Skip to content

Chapter 25: تزکیۂ نفس کیا ہے؟ اِسے کیسے حاصل کریں؟

[جناب جاوید احمد غامدی اپنے ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث کے بعد شرکا کے سوالوں کے جواب دیتے رہے ہیں۔ اُن سے سوال کیا گیا کہ تزکیۂ نفس کسے کہتے ہیں؟ تزکیہ کون کرتا ہے؟اپنا اور اپنے اہل و عیال کا تزکیہ کیسے کرنا چاہیے؟ کیا تزکیۂ نفس کے حصول کا کوئی خاص طریقہ ہے؟اِس کے جواب میں اُن کی گفتگو کا خلاصہ درجِ ذیل ہے۔]

دین کا مقصود تزکیۂ نفس ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو آلایشوں سے پاک کر کے اُن کے فکر و عمل کو صحیح سمت میں نشو و نما دی جائے۔ اللہ نے اپنے پیغمبر اِسی مقصد کے لیے دنیا میں بھیجے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا اِس اصول پر بنائی ہے کہ یہاں انسان اپنے نفس کی آلایشوں کو دور کرنے کی سعی کرے اور پیغمبروں کی تعلیمات کی رہنمائی میں اپنی ایسی تربیت کرے ، جو اُسے جنت میں آباد ہونے کے قابل بنا دے۔ جنت میں آباد ہونے کے لیے بنیادی شرط تزکیۂ نفس ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:

قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی. وَ ذَکَرَ اسۡمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی. بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا. وَ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی.

(الاعلیٰ87: 14-17)

’’البتہ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اِس کے لیے اپنے رب کا نام یاد کیا، پھر نماز پڑھی۔ لوگو، تم کوئی حجت نہیں پاتے، بلکہ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، دراں حالیکہ آخرت اُس سے بہتر بھی ہے اور پایدار بھی۔ “

قرآنِ مجید انسان کے علم اور عمل، دونوں کا تزکیہ کرتا ہے۔قرآن علم کے تزکیے کے لیے جو تعلیم دیتا ہے، اُسے اپنی اصطلاح میں ”حکمت“ سے تعبیر کرتا ہے اور عمل کے تزکیے کے لیے جو تعلیم دیتا ہے، اُسے”شریعت“ سے تعبیر کرتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جو ہدایات ایمانیات کے بارے میں ہیں، وہ علم کا تزکیہ کرتی ہیں اور جو ہدایات قانون اور ضابطوں سے متعلق ہیں، وہ عمل کا تزکیہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر جب قرآنِ مجیدشرک کی تردید کرتا ہے تو وہ ذاتِ خداوندی کے بارے میں ہمارے علم کا تزکیہ کرتا ہے اور جب خالص اُسی کی عبادت میں سرگرمی کی ترغیب دیتا ہے تو عمل کاتزکیہ کرتا ہے۔

اِس سے واضح ہوا کہ تزکیہ دین کرتا ہے، کوئی انسان نہیں کرتا۔ ہر زمانے میں بہت سے اہل علم پیدا ہوتے ہیں۔ اُن سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اللہ کی کتاب بالکل محفوظ شکل میں ہمارے پاس موجود ہے، اُس کا مطالعہ کر کے یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ کون سی بات صحیح اور کون سی بات غلط ہے۔کوئی عالم یا دینی تربیت کرنے والا صرف یہ کام کرتا ہے کہ وہ آپ کو دین کی تعلیمات سے آگاہ کرتا ہے اور دینی ماحول اور اچھی صحبت فراہم کرتا ہے۔ وہ بہ ذاتِ خود ہمارا تزکیہ نہیں کرتا، بلکہ تزکیہ کرنے والے دین سے ہمیں وابستہ کر دیتا ہے۔ گویا وہ مزکی ــــ یعنی تزکیہ کرنے والا ــــ نہیں ہوتا، بلکہ معلم ــــیعنی تزکیہ کرنے والے علم کی تعلیم دینے والا ــــ ہوتا ہے۔

جن اصحابِ علم پر آپ کو اعتماد ہے، اُن سے دین سیکھیے۔جب آپ دین کو سمجھ لیں گے تو پھر آپ کی فطرت بیدار ہو گی اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو اپنے علم اور عمل کو کن کن چیزوں سے پاک کرنا ہے۔

جہاں تک اپنے اہل و عیال کا تعلق ہے تو اُن کی آخرت کے بارے میں آپ کو لازماً فکرمند ہونا چاہیے۔ اُن کو تزکیۂ نفس کی منزل تک پہنچانے کے لیے آپ کو جدوجہد کرنی چاہیے، لیکن اِس جدوجہد کا واحد راستہ دینی تعلیم وتربیت اور صالحین کی صحبت ہے۔دینی تعلیم خود بھی حاصل کیجیے اور اپنے اہل خانہ کے لیے بھی اُس کا بندوبست کیجیے۔

دین کے معلمین کی مجالس میں بیٹھیے اور اُن لوگوں کی صحبت اختیار کیجیے، جنھوں نے اپنی زند گی کو دین کے سانچے میں ڈھالا ہوا ہے۔ اپنے اہل و عیال اور احباب کو بھی صاحبِ کردار علماکی صحبت میں بیٹھنے کی ترغیب دیجیے۔

گھر والوں کو نماز کا پابند بنائیے اور اُن کے دل و دماغ میں یہ شعور پیدا کیجیے کہ آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ اِس دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے اور یہ محض ایک آزمایش ہے۔اُن کے ذہنوں میں، اُن کے دلوں میں یہ بات ڈال دیجیے کہ آخرت کی کامیابی صرف اور صرف اُنھی لوگوں کو نصیب ہو گی، جو اِس دنیا میں خدا کے دین کی طرف متوجہ ہوں گے اور اپنے علم و عمل کو آلایشوں سے پاک کر لیں گے۔

جہاں تک تزکیۂ نفس کے حصول کا سوال ہے تو اِس معاملے میں اِدھراُدھر سے ترکیبیں پوچھنے کے بجاے اُس راستے پر گام زن رہنا چاہیے، جو اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے اور جس پر صحابۂ کرام چلے ہیں۔ اُس راستے پر چلتے ہوئے نتائج، بے شک جلدنہیں نکلتے، مگر جب نکلتے ہیں تو بڑے محکم اور پایدار ہوتے ہیں۔

اِس ضمن میں اِن تین باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیجیے:

1۔ قرآنِ مجید کی تلاوت کو روز مرہ کا معمول بنائیے۔

تلاوت سے مراد بے سوچے سمجھے الفاظ کی تکرار کرنا نہیں ہے،بلکہ ہدایت طلبی کے پورے شعور کے ساتھ کتابِ الٰہی کا مطالعہ کرنا ہے۔

2۔مسجد کے ساتھ اپنے تعلق کو پوری طرح قائم رکھیے۔

3۔ہفتے میں کچھ نہ کچھ وقت نیک لوگوں کی صحبت میں گزاریے۔

یہ تین نکات پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے ماخوذ ہیں۔ یہی سلوکِ محمدی ہے۔ آپ اگر اِس کے علاوہ کوئی دوسرا سلوک یا طریقہ اختیار کریں گے تو اِس کا شدید اندیشہ ہے کہ آپ آفات سے بچنے کے بجاے آفات کا شکار ہو جائیں،اپنے نفس کو آلایشوں سے پاک کرنے کے بجاے اُسے آلودہ کر لیں گے، اللہ کے قرب اور اُس کی فرماں برداری کی منزل کو پانے کے بجاے مشرکانہ مشاغل اختیار کر کے اُس منزل سے دور ہوتے چلے جائیں اوراپنی دانست میں تزکیۂ نفس کو حاصل کرنے کے باوجود،حقیقت میں اُس سے محروم رہیں گے۔

[جون 2007ء]

____________