[ ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث کے بعد جناب جاوید احمد غامدی سے یہ سوال کیا گیا کہ دین کے اعتبار سے کون کون سے مسالک صحیح ہیں؟اِس سوال کے جواب میں غامدی صاحب کی گفتگو کا خلاصہ درجِ ذیل ہے ۔]
دین کے بارے میں جو مسالک، مکاتبِ فکر یا نقطہ ہاے نظر اِس وقت موجود ہیں، اُنھیں انسانوں ہی نے اپنے فہم کی روشنی میں قائم کیا ہے۔ اُن میں سے کسی مکتبِ فکر کی ضروری نہیں کہ ہر بات صحیح ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر بات غلط ہو۔ علم و فکر کے اعتبار سے کسی بھی انسانی کاوش کو بالکلیہ صحیح نہیں کہا جا سکتا۔ میں جو دین کا فہم آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، اُس کے بارے میں یہ دعویٰ ہرگز نہیں کر سکتا کہ یہ سارے کا سارا لازماً صحیح ہو گا۔ میری اپنی تاریخ مجھے بتاتی ہے کہ میں نے اپنی قائم کی ہوئی بہت سی آرا سے رجوع کیا ہے۔ اب سے پہلے کسی راے کو میں اپنے علم و عقل کے مطابق صحیح سمجھتا تھا اور پورے یقین کے ساتھ اُس کو بیان کرتا تھا، آج میں اپنے علم وعقل کی روشنی میں اُس راے کو غلط سمجھتا ہوں۔ میرے ایمان و یقین کا معاملہ اصل میں میرے فہم کے ساتھ وابستہ ہے۔
اِس معاملے میں صحیح رویہ یہی ہے کہ ہمیں ہر وقت اپنے دل و دماغ کو کھلا رکھنا چاہیے اور اپنی راے کے تعصب میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ مکاتبِ فکر کے بارے میں یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ فلاں مکتبِ فکر حقیقت کے زیادہ قریب ہے، لیکن یہ نہیں کہا جا سکتاکہ فلاں مکتب ِفکر سر تا سر حق ہے۔ حق کی حتمی حجت کی حیثیت صرف اورصرف اللہ کے پیغمبر کی بات کو حاصل ہے۔ اُس کو معیار بنا کر آپ کسی بات کے رد یا قبول کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔