کی قدرت کے ایسے مظاہر تھے جن کا مقصد لوگوں کو حیرت میں مبتلا کرنا اور انبیا کو خدا کا پیغام موثر طریقے سے پہنچانے کے قابل کرنا تھا۔ چونکہ رسالت کا سلسلہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے، اس لیے اب معجزات کا ظہور ختم ہو چکا ہے۔ قرآن اس بات کی واضح شہادت دیتا ہے کہ انبیا اور رسل کے بعد کوئی شخص معجزات کا دعویٰ کرے تو اس کا یہ دعویٰ یا تو جھوٹ پر مبنی ہوگا، یا وہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہوگا۔

میری ذاتی راے یہ ہے کہ قرآن کے مطالعے کے بعد کوئی شخص اگر فرشتے، اولیا یا ارواح کو دیکھنے یا معجزات دکھانے کا دعویٰ کرے تو وہ یا تو جھوٹ بول رہا ہے یا ذہنی الجھنوں کا شکار ہے یا جنات کے فریب کا شکار ہو رہا ہے، جو اسے فرشتوں یا اولیا کی شکل میں نظر آتے ہیں۔

سوال 5: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیش آنے والے واقعات کی اہمیت کیا ہے؟

بہ حیثیت مسلمان، میرا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن اور سنت کے ذریعے سے اللہ کا دین مکمل طور پر انسانیت تک پہنچا دیا۔ قرآن و سنت میں وہ تمام اوامر و نواہی موجود ہیں جن پر عمل کر کے قیامت کے دن اللہ کے حضور سرخرو ہوا جا سکتا ہے۔ ان اصولی احکامات کی مزید تشریحات اور اطلاقات ہمیں حدیث کی کتب میں ملتی ہیں۔ حدیث کے ذخیرے میں حدیثِ جبریل خاص اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اس میں دین کے تمام بنیادی نکات جامع اور مختصر انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ میں اپنے دینی علم و عمل میں اسی دائرے کو مرکزی اہمیت دیتا ہوں اور اسلام کے واضح احکامات اور ممنوعات پر سختی سے کاربند رہتا ہوں۔

چونکہ میں تاریخ کا باقاعدہ طالب علم نہیں ہوں اور نہ ہی کسی قسم کی علمی تحقیق میں مہارت رکھتا ہوں، اس لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد پیش آنے والے ان واقعات کا مطالعہ نہیں کرتا جو امت مسلمہ میں اختلافات کا سبب بنے۔ میرے نزدیک یہ امور میری اخروی نجات کے لیے غیر متعلق ہیں۔ مثال کے طور پر، قیامت کے دن مجھ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کس کو ان کا خلیفہ تسلیم کیا یا صحابۂ کرام میں سے کسے زیادہ افضل یا متقی سمجھا۔

سوال 6: کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیا سے افضل ہیں؟

نعت خوانی اسلامی ادب کا ایک اہم حصہ ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کی جاتی ہے۔ میری پرورش پاکستان میں اس وقت ہوئی جب ایک نعت ”شاہِ مدینہ “بے حد مقبول تھی۔ اس نعت کے اشعار میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ یہاں سے شروع ہوتی ہے:

شاہِ مدینہ یثرب کے والی

سارے نبی تیرے دَر کے سوالی

یہ عقیدہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیا پر فضیلت رکھتے ہیں، برصغیر کے مسلمانوں میں عام ہے۔ تاہم قرآن اور احادیث مبارکہ واضح طور پر مسلمانوں کو انبیا کے درمیان تقابل کرنے سے روکتے ہیں۔

قرآن سورۂ بقرہ کی آیت 253 میں ارشاد فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیا کو بعض پر بلند درجات عطا کیے۔ اس آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے جن سے اللہ نے براہِ راست کلام فرمایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے جنھیں اللہ نے معجزات عطا کیے اور روح القدس، حضرت جبریل ، کے ذریعے سے ان کی مدد کی۔

تاہم، مسلمانوں کو سورۂ بقرہ کی آیت 136 میں حکم دیا گیا ہے کہ وہ تمام انبیا پر ایمان لائیں اور ان کے درمیان کسی قسم کی تفریق نہ کریں۔ فرمایا:

”(ایمان والو)، اِن سے کہہ دوکہ ہم نے اللہ کو مانا ہے اور اُس چیز کو مانا ہے جو ہماری طرف نازل کی گئی اور جو ابراہیم، اسمٰعیل، اسحٰق اور یعقوب اور اُن کی اولاد کی طرف نازل کی گئی اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے سب نبیوں کو اُن کے پروردگار کی طرف سے دی گئی۔ ہم اِن میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ (یہ سب اللہ کے پیغمبر ہیں) اور ہم اُسی کے فرماں بردار ہیں ۔“

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے بہ حیثیت نبی کئی منفرد خصوصیات عطا کیں۔ ایک حدیث میں آپ نے فرمایا کہ انھیں چھ امور میں دیگر انبیا پر فضیلت دی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا:

”مجھے دوسرے انبیا پر چھ چیزوں سے فضیلت عطا کی گئی ہے: مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے ہیں، رعب کے ذریعے سے میری مدد کی گئی ہے، مال غنیمت میرے لیے حلال کیا گیا ہے، میرے لیے تمام زمین سجدہ گاہ اور پاک قرار دی گئی ہے، مجھے تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہے اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے۔“ (مسلم، رقم524)

اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا اقرار کیا کہ بعض انبیا کو دیگر پر بلند درجات عطا کیے گئے ہیں، لیکن آپ نے خود تاکید سے اور بارہا اس بات کی نفی فرمائی کہ آپ تمام انبیا سے افضل ہیں۔

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ ایک شخص نے آپ کو ”تمام مخلوقات میں بہترین“کے لقب سے مخاطب کیا۔ آپ نے اسے ٹوکا اور فوراً فرمایا:

”یہ لقب تو ابراہیم کاہے ۔“ (مسلم، رقم 2369)

اسی طرح آپ کا ایک فرمان یہ ہے:

”کوئی یہ نہ کہے کہ میں یونس بن متی سے افضل ہوں ۔ “(بخاری، رقم 3234)

اور

”جس نے کہا کہ میں یونس بن متی سے افضل ہوں، اس نے جھوٹ کہا۔ “

(ترمذی، رقم 3245)

صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق آپ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ وہ یہ دعویٰ نہ کریں کہ آپ موسیٰ علیہ السلام پر فوقیت رکھتے ہیں۔ آپ نےواضح فرمایا کہ قیامت کے دن جب آپ کو اٹھایا جائے گا تو موسیٰ علیہ السلام پہلے ہی اللہ کے عرش کے قریب موجود ہوں گے۔ (مسلم، رقم 2373)

مزید برآں، آپ نے اپنے ماننے والوں کو انبیا کے درمیان تقابل کرنے اور ان میں سے کسی کو کسی دوسرے سے افضل قرار دینے سے منع فرمایا۔ آپ کا ارشاد ہے:

”انبیا میں باہم ایک دوسرے پر اس طرح بزرگی نہ دیا کرو ۔“ (بخاری،رقم 2281)

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث، دونوں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیا کو خاص فضائل عطا کیے ہیں، لیکن مسلمانوں کو انبیا کے درمیان تقابل کرنے سے روکا کیا گیا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بہ حیثیت نبی عظیم فضیلت دی گئی، لیکن آپ نے کبھی اپنی برتری کا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ اس کو ناپسند کیا۔

سوال نمبر 7: تمام انبیا مشرقِ وسطیٰ میں ہی کیوں بھیجے گئے؟

میں نے یہ مسئلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسولِ خدا ہونے پر تفصیلی گفتگو کے دوران میں واضح کیا ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے تک ہر قوم اور معاشرے میں انبیا بھیجے جاتے رہے ۔ (یونس 10 :47، بنی اسرائیل 17 : 15، القصص28 : 59) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد نبوت کا منصب ان کی نسل تک محدود کر دیا گیا، تاکہ دنیا تک خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے افراد کے بجاے اقوام کو اٹھایا جائے۔ (العنکبوت29 : 27، آل عمران3 : 33) قرآن یہ بھی بیان کرتا ہے کہ بعض انبیا کا ذکر قرآن میں موجود ہے، لیکن ایسے کئی انبیا بھی ہیں، جن کا علم صرف اللہ کو ہے ۔ (الفرقان25 : 38، ابراہیم 14 :9) مزید برآں، قرآن واضح کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے انبیا کے واقعات بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے اولین مخاطب، یعنی عرب مشرکین اور اہل کتاب پہلے ہی ان انبیا کے قصوں سے واقف تھے۔ (القمر 54 :4)

سوال نمبر 8: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد شادیاں کیوں کیں؟

اسلام کے بہت سے ناقدین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تعدد ازواج پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ دلیل دیتے ہیں کہ جو شخص نبی خدا ہونے کا دعویٰ کرے، اسے اتنی شادیاں نہیں کرنی چاہییں۔

مجھے یہ اعتراض چند وجوہات کی بنا پر قوی معلوم نہیں ہوتا:

1۔ قرآن کے مطابق، جنس مخالف کے لیے کشش محسوس کرنا کوئی غیر مقدس یا غیراخلاقی بات نہیں، بشرطیکہ جنسی تعلق کو ازدواجی بندھن کے دائرے میں محدود رکھا جائے۔

2۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اور ثقافت میں مردوں کی متعدد شادیاں ایک معمول کی بات تھی، اور آج بھی کئی معاشروں میں یہ رواج عام ہے۔ حتیٰ کہ مکہ کے مشرکین، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید ترین مخالفین تھے، نے اس پہلو سے آپ پر کوئی اخلاقی اعتراض نہیں اٹھایا۔

3۔ اگرچہ اس وقت تعددِ ازدواج عام تھا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پہلی شادی 25 سال کی عمر میں کی، اور اپنی اہلیہ حضرت خدیجہ کی وفات تک، یعنی 24 سال تک، ایک زوجہ کے ساتھ زندگی گزاری۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ کسی شہوانی خواہش کے زیرِاثر نہیں تھے، بلکہ اپنی پوری جوانی ایک ہی عورت کے ساتھ وفاداری میں گزاری۔

4۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اور ثقافت میں مردوں کا متعدد عورتوں سے شادی کرنا ایک عام بات تھی، اور اس پر کسی تعداد کی حد مقرر نہ تھی۔ یہ حقیقت بھی قابل توجہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک اہم سماجی، نظریاتی، عسکری اور سیاسی تحریک کے قائد تھے، اس لیے آپ کی بیش تر شادیاں اسی مشن کے ساتھ منسلک ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کی گئیں۔ چنانچہ ، آپ نے اپنی پہلی بیوی کی وفات کے بعد دس شادیاں کیں۔ مزید برآں، یہ بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت عائشہ کے علاوہ آپ کی تمام ازواج مطلقہ یا بیوہ تھیں۔

اگر آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر شادی کی وجوہات کا تفصیلی تجزیہ کرنا چاہتے ہیں تو میری پوڈکاسٹ (Coversing Islam with Hamza Ali Abbasi) کی دسویں قسط ملاحظہ کریں۔ انگریزی سب ٹائٹل کے ساتھ یہ اردو پوڈکاسٹ غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ کے یو ٹیوب چینل پر دیکھا جا سکتا ہے۔

مندرجہ بالا سیاق کو مدنظر رکھتے ہوئے، مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد شادیوں میں کوئی اعتراض کی بات نظر نہیں آتی۔ ہاں، یہ بات قابل اعتراض ہوتی اگر آپ نے اپنی کسی زوجہ کے ساتھ کوئی ناانصافی کی ہوتی۔ تاہم، اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے ساتھ کسی قسم کی بدسلوکی کی ہو۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو نہایت عزت دی اور آپ کے صحابۂ کرام بھی آپ کی اس سنت پر عمل پیرا رہے۔ قرآن سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔ آئیے، ان قرآنی شواہد پر مختصراً نظر ڈالتے ہیں۔

قرآن کی سورۂ احزاب کی 28 تا 34 میں اللہ تعالیٰ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کو مطلع فرماتے ہیں کہ ان کی حیثیت اور کردار کی بنا پر انھیں کچھ خاص پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ پابندیاں اسلام کی جدوجہد کے دشوار حالات کے تناظر میں عائد کی گئیں۔ تاہم، ان پابندیوں کو نافذ کرنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے ان ازواج کو یہ اختیار دیا کہ اگر وہ ان شرائط کے تحت زندگی گزارنا نہ چاہیں تو وہ عزت و احترام کے ساتھ طلاق لے کر علیحدگی اختیار کر سکتی ہیں۔ اگر وہ علیحدگی کا فیصلہ کرتیں تو انھیں معقول مالی معاونت فراہم کی جاتی اور نہایت وقار کے ساتھ رخصت کیا جاتا۔ لیکن ازواجِ مطہرات میں سے کسی نے بھی اس اختیار کو استعمال نہ کیا اور اپنی مرضی سے ان اضافی پابندیوں کو قبول کر لیا، باوجود اس کے کہ وہ باعزت طریقے سے علیحدگی اختیار کر سکتی تھیں۔

یہ آیت اس بات کی ایک قوی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کے ساتھ کوئی ناانصافی یا بدسلوکی نہیں کی۔ ان کی ازواج مطہرات کی طرف سے ان پابندیوں کو رضا مندی سے قبول کرنا ایک واضح سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر وہ اپنے شوہر کے ہاتھوں کسی ظلم یا بدسلوکی کا شکار ہو رہی ہوتیں تو وہ اس خدا کے احکامات اتنی خوش دلی سے کیسے مان رہیں تھیں، جس کے بارے میں ان کے شوہر کا دعویٰ تھا کہ وہ اس کے رسول ہیں؟

سوال نمبر 9: کیا قرآن گھریلو تشدد کو جائز قرار دیتا ہے؟

قرآن کی سورۂ نساء کی آیت 34 کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ آیت گھریلو تشدد کا جواز فراہم کرتی ہے اور شوہروں کو اپنی بیویوں پر جسمانی طاقت استعمال کرنے کی مکمل آزادی دیتی ہے۔ میرے لیے یہ آیت اسلام پر سب سے بڑا چیلنج رہی، اور اس کے بارے میں ایسا جواب تلاش کرنے میں مجھے کئی سال لگے جو اخلاقی اور عقلی طور پر قابل قبول ہو۔

اس آیت کا تفصیلی جائزہ اور اس کے سیاق و سباق کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ بیوی پر جسمانی طاقت کا استعمال عمومی طور پر ایک مجرمانہ عمل ہے۔ تاہم، سزا دینے کی اجازت انتہائی نادر اور سنگین حالات میں بہ طور آخری اقدام کے عطا کی گئی ہے۔ اور وہ بھی محض اس لیے کہ ایسا رشتہ ازدواج کو بچانے کی آخری کوشش کے طور پر کیا جائے۔ اس اجازت کے ساتھ سخت شرط یہ ہے کہ سزا ایسی نہ ہو جو جسم پر کوئی نشان یا چوٹ کے آثار چھوڑے۔

سورۂ نساء کی آیت 34 کا تجزیہ

جیسا کہ پہلے تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے، قرآن ازدواجی رشتے اور خاندان کے ادارے کو خدا کا تخلیق کردہ سب سے اہم ادارہ قرار دیتا ہے، جو جوانوں اور بوڑھوں، دونوں کو طویل مدتی جسمانی، روحانی، جذباتی اور نفسیاتی دیکھ بھال فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔

قرآن خاندان کے ادارے کے تحفظ کے لیے غیر معمولی اقدامات کا حکم دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ، ہم جانتے ہیں کہ ان معاشروں میں جہاں شادی کے بغیر جنسی تعلقات کو معمولی اور غیر ممنوع سمجھا جاتا ہے، وہاں خاندانی ڈھانچہ کم زور ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے نکاح کے دائرے سے باہر تمام اقسام کے جنسی تعلقات اور اعمال کو جرم قرار دیا ہے تاکہ خاندانی نظام کی مضبوطی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہر ادارےکے لیے ، چاہے وہ ریاست ہو، فوج ہو، بیوروکریسی ہو، کارپوریٹ دنیا ہو یا ازدواجی رشتہ ہو ، جو جرم مہلک اور تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، وہ ”سرکشی “ہے۔ سرکشی کسی بھی ادارے میں قابلِ قبول نہیں ہوتی، کیونکہ اس کی معمولی سی اجازت بھی اس ادارے کی یقینی تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے سب سے آزاد خیال ممالک بھی سرکشی کے خلاف سخت ترین سزائیں مقرر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ناروے، جو جدید ریاستوں میں سب سے نرم قوانین رکھنے کے لیے مشہور ہے، غداری کے جرم پر 6 سے 21 سال تک قید کی سزا دیتا ہے۔6

ہر ادارے کو موثر طور پر چلانے کے لیے ایک سربراہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی ادارے کا کوئی سربراہ نہ ہو تو وہ اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے قابل نہیں رہتا۔ قرآن ازدواجی ادارے میں مرد کو خاندان کا سربراہ مقرر کرتا ہے۔ آئیے، اس کو مزید تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

خدا کے نزدیک مرد اور عورت برابر ہیں۔ تاہم، جب وہ نکاح کے بندھن میں داخل ہوتے ہیں تو قرآن مرد کو زیادہ ذمہ داریاں سونپتا ہے، خاص طور پر مالی معاملات میں۔ ان اہم ذمہ داریوں کی بنیاد پر قرآن شوہر کو خاندان کے ادارے کا سربراہ مقرر کرتا ہے۔ شوہر کے اس بلند درجے کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب بھی کسی خاندانی معاملے پر ڈیڈ لاک ہو، اور میاں بیوی کسی متفقہ فیصلے پر نہ پہنچ سکیں تو آخری فیصلہ شوہر کا ہوگا۔

قرآن کو اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ عورت بھی کمانے کا فیصلہ کرے اور خاندان کے لیے مالی معاونت فراہم کرے۔ تاہم، اس کی یہ شراکت اختیاری ہے۔ وہ اپنی کمائی اپنے پاس رکھ سکتی ہے اور اس پر خاندان کے مالی معاملات کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، شوہر پر لازم ہے کہ وہ خاندان کی مالی ضروریات پوری کرے۔اسلام میں کچھ ایسی آرا بھی پائی جاتی ہیں جن کے مطابق، اگر معاہدۂ نکاح میں عورت یہ شرط رکھے کہ وہ خاندان کی مالی ذمہ داری اٹھائے گی تو خاندان کی سربراہی بیوی کو منتقل ہو سکتی ہے۔ تاہم، قرآن یہ واضح کرتا ہے کہ چونکہ شوہر پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، اس لیے اسے بہ طورسربراہ خاندان کے ادارے میں فیصلہ سازی میں زیادہ اختیار دیا گیا ہے۔

قرآن کا شوہر کو بیوی پر ایک درجہ فضیلت دینے کا فرمان صنفی امتیاز نہیں قرار دیا جا سکتا۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے، خدا کے نزدیک مرد اور عورت، دونوں برابر ہیں۔ تاہم، ازدواجی بندھن کے دائرے میں دی گئی ذمہ داریوں اور کرداروں کی تفریق کے ساتھ ان کے درجات میں فرق پیدا ہوتا ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسی خاندان کے ادارے میں، جہاں شوہر کو بیوی پر بلند درجہ دیا گیا ہے، وہیں بچوں کے ساتھ تعلق کے معاملے میں ماں کو باپ پر فوقیت دی گئی ہے ۔ (مسلم، رقم 6181)

یہ تفریق دراصل صنف کے بجاے ازدواجی تعلقات کے مختلف حقوق اور ذمہ داریوں کے اصول پر مبنی ہے۔

اب ہم سورۂ نساء کی آیت 34 پر غور کرتے ہیں۔ یہ آیت ایک انتہائی صورت حال کو بیان کرتی ہے جس میں بیوی ”نشوز“ کی مرتکب ہوتی ہے۔ ”نشوز“ کا مطلب ایسی کھلی سرکشی ہے جو اپنی انتہائی شدت اور دوام کی وجہ سے خاندان کے نظام کو خطرے میں ڈال دے اور پورے گھر کے ماحول کو نقصان پہنچائے۔

ایسی صورت حال میں قرآن شوہر کو درج ذیل اقدامات کی ہدایت دیتا ہے:

شوہر کو حکم ہے کہ وہ سب سے پہلے بیوی سے بات چیت کرے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ یہ عمل ممکنہ طور پر کئی ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے تاکہ مسئلے کو پرامن طور پر حل کیا جا سکے۔ اگر بیوی کی طرف سے نشوز کا رویہ برقرار رہے تو پھر شوہر اس کے ساتھ ہر قسم کے تعلق کو ختم کرے تاکہ زوجہ کو مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا جا سکے۔ اس دوران میں دونوں فریقین کو ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ اگر بیوی کی سرکشی برقرار رہے اور دونوں میں سے کوئی علیحدگی اختیار نہ کرے تو نکاح کو بچانے کی آخری کوشش کے طور پر شوہر کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ بیوی کو جسمانی سزا دے سکتا ہے۔ لیکن یہ اجازت کچھ اہم شرائط کے ساتھ مشروط ہے، جنھیں سمجھنا ضروری ہے۔

اول، جسمانی سزا کے اختیار کا استعمال صرف ایک اصلاحی اقدام کے طور پر جائز ہے، بالکل اسی طرح جیسے والدین یا استاد کسی بچے کی نافرمانی پر ہلکی سرزنش کرتے ہیں۔ یہ سزا اس حد تک محدود ہونی چاہیے کہ اس کے نتیجے میں جسم پر کوئی نشان یا زخم نہ آئے، ورنہ یہ فعل جرم کے زمرے میں آتا ہے اور سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت واضح ہے۔ ایک حدیث کے مطابق، آپ نے فرمایا کہ بیوی پر جسمانی سزا ایسی نہ ہو کہ اس کے جسم پر کوئی نشان یا زخم آئے ۔(ابن ماجہ، رقم 1851)

دوم، جسمانی طاقت کے استعمال کی اجازت ایک آپشن ہے، یہ کوئی فرض عمل نہیں۔ اس لیے اگر کسی معاشرے میں یہ محسوس کیا جائے کہ مرد اس اجازت کا غلط استعمال کر رہے ہیں تو حکومتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قوانین بنا کر مردوں سے یہ حق مکمل طور پر واپس لے لیں۔

سوم، شوہر جسمانی سزا کا حق صرف اس وقت استعمال کر سکتا ہے، جب اس بات کا حقیقت پسندانہ امکان ہو کہ یہ اقدام بیوی کی واضح سرکشی کو دور کر کے ازدواجی رشتہ بحال کر سکے گا۔ یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا مرد کی طرف سے ایک ایسی بیوی کو جسمانی سزا دینا جو نشوز اور سرکشی میں بہت بڑھی ہوئی ہو، مسئلے کو مزید خراب کر کے طلاق کے امکانات کو بڑھا نہیں دے گا؟ قرآن ہر زمانے اور ہر تہذیب کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ تاریخ میں یا موجودہ دور میں کچھ ثقافتی اور تہذیبی حالات ایسے ہو سکتے ہیں جہاں جسمانی طاقت کے محدود اور متعین استعمال سے بیوی کی سرکشی کو دور کر کے ازدواجی تعلق کو بچایا جا سکتا ہو۔

اگر شوہر کی طرف سے نشوز ہو تو قرآن (النساء 4 :128-130) اس کے بارے میں عورت کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عورت کو ہدایت دی ہے کہ وہ مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کرے۔ اگر مسئلہ بات چیت یا مفاہمت کے ذریعے سے حل نہ ہو اور شوہر اپنی سرکشی پر قائم رہے تو عورت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شوہر سے علیحدگی اختیار کرے۔ تاہم، یہ کہیں تجویز نہیں کیا گیا کہ عورت شوہر کو جسمانی سزا کے ذریعے سے راہ راست پر لائے۔ اس کی درج ذیل وجوہات ہیں:

اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ مرد اور عورت، دونوں اس کی نظر میں برابر ہیں۔ تاہم، نکاح کے ادارے میں، جہاں مرد اور عورت شوہر اور بیوی کے کردار اختیار کرتے ہیں، شوہر کو بیوی پر ایک درجہ فضیلت دی گئی ہے۔ اس کی وجوہات پہلے بیان کی جا چکی ہیں۔ قرآن نکاح کو ایک ادارہ سمجھتا ہے اور یہ حکم دیتا ہے کہ اس ادارے کو بھی اسی طرح کے اصولوں اور قوانین کے تحت چلایا جائے جیسا کہ دیگر ادارے چلائے جاتے ہیں۔

اس سیاق میں، جیسے ایک فوج میں سینئر رینک رکھنے والا میجر جونیئر رینک رکھنے والے کیپٹن کو سرزنش کر سکتا ہے، لیکن اس کے برعکس نہیں ممکن نہیں ہوتا یا جیسے ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) مینجنگ ڈائریکٹر کو تنبیہ کر سکتا ہے، لیکن اس کے برعکس ممکن نہیں، اسی طرح نکاح کے ادارے میں بھی عمومی طور پر شوہر بیوی کو سرزنش کر سکتا ہے، لیکن بیوی شوہر کو نہیں۔

اب ایک متبادل منظرنامہ پر غور کریں۔ اگر اعلیٰ رینک رکھنے والا افسر بدتمیزی کرے تو جونیئر رینک والا افسر اسے سرزنش نہیں کر سکتا، لیکن وہ اس ادارے سے مستعفی ہونے کی آزادی رکھتا ہے۔ اسی طرح، اگر شوہر نشوز (سرکشی) کا مرتکب ہو اور اپنا رویہ درست نہ کرے تو بیوی کو حق حاصل ہے کہ وہ شوہر کو چھوڑ دے یا نکاح کے تعلق سے نکل جائے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا بہ خوبی علم تھا کہ جسمانی سزا کے استعمال کی اجازت، جو کسی بھی زخم یا نشان کے بغیر ہو، صرف غیر معمولی حالات میں ایک استثنائی اقدام کے طور پر دی گئی ہے۔ آپ کو یہ بھی علم تھا کہ بہت سے مرد اس اجازت کا غلط استعمال کر سکتے ہیں اور گھریلو تشدد کو جائز قرار دینے کی کوشش کریں گے۔ اسی لیے آپ نے ہمیشہ خواتین پر تشدد کے خلاف وعظ کیا۔ مثال کے طور پر، ایک حدیث میں روایت ہے:

”اپنی عورتوں کو نہ مارو اور ان کے ساتھ بدتمیزی نہ کرو۔“

(ابوداؤد، رقم 2144)

ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا:

”تم میں سب سے بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔“

(سنن ترمذی، رقم 1162)

اگلے سوالات کی طرف بڑھنے سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ جب بھی میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں سے پردہ، حجاب، اختلاطِ مرد و زن، موسیقی اور فنونِ لطیفہ کے حوالے سے اسلامی احکام کے بارے میں گفتگو کرتا ہوں تو عمومی طور پر ان کا جواب ان چیزوں کے فوائد اور نقصانات پر ایک طویل تقریر سے شروع ہوتا ہے۔ پردے، حجاب اور صنفی علیحدگی کے فوائد اور موسیقی و فنون کے نقصانات پر دلائل دیے جاتے ہیں۔ میں ہمیشہ اس مرحلے پر وضاحت کرتا ہوں کہ میری اصل جستجو ان سماجی، اخلاقی اور ثقافتی فوائد یا نقصانات کے بارے میں نہیں ہے۔ میری بنیادی تلاش یہ جاننے کی ہے کہ ان معاملات میں خدا کے احکامات کیا ہیں اور ان کی اجازت یا ممانعت کس حد تک واضح کی گئی ہے۔

سوال 10: کیا اسلام موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کو ممنوع قرار دیتا ہے؟

اہم نوٹ: اس موضوع پر حوالہ جات کے ساتھ تفصیلی جوابات لیے غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ کے یوٹیوب چینل پر موجود ویڈیو سیریز ” 23 اعتراضات کے جواب میں“ میں ”غنا اور موسیقی“ دیکھیے۔

اسلام میں کسی چیز کو ممنوع یا حرام قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ یا تو قرآن میں صریحاً ممنوع ہو یا اصولی طور پر قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہو۔ مثال کے طور پر قرآن تمام غیر ازدواجی جنسی تعلقات کو واضح الفاظ میں حرام قرار دیتا ہے۔یہ صریح ممانعت ہے۔ اصولی ممانعت کی مثال شراب نوشی ہے۔ قرآن نے نشہ آور اشیا کو حرام قرار دیا ہے، اس اصول کی روشنی میں ہر نشہ آور چیز—چاہے وہ پینے، سموکنگ یا انجکشن کے ذریعے سے استعمال کی جائے—کم یا زیادہ مقدار میں ممنوع قرار پاتی ہے۔ اسی طرح، قرآن میں ظلم کی اصولی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ لہٰذا ہر وہ عمل جو کسی بھی طرح کے ظلم کا سبب بنے، ممنوع ہے۔جہاں تک موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کا تعلق ہے، قرآن میں کہیں بھی موسیقی، موسیقی کے آلات یا کسی اور قسم کے فن کو صریحاً یا اصولی طور پر ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔

ذخیرۂ حدیث میں موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کی ممانعت موجود نہیں

جہاں تک احادیث کا تعلق ہے، ایسی کوئی مستند حدیث موجود نہیں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیقی کے آلات پر مکمل پابندی عائد کی ہو۔ اس کے برعکس، کئی مستند احادیث موسیقی اور گانے بجانے کی اجازت پر دلالت کرتی ہیں۔ ان احادیث کے مطابق بعض موقعوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کی ازواج مطہرات اور صحابۂ کرام نے گانے والے مرد و خواتین کو سنا ہے۔ مزید یہ کہ کئی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادیوں، عید اور دیگر تہواروں پر گانے بجانے کی ترغیب دی ہے۔ اگرچہ کئی احادیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیقی کے ممکنہ نقصانات کے بارے میں اپنے ماننے والوں کو خبردار کیا، لیکن آپ نے اسے قطعی طور پر ممنوع قرار نہیں دیا۔ ذیل میں کچھ مثالیں پیش کی جاتی ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک گانے والی کو سنا۔ گانے کے اختتام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیقی اور گانے کے ممکنہ نقصانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ” اس کے نتھنوں میں شیطان پھونکیں مار رہا ہے۔“ (مسند احمد، رقم 15720)

ایک گانے والی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کے سامنے گانا گایا۔ (مسند احمد،رقم 2311)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک جنگ میں مسلمانوں کی فتح کے بعد لوگوں نے خوشی کے اظہار میں گانے گائے اور رقص کیا ۔(سنن کبریٰ،رقم 4236)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو ایک شادی میں جاتے وقت تاکید کی کہ تقریب کے لیے کسی گانے والے کا انتظام کیا جائے۔ (سنن ابن ماجہ، رقم 1900)

عید کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اعتراض کرنے کے باوجود گانا گانے کی ترغیب دی اور موسیقی کو قبول کیا ۔ (بخاری،رقم 952)

ایک غلط فہمی: دف کے علاوہ دیگر آلات موسیقی ممنوع ہیں۔

مذکورہ بالا احادیث میں اکثر گلوکاروں کے ساتھ دف کا ذکر آیا ہے۔ اس وجہ سے کئی مسلم علما نے یہ راے قائم کی کہ صرف دف کا استعمال جائز ہے، جب کہ دیگر آلات موسیقی ممنوع ہیں۔ تاہم، اس موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن یا حدیث میں کوئی واضح حکم موجود ہو جو تمام آلات موسیقی کو حرام قرار دے اور دف کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دے۔ لیکن قرآن یا حدیث میں ایسی کوئی نص موجود نہیں ہے۔ لہٰذا صرف دف کے سوا دیگر آلاتِ موسیقی کو حرام قرار دینے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ مزیدبرآں، ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوانی کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں۔ اس وقت آپ کو نبوت عطا نہیں ہوئی تھی۔ اس واقعے میں اللہ نے آپ کو کسی گناہ سے بچانے کے لیے ایک شادی کی تقریب میں موسیقی، دف اور دیگر آلات موسیقی سننے میں مشغول رکھا۔ یہ واقعہ اس تصور کو رد کرتا ہے کہ دف کے سوا دیگر تمام آلات موسیقی کا استعمال گناہ ہے۔ اگر موسیقی کے آلات بہ ذاتِ خود گناہ کے زمرے میں آتے تو اللہ تعالیٰ انھیں کسی کو گناہ سے بچانے کے لیے استعمال نہ کرتا۔ اس حدیث کا ایک مختصر تجزیہ پیش ہے۔

صحیح ابن حبان (رقم 6272) میں مروی اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک صحابی کو اپنی جوانی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں، جو آپ کو نبوت ملنے سے بہت پہلے پیش آیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ دو مواقع پر آپ نے ایک گناہ کا ارادہ کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے محفوظ رکھا۔ آپ نے وضاحت کی کہ دو مختلف مواقع پر آپ ایسی محفل میں جانے کے لیے نکلے، جہاں مکہ کے نوجوان جایا کرتے تھے۔ شاید آپ کا اشارہ ایسی محفلوں کی طرف تھا جہاں عام طور پر شراب نوشی اور جوا چلتا اور عورتیں دستیاب ہوتیں۔ اس حدیث میں آپ نے واضح فرمایا کہ دونوں مواقع پر آپ کے راستے میں شادی کی تقریب ہو رہی ہوتی اور اس میں موسیقی اور گانا چل رہا ہوتا۔ گانے اور موسیقی کی آواز سن کر آپ وہیں رک جاتے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہر موقعے پر آپ موسیقی سننے میں مشغول ہو گئے یہاں تک کہ آپ کو نیند آ گئی اور آپ ان محفلوں تک پہنچ ہی نہ سکے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو گناہ سے بچا لیا۔یہ بات اہم ہے کہ آپ نے وضاحت سے بتایا کہ اس تقریب میں دف اور دوسرے مزامیر بجاے جا رہے تھے۔

مذکورہ حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موسیقی اور گانے بنیادی طور پر نہ قرآن میں صراحت سے یا اصولی طور پر حرام قرار دیے گئے ہیں اور نہ ہی احادیث میں۔ حقیقت یہ ہے کہ متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گانا گانے اور دف اور دیگر آلات موسیقی بجانے کی اجازت دی ہے۔

قرآن اور احادیث مبارکہ میں کچھ ایسے ارشادات ہیں جنھیں بعض طبقات موسیقی اور تمام فنون کی ممانعت کے حق میں پیش کرتے ہیں۔ لیکن اگر ان آیات اور احادیث کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ نصوص موسیقی اور فنون کے غیر شرعی اور غیراخلاقی استعمال سے منع کرتی ہیں، نہ کہ ان پر مکمل پابندی عائد کرتی ہیں۔ آئیں ان قرآنی آیات اور احادیث کا مختصر تجزیہ کریں۔

الف ۔ قرآن کی وہ آیات جنھیں موسیقی اور گانے کی ممانعت کے لیے بہ طور دلیل پیش کیا جاتا ہے:

قرآن میں بنیادی طور پر تین ایسی آیات ہیں جنھیں عام طور پر موسیقی کے حرام ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر ان آیات کو گہرائی سے سمجھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ان آیات میں موسیقی اور فنون کے غیر اخلاقی استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، نہ کہ ان پر کلی پابندی لگائی گئی ہے۔

1۔ سورۂ لقمان کی آیت 6 میں ارشاد ہوتا ہے:

”اِس کے برخلاف لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو فضولیات (لہو الحدیث) کے خریدار بنتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بغیر کسی علم کے گم راہ کریں اور اُس کی آیتوں کا مذاق اڑائیں۔ یہی ہیں کہ جن کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔“

لفظ ’لَہْو‘ان تمام چیزوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو انسان کو مشغول کر لیتی یا تفریح فراہم کرتی ہیں، جیسے شاعری، کھیل، موسیقی، رقص، یا کوئی بھی ایسی سرگرمی جو انسان کو مصروف رکھے۔ بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام موسیقی کو حرام قرار دیتا ہے اور ان کے نزدیک قرآن کی اس آیت میں ’لَہْو‘ کا مطلب خاص طور پر موسیقی ہے۔ تاہم، یہ استدلال درست نہیں کیونکہ قرآن میں ’لَہْو‘مختلف مقامات پر استعمال ہوا ہے، جیسے سورۂ انعام کی آیت 32، سورۂ عنکبوت کی آیت 64 ، سورۂ انبیاء کی آیت 17 اور سورۂ اعراف کی آیت 51 اور ان تمام مقامات پر ’لَہْو‘ کا مفہوم تفریح اور مشغولیت ہے، نہ کہ لازمی طور پر موسیقی یا گانا۔ اگرچہ موسیقی ایک قسم کی مشغولیت ہو سکتی ہے، لیکن قرآن نے ’لَہْو‘کو صرف موسیقی کے لیے مخصوص نہیں کیا، بلکہ اسے ان تمام امور کے لیے عام رکھا ہے جو انسان کو دین اور مذہبی فرائض سے غافل کر سکتے ہیں۔یہ حقیقت اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب ہم مفسرین کی تشریحات کا مطالعہ کرتے ہیں۔ مشہور مفسرین جیسے امام طبری، زمخشری حتیٰ کہ مولانا مودودی—جنھوں نے خود موسیقی کو ممنوع قرار دیا ہے—نے بھی لفظ ’لَہْو‘ کو ان تمام چیزوں کے طور پر بیان کیا ہے جو انسان کو مشغول اور محظوظ کرتی ہیں۔ انھوں نے اسے صرف موسیقی تک محدود نہیں کیا۔

یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مکہ کے مشرک سرداروں نے قرآن کی تبلیغ سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے گانے اور رقص کا سہارا لیا۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ یہ خاص آیت گانے اور رقص کی طرف اشارہ کرتی ہے تو یہ واضح طور پر ان فنون کے غلط استعمال کی مذمت کر رہی ہے، نہ کہ ان پر مکمل پابندی کا اعلان کر رہی ہے۔ آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی فن، اگر اسے لوگوں کو دینی فرائض سے غافل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا یہ استعمال ناجائز ہوگا۔ درحقیقت، قرآن اعلان کرتا ہے کہ کوئی بھی عمل، جو بہ ذات خود جائز ہو، اگر وہ دینی ذمہ داریوں میں رکاوٹ بنے تو وہ عمل ناجائز ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر تجارت کو لیں، جو اسلام کے مطابق ایک مکمل طور پر جائز عمل ہے، لیکن سورۂ جمعہ کی آیت 11 میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر تجارت کسی شخص کو اس کے دینی فرائض سے غافل کرے تو ایسی تجارت گناہ کا باعث بن جاتی ہے۔

مختصر یہ کہ یہ آیات خاص طور پر موسیقی یا گانے کو زیر بحث نہیں لاتیں، بلکہ کسی بھی ایسی سرگرمی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو مشغولیت یا تفریح کا ذریعہ بنے۔ تاہم، اگر کوئی ’لَہْو‘ کا مطلب موسیقی اور گانا بھی لے، تب بھی یہ آیت فنون پر مکمل پابندی کا اعلان نہیں کرتی، بلکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ موسیقی، گانا یا فنون اس وقت مسئلہ بن جاتے ہیں، جب لوگ ان میں اس حد تک مشغول ہو جائیں کہ اپنے دینی فرائض سے غافل ہو جائیں۔

2۔ بنی اسرائیل ، آیت 64

یہ آیت اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ شیطان کو یہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی آواز کے ذریعے سے لوگوں کو بہکا سکتا ہے۔ آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

”اِن میں سے جس پر تیرا بس چلے تو اپنے غوغا (صوتک) سے اُنھیں گھبرا لے، اُن پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا، اُن کے مال اور اولاد میں اُن کا ساجھی بن جا اور اُن سے وعدے کر لے۔ حقیقت یہی ہے کہ شیطان جو وعدے اُن سے کرتا ہے، دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔“

عربی میں ”آواز “کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ”صوت“ ہے، جو لفظی طور پر ”آواز“ ہی کے معنی رکھتا ہے۔

وہ لوگ جو موسیقی کو اسلام میں ممنوع سمجھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آیت میں ”شیطان کی آواز“ سے مراد موسیقی اور گانا ہے۔ تاہم، یہ تفسیر درست نہیں، کیونکہ:

اول، عربی زبان کا ابتدائی طالب علم بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ آیت میں استعمال ہونے والے لفظ، اس کے جملے کی ساخت اور سیاق و سباق، سب یہ واضح کرتے ہیں کہ یہاں شیطان کی آواز سے مراد اس کی وسوسہ اندازی ہے، جو لوگوں کو برائی کی طرف مائل کرتی ہے۔ دوم، مشہور اسلامی مفسرین جیسے امام طبری، زمخشری، شاہ عبدالقادر اور مولانا مودودی نے اس لفظ کا ترجمہ گانے یا موسیقی کے طور پر نہیں کیا ہے۔

3۔ سورۂ نجم آیات59-61

یہ آیات ان لوگوں کو مخاطب کرتی ہیں جو قرآن کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس دوران میں تفریحی سرگرمیوں میں گہرائی سے مشغول رہتے ہیں۔ بہت سے مسلمان اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اسلام میں موسیقی اور گانے ممنوع ہیں، اور وہ اس آیت میں استعمال ہونے والے عربی لفظ ’سامدون ‘کو ”تفریح“کے طور پر موسیقی اور گانے کے لیے خاص قرار دیتے ہیں۔ تاہم، کسی بھی معروف مترجم نے اس لفظ کو واضح طور پر موسیقی اور گانے کے معنی میں بیان نہیں کیا۔ لفظ ’سامدون ‘کے لغوی معنی کسی بھی تفریحی سرگرمی کو بیان کر سکتے ہیں، جن میں کھیل کود بھی شامل ہے۔

دوم، اگر بر سبیل بحث کے طور پر یہ مان بھی لیا جائے کہ قرآن اس آیت میں ”تفریح“ کے ذریعے سے موسیقی اور گانے کی طرف اشارہ کرتا ہے، تب بھی یہ واضح کرتا ہے کہ قرآن سے غفلت برتتے ہوئے اور اس کا مذاق اڑاتے ہوئے موسیقی اور گانے میں مشغول ہونا ممنوع ہے۔ لہٰذا قرآن اس بات پر زور دیتا ہے کہ کوئی بھی سرگرمی، چاہے وہ تجارت ہو یا فنون، اگر دینی فرائض کو نظرانداز کرتے ہوئے انجام دی جائے تو وہ حرام ہو جاتی ہے۔یہ آیات موسیقی اور فنون پر مکمل پابندی کا اعلان نہیں کرتیں۔

ب ۔ موسیقی اور گانے کی ممانعت کو ثابت کرنے کے لیے پیش کی گئی بعض احادیث کا تجزیہ:

بہت سی روایات ایسی ہیں جنھیں اس دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ موسیقی کے تمام اقسام کے آلات ممنوع ہیں۔ آئیے، ان احادیث کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

پہلی حدیث

روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو جنسی تعلقات، ریشم، شراب اور موسیقی کے آلات کو اپنے لیے حلال کر لیں گے۔“ ( صحیح بخاری ، رقم 5590)

یہ حدیث ہر اقسام کے جنسی تعلقات، ریشم اور موسیقی کے آلات کی ممانعت نہیں کرتی، بلکہ صرف ان اقسام کی ممانعت کرتی ہے جو اسلام میں ناجائز سمجھی گئی ہیں۔ آئیے، اس کی وضاحت کرتے ہیں:

یہ حدیث بیان کرتی ہے کہ کچھ لوگ چار چیزوں کو حلال کر لیں، جب کہ وہ درحقیقت اسلام میں ناجائز ہیں۔ اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا یہ چاروں اشیا مکمل طور پر اسلام میں حرام ہیں یا صرف مخصوص حالات میں حرام ہیں۔

الف۔ نشہ آور اشیا : قرآن نے تمام نشہ آور اشیا کو سختی سے حرام قرار دیا ہے، جیسا کہ سورہ مائدہ کی آیت 90 میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا حدیث میں اس بات کی پیشین گوئی کی گئی ہے کہ لوگ کھلے عام ان نشہ آور اشیا کا استعمال کریں گے جو اسلام میں قطعی طور پر حرام ہیں۔

ب۔ جنسی تعلقات: اسلام تمام قسم کے جنسی تعلقات کو ممنوع قرار نہیں دیتا۔ شوہر اور بیوی کے درمیان جنسی تعلقات نہ صرف جائز ہیں، بلکہ ان کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس لیے، حدیث یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ تمام اقسام کے جنسی تعلقات کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور لوگ انھیں اپنے طور پر حلال بنائیں گے۔ بلکہ ، حدیث ان غیر شرعی تعلقات کی نشان دہی کرتی ہے جو اسلام میں سختی سے منع کیے گئے ہیں، جیسے نکاح کے بغیر جنسی تعلقات اور یہ پیشین گوئی کرتی ہے کہ لوگ ان غیر شرعی تعلقات کو حلال سمجھنے لگیں گے۔

ج۔ ریشم: اسلام نے ریشم کو خواتین کے لیے مکمل طور پر جائز قرار دیا ہے، جب کہ مردوں کے لیے اسے ممنوع کیا گیا ہے۔ حدیث اس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتی کہ ریشم بہ ذات خود تمام مسلمانوں کے لیے حرام ہے اور لوگ اسے حلال بنا لیں گے۔ بلکہ، حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مرد کھلے عام ریشم پہنیں گے، جو ان کے لیے اسلامی احکام کے تحت ممنوع ہے۔

د۔ موسیقی کے آلات: جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، قرآن و حدیث میں موسیقی کے آلات کو مکمل طور پر ممنوع قرار نہیں دیا گیا، بلکہ ان کا ناجائز استعمال ممنوع ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی پیشین گوئی کی گئی ہے کہ لوگ کھلے عام ایسے گانے اور موسیقی سنیں گے، جن میں وہ عناصر شامل ہوں گے جو اسلام میں حرام قرار دیے گئے ہیں، مثلاً فحش مواد، دین سے غفلت یا اخلاقی فساد پیدا کرنے والے عناصر۔

دوسری حدیث

ایک اور حدیث جو مسند احمد (رقم 4535) میں روایت ہوئی ہے، بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹنی پر سفر کر رہے تھے کہ آپ نے کسی کو بانسری بجاتے ہوئے سنا۔ آپ نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے ساتھی سے فرمایا کہ وہ بانسری کی آواز سنتا رہے اور انھیں مطلع کرے جب آواز ختم ہو جائے۔ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام میں موسیقی کے آلات حرام ہیں، وہ اس حدیث کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بانسری کی آواز سن کر اپنے کان بند کر لیے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کے آلات ممنوع ہیں۔

تاہم، یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بانسری واقعی ایک حرام آلہ تھا اور اس کی آواز سننا گناہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی کو کیوں اجازت دی کہ وہ اس آواز کو سنتا رہے؟ آپ نے یہ کیوں نہیں فرمایا کہ وہ بھی اپنے کان بند کر لے اور یہ کہ وہ آگے چلتے جائیں اور اسی وقت کان سے انگلی ہٹائیں گے، جب توقع ہو کہ اتنا دور چلے جانے کے بعد آواز آنا بند ہو گئی ہو گی؟ اور اگر بانسری کا بجانا گناہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بانسری بجانے والے کو روکنے کی کوشش کیوں نہ کی؟ کیا آپ نے مدینہ میں یہ اعلان کیا کہ بانسری حرام ہے؟

ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے۔

چونکہ احادیث میں سیاق و سباق کی تفصیلات اکثر موجود نہیں ہوتیں، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بانسری سے کیوں پریشان ہوئے۔ ایک زیادہ معقول بات یہ ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ، جو عام طور پر اپنے سفروں میں قرآن کی تلاوت اور عبادت میں مشغول رہتے تھے، بانسری کی آواز کو اپنی یک سوئی میں خلل ڈالنے والی چیز سمجھتے ہوں، اور اسی لیے آپ نے اپنے کان بند کیے ہوں۔

تیسری، چوتھی اور پانچویں حدیث

دیگر احادیث (مسند احمد، رقم 8783، مسند احمد، رقم 7566، سنن کبریٰ، رقم 9483) میں بیان ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹیوں کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا، خاص طور پر وہ گھنٹیاں جو مویشیوں کی گردنوں میں لٹکائی جاتی ہیں۔ آپ نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ فرشتے گھنٹیوں سے دور رہتے ہیں۔ ان احادیث کو بعض لوگ موسیقی کے آلات کی ممانعت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تاہم، ان روایات کے تجزیے سے درج ذیل نکات واضح ہوتے ہیں:

اول، گھنٹی کو عمومی طور پر ایک مکمل موسیقی کے آلے کے طور پر نہیں سمجھا جاتا۔دوم، یہ احادیث، پچھلی بیان کردہ احادیث کی طرح، غالباً ایسے مواقع کی عکاسی کرتی ہیں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یک سوئی میں خلل آیا یا آپ کی عبادت میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ ان روایات کا مقصد تمام موسیقی کے آلات کی مکمل ممانعت کا اعلان معلوم نہیں ہوتا، بلکہ یہ ان مخصوص حالات کی نشان دہی کرتی ہیں جہاں آپ نے ذاتی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

ج۔ زندہ چیزوں کی تصاویر اور مجسمے بنانے کی ممانعت

اسلام اور فن کے حوالے سے صحیح نقطۂ نظر یہ ہے کہ اسلام فنونِ لطیفہ کو کلیتاً ممنوع قرار نہیں دیتا، بلکہ وہ ان فنون کو ناپسند کرتا ہے، جن میں ایسے عناصر شامل ہوں جو شریعت کے اصولوں کے خلاف ہوں۔ یہی اصول ان احادیث پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو زندہ چیزوں کی تصاویر یا مجسمے بنانے پر پابندی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ احادیث خاص طور پر بخاری (رقم 5951، 5957، 5954) اور مسلم (رقم 2109، 2110) میں مذکور ہیں۔

اگر ان احادیث کو قرآن کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے—خاص طور پر سورۂ اعراف کی آیت 33 کی روشنی میں—تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصاویر اور مجسمے بنانے کی مذمت اس وقت کی جب ساتویں صدی کے عرب میں ان کا بنیادی مقصد بت پرستی تھا۔ ان تصاویر اور مجسموں کو دیوتا یا معبود کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جو توحید کی بنیادی تعلیم کے خلاف تھا۔ البتہ، اگر تصویر کشی اور مجسمہ سازی بت پرستی کے ارادے سے نہ کی جائے اور ان میں کوئی ایسی چیز شامل نہ ہو جو شریعت کے خلاف ہو تو اسلام ان کے خلاف کسی قسم کی پابندی نہیں عائد کرتا۔

د۔ موسیقی، گانے اور دیگر فنون پر اخلاقی پابندیاں

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلام تمام فنونِ لطیفہ کو بعض اخلاقی شرائط کے تحت جائز قرار دیتا ہے تو وہ شرائط کیا ہیں؟

اگرچہ قرآن میں اخلاقیات کے اصول اور حلال و حرام کے حدود کا بار بار ذکر ملتا ہے، لیکن میں ایک خاص آیت—سورۂ اعراف کی آیت 33 —کا ذکر کروں گا جہاں یہ ہدایات نہایت جامع اور مختصر انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ اس آیت کی روشنی میں درج ذیل امور ممنوع قرار دیے گئے ہیں:

الف۔ نکاح سے باہر جنسی رویہ یا عمل کی ممانعت: خواہ وہ کسی گانے کے بول میں ہو، کسی فلم یا ڈرامے کے مکالمے میں، فن کاروں کے لباس میں یا ان کے باہمی تعاملات میں۔ اگر ان میں کسی بھی نوعیت کا جنسی پہلو شامل ہو یا جسمانی قربت کو فروغ دیا گیا ہو تو وہ اسلام کے اخلاقی اصولوں کے خلاف اور قطعی ممنوع ہے۔

ب۔ ناانصافی کی ممانعت: خواہ وہ کسی گانے کے الفاظ میں ہو یا کسی فلم کی کہانی میں، اگر کسی فن میں ظلم و زیادتی کو جائز ٹھہرایا گیا ہو یا اسے قابلِ ستایش قرار دیا گیا ہو تو وہ اسلام میں ممنوع ہے۔

ج۔ کسی کی زندگی، مال یا عزت کو نقصان پہنچانے کی ممانعت: اگر کسی فن کا کوئی پہلو کسی کی جان، مال، یا عزت کو ناجائز طور پر نقصان پہنچائے یا ایسے اعمال کی حوصلہ افزائی کرے تو ایسا فن مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔

د۔ اللہ کے ساتھ شرک کی ممانعت: اگر کسی فن میں شرک—یعنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، کئی خداؤں کی عبادت کی حمایت کرنا یا اسے خوب صورت بنا کر پیش کرنا—شامل ہو تو وہ اسلام کے عقیدۂ توحید کے منافی ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے۔

ہ۔ اللہ کے بارے میں جھوٹ بولنے کی ممانعت: کوئی بھی فن جو اللہ کے بارے میں جھوٹے تصورات پھیلائے، اس کی ذات یا صفات کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرے، یا اس کی تعلیمات کے خلاف گم راہ کن باتیں پیش کرے، وہ بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

پانچ مذکورہ ممانعتوں کے علاوہ، اگر کوئی بھی فن کسی دینی فریضے کی ادائیگی کو نظرانداز کرتے ہوئے اختیار کیا جائے یا اس سے لطف اندوز ہوا جائے تو وہ ناجائز شمار ہوگا، چاہے وہ فن ان حدود کے اندر ہی کیوں نہ آتا ہو جو شریعت نے متعین کی ہیں۔

لہٰذا مختصر یہ کہ قرآن و حدیث موسیقی یا کسی اور فن کو صریحاً ممنوع قرار نہیں دیتے۔ ان میں جو چیز ممنوع کی گئی ہے، وہ فنونِ لطیفہ کا غلط استعمال ہے۔ تمام فنونِ لطیفہ اسلام میں جائز ہیں، بشرطیکہ وہ شریعت کے طے کردہ اصولوں کے حدود میں رہیں اور ان میں کوئی ایسی چیز شامل نہ ہو جو اسلامی احکام کے خلاف ہو۔

سوال 11: کیا اسلام خواتین کے لیے لباس کا کوئی ضابطہ تجویز کرتا ہے اور کیا یہ ان کے سر یا چہرے کو ڈھانپنا لازم قرار دیتا ہے؟

اس سوال کا جواب تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

الف۔ سورۂ نور میں خواتین کے لباس کا ضابطہ: قرآن سورۂ نور کی مخصوص آیات میں خواتین کے لباس کے حوالے سے کچھ اصول بیان کرتا ہے۔ ان آیات کا مقصد خواتین کے لیے ایک ایسا ضابطہ فراہم کرنا ہے، جو ان کی عصمت اور عفت کی حفاظت کرے۔ تاہم، ان آیات میں چہرہ یا سر کو لازمی طور پر ڈھانپنے کا حکم موجود نہیں ہے۔

ب۔ سورۂ احزاب کی آیات: سورۂ احزاب کی بعض آیات کو پردے اور خواتین پر عائد سماجی پابندیوں کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم، اگر ان آیات کو سیاق و سباق کے ساتھ سمجھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ ہدایات خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے لیے تھیں اور عام مسلمان خواتین کے لیے ان میں صرف مخصوص حالات کے تحت عارضی ہدایات شامل ہیں۔ یہ ہدایات اسلام کے ابتدائی دور میں ایک خاص مشکل مرحلے کے پس منظر میں دی گئی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کو ایک شدید بہتان تراشی کی مہم کا سامنا تھا اور مدینہ کی گلیوں میں مسلم خواتین کو ہراسانی اور اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ان آیات کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سورۂ احزاب کی ایک قسم کی آیات خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے مخصوص تھیں اور عام خواتین کے لیے نہیں تھیں، جب کہ دوسری قسم کی آیات ایک غیر معمولی صورت حال میں عام خواتین کے لیے عارضی اقدام کی حیثیت رکھتی تھیں، جو ہر زمانے اور ہر جگہ کے لیے ایک مستقل پالیسی کے طور پر نہیں دی گئیں۔

آئیے، ان دونوں نکات کو یکے بعد دیگرے تفصیل سے بیان کریں۔

الف۔ سورۂ نور میں خواتین کے لباس کا ضابطہ

قرآن سورۂ نور (آیات 30-31) میں خواتین کے لباس کے ضابطے پر روشنی ڈالتا ہے۔ ان آیات میں مرد و زن کے باہمی تعلقات کو اخلاقی آلودگیوں سے پاک رکھنے کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔ اس سیاق میں قرآن مردوں اور عورتوں دونوں کو باوقار تعلقات کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن کی ہدایت ”اپنی نظریں نیچی رکھو “اس بات کا جامع بیان ہے کہ مرد و زن کو ایک دوسرے کو انتہائی احترام کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ”حفظ فروج“، یعنی اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو کا حکم دیا گیا ہے، جو ہر قسم کے جنسی رویے اور عمل سے اجتناب کی تاکید کرتا ہے۔

”حفظ فروج“ایک جامع اصطلاح ہے، جو درج ذیل دو پہلوؤں کو محیط ہے:

الف۔ نکاح کے بغیر کسی قسم کے جنسی، شہوانی یا قریبی تعلق کی ممانعت:

اسلام میں نکاح کو معاشرتی اور اخلاقی زندگی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے اور نکاح کے بغیر کسی بھی قسم کے جنسی یا شہوانی تعلقات کو قطعی طور پر ممنوع ٹھہرایا گیا ہے۔

ب۔ ایسا لباس جو شرم گاہوں کو نمایاں کرے، ممنوع ہے:

اسلام نے مردوں اور عورتوں، دونوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے جسم کے ان حصوں کو مکمل طور پر ڈھانپیں جنھیں شریعت نے’عورہ‘(ستر) قرار دیا ہے۔ مردوں اور عورتوں ، دونوں کے لیے ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا حصہ شرعی حدود میں آتا ہے، جب کہ خواتین کے لیے سینہ بھی اس زمرے میں شامل ہے۔ لہٰذا خواتین پر لازم ہے کہ وہ ایسے لباس پہنیں جو ان کے سینے اور شرم گاہوں کے ساتھ ساتھ ان کے ملحقہ حصوں کو مناسب طور پر ڈھانپیں۔

اوپر دیے گئے تجزیے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خواتین کے لیے کم از کم شرعی لباس وہ ہے جو گردن سے لے کر ٹخنوں تک ڈھانپتا ہو، جو نہ تو تنگ ہو اور نہ شفاف، تاکہ ان کی جسمانی ساخت نمایاں نہ ہو۔ اگر خواتین رضاکارانہ طور پر اپنے سر یا چہرے کو بھی ڈھانپنے کا انتخاب کرتی ہیں تو یہ ان کے تقویٰ اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ عمل یقیناً قابلِ تعریف ہے۔ البتہ، جہاں تک اللہ کے لازمی احکام کا تعلق ہے، وہ بنیادی شرعی حدود پر مشتمل ہیں، جیسا کہ سورۂ نور اور سورۂ احزاب کی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔

قرآن میں خواتین کے لیے ایک اضافی ہدایت سینے اور اس کے نزدیک پہنے جانے والے زیورات کے بارے میں وارد ہے۔ ایسے زیورات ان کے سینے کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ انھیں خصوصی طور پر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے سینے کے زیورات اور دیگر زینت کے ایسے حصوں کو اجنبیوں سے چھپائیں، سواے ان زیورات کے جو ہاتھ، پاؤں اور چہرے پر پہنے گئے ہوں۔ سورۂ نور (آیت 60) میں اس بات کی وضاحت بھی ہے کہ بڑی عمر کی خواتین کو یہ رعایت دی گئی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر اپنے بیرونی لباس کو اتار سکتی ہیں، بشرطیکہ ان کا مقصد اپنی زینت یا خوب صورتی کو نمایاں کرنا نہ ہو۔

سورۂ نور (آیت 31) میں ’بِخُمُرِهِنَّ‘کی ترکیب استعمال ہوئی ہے، جس کا ترجمہ عام طور پر ”سر کی اوڑھنی “کیا جاتا ہے۔ اسی لیے، اس آیت کو اکثر اس دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ چونکہ اللہ نے مسلم خواتین کو اپنے دوپٹے سے اپنے سینے کو ڈھانپنے کا حکم دیا، اس لیے یہ دوپٹہ پہلے ہی مسلم خواتین کے درمیان رائج تھا اور اسے اللہ کی طرف سے ایک فرض کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اس تشریح کے نتیجے میں بہت سے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ خواتین کے لیے ہر وقت سر کو ڈھانپنا ایک شرعی حکم ہے، حالاں کہ یہ درست نہیں ہے۔

یہ موقف کئی لحاظ سے کم زور ہے، کیونکہ:

اولاً، اگرچہ قرآن سورۂ نور کی آیت30 میں مردوں اور عورتوں کے باہمی میل جول کے آداب بیان کرتا ہے، لیکن یہ کہیں بھی واضح حکم نہیں دیتا کہ خواتین ہر وقت اپنے سر یا چہرے کو ڈھانپے رکھیں۔ قرآن کی کسی بھی آیت میں یہ الفاظ موجود نہیں کہ:

” ایمان والیو! تم پر لازم ہے کہ دوسروں کے ساتھ میل جول کے وقت اپنے سر یا چہرے کو ہر وقت ڈھانپے رکھو۔“

دوم، قرآن میں جب خواتین کو اپنے زیورات اور زینت کو ڈھانپنے کا حکم دیا گیا تو اس کے لیے عربی اصطلاح ’بِخُمُرِهِنَّ‘استعمال کی گئی۔ لیکن اس بات کا کوئی قطعی لسانی یا تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے کہ یہ اصطلاح صرف سر ڈھانپنے والی چادر کے لیے مخصوص ہے۔ لفظ ’خُمُر‘ عام طور پر کسی بھی قسم کی ڈھانپنے والی چیز کے لیے مستعمل ہے، چاہے وہ اوڑھنی ہو، چادر ہو یا کوئی اور کپڑا۔ اس آیت کے سیاق میں، اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین اپنے سینے کے زیورات کو ڈھانپنے کے لیے کسی بھی اوڑھنی یا پردہ کرنے والے کپڑے کا استعمال کریں۔اس کا معنی یہ نہیں کہ کوئی خاص کپڑا استعمال کیا جائے۔ لہٰذا اس آیت کی زیادہ معقول تشریح یہ ہے کہ اگر کسی خاتون نے زیورات یا زینت کی چیز پہنی ہو، خاص طور پر سینے اور اس کے آس پاس تو اسے چاہیے کہ وہ انھیں چادر، اوڑھنی یا کسی اور کپڑے سے ڈھانپ لے۔7

خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے احکام کے مطابق، خواتین کے لباس کے حوالے سے بنیادی شرط یہ ہے کہ ان کا لباس گردن سے لے کر ٹخنوں تک جسم کو مکمل طور پر ڈھانپے اور یہ لباس ایسا ہو جو نہ تو تنگ ہو اور نہ شفاف۔ یہی اسلام کا کم از کم اور لازمی تقاضا ہے۔ اگر کوئی خاتون اپنے سر یا چہرے کو ڈھانپنے کا اضافی قدم اٹھاتی ہے تو یہ اس کے تقویٰ اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے، اور یقیناً یہ عمل مستحسن ہے۔ تاہم، جہاں تک اللہ کے لازمی احکام کا تعلق ہے، وہ سورۂ نور (آیات 30-31) میں بیان کردہ بنیادی شرائط پر مشتمل ہیں۔ اگر کوئی خاتون ایسے زیورات یا زینت کی چیز پہنے ہوئے ہو جو جسم کے ساتر حصوں، خاص طور پر سینے، کو نمایاں کریں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان زیورات کو عوامی مقامات پر جاتے وقت چھپائے رکھے۔ البتہ، جو زیورات چہرے، ہاتھوں، اور پاؤں پر ہوں، انھیں چھپانے کا حکم نہیں ہے۔

ب۔ سورہ احزاب کی آیات

اس بحث کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

الف۔ وہ ہدایات جو خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے لیے تھیں۔

ب۔ وہ ہدایات جو عام مسلمان خواتین کے لیے غیر معمولی حالات میں عارضی طور پر دی گئیں۔

میں یہاں ان دونوں نکات کی مختصر وضاحت پیش کرتا ہوں۔

الف۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے مخصوص ہدایات:

سورہ احزاب کی چند آیات، خصوصاً32-33 اور53، اس وقت نازل ہوئیں جب اسلام کی جدوجہد اپنے عروج پر تھی۔ اس دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے آپ کے گھرانے کو نشانہ بناتے ہوئے آپ کی ازواج کے خلاف شدید بہتان تراشی کی مہم شروع کی۔ مزید برآں، مدینہ میں بعض منافقین نے مسلم خواتین کو ہراساں کرنا شروع کر دیا تھا۔

ان آیات میں سیاق و سباق کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے چند اضافی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان پابندیوں کو واضح طور پر عام مسلمان خواتین پر لاگو نہیں کیا گیا۔ ان اضافی پابندیوں کے نفاذ سے پہلے، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے دریافت کیا کہ اگر وہ ان اضافی ذمہ داریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو وہ خوش اسلوبی سے آپ سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہیں اور عام مسلمان خواتین کی طرح زندگی گزار سکتی ہیں۔ تاہم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے ان اضافی ذمہ داریوں کو قبول کیا۔ یہ اضافی پابندیاں درج ذیل تھیں:

وہ زیادہ تر وقت اپنے گھروں میں رہیں اور کسی مرد رشتہ دار کے بغیر باہر نہ نکلیں۔

اگر انھیں کسی ایسے مرد سے بات کرنا ہو جو ان کا قریبی رشتہ دار نہ ہو تو وہ پردے کے پیچھے سے بات کریں اور نرم لہجہ اختیار کرنے کے بجاے سنجیدہ لہجہ اپنائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ان کے لیے نکاح کرنا ممنوع قرار دیا گیا۔

اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کسی مہمان کو کھانے کے لیے بلایا جائے تو وہ اسی وقت آئیں جب کھانے کا وقت ہو اور کھانے کے بعد فوراً واپس چلے جائیں۔ مہمانوں کو غیر ضروری طور پر زیادہ دیر بیٹھنے سے منع کیا گیا۔

بہت سے علما نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات پر عائد کی جانے والی اضافی پابندیاں تمام مسلمان خواتین کے لیے مثالی اقدار سمجھی جانی چاہییں۔ یہ نقطۂ نظر غلط ہے کیونکہ قرآن نے واضح طور پر ان پابندیوں کو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کےلیے مخصوص کیا ہے اور یہ احکامات ایک غیر معمولی اور منفرد حالات کے تحت دیے گئے تھے۔

اسلام کے کئی جید علما اس بات پر متفق ہیں کہ یہ پابندیاں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے تھیں اور عام مسلمان خواتین کے لیے نہیں تھیں۔ اس راے کی تائید ابتدائی اسلامی مفکرین، جیسے امام احمد، ابو داؤد، ابن قتیبہ، قاضی عیاض، ابن بطال اور ہشام بن کلبی نے کی ہے۔ اسی طرح، دور جدید کے علما جیسے محمد عبدہ، محمد رشید رضا، محمد سیاس اور عبد الحلیم بھی یہی موقف رکھتے ہیں۔

قرآن نے واضح کیا ہے کہ یہ اضافی پابندیاں عام مسلمان خواتین کے لیے نہیں، بلکہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے لیے تھیں۔ موجودہ دور کے اسلامی اسکالر ڈاکٹر عامر گزدر نے اپنی کتاب ”احکام الحجاب والاختلاط“میں ثابت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے کوئی ایسی شہادت موجود نہیں، جو یہ ظاہر کرے کہ عام مسلمان خواتین نے ان آیات کو اپنی مثالی اقدار کے طور پر لیا ہو اور نہ ہی ایسی کوئی دلیل ہے کہ اس وقت ان پابندیوں کو عام خواتین پر لاگو کیا گیا ہو۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، احادیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ روایات کی روشنی میں قرآن کو سمجھا جائے۔ کتبِ حدیث میں ایک روایت ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات ایک نابینا صحابی کے سامنے آنے سے گریز کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، لیکن ایسی احادیث کو اکثر دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ مسلم خواتین کو اپنے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کسی کے سامنے نہیں آنا چاہیے، حالاں کہ قرآن اس قسم کا کوئی حکم نہیں دیتا۔جب ان روایات کو سورۂ احزاب کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ واقعات عام مسلمان خواتین کے لیے مثالی اقدار کی نمایندگی نہیں کرتے۔ درحقیقت، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی وہ کوششیں تھیں جن کے ذریعے سے وہ ان مخصوص اضافی پابندیوں پر عمل پیرا ہو رہی تھیں جو صرف ان کے لیے مخصوص تھیں اور عام خواتین پر لاگو نہیں تھیں۔

ج۔ عام مسلمان خواتین کے لیے غیر معمولی حالات میں عارضی ہدایات

سورۂ احزاب کی آیت59 کو بعض حلقے اس دعوے کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ یہ چہرہ ڈھانپنے اور حجاب کو تمام مسلمان خواتین کے لیے ایک دائمی اور حکم کے طور پر لازم قرار دیتی ہے۔ اس آیت میں مسلم خواتین کو ہدایت دی گئی ہے کہ جب وہ گھر سے باہر نکلیں تو اپنے جسم کو ایک بڑی چادر وغیرہ سے ڈھانپ لیں۔ بعض لوگ اس کا مطلب یہ نکالتے ہیں کہ خواتین ہر وقت اپنے ہاتھ، پاؤں اور آنکھوں کے علاوہ باقی جسم کو لازمی طور پر ڈھانپے رکھیں۔ تاہم، جب اس آیت کو اس کے مکمل سیاق—یعنی آیات 58 سے 62 تک—میں رکھ کر سمجھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ ہدایت ایک غیر معمولی اور ہنگامی صورت حال کے لیے دی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد مسلم خواتین کی شناخت کو واضح کرنا تھا تاکہ انھیں ہراساں کرنے یا ان کے بارے میں غلط فہمی پیدا کرنے کا کوئی بہانہ نہ رہے۔ یہ کوئی دائمی اور عمومی حکم نہیں تھا۔ آئیے، اس کی وضاحت کرتے ہیں۔

ان آیات میں مدینہ کی ایک خاص صورت حال کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں منافقین اور بعض دیگر عناصر نے مسلم خواتین کو ہراساں کرنے اور ان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا۔ ان مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کرنے سے پہلے، مسلم خواتین کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے جسم کو ایک چادر سے ڈھانپ لیں تاکہ ان کی مسلم شناخت واضح ہو اور کوئی شخص یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ وہ انھیں پہچان نہیں سکا اور سمجھا کہ یہ کوئی اور ہے۔ اگر ان احتیاطی اقدامات کے باوجود یہ مجرم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ ان کو گرفتار کریں اور سخت ترین سزا دیں۔

ان آیات سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ اگر آج کے دور میں بھی کسی ایسی غیر معمولی صورت حال کا سامنا ہو، جہاں مسلم خواتین کو اسی طرح کے خطرات یا ہراسانی کا سامنا ہو تو ایسے ہی عارضی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔لیکن اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ہدایات ایک خاص وقت اور مخصوص حالات کے تحت دی گئی تھیں اور انھیں تمام اوقات کے لیے خواتین کے لیے سر سے پاؤں تک اپنے جسم کو ڈھانپنے کا دائمی حکم قرار دینا قرآن کے اصل مقصد کے خلاف ہوگا۔

اس موضوع پر تفصیلی جوابات اور حوالہ جات کے لیے جاوید احمد غامدی کی ویڈیو سیریز ” 23 اعتراضات کے جواب میں: پردہ“دیکھیں، جو ”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔

سوال 12: کیا اسلام مرد و زن کی مکمل علیحدگی کو لازم قرار دیتا ہے؟

یہ بات بالکل منطقی ہے کہ کسی بھی ممکنہ جنسی بے راہ روی سے بچنے کے لیے اجنبی مرد اور عورت کو تنہائی میں ملاقات سے گریز کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور مردوں کو اس عمل سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ ایک حدیث کے مطابق آپ نے فرمایا:

”خبردار، جب کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے ۔“ (ترمذی، رقم 2165)

لیکن جب بات عوامی اجتماعات کی ہو—جیسے دعوتوں میں شرکت، شادی کی تقریبات، دفاتر میں کام کرنے یا جامعات میں تعلیم حاصل کرنا —تو قرآن ان حالات کے بارے میں کیا ہدایت دیتا ہے؟

اسلام میں مرد و زن کے اختلاط کے متعلق بعض حلقوں میں ایک عمومی اصول کے طور پر یہ موقف پیش کیا جاتا ہے کہ مرد اور عورت کو عوامی اجتماعات میں علیحدہ رکھا جائے۔ تاہم، جب قرآن کو اس موضوع پر گہرائی سے پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن اس طرح کی علیحدگی کا حکم نہیں دیتا، بلکہ حیران کن طور پر اس کی ہدایات اس کے برعکس ہیں۔

اولاً، مکہ اور مدینہ کی مقدس ترین مساجد میں مردوں اور عورتوں کو علیحدہ رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ حج اور عمرہ جیسی عبادات کے دوران میں بھی مرد اور عورت کے ایک ساتھ عبادت کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے، جس میں علیحدگی کی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی۔ ثانیاً، قرآن خود براہِ راست مرد و زن کے اختلاط کے مسئلے پر روشنی ڈالتا ہے۔ سورۂ نور (آیت 61) میں بیان کیا گیا ہے کہ جب مسلمان اپنے رشتہ داروں یا دوستوں کے گھروں میں دعوت کے لیے جائیں تو یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ الگ الگ کھانے کا انتخاب کریں یا ایک ساتھ کھانے کا۔یہ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ خاندان اور دوستوں کے اجتماعات میں مرد و زن کے ایک ساتھ بیٹھنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ قرآن کی دیے گئے ان اخلاقی حدود کی پابندی کی جائے جو سورۂ نور (آیات 30-31) میں مردو زن کے اختلاط کے متعلق طے کر دیے گئے ہیں۔

سوال 13: کیا اسلام مردوں اور عورتوں کو مصافحہ کرنے سے منع کرتا ہے؟

یہ معاملہ ذاتی انتخاب اور ثقافتی روایات کا ہے۔ اسلام اس بارے میں کوئی مخصوص حکم نہیں دیتا کہ مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرنے سے باز رہنا چاہیے۔

اس حوالے سے دو مشہور احادیث پیش کی جاتی ہیں۔ ایک حدیث میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”کسی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جائے، یہ اس کے لیے بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس پر حلال نہیں۔“

(المعجم الکبیر، رقم16910)

جب اس حدیث کو قرآن کے احکام کی روشنی میں اور سورۂ نور میں مرد و زن کے میل جول کے آداب کے تناظر میں سمجھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ حدیث کسی عورت کو غلط نیت اور نامناسب انداز میں چھونے کے بارے میں ہے۔

کسی ثقافتی رسم کے تحت مختصر طور پر کسی خاتون سے مصافحہ کرنا یا کسی ڈاکٹر کا کسی خاتون کے طبی معائنہ کے لیے نبض چیک کرنا، اس حدیث کے مفہوم میں شامل نہیں۔

میرے کچھ مسلمان دوست یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر تمام قسم کے جسمانی رابطے کو عام طور پر ممنوع نہیں کہا گیا تو کیا گلے ملنا یا گال پر بوسہ دینا بھی ایک قابلِ قبول رسم ہو سکتی ہے؟ اس پر میرا جواب یہ ہے کہ نکاح کے علاوہ تمام قسم کے شہوانی لمس کو اسلام میں سختی سے ممنوع کیا گیا ہے۔ لہٰذا چھونے کا عمل شہوانی نوعیت کا ہو یا شہوانی جذبات کو ابھارنے کا باعث بنے، اسے بہ طور احتیاط مکمل طور پر ترک کرنا چاہیے۔

ایک اور حدیث جو بخاری (رقم، 2564) میں درج ہے یہ بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے بیعت لیتے وقت کبھی ان کے ہاتھ نہیں پکڑے۔اس حدیث کو مصافحہ کے خلاف ایک حکم کے طور پر لینا درست نہیں۔ چونکہ بیعت کے دوران میں ہاتھ کو ایک طویل وقت تک پکڑے رکھنا پڑتا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں احتیاطی تدبیر اختیار کی تاکہ کسی قسم کے فتنے یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔ان کا مقصد مصافحے پر پابندی لگانا نہیں تھا۔

ایک اور دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مردوں اور عورتوں کے درمیان مصافحہ کا کوئی واقعہ روایت نہیں ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شاید مرد اور عورت کا مصافحہ کرنا اس وقت کی ثقافت کا حصہ ہی نہ تھا۔ اگر کسی ثقافت میں مصافحہ یا دیگر غیر جنسی انداز میں سلام کا طریقہ رائج ہو تو بہ ظاہر اسلام کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

یہ بات یاد رہے کہ اسلام تمام قسم کے جنسی اور شہوانی تعلقات کو نکاح تک محدود کرتا ہے اور نکاح کے بغیر ایسے تعلق سے سختی سے منع کرتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخص کو یہ یقین ہو کہ مخالف جنس کے ساتھ مصافحہ کرنے سے اس کے اندر شہوانی جذبات پیدا ہو سکتے ہیں تو اسے ایسے عمل سے اجتناب کرنا چاہیے۔

سوال 14: کیا اسلام مسلم مردوں کے لیے ڈاڑھی رکھنے کو لازم قرار دیتا ہے؟

اہم نوٹ: اس موضوع پر تفصیلی جوابات اور حوالہ جات کے لیے جاوید احمد غامدی کی ویڈیو سیریز ”23 اعتراضات کے جواب میں: ڈاڑھی“دیکھیں، جو ”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔

قرآن میں کوئی ایسی آیت موجود نہیں جو مسلم مردوں کے لیے ڈاڑھی رکھنے کو بہ طور دینی فریضہ لازم قرار دیتی ہو۔

اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ڈاڑھی رکھتا ہے، کیونکہ آپ نے خود ڈاڑھی رکھی تھی تو یہ ایک عمدہ اور مستحسن عمل ہے۔ تاہم، یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ کیا اسلام نے ڈاڑھی رکھنے کو مسلم مردوں پر لازم کیا ہے؟

ڈاڑھی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ نے ڈاڑھی رکھی تھی، لیکن جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا، سنت ان اعمال کو کہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے لازمی حصے کے طور پر جاری کیے ہوں اور امت کو ان پر عمل کرنے کی تاکید کی ہو۔صرف اس وجہ سے آپ نے کوئی خاص لباس پہنا، اونٹ پر سوار ہوئے، یا کوئی مخصوص کھانا کھایا، اس عمل کو دین یا سنت کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کسی عمل کو سنت یا دین کا حصہ ماننے کے لیے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہ طور دینی حکم جاری فرمایا ہو اور امت میں اسے دین کے طور پر منتقل کیا ہو۔

کچھ احادیث کی شرح اس طرح کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم مردوں پر ڈاڑھی رکھنے کو لازم قرار دیا۔ ان روایات میں آپ نے ہدایت دی کہ مشرکین اور اہلِ کتاب سے مختلف نظر آنے کے لیے اپنی ڈاڑھیاں بڑھائیں اور مونچھیں تراشیں۔ (صحیح مسلم، رقم 603، 625۔ بخاری، رقم 5893)

چونکہ ان احادیث کے سیاق و سباق کا ذکر ان میں موجود نہیں، اس لیے ان روایات کو قرآن کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ جب احادیث کو قرآن کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان احادیث کا مقصد واضح ہو جاتا ہے۔ آیئے، ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

اہل کتاب، یعنی یہودیوں اور عیسائیوں میں، خاص طور پر راہبوں کے ہاں ڈاڑھی اور مونچھوں کو بغیر ترشوائے کھلی چھوڑنے کا رواج تھا، اور آج بھی یہ روایت ان میں عام ہے۔ ان کی لمبی مونچھیں اکثر پورے ہونٹوں کو ڈھانپ لیتی ہیں، جو صفائی کے اصولوں کے خلاف ہے، خاص طور پر کھاتے پیتے وقت یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔دوسری طرف مشرکین عرب، خاص طور پر ان کے سردار، اپنی ڈاڑھیوں کو چھوٹا رکھتے اور مونچھوں کو لمبا رکھتے تھے، اور ان مونچھوں کے کنارے اوپر مڑے ہوتے تھے، جو غرور اور تکبر کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ یہ رواج آج بھی کئی ثقافتوں میں، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں، موجود ہے۔قرآن مسلمانوں کو جسمانی صفائی کی تلقین کرتا ہے اور ہر قسم کے تکبر سے باز رہنے کا حکم دیتا ہے۔ جب ان احادیث کو قرآن کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہدایات کے ذریعے سے ظاہری صفائی کو فروغ دینے اور تکبر کی علامتوں کو ختم کرنے پر زور دیا۔

اس مسئلے پر درست موقف یہ ہے کہ ڈاڑھی کو لمبا رکھنا سنت نہیں، بلکہ مونچھوں کو تراشنا سنت ہے۔ اسلام نے چہرے کے بالوں کے کسی مخصوص انداز کو اپنانے کا حکم نہیں دیا۔ تاہم، اگر کوئی مسلمان لمبی ڈاڑھی رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے اپنی مونچھوں کو چھوٹا رکھنا چاہیے، کیونکہ لمبی مونچھیں رکھنا سنت کے خلاف ہے۔اس عمل کے پیچھے حکمت یہ ہے کہ صفائی کو فروغ دیا جائے اور غرور یا تکبر کی کسی بھی علامت کے اظہار سے گریز کیا جائے۔

مختصر یہ کہ اسلام ڈاڑھی رکھنے کو لازم قرار نہیں دیتا۔ ہر شخص آزاد ہے کہ وہ اپنی ڈاڑھی کو اپنی پسند کے مطابق رکھے یا منڈوائے۔ البتہ، اگر آپ لمبی ڈاڑھی رکھنے کا انتخاب کرتے ہیں تو اسلام آپ کو پابند کرتا ہے کہ اپنی مونچھوں کو تراش کر رکھیں۔

سوال 15: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی وحی اور غارِ حرا کے متعلق کیا غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں؟

اہم نوٹ: اس موضوع پر تفصیلی جوابات اور حوالہ جات کے لیے جاوید احمد غامدی صاحب کی ویڈیو سیریز ” 23اعتراضات کے جواب میں: پہلی وحی کا واقعہ، غارِ حرا “یکھیں، جو ”غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ“ کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی وحی کے متعلق جو عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ:

– رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی سے قبل ہدایت کی روشنی کی تلاش میں اور وجودی مسائل پر غور و فکر کے لیے غارِ حرا میں جایا کرتے تھے۔

– وحی ملنے کے بعد آپ شدید اضطراب کا شکار ہو گئے، اور یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا۔ بعض روایات میں ذکر ہے کہ آپ نے اس دوران میں سخت آزمایش کے سبب خودکشی کرنے کا بھی سوچا، لیکن پھر حضرت جبریل نے مداخلت کی۔

یہ پورا قصہ صحیح بخاری (رقم 6982) میں موجود ایک غریب روایت پر مبنی ہے۔ یہاں ابن شہاب زہری عروہ بن زبیر سے روایت نقل کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت عائشہ کے بھانجے تھے۔ عروہ کے مطابق، یہ روایت انھوں نے حضرت عائشہ سے سنی۔

ابن شہاب زہری کی اس روایت کے ساتھ متعدد مسائل ہیں۔ ذیل میں ان مسائل کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے:

1۔ ابن شہاب زہری کی روایتیں اکثر سنی سنائی باتوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خودکشی کرنے کے خیالات کا پورا واقعہ ابن شہاب زہری نے یوں ہی بیان کر دیا جب کہ یہ معلومات ان تک کسی مسلسل سند کے ذریعے سے نہیں پہنچی تھیں۔

2۔قرآن کا فرمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہدایت یا دینی علم کی تلاش نہیں کی: روایات کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں ”تحنث“ کیا کرتے تھے، جسے بہت سے لوگ غور و فکر، مراقبے، اور زندگی کے بڑے سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے عمل کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کی آیات(القصص 28 :86 اور یونس 10 :16 ) یہ واضح کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دینی علم یا روشنی کی تلاش نہیں کی تھی اور نہ ہی آپ ان معاملات کی تبلیغ کیا کرتے تھے۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت یا الہامی علم کے حصول کے لیے مراقبے میں مشغول نہیں ہوتے تھے تو ”تحنث“جس کا ذکر ان روایات میں آیا ہے، سے کیا مراد ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں اپنے قیام کے دوران میں کیا کیا کر تے تھے؟ میں جلد ہی وضاحت کروں گا کہ ”تحنث“ کا اصل مطلب کیا ہے۔

3۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی وحی کے تجربات ایک دوسرے سے اتنے مختلف کیوں؟

قرآن کی سورۂ مزمل (آیت 15) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشابہ رسول قرار دیا گیا ہے۔حضرت موسیٰ پر پہلی وحی کا واقعہ قرآن میں سورۂ طٰہٰ (آیات 9-36) اور سورۂ نمل (آیات 7-12) میں بیان ہوا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تسلی دیتے ہیں کہ اللہ کے حضور اس کے رسول خوف زدہ نہیں ہوتے اور انھیں واضح طور پر یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور ان کا اصل مشن کیا ہے۔ اس کے برعکس، زیر بحث روایات کے مطابق جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی بار وحی نازل ہوئی تو آپ اس بات کو بالکل نہیں سمجھ سکے کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہو رہا ہے اور آپ شدید خوفزدہ ہو گئے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسا نبی قرار دیا گیا ہے تو پھر یہ فرق کیوں؟ حضرت موسیٰ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پہلی وحی کا عمل واضح اور پرسکون تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی بار وحی نازل ہوئی تو آپ شدید خوف اور الجھن کا شکار ہوئے اور آپ کو اس وقت یہ سمجھ نہیں آئی کہ آپ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ کے مشابہ رسول قرار دیا گیا ہے تو پھر حضرت موسیٰ کا پہلا تجربہ اتنا واضح اور تسلی بخش کیوں تھا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تجربہ خوف اور الجھن سے بھرپور کیوں تھا؟

4۔ ابن ہشام نے ابن شہاب زہری کی روایت کو اپنی سیرت میں شامل نہیں کیا۔ ابن ہشام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی سیرت نگاروں میں سے ایک ہیں۔ ان کی سیرت ابن اسحاق کی تحریر کردہ سیرت کی ابتدائی کتاب پر مبنی ہے۔ جب ابن ہشام اپنی سیرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی کے واقعے تک پہنچتے ہیں تو وہ زہری کی روایت کو صرف اس حد تک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی وحی سے قبل سچے خواب نظر آنے لگے تھے اور آپ تنہائی کو پسند کرنے لگے تھے۔ اس کے بعد ابن ہشام ایک مختلف سند کے ذریعے سے واقعہ وحی کی وضاحت پیش کرتے ہیں۔ یہ متبادل روایت زہری کی روایت سے زیادہ معقول ہے اور تضادات سے بھی پاک ہے۔ ابن ہشام اپنی سیرت کے باب ”رسول اللہ کو نبوت کیسے عطا کی گئی؟“ میں وہب بن کیسان کی روایت نقل کرتے ہیں، جو انھوں نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھانجے عبداللہ بن زبیر سے سنی، جو اسے عبید بن عمیر بن قتادہ اللیثی سے روایت کرتے ہیں۔

آئیے، وہب بن کیسان کی روایت کا تجزیہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ ان مسائل سے کیسے پاک ہے، جو زہری کی روایت میں پائے جاتے ہیں:

ابن ہشام لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں تحنّف کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ یہ زہری کی روایت میں مذکور لفظ تحنّث کی اصلاح ہے۔ ابن ہشام وضاحت کرتے ہیں کہ تحنّف رمضان کے مہینے میں اعتکاف کی عبادت تھی، جو روزے رکھنے اور عبادت پر مشتمل تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عبادت میں دین حنیف کے ایک پیروکار کے طور پر حصہ لیتے تھے۔ دین حنیف حضرت ابراہیم کی تعلیمات اور اعمال پر مبنی وہ روایت تھی جو جزیرۂ نماے عرب میں رائج تھی۔ وہب بن کیسان کی روایت مزید یہ بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنی بیوی اور بچوں کو بھی اپنے ساتھ پہاڑ پر لے جایا کرتے تھے اور اس عبادت کے اختتام پر غربا اور مساکین کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔

یہ روایت بیان کرتی ہے کہ وحی کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچے خواب آنے لگے۔ اس اہم سال کے دوران میں ، جب آپ غارِ حرا میں اعتکاف کر رہے تھے، آپ نے ایک خواب دیکھا، جس میں ایک شخصیت نمودار ہوئی۔ اس شخصیت نے آپ کو ایک کتاب پیش کی جو ریشم کے کپڑے میں لپٹی ہوئی تھی۔ اس نے آپ سے کہا کہ کتاب کی چند آیات پڑھیں۔ یہی وہ آیات ہیں جو بعد میں سورۂ علق کی ابتدائی پانچ آیات کے طور پر سامنے آئیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ کو اس خواب کا مطلب سمجھنے میں کچھ تذبذب ضرور تھا، لیکن آپ کو وہ آیات واضح طور پر یاد تھیں۔ آپ غار سے باہر نکلے تو آپ نے وہی شخصیت آسمان کے افق پر دیکھی۔ اس شخصیت نے واضح الفاظ میں کہا کہ آپ کو اللہ کا رسول مقرر کیا گیا ہے اور اپنا تعارف جبریل کے طور پر کرایا۔ اس واقعے کے دوران میں آپ کو کسی خوف یا تذبذب کا سامنا نہیں ہوا۔

روایت مزید بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبریل کو مسلسل دیکھتے رہے، یہاں تک کہ ایک گروہ، جسے حضرت خدیجہ نے پہاڑ کے دامن میں اپنے خیمے سے بھیجا تھا، نے آپ کو آواز دی۔ آپ نے اس واقعے کو حضرت خدیجہ کے سامنے بیان کیا۔ اس تبادلۂ خیال میں کسی قسم کی گھبراہٹ یا پریشانی کا ذکر نہیں ملتا۔ حضرت خدیجہ نے یہ واقعہ اپنے چچا زاد بھائی، ورقہ بن نوفل کو سنایا، جو ایک عیسائی عالم تھے۔ دریں اثنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں اپنے اعتکاف کو مکمل کرنے کے لیے واپس چلے گئے۔ اعتکاف کے اختتام پر آپ خانۂ کعبہ تشریف لے گئے اور طواف کیا۔ اسی دوران میں آپ کی ملاقات ورقہ بن نوفل سے ہوئی، جنھوں نے آپ کو تسلی دی اور تصدیق کی کہ آپ کو واقعی اللہ کا رسول منتخب کیا گیا ہے۔

وہب بن کیسان کی روایت کے مطابق، اس پورے واقعے میں نہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کسی خوف یا الجھن کا ذکر ہے، اور نہ ہی خودکشی کے خیالات کا کوئی حوالہ ملتا ہے۔ مزید برآں، اس روایت میں یہ بھی واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں کسی فلسفیانہ غور و فکر یا روشنی کی تلاش میں نہیں جاتے تھے۔ بلکہ، آپ اعتکاف کرنے، روزہ رکھنے، اور عبادت میں مشغول رہنے کے لیے وہاں جاتے تھے۔ یہ اعمال دین حنیف کی روایت کے مطابق مذہبی رسوم تھیں۔ دینِ حنیف حضرت ابراہیم کی تعلیمات اور طریقوں پر مبنی عقائد اور عبادات کا مجموعہ تھا، جسے اس وقت عرب میں کئی لوگ مانتے تھے اور اس کے مطابق عمل کرتے تھے۔زہری کی روایت کی بہ نسبت وہب بن کیسان کی یہ روایت زیادہ معقول اور معتبر معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس میں کوئی تضاد یا بے ترتیبی نہیں۔ لہٰذا یہ زہری کی روایت میں پائے جانے والے مسائل سے پاک ہے۔

سوال 16: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر کیا تھی ؟

نوٹ: اس موضوع پر مزید معلومات کے لیے جاوید احمد غامدی صاحب کی کتاب ”مقامات “ کے باب ”سیدہ عائشہ کی عمر“ کا مطالعہ کریں۔

یہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ہوا جب ان کی عمر چھ سال تھی، اور آپ کی رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی۔ یہ نقطۂ نظر کچھ روایات (جیسا کہ بخاری، رقم 5134 اور 70) پر مبنی ہے۔ تاہم، حدیث کی کتب میں ایسی معتبر روایات بھی موجود ہیں جو اس بات کی واضح طور پر نفی کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت چھ سے نو سال کے درمیان تھی۔ذیل میں ان میں سے کچھ مثالوں کا تجزیہ پیش ہے۔

کم عمری کی شادی واضح طور قرآن کی ہدایات کے خلاف ہے: سورۂ نساء (آیت 6) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یتیموں کے مال کے ذمہ دار انھیں اس وقت تک زیر کفالت رکھیں جب تک وہ نکاح کی عمر کو نہ پہنچ جائیں۔ اگر وہ بالغ اور اپنی زندگی اور معاملات کے بارے میں سمجھ دار پائے جائیں تو ان کے مال ان کے سپرد کر دیے جائیں۔

اس آیت میں نکاح کی عمر کو بلوغت کے اس درجے سے مشروط کیا گیا ہے جب کوئی فرد اتنا سمجھ دار ہو کہ اپنی زندگی اور مالی معاملات کے بارے میں درست فیصلے کر سکے۔ یہ حکم واضح طور پر بچوں کی شادی کے تصور کی نفی کرتا ہے۔

اب ہم حدیث کی ان روایات کا جائزہ لیتے ہیں جو اس بات کی تردید کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ چھ سال کی عمر میں نکاح کے بندھن میں بندھیں۔

ان احادیث کا تجزیہ جو اس تصور کی نفی کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت 6 سے 9 سال کے درمیان تھی:

1۔ حضرت خدیجہ کے انتقال کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ نبوت کی کٹھن ذمہ داریوں کو بھی نبھانا تھا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قریبی صحابیہ حضرت خولہ بنت حکیم نے تجویز دی کہ آپ شادی کرلیں تاکہ کوئی آپ کے گھر اور بچوں کی ذمہ داری سنبھال سکے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے دو نام پیش کیے:

حضرت سودہ بنت زمعہ ، جو ایک عمر رسیدہ بیوہ تھیں۔

حضرت عائشہ ۔

یہ روایت اس تصور پر بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے کہ حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت صرف 6 سال تھی اور رخصتی 9 سال کی عمر میں ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کی عمر اس وقت تقریباً 5 سے 10 سال کے درمیان تھی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت خولہ ایک 6 سالہ بچی کو رسول اللہ کے بچوں اور گھر کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تجویز کریں؟ 8

2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی سیرت نگاروں، جیسے ابن اسحاق اور ابن ہشام، کے مطابق، حضرت عائشہ ان افراد میں شامل تھیں جنھوں نے شروع میں اسلام قبول کیا۔ ابن اسحاق کے مطابق، حضرت عائشہ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب صرف 18، افراد ایمان لائے تھے۔ ابن ہشام کے مطابق، حضرت عائشہ نے اسلام اسی وقت قبول کیا جب ابو عبیدہ بن جراح جیسے سابقون الاولون افراد ایمان لائے۔ابو عبیدہ بن جراح اور دیگر ابتدائی مسلمانوں نے اسلام 611 – 612 عیسوی میں قبول کیا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے نکاح 620 عیسوی میں کیا۔یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت عائشہ نکاح کے وقت 6 سال کی تھیں تو 612 عیسوی میں وہ پیدا بھی نہیں ہوئی ہوں گی۔ حتیٰ کہ اگر 1 یا 2 سال کا فرق بھی تسلیم کر لیا جائے تو اس وقت وہ ایک نومولود بچی ہوتیں اور اسلام قبول کرنے کے قابل نہ ہوتیں۔ 9یہ بات نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ تاریخی شواہد سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔10

3۔ صحیح بخاری کے باب ”قرآن کی تدوین“میں درج ایک روایت (رقم4876 اور 4993)کے مطابق حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ جب سورۂ قمر آیت 46 نازل ہوئی اُس وقت وہ ایک ”جاریہ“تھیں۔ کلاسیکی عربی میں ”جاریہ“ کا مطلب ایک ایسی کم عمر لڑکی ہے جو بلوغت کے قریب ہو یا اس سے کچھ بڑی ہو۔ 11 قرآن کی یہ آیت(القمر 46) 617 عیسوی میں نازل ہوئی، جو ہجرت مدینہ (622 عیسوی) سے پانچ سال پہلے کی بات ہے۔اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت عائشہ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 620 عیسوی میں ہوا اور ان کی عمر اس وقت 6 سال تھی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ 617 عیسوی میں ان کی عمر صرف 3 سال تھی۔اتنی کم عمر میں انھیں ”جاریہ“کہنا کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ یہ بات زیر بحث روایت کی ثقاہت پر ایک اہم سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔

4۔ ایک اور دلیل، جو حضرت عائشہ کے بچپن میں نکاح کی حمایت کے لیے دی جاتی ہے، ان روایات پر مبنی ہے جن میں وہ بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں۔ یہ روایات سنن ابن ماجہ (رقم 1982)، مسلم (رقم 117 اور 83)، اور بخاری (رقم 157) میں موجود ہیں۔بہ ظاہر ، ان روایات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ اس وقت بچی تھیں، کیونکہ گڑیوں کے ساتھ کھیلنا عام طور پر بچوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ تاہم، ایک اور مستند روایت اس تاثر کو چیلنج کرتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ حضرت عائشہ کا گڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا شوق ان کی نوعمری(late teen)یا جوانی کے دور تک برقرار رہا۔ میں اس کی مختصراً وضاحت کرتا ہوں۔ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 6 سال کی عمر میں ہوا، وہ 620 عیسوی کو نکاح کا سال قرار دیتے ہیں۔ سنن ابی داؤد کی ایک معتبر روایت بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کی گڑیاں ایک الماری میں دیکھیں جب آپ غزوۂ تبوک یا خیبر سے واپس آئے۔آپ نے پردے کے پیچھے گڑیوں کو دیکھ کر فرمایا: ”یہ کیا ہے؟ “حضرت عائشہ نے جواب دیا: ”یہ میری گڑیاں ہیں۔“پھر آپ نے ایک اور شے کے بارے میں دریافت کیا، جس پر حضرت عائشہ نے وضاحت کی کہ یہ ایک گھوڑا ہے جس کے دو پر ہیں۔(سنن ابی داؤد، رقم 4932، 160، اور 4914) یہ روایت بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کی گڑیاں پہلی بار غزوۂ تبوک یا غزوۂ خیبر کے بعد دیکھیں۔ غزوۂ تبوک 630 عیسوی میں پیش آیا، اس لحاظ سے اگر یہ فرض کیا جائے کہ حضرت عائشہ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 620 عیسوی میں 6 سال کی عمر میں ہوا تھا تو غزوۂ تبوک کے وقت ان کی عمر 16 سال ہوتی۔ اسی طرح اگر یہ واقعہ غزوۂ خیبر (628 عیسوی) کے بعد پیش آیا ہو تو اس وقت ان کی عمر 14 سال ہوتی۔ لہٰذا اگر حضرت عائشہ کا نکاح 6 سال کی عمر میں، 620 عیسوی میں ہوا تھا تو ان کی گڑیاں دریافت ہونے کے وقت، بہ الفاظ دیگر غزوۂ خیبر اور غزوۂ تبوک کے وقت، ان کی عمر 14 سے 16 سال کے درمیان بنتی ہے۔ اس لیے، حضرت عائشہ کا یہ ذکر کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھیں، اسے صرف ان کے بچپن کی یادگار سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ واقعہ ان کی نوعمری کے درمیانی یا آخری مرحلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ نہایت ممکن ہے کہ حضرت عائشہ کا گڑیاں اور دیگر اشیا بنانے اور ان سے کھیلنے کا شوق ان کی نوعمری کے آخری سالوں تک برقرار رہا ہو۔ آج بھی نوجوانوں میں ایسے رجحانات دیکھنے کو ملتے ہیں، جو اپنی نوعمری کے آخری دور تک گڑیوں یا ایکشن فگرز سے دل چسپی رکھتے ہیں۔

حضرت عائشہ کی نکاح کے وقت صحیح عمر کا تعین: اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے وقت حقیقی عمر کیا تھی؟ ذخیرۂ حدیث میں ایسے مستند شواہد موجود ہیں جو اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ کی نکاح کے وقت عمر تقریباً 15 یا 16 سال تھی، اور رخصتی کے وقت ان کی عمر تقریباً 18 یا 19 سال تھی۔ اس نکتے کی وضاحت یہ ہے۔

حضرت عائشہ اپنی بہن حضرت اسماء سے دس سال چھوٹی تھیں۔ روایات کے مطابق، حضرت اسماء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ (622 عیسوی) سے 27 سال قبل پیدا ہوئیں۔ اس اعتبار سے حضرت اسماء کی پیدایش کا سال تقریباً 595 عیسوی بنتا ہے، اور اس کے مطابق، حضرت عائشہ کی پیدایش تقریباً 605 عیسوی میں ہوئی۔یہ معلومات ثابت کرتی ہیں کہ 620 عیسوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر تقریباً 15 یا 16 سال تھی، اور 623 عیسوی میں رخصتی کے وقت ان کی عمر 18 یا 19 سال کے قریب تھی۔12

مزید یہ کہ تاریخی روایات کے مطابق، حضرت اسماء 692 عیسوی میں 97 یا 98 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 620 عیسوی میں حضرت اسماء کی عمر 25 یا 26 سال تھی۔چونکہ حضرت عائشہ اپنی بہن حضرت اسماء سے دس سال چھوٹی تھیں، اس لیے 620 عیسوی میں نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر 15 یا 16 سال ہونی چاہیے۔

علم حدیث ایک پیچیدہ علم ہے: اس وسیع میدان میں ایسی روایات شامل ہیں جنھیں کچھ علما صحیح سمجھتے ہیں، جب کہ دوسرے انھیں ضعیف قرار دیتے ہیں۔ اس وجہ سے، ان معاملات میں اپنے موقف کی حمایت کے لیے مطلوبہ مواد تلاش کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ابن کثیر کے ہاں ہمیں ذخیرۂ حدیث کے لچک دار استعمال کی ایک اہم مثال ملتی ہے۔ ایک طرف، وہ ان روایات کو قبول کرتے ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حضرت اسماء ، حضرت عائشہ سے 10 سال بڑی تھیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عائشہ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 620 عیسوی میں ہوا تو ان کی عمر 16 سال تھی۔دوسری طرف، ابن کثیر ان روایات کو بھی قبول کرتے ہیں جن کے مطابق حضرت عائشہ نکاح کے وقت 6 سال کی تھیں، اور اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔ 13 یہ بات ذخیرہ حدیث کی پیچیدگی کو واضح کرتی ہے۔ جو ذخیرۂ حدیث یہ بیان کرتا ہے کہ حضرت عائشہ کا نکاح 6 سال کی عمر میں ہوا، اس میں اتنا ہی مواد موجود ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ان کا نکاح 16 سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی 19 سال کی عمر میں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے، نہ کہ قرآن کو احادیث کی روشنی میں سمجھا جائے۔

حضرت عائشہ کی عمر کے بارے میں اختلاف کی ممکنہ وجہ: یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ذخیرۂ حدیث میں ایسی روایات کیوں موجود ہیں جو حضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت 6 سال بیان کرتی ہیں، جب کہ اسی ادب میں ایسے مضبوط شواہد بھی موجود ہیں جو اس تصور کی نفی کرتے ہیں؟ اس اختلاف کی ممکنہ وجہ عربوں کے اعداد کو ادا کرنے کے مخصوص طریقے سے جڑی ہو سکتی ہے۔عربی زبان میں ”6“کو’سِتَّۃ ‘اور ”16“ کو’سِتَّۃ عَشَرَة ‘کہا جاتا ہے۔ اسی طرح، ”9“ کو’تِسْعَة ‘اور ”19“ کو’تِسْعَة عَشَرَة ‘کہا جاتا ہے۔ اگر اس کا موازنہ انگریزی اعداد سے کیا جائے تو ”16“ کو ”Six-Ten “اور ”19“ کو ”Nine-Ten “ کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ حضرت عائشہ یا بعد کے حدیث روایت کرنے والوں نے دہائی کے حصے (یعنی’عَشَرَة‘) کو اس بنیاد پر ذکر نہ کیا ہو کہ وہ اس وقت کے سامعین کے لیے پہلے ہی معروف تھا۔ مثال کے طور پر، اگر کسی بات کا ذکر 1900 کی کسی دہائی میں ہو رہا ہو اور کوئی کہے کہ فلاں واقعہ 83 میں پیش آیا تو سننے والا خود بہ خود سمجھ جائے گا کہ مراد 1983 ہے، نہ کہ 83 قبل مسیح یا 83 عیسوی۔اسی طرح، یہ امکان موجود ہے کہ حضرت عائشہ یا بعد کے راویوں نے صرف نکاح کے سال کو نمایاں کیا ہو اور یہ سمجھا ہو کہ سامعین دہائی کے حصے کو خودبہ خود سمجھ لیں گے۔

سوال 17: انسان کی تخلیق کا واقعہ کیا ہے اور کیا آدم و حوا علیہما السلام کے بچوں نے آپس میں نکاح کیا؟

قرآن انسان کی تخلیق کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتا ہے۔ ایک مقام پر یہ ذکر کیا گیا ہے کہ انسان پانی سے پیدا کیے گئے ہیں، جب کہ دوسرے مقام پر کہا گیا ہے کہ وہ مٹی سے بنائے گئے ہیں۔ چونکہ قرآن میں انسان کو مٹی سے پیدا کرنے کا ذکر ملتا ہے، قدیم علما نے یہ تصور قائم کیا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے انسان کو ایک مجسمے کی صورت میں تراشا اور پھر اس میں روح پھونکی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کچھ ضعیف روایات بھی اس خیال کی حمایت کرتی ہیں۔ تاہم، جب قرآن کے بیانات کو گہرائی اور کھلے ذہن کے ساتھ سمجھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن انسان کی تخلیق کے بارے میں ایک بالکل مختلف تصور پیش کرتا ہے۔ یہ تصور جدید انسان کی ابتدا کے بارے میں ہمارے موجودہ سائنسی علم سے ہم آہنگ محسوس ہوتا ہے۔

تخلیق انسانی کی وضاحت کے لیے قرآن کامطالعہ

قرآن انسان کی تخلیق کے بارے میں مختلف مقامات پر روشنی ڈالتا ہے، لیکن سورۂ سجدہ (32) کی آیات7 تا 9 میں خاص طور پر انسانی ارتقا کے مراحل کو ترتیب سے اور نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا:

”(وہی کہ) جس نے جو چیز بھی بنائی ہے، خوب ہی بنائی ہے۔ انسان کی تخلیق کا آغاز اُس نے مٹی سے کیا۔ پھر اُس کی نسل حقیر پانی کے خلاصے سے چلائی۔پھراُس کے نوک پلک سنوارے اور اُس میں اپنی روح میں سے پھونک دیا اور تمھارے (سننے کے) لیے کان اور (دیکھنے کے لیے) آنکھیں اور (سمجھنے کے لیے) دل بنا دیے ــــ تم کم ہی شکرگزار ہوتے ہو! “

ان آیات کے ساتھ قرآن کی دیگر آیات انسانی تخلیق کی تفصیلات کو واضح کرتی ہیں۔ سورۂ انبیاء (آیت 30) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر جان دار کو پانی سے پیدا کیا گیا۔ سورۂ فرقان (آیت 54) میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی سے انسان کو پیدا کیا۔ جب سورۂ سجدہ کی مذکورہ دو آیات ( 7-9) کو دیگر آیات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو یہ انسانی تخلیق کے عمل کو تین بنیادی مراحل میں تقسیم کرنے میں مدد دیتی ہیں:

پہلا مرحلہ : انسان کے ابتدائی آبا و اجداد زمین کی سطح سے براہ راست نمودار ہوئے:

قرآن کے بیان کے مطابق، انسان کی تخلیق کا آغاز پانی کے گدلے تالابوں سے ہوا، جہاں زمین کی سطح سے ابتدائی انسانی-جانور کی شکلیں نمودار ہوئیں۔ یہ بالکل ایسے ہوا جیسے کوئی جان دار زمین میں دفن انڈے سے برآمد ہوتا ہے۔ قرآنی آیات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انسان کے ابتدائی آبا و اجداد، جو ابتدا میں محض جانوروں کی صورت میں تھے اور روح سے خالی تھے، زمین کی سطح سے براہ راست پیدا ہوئے۔ یہ عمل ماں کے رحم میں جنین کی نشوونما کے عمل سے مشابہ ہے، لیکن یہ زمین کی سطح کے اندر وقوع پذیر ہوا۔ اس کے نتیجے میں انسان کی ابتدائی جسمانی صورتیں اور ممکنہ طور پر دیگر انواع زندگی بھی تخلیق ہوئیں۔

یہ عمل نہ جادوئی تھا اور نہ ناقابلِ فہم۔ غور کیجیے، ہم وہی اجزا استعمال کرتے ہیں جو فطرت میں پائے جاتے ہیں، جیسے امائنو ایسڈز، لوہا، اور کیلشیم۔ عورت کے جسم میں ایک حیرت انگیز نظام موجود ہے جو ان بنیادی اجزا کو ایک زندہ وجود میں تبدیل کر دیتا ہے۔ قرآن اشارہ دیتا ہے کہ زمین کے اندر بھی یہی عمل ہوا، جہاں مٹی اور پانی کے اجزا جان داروں میں تبدیل ہو گئے۔

کیا آپ کو یہ تصور غیر منطقی لگتا ہے کہ زمین سے ابتدائی انسانوں کی شکلیں برآمد ہوئیں؟ ایسا نہیں ہے، کیونکہ اس تصور کی سائنسی نظیریں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، کمبریئن دھماکا (Cambrian Explosion) ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو فوسل ریکارڈز میں محفوظ ہے۔ یہ تقریباً 500 ملین سال پہلے پیش آیا، جب اچانک فوسل ریکارڈ میں زیادہ تر اہم جانوروں کی انواع کی شکلیں ظاہر ہوئیں۔ یہاں یہ دعویٰ نہیں کیا جا رہا کہ انسان کی ابتدائی شکلیں کمبریئن دھماکے کے دوران میں نمودار ہوئیں۔ بلکہ، اس مثال کا مقصد یہ ہے کہ کمبریئن دھماکے جیسے تاریخی اور سائنسی واقعات اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ قرآن میں بیان کردہ انسان کی ابتدائی حیاتیاتی شکلوں کا زمین کے تقریباً گدلے پانی سے ظاہر ہونا بعید از قیاس نہیں۔

دوسرا مرحلہ :انسان کی ابتدائی صورت نے حیاتیاتی ارتقا کے ذریعے سے ترقی کی

قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ جب انسان کے ابتدائی جانور نما آبا و اجداد زمین سے نمودار ہوئے تو ان کی نسل حیاتیاتی تولید کے عام طریقے سے آگے بڑھائی گئی۔ اس کے بعد، جیسا کہ سورۂ سجدہ (آیت 9) اشارہ کرتی ہے، ان ابتدائی انسان نما مخلوقات نے تدریجی ترقی کے ایک طویل عمل سے گزرتے ہوئے ارتقا کیا، یہاں تک کہ وہ اپنی تکمیل کو پہنچے۔

یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن انٹر اسپیشیز ارتقا (interspecies evolution) کی تائید کرتا ہے۔ اس کے مطابق، ابتدائی جانوروں کی شکلیں زمین سے براہ راست نمودار ہوئیں، جنھوں نے حیاتیاتی تولید کے ذریعے سے اپنی نسل کو بڑھایا اور وقت کے ساتھ ساتھ ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے اپنی موجودہ شکل میں آئے۔سائنسی شواہد بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ ابتدائی انسان نما مخلوقات، جیسے راماپتھیکس (Ramapithecus)، آسٹریلوپتھیکس (Australopithecus)، اور ہومو ایریکٹس (Homo erectus)، کے فوسلز اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ مخلوقات ارتقائی عمل کا حصہ تھیں۔ مزید یہ کہ فوسل ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ حیاتیاتی طور پر جدید ہومو سیپینز (Homo sapiens) انھی ابتدائی مخلوقات کی تدریجی ترقی کا نتیجہ ہیں۔

سائنس دانوں کا اتفاق ہے کہ انسان کا سب سے قدیم حیاتیاتی جد اعلیٰ تقریباً 4.2 ملین سال پہلے موجود تھا۔14 تقریباً 300,000 سال قبل، ابتدائی انسان نما مخلوقات (humanoids) آرکائک ہومو سیپینز (archaic Homo sapiens) کی شکل اختیار کر چکی تھیں، جو جدید ہومو سیپینز (Homo sapiens) کے براہ راست اجداد تھے۔ تقریباً 160,000 سال قبل جدید ہومو سیپینز کا پہلا گروہ وجود میں آیا۔

لہٰذا قرآن ڈارون کے نظریۂ ارتقا کی حمایت نہیں کرتا، جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تمام مخلوقات ایک خلیے سے ارتقا پذیر ہوئیں۔ تاہم، قرآن انٹر اسپیشیز ارتقا (interspecies evolution) کے تصور کی تائید کرتا ہے، جس کے مطابق مختلف انواع کے ابتدائی اجداد زمین سے براہ راست نمودار ہوئے۔

تیسرا مرحلہ : حیاتیاتی ارتقا کی تکمیل کے بعد انسان میں روح پھونکی گئی

سورۂ سجدہ (آیت 9) یہ واضح کرتی ہے کہ جب انسان حیاتیاتی طور پر اپنی تکمیل کو پہنچ گیا تو اللہ نے اس میں اپنی روح پھونکی، جس کے بعد انسان ایک منفرد مخلوق بن گیا، جو عقل، جمالیات، اور اخلاقیات کے لحاظ سے دیگر مخلوقات سے ممتاز تھی۔ یہ تصور نہ صرف قرآنی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے، بلکہ انسانی تاریخ اور جدید سائنسی مشاہدات سے موئید بھی ہے۔

آج سے تقریباً 160,000 سال پہلے انسانی نسل نے حیاتیاتی طور پر جدید ہومو سیپینز کی شکل حاصل کی۔ اس مرحلے پر انسان کے رویے میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئیں۔اس تبدیلی کی وضاحت کے لیے دو اہم نظریات پیش کیے گئے ہیں: پہلا نظریہ یہ بیان کرتا ہے کہ یہ رویہ طویل عرصے میں بہ تدریج ارتقا پذیر ہوا۔دوسرا نظریہ یہ کہتا ہے کہ تقریباً 50,000 سال پہلے انسانی رویے میں ایک اچانک انقلاب آیا۔دونوں نظریات اس بات پر متفق ہیں کہ جب انسان نے حیاتیاتی تکمیل حاصل کر لی تو وہ جلد ہی جدید رویے کے آثار دکھانے لگا۔یہ جدید رویے درج ذیل اعمال میں ظاہر ہوئے:

اپنے مردوں کو دفنانا، تخلیق کرنا، زیورات اور آرایش کا استعمال، اور عبادت کے لیے معابد تعمیر کرنا۔ 15یہ بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ حیاتیاتی طور پر تکمیل کے بعد انسان میں روح پھونکی گئی، جس سے اس کے رویوں میں انقلاب برپا ہوا۔

آدم اور حوا علیہما السلام کے بچوں نے انسانی آبادی کو بڑھانے کے لیے آپس میں نکاح کیا؟

نہیں، کیونکہ قرآن کے مطابق حضرت آدم اور حضرت حوا ایک ایسی دنیا میں پیدا ہوئے تھے جہاں صرف وہی نہیں بلکہ دیگر انسان بھی موجود تھے۔ قرآن کے بیانیے کے مطابق، حیاتیاتی طور پر جدید انسان زمین پر موجود تھے، لیکن وہ حیاتیاتی طور پر انسان ہونے کے باوجود روحانی جوہر سے خالی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان افراد میں سے دو افراد، یعنی آدم اور حوا کو منتخب کیا اور انھیں الوہی جوہر، جسے روح کہتے ہیں، سے نوازا۔ یہ روح انھیں دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ آدم اور حوا کی اولاد کو بھی یہ روحانی جوہر عطا کیا گیا۔ جب ان کی اولاد نے ان انسانوں کے ساتھ جنسی تولید کے ذریعے سے نسل بڑھائی جن کے پاس روح نہیں تھی تو انھوں نے اس الٰہی جوہر کو اپنی نسلوں میں منتقل کیا۔ ہزاروں سالوں کے دوران یہ عمل جاری رہا اور نتیجتاً پوری انسانی آبادی کو یہ روحانی جوہر حاصل ہو گیا۔

قرآن بیان کرتا ہے کہ انسان کی ابتدائی حیاتیاتی شکلیں زمین سے پیدا ہوئیں، جو کمبریئن دھماکے جیسے حیاتیاتی تاریخ کے واقعات سے مشابہت رکھتی ہیں، جہاں فوسل ریکارڈ میں اچانک پیچیدہ زندگی کی شکلیں نمودار ہوئیں۔ قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ان ابتدائی انسانی شکلوں نے جنسی تولید کے ذریعے سے نسل بڑھائی اور طویل حیاتیاتی ارتقا کے عمل سے گزریں، جیسا کہ فوسل ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے۔ بالآخر، جب انسان کی حیاتیاتی شکل مکمل ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے دو افراد کو منتخب کیا اور انھیں انسانی روح سے نوازا۔ یہ قرآنی وضاحت اس حقیقت سے مطابقت رکھتی ہے جب حیاتیاتی طور پر جدید انسانوں نے رویے میں جدیدیت کا مظاہرہ شروع کیا، (جیسے اپنے مردوں کو دفنانا، فن تخلیق کرنا، زیورات استعمال کرنا، اور عبادت کے لیے معابد تعمیر کرنا۔)

قرآن میں دماغ اور روح کے تصور پر ایک مختصر وضاحت اور اس کی صداقت کی دلیل

قرآن انسان کے جسم اور روح کی دوئی (Duality) کا تصور دیتا ہے۔قرآن کے مطابق، جسم اور دماغ اس دنیا کی تخلیق ہیں، جب کہ روح—وہ ”میں“جو تمام تجربات کا مشاہدہ کرتی ہے—اس زمینی دنیا سے ماورا اور ایک اعلیٰ جہت سے تعلق رکھتی ہے۔دماغ اور روح کے درمیان اس فرق کو اس حقیقت سے تقویت ملتی ہے کہ دماغ کے مختلف حصے ماحولیاتی محرکات (Environmental Inputs) کو الگ الگ انداز میں پروسیس کرتے ہیں۔ لیکن، دماغ میں ایسا کوئی خاص مقام نظر نہیں آتا جہاں یہ تمام محرکات یکجا ہو کر ایک واحد اور مربوط تجربہ تشکیل دیں، جسے ہم ”میں” کہتے ہیں۔

روح اور دماغ ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ انسانی ذہن (Mind) مادی دماغ کو متاثر کر سکتا ہے، اور محض خیالات دماغ کی جسمانی ساخت میں تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ مادی دماغ میں نقصان یا خلل، جیسے کسی خاص حصے کے خراب ہو جانے سے، انسان کی شخصیت اور خیالات میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہم نے اس موضوع پر مزید تفصیل سے دماغ اور ذہن کے فرق پر اپنی بحث میں گفتگو کی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن کا یہ نظریہ سائنسی مشاہدات کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ ہے۔

سوال 18: کیا حضرت آدم اور حضرت حوا زمین پر آنے سے پہلے جنت میں مقیم تھے؟

قرآن میں کہیں یہ بیان نہیں کیا گیا کہ حضرت آدم اور حضرت حوا جنت میں پیدا ہوئے اور پھر زمین پر بھیجے گئے۔ بلکہ قرآن انھیں ”جنت“ میں رکھنے کا ذکر کرتا ہے۔ عربی لفظ ”جنت“کا اردو میں معنی ”باغ“ ہے۔ چونکہ جنّت کا لفظ اسلامی اصطلاح میں بہشت اور فردوس جیسے دیگر الفاظ کے ساتھ آخرت کی جنت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اس لیے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدم اور حوا آخرت کی جنت میں تھے اور پھر وہاں سے بے دخل کر کے زمین پر بھیجے گئے۔

تاہم، قرآن کی متعدد آیات اس تصور کی نفی کرتی ہیں اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ آدم اور حوا کو زمین پر ہی تخلیق کیا گیا تھا۔اس موقف کے متعدد دلائل ہیں:

اول، سورۂ بقرہ (آیت 30) میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے منصوبے کا فرشتوں کے سامنے اعلان کیا کہ وہ زمین پر انسانوں کو اپنا نائب بنائے گا۔ یہ بیان واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ انسان کی تخلیق کا ارادہ زمین کے لیے کیا گیا تھا۔مزید برآں، قرآن کی دیگر آیات بھی اس تصور کو تقویت دیتی ہیں کہ انسان کو مٹی اور پانی سے پیدا کیا گیا۔مثال کے طور پر، سورۂ سجدہ (آیات 7-9) میں یہ بیان مزید تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

دوم، سورۂ ابراہیم (آیت 48) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آخرت کی دنیا، جس میں جنت اور دوزخ شامل ہیں، ابھی تک تخلیق نہیں کی گئی۔یہ آیت وضاحت کرتی ہے کہ قیامت کے وقت موجودہ دنیا اور کائنات ایک نئی دنیا میں تبدیل ہو جائیں گے، جہاں انسانوں کا حساب کتاب ہوگا اور ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ آخرت کی جنت ابھی تک وجود میں نہیں آئی۔

قرآن کی ان آیات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آدم اور حوا زمین پر پیدا کیے گئے تھے۔ سورۂ بقرہ (آیت 35) میں آدم اور حوا کے لیے ”جنّت“کا ذکر کسی آخرت کی جنت کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے باغ یا مقام کے لیے ہے جہاں کھانے پینے اور رہنے کے لیے وافر وسائل موجود تھے۔

ایک اور دلیل جو یہ تصور پیش کرتی ہے کہ آدم ا ور حوا جنت میں تھے، سورۂ بقرہ (آیت 36 ) کی تشریح سے اخذ کی گئی ہے۔اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ آدم اور حوا کو حکم دیا گیا: ”اِهْبِطُوا“ یعنی ”اترو“۔تاہم، ”اِهْبِطُوا“کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں آسمان سے زمین پر اترنے کا کہا گیا۔ قرآن میں یہ لفظ دیگر مقامات پر بھی استعمال ہوا ہے، جیسے سورۂ بقرہ (آیت 61) میں، جہاں اس کا مطلب محض ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے یا نکلنے کا ہے۔ لہٰذا اگر آیت کے مکمل سیاق و سباق کو مدنظر رکھا جائے تو یہ زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ بقرہ (آیت 36) میں آدم اور حوا کو اس باغ کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا، نہ کہ آسمان سے زمین پر اترنے کا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قرآن اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ”جنت الماویٰ“ نامی ایک مقام موجود ہے، جیسا کہ سورۂ نجم (آیت 15) میں ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح، سورۂ سجدہ (آیت 19) میں ایک اور آیت اس اشارے کو مضبوط کرتی ہے کہ یہ مقام یا تو مادی ہے یا روحانی۔ یہ نیک روحوں کے لیے ایک استقبال کی جگہ ہو سکتی ہے، جہاں قیامت کے دن کے حتمی فیصلہ سے قبل ان کو رکھا جاتا ہے اور ایک خاص قسم کی زندگی عطا کی جاتی ہے۔

سوال 19: آدم اور حوا علیہما السلام نے کس ممنوعہ درخت کا پھل کھایا، اور یہ درخت کیوں ممنوع تھا؟

قرآن کی سورۂ اعراف (آیات :20-22) سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت حوا کو جنسی تعلقات سے باز رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ شیطان نے آدم اور حوا کو وہ کام کرنے کا مشورہ دیا جس سے اُن کی شرم گاہوں میں سے جو چیز اُن سے چھپائی گئی تھی ، وہ ان پر کھل گئی۔ مزید یہ کہ، اس واقعے کے بعد جب انھوں نے ممنوعہ درخت سے کھایا تو وہ اپنی جنسیت سے آگاہ ہو گئے—یعنی اپنی شرم گاہوں کے بارے میں شعور حاصل کیا—اور انھوں نے پتوں سے خود کو ڈھانپنا شروع کیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ آدم اور حوا ایک دوسرے کے لیے میاں بیوی تھے، لیکن اس کے باوجود یہ پابندی ان پر آزمایش کے طور پر عائد کی گئی تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ اللہ کے حکم کی نافرمانی کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔

سوال 20: مردوں کو چار شادیوں کی اجازت کیوں دی گئی ہے، اور عورتوں کو متعدد شادیوں کی اجازت کیوں نہیں؟

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے لیے حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا کیا، نہ کہ چار بیویاں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک مثالی تعلق ایک شوہر اور ایک بیوی کا ہے۔مزید برآں، قرآن کی سورۂ نساء (آیت 3)، جہاں چار شادیوں کی اجازت کا ذکر ہے، درحقیقت کثرتِ ازدواج کی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور وحدتِ ازدواج (monogamy) کو فروغ دیتی ہے۔ آئیے اس کی مختصر وضاحت کرتے ہیں۔

قرآن سورۂ نساء (آیات 2-3) میں فرماتا ہے:

”(اللہ سے ڈرو) اور یتیموں کے مال اُن کے حوالے کردو اور اُن کے لیے اُن کے اچھے مال کو اپنے برے مال سے نہ بدلو اور نہ اُن کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھاؤ، اِ س لیے کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ اور اگر اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو اُن کے ساتھ جو عورتیں ہیں، اُن میں سے جو تمھارے لیے موزوں ہوں، اُن میں سے دودو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔ پھر اگر ڈر ہو کہ (اُن کے درمیان) انصاف نہ کر سکو گے تو (اِس طرح کی صورت حال میں بھی)ایک ہی بیوی رکھو۔ …یہ اِس کے زیادہ قریب ہے کہ تم بے انصافی سے بچے رہو۔ “

کثرتِ ازدواج کی مشروط اجازت: پہلی بات یہ ہے کہ تقریباً 1400 سال پہلے، مختلف ثقافتوں، بہ شمول عربوں میں، مردوں کا ایک سے زیادہ شادیاں کرنا ایک عام رواج تھا۔ یہ روایت آج بھی کئی معاشروں میں موجود ہے۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ قرآن نے کثرتِ ازدواج کی روایت کو شروع کیا؛ بلکہ یہ پہلے سے انسانی معاشروں میں رائج تھی۔قرآن نے اس موجودہ روایت کو مکمل طور پر ممنوع قرار دینے کے بجاے اس پر پابندی عائد کی اور ایک مرد کے لیے زیادہ سے زیادہ چار بیویوں تک کی حد مقرر کی۔

دوسری بات، سورۂ نساء (آیت 3) اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ متعدد بیویوں کے درمیان انصاف کرنا نہایت مشکل ہے۔ اسی وجہ سے قرآن کی یہ ہدایت ہے کہ مرد صرف ایک شادی کریں۔یہ واضح ہے کہ ان حالات میں بھی، جہاں مرد کے لیے متعدد شادیاں کرنا واقعی ضروری ہو، قرآن کا خدا مردوں کو زور دیتا ہے کہ وہ صرف ایک بیوی سے نکاح کریں۔

لہٰذا قرآن مردوں کو ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس پر یہ شرط بھی عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ مکمل انصاف کریں—جس میں مالی اور جذباتی انصاف دونوں شامل ہیں۔ایسی صورت حال ہو سکتی ہے کہ ایک مرد کا دوسری شادی کرنا اخلاقی طور پر جائز ہو ۔مثال کے طور پر اگر کسی عورت کے ہاں اولاد نہ ہو سکتی ہو اور مرد اولاد کا خواہش مند ہو۔یا اگر عورت کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جو اسے اپنے شوہر کی جسمانی ضروریات پوری کرنے سے قاصر بنا دے۔ ایسے حالات میں، یہ زیادہ اخلاقی اور منصفانہ معلوم ہوتا ہے کہ مرد دوسری شادی کرے، یہاں تک کہ پہلی بیوی کی رضامندی کے بغیر بھی ایسا کر سکتا ہے۔

ایک اور ممکنہ صورت حال یہ ہو سکتی ہے کہ کسی مرد کو مذکورہ ضروریات یا چیلنجز کا سامنا نہ ہو، لیکن وہ محض اپنی خواہش کے تحت ایک سے زیادہ شادیاں کرنا چاہے۔ اس صورت میں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مرد ہر اس عورت کو، جس سےوہ نکاح کرنا چاہے، پہلے اپنی نیت کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ کرے، اور اس بارے میں اس کی رضامندی قبل از نکاح حاصل کرے۔ اگر اس خاص صورت حال میں عورت کو پہلے سے اطلاع نہ دی جائے تو یہ ایک صریح اور واضح جذباتی ناانصافی ہوگی۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کی ناانصافی—چاہے وہ مالی ہو یا جذباتی—اسلام میں سختی سے ممنوع ہے۔

مزید برآں، اسلام خواتین کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ نکاح کے معاہدے میں یہ شرط شامل کریں کہ شوہر دوسری شادی نہیں کرے گا۔ اگر شوہر اس شرط کی خلاف ورزی کرے تو پہلا نکاح فسخ تصور کیا جائے گا۔ 16 یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بعض مردوں نے تعدد ازواج کی آیت کا سہارا لے کر اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی لیے یہ بے حد ضروری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مرد حقیقی اور جائز وجوہات کے تحت ہی دوسری شادی کر سکیں ۔ ریاست اس معاملے میں قانون سازی کر کے کثرتِ ازدواج کی اجازت کو ضابطے میں لا سکتی ہے۔ ان قوانین کے تحت مرد کو عدالت میں اپنی دوسری شادی کی وجوہات پیش کرنا ہوں گی اور اس کے لیے عدالت سے منظوری لینا ضروری ہوگی۔

عورتوں کے لیے متعدد شوہروں کی اجازت کیوں نہیں؟ اسلام نکاح کو ایک مقدس ادارہ سمجھتا ہے—بلکہ، اسلام کے نزدیک نکاح سب سے اہم معاشرتی ادارہ ہے۔ کسی بھی ادارے کے نظم و نسق اور بقا کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ایک ہی سربراہ ہو۔اسلام کے مطابق خاندان کے ادارے کا سربراہ مرد ہے، کیونکہ مرد کو زیادہ ذمہ داریوں کا حامل کیا گیا ہے۔ خاص طور پر، خاندان کی مالی ضرورتوں کو پورا کرنا مرد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

عورتوں کے لیے متعدد شوہروں کی اجازت نہ ہونے کی وجوہات یہ ہیں۔ جیسے کسی ملک کا صرف ایک سربراہ ہوتا ہے، مثلاً وزیر اعظم یا صدر، جب کہ اس کے تحت کئی وزرا کام کرتے ہیں، یا کسی کمپنی کا ایک سی ای او ہوتا ہے، جب کہ کئی مینیجنگ ڈائریکٹرز ہوتے ہیں—اسی اصول پر اسلام خاندان کو ایک ادارہ تصور کرتا ہے، جس کا سربراہ مرد کو مقرر کرتا ہے۔ خاندان کے اس نظام میں ایک شوہر اور ممکنہ طور پر کئی بیویاں ہو سکتی ہیں، لیکن اس کے برعکس، ایک عورت کے لیے ایک سے زیادہ شوہر رکھنا ممکن نہیں، کیونکہ کوئی بھی ادارہ یا تنظیم متعدد سربراہوں کے ساتھ کامیابی سے نہیں چل سکتا۔ چونکہ اسلام نکاح اور خاندان کو ایک مقدس ادارہ تصور کرتا ہے، اس لیے اس ادارے میں ایک سربراہ کا ہونا ضروری ہے، اور اسلام نے یہ ذمہ داری مرد کے کاندھوں پر ڈالی ہے۔

تاہم، قرآن واضح طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ مثالی خاندان ایک شوہر اور ایک بیوی پر مشتمل ہونا چاہیے۔ اس کی مثال حضرت آدم ہیں، جن کے ساتھ صرف ایک بیوی، حضرت حوا علیہا السلام تھیں۔ اسی طرح، سورۂ نساء (آیت 3) میں اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے کہ اگر مرد انصاف کے تقاضے پورے نہ کر سکیں تو انھیں ایک ہی شادی کرنی چاہیے۔

اگر کسی عورت کو کسی معقول وجہ سے دوسری شادی کی ضرورت پیش آئے تو اس کا واحد حل یہ ہے کہ وہ اپنے موجودہ شوہر سے علیحدگی اختیار کرے اور پھر دوسرے مرد سے نکاح کرے۔

سوال 21: شادی کے بغیر مرد اور عورت کے درمیان تمام جنسی تعلق سختی سے ممنوع کیوں ہیں اور اسے بڑا گناہ اور سنگین جرم کیوں سمجھا جاتا ہے؟

انسان محض جسمانی مخلوق نہیں، بلکہ نفسیاتی، جذباتی، اور روحانی وجود بھی رکھتا ہے۔ جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ مکمل طور پر بے بس ہوتا ہے اور اس کی جسمانی، نفسیاتی، جذباتی، اور روحانی ضروریات کی طویل المدتی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، جو اکثر ایک دہائی یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے خاندان کے ادارے کو تخلیق کیا ہے، جو ایک مرد اور عورت—یعنی باپ اور ماں—پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ ادارہ صرف نسل انسانی کو آگے بڑھانے کے لیے نہیں، بلکہ ایک بچے کی پرورش اور اس کی جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، اور روحانی نشوونما کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ بالغ ہو کر ایک متوازن انسان بن سکے۔اسی طرح، جب انسان بڑھاپے کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس وقت بھی اسے جسمانی اور جذباتی سہارا درکار ہوتا ہے۔ ایک مستحکم خاندان اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔ یہاں تک کہ بہترین اولڈ ایج ہوم بھی وہ جذباتی سکون فراہم نہیں کر سکتے جو ایک مستحکم اور محبت بھرا خاندان دے سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں، قرآن نے شادی اور خاندان کے ادارے کی حفاظت کو بڑی اہمیت دی ہے۔

شادی کے بندھن کا مقصد تعلقات کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے تاکہ مرد اور عورت دونوں اس ادارے میں اپنی مکمل ذمہ داری ادا کریں۔ خاندان اور معاشرے کی موجودگی میں، دونوں فریق عوامی طور پر اس رشتے میں اپنی مکمل شراکت داری کا اعلان کرتے ہیں اور اللہ کو گواہ بنا کر وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے ایماندار اور وفادار رہیں گے۔

ایک مستحکم شادی کے لیے کئی اہم عناصر ضروری ہیں، جن میں باہمی احترام اور اعتماد سب سے نمایاں ہیں۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ جنسی وفاداری (sexual fidelity) کسی بھی کامیاب اور پائیدار شادی کا سب سے بنیادی اور اہم پہلو ہے۔ یہ شادی کی بنیاد ہے، اور اسی پر ایک مستحکم خاندان قائم ہوتا ہے۔خاندان کے ادارے کی حفاظت کے لیے، قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ تمام قسم کے جنسی رویے اور اعمال صرف اور صرف شادی کے دائرے میں ہوں۔شادی کے دائرے سے باہر کسی بھی قسم کے جنسی تعلق کو اسلام میں نہ صرف بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے بلکہ ایک سنگین جرم بھی سمجھا گیا ہے، جس کے دنیوی اور اخروی نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ چاہے کوئی شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، شادی کے علاوہ کسی کے ساتھ بھی جنسی تعلق قائم کرنا اسلام میں سختی سے ممنوع اور بڑا گناہ ہے۔ اس کا نتیجہ آخرت میں شدید سزا کی صورت میں نکل سکتا ہے، اور دنیوی طور پر بھی اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ قرآن کی کئی آیات، جیسے سورۂ اعراف (آیت33)، شادی کے دائرے سے باہر جنسی تعلقات کو بڑے گناہوں میں شمار کرتی ہیں۔ اس گناہ پر اصرار کرنے سے دائمی عذاب کا خطرہ ہے، کیونکہ یہ خدا کے تخلیق کردہ معاشرتی ادارے کو براہ راست نقصان پہنچاتا ہے، جو بچوں اور بوڑھوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

یہ بات بالکل منطقی ہے کہ ایک نوزائیدہ بچے کو طویل مدت تک مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح بوڑھوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مستحکم خاندان کا ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ کوئی اور ادارہ اس کا نعم البدل فراہم نہیں کر سکتا۔ایک مستحکم خاندان وہ بہترین ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جو جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، اور روحانی پرورش کے لیے ضروری ہے اور ایک بچے کو بچپن سے بلوغت تک میسر رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے تمام جنسی رویوں اور اعمال کو صرف اور صرف شادی کے دائرے تک محدود رکھنے کا حکم دیا تاکہ خاندان کے ادارے کو مضبوط بنایا جا سکے۔یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ایسے معاشرے جہاں شادی سے باہر جنسی تعلقات کو معمول سمجھا جاتا ہے، وہاں خاندانی نظام زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔

تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ غیر مستحکم خاندان اور ٹوٹے ہوئے گھروں کے بچوں پر نہایت گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو ان کی شخصیت اور مستقبل پر تباہ کن اثر ڈالتے ہیں۔

شادی میں جنسی وفاداری اور ہمارے جسم میں موجود کیمیائی عوامل کے بارے میں مختصر نوٹ:شادی کے ادارے کو مضبوط کرنے کے لیے تمام جنسی اور جذباتی رویوں کو صرف شادی کے دائرے تک محدود رکھنے کی نہ صرف اخلاقی، بلکہ فطری اور حیاتیاتی بنیاد بھی موجود ہے۔ہمارے جسم میں ڈوپامین اور سیروٹونن جیسے کیمیائی مادے، جو خوشی، اطمینان، اور سکون کا احساس پیدا کرتے ہیں، مختلف سرگرمیوں کے دوران میں خارج ہوتے ہیں، جیسے ورزش کرنا، کام مکمل کرنا، اور کھانا کھانا۔ ان مادوں کے اخراج کا ایک اہم اور مضبوط ذریعہ جنسی اور جذباتی تسکین ہے۔

اگر یہ کیمیائی مادے صرف اپنے شریکِ حیات کے ساتھ جنسی، جسمانی، اور جذباتی قربت کے دوران میں خارج ہوں تو یہ ازدواجی تعلق کو مضبوط بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس کے برعکس، اگر یہ کیمیائی مادے دوسرے غیر مناسب ذرائع سے خارج ہوں—مثلاً، فحش مواد دیکھنے، دوسروں کی جنسی طور پر تعریف کرنے یا شادی کے دائرے سے باہر جسمانی تعلق قائم کرنے سے—تو یہ شریکِ حیات کے ساتھ تعلق کو کم زور کر سکتے ہیں۔ ایسے رویے، جو ڈوپامین اور سیروٹونن کے اخراج کو متحرک کرتے ہیں، وقت کے ساتھ شریکِ حیات کے ساتھ تعلق کو کم پرکشش بنا سکتے ہیں، کیونکہ دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی تسکین ان کے ساتھ تعلق پر غالب آ سکتی ہے۔

اسی لیے ہمارے جسم میں موجود کیمیائی عوامل بھی اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم تمام قسم کے جنسی رویوں اور اعمال کو صرف اپنے شریکِ حیات تک محدود رکھیں۔ یہ نہ صرف ازدواجی رشتے کو مضبوط بناتا ہے، بلکہ ایک مستحکم خاندانی نظام کے قیام کے لیے بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔

سوال 22: شوہر کو بیوی پر بلند درجہ کیوں دیا گیا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں مرد عورتوں سے برتر ہیں؟

اسلام میں مرد عورتوں سے کسی بھی پہلو سے برتر نہیں ہیں۔ قرآن سورۂ احزاب (آیت 73) میں واضح کرتا ہے کہ مرد اور عورت اللہ کی نظر میں برابر ہیں۔اسی طرح، سورۂ حجرات (آیت 13) میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی اور اللہ کا خوف رکھنے والا ہے۔اسلام میں برتری کا معیار جنس، نسل، نسب، رنگ، یا قومیت نہیں بلکہ تقویٰ اور اللہ کا خوف ہے۔اللہ کے نزدیک مرد اور عورت برابر ہیں، لیکن نکاح کے ادارے میں شوہر کو بیوی پر بلند درجہ مخصوص اضافی ذمہ داریوں کے تحت دیا گیا ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے۔

ریاست یا کسی اور تنظیم کے ادارے کا نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے ایک منظم ڈھانچہ اور اصول وضع کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اسلام نکاح کو ایک نہایت اہم ادارہ قرار دیتا ہے۔ اسی لیے، اسلام نے اس ادارے کے اراکین—یعنی شوہر اور بیوی—کے لیے مخصوص حقوق اور ذمہ داریاں مقرر کی ہیں تاکہ یہ رشتہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہو اور معاشرتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اللہ کا حکم ہے کہ مرد اور عورت دونوں اپنے جسمانی اور جذباتی تعلقات میں ایک دوسرے کے لیے مخلص اور وفادار رہیں۔ اسلام میں اگر بیوی کماتی ہے تو وہ اس کی ذاتی ملکیت ہے اور وہ اسے خاندان کے اخراجات میں خرچ کرنے کی پابند نہیں۔اس کے برعکس، شوہر پر پورے خاندان کی مالی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔اگر خاندان کی ضروریات پوری نہ ہوں تو مکمل جواب دہی شوہر پر ہوگی اور اسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ان اضافی ذمہ داریوں کی وجہ سے، شوہر کو خاندان میں فیصلہ سازی کے عمل میں ایک بلند درجہ دیا گیا ہے۔ایسی صورت حال میں جہاں کسی معاملے پر اختلاف ہو اور کوئی متفقہ فیصلہ نہ ہو سکے، شوہر کو حتمی راے دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ اسلام میں مردوں کو وراثت میں زیادہ حصہ دیا گیا ہے، اور یہ تقسیم اس اصول پر مبنی ہے کہ مرد کو خاندان کی مالی کفالت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

یہ کسی قسم کی صنفی تفریق (Gender Discrimination) نہیں ہے، جیسا کہ پہلے وضاحت کی گئی کہ اسلام میں مرد اور عورت اللہ کی نظر میں برابر ہیں۔تاہم، یہ فرق نکاح کے معاہدے میں نمایاں ہوتا ہے، جہاں شوہر اور بیوی کے حقوق اور ذمہ داریوں کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ان ذمہ داریوں کے تحت خاندان کے نظم و نسق کو ایک متوازن اور منصفانہ نظام کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے۔ شوہر پر زیادہ بھاری ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں، خاص طور پر مالی کفالت کی، اسی لیے اسے خاندانی فیصلوں میں ایک بلند مقام دیا گیا ہے۔ اسی طرح، خاندانی نظام کے اندر، بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت کے حوالے سے ماں کو باپ پر فوقیت دی گئی ہے، جیسا کہ صحیح مسلم (رقم 6181) میں بیان کیا گیا ہے۔لہٰذا یہ معاملہ مرد یا عورت کی صنفی برتری کا نہیں بلکہ نکاح کے ادارے میں حقوق اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کا ہے۔

یہ بالکل منطقی بات ہے کہ چاہے وہ ایک ریاست ہو، ایک کارپوریٹ کمپنی ہو یا خاندان، جس فرد پر زیادہ ذمہ داری ہو، اسے فیصلہ سازی کے عمل میں زیادہ اختیار بھی دیا جائے۔ مردوں پر مالی ذمہ داری ڈالنا بھی کئی پہلوؤں سے معقول معلوم ہوتا ہے، کیونکہ مرد حمل اور بچوں کو دودھ پلانے کی جسمانی ضروریات سے آزاد ہیں، جو خواتین کی فطری ذمہ داریاں ہیں۔انسانی تاریخ اور موجودہ دور میں، چند جدید استثناءات کے علاوہ، روزی کمانا ایک نہایت مشقت طلب اور جسمانی طاقت کا کام رہا ہے، اور اس کے لیے مردوں کو زیادہ موزوں سمجھا گیا ہے۔خاندان یا ملک کی حفاظت مرد کی ذمہ داری سمجھی گئی ہے۔ فوجیں زیادہ تر مردوں پر مشتمل رہی ہیں، اور بندوقوں کے دور سے پہلے قبیلے یا خاندان کی حفاظت کے لیے جسمانی مشقت اور قوت کا بڑا عمل دخل تھا، جو عام طور پر مردوں کے سپرد تھا۔

لہٰذا یہ معقول معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے عمومی اصول کے تحت مرد پر زیادہ ذمہ داری عائد کی اور نتیجتاً اسے خاندانی فیصلہ سازی میں بلند مقام دیا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک عورت خاندان کی مالی ذمہ داری سنبھال لے تو کیا وہ خاندان کی سربراہ بن سکتی ہے؟ میری راے میں اس کا جواب ہاں میں ہے۔ اگر عورت باضابطہ طور پر خاندان کی مکمل مالی ذمہ داری قبول کر لے اور مرد اپنی مالی ذمہ داری اس کے سپرد کر دے تو ایسی صورت میں عورت خاندان کے ادارے کی سربراہ بن سکتی ہے۔

سوال 23: کیا قرآن نے ایک سیاسی نظام دیا ہے؟

جی ہاں، اسلام نے کچھ خاص سزائیں مقرر کی ہیں اور مسلم حکومتوں کو زکوٰۃ کی وصولی کا اختیار دیا ہے۔ اس کے علاوہ، قرآن سیاسی اور حکومتی نظام کے لیے چند بنیادی اصول فراہم کرتا ہے، لیکن یہ کسی مخصوص نظام کو لازمی قرار نہیں دیتا۔ آئیے، اس کی وضاحت کرتے ہیں۔

اگر ”سیاسی نظام“سے مراد ایک ایسا تفصیلی خاکہ ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ نمایندوں کا انتخاب کیسے ہوگا، ان کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی، اقتدار کی منتقلی کا طریقہ کیا ہوگا، عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی، اور حاکم کے اختیارات کیا ہوں گے تو نہیں۔ قرآن ان تفصیلات کو واضح طور پر بیان نہیں کرتا۔ اس لحاظ سے، قرآن کسی مخصوص سیاسی نظام کو تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کرتا۔

تاہم، قرآن کچھ اصول فراہم کرتا ہے جو معاشروں کے لیے اپنے نظام اور طرزِ عمل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ یہ اصول عمومی نوعیت کے ہیں، اور قرآن نے ان کی تفصیلات انسان کی عقل و فہم پر چھوڑ دی ہیں۔ مثال کے طور پر، سورۂ شوریٰ (آیت 38) میں فرمایا گیا ہے کہ مسلمان اپنے اجتماعی معاملات کو باہمی مشورے سے طے کریں۔ یہ ہدایت ظاہر کرتی ہے کہ عوامی معاملات کے فیصلے کرنے والے افراد کو عوامی مشاورت کے ذریعے سے منتخب کیا جانا چاہیے، اور اقتدار کی منتقلی بھی اسی اصول کے تحت ہونی چاہیے۔ تاہم، قرآن عوامی مشاورت کے لیے کوئی مخصوص طریقۂ کار بیان نہیں کرتا۔ اس معاملے میں مسلمانوں کو اپنی عقل و دانش کا استعمال کرتے ہوئے ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جو ان کے معاشرتی اور ثقافتی حالات کے مطابق ہو۔ مثال کے طور پر، وہ صدارتی نظام، پارلیمانی نظام، یا کوئی اور ایسا نظام اپنا سکتے ہیں جو ان کے حالات اور ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ قرآن مسلم معاشرے کے لیے کچھ دیگر عمومی رہنما اصول بھی دیتا ہے، جن میں انصاف کا قیام اور اس کی ضمانت، نیکی کے فروغ اور برائی کے خاتمے کی کوشش، کم زور اور محروم طبقات کی دیکھ بھال اور ان کی ضروریات پوری کرنا، مذہبی آزادی کی حفاظت اور ظلم و ستم سے تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔

اسلام ان عمومی اصولوں کو واضح کرتا ہے جن پر مسلمانوں کو اپنے سیاسی نظام کی بنیاد رکھنی چاہیے۔اس کے ساتھ، اسلام کچھ جرائم کے لیے مخصوص سزائیں بھی مقرر کرتا ہے، جن کی تفصیلات اگلی بحث میں بیان کی جائیں گی۔

لہٰذا اسلام کسی مخصوص سیاسی نظام کو لازم قرار نہیں دیتا، بلکہ ایسے وسیع اصول وضع کرتا ہے جن پر مسلمان اپنے معاشرتی اور سیاسی نظام کی بنیاد رکھ سکیں، اور مخصوص جرائم کے لیے واضح سزائیں بھی تجویز کرتا ہے۔

سوال 24: کیا اسلام جمہوریت کے خلاف ہے؟

ہرگز نہیں۔ قرآن سورۂ شوریٰ (آیت 38) میں مسلمانوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ اپنے اجتماعی معاملات کو باہمی مشورے سے طے کریں۔ جیسا کہ اوپر وضاحت کی گئی، قرآن مسلمانوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنی عقل و فہم استعمال کرتے ہوئے یہ طے کریں کہ اجتماعی فیصلوں میں عوام کو شامل کرنے کا کون سا طریقہ اختیار کیا جائے۔ یہ طریقہ صدارتی نظام، پارلیمانی نظام یا کوئی اور نظام ہو سکتا ہے جو ان کے معاشرتی اور ثقافتی حالات سے ہم آہنگ ہو۔

سوال 25: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تحت کیا حکومت مجھ پر اسلام نافذ کر سکتی ہے؟

قرآن کی ایک آیت جس میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا ہے، نہایت مشہور ہے اور اکثر اس کو خواتین کے لیے سر یا چہرے کو ڈھانپنے اور مردوں پر ڈاڑھی رکھنے جیسے احکامات کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر“ کا مطلب ہے: ”نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔“

یہ ہدایت قرآن میں مسلمانوں کو تین مقامات پر دی گئی ہے: سورۂ آل عمران (آیت 104)، سورۂ آل عمران (آیت 110) اور سورۂ توبہ (آیت 71)۔

اس حوالے سے تین اہم پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے:

1۔ ”امر“کا مفہوم: قرآن میں ”امر“کا مطلب کسی کام کا حکم دینا ہے، لیکن یہ کسی کو کسی عمل کی دعوت دینے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ (آیت 169) میں اس کا استعمال ہوا ہے۔ اس بنا پر یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اگر آپ کسی اختیار کے منصب پر فائز ہیں، جیسے حکومت یا پولیس تو آپ برائی کو زبردستی روکنے کا حق رکھتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ایک عام فرد ہیں تو آپ کا دائرہ اختیار صرف مشورہ دینے، نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے تک محدود ہے۔

2۔ ”معروف“اور ”منکر“کا مفہوم: اس آیت میں نیکی اور برائی کے لیے ”معروف“اور ”منکر“کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ معروف ان اعمال کو ظاہر کرتا ہے جو عمومی طور پر نیکی اور بھلائی تسلیم کیے جاتے ہیں، جب کہ منکر ان اعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے جو عمومی طور پر برے اور نقصان دہ سمجھے جاتے ہیں، چاہے وہ اسلامی اصول ہوں یا انسانی اخلاقیات کے عمومی معیارات۔ یہ الفاظ اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ حکومتوں کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ اسلام کی اپنی تشریح کو ہر معاملے میں دوسروں پر نافذ کریں۔بلکہ آیت یہ ہدایت دیتی ہے کہ حکومتیں ان چیزوں کو فروغ دیں جو معاشرے میں عمومی طور پر نیک اور بھلائی کی علامت سمجھی جاتی ہیں، جیسے دیانت داری، صفائی، انصاف، اور مہربانی اور ان اعمال کا سد باب کریں جو عام طور پر نقصان دہ اور برائی کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جیسے چوری، دھوکا دہی، فراڈ، ڈکیتی، تشدد اور ناانصافی۔

3۔ اسلامی احکام کے نفاذ کے لیے واضح اجازت: اگر کوئی حکومت اسلام کے نقطۂ نظر سے کسی چیز کو دوسروں پر نافذ کرنا چاہے تو اس کے لیے قرآن میں واضح اجازت ہونا ضروری ہے۔ یعنی، قرآن میں اس مخصوص معاملے میں حکومت کو یہ اختیار صراحت سے دیا ہو کہ وہ اسے زبردستی نافذ کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر قرآن حکومت کو زکوٰۃ کی وصولی کو زبردستی نافذ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔قرآن یہ بھی حکم دیتا ہے کہ کھلے عام زنا کے عمل کو روکا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے۔

اس سیاق میں، اگر قرآن کسی حکومت کو کسی خاص اسلامی حکم کو نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیتا تو اسے نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔مثال کے طور پر، خواتین کے سر یا چہرہ ڈھانپنے یا مردوں پر ڈاڑھی رکھنے کی پابندی کے فیصلے ایسے معاملات ہیں جنھیں حکومت کے ذریعے سے نافذ کرنے کا حق قرآن سے نہیں ملتا۔لہٰذا ہر شخص کو اپنی پسندیدہ اسلامی تشریح کے مطابق عمل کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے، اور اس پر کوئی حکومتی جبر نہیں ہونا چاہیے۔

ذاتی طور پر، میں اسلام کی اس تعبیر سے اتفاق رکھتا ہوں جو اس وقت جناب جاوید احمد غامدی پیش کر رہے ہیں۔ اس تعبیر کے مطابق مردوں پر ڈاڑھی رکھنا فرض نہیں ہے۔ خواتین کے لیے سر یا چہرہ ڈھانپنا لازم نہیں ہے؛ یہ ایک اختیاری نیکی ہے۔عوامی اجتماعات یا تقریبات میں صنفی علیحدگی (gender segregation) کو قرآن نے فرض قرار نہیں دیا۔قرآن کسی حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ان معاملات میں اپنی تعبیر اور تشریحات کو افراد پر زبردستی نافذ کرے۔

سوال 26: اسلامی شریعت میں کن جرائم کی اور کیا سزائیں مقرر کی گئی ہیں ؟

قرآن میں کچھ مخصوص جرائم کے لیے دنیوی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن کے تین بنیادی مقاصدہیں:

الف۔ گناہوں اور جرائم کی شدت کو نمایاں کرنا،

ب۔معاشرے میں ان جرائم کے خلاف روک تھام پیدا کرنا،

ج۔ اللہ کے غضب کا اظہار: یہ سزائیں ان افراد کے لیے ہیں، جو اللہ کی موجودگی اور اس کے احکامات کو تسلیم کرنے کے بعد بھی سنگین جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ سے کیے گئے تقویٰ اور وفاداری کے عہد کو توڑتے ہیں۔

قرآن مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ کچھ جرائم کے لیے اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں کا نفاذ کریں۔ یہ سزائیں خاص طور پر مسلمانوں پر لاگو ہوتی ہیں اور صرف مخصوص جرائم سے متعلق ہیں۔ تاہم، مسلمان اگر مناسب سمجھیں تو وہ کسی مجرم کے لیے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے کم درجے کی سزا دے سکتے ہیں۔

سورۂ مائدہ (آیت 32) میں بیان کیا گیا ہے کہ سزائے موت صرف دو جرائم کے لیے دی جا سکتی ہے: قتل، اور فساد فی الارض۔ فساد فی الارض سے مراد زمین پر فساد اور بدامنی پھیلانا ہے۔ اس میں وہ تمام جرائم شامل ہیں جن میں کسی شخص کے مال، جان، یا عزت کو نقصان پہنچتا ہے، جیسے زنا بالجبر (ریپ)، مسلح ڈکیتی، دہشت گردی اور اغوا وغیرہ۔

قرآن میں مخصوص جرائم کے لیے مقرر کردہ سزائیں یہ ہیں:

1۔ نکاح کے بغیر جنسی تعلقات: نکاح کے بغیر رضامندی سے قائم کیے جانے والے جنسی تعلقات کو عربی اور اردو میں ”زنا“کہا جاتا ہے اور یہ اسلام میں ایک نہایت سنگین جرم اور بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔قرآن نکاح کے دائرے سے باہر ہر قسم کے جنسی تعلقات کو سختی سے ممنوع قرار دیتا ہے۔ اسی لیے سورۂ نور (آیت 2) میں زنا کے جرم کے لیے 100 کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی ہے۔یہ بات واضح ہے کہ کسی پر زنا کا مقدمہ صرف اسی وقت درج کیا جا سکتا ہے جب چار معتبر اور قابل اعتماد گواہ اس جرم کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد، جرم کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، اور جرم غیر مشروط طور پر ثابت ہونے کے بعد ہی سزا دی جا سکتی ہے۔زنا بالجبر (ریپ)، جو فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے، کے مقدمے کے لیے چار گواہوں کی شرط لازم نہیں ہے۔

قرآن زنا کی سزا میں کسی فرد کی شادی شدہ یا غیر شادی شدہ حیثیت میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زنا کے مرتکب فرد، چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، دونوں کے لیے قرآن نے 100 کوڑوں کی سزا مقرر کی ہے۔ یہ سزا صرف اس وقت دی جاتی ہے جب چار ایسے معتبر گواہوں کی موجودگی میں مقدمہ درج ہو جنھوں نے یہ عمل ہوتے دیکھا ہو، اور پھرمکمل تحقیقات کے بعد جرم بغیر کسی ادنی درجے کے شک کے ثابت ہو جائے۔

یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض افراد کو زنا کے جرم پر موت کی سزا دی، جس کی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ شادی شدہ افراد کے لیے زنا کی سزا لازمی طور پر رجم (سنگساری) ہے۔تاہم، جب ان واقعات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ موت کی سزائیں صرف زنا کے جرم کی بنیاد پر نہیں دیں۔یہ سزائیں ان جرائم کے لیے تھیں جو قرآن میں فساد فی الارض کے زمرے میں آتے ہیں،17 جیسے زنا بالجبر (ریپ)، کھلے عام اور بار بار بدفعلی اور اسلامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی۔

2۔ قذف: قذف کا مطلب عمومی طور پر جھوٹی گواہی دینا ہے، اور خاص طور پر یہ کسی پر نکاح کے بغیر جنسی تعلقات کا جھوٹا الزام لگانے سے متعلق ہے۔یہ عمل قرآن میں ایک سنگین جرم قرار دیا گیا ہے، اور جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

3۔ چوری: قرآن چوری کو ایک سنگین جرم قرار دیتا ہے اور اگر کوئی نرمی کی گنجایش نہ ہو تو اس جرم کی دنیوی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر کی گئی ہے ۔ (المائدہ5: 38) تاہم، اگر مجرم کے حالات اور جرم کے پس منظر میں نرمی کی گنجایش ہو تو سزا میں تخفیف کی جا سکتی ہے اور کم درجے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

4۔ قتل: قتل کے جرم کی انتہائی دنیوی سزا موت ہے، بشرطیکہ مجرم کسی قسم کی نرمی یا معافی کا مستحق نہ ہو۔

5۔ حرابہ یا فساد فی الارض: جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، حرابہ یا فساد فی الارض ان جرائم کو کہتے ہیں جو زمین پر بدامنی اور انتشار کا سبب بنتے ہیں۔ ان جرائم میں زنا بالجبر، مسلح ڈکیتی، دہشت گردی، اور اغوا شامل ہیں۔قرآن میں ان جرائم کے لیے انتہائی دنیوی سزا موت یا دیگر سخت سزائیں ہیں جو شریعت میں مقرر ہیں ، (المائدہ : 33) بشرطیکہ مجرم نرمی کا مستحق نہ ہو۔

قرآن میں ارتداد اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے لیے کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی۔ اگر مسلمان ان معاملات پر قانون سازی کرنا چاہیں تو یہ ان کا اختیار ہے، لیکن انھیں قرآن کے اس اصول کی پابندی کرنی ہوگی کہ موت کی سزا صرف دو طرح کے جرائم میں دی جا سکتی ہے: قتل اور فساد فی الارض ۔

سوال 27: کیا اسلام میں توہین رسالت کی سزا موت ہے؟

تفصیلی حوالہ جات اور تجزیے کے لیے، جاوید احمد غامدی کی کتاب ”مقامات“کے باب ”توہین رسالت کی سزا“کا مطالعہ کریں۔

قرآن انتہائی واضح طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ موت کی سزا صرف دو جرائم کے لیے دی جا سکتی ہے: قتل اور فساد فی الارض۔ جیسا کہ اوپر تفصیل کی گئی، فساد فی الارض ایسے تمام جرائم کو شامل ہے جو معاشرے میں بدامنی پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کی جان، مال، اور عزت کو نقصان پہنچاتے ہیں، جیسے زنا بالجبر، مسلح ڈکیتی، بغاوت، اغوا، اور دہشت گردی وغیرہ۔

جو لوگ توہین رسالت کی سزا موت قرار دیتے ہیں وہ وہ اس فعل کو ”محاربہ“ (اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ) اور ”فساد فی الارض“ (زمین پر فساد) کے زمرے میں شامل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین، مذاق، اور بے ادبی کرنا، اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ چھیڑنے کے مترادف ہے اور یہ کسی کی عزت کو ناحق نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔یہ دلیل بہ ظاہر منطقی معلوم ہوتی ہے، لیکن محاربہ اور فساد فی الارض جیسے جرائم کے زمرے میں کسی فعل کو شامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مجرم مسلسل یہ جرم کرتا جائے اور واضح طور پر اپنے گستاخانہ رویے پر قائم رہے اور معاشرتی یا قانونی اداروں کی جانب سے مسئلہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود معافی مانگنے یا اپنے رویے سے رجوع کرنے سے انکار کرے۔ اگر کوئی شخص معاشرے کی طرف سے کوششوں اور حکومتی مداخلت کے باوجود اپنی گستاخی پر اصرار کرے اور اس کے رویے سے معاشرے میں بدامنی اور انتشار پھیل جائے تو ایسی صورت میں یہ فعل محاربہ یا فساد فی الارض کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

گستاخ رسول کے لیے موت کی سزا کے حامی ان مخصوص واقعات کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ افراد کو موت کی سزا دی۔ تاہم، جب ان واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان افراد کو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی بنیاد پر سزا نہیں دی گئی تھی، بلکہ ان کے دیگر سنگین جرائم بھی ان سزاؤں کا سبب تھے۔ مثال کے طور پر ابو رافع اسلام کا بدترین دشمن تھا، جس نے غزوۂ خندق کے وقت لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا اور مدینہ پر حملے کے لیے اکسایا تھا۔ اسی طرح کعب بن اشرف قریش مکہ کو مسلمانوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکانے میں ملوث تھا اور غزوۂ بدر کے بعد انھیں مدینہ پر حملے کے لیے اکساتا رہا۔ اس نے مسلم خواتین کے خلاف توہین آمیز مہمات چلائیں اور بعض روایات کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش بھی کی، حالاں کہ اس کا مسلمانوں کے ساتھ ایک امن معاہدہ موجود تھا۔عبداللہ بن خطل نے اپنے غلام کو قتل کیا اور مدینہ سے فرار ہو کر سزا سے بچنے کی کوشش کی۔ یہ تمام افراد گستاخی کے علاوہ دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ مزید یہ کہ قرآن کے قانون رسالت کے مطابق، یہ تمام افراد اللہ کےموجود رسول کو ناحق جھٹلانے کے بھی مرتکب تھے۔ مشرکین کے لیے اس جرم کی سزا موت تھی، جیسا کہ پہلے تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ کسی شخص کو محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی بنیاد پر موت کی سزا نہیں دی گئی۔

اس سلسلے میں دو احادیث بھی پیش کی جاتی ہیں: ایک روایت کے مطابق حضرت عمر نے ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے پر قتل کر دیا، اور دوسری روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب الفاظ ہیں: ”ان لوگوں کو قتل کر دو، جو اللہ کے نبیوں کی توہین کریں۔“ تاہم، اکثر محدثین نے ان دونوں روایات کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اس وجہ سےان روایات کو گستاخی پر موت کی سزا کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

حضرت عبداللہ بن عباس ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی صحابی تھے، کی ایک روایت بھی اس موضوع میں بہ طور شاہد پیش کی جاتی ہے، جس سے یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ گستاخی پر موت کی سزا اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہے۔ وہ فرماتے ہیں: جو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی بھی نبی کی توہین کرے یا مذاق اڑائے، وہ اللہ کے رسول کا انکار کرنے کا مرتکب ہوتا ہے، اور یہ ارتداد کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسے شخص سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اگر وہ توبہ کر لے تو اسے معاف کر دیا جائے گا؛ لیکن اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اور اگر کوئی غیر مسلم یہ عمل کرے تو وہ ہمارے اور ان کے درمیان موجود امن معاہدے کو توڑ دیتا ہے اور اسے بھی قتل کیا جائے گا۔18

جب اس مسئلے کو ہم اللہ کے ان قوانین کے تناظر میں دیکھتے ہیں جو رسول کے ساتھ خاص ہیں، جیسا کہ ہم نے پہلے تفصیل سے بیان کیا تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت ابن عباس کی یہ راے خاص طور پر ان افراد کے لیے تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کے براہِ راست مخاطب تھے۔قانون رسالت کے خاص قوانین کے تحت، رسولوں کے براہِ راست مخاطب، جو انھیں جھٹلاتے اور ان کی مخالفت کرتے ہیں، دنیوی سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں، مشرکین کو موت کی سزا دی گئی، جب کہ اہل کتاب کو مغلوب ہو کر جزیہ کے تحت زندگی گزارنے کا حکم دیا گیا۔ لہٰذا ان براہِ راست مخاطبین میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو قبول کرنے کے بعد انکار کرتے، انھیں انھی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا جو رسولوں کے مخالفین کے لیے مقرر کی گئی تھیں۔اسی طرح، وہ لوگ جو مسلمانوں کے ساتھ کیے گئے امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے، وہ بھی اللہ کے رسولوں کے ساتھ مخصوص قوانین کے تحت سزا کے مستحق قرار پاتے۔

اسلام میں محض گستاخی کے جرم پر کوئی خاص سزا مقرر نہیں کی گئی۔ تاہم، مسلمان اس جرم کے لیے قانون سازی کر سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ عمل محاربہ اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہو۔ یہ زمرے تب ہی لاگو ہوں گے جب گستاخی کرنے والا شخص کھلے عام اور مسلسل توہین آمیز رویے کا مظاہرہ کرے، تمام پرامن کوششوں کے باوجود اپنے عمل سے باز نہ آئے، اور معافی مانگنے یا اپنی روش درست کرنے سے انکار کرے۔

سوال 28: مسلمان غیر مسلموں کے خلاف کب جنگ لڑ سکتے ہیں؟

قرآن مسلمانوں کو مسلح جدوجہد کی اجازت تین بنیادی وجوہات کے تحت دیتا ہے۔ آئیے ان وجوہات کا مختصر تجزیہ کرتے ہیں:

1۔ سورۂ توبہ (آیت 5) میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیں اور سورۂ توبہ (آیت 29) میں یہود و نصاریٰ کے خلاف اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے جب تک کہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ ادا کرنے پر رضامند ہو جائیں، جو ان کی ماتحتی اور عاجزی کی علامت ہے۔ہم پہلے تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ مشرکین، یہود، اور نصاریٰ پر یہ حکم ان لوگوں کے ساتھ خاص تھا جو اللہ کے رسول کے براہِ راست مخاطبین تھے اور جب اللہ کے رسول بھی دنیا میں موجود تھے۔ قرآن کے مطابق، اللہ کے رسول کے موجود ہونے کی صورت میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ رسول کے براہِ راست مخاطبین پر اللہ کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے، جو یا تو ہدایت قبول کرتے ہیں یا اللہ کی طرف سے سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ چونکہ حضرت محمد آخری رسول ہیں، اس لیے ان کے بعد کوئی نیا رسول نہیں آئے گا اور نہ ہی دنیا میں اللہ کا کوئی ایسا نیا فیصلہ نافذ ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمان کسی غیر مسلم کے خلاف محض اس کے عقائد کی بنیاد پر جنگ نہیں کر سکتے۔

2۔ سورۂ بقرہ (آیات 190-191) میں واضح کیا گیا ہے کہ جنگ کی اجازت صرف اس صورت میں دی گئی ہے جب مسلمانوں کو اپنے دفاع کی ضرورت ہو۔

3۔ سورۂ نساء (آیت 75) اور سورۂ حج (آیات 39-40) میں ان حالات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں جنگ کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ اگر کسی قوم یا جماعت پر واضح اور کھلا ظلم، ناانصافی یا پرسیکیوشن ہو تو مسلمانوں کو جارح قوت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے کی اجازت ہے۔

پہلی وجہ کے تحت اجازت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے براہ راست مخاطبین کے لیے مخصوص تھی، جو ان پر اللہ کے رسول کی حیثیت سے نافذ شدہ احکامات کا حصہ تھی۔دوسری اور تیسری وجہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہیں۔ان وجوہات کی بنا پر بھی مسلمان اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھا سکتے ہیں، یا کھلے اور واضح ظلم، ناانصافی، اور پرسیکیوشن کے خلاف لڑ سکتے ہیں۔تاہم، یہ شرط بھی لازمی ہے کہ یہ جنگ صرف کسی جائز اور قانونی سربراہ یا حکمران کے تحت کی جائے، جیسا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے:

”ایمان والو، (یہ خدا کی بادشاہی ہے، اِس میں) اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور اُن کی بھی جو تم میں سے معاملات کے ذمہ دار بنائے جائیں۔“

(النساء 4 :59)

اگر لوگ یہ محسوس کریں کہ ان کے حکمران اپنے فرائض درست طریقے سے انجام نہیں دے رہے ہیں اور انھیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تو انھیں حکمرانوں کو تبدیل کرنے کے لیے پرامن جدوجہد اختیار کرنی چاہیے۔قرآن سورۂ شوریٰ (آیت 38) میں ہدایت دیتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے اجتماعی معاملات باہمی مشورے سے طے کرنے چاہییں۔

یہ بات درست ہے کہ کچھ غیر معمولی اور انتہائی حالات ہو سکتے ہیں جن میں حکمرانوں کے خلاف مسلح جدوجہد کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم، عام اصول کے مطابق، قرآن کے حکم کے تحت، حکمرانوں کو تبدیل کرنے کے لیے پرامن جدوجہد اور مشاورت کا راستہ ہی اللہ کی مرضی کے مطابق ہے۔

سوال 29: کیا اسلام میں غلامی کی اجازت ہے؟

نہیں۔ آئیے، اس کی وضاحت کرتے ہیں۔

جنگ کے نتیجے میں نئے غلام بنانے کی ممانعت: اسلام میں کسی آزاد شخص کو غلام بنانا قطعی ممنوع ہے۔ اس کے علاوہ غلام بنانے کا صرف ایک اور طریقہ تھا۔ اسلام سے پہلے کسی بھی مقصد سے کی گئی جنگ کے بعد کامیاب فریق دوسری طرف کے قیدیوں کو غلام بنا لیتا تھا۔ لیکن قرآن نے اس رواج کو ختم کر دیا۔ سورۂ محمد (آیت 4) میں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ جنگی قیدیوں کو یا تو فدیہ لے کر آزاد کیا جائے یا احسان کے طور پر رہا کر دیا جائے۔یہ آیت نئے غلام بنانے کے تمام دروازے بند کر دیتی ہے۔

لہٰذا اسلام کے مطابق نہ تو کسی آزاد شخص کو غلام بنایا جا سکتا ہے اور نہ ہی جنگ کے ذریعے سے نئے غلام پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

پہلے سے موجود غلاموں کا کیا کیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تقریباً ہر گھر میں غلام موجود تھے—مرد، عورتیں، بچے، اور بوڑھے—۔لہٰذا سوال یہ پیدا ہوا کہ پہلے سے موجود ان غلاموں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ آئیے، اس مسئلے کے لیے قرآن کی رہنمائی کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

قرآن کا موجودہ غلاموں کے انتظام کا منصوبہ اور ان کی آزادی کے لیے معاشی خودمختاری کی حوصلہ افزائی: قرآن نے تمام غلاموں کی فوری آزادی کا حکم اس لیے نہیں دیا کیونکہ اس وقت کی کم ترقی یافتہ دنیا میں ایسا اقدام ایک انسانی بحران کا باعث بن سکتا تھا۔اگر غلامی کو اچانک ختم کر دیا جاتا تو مختلف عمروں کے لاکھوں مرد، عورتیں، اور بچے بے سہارا ہو جاتے، اور ان کے پاس گزر بسر کے لیے صرف بھیک مانگنے یا جسم فروشی جیسے غیر اخلاقی راستے ہی بچتے۔اسی لیے قرآن نے موجودہ غلاموں کے لیے status quo کو برقرار رکھا، لیکن ساتھ ہی ان کی حالت بہتر بنانے اور انھیں معاشی خودمختاری کے ذریعے سے آزادیِ حصول کے لیے واضح ہدایات دیں۔

سورۂ نور (آیت 33) میں قرآن یہ حکم دیتا ہے کہ غلاموں کے ساتھ مکاتبت، رسمی معاہدے، کیے جائیں، جس کے تحت اگر وہ اپنی معاشی کفالت کی اہلیت ظاہر کریں تو انھیں آزادی دی جائے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ بھی حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے مال میں سے ایک حصہ غلاموں کو دیں تاکہ وہ معاشی طور پر خودمختار ہو سکیں اور آزادی حاصل کر سکیں۔

قرآن غلاموں کو آزاد کرنے کے عمل کو ایک ایسی عظیم نیکی قرار دیتا ہے کہ اسے مسلمانوں کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنایا گیا ہے ۔ (النساء4: 92، المجادلہ58: 3)۔مزید یہ کہ قرآن میں زکوٰۃ کے مقاصد میں سے ایک مقصد غلاموں کو آزاد کرنا بھی بیان کیا گیا ہے۔ (التوبہ9: 60)

سورۂ نساء (آیت 36) میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے غلاموں کے ساتھ رحمدلی، مہربانی اور حسن سلوک کریں۔ ان معاشروں میں یہ معمول تھا کہ مرد اپنی لونڈیوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم رکھتے تھے۔ قرآن اس روایت کا ذکر کرتے ہوئے، سورۂ نور (آیت 32) میں مسلمانوں کو ترغیب دیتا ہے کہ اگر ممکن ہو تو مرد اور خواتین اپنے غلاموں کے ساتھ نکاح کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی ہدایات کو مزید واضح کیا اور غلاموں کے حقوق کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اپنے صحابہ سے فرمایا:

”انھیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو، اور وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔ ان پر کوئی ایسا کام نہ ڈالو جو وہ انجام نہ دے سکیں؛ اور اگر ایسا کام دو تو خود بھی ان کی مدد کرو ۔“

( بخاری، رقم 30۔ مسلم، رقم 1661)

اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلم دنیا میں غلامی کا سلسلہ جاری رہا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نئے غلام بنانے کے دروازے بند کر دیے۔ قرآن نے موجودہ غلاموں کے انتظام کے لیے واضح احکامات دیے تاکہ ان کی حالت بہتر ہو اور غلام بنانے اور رکھنے کے اس عمل کو بغیر کسی انسانی بحران کو جنم دیے تدریجی طور پر ختم کیا جا سکے۔

سوال 30: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ قبطیہ سے نکاح کیوں نہیں کیا اور ان کے ساتھ اسلامی تعلیمات کے مطابق کیسا برتاؤ کیا؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو 628-629 عیسوی میں اسکندریہ کے گورنر کی جانب سے ایک باندی، حضرت ماریہ قبطیہ ، بہ طور تحفہ دی گئیں۔ اسی زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری زوجہ حضرت میمونہ سے نکاح کیا۔یہ وہ دور تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے دشمنوں کی جانب سے چلائی جانے والی مہمات کے ردعمل میں اپنی زندگیوں پر کچھ اضافی پابندیاں رضاکارانہ طور پر قبول کیں۔ ان کی اس وفاداری اور قربانی سے خوش ہو کر اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۂ احزاب (آیت 52) میں حکم دیا کہ آپ مزید کسی عورت سے نکاح نہیں کر سکتے اور نہ ہی اپنی کسی زوجہ کو طلاق دے سکتے ہیں۔ غالباً اسی حکم کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ قبطیہ سے نکاح نہیں کیا، لیکن ان کے ساتھ قرآن کے غلاموں کے انتظام سے متعلق احکامات کے مطابق بہترین سلوک کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ قبطیہ کو گورنر کو واپس کیوں نہیں کیا یا انھیں آزادی دے کر کسی اور سے نکاح کی اجازت کیوں نہیں دی؟ اس سوال کا قطعی جواب ہمارے پاس موجود نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ حضرت ماریہ قبطیہ خود ایسا نہ چاہتی ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق سے ماخوذ عزت و وقار کو ترجیح دیتی ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت دنیا کے سب سے بااثر اور محترم شخصیات میں سے تھے اور ان کے ساتھ وابستگی حضرت ماریہ کے لیے ایک غیرمعمولی اعزاز ہو سکتی تھی۔ یہ بات یقینی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماریہ قبطیہ کے ساتھ قرآن کی تعلیمات کے مطابق بہترین سلوک کیا۔ حضرت ماریہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے، حضرت ابراہیم کو جنم دیا، جو افسوس ناک طور پر بچپن میں ہی وفات پا گئے۔ حضرت ماریہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر ازواج کی طرح عزت دی گئی اور انھی”امہات المومنین“ (یعنی مومنین کی مائیں) کا اعزاز عطا کیا گیا۔

سوال 31: کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے نصف برابر ہے؟

اسلام کے بارے میں ایک عام تصور یہ ہے کہ عدالت میں عورت کی گواہی کو مرد کی گواہی کے مقابلے میں نصف سمجھا جاتا ہے۔

اس تصور کی بنیاد قرآن کی سورۂ بقرہ (آیت 282) کی تفسیر پر ہے۔ اس آیت میں مالی معاہدوں میں گواہی کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو قرض دے تو معاہدے کو تحریری شکل دی جائے اور دو مرد گواہ بنائے جائیں۔اگر دو مرد موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنایا جائے۔ قرآن اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر ایک عورت بھول جائے یا ہچکچاہٹ کا شکار ہو تو دوسری عورت اسے یاد دلائے اور اس کی مدد کرے۔یہ ہدایت اس وقت کے سماجی پس منظر کو مدنظر رکھ کر دی گئی تھی، جب خواتین عمومی طور پر مالی معاملات اور تجارتی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوتی تھیں۔ تجارتی قافلوں کے ساتھ سفر کرنا یا کاروباری معاہدے کرنا ان کا معمول نہیں تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سورۂ بقرہ (آیت 282) میں بیان کردہ اصول صرف مالی معاہدوں اور قرض کے معاملات سے متعلق ہے اور عدالت میں جرم کے خلاف گواہی دینے کے اصولوں پر اس کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ محولہ بالا آیت میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ مشہور عالم دین، مصطفٰی خطّاب اس بات کی وضاحت یوں کرتے ہیں:

”اسلامی اصولوں کے مطابق کسی امر کا گواہ بننے اور عدالت میں شہادت دینے میں بنیادی فرق ہے۔ سورۂ بقرہ (آیت 282) میں قرض کے معاہدے پر گواہ بننے کی بات کی گئی ہے، نہ کہ عدالت میں کسی جرم کے خلاف گواہی دینے کی۔ اس آیت کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ 1500 سال پہلے خواتین عمومی طور پر تجارتی معاملات میں شامل نہیں ہوتی تھیں اور نہ ہی وہ تجارتی قافلوں کے ساتھ سفر کرتی تھیں۔ ایسے وقت میں ہر عورت کو مالی معاہدوں میں گواہ بننے کی مہارت حاصل نہ تھی۔ اس لیے اگر دو عورتوں کے گواہ بننے کی تجویز دی گئی تو اس کا مقصد یہ تھا کہ اگر ایک عورت معاہدے کی تفصیلات یاد نہ رکھ سکے یا کسی مجبوری، جیسے حمل یا زچگی، کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہو سکے تو دوسری عورت اس کی معاونت کرے۔ کچھ علما کا موقف ہے کہ اگر ایک عورت قابل اعتماد ہو تو وہ اکیلے گواہ بننے کے لیے کافی ہے۔ جہاں تک عدالت میں شہادت دینے کا تعلق ہے، قرآن کے مطابق فیصلہ دستیاب گواہی پر کیا جاتا ہے، چاہے گواہوں کی تعداد یا جنس کچھ بھی ہو۔ مثال کے طور پر رمضان کے آغاز کی تصدیق نئے چاند کے دیکھنے پر مبنی ہوتی ہے اور گواہ کی جنس کو اہمیت نہیں دی جاتی۔اسلام میں سب سے معتبر گواہی یہ ہے کہ کوئی شخص یہ بیان دے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست کوئی بات یا روایت سنی۔مستند احادیث کو تمام مسلمان قبول کرتے ہیں، چاہے ان کے راوی مرد ہوں یا عورتیں۔مزید برآں، اگر کوئی شوہر اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو دونوں کو پانچ مرتبہ قسم کھانی ہوتی ہے کہ وہ سچ کہہ رہے ہیں اور دوسرا فریق جھوٹا ہے۔ان دونوں کی گواہیاں قرآن کے مطابق برابر مانی جاتی ہیں(النور24 :6-10)۔ “19

اہم نوٹ: کچھ احادیث میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتیں عقل اور دین کے معاملے میں ناقص ہیں۔ تاہم، جب ان احادیث کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ عورتوں کی عقل یا دینی حیثیت مردوں سے کم تر ہے۔بلکہ آپ اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خواتین پر دنیوی اور دینی ذمہ داریوں کے حوالے سے نسبتاً کم بوجھ ڈالا ہے۔ اس تخفیف میں عورتوں کی فطری ضروریات اور حالات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ دنیوی امور میں اللہ نے خواتین کو وہ ذمہ داریاں نہیں سونپیں جو مردوں پر عائد کی گئی ہیں۔ مثلاً، خواتین کو خاندان کی مالی کفالت کی ذمہ داری سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ دینی امور میں بھی خواتین کو خصوصی سہولتیں دی گئی ہیں۔ خواتین پر جمعہ کی نماز کے لیے مسجد جانا لازم نہیں کیا گیا۔انھیں جنگوں میں شرکت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ حیض کے دنوں میں نماز اور روزے معاف کر دیے گئے ہیں، لیکن ان اعمال کا اجر پھر بھی انھیں ملتا ہے۔

اوپر بیان کردہ نکات کی تفصیل اور حوالہ جات کے لیے آپ میرا پوڈکاسٹ ”Conversing Islam with Hamza Ali Abbasi – Episode 11 “دیکھ سکتے ہیں، جو یوٹیوب چینل”Ghamidi Center of Islamic Learning “ پر دستیاب ہے۔ اس قسط میں خواتین سے متعلق مذکورہ غلط فہمیوں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔

سوال 32: واقعہ بنو قریظہ کن حالات و واقعات میں پیش آیا ؟ اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب غیرمنصفانہ مظالم کے دعووں کا کیا جواب ہے؟

اس موضوع کی تفصیلات اور حوالہ جات کے لیے ”23 اعتراضات کے جواب میں : حصہ 83، اتمام حجت“کے عنوان سے جاوید احمد غامدی کا لیکچر دیکھیں، جو غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ کے یو ٹیوب چینل پر دستیاب ہے۔

بنو قریظہ کے مردوں کے قتل کا واقعہ اسلام کے ناقدین کے لیے بڑی بحث کا موقع ہے۔ اس واقعے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہود پر مظالم کی مثال کے طور پر سمجھا اور پیش کیا جاتا ہے۔آئیے، اس واقعے کے پس منظر اور حالات کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ آیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کا کوئی جواز ہے یا نہیں۔

مدینہ میں بنیادی طور پر تین یہودی قبائل آباد تھے: بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے حکمران بنے تو آپ نے ان قبائل کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا۔اس معاہدے میں طے پایا گیا کہ یہ تمام فریق مدینہ کا دفاع باہمی تعاون سے کریں گے۔ایک دوسرے کے ساتھ اخلاص اور خیر خواہی پر مبنی تعلقات قائم کریں گے اور باہمی اعتماد کی فضا کو برقرار رکھیں گے۔20

بنو قینقاع وہ پہلے قبیلہ تھا جس نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی۔غزوۂ بدر کے بعد ان کی مسلمانوں کے خلاف دشمنی شدت اختیار کر گئی۔اس دوران میں چند جھڑپیں ہوئیں، جن میں ایک واقعہ بنو قینقاع کے بازار میں پیش آیا، جہاں ایک مسلمان خاتون کو بے لباس کر کے بے عزت کیا گیا۔اس واقعے کے نتیجے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی قتل ہو گئے، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع کے سرداروں سے ملاقات کی اور انھیں ان کے معاہدے کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی۔لیکن بجاے اس کے کہ وہ معاہدے کی پاس داری کرتے، انھوں نے مزید تشدد کی دھمکیاں دیں۔ اس قبیلے کے سردار کعب بن اشرف کو مسلمانوں نے اس کے جرائم کی وجہ سے قتل کر دیا۔ اس کے جرائم میں ایک جرم یہ تھا کہ اس نے مکہ کا سفر کر کے وہاں کے مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا اور انھیں مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی خفیہ سازش تیار کی۔ یہ سب کعب بن اشرف نے اس وقت کیا جب وہ اور اس کا قبیلہ مسلمانوں کے ساتھ امن معاہدے اور مدینہ کے مشترکہ دفاع کے معاہدے کا پابند تھا، جسے اس نے خود تسلیم کیا تھا۔ بنو قینقاع کے باقی افراد کے ساتھ نرمی برتی گئی اور انھیں مدینہ سے جلاوطن کر دیا گیا۔

مدینہ کے دوسرے یہودی قبیلے، بنو نضیر، نے بھی مسلمانوں کے ساتھ اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ غزوۂ اُحد کے دوران میں، انھوں نے مدینہ کے دفاع میں حصہ نہیں لیا۔ یہ ان کی طرف سے معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھی۔ مزید برآں، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی اور یہ منصوبہ بنایا کہ کہ جب رسول ایک چٹان کے نیچے تشریف فرما ہوں گے تو ان پر ایک بھاری پتھر گرا دیا جائے۔ ان سنگین خلاف ورزیوں کے باعث، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو مدینہ چھوڑنے کے لیے دس دن کا الٹی میٹم دیا۔ جب انھوں نے اس حکم کو نظرانداز کیا تو مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کر دیا یہاں تک کہ انھوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے باوجود، مسلمانوں نے ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا۔انھیں مدینہ چھوڑنے کی اجازت دی گئی۔تاہم، انھیں اپنے ہتھیار ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔

بار بار کی یہ نرمی بعد میں مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔بنو نضیر نے مدینہ سے نکالے جانے کے بعد مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی سازش کی اور قریش اور دیگر قبائل کو مسلمانوں کے خلاف ایک بڑا لشکر جمع کرنے پر اکسایا۔ یہ لشکر دس ہزار جنگجوؤں پر مشتمل تھا، جو مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے مدینہ پر چڑھ دوڑا۔ یہ حملہ غزوۂ خندق (627 عیسوی) کی صورت میں ہوا، جو اسلام کے وجود کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا، کیونکہ مدینہ میں مسلمانوں کی آبادی چند ہزار سے زیادہ نہ تھی۔

اس نازک موقع پر مدینہ میں موجود تیسرے یہودی قبیلے، بنو قریظہ، کی غداری سامنے آئی۔ مدینہ کا دفاع کرنے کے بجاے، انھوں نے دشمن فوج کے ساتھ خفیہ مذاکرات شروع کر دیے اور مسلمانوں کے خلاف سازش کی۔ غزوۂ خندق کے بعد، بنو قریظہ کے ساتھ وہ نرمی نہیں کی گئی جو بنو قینقاع اور بنو نضیر کے ساتھ کی گئی تھی۔ یہ خدشہ تھا کہ اگر بنو قریظہ کو جلاوطن کیا گیا تو ان کے جنگجو دشمن کی صفوں میں شامل ہو کر مسلمانوں پر ایک اور بڑا حملہ کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ان میں سے لڑائی کی عمر کے تمام جنگجو مردوں کوسزاے موت دی گئی۔

عورتوں اور بچوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ یہ سوال واقعی نہایت حساس تھا کہ ان سیکڑوں عورتوں اور بچوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے، جو اپنے بالغ مردوں کے قتل کی وجہ سے مسلمانوں سے شدید نفرت رکھتے تھے۔ قرآن میں پہلے ہی سورۂ محمد (آیت 4) میں جنگی قیدیوں کے حوالے سے ہدایت دی جا چکی تھی، جس میں کہا گیا کہ جنگی قیدیوں کو یا تو فدیہ لے کر آزاد کیا جائے یا احسان کے طور پر چھوڑ دیا جائے۔لیکن سوال یہ تھا کہ ان خواتین اور بچوں کو آزاد کرنے کے بعد ان کی کفالت کون کرے گا؟ منٹگمری واٹ ( W. Montgomery Watt ) اور ڈینئل پیٹرسن (Daniel C. Peterson ) کے مطابق، موجود شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دیگر یہودی قبائل، خاص طور پر بنو نضیر، نے ان قیدیوں کے لیے فدیہ ادا کیا اور ان کی رہائی ممکن بنائی۔21

منٹگمری واٹ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہودیوں کے خلاف اقدامات مذہبی تعصب یا یہودیوں کو مدینہ سے نکالنے کی کسی مہم کا حصہ نہیں تھے، بلکہ یہ اقدامات مدینہ میں پیدا ہونے والے سنگین حالات کا ناگزیر ردعمل تھے۔ وہ لکھتےہیں:

”کچھ یہودیوں کا مدینہ میں موجود رہنا بعض یورپی اسکالرز کے الزام کے خلاف ایک مضبوط دلیل ہے۔ ان اسکالرز کا دعویٰ ہے کہ ہجرت کے دوسرے سال کے بعد رسول اللہ نے تمام یہودیوں کو صرف ان کے یہودی ہونے کی وجہ سے مدینہ سے نکالنے کی پالیسی اپنائی اور یہ پالیسی وقت کے ساتھ سخت ہوتی گئی۔ تاہم، رسول اللہ اس طرح کا طرزِ عمل اختیار نہیں کرتے تھے۔ آپ نے ہمیشہ حالات کے اصولی تقاضوں اور اپنے طویل مدتی اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن رویہ اختیار کیا۔ اسی روشنی میں اور حالات کے تغیرپذیر محرکات کے تناظر میں آپ اپنی حکمتِ عملی وضع کرتے اور روزمرہ کے فیصلے کرتے۔ پہلے دو یہودی قبائل (بنو قینقاع اور بنو نضیر) کے خلاف کیے گئے اقدامات وقتی ضرورت کے تحت تھے، لیکن ان کے پیچھے گہرے اسباب بھی کارفرما تھے۔یہودی قبائل قرآن پر زبانی تنقید کر کے مسلمانوں کی جماعت کی بنیادوں کو کم زور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔وہ رسول اللہ کے دشمنوں اور منافقین کو سیاسی مدد فراہم کرتے تھے۔ تاہم، جب یہودیوں نے معاندانہ رویہ ترک کر دیا تو رسول اللہ نے انھیں مدینہ میں سکون سے رہنے دیا۔“ 22

بنو قریظہ کے واقعے کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں، اور ان میں تفصیلات کا فرق پایا جاتا ہے۔ کچھ مورخین، جیسے برکت احمد اور ولید عرفات اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر قتل عام ہوا تھا۔

تاریخ ایک نہایت حساس اور پیچیدہ موضوع ہے، جس میں ایک ہی واقعے کے بارے میں مختلف اور اکثر متضاد بیانات موجود ہوتے ہیں۔قطعی طور پر یہ طے کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا کہ کون سی روایت حقیقی ہے اور کس پر اعتبار کیا جائے۔ مثال کے طور پر 9/11 کے افسوس ناک واقعے کو لے لیجیے۔اکثریت کا ماننا ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ پر عائد ہوتی ہے، لیکن ایک قابل ذکر تعداد، خاص طور پر مسلم دنیا میں، یہ سمجھتی ہے کہ یہ یہودیوں یا سی آئی اے کی سازش تھی تاکہ مسلم ممالک پر حملوں کا جواز پیدا کیا جا سکے۔اسی لیے، جب کسی تاریخی واقعے پر راے قائم کی جائے تو ان پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو عمومی طور پر تسلیم شدہ ہیں اور ان باریکیوں سے گریز کرنا چاہیے جن میں تضاد پایا جاتا ہو۔

بنو قریظہ کے معاملے میں یہ بات مسلم ہے کہ ان کے لڑنے کے قابل مردوں کی ایک بڑی تعداد کو سزاے موت دی گئی۔ یہ بھی تقریباً یقینی ہے کہ ان سے پہلے دو یہودی قبائل، بنو قینقاع اور بنو نضیر، کو مدینہ سے جلاوطن کیا گیا تھا۔ اگر مسلمان مؤرخین کی طرف سے بنو قینقاع اور بنو نضیر کی غداری اور ان کے بعد مدینہ پر حملے کے لیے لشکر اکٹھا کرنے کے بیانات درست ہیں تو ساتویں صدی کے سخت قبائلی ماحول میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بنو قریظہ کے خلاف اقدامات مدینہ کی ریاست کے تحفظ کے لیے ضروری تھے۔ بنو قینقاع اور بنو نضیر کی واضح غداری کے باوجود، ان کے ساتھ نرمی برتی گئی۔ تاہم، اس نرمی کے نتیجے میں مسلمانوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا، جس نے مدینہ کی ریاست اور اسلام کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا۔ اگر بنو قریظہ کے ساتھ بھی وہی نرمی کی جاتی اور انھیں صرف جلاوطن کیا جاتا تو یہ خطرہ تھا کہ ان کے جنگجو بنو نضیر اور قریش کے مشرکین کے ساتھ مل کر مدینہ پر ایک اور بڑا حملہ کر سکتے تھے۔یہ بھی ممکن ہے کہ بنو قینقاع اور بنو نضیر کے ساتھ کی گئی نرمی نے بنو قریظہ کو غداری پر اکسایا ہو۔ اس لیے، بنو قریظہ کے مردوں کو سزا دینے کا اقدام نہ صرف مدینہ کی ریاست کے تحفظ کے لیے ضروری تھا، بلکہ یہ ایک واضح پیغام بھی تھا کہ غداری کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

سوال 33: کیا قرآن مسلمانوں کو غیر مسلموں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہےاور متعلقہ قرآنی آیات کو کس سیاق و سباق میں سمجھنا چاہیے؟

قرآن کی بعض آیات بہ ظاہر یہ تاثر دیتی ہیں کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں سے دوستی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ تاہم، جب ان آیات کو ان کے سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ ہدایات خاص طور پر ان غیر مسلم گروہوں کے بارے میں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلمانوں کے خلاف دشمنی میں ملوث تھے۔ یہ کوئی دائمی اور عمومی حکم نہیں ہے۔

مثال کے طور پر سورۂ مائدہ (آیت 51) میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

”ایمان والو، تم اِن یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور (یاد رکھو کہ) تم میں سے اگر کوئی (اِس تنبیہ کے باوجود) اِنھیں اپنا دوست بناتا ہے تو اُس کا شمار پھر اِنھی میں ہے۔حقیت یہ ہے کہ اللہ اِس طرح کے ظالموں کو کبھی راہ نہیں دکھاتا۔“

جب اس آیت کو اگلی آیت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ ہدایت عمومی طور پر تمام غیر مسلموں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ان یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلمانوں کے خلاف کھلی دشمنی میں ملوث تھے۔یہ آیات مسلمانوں کو متنبہ کرتی ہیں کہ خود ان کے درمیان منافقین موجود ہیں جو شکست سے خائف رہتے ہیں۔ قرآن مزید کہتا ہے کہ یہ منافقین شکست کے خوف سے ان دشمن گروہوں سے دوستی کرتے ہیں، لیکن جب اللہ مسلمانوں کو فتح عطا کرے گا تو وہ اپنے رویے پر پچھتائیں گے۔یہ سیاق اور تناظر سورۂ مائدہ کی آیات 51-52 کے مجموعی مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے۔

”ایمان والو، تم اِن یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور (یاد رکھو کہ) تم میں سے اگر کوئی (اِس تنبیہ کے باوجود) اِنھیں اپنا دوست بناتا ہے تو اُس کا شمار پھر اِنھی میں ہے۔حقیت یہ ہے کہ اللہ اِس طرح کے ظالموں کو کبھی راہ نہیں دکھاتا۔ چنانچہ تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے، وہ اِن سے پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔ سو بہت ممکن ہے کہ اللہ( تم کو) فتح دے یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کر دے تو اِنھیں اُس چیز پر پچھتانا پڑے جو اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں۔“

سورۂ ممتحنہ (آیات 8-9) اسی معاملے کی مزید وضاحت کرتی ہے۔ارشاد فرمایا:

”اللہ تمھیں اِس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ بے شک، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اللہ جس بات سے تم کو روکتا ہے، وہ یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے اور تمھارے نکالنے میں دوسروں کی مدد کی ہے۔ (وہ اِس سے روکتا ہے اور تمھیں متنبہ کرتا ہے کہ) جو اِس طرح کے لوگوں سے دوستی کریں گے، وہی ظالم ہیں۔“

ہم اس سے قبل سورۂ توبہ کی آیات 5 اور 29 پر بات کر چکے ہیں۔ ان آیات میں غیرمسلموں کے خلاف اس وقت تک جنگ کرنے، انھیں قتل کرنے اور سرنگوں کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ اسلام قبول نہیں کرتے۔ رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق جب رسول اس دنیا میں اپنے مخاطبین کے درمیان موجود ہوتا ہے تو یہ جنگ، قتل اور قیدی بنانا اس سزا کا حصہ ہوتا ہے، جو رسول کے ان منکرین کے خلاف اللہ تعالیٰ نافذ کراتا ہے جو بغیر کسی عذر کے ان کا انکار کریں، ان سے لڑیں، اور انھیں مذہبی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنائیں۔ سورۂ توبہ کی یہ آیات خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کے بارے میں تھیں، جو آپ کو ناحق جھٹلاتے اور دشمنی کرتے تھے۔یہ آیات مسلمانوں کو غیر مسلموں سے تعلقات کے بارے میں ایک عمومی یا دائمی پالیسی نہیں دیتیں۔

قرآن کے مطابق، تمام انسان آدم اور حوا علیہما السلام کی اولاد ہیں اور اس لحاظ سے سب ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں۔ غیر مسلموں کو دشمن کے طور پر نہیں، بلکہ انسانیت کا حصہ سمجھا گیا ہے، جن کے ساتھ محبت، باہمی تعاون اور احترام کے ساتھ رہنا چاہیے اور ان تک اللہ تعالیٰ کا پیغام مکمل خیر خواہی سے پہنچانا چاہیے۔

سوال 34: کیا معراج ایک جسمانی سفر تھا؟

اگر واقعی اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تو کیا وہ کسی انسان کو ایک پر والے گھوڑے پر سوار کر کے اعلیٰ کائناتی ابعاد میں لے جا سکتا ہے؟ بے شک، اللہ ایسا کرنے پر مکمل طور پر قادر ہے۔عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج جسمانی تھی۔ تاہم، جب قرآن اور احادیث کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معراج کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تجربات جسمانی نہیں تھے۔ یہ دراصل چار مختلف مواقع تھے، جن میں آپ کو سچے خوابوں اور رؤیا کے ذریعے سے حقیقی واقعات دکھائے گئے۔بعد میں حدیث کے راویوں نے ان مختلف مواقع کو ایک واقعے کے طور پر پیش کیا اور معراج کو جسمانی سفر کے طور پر بیان کیا۔آئیے، ان چار مواقع کو تفصیل سےدیکھتے ہیں۔

اس سلسلے کا پہلا موقع وہ ہے جس کا ذکر سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ملتا ہے۔ فرمایا:

”ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے اُس دور کی مسجد تک لے گئی جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے تاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک، وہی سمیع و بصیر ہے۔“

اسی سورہ کی آیت 60 اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ واقعہ ایک ”رؤیا“ تھا۔عربی لفظ رؤیا کا اردو مطلب خواب ہے۔ پیغمبروں کے خواب عام انسانوں کے خوابوں جیسے نہیں ہوتے۔یہ خواب حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں، جو کبھی لفظی اور کبھی علامتی یا تشبیہی شکل میں بیان ہوتے ہیں۔

میرے خیال میں، معراج کے خواب کی سب سے موزوں تشریح، جیسا کہ جاوید احمد غامدی صاحب نے پیش کی ہے، یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کی مسجد (مسجد حرام) اور یروشلم کی مسجد (مسجد اقصیٰ) دکھا کر دراصل تمثیلی طور پر یہ اشارہ دیا کہ آپ اور آپ کے قریبی ساتھی ان دونوں مقامات، جو اللہ کے دین کے لحاظ سے خاص اہمیت رکھتے ہیں، کے حکمران بن جائیں گے۔

کچھ لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس آیت میں عربی لفظ ”رؤیا“کسی خواب یا ”vision “کے بجاے کسی چیز کو مادی طور پر دیکھنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یہ دلیل کم زور ہے کیونکہ قرآن میں کئی جگہ ”رؤیا“کو خواب یا وژن کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔مثال کے طور پر سورۂ صافات (آیت 105)،سورۂ یوسف (آیات 5، 43 اور 100)، سورۂ فتح (آیت 27) میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح حدیث کی کتب میں بھی ”رؤیا“کا ذکر کئی مرتبہ آیا ہے، اور ہر جگہ اس سے خواب یا vision ہی مراد ہے۔

دوسرا موقع وہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر جانا اور مختلف انبیا سے ملاقات کرنا بیان ہوا ہے۔صحیح بخاری (رقم 7517) سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بھی ایک خواب تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد حرام میں سوتے ہوئے دیکھا تھا۔ حضرت انس بن مالک کی روایت کے مطابق، حضرت جبریل دو فرشتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کے دل اور دیگر اعضا کو دھویا، اور پھر آپ کو آسمانوں پر لے گئے۔وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات مختلف انبیا اور خود اللہ تعالیٰ سے ہوئی۔ اسی سفر کے دوران میں آپ کو جنت کے مناظر دکھائے گئے اور پانچ وقت کی نماز کا حکم ملا۔ یہ روایت واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں سو رہے تھے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ ایک خواب تھا نہ کہ جسمانی سفر۔

تیسرا اور چوتھا موقع وہ ہے جس کا ذکر سورۂ نجم (آیات 1-18) میں ملتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کو یقین دلایا ہے کہ آپ کسی قسم کے وہم یا خیال کے شکار نہیں ہیں۔درحقیقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل کو ان کی اصل شکل میں دو بار اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سورۂ نجم کی یہ آیات حقیقی مشاہدات کی نشان دہی کرتی ہیں، جو آنکھوں کے ذریعے سے دیکھے گئے، برخلاف پہلے اور دوسرے واقعے کے، جو خواب یا رؤیا پر مبنی تھے۔

یہ چاروں مختلف واقعات ہیں، جنھیں بعد کے مورخین اور حدیث کے راویوں نے ایک ہی بیانیہ میں یکجا کر کے معراج کے مقبول عام واقعے کے طور پر پیش کیا۔

سوال 35: کیا قرآن مسلمانوں کو ایک قوم قرار دیتا ہے؟

نہیں، قرآن مسلمانوں کو ایک قوم قرار نہیں دیتا۔اگرچہ بہت سے مسلمان یہ خواہش رکھتے ہیں کہ تمام مسلمان ایک ہی متحدہ ملک کے تحت رہیں—اور یہ خواہش بجا بھی ہے، کیونکہ میں خود بھی چاہتا ہوں کہ مسلمان متحد ہوں اور ایک طاقت ور قوم بنیں—لیکن قرآن مسلمانوں پر یہ مذہبی فرض عائد نہیں کرتا کہ وہ ایک ہی حکمران یا ریاست کے تحت زندگی گزارنے کی جدوجہد کریں۔قرآن میں مسلمانوں کو سورۂ حجرات (آیت 10) میں ”بھائی بھائی“یا ”ایک برادری“کہا گیا ہے۔ اسلام کسی قومیت یا قومی نظریے پر مبنی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک آفاقی پیغام ہے۔جو کوئی بھی اسلام قبول کرے، وہ مسلم برادری کا حصہ بن سکتا ہے۔

سوال 36: کیا کسی ایسے شخص کو کافر یا غیر مسلم قرار دیا جا سکتا ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہو؟

تفصیلی جواب کے لیے، یوٹیوب چینل غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ پر جاوید احمد غامدی صاحب کی ویڈیو سیریز ” 23اعتراضات کے جواب میں: تکفیر“ملاحظہ کریں۔

قرآن میں لفظ ”کافر“ان افراد کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو جان بوجھ کر اسلام کو رد کرتے ہیں یا حق کو دل سے پہچاننے کے باوجود بے بنیاد وجوہات سے مسترد کرتے ہیں۔ ہم نے اس تصور کو پانچویں باب میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔

ایسے افراد کا کیا معاملہ ہے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلام کا انکار نہیں کرتے، لیکن ایسے عقائد رکھتے ہیں جو واضح طور پر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں؟ اگر وہ قرآن، سنت اور حدیث کے حوالے سے اپنے عقائد کو درست ثابت کرنے کی کوشش کریں اور اصرار کریں کہ وہ مسلمان ہیں تو ان کی کیا حیثیت ہو گی؟ کیا قرآن میں کوئی ضابطہ ہے جومسلمان علما کو اجازت دیتا ہے کہ ہم ایسے افراد کو بھی اسلام سے خارج کر کے کافر قرار دیں؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ اس جواب کی تفصیل ذیل میں پیش ہے۔

اسلام میں مختلف فرقے اور گروہ موجود ہیں جو خود کو مسلمان کہتے ہیں لیکن ان کے عقائد ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کچھ کے نظریات اور اختلافات دوسرے گروہ کے نزدیک بنیادی اسلامی تعلیمات ہی کے بالکل الٹ ہیں۔ مثال کے طور پر ایک گروہ یہ مانتا ہے کہ مسلمانوں کا رہنما اللہ خود مقرر کرتا ہے۔ دوسرے گروہ کا دعویٰ ہے کہ مسلمانوں کو باہمی مشورے سے اپنا حکمران منتخب کرنا چاہیے۔ تیسرا گروہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ نے اولیا اور انبیا کی روحوں کو اُس کی طرف سے کائنات کے معاملات چلانے کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے لوگ بڑی شدت سے اس کا انکار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کا کوئی انتظام کیا ہو، بلکہ قرآن میں بڑے زور سے تاکید کی ہے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں شریک نہیں ہے۔ مزید برآں، کچھ مسلمان نبوت کے خاتمے کے بارے میں بھی مختلف آرا رکھتے ہیں۔ ایک گروہ کا عقیدہ ہے کہ نبوت ختم ہو چکی ہے، لیکن غیر تشریعی نبی آ سکتے ہیں۔ دوسرے کا عقیدہ ہے کہ نبوت کا ہر قسم کا سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ ہر فرقہ دوسرے فرقے کے عقائد کو غلط اور بعض اوقات کفر سے تعبیر کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اللہ نے کسی انسان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کسی کو اسلام سے خارج کر دے؟ اس کا جواب ہے: نہیں۔

قرآن کے مطابق اس فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے کہ کون سچا مسلمان ہے اور کون کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس یہ اختیار ہے کیونکہ وہی جان سکتا ہے کہ کسی کے دل میں کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ اختیار حاصل تھا کیونکہ وہ وحی کے ذریعے سے یہی بات جان سکتے تھے اور کسی کے ایمان یا کفر کا فیصلہ کر سکتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، اگر کوئی شخص جو خود کو مسلمان کہتا ہے، کسی ایسے عقیدے پر یقین رکھتا ہو جو واضح طور پر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو تو یہ فیصلہ کرنا ناممکن ہے کہ وہ شخص واقعی کسی غلط فہمی کا شکار ہے یا جان بوجھ کر کسی غلط عقیدے کو اپنائے ہوئے ہے۔لہٰذا دوسروں کو صرف یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس شخص کے عقیدے میں موجود خامیوں کی نشان دہی کریں اور اس پر دلیل کے ساتھ گفتگو کریں۔تاہم، کسی کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ ایسے شخص کو اسلام سے خارج کرے یا اسے کافر قرار دے۔

میں اپنی بات کو کچھ ذاتی مثالوں سے واضح کرنا چاہوں گا۔

کچھ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اولیا اور انبیا کو اللہ کے اختیار میں حصہ دار بنایا گیا ہے اور وہ اللہ کے نمایندے کے طور پر کائنات کے معاملات چلاتے ہیں۔یہ افراد ان اولیا اور انبیا سے دعائیں کرتے ہیں اور ان کی ایسی تعظیم کرتے ہیں جو صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ میری راے میں، ان کا یہ عقیدہ قرآن کے اس اصول کے خلاف ہے کہ اللہ اپنے اختیار میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ اس کا اختیار مطلق ہے اور کسی کے ساتھ تقسیم نہیں ہوتا۔ کیا میں ایسے عقائد رکھنے والے مسلمانوں کو کافر قرار دے سکتا ہوں؟ نہیں۔

کچھ مسلمان ایسے ہیں جو ”حقیقتِ محمدی“ کے تصور کو مانتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دراصل اللہ کی ذات کا انسانی شکل میں مظہر تھے۔ اسی طرح، کچھ لوگ ”وحدت الوجود“کے نظریے کے قائل ہیں، جس کے مطابق پوری کائنات اور اس میں موجود ہر چیز اللہ کا مادی مظہر ہے۔ میری راے میں، یہ عقائد قرآن کی اس تعلیم کے خلاف ہیں جو اللہ کی وحدانیت اور یکتائی کو واضح کرتی ہے۔ اللہ قرآن میں بارہا یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ بے مثال اور یکتا ہے، اور اس کی کوئی شبیہ یا مادی مظہر نہیں۔ کیا میں ایسے عقائد رکھنے والے مسلمانوں کو کافر قرار دے سکتا ہوں؟ بالکل نہیں۔

کچھ مسلم گروہوں کا اعتقاد ہے کہ مختلف اولیا اور مقدس شخصیات کو اللہ تعالیٰ نے براہِ راست لوگوں کی رہنمائی کے لیے مقرر کیا ہے، اور ان کے مشن کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ ان سے براہ راست بات چیت کرتا رہتا ہے۔ یہ تصور قرآن کے اس اصول کے خلاف ہے جو واضح کرتا ہے کہ اللہ لوگوں کی رہنمائی صرف انبیا اور رسولوں کے ذریعے سے کرتا ہے اور جنھیں براہِ راست وحی کے ذریعے سے ہدایت دی جاتی ہے۔ کیا میں ایسے عقائد کے حامل مسلمانوں کو کافر قرار دے سکتا ہوں؟ نہیں۔

بعض مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نبوت کے خاتمے کا معنی یہ ہے کہ اب نئی شریعت لانے والے نبی نہیں آ سکتے، مگر ایسے غیر تشریعی نبی آ سکتے ہیں، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور دین کے تابع ہوں۔ یہ عقیدہ قرآن کی واضح تعلیمات اور متعدد احادیث کے خلاف ہے، جو یہ بیان کرتی ہیں کہ ہر طرح کی نبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔ کیا میں ان عقائد والے مسلمانوں کو کافر قرار دے سکتا ہوں؟ نہیں۔

قرآن اور حدیث میں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اسلام کے دائرے سے خارج کر کے کافر قرار دیا جائے۔ قرآن مختلف مقامات پر یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ ہدایت یافتہ کون ہے اور گم راہ کون ہے، اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ سورۂ نحل (آیت 125) میں ارشاد ہوتا ہے: ”یقیناً تیرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ اُن کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت پانے والے ہیں۔“

قرآن اصرار کرتا ہے کہ انسانوں کو صرف ایک دوسرے کو دین کی تعلیم دینے تک محدود رہنا چاہیے اور ایمان کے معاملات میں جج بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون واقعی مسلمان ہے اور کون نہیں۔

سورۂ حجرات (آیت 11) میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو برے القابات سے نہ پکاریں۔

مشہور مفسرین جیسے طبری، عکرمہ اور مجاہد اس آیت کی تشریح میں بیان کرتے ہیں کہ کسی مسلمان کو کافر کہنا بھی اسی ممانعت کے زمرے میں آتا ہے۔

متعدد احادیث میں واضح طور پر مسلمانوں کو ایک دوسرے کو کافر قرار دینے سے روکا گیا ہے۔ مثال کے طور پر یہ ارشادات نبوی دیکھیے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کسی مسلمان پر یا فرمایا کہ کسی بندۂ مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ اِسی طرح ہے، جیسے اُس نے اُس کوقتل کردیا اورجس نے اُس پر لعنت کی،اُس نے بھی گویا اُسے قتل کردیا ۔“ (جامع معمر بن راشد، رقم 19710)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سے کوئی بھی آدمی اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں سے کوئی ایک اس کا مستحق بن جاتا ہے، اگر اس نے کہا، جیسا کہ وہ تھا اور اگر نہیں تو یہ اسی کی طرف پلٹے گا ۔“ (صحیح مسلم، رقم 60)

قرآن اور حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ایمان کے معاملات میں حتمی فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کیا جائے گا۔ دنیا میں لوگوں کو ان کی اپنی شناخت کے مطابق قبول کیا جائے گا۔ جو لوگ خود کو غیر مسلم یا کافر قرار دیتے ہیں، انھیں غیر مسلم یا کافر کہا جا سکتا ہے۔ لیکن جو لوگ خود کو مسلمان کہتے ہیں، چاہے ان کے عقائد میں کتنی ہی خامیاں کیوں نہ ہوں، انھیں غیر مسلم یا کافر قرار دینا درست نہیں۔ اگر کسی مسلمان گروہ کے عقائد میں نقائص ہوں تو دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان عقائد کی اصلاح کے لیے استدلال اور تعلیم کا راستہ اپنائیں۔ لیکن کسی مسلمان کو کافر یا غیر مسلم قرار دینا کسی انسان کے اختیار میں نہیں۔

سوال 37: کیا طوفان نوح عالمی واقعہ تھا اور کیا انھیں تمام جانوروں کے جوڑے کشتی میں سوار کرنے کا حکم دیا گیا تھا؟

اگرچہ ماضی میں ایک عالمی طوفان کے وقوع پذیر ہونے کے شواہد موجود ہیں، لیکن قرآن واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ حضرت نوح کا طوفان عالمی نہیں تھا۔حضرت نوح اللہ کے رسول تھے، اور جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا، اللہ کا دنیوی عذاب عام طور پر ان لوگوں پر نازل ہوتا ہے جو کسی رسول کے براہ راست مخاطب ہوتے ہیں اور اس کے پیغام کو جانتے بوجھتے بغیر عذر کے مسترد کرتے ہیں۔ لہٰذا حضرت نوح کا طوفان ان کے براہ راست مخاطبین میں سے انکار کرنے والوں کے لیے ایک خاص عذاب تھا، جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ ایک علاقائی طوفان تھا، نہ کہ عالمی۔

قرآن میں حضرت نوح کو کشتی میں جانوروں کے جوڑے سوار کرنے کا جو حکم دیا گیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے تمام حیوانات کے جوڑوں کو جمع کیا جائے۔بلکہ یہ حکم ان جانوروں تک محدود تھا جو حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کی بقا اور ضروریات کے لیے کافی ہوں۔ تصور کریں کہ آپ سفر کے لیے روانہ ہو رہے ہیں اور اپنے ساتھی سے کہتے ہیں کہ تمام ضروری سامان پیک کریں۔آپ کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف وہی سامان لیا جائے جو اس سفر کے لیے ضروری ہے، نہ کہ دنیا کے تمام سامان کو اکٹھا کیا جائے۔اسی طرح، حضرت نوح کو بھی ان جانوروں کو کشتی میں سوار کرنے کا حکم دیا گیا جو ان کے اور ان کے ساتھیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوں۔

سوال 38: کیا ہمیں زندگی کے اس امتحان میں ڈالنے سے پہلے اس کے متعلق پوچھا گیا تھا؟ اگر ہاں تو ہمیں یہ انتخاب یاد کیوں نہیں؟

قرآن میں اس موضوع پر غور و فکر کے لیے دو آیات پیش کی جا سکتی ہیں:

1۔ سورۂ اعراف (آیت 172):اس آیت میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی ارواح کو پیدا کیا اور ان سے یہ اقرار لیا کہ اللہ ہی ان کا رب اور خالق ہے۔

2۔ سورۂ احزاب (آیت 72): یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان نے خود اس دنیوی امتحان سے گزرنے کا انتخاب کیا۔

یہ آیات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اس دنیا میں ہماری موجودگی ہمارا اپنا انتخاب تھا۔ تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں دنیا سے ماورا یہ واقعات اور اس امتحان میں شرکت کا ہمارا فیصلہ یاد کیوں نہیں؟ دنیا میں آنے سے پہلے ہمارے وجود کی اصل حالت کیا تھی؟

جاوید احمد غامدی صاحب اور دیگر اسکالرز کا موقف ہے کہ اللہ نے ہماری شعوری یادداشت سے ان واقعات کو مٹا دیا ہے تاکہ اس دنیوی امتحان کا مقصد پورا ہو۔یہ منطق پر مبنی بات ہے، کیونکہ اگر ہمیں واضح طور پر یہ یاد ہوتا کہ ہم نے اللہ کو دیکھا ہے اور اس امتحان میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے تو امتحان کا بنیادی مقصد، یعنی آزادیِ انتخاب ختم ہو جاتا۔ اگر کوئی شخص اللہ کو واضح طور پر دیکھ چکا ہو یا یہ جانتا ہو کہ اس نے اللہ کے وجود کا اقرار کیا تھا تو وہ اسے رد کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ اسی لیے اس دنیا میں اللہ کی نشانیاں ہمارے اندر اور ہمارے ارد گرد موجود ہیں، لیکن اس دنیوی وجود سے پہلے کے ان واقعات کی شعوری یادداشت کو مٹا دیا گیا ہے تاکہ انسان اپنے فیصلے آزادی اور شعور کے ساتھ کرے۔

میری ذاتی راے ، جو میرے دوست اور معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ریحان احمد یوسفی (المعروف ابو یحییٰ) کی راے سے ملتی ہے، یہ ہے کہ چونکہ قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ تمام انسانی ارواح کو دنیا میں آنے سے پہلے ایک ساتھ پیدا کیا گیا اور یہ بھی ذکر کرتا ہے کہ ہم نے دنیوی امتحان سے گزرنے کا انتخاب خود کیا تو اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ہم نے اس امتحان کی تفصیلات بھی خود طے کیں۔اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں آنے سے پہلے ہم نے خود یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں کن حالات کا سامنا کرنا ہے، چاہے وہ اچھے ہوں یا برے۔ یعنی ہر وہ صورت حال جس کا ہم اس دنیا میں سامنا کرتے ہیں، وہ ہماری اپنی مرضی اور اختیار کے مطابق طے کی گئی تھی ۔

ذاتی مشاہدہ: ذہنی معذور افراد اور بچوں کی موت کی حکمت۔ میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق، یہ موقف انسانی وجود کی مختلف حالتوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم نے خود اس دنیوی امتحان اور احتساب کا انتخاب کیا تھا تو منطقی طور پر یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ کچھ ارواح نے اپنے لیے ایک محفوظ راستہ چنا ہوگا۔ ایسی ارواح نے جنت میں داخل ہونے کی خواہش کی، لیکن قیامت کے دن کی جواب دہی کے امتحان سے بچنا چاہا۔ یہ ارواح دنیا میں یا تو ذہنی معذور افراد کے طور پر آتی ہیں یا ان بچوں کے طور پر جو بلوغت سے پہلے وفات پا جاتے ہیں۔ چونکہ یہ افراد اخلاقی فیصلوں کی مکمل جواب دہی کے قابل نہیں ہوتے، اس لیے قیامت کے دن ان سے کسی قسم کی جواب دہی نہیں ہوگی۔نتیجتاً، انھیں جنت کے بنیادی شہری ہونے کا درجہ حاصل ہوگا۔ یہ افراد دنیا میں دوسروں کے لیے آزمایش کا سبب بنتے ہیں، اگرچہ خود وہ تکلیف برداشت کرتے ہیں۔

سوال 39: یہ کیوں اہم ہے کہ انسان جسے سچ سمجھتا ہے، اس پر عمل کرے، چاہے اس کا یقین حقیقت سے مختلف ہو؟

اگرچہ ہم اس نکتے پر پہلے بھی بات کر چکے ہیں، لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے دوبارہ یہاں بیان کرنا ضروری ہے۔

قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ لوگ اس حق پر اخلاص سے عمل کریں جسے وہ اپنی سمجھ کے مطابق حق مانتے ہیں، چاہے ان کے یقین کی بنیاد غلط ہو۔اللہ کے نزدیک ایمان کا اخلاص اور عمل کی سچائی سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

سورۂ بقرہ (آیت 187) میں یہی حقیقت ایک مثال کے ذریعے سے سمجھائی گئی ہے۔ اس آیت میں اشارہ ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ نے غلطی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ رمضان کے مہینے میں رات کے وقت بھی میاں بیوی کے تعلقات ممنوع ہیں ۔ یہ صحابہ اس غلط یقین کے باوجود روزہ کھولنے کے بعد رات کے وقت اپنی بیویوں کے پاس گئے۔ قرآن نے وضاحت کی کہ ان کا یہ اعتقاد غلط تھا کہ رمضان کی راتوں میں میاں بیوی کے تعلقات ممنوع ہیں۔ البتہ قرآن نے ان صحابہ کو یہ تنبیہ بھی کی جو اس عمل کو ممنوع مانتے ہوئے بھی رمضان کی راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس گئے۔ قرآن کا پیغام یہ ہے کہ اگر آپ اخلاص کے ساتھ کسی بات کو اللہ کا حکم سمجھتے ہیں تو اس پر عمل کرنا چاہیے، چاہے آپ غلط فہمی میں ہوں۔ مذکورہ آیت کا ترجمہ یہ ہے:

”(تم پوچھنا چاہتے ہو تو لو ہم بتائے دیتے ہیں کہ) روزوں کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا تمھارے لیے جائز کیا گیا ہے۔ وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے دیکھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اُس نے تم پر عنایت فرمائی اور تم سے درگذر کیا۔چنانچہ اب (بغیر کسی تردد کے) اپنی بیویوں کے پاس جاؤ اور (اِس کا)جو (نتیجہ) اللہ نے تمھارے لیے لکھ رکھا ہے، اُسے چاہو، اور کھاؤ پیو، یہاں تک کہ رات کی سیاہ دھاری سے فجر کی سفید دھاری تمھارے لیے بالکل نمایاں ہو جائے۔ پھر رات تک اپنا روزہ پورا کرو۔ اور ہاں، تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو رات کو بھی بیویوں کے پاس نہ جانا۔ یہ اللہ کی مقررکی ہوئی حدیں ہیں، سو اِن کے قریب نہ جاؤ۔ اللہ اِسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔“

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اپنی تفسیر”تفہیم القرآن“ میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ابتدا میں اگرچہ اس قسم کا کوئی صاف حکم موجود نہ تھا کہ رمضان کی راتوں میں کوئی شخص اپنی بیوی سے مباشرت نہ کرے، لیکن لوگ اپنی جگہ یہی سمجھتے تھے کہ ایسا کر نا جائز نہیں ہے۔ پھر اس کے ناجائز یا مکروہ ہونے کا خیال دل میں لیے ہوئے بسا اوقات اپنی بیویوں کے پاس چلے جاتے تھے۔ یہ گویا اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت کا ارتکاب تھا اور اس سے اندیشہ تھا کہ ایک مجرمانہ اور گناہ گارانہ ذہنیت اُن کے اندر پرورش پاتی رہے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے اس خیانت پر تنبیہ فرمائی اور پھر ارشاد فرمایا کہ یہ فعل تمھارے لیے جائز ہے۔ لہٰذا اب اسے بُرا فعل سمجھتے ہوئے نہ کرو، بلکہ اللہ کی اجازت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے قلب و ضمیر کی پوری طہارت کے ساتھ کرو۔“(1/ 145)

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ قرآن یہ چاہتا ہے کہ انسان جسے وہ حق سمجھتا ہے، اس پر اخلاص سے عمل کرے، چاہے اس کا یقین غلط ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم، قرآن یہ بھی چاہتا ہے کہ انسان ہمیشہ اللہ اور دین کے بارے میں کسی بھی معقول بات کو سننے اور اس پر غور کرنے کے لیے تیار رہے، اور تعصب سے بالاتر ہو کر سچائی کا تجزیہ کرے۔ ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ قرآن وعدہ کرتا ہے کہ قیامت کے دن مخلص اور سچے دل سے کی گئی غلطیاں معاف کر دی جائیں گی، لیکن جان بوجھ کر کی گئی لاپروائی اور ضد کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

__________

خلاصہ اور خاتمہ

میری اپنی ذات کی نوعیت اور میرے ارد گرد پھیلی ہوئی حقیقت بار بار مجھے یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی رہی کہ یہ سب کچھ کہاں سے آیا اور اس کے وجود کا مقصد کیا ہے؟ میرے ذہن میں مسلسل کئی سوالات گردش کرتے رہے، جیسے کہ کیا کائنات کے پیچھے کوئی معروضی مقصد ہے یا سب کچھ بے مقصد ہے؟ میں نے ان سوالات کو بارہا نظرانداز کیا تاکہ زندگی کے فوری پیش آمدہ مسائل اور مقاصد پر توجہ دے سکوں۔زندگی بہ ظاہر بہت اچھی گزر رہی تھی، لیکن ایک خیال بار بار میرے دل و دماغ کو بے چین کرتا رہا—اللہ کے سامنے جواب دہی کا تصور۔

میں موت کے بعد کی جواب دہی اور خدا کی طرف سے انعامات اور سزاؤں کے بارے میں سنتا رہا۔ یہ خیالات ہر روز کسی نہ کسی صورت میں میرے سامنے آتے رہے۔ چاہے وہ ٹیلی ویژن پر کسی مباحثے سے اٹھے ہوں، سوشل میڈیا پر کسی نے پیش کیے ہوں، اخبارات میں مذکور ہوں یا میرے دوستوں اور خاندان والوں کی گفتگو میں سامنے آئے ہوں۔ یہ خیالات میرے ذہن کو مسلسل جھنجوڑتے رہے اور بے چینی کا باعث بنتے رہے۔اگر ان سب باتوں میں کچھ حقیقت ہو تو کیا ہوگا؟ اگر واقعی خدا موجود ہوا تو؟ اور سب سے اہم سوال، اگر واقعی کوئی اخروی جواب دہی ہوئی، جہاں میرے اعمال کی بنیاد پر میرا حساب لیا جائے اور وہ حساب میرے اچھے یا برے دائمی انجام کا تعین کرے، تو؟

یہ منظر نامے نہایت سنگین نتائج کے حامل تھے۔ جتنا زیادہ میں نے ان خیالات کو سنا، اتنا ہی زیادہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ ان موضوعات پر سنجیدگی سے غور کرنا اور معقول نتیجے پر پہنچنا ناگزیر ہے، تاکہ میں اپنی زندگی کو اسی کے مطابق گزار سکوں۔ اگر یہ ثابت ہوا کہ خدا موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اخروی جواب دہی ہے تو پھر مجھے کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایسی صورت میں فوری دنیوی فائدے اور لذتوں کا حصول ہی میرا واحد مقصد ہونا چاہیے۔لیکن اگر دوسرا امکان زیادہ معقول نظر آتا ہے—کہ خدا کا وجود ہے اور اخروی احتساب بھی حقیقت ہے—تو پھر اُس جواب دہی میں کامیابی میرا اولین مقصد ہونا چاہیے۔ مجھے یہ اندازہ تھا کہ اس معاملے میں قطعی اور حتمی جوابات حاصل کرنا شاید ممکن نہ ہو، لیکن اس موضوع کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، کسی معقول نتیجے تک پہنچنا ضروری تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس مسئلے کو نظرانداز کر کے زندگی گزارنا سنگین غفلت کے مترادف ہوگا۔

ابتدا میں الحاد جدید (new atheism) کے پرجوش حامیوں کی تقاریر سے متاثر ہو کر، میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ خدا کا کوئی وجود نہیں اور اگر خدا نہیں تو کوئی اخروی جواب دہی بھی نہیں۔تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ عقلی تقاضوں نے مجھے بے چینی میں مبتلا کرنا شروع کر دیا۔ اگر کائنات میں خدا کا کوئی تصور نہ ہو، تب بھی میں مجبور ہوں کہ کسی نہ کسی ابتدائی جوہر یا ”علت اولیٰ “پر یقین رکھوں، جس سے سب کچھ وجود میں آیا ہو۔ یہ بات غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے کہ یہ ابتدائی جوہر کسی طرح وہ تمام ضروری عناصر رکھتا ہے جو وقت کے ساتھ شعور جیسی پیچیدہ حقیقت میں تبدیل ہو گئے—جیسے آپ اور میں ہیں—۔ ہم شعور رکھتے ہیں، عقل رکھتے ہیں، اخلاقی حس رکھتے ہیں اور جمالیاتی ذوق رکھتے ہیں۔ ہم حسن اور قبح، دونوں کو سمجھ سکتے ہیں۔مزید برآں، یہ بنیادی حقیقت اس دنیا کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔یہ دنیا اتنی زرخیز اور متنوع ہے کہ یہ ہماری شعوری اور حسی ضروریات کو پورا کرتی ہے، ہمیں خوب صورتی، موسیقی، ذائقے، رنگ، اور وہ سب کچھ فراہم کرتی ہے جو ہم چاہتے ہیں اور جس کی ہمیں خواہش ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ ہمارے ارد گرد کی حقیقت کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ یہ نہایت شان دار انداز میں ہماری سمجھ میں آتی ہے اور ہمارے لیے انتہائی مفید ہے۔ یہ ہمیں ہر قسم کے وسائل اور اوزار فراہم کرتی ہے تاکہ ہم جو بھی مقصد حاصل کرنا چاہیں، اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا سکیں، چاہے وہ پتھر کے زمانے کی ضروریات ہوں، صنعتی انقلاب کی ترقی، پرواز کے خواب ہوں، یا معلومات اور خلا کے ادوار کی جستجو، ہم نے اس حقیقت کو نہایت شان دار انداز میں سمجھا اور اس سے فائدہ اٹھا کر اپنے منصوبے پورے کیے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ بے جان مادہ محض اتفاقی اور بے ترتیب عملوں کے ذریعے سے اس حیرت انگیز کائنات کو وجود میں لے آئے؟

ابتدا میں الحاد کی طرف میرے رجحان کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ خدا، روح اور آخرت جیسے تصورات صرف مذہبی خیالات ہیں، جنھیں سائنس، طب اور دیگر غیر مذہبی علوم کے ماہرین نے قطعی طور پر رد کر دیا ہے۔ میرے نزدیک ان تصورات پر یقین رکھنا گویا سائنس اور ”حقیقی دنیا “کے تسلیم شدہ حقائق کے خلاف جانا تھا۔ لیکن میری یہ سوچ اس وقت غلط ثابت ہوئی جب غیر مذہبی افراد کی تحقیقات، نظریات اور دریافتیں میرے سامنے آئیں۔ ان میں ایسے خیالات شامل تھے جو کائنات کی تخلیق کے پیچھے کسی ذہن کے امکان کی گواہی دیتے تھے—جو مجھے ”خدا“جیسا لگا—اور یہ تصور کہ میرا وجود میرے مادی دماغ سے علیحدہ ہو سکتا ہے—جو ”روح“کے تصور سے مشابہ تھا۔ اسی طرح، ان ماہرین کا یہ تصور کہ جسمانی موت کے بعد بھی میرا وجود کسی صورت برقرار رہ سکتا ہے مجھے ”آخرت“کی مانند محسوس ہوتا تھا۔ اگرچہ میں یہ مانتا ہوں کہ یہ نظریات قطعی طور پر ثابت نہیں ہوئے، لیکن مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ غیر مذہبی افراد، بہ شمول وہ لوگ جو خود کو ملحد یا لاادری کہتے ہیں، ان تصورات کو ممکن قرار دیتے ہیں۔یہ تجربہ میرے اس یقین کو ختم کرنے کے لیے کافی تھا کہ خدا، روح اور آخرت جیسے تصورات محض مذہبی افسانے ہیں، جنھیں غیر مذہبی دنیا نے متفقہ اور قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔

مزید یہ کہ ڈی این اے ، جو زندگی اور جان داروں کی تخلیق کے لیے کوڈ شدہ ہدایات پر مشتمل ہے، جیسی دریافتیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ کائنات کے پیچھے ایک شعوری ذہن کارفرما ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کئی معتبر سائنسی ماہرین نے نظریاتی انکشافات کیے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کائنات کی ساخت میں شاید کوڈ شدہ معلومات ڈالی گئی ہیں۔ آج کے دور میں کوڈ شدہ ہدایات کا واحد معلوم ماخذ انسانی ذہن ہی ہے۔ لہٰذا یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر قدرت کے سب سے بنیادی عملوں کو ممکن بنانے کے لیے کوڈ شدہ ہدایات موجود ہیں تو وہ غالباً کسی شعوری ذہن سے ماخوذ ہوں گی۔ یہ کہنا کہ ہم اس ذہن کی اصلیت یا اس کے وجود کی ابتدا کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اس واضح ترین وضاحت کی تردید کا جواز نہیں بنتا۔

میرے لیے یہ یقین برقرار رکھنا بہ تدریج مشکل ہوتا گیا کہ سب کچھ بے مقصد، غیرشعوری اعمال کا نتیجہ ہے۔ مجھے یہ احساس ہوا کہ یہ تصور کہ سب کے پیچھے کوئی شعوری ذہانت کارفرما ہو سکتی ہے، کائنات کی زیادہ معقول وضاحت ہے۔ اگرچہ تمام علامات ایک ذہین خالق کی طرف اشارہ کرتی تھیں، لیکن کیا پھر بھی یہ ممکن ہے کہ سب کچھ ہماری سمجھ سے بالاتر ایک شان دار، غیر شعوری عمل کا نتیجہ ہو ؟ جی ہاں، قیاس کے دائرے میں، کچھ بھی ممکن ہے! میں یہاں ”قیاس“ کے لفظ پر زور دینا چاہوں گا کیونکہ ملحدین اور موحدین، دونوں قیاس سے کام لیتے ہیں۔ ایک ملحد یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے خدا کے وجود کے تمام امکانات کو قطعی طور پر رد کر دیا ہے، اور نہ ہی ایک موحد خدا کو ایک مادی ہستی کے طور پر پیش کر سکتا ہے جسے ہم دیکھ سکیں یا جس سے ہم براہ راست بات کر سکیں۔ دونوں فریق حقائق اور دلائل کا ایک مجموعہ پیش کرتے ہیں اور اپنے نظریات کو قیاس کے ذریعے سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، میرا توحید کی طرف بڑھتا ہوا جھکاؤ مزید مضبوط ہو گیا کیونکہ انسانی تاریخ ان دعووں سے بھری ہوئی ہے کہ یہ شعوری ذہن ہم سے بارہا رابطہ کر کے رہنمائی فراہم کر چکا ہے۔

جب میری یہ سوچ منتشر ہو گئی کہ غیر مذہبی دانش وروں نے خدا، روح اور آخرت جیسے مذہبی تصورات کو قطعی طور پر رد کر دیا ہے تو میں نے کھلے ذہن سے مذاہب کو سمجھنے کی کوشش شروع کی۔ میرے ذہن میں یہ سوال تھا کہ کیا یہ تصورات محض خیالی ہیں، یا ان کے پیچھے کوئی حقیقی بنیاد موجود ہے؟ میرا مقصد یہ تھا کہ مختلف مذاہب کے دلائل کو سمجھوں، خاص طور پر یہ کہ وہ کائنات کے خالق، اس کی شناخت اور موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

میں نے یہ جانا کہ مذاہب کو بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلی قسم وہ مذاہب ہیں جو تصوف یا فلسفہ پر مبنی ہیں۔ یہ مذاہب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان عقل، غور و فکر، مراقبے اور حکمت کے ذریعے سے حقیقت کے بنیادی راز جان سکتا ہے۔ یہ نظریات زیادہ تر انسانی تجربات اور شعور پر منحصر ہوتے ہیں اور حقیقت تک پہنچنے کے لیے کسی وحی یا الہام کو ضروری نہیں سمجھتے۔ دوسری قسم وحی پر مبنی مذاہب کی ہے، جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایک اعلیٰ شعوری طاقت، جسے ہم خدا کہتے ہیں، نے براہ راست انسانوں سے رابطہ کیا اور ان پر یہ حقائق ظاہر کیے کہ ہم کون ہیں، ہمارا مقصد کیا ہے، اور موت کے بعد ہمیں کیا انجام پیش آئے گا۔میں نے اپنی توجہ زیادہ تر وحی پر مبنی مذاہب پر مرکوز کی، کیونکہ ان کا دعویٰ تھا کہ خالق نے نہ صرف ہمارے وجود کا مقصد بتایا ہے، بلکہ آخرت کی حقیقت بھی واضح کی ہے۔

میں نے عقل عام کے تقاضے کے مطابق یہ سوچا کہ اگر دنیا میں واقعی کوئی خدائی حق موجود ہے تو وہ عام انسان کے لیے آسان اور سمجھ میں آنے والا ہونا چاہیے۔ میری طرح کا ایک ایسا شخص جو نہ تو عالم ہو اور نہ ہی عالم بننے کا ارادہ رکھتا ہو، اسے بھی اس حق تک رسائی ہونی چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت میں نے اپنی توجہ ان مذاہب پر مرکوز کی جو وحی پر مبنی ہیں اور جنھیں دنیا میں سب سے زیادہ مانا جاتا ہے۔خاص طور پر ابراہیمی روایت، جو یہودیت، عیسائیت اور اسلام پر مشتمل ہے اور یہ روایت دنیا کے 4 ارب سے زائد لوگوں کے ایمان کا مرکز ہے، جو دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کو شامل ہے۔

ابراہیمی مذاہب کے دائرے میں، میں نے قرآن کے مطالعے کا انتخاب کیا، اور اس کے پیچھے کچھ خاص وجوہات تھیں جو میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔

پہلی بات یہ کہ دیگر مذہبی کتابوں، جیسے ویدوں یا بائیبل کے عہد نامہ قدیم اور جدید کے برعکس، قرآن کے ماخذ کو ٹھوس بنیادوں پر سمجھنا آسان ہے۔ نتیجہ اخذ کرنا معقول ہے کہ قرآن وہی کتاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکاروں کو اس دعوے کے ساتھ دی تھی کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔

دوسری اہم بات یہ کہ قرآن اپنی اصل زبان، یعنی عربی میں آج بھی محفوظ ہے۔

تیسری بات، قرآن کے نزول کے ساتھ جڑے ہوئے تاریخی واقعات بہت تفصیل کے ساتھ تاریخ میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی اس بات کو نہ بھی مانتا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی تھے تو اس کے لیے بھی یہ انکار کرنا مشکل ہے—الا یہ کہ وہ انتہائی حد تک سازشی نظریات پر یقین رکھتا ہو—کہ جزیر نماے عرب میں ایک شخصیت تھی جو قرآن میں مذکور دعوے کر رہی تھی، جس نے پورے عرب کو فتح کیا، اور جن کے قریبی پیروکاروں نے اس وقت کی مہذب دنیا کے ایک بڑے حصے پر فتح حاصل کر لی۔

یہ دعویٰ کہ قرآن براہِ راست اللہ کا کلام ہے، اس کا اپنی اصل زبان میں دستیاب ہونا، اور اس کتاب اور اس کے نزول کے واقعات کا تاریخی طور پر قابل تصدیق ہونا، میرے لیے وحی پر مبنی مذاہب کی تحقیق کے لیے سب سے موزوں نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔

قرآن کی بنیادی تعلیمات مجھ سے گہرا تعلق رکھتی تھیں، اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اسلام کے مرکزی دھارے کے علما نے اس دین کو میرے جیسے عام لوگوں کے لیے قابل فہم اور آسان بنا دیا ہے۔ تاہم، اسلام کے اندر موجود کچھ منطقی اور اخلاقی مسائل ایسے تھے جو کافی عرصے تک میرے لیے حل طلب رہے۔ اسی دوران میں میرا تعارف جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے علمی کام سے ہوا۔ ان کی بصیرت نے نہ صرف میرے ان مسائل کو حل کیا بلکہ مجھے قرآن میں رسول کے حقیقی تصور سے بھی روشناس کرایا۔یہی تصور میرے لیے اخروی جواب دہی کا سب سے مضبوط ثبوت اور قرآن کو سنجیدگی سے زیر غور لانے کی سب سے مضبوط وجہ بن گیا۔

رسول کے تصور کو سمجھنا قرآن کے حقیقی اور معنوی تعارف کے لیے نہایت اہم ہے۔ جب میں نے قرآن کو اس تناظر میں پڑھا کہ رسول کا کیا کردار ہے تو میرے سامنے ایسی حقیقتیں آئیں جنھوں نے میرے تمام وجودی سوالات کے جوابات فراہم کر دیے۔میں یہاں قرآن کا وہ حقیقی تعارف پیش کرنا چاہوں گا۔

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کے اندر بنیادی ہدایت پہلے سے موجود ہے، جو ہماری فطرت کا حصہ ہے۔ لیکن اس ہدایت کی تفصیلات اور رہنمائی اللہ تعالیٰ براہِ راست انبیا کے ذریعے سے فراہم کرتے ہیں۔ہم اس دنیا میں امتحان کے لیے بھیجے گئے ہیں، جہاں ہمیں مکمل آزادی دی گئی ہے کہ ہم اپنے اخلاقی اور عملی فیصلے خود کریں۔لیکن جب لوگ اس فطری ہدایت کو بھول گئے یا اسے بگاڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے تحت مختلف قوموں میں انبیا کو بھیجا تاکہ وہ انھیں دوبارہ حق کی طرف بلائیں۔نبیوں کا کام صرف پیغام پہنچانا ہوتا تھا، اور ان کے پیغام کو قبول یا رد کرنے پر کوئی دنیوی سزا نہیں دی جاتی تھی۔

لیکن جب انسانوں نے مسلسل اللہ کی ہدایت اور موت کے بعد کی جواب دہی کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے انسانی تاریخ میں کئی بار زمین پر اپنی عدالت قائم کی۔ یہ اللہ کی طرف سے اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ موت کے بعد بھی ایک دن ایسا ہی عدل قائم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ عدالت زمین پر ایک رسول کے ذریعے سے قائم کی جاتی ہے۔ رسول وہ نبی ہوتا ہے جسے اللہ براہِ راست مخاطب کرتا ہے، لیکن ایک نبی کو رسول کا درجہ دینے والی چیز یہ ہے کہ اس پر اللہ کی طرف سے یہ اضافی ذمہ داری عائد کی جاتی ہے کہ وہ زمین پر اللہ کی دینونت نافذ کرے۔

قانون رسالت کے تحت رسول کے ذریعے سے دیے گئے اللہ کے پیغام کو قبول کرنے والوں کو اسی زندگی میں جزا و سزا کا سامنا ہوتا ہے۔ رسول کے فوری مخاطبین کے لیے حق کو بالکل واضح کر دیا جاتا ہے۔ جو لوگ رسول کا انکار کرتے ہیں، وہ دنیا میں ہی سزا پاتے ہیں، اور جو لوگ اس کے پیغام کو تسلیم کرتے ہیں، وہ اسی دنیا میں انعامات حاصل کرتے ہیں۔

رسول درحقیقت اپنے مخاطبین کے لیے اللہ کی عدالت کا مظہر ہوتا ہے۔ قرآن اللہ کا محفوظ کلام ہے، جو اس بات کا ریکارڈ ہے کہ اللہ نے زمین پر اپنے آخری رسول، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے اس دینونت کو کیسے نافذ کیا۔ قرآن نہ صرف یہ بیان کرتا ہے کہ پہلے زمانے کی قوموں کے ساتھ ان کے رسولوں کے ذریعے سے کیسا سلوک کیا گیا، بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فوری مخاطبین کے لیے خدائی عدالت کے فیصلے کس طرح نافذ کیے جائیں گے۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ قرآن میں بیان کردہ واقعات بالکل اسی طرح رونما ہوئے جیسے ان کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ یہ سب کچھ دنیا بھر کے انسانوں کے لیے ایک واضح ثبوت کے طور پر پیش ہوا۔

قرآن اور اسلام کی صداقت کو مزید مضبوط کرنے والے کئی عوامل ذیل میں درج ہیں:

1۔ قرآن نہایت مربوط انداز میں پچھلے صحیفوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید میں بیان کردہ رسولوں جیسے حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت محمد کے بارے میں قرآن کا بیان ان سابقہ کتب کے بیان کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ قرآن کے مطابق، ان رسولوں سے منسلک واقعات محض غضب خدا کے بے ترتیب مظاہر نہیں تھے، بلکہ یہ زمین پر اللہ کی عدالت کے نفاذ کی نہایت منظم مثالیں تھیں۔ اس کے دو مقاصد تھے:

الف۔ قیامت کے دن کی جواب دہی کا سب سے موثر ثبوت پیش کرنا،

ب۔ ایسی اقوام کو اٹھانا جو اللہ کا پیغام دنیا تک پہنچائیں اور اس پر عمل کریں۔

2۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فوجی یا سیاسی پس منظر نہیں تھا، لیکن قرآن نے ایسی بے عیب فوجی اور سیاسی حکمت عملیاں پیش کیں جو مکمل کامیابیوں کا باعث بنیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کامیابیوں کا سہرا اپنے سر لینے کے بجاے یہ کہا کہ وہ صرف اللہ کے احکامات کی پیروی کر رہے ہیں۔

3۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رسمی مذہبی تعلیم یا تبلیغ کا کوئی رسمی پس منظر نہ رکھنے کے باوجود قرآن کے ذریعے سے نہایت گہرے اور معقول بین المذاہب مباحث پیش کیے، جو علمی اور حقائق کی بنیاد پر مضبوط تھے۔

4۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اور شاعری یا ادب کا کوئی پس منظر نہیں رکھتے تھے، اس کے باوجود قرآن جیسا ادبی اور شعری شاہ کار پیش کیا۔ یہ حیران کن بات ہے کہ قرآن کی کئی آیات فوری حالات کے جواب میں نازل ہوئیں اور ان کا کلامی حسن اور گہرائی کسی معجزے سے کم نہیں۔

5۔ شیکسپیئر اور علامہ اقبال جیسے شاعر ایک دن میں عظیم نہیں بنے۔ جارج واشنگٹن، قائداعظم اور گاندھی جیسے رہنما اچانک عظیم شخصیتوں کے طور پر سامنے نہیں آئے اور نہ ہی سکندر اعظم اور چنگیز خان جیسے فوجی ماہرین راتوں رات جنگی حکمت عملی کے ماہر بنے۔ یہ سب لوگ وقت کے ساتھ تدریجاً اپنے اپنے شعبوں میں مہارت حاصل کرتے گئے۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایسی کوئی تدریجی ترقی نظر نہیں آتی۔ چالیس سال کی عمر سے پہلے وہ علم ، سیاست، فلسفہ، جنگی حکمت عملی، مذہب یا شاعری جیسے موضوعات میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتے تھے۔ پھر اچانک، ایسا لگتا ہے جیسے کسی ظاہری تیاری کے بغیر، وہ قرآن پیش کرنے لگے—ایک ایسی کتاب جو ان تمام موضوعات کو نہایت گہرائی اور حکمت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن آیا کہاں سے؟ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی تخلیق ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے اس کے لیے کبھی کسی قسم کی علمی یا فکری تیاری نہیں کی تھی۔مزید یہ کہ کوئی ایسا ثبوت بھی موجود نہیں کہ ان کے پاس ماہرین کی کوئی ٹیم تھی جو ان کے لیے مختلف موضوعات پر مواد تیار کرتی، جو عموماً پیش آمدہ مسائل کے جواب میں فوراً سامنے آ جاتا۔ یہ سب باتیں اس دلیل کو مضبوط کرتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم واقعی ایک اعلیٰ شعور یا الوہی ہدایت سے فیض یاب تھے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے۔

6۔ قرآن میں کئی ایسی پیشین گوئیاں موجود ہیں جو بالکل درست ثابت ہوئیں، جیسے کہ : مسلمانوں کی مکہ پر فتح، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قریبی ساتھیوں کے دنیا کی ایک عظیم سلطنت پر حکمرانی، بازنطینی سلطنت کی فارس پر فتح۔ یہ تمام واقعات قرآن کی پیشین گوئیوں کے عین مطابق وقوع پذیر ہوئے۔

7۔ دیگر مذہبی صحیفوں میں بھی ایسی پیشین گوئیاں موجود ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور ان کی زندگی سے حیرت انگیز طور پر مطابقت رکھتی ہیں۔

یہ میرے لیے واقعی حیران کن ہے کہ 1500سال پہلے ایک ناخواندہ شخص کو دی گئی کتاب آج کے دور کے انسان کے وجودی اور فکری سوالات کا اس قدر جامع اور مدلل جواب فراہم کر سکتی ہے۔

یہ تمام عوامل مجھے اس نتیجے پر پہنچانے کے لیے کافی تھے کہ اسلام ہی وہ حق اور سچائی ہے جسے میں تلاش کر رہا تھا، اور میں نے اس کے آگے سر جھکانا اپنے لیے ضروری سمجھا۔ ”اسلام“ کا مطلب ہی حق اور خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ لیکن میں ہمیشہ اپنی سوچ اور عقیدے پر نظرثانی کے لیے تیار رہوں گا، کیونکہ کھلے دل سے حق کو قبول کرنا ہی اصل دیانت داری ہے۔

جہاں تک خدا کے وجود کا تعلق ہے، کئی افراد کے لیے ذاتی تجربہ اس سلسلے میں ایک اہم پہلو رہا ہے۔ دنیا بھر میں اربوں لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی میں خدا کی موجودگی کو محسوس کیا ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا نظریے سے ہو۔ اگرچہ میں ذاتی تجربے کو خدا کے وجود کا کوئی سائنسی یا معروضی ثبوت نہیں مانتا، لیکن میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں کئی بار خدا کی موجودگی کو محسوس کیا ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق جتنا زیادہ کوئی شخص خدا کی ہدایت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور جتنا زیادہ خلوص سے وہ عبادت کرتا ہے، اتنا ہی وہ خدا کی موجودگی کو گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔

اس کتاب کو لکھنے کے مقصد کا ذکر میں نے ابتدا میں کیا تھا، لیکن میں ایک اور اہم وجہ کے ساتھ اس گفتگو کو ختم کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کے خدا کو دریافت کرنا میرے لیے اپنے خالق کو دریافت کرنے کے مترادف تھا۔ میں نے یہ جانا کہ میرا حقیقی اور واحد لازوال تعلق میرے خالق کے ساتھ ہے۔ میرے دیگر تعلقات، چاہے وہ میرے خاندان کے ساتھ ہوں، دوستوں کے ساتھ یا یہاں تک کہ میری اپنی ذات سے، سب ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرا خاندان، میرا ماحول، میری شناخت—یہ سب کچھ مختلف ہو سکتا تھا اگر میں کسی اور جگہ پیدا ہوتا۔ لیکن اصل تعلق اس خالق سے ہے جس نے مجھے کچھ نہ ہونے سے پیدا کیا اور یہ تعلق ماں کے رحم میں میری ابتدا سے مقدم ہے۔ میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میرا خالق مجھ سے خوش ہو اور مجھ پر فخر کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اچھے اعمال کے ساتھ خدا کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا ایک ایسا کام ہے جسے وہ پسند کرتا ہے۔ اسی لیے میں پوری دیانت داری سے یہ پیغام دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں۔ چاہے یہ پیغام بہت سے لوگوں تک پہنچے یا چند لوگوں تک، میرے لیے اہم یہ ہے کہ خدا میرے عمل کو قبول کرے۔ میری دعا ہے کہ میری نیت ہمیشہ خالص رہے اور میں اپنے خالق کی رضا کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا رہوں۔

میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں کوئی عالم یا محقق نہیں ہوں، میں محض ایک عام انسان ہوں جس نے زندگی کے بڑے سوالات کے جواب تلاش کیے اور بالآخر ان جوابات کو اطمینان بخش پایا۔ آپ مجھ سے اتفاق کریں یا نہ کریں، میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت دیا، اس کتاب کو پڑھا، اور میری باتوں پر توجہ دی۔ لیکن میری ایک درخواست ہے کہ قرآن کو اس کے درست تعارف کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں، جیسا کہ میں نے اس کتاب میں ذکر کیا ہے۔ قرآن اپنے بارے میں کہتا ہے کہ یہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے سب سے آسان کتاب ہے۔ اس کا پیغام بہت سادہ اور واضح ہے کہ ایک خدا ہے جو ہمارا خالق ہے اور دنیوی موت کے بعد ہمیں اس کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔ ہر انسان سے اس کے اعمال کے بارے میں سوال ہوگا۔ کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ آپ کا کردار کتنا پاکیزہ اور نیک تھا، آپ نے خدا کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کو کتنی سنجیدگی سے لیا، اور آپ کی تلاش کتنی مخلص تھی۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آپ کے عقائد تعصب پر مبنی نہیں، بلکہ میرٹ اور سچائی پر مبنی تھے، آپ کے اعمال کتنے اچھے تھے، اور ان اعمال کے پیچھے آپ کی نیت کتنی خالص تھی۔ قرآن یہ وعدہ کرتا ہے کہ خلوص کے ساتھ کی گئی غلطیوں کو معاف کر دیا جائے گا، لیکن جان بوجھ کر کی گئی ہٹ دھرمی اور مستقل غلطیوں پر سخت سزا دی جائے گی۔

”اور اُس دن سے ڈرو، جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر ہر شخص کو اُس کی کمائی وہاں پوری مل جائے گی اور لوگوں پر کوئی ظلم نہ ہو گا ۔“ (البقرہ 2 : 281)

آپ کا بے حد شکریہ!

__________

  1. 1۔ التکویر 81 :5 ، المائدہ 5 :38۔
  2. 2۔ غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ کے یو ٹیوب چینل پر موجود درج ذیل دو مباحث دیکھیے:

    1. Hajj as a Symbolic Expression of Sacrifice

    2. Explaining Purpose of Animal Sacrifice to Non-Muslims

  3. 3۔ دیکھیے: آستر، باب 3۔
  4. 4۔ www.worldhistory.org پر مضمون” Pharaoh “دیکھیے۔
  5. 5۔ دیکھیے:

    “The Punishment For Homosexuality – Islam Question &Answer,” https://islamqa.info/amp/en/answers/38622.

  6. 6۔ دیکھیے:

    “The Penal Code – Chapter 17. Protection of Norway’s Autonomy and Other Fundamental National Interests – Lovdata,”

    https://lovdata.no/dokument/NLE/lov/2005-05-20-28/KAPITTEL2-2#%C2%A7116.

  7. 7۔ quransmessage.com پر مضمون:”خمار“دیکھیے۔
  8. 8۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے: محمد بن سعد، الطبقات الکبریٰ، قاہرہ: مکتبہ خانجی، 2001، 10/ 57۔ مسند احمد، رقم 25241۔
  9. 9۔ سیرت ابن اسحاق؛ یحییٰ بن شرف نووی، کتاب تہذیب الأسماء واللغات، لبنان: دار الکتب العلمیہ، بدون تاریخ 2/ 351۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، دمشق: دار الخیر 1999، 1/ 604۔
  10. 10۔ سیرت ابن اسحاق؛ یحییٰ بن شرف نووی، کتاب تہذیب الأسماء واللغات، لبنان: دار الکتب العلمیہ، بدون تاریخ2/ 351۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویہ، دمشق : دار الخیر 1999، 1/ 604۔
  11. 11۔ ابن منظور کی لسان العرب اور فیروزآبادی کی قاموس المحیط میں لفظ ”جاریہ“دیکھیں۔
  12. 12۔ اس بات کی تائید امام نووی نے بھی کی ہے کہ حضرت عائشہ حضرت اسماءسے 10 سال چھوٹی تھیں اور حضرت اسماء کی پیدائش ہجرت سے 27 سال قبل ہوئی۔دیکھیے: تہذیب الأسماء واللغات، 2/ 328-329 ۔
  13. 13۔ ابو الفداء، ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، قاہرہ: عیسیٰ البابی الحلبی، 1986، 8/ 91، 131۔
  14. 14۔ دیکھیے:

    Kate Wong, “The Face of the Earliest Human Ancestor, Revealed,” Scientific American, November 26, 2019,

    https:// www.scientificamerican.com/article/the-face-of-the-earliesthuman-ancestor-revealed/

  15. 15۔ 50000 سال پہلے انسانوں میں اچانک نئے رویے پیدا ہونے کی تفصیلی تحلیل کے لیے، دیکھیں:

    Klein, Richard G.. “Anatomy, My Discovery of God, Islam & Judgment Day 335 behavior, and modern human origins.” Journal of World Prehistory 9 (1995): 167-198;

    مزید معلومات کے لیے دیکھیے:

    “The Transition to Modern Behavior | Learn Science at Scitable,” https://www.nature.com/scitable/knowledge/library/the-transition-to-modern-behavior-86614339/.

  16. 16۔ دیکھیے:

    “If She Stipulated That He Should Not Take Another Wife, Does He Have to Adhere to That? – Islam Question & Answer,”

    https://islamqa.info/en/answers/143120/if-she-stipulated-that-he-shouldnot-take-another-wife-does-he-have-to-adhere-to-that.

  17. 17۔ جاوید احمد غامدی، برہان ، لاہور، المورد، 2010۔
  18. 18۔ ابن قیم، زاد المعاد، بیروت: دار ابن حزم، 2019، 5/ 379۔
  19. 19۔ The Clear Quran میں مصطفیٰ خطاب کی سورۂ بقرہ کی آیت 282 کی تفسیر دیکھیے۔
  20. 20۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویہ؛ مولانا مودودی کی”تفہیم القرآن “میں آیت احزاب33پر تفسیر بھی دیکھیے۔
  21. 21۔ دیکھیے:

    Watt, W. Montgomery, Prophet and Statesman, (Calcutta:1961), 170-176; Daniel C. Peterson, Muhammad, prophet of God, (Wm. B. Eerdmans Publishing, 2007), 125-127.

  22. 22۔ دیکھیے:

    Watt, William Montgomery, Muhammad: Prophet and statesman, Vol. 409. London: Oxford University Press, 1961, 175.