انتقل إلى المحتوى

الفصل 2: حدیث کی جمع و تدوین

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کے اخبارِآحاد کو ’’حدیث‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ وہ روایات ہیں، جو خبر واحد کے ذریعے سے اور روایت بالمعنیٰ کے طریقے پر ہم تک پہنچی ہیں، یعنی لوگوں نے اِنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سماعت کی حد تک سنا ہے ، اپنی یادداشت کی حد تک یاد رکھا ہے ، اپنے فہم کے مطابق سمجھا ہے، اپنے الفاظ میں ترتیب دیا ہے اوراپنی صواب دید سے منتقل کیا ہے۔اِس طریقے سے حاصل ہونے والے علم کے بارے میں مسلم ہے کہ یہ درجۂ یقین کو نہیں پہنچتا۔ اِس سے ظن غالب یا قوی گمان حاصل ہوتا ہے، جسے یقینیات کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا ۔ درجۂ یقین کو وہی علم پہنچتا ہے، جو اجماع و تواتر سے منتقل ہوا ہو۔ قرآنِ مجید اور سنت کا یہی معاملہ ہے۔ یہ دونوں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے ملے ہیں اور ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہوتے ہیں۔ اِن کے مقابل میں احادیث کی روایات اخبارِ آحاد میں محصور ہیں، یعنی نہ وہ صحابۂ کرام کے اجماع اور قولی تواتر سے ملی ہیں اور نہ ہر زمانے میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہوتی ہیں، لہٰذا اِن سے حاصل ہونے والے علم کو اصل اور ضروری قرار دینے کے بجاے، بالعموم شرح و فرع تک محدود سمجھا جاتا ہے۔یعنی اِس کی نوعیت دین کی تفہیم و تبیین کی ہے۔1

یہ علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کی روایات کی صورت میں موجود ہے۔اِنھیں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے متعدد صحابۂ کرام نے اپنی انفرادی حیثیت میں روایت کیا ہے اور علما اور محدثین کی ایک جماعت نے اِسے مرتب کر کے آگے منتقل کیا ہے۔

احادیث اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم

احادیث کے بارے میں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ زمانۂ نزولِ قرآن میں احادیث کو لکھنے اور جمع کرنے پر پابندی عائد رہی ہے۔ اِس کا مقصد کلام الٰہی کو بالکل متعین اور ممیز رکھنا تھا۔ تاہم، بعد ازاں یہ پابندی اٹھا لی گئی اور لوگ اپنی خواہش سے احادیث لکھنے اور جمع کرنے لگے۔2

قرآن و سنت3 کی اگلی نسلوں تک بہ حفاظت منتقلی صحابۂ کرام کی اولین ذمہ داری تھی، اِس لیے اُنھوں نے بہ حیثیتِ جماعت اِس ذمہ داری 4کو نبھایا اور اپنے اجماع و تواتر سے پورے اہتمام کے ساتھ اِنھیں امت کو منتقل کیا۔ اِس معاملے میں کسی غلطی یا انحراف سے محفوظ رہنے کے لیے حکومت وریاست کے وسائل کو بھی بروے کار لایا گیا۔

احادیث کے حوالے سے اِس سطح کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ اُسے افراد کی انفرادی کاوش اور صواب دید پر چھوڑ دیا گیا۔5

صحابہ کا مختلف طرزِ عمل

چنانچہ بعض صحابۂ کرام نے کثیر تعداد میں احادیث روایت کیں، بعض نے بہ قدرِ ضرورت اِس کا اہتمام کیا اور بعض نے اِس سے اجتناب کیا۔

جن صحابہ نے اِنھیں ذہن نشین کیا اور اپنے رفقا و تلامذہ تک منتقل کیا، اُن کا موقف یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کو ہر ممکن حد تک جمع کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ آپ کی ہر بات محفوظ ہو جائے اور لوگوں کو قرآن و سنت کے احکام کو سمجھنے اور اُن کا اطلاق کرنے میں آسانی ہو جائے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے5374، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے 2630، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے2286، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے 2210، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے 1660، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے 1540اورحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے 1170 احادیث مروی ہیں۔ اِن صحابہ کو ’مکثرین الحدیث‘ کہا جاتا ہے۔6

جن صحابہ نے اِس معاملے میں احتیاط اور توقف کا رویہ اختیار کیا ، اُن کا ترددیہ تھا کہ کہیں اِس میں حک و اضافے کی کوئی غلطی صادر نہ ہو جائے اور اُنھیں قیامت میں اللہ کے حضور جواب دہ ہونا پڑے۔جن صحابہ نے یہ رویہ اختیار کیا، اُن میں سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے 143، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے 537، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے 146، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے 586، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے 378، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے 848 اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے 146روایات منقول ہیں۔7

دین کی توسیع و اشاعت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی اولین ذمہ داری تھی۔ چنانچہ خلافتِ راشدہ کے زمانے میں اُنھوں نے قرآنِ مجید اور سنننِ ثابتہ کی ترویج و اشاعت اور تعلیم و تدریس کا بھر پور اہتمام کیا، مگر احادیث کی جمع و تدوین اور تعلیم و تدریس کے حوالے سے حکومتی سطح پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں معلوم ہے کہ اُنھوں نے احادیث پر مشتمل اپنے اپنے صحائف لکھ رکھے تھے، مگر اُنھوں نے اُن کا اجرا کرنے کے بجاے اُنھیں تلف کرنا مناسب خیال کیا۔8 حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی ایک صحیفے کا ذکر ملتا ہے، مگر اُس میں صرف زکوٰۃ و دیت سے متعلق احادیث تھیں۔9 اُن کا یہ طرزِ عمل واضح کرتا ہے کہ وہ احادیث کو اصل دین کے مقام میں نہیں، بلکہ تفہیم و تبیین کے محل میں رکھتے تھے۔ اگر وہ اُنھیں اصل دین کی جگہ دیتے اور اُن کی صحت کے بارے میں قرآن و سنت ہی کی طرح مطمئن ہوتے تو وہ اِس معاملے میں کسی تردد کا مظاہرہ ہرگز نہ کرتے۔

تاہم، جہاں تک بیش تر صحابہ کے انفرادی عمل کا تعلق ہے تو اِس سطح پر اُنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کو اپنے فکر و عمل میں بہ طورِ دلیل بھی پیش کیا، شریعت کی تعبیر و تشریح میں بھی اُس سے استشہاد کیا ، اُسے اپنے اعزہ و احباب اور رفقا و تلامذہ کو منتقل بھی کیا۔

صحابہ کے تحریری مجموعے

بعض صحابہ نے احادیث کو تحریری طور پر مرتب بھی کیا یا اپنے تلامذہ سے مرتب کرایا۔ اِن میں سے جن مجموعوں کا ذکر عام طور پر ملتا ہے، وہ یہ ہیں : صحیفۂ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، صحیفۂ حضرت علی رضی اللہ عنہ، الصحیفۃ الصادقہ از حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ، الصحیفۃ الصحیحہ از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (مرتبہ : ھمام بن منبہ)، صحیفۂ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ۔ اِن کے علاوہ حضرت انس بن مالک، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہم اور چند دیگر صحابہ کے حوالے سے احادیث لکھ کر جمع کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔

بدقسمتی سے حدیث کے اِن مجموعوں میں سے کوئی مجموعہ بھی امت کو آگے منتقل نہیں ہو سکا۔ اِس کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے احتیاط کی غرض سے اُنھیں آگے منتقل کرنا مناسب نہ سمجھا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُنھوں نے اپنے اعزہ و احباب اور تلامذہ کے ذریعے سے آگے منتقل تو کیا ہو ،مگر تابعین اور تبع تابعین کے دور اور اُن کے بعد کے ادوار میں اُن کی مرویات کو جامع کتب میں شامل کر لیا ہو اور اُنھیں منفرد حیثیت میں قائم رکھنے کی ضرورت محسوس نہ کی گئی ہو۔

ان میں سے دوسرا امکان زیادہ قرین قیاس ہے اور اِس کی ایک دلیل بیسویں صدی عیسوی میں ’’ صحیفۂ ہمام بن منبہ‘‘ کی دریافت ہے۔ یہ جب دریافت ہوا تو معلوم ہوا کہ اِس کی تمام روایات اسی ترتیب سے ’’مسند احمد بن حنبل‘‘ میں نقل ہوئی ہیں۔ ’’صحیح بخاری‘‘ میں بھی مختلف عنوات کے تحت اِس کی 91 احادیث شامل ہیں۔10

احادیث اور صحابہ کے بعد کا زمانہ

صحابۂ کرام سے آگے یہ احادیث تابعین، تبع تابعین ، تبع تبع تابعین اور بعد کے محدثین کے سلسلۂ روایت سے ہم تک پہنچی ہیں۔11

دوسری صدی ہجری میں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے کم و بیش ایک سو سال بعد علما میں حدیث کی جمع و تدوین کا شوق نمایاں ہونا شروع ہو گیا۔چنانچہ اُنھوں نے احادیث کو حاصل کرنے کے لیے دور دراز کے سفر بھی کیے۔ لوگوں میں اِس علمی رحلت کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔12

حدیث کے طالبِ علموں کے یہ سفر جہاں اُن کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم سے اکتساب فیض کے شوق کو نمایاں کرتے ہیں، وہاں اِس حقیقت کو بھی واضح کرتے ہیں کہ محدثین کی یہ کاوشیں اصل دین کے حصول کے لیے نہیں تھیں۔ وہ اُن کے پاس قرآن و سنت کی صورت میں موجود تھا۔ اُن کا مقصد ازدیادِعلم تھا، دین کی تفہیم مزید تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر عمل، یعنی اسوۂ حسنہ سے فیض یاب ہونا تھا۔ اگر اصل دین کے حصول کو اِن کاوشوں کا محرک سمجھا جائے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے رخصت ہونے کے سو ڈیڑھ سوسال تک مکمل دین یا اُس کی ضروری معلومات معاذاللہ لوگوں تک نہیں پہنچ سکی تھیں۔ یہ ماننا، ظاہر ہے کہ قرآنِ مجید کےبھی خلاف ہے اور تاریخی شہادت کے بھی مطابق نہیں ہے۔

احادیث کی جمع و تدوین کا اہتمام

حکومت و ریاست کی سرپرستی میں احادیث کی جمع و تدوین کا کام سب سے پہلے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے انجام دیا۔ وہ تابعی تھے اور خود بھی محدث تھے۔ اُن کا شمار حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے تلامذہ میں ہوتا ہے۔ وہ99ھ میں خلیفہ بنے اور اُنھوں نے مختلف علاقوں کے علما و محدثین کو احادیث جمع کرنے کےکام پر مامور کیا۔ اُنھیں ڈر تھا کہ کبار تابعین کی وفات سے حدیث کا علم ضائع نہ ہو جائے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جن شخصیات کو اِس کام پر مقرر کیا ،اُن میں سب سے نمایاں نام ابنِ شہاب زہری کا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز صرف دو سال اقتدار میں رہنے کے بعد 101 ھ میں وفات پا گئے۔13

درجِ بالا تفصیل سے اِس موقف کی تردید ہوتی ہے کہ حدیث کی جمع و تدوین کا کام رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دو اڑھائی سو سال بعد شروع ہوا۔ تاریخ اِس امر کی شہادت دیتی ہے کہ اُنھیں یاد رکھنے اور جمع کرنے کا کام بعض صحابۂ کرام نے زمانۂ رسالت ہی میں شروع کر دیا تھا ، جو بلا انقطاع امت میں جاری رہا اور بہ تدریج ایک منضبط علم کے طور پر ترتیب پا گیا۔

اِسی طرح یہ تاثر بھی درست نہیں ہےکہ زمانۂ رسالت میں یا صحابہ کے زمانے میں حدیث کی جمع و تدوین کا کام اہتمام کے ساتھ اور دین کی نشر و اشاعت کی ذمہ داری کے طور پر کیا گیا ۔ خلفاے راشدین اور اُن کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور اِس اہتمام سے خالی ہے۔

احادیث کی ترتیب اور تہذیب کا جو کام ابنِ شہاب زہری نے شروع کیا تھا، اُسے اُن کے شاگردوں نے آگے بڑھایا۔ اُس میں سب سے نمایاں کام امام مالک بن انس اصبحی نے انجام دیا۔ اُنھوں نے احادیث کو ابواب میں ترتیب دے کر”موطا“ کے نام سے پہلا مجموعۂ احادیث مرتب کیا۔ اُنھوں نے اُسے 136ھ میں مرتب کرنا شروع کیا اور 158 ھ میں کتابی صورت میں مکمل کیا ۔اِس صدی ہجری میں حدیث کی جو کتابیں مرتب ہوئیں، اُن میں سنن ابو الولید (151ھ)، جامع سفیان ثوری (161ھ)، مصنف ابی سلمہ (167ھ)، مصنف ابن سفیان (197 ھ) اور جامع سفیان بن عیینہ (198 ھ) نمایاں ہیں۔ اِن کے علاوہ ابنِ جریج ، ابنِ اسحاق، اوزاعی، معمر اور بعض دیگر علما نے بھی حدیث پر کام کیا۔

تاہم، اِس دوسری صدی کے کام کا بیش تر حصہ محفوظ نہیں رہ سکا۔14

جھوٹی روایتوں کی کثرت

دوسری صدی ہجری میں جب احادیث کو جمع کرنے اور روایت کرنے کی اہمیت نمایاں ہونے لگی تو بعض سیاسی اور مذہبی عوامل کی بنا پر جھوٹی حدیثیں گھڑنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اِسے ہماری تاریخ میں وضع حدیث کے فتنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اِس فتنے کی شدت کا اندازہ خلیفہ ہارون الرشید (193 ھ – 149ھ) کے ایک واقعے سے کیا جا سکتا ہے۔ اُنھوں نے ایک شخص کو گرفتار کیا جو جھوٹی حدیثیں وضع کر کے اُنھیں لوگوں میں عام کرتا تھا۔ خلیفہ نے اُس جرم کی پاداش میں اُس کے لیے سزاے موت کا حکم صادر کیا۔ اِس پر اُس نے کہا کہ تم مجھے تو قتل کر دو گے، مگر اُن چار ہزار حدیثوں کا کیا کرو گے، جو میں گھڑ کر لوگوں میں پھیلا چکا ہوں اور جن میں سے ایک بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں ہے۔15

جھوٹی حدیثیں گھڑنے والوں کے مقاصد

جھوٹی حدیثیں گھڑنے والوں میں کئی طرح کے لوگ تھے، جو مختلف مقاصد کے تحت حدیثیں تیار کیا کرتے تھے:

اِن میں اکثریت صالح اور عبادت گزار لوگوں پر مشتمل تھی۔وہ لوگوں کو عبادت کی طرف راغب کرنے کے لیے جھوٹی حدیثیں تشکیل دیتے تھے۔16

سیاسی مقاصد کے لیے بھی بے شمار احادیث وضع کی گئیں۔ اُن میں بنو امیہ اور بنو عباس کی حمایت و مخالفت اور حضرت معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کی حکومتوں کے حوالے سے بھی روایات شامل تھیں۔17

بعض دین سے گم راہ لوگ دین میں باطل بات کو داخل کرنے کے لیے حدیثیں وضع کرتے تھے۔18

جھوٹی احادیث گھڑنے کا ایک سبب مذہبی تعصب بھی تھا۔ چنانچہ اِس معاملے میں مخالف نظریے کی تردید اور موافق نظریے کی حمایت کے لیے بھی احادیث وضع کی جاتی تھیں۔19

بعض اوقات حکمرانوں کی خوش نودی اور انعام کے حصول کے لیے احادیث گھڑ لی جاتی تھیں۔20

اِسی طرح واعظین بھی اپنے وعظ کو پر اثر بنانے کے لیے احادیث وضع کر لیتے تھے۔21

یہ معاملہ اِس سطح تک پہنچا ہوا تھا کہ بعض اوقات لوگ اپنی معمولی ضرورتوں کے لیے بھی حدیث گھڑ لیتے تھے۔22

اُس زمانے میں قصہ گوئی کا سلسلہ بھی بہت زور پکڑ گیا تھا، چنانچہ داستان گوئی کے لیے بھی روایتیں گھڑی جاتی تھیں۔23

یہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ سنن ابوداؤد کے مصنف امام ابوداؤد سجستانی کو اہل مکہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھنا پڑا :

’’سفیان اور وکیع جیسے عظیم ناقدین حدیث بڑی محنت و کاوش کے بعد ایک ہزار احادیث کے ذخیرہ میں سے صرف ایک حدیث مرفوع متصل نکال سکتے تھے۔“

(حجۃ اللہ البالغہ 1/148)

جرح وتعدیل کا فن

وضع حدیث کے اِس فتنے نے محدثین کی احتیاط کو مزید بڑھادیا ۔ چنانچہ تابعین کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد راویوں کی جرح و تعدیل کے کام کا آغاز ہوا۔ ابتدائی طور پر اس معاملے میں یحییٰ بن سعید القطان (متوفی 189ھ) اور عبدالرحمٰن بن مہدی (متوفی 198) کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔24

احادیث کے رد و قبول کےاقدامات

اِس پورے پس منظر میں مسلمان اہل علم کی طرف سےجو بڑے اقدامات سامنے آئے، وہ یہ ہیں:

انکارِ حدیث

ایک یہ کہ بعض علمی گروہوں نے حدیث کو اصولی طور پر قبول کرنے سے انکار کیا۔ اِس معاملے میں معتزلہ اور خوارج نمایاں تھے۔ تاہم امت نے مجموعی طور پر اِس رویے کو رد کیا ، اور اپنی تاریخ میں حدیث کا انکار کرنے والوں کو کبھی پذیرائی نہیں بخشی۔

اسماء الرجال

دوسرے یہ کہ احادیث چونکہ راویوں کی روایت پر مبنی تھیں، اِس لیے ناگزیر تھا کہ اُن میں قابل اعتماد اور ناقابل اعتماد لوگوں کو الگ الگ کیا جائے۔ چنانچہ راویوں کے حالات زندگی کی تحقیق اور عیوب و محاسن کی تفتیش کا عظیم الشان کام شروع ہوا۔ اصطلاح میں اِسے’اسماء الرجال‘ سے تعبیر کیا گیا۔25

اِسی ضمن میں موضوع اور جھوٹی حدیثوں کو چھانٹنے کا عمل بھی ساتھ ساتھ شروع ہوا اور جرح و تعدیل کے اصولوں کی بنا پر موضوع حدیثوں کے بے شمار مجموعے مرتب کیے گئے۔26

اصول حدیث

تیسرے یہ کہ سند کے ساتھ ساتھ متن کی جانچ پڑتال کا کام بھی شروع کیا گیا۔ اِس کا مقصد یہ تھا کہ احادیث کو قرآنِ مجید، سنتِ ثابتہ اور عقل عام کی روشنی میں پرکھا جائے اور جو احادیث اُن سے غیر مطابق ہوں، اُنھیں رد کر دیا جائے۔ اِس ضمن میں اصول حدیث کی کتب تالیف کی گئیں۔

صحیح احادیث کے مجموعے

چوتھے یہ کہ اُن احادیث کو مجموعوں کی صور ت میں جمع کیا گیا، جن کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متحقق اور قابل اطمینان تھی۔ چنانچہ امام بخاری، امام مسلم، امام احمد بن حنبل، امام ابو داؤد ، امام ترمذی، امام نسائی، امام ابن ماجہ اور متعدد محدثین نےاپنی تحقیقات اور اپنے اصولوں کی روشنی میں قابل اعتماد احادیث کے مجموعے ترتیب دیے۔

ردو قبول کے معیارات

پانچویں یہ کہ امت کے جلیل القدر علما اور فقہا نے احادیث کو حرزِ جاں بنایا اور اُن کی تحقیق و تفتیش اور جمع و تدوین میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔اُنھوں نے پوری احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن سے حاصل ہونے والے علم کو درجۂ ظن میں رکھااور اُن کی قبولیت کے لیے انتہائی کڑے معیارات کو قائم کیا۔

احادیث کے رد و قبول کے معیارات

فقہا نے فقہی آرا کے لیے احادیث سے استشہاد کا سلسلہ شروع کیا۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے قبول عام معیارات کے ساتھ اپنے اپنے نظریے کے لحاظ سے خاص معیارات بھی متعین کیے۔

مثال کے طور پر امام مالک نے طے کیا کہ اخبارِ آحاد کی صورت میں روایت ہونے والی احادیث کو اہل مدینہ کے عمل کی روشنی میں دیکھا جائے گا۔ اگر وہ اُس کے مخالف ہوئی تو اُسے رد کر دیا جائے گا۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک خبرِ واحد اُس صورت میں قبول ہو گی ، جب وہ قرآنِ مجید اور سنتِ مشہورہ کے خلاف نہ ہو۔امام شافعی نے خبرِ واحدکو صحیح الاسناد ہونے کی بنا پر قبول کرنے کا طریقہ اختیار کیا،لیکن اُنھیں اخبارِ خاصہ (چند افراد تک محدود رہنے والی خبریں)قرار دے کر اخبارِ عامہ (اجماع و تواتر سے ملنے والی خبریں) کے تابع رکھنے کا فیصلہ کیا۔

مطلب یہ ہے کہ احادیث کے رد و قبول کے معیارات کے تعین میں اہل علم کے مابین ہمیشہ فرق قائم رہا۔ یہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ ایک حدیث ایک محدث یا فقیہ کے نزدیک مقبول ہوتی ہے، مگر دوسرے محدث یا فقیہ کے نزدیک مردود قرار پاتی ہے۔27

امام مالک اور امام ابو حنیفہ نے احادیث کو قبول کرنے کے لیے نسبتاً زیادہ سخت معیارات قائم کیے، اِس لیےاُنھوں نے متعدد ایسی روایتوں کو قبول کرنے سے انکار کیا، جو اُن کے نزدیک دین کی اساسات کے خلاف اور قرآن وسنت سے معارض تھیں ۔

اُن کے اِس عمل کو بعض علما اور علمی گروہوں نے ہدفِ تنقید بنایا اور بعض نے انکارِ حدیث یا اپنی راے کو حدیث پر ترجیح دینے کا الزام عائد کیا۔

تاہم علماے امت کی اکثریت نے ایسے الزامات کی تردید کی ۔ امام ابن عبدالبر ’’جامع بیان العلم وفضلہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

”امام ابوحنیفہ کسی عناد کی بنیاد پر احادیث کی مخالفت نہیں کرتے تھے، بلکہ قوی دلائل و براہین کے پیش نظر بنا بر اجتہاد آپ نے یہ موقف اختیار کیا تھا، اِس لیے اگر آپ کا یہ اجتہاد غلط ہے تو اُن کو ایک اجر ملے گا اور اگر درست ہے تو دو اجر۔ آپ کو ہدفِ نقد و جرح بنانے والے یا تو حاسد ہیں اور یا اجتہاد کی حقیقت سے بے گانہ اشخاص۔“

جلیل القدر فقہا اور محدثین میں کوئی ایک امام بھی ایسا نہیں ہے، جس نے متعدد احادیث کو بہ وجوہ رد نہ کیا ہو۔28

احادیث کے مجموعے

تیسری صدی ہجری میں حدیث کی جمع و تدوین کا کام زیادہ ذوق و شوق اور اہتمام کے ساتھ سامنے آیا۔ اِس صدی کی نمایاں تالیفات یہ ہیں:

کتاب الام للشافعی(204ھ)،

مسند الطیالسی (204ھ)،

مصنف عبدالرزاق (211ھ)،

مصنف ابنِ ابی شیبہ (235ھ)،

مسند احمد بن حنبل( 241ھ)،

الجامع الصحیح للبخاری( 256ھ)،

الجامع الصحیح للمسلم( 261 ھ)،

سنن ابو داؤد( 275 ھ)،

الجامع للترمذی(279 ھ)،

سنن ابنِ ماجہ( 273 ھ)،

سنن نسائی (303ھ)،

اِن میں سے موخر الذکر چھ کو صحاح ستہ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔

احادیث کے مجموعوں پر اتفاق و اختلاف

یہ اور اِن کے بعد تالیف ہونے والے درجنوں مجموعہ ہاے حدیث کے حوالے سے دو سوال اہم ہیں:

ایک یہ کہ کیا اِن میں نقل احادیث کی صحت کے بارے میں علما کے مابین اتفاق پایا جاتا ہے؟

دوسرے یہ کہ کیا محدثین نے اپنے مجموعوں میں اپنی محققہ تمام روایات کو بالاستیعاب شامل کیا ہے؟

اِن دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔

ہر مجموعۂ حدیث پر دیگر علما و محدثین کی طرف سے نقد سامنے آیا ہے۔

مثال کے طور پر مسند احمد بن حنبل کے بارے میں بعض علما کی راے ہے کہ اُس میں صحیح، ضعیف اور موضوع، ہر طرح کی روایات شامل ہیں۔ ابن الجوزی نے مسند کی 29 احادیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔ عراقی کہتے ہیں کہ مسند میں ضعیف احادیث تو یقیناً موجود ہیں، بلکہ احادیثِ موضوعہ بھی ہیں، جن کو میں نے ایک جز میں یک جا کر دیا ہے۔ امام احمد کے بیٹے عبداللہ نے مسند میں جو اضافے کیے ہیں، اُس میں ضعیف اور موضوع، سب قسم کی روایات موجود ہیں۔29

جہاں تک اِس مسئلے کا تعلق ہے کہ محدثین نے اِن مجموعوں میں اپنی دریافت شدہ تمام روایتوں کو شامل کیا ہے تو اِس کے جواب میں صرف بخاری و مسلم کے کام سے صورتِ حال کا اندازہ ہو جائے گا۔

امام بخاری کا قول ہے کہ اُنھوں نے خوفِ طوالت سے بعض صحیح احادیث کو ترک کر دیا۔30 امام مسلم کے بہ قول اُنھوں نے صرف وہی احادیث اپنی کتاب میں شامل کی ہیں، جن کی صحت پر علما کا اتفاق ہے۔31

بخاری ومسلم کے اِس فیصلے کو بعض محدثین نے ہدفِ تنقید بھی بنایا ہے۔ مثلاً ابنِ حبان کہتے ہیں کہ بخاری و مسلم پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ اُنھوں نے بعض ایسی احادیث کو شامل نہیں کیا، جو اُن کے شرائط کے مطابق صحیح کے درجے کی تھیں۔32 امام دارقطنی کا قول ہے کہ بخاری و مسلم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث کو اپنی کتب میں شامل نہیں کیا ، دراں حالیکہ اُن کے اپنے شرائط کے مطابق اُنھیں شامل کرنا ضروری تھا۔33 امام بیہقی کہتے ہیں کہ اِن محدثین نے ’’صحیفۂ ہمام بن منبہ‘‘ کی بعض روایات کو شامل کیا ہے اور بعض کو شامل نہیں کیا، جب کہ اِس صحیفے کی روایات کا سلسلۂ اسناد ایک ہی ہے۔34 امام حاکم ابو عبداللہ نیشاپوری نے اپنی کتاب ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘ میں متعدد ایسے راویوں کا ذکر کیا ہے، جو ثقہ ہیں، مگر بخاری و مسلم نے اُنھیں قبول نہیں کیا۔ اُن میں صحابہ،تابعین اور تبع تابعین شامل ہیں۔ اِسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ بخاری و مسلم نے امام ابو حنیفہ، امام شافعی سے موقع اور معاصرت کے باوجود روایات نہیں لیں۔ امام بخاری نے امام احمد سے روایت نہیں لی اور امام مسلم نے امام بخاری کی سند سے کوئی روایت نہیں لی۔35

خلاصۂ کلام

1۔ محدثین کا اپنی دریافت شدہ اور محققہ صحیح احادیث میں ترک و اختیار کا رویہ اور ثقہ راویوں میں سے کئی راویوں سے روایات نہ لینے کا فیصلہ اِس امر کو ثابت کرتا ہے کہ حدیث کی جمع و تدوین کو انفرادی اور اختیاری کام سمجھا جاتا ہے۔ محدثین اپنی ذاتی تحقیق، ذاتی اطمینان اور ذاتی ذوق کی بنا پر روایات کا انتخاب کرتے تھے اوراُسے اپنی ذاتی کاوش کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ اُن کے کام میں دوسروں سے اختلاف پایا جاتا تھا اور وہ اپنے کام سے اختلاف کی گنجایش کو تسلیم کرتے تھے۔

2۔ اِن کی تحقیق و تنقیح کا کام مسلسل جاری رہتا ہے۔ اِس معاملے میں انتہائی کڑے معیارات پر پرکھنے کے بعد اِن کے رد و قبول کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور اِس فیصلے کے بعد بھی نظر ثانی کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ اِس کی وجہ یہ ہےکہ علما و محدثین جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کسی مشتبہ بات کی روایت دنیا اور آخرت ، دونوں میں نہایت سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ لہٰذا وہ آپ کی نسبت سے روایت ہونے والی ہر خبرِ واحد کو زیرِ تحقیق لاتے ہیں اور سند اور متن، دونوں پہلوؤں سے اُس کا جائزہ لیتے ہیں۔ سند کے لحاظ سے وہ راویوں کی عدالت،36 اُن کے ضبط37 اور سلسلۂ روایت کے اتصال38 کی جانچ کرتے ہیں۔کسی روایت کا متن کتنا ہی دل نواز کیوں نہ ہو، اگر وہ سند کے معیارات پر پوری نہیں اترتی تو اُسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے سے صاف انکار کر دیا جاتا ہے۔ اِس کے بعد متن کا جائزہ لیا جاتا ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا اُس میں کوئی چیز قرآن و سنت کے یا علم و عقل کے مسلمات کے خلاف تو نہیں ہے۔ اِن معیارات سے گزارنے کے بعد بھی اُسے یقین کے درجے میں نہیں، بلکہ غالب گمان کے درجے میں رکھا جاتا ہے۔ یعنی اُنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے قطعی الثبوت نہیں، بلکہ ظنی الثبوت سمجھا جاتا ہے ۔ اِسی بنا پر اِن کے رد و قبول کے معاملے میں محدثین اور فقہا کے مابین اختلاف بھی عام ہے۔بعض اوقات ایک محدث ایک راوی کو ثقہ سمجھتا ہے، جب کہ دوسرا ایسا نہیں سمجھتا ۔ اِسی طرح بعض اوقات ایک فقیہ ایک روایت کو درایتاً قبول نہیں کرتا، جب کہ دوسرا قبول کر لیتا ہے۔ اِس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک روایت بعض علما کے نزدیک مقبول اور بعض کے نزدیک نا مقبول یا مردود قرار پاتی ہے۔

3۔ حدیث کی تحقیق و تنقیح کا یہ کام نہ کسی فرد تک محدود ہوتا ہے اور نہ کسی زمانے میں مقیدہوتا ہے۔ یہ مسلسل جاری رہتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مزید لوگ میدان میں آتے ہیں اور اِس ذخیرے کو کھنگال کر نئی تحقیقات سامنے لے آتے ہیں۔ مثلاً حدیث کی نمایاں کتابوں میں سے موطا امام مالک اور صحاح ستہ کے نسخے 150 ھ تا 300ھ کے درمیان تالیف ہوئے۔ابو یعلیٰ، دار قطنی، مستدرک علی الصحیحین، بیہقی، دیلمی کے مجموعے 300ھ تا 500 ھ کے درمیان مرتب ہوئے۔ یہ کام دور حاضر میں بھی جاری ہے۔ چودھویں صدی ہجری میں علامہ ناصر الدین البانی کا کام اِس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ علماے حدیث میں تحقیق کی استعداد کا تفاوت، حالات اور وسائل کے فرق اور روایت اور درایت کے اصولوں اور اطلاقات میں اختلاف ہی کا نتیجہ ہے کہ حدیث کے بیسیوں مجموعے مرتب کیے جا چکے ہیں جو اپنے متن کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اُن میں احادیث کی تعداد میں بھی فرق ہے اور مقبول و مردود کی تعیین میں بھی اختلاف ہے۔

مدعا کی تفہیم کے لیے یہ چند مثالیں کفایت کریں گی۔ ایک مثال امام دارقطنی کی ہے، جنھوں نے اپنی کتاب ’’الالزامات والتتبع‘‘ میں بخاری ومسلم کی کم و بیش دو سو روایتوں کی اسناد پر نقد کیا ہے۔39دوسری مثال محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری کی ہے۔ اُنھوں نے اپنی کتاب ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘ میں امام بخاری اور امام مسلم کے اصولوں کو بنیاد بنا کر ایسی روایات کو شامل کیا ہے، جنھیں صحیحین میں درج نہیں کیا گیا۔ یہ امام بخاری اور امام مسلم سے کم و بیش ڈیڑھ سو سال بعد کا کام ہے۔اِ س لحاظ سے اِسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی توسیع کا کام بھی کہا جا سکتا ہے۔دورِ حاضر میں علامہ ناصر الدین البانی کا کام بھی حدیث کی تحقیق وتدوین پر مشتمل ہے۔ اُنھوں نے بخاری اورمسلم کی قرار دادہ کئی صحیح احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور کئی ضعیف احادیث کو حسن اور صحیح کے درجے میں رکھا ہے۔

4۔ حدیث کی تحقیق و تدوین کے کام کا یہ تسلسل اِس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ علماے امت ذخیرۂ احادیث میں دستیاب روایتوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کو یقینی نہیں سمجھتے۔ اگر وہ اِسے یقینی سمجھتے ہوں تو اِس میں نہ تحقیق کی جسارت کر سکتے ہیں اور نہ کسی اختلاف کو گوارا کر سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ یقین ہو کہ فلاں الفاظ یا فلاں اقوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے فرمودہ ہیں تو اُن کی کھوج کرید کرنا اور اُن میں اختلاف کی راہ ڈھونڈنا ایمان کے منافی ہے۔ کوئی مسلمان اِس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔40

5۔حدیث کے حوالے سے یہی وہ مسلمہ حقائق ہیں، جن کی بنا پر استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کا موقف ہے کہ اِنھیں قرآن و سنت کے برابر نہیں ، بلکہ اُن کے تابع اور ماتحت رکھنا چاہیے اور اِن کے مندرجات کو دین میں کسی منفرد اور مستقل بالذات حکم کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔

____________

  1. 1۔ ’تفہیم و تبیین ‘ سے مراد قرآن و سنت کی شرح و وضاحت کا وہ علم ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے عالم کی حیثیت سے لوگوں تک پہنچایا ۔ اِس میں شرح و فرع بھی ہے، فقہ و تفسیر بھی ہے، اجتہاد و قیاس بھی ہے اور اطلاق و انطباق بھی ہے۔ اِس کے علاوہ دین پر آپ کے بہترین عمل کی تفصیل بھی ہے۔
  2. 2۔ امام ذہبی لکھتے ہیں :

    ”کتابتِ حدیث کی ممانعت کا مقصد قرآنِ مجید پر توجہ مرکوز کرانا تھا تاکہ قرآن تحریر ہو کر اور حفظ ہو کر احادیث سے ممتاز ہو جائے اورکسی التباس کا احتمال نہ رہے۔ جب یہ مقصد حاصل ہو گیا اور معلوم ہو گیا کہ قرآن کریم کے کسی اور کلام سے التباس کا شبہ باقی نہیں رہا تو احادیث لکھنے کی اجازت دے دی گئی۔“ (سیر اعلام النبلاء3/81)

    امام خطابی ’’معالم السنن‘‘ میں لکھتے ہیں:

    ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی صحیفہ پر قرآن اور حدیث کو اکٹھا لکھنے سے منع فرمایا تھا ۔ مقصد یہ تھا کہ قرآن کی آیات اور احادیث باہم اِس طرح نہ مل جائیں کہ بعد میں کسی قاری کو شبہ پیدا ہو جائے ۔“ (4/184)

    امام محمد بن قتیبہ کہتے ہیں کہ حدیث کے لکھنے کی ممانعت اولین دور میں ہوئی، لیکن جب احادیث کی کثرت کی بنا پر اُن کا حفظ دشوار ہوا تو احادیث لکھنے کی اجازت دے دی گئی ۔(التراتیب الاداریہ 2/248)

    ابن الجوزی بیان کرتے ہیں:

    ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاً یہ ارادہ فرمایا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآن حفظ کرنے پر اکتفا کریں، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ احادیث کی کثرت ہو گئی ہے اور تمام احادیث کا یاد کرنا دشوار ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث لکھنے کی اجازت دے دی۔“ (التراتیب الاداریہ 2/248)

  3. 3۔ اِس مضمون میں جہاں جہاں ’سنت‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے، اُس سے مراد وہ دینی اعمال ہیں، جو عملی تواتر سے امت کو منتقل ہوئے ہیں۔ احادیث اُن میں شامل نہیں ہیں۔
  4. 4۔ صحابۂ کرام کی اِس ذمہ داری کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:’ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ‘،’’(ایمان والو، اِس وقت تو اللہ کی عنایت سے) تم ایک بہترین جماعت ہو ،جو لوگوں پر حق کی شہادت کے لیے برپا کی گئی ہے۔ تم بھلائی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر سچا ایمان رکھتےہو‘‘(آل عمران 3 :110) ۔
  5. 5۔ حضرت رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

    ”ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم آپ سے احادیث سنتے ہیں، کیا ہم اُنھیں لکھ لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، لکھ لیا کرو۔“

    (مسند احمد 2/ 215۔ مجمع الزوائد 101۔ تقیید العلم 72)

  6. 6۔ صحیح مسلم بہ حوالہ الکفایۃ فی علم الروایۃ 205۔
  7. 7۔ صحیح بخاری4/116۔ فتح الباری 1/204 ۔ عمدۃ القاری1/160۔
  8. 8۔ ’’ تذکرۃ الحفاظ‘‘ میں حافظ ذہبی نے حاکم کے حوالے سے قاسم بن محمد کی یہ روایت نقل کی ہے:

    ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: میرے والد نے ایک مجموعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچ سو احادیث جمع کی تھیں۔ ایک رات میں نے دیکھا کہ آپ بار بار کروٹیں بدل رہے ہیں۔ میں نے پریشان ہو کر دریافت کیا کہ کیا آپ کو کوئی تکلیف یا پریشانی ہے۔ بہرحال صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ بیٹی ذرا احادیث کا وہ مجموعہ لاؤ ،جو تمھارے پاس ہے۔ آپ نے اُسے آگ میں جلا دیا۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ نے اِسے جلا کیوں دیا؟ فرمایا: مجھے یہ ڈر ہوا کہ کہیں میری موت آ جائے اور اِس مجموعہ میں بعض ایسی احادیث بھی ہوں، جو میں نے ایسے شخص سے سنی ہوں ،جس پر میں نے اعتماد کر لیا ہو، مگر فی الحقیقت ایسا نہ ہو اور میں اللہ کے ہاں اِس روایت کا ذمہ دار ہو جاؤں۔“ (1/10)

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ اُنھوں نے اپنے دور میں احادیث کے ضبط تحریر میں لانے کے بارے میں دیگر صحابۂ کرام سے مشورہ کیا ۔اُنھوں نے اُنھیں لکھ کر محفوظ کرنے کا مشورہ دیا ۔پھر وہ ایک ماہ تک اِس معاملے میں استخارہ کرتے رہے، بالآخر ایک صبح صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:

    ”آپ سب کو معلوم ہے کہ میں نے احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضبط تحریر میں لانے کا ارادہ کیا تھا، لیکن میں نے پچھلی قوموں کے حالات پر نظر ڈالی تو میں نے یہ دیکھا کہ اُنھوں نے بھی کتابیں تحریر کیں۔ پھر اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر اُن کتابوں پر ٹوٹ پڑے۔ بخدا، میں اللہ کی کتاب کے ساتھ کبھی کوئی آمیزش نہیں ہونے دوں گا۔“(جامع بیان العلم وفضلہ 1/76)

  9. 9۔ اعمش، ابراہیم التیمی سے اور وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ:

    ”اللہ کی کتاب کے سوا ہمارے پاس کوئی اور کتاب نہیں ہے، البتہ یہ صحیفہ ہے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ صحیفہ کھول کر دکھایا، اِس میں دیتوں سے متعلق اور اونٹ کی زکوٰۃ سے متعلق احادیث مذکور تھیں۔“

    (صحیح بخاری4/116۔ فتح الباری1/204۔ عمدۃ القاری 1/160)

    ایک مرتبہ ابو جحیفہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا:

    ”کیا آپ کے پاس کوئی تحریرہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، صرف اللہ کی کتاب ہے اور وہ فہم ہے، جو کتاب اللہ کو سمجھنے کا ہر مسلمان کو عطا ہوا ہے اور یہ صحیفہ ہے۔ پوچھا کہ اِس صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا: دیت اور قیدی کو آزاد کرنے کے بارے میں احادیث ہیں اور یہ حدیث ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔“

  10. 10۔ کتابت و تدوین حدیث صحابۂ کرام کے قلم سے، ڈاکٹر ساجد الرحمٰن صدیقی 95۔
  11. 11۔ حدیث کی روایت کرنے والے لوگوں میں سے مثال کے طور پر حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صحابی ہیں، قتادہ اور ابن شہاب زہری تابعی ہیں، امام مالک ، امام بخاری تبع تابعی ہیں اور امام مسلم اور امام ترمذی تبع تبع تابعی ہیں۔
  12. 12۔ حافظ ابن عبدالبر کی کتاب ’’جامع بیان العلم وفضلہ‘‘ میں ’’ذکر الرحلۃ فی طلب العلم‘‘ کا باب اِسی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔ خطیب بغدادی نے ابوالعالیہ (تابعی) کا یہ قول نقل کیا ہے :

    ’’ہم اصحاب رسول سے بالواسطہ احادیث سنا کرتے تھے۔ پھر ہمیں یہ اچھا لگا کہ ہم خود اُن کی خدمت میں حاضر ہو کر حدیثیں سنیں۔‘‘

  13. 13۔ تدریب الراوی 73۔ تاریخ حدیث و محدثین ، ابو زہرہ225-229۔
  14. 14۔ ابو زہرہ مصری ’’تاریخ حدیث و محدثین‘‘ میں لکھتے ہیں: ”مگر سوال یہ ہے کہ جو جامع تصانیف امام زہری اور اُن کے بعد آنے والے محدثین نے مرتب کی تھیں، وہ کہاں گئیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اُن میں سے بہت کم کتب نقل ہو کر ہم تک پہنچ سکی ہیں۔ مثلاً موطا امام مالک و مسند امام شافعی و کتاب الآثار محمد بن حسن شیبانی متوفی 189ھ جو موطا امام مالک کے ایک راوی بھی ہیں۔“ (309)
  15. 15۔ حوالہ تہذیب التہذیب1/137، ترجمہ: 243۔ الاسرار المرفوعہ 90 – 88۔
  16. 16۔ چنانچہ امام مسلم امام یحییٰ بن سعید القطان کا قول نقل کرتے ہیں:

    لم نر الصالحین في شيء أكذب منهم في الحدیث. (مقدمہ صحیح مسلم1/18-17۔ المدخل الی معرفۃ کتاب الاکلیل: 133۔ شرح علل الترمذی1/93)

    ”ہم نے حدیث کے بیان کرنے میں نیک و صالح لوگوں سے زیادہ خطا کرنے والا کسی اور کو نہیں دیکھا ہے۔“

    حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:

    ”واضعین حدیث کی چند قسمیں ہیں، اُن میں سے زیادہ ضرر رساں وہ لوگ ہیں، جو زہد و تقویٰ کی طرف منسوب ہیں، جنھوں نے ثواب کے حصول کے لیے احادیث وضع کیں اور لوگوں نے اُن کی ظاہری حالت اور اُن سے عقیدت کی بنا پر اُن کی موضوع روایتوں کو قبول کر لیا، پھر فن حدیث کے اعلیٰ ماہرین اُن موضوعات کے عیب کھولنے اور اُن کی عار مٹانے کے لیے اٹھے۔“

    (مقدمۃ ابن الصلاح 131)

    میسرہ بن عبد ربہ کے متعلق خطیب بغدادی لکھتے ہیں:

    ”محمد بن عیسیٰ بن طباع کا بیان ہے کہ میں نے میسرہ بن عبد ربہ سے کہا، تم یہ حدیثیں کہاں سے لائے، جس میں مذکور ہے کہ جس نے فلاں فلاں سورۃ پڑھی اُس کے لیے اتنا اتنااجر ہے؟ کہنے لگا: میں نے لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے گھڑی ہیں۔“ (تاریخ بغداد13/ 223)

    ’’تدریب الراوی میں ہے کہ ایک راوی نوح ابن مریم سے پوچھا گیا: تم عکرمہ سے بہ سند ابن عباس رضی اللہ عنہ قرآنِ مجید کی سورتوں کے فضائل کیسے بیان کرتے ہو؟ اُس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ فضائل میرے خود ساختہ ہیں۔ جب اُس سے اِس کا سبب پوچھا گیا تو اُس نے کہا: میں نے لوگوں کو دیکھا کہ قرآن مجید سے دور ہٹتے جا رہے ہیں اور امام ابو حنیفہ کی فقہ اور ابن اسحاق کے مغازی میں منہمک ہو رہے ہیں، تو میں نے اُن کا رخ کتاب اللہ کی طرف موڑنے کے لیے ایسا کیا ہے۔‘‘(تدریب الراوی 1/239)

    یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں:

    ”دین دار لوگ حدیثوں کے روایت کرنے میں جس قدر جھوٹے ہوتے ہیں اور کسی بات میں اتنے جھوٹے نہیں ہوتے۔“( توجیہ النظر 35)

  17. 17۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا گیا ہے کہ اُنھوں نے مروان بنِ حکم سے کہا تھا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ تمھارے باپ دادا سے فرما رہے تھے:’الشجرة الملعونة‘ سے تم (بنو امیہ) مراد ہو۔ اِس ضمن میں ایک روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ ”میں نے بنو امیہ کو زمین کے منبروں پر دیکھا ہے۔ وہ تمھارے بادشاہ قرار پائیں گے۔ اور تم اُن کو بدترین حاکم پاؤ گے۔“ (تاریخ حدیث و محدثین، ابو زہرہ 330 )

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    ”جب تیرے بیٹے سیاہ مکانوں میں رہیں، سیاہ لباس پہنیں اور اہل خراسان اُن کے مددگار ہوں تو اقتدار ہمیشہ اُن میں رہے گا، حتیٰ کہ وہ اُسے عیسیٰ علیہ السلام کے سپرد کر دیں گے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے بنو امیہ کو باری باری اپنے منبر پر چڑھتے دیکھا تو مجھے سخت ناگوار گزرا۔ پھر بنو عباس کو باری باری منبر پر چڑھتے دیکھا تو یہ دیکھ کر خوش ہوا۔“

  18. 18۔ ایک زندیق محمد بن سعید شامی تھا، جسے زندقہ کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔ اُس نے ایک روایت وضع کی ہے:

    أنا خاتم النبیین لا نبي بعدي إلا أن یشاء اللّٰه. (تفسیر قرطبی 1/113)

    ”میں انبیا کا خاتم ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں، مگر جسے اللہ چاہے۔“

    امام حماد بن زید فرماتے ہیں:

    وضعت الزنادقة علی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم اثنی الف حدیث.

    (الضعفاء الکبیر 1/14۔ النکت علی کتاب ابن الصلاح2/851)

    ”زندیقوں اور بے دینوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بارہ ہزار حدیثیں وضع کی ہیں۔“

  19. 19۔ مثلاً مامون بن احمد ہروی سے کسی نے کہا کہ تم دیکھتے نہیں کہ امام شافعی کے مذہب کے پیروکار خراسان میں کس قدر زیادہ ہو رہے ہیں، اُس نے فوراً کہا: میں نے احمد بن عبداللہ سے سنا، اُس نے عبداللہ بن معدان ازدی سے اور اُس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ:

    ”میری امت میں ایک شخص ہو گا ،جس کا نام محمد بن ادریس (شافعی) ہو گا، جو میری امت کے لیے ابلیس سے زیادہ نقصان دہ ہو گا، جب کہ اِس امت میں ایک دوسرا شخص ابو حنیفہ ہو گا، وہ میری امت کا چراغ ہو گا۔“ (الموضوعات 1/43، 2/48۔ المدخل الی معرفۃ کتاب الاکلیل 129۔ میزان الاعتدلال 3/430 ۔ لسان المیزان 5/7)

  20. 20۔ غیاث بن ابراہیم نخعی کوفی تھا، وہ ایک دفعہ عباسی خلیفہ مہدی کے دربار میں حاضر تھا۔ مہدی نے کبوتر پال رکھا تھا اور اُس کے ساتھ تفریح طبع کیا کرتا تھا، وہ کبوتر اُس کے سامنے موجود تھا۔ غیاث بن ابراہیم سے کہا گیا کہ امیر المومنین کو کوئی حدیث سنائیے تو اُس نے یہ حدیث سنائی:

    لا سبق إلا في نصل أو خف أو حافر أو جناح.

    (المجروحین 1/66۔ الموضوعات 1/43)

    ”مقابلہ صرف تیر، اونٹ، گھوڑے اور پرندے میں جائز ہے۔“

    حالاں کہ صحیح حدیث میں ”او جناح“ کا اضافہ موجود نہیں۔

    (دیکھیے: ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی السبق، حدیث2574۔ ترمذی، کتاب الجہاد)

  21. 21۔ امام ابن حبان ایک واعظ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں ایک مسجد میں گیا، نماز کے بعد ایک نوجوان کھڑا ہوکر کہنے لگا: مجھے ابو خلیفہ نے حدیث سنائی، اُس نے ولید سے، اُس نے شعبہ سے،اُس نے قتادہ سے اور اُس نے انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً سنا: ”جس نے اپنے مومن بھائی کی حاجت برآری کی تو اللہ تعالیٰ اُسے اتنا اجر دے گا۔“ اور ایک طویل حدیث بیان کی، جب وہ فارغ ہوا تو میں نے اُسے بلا کر کہا کہ آپ نے کب ابوخلیفہ کودیکھا ہے؟ اُس نے کہا: میری اُس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، میں نے کہا: پھر اُس سے روایت کیوں کرتے ہو؟ اُس نے کہا: ہمارے ساتھ جھگڑنا بے مروتی کی دلیل ہے، مجھے یہی ایک سند یاد ہے، جب کوئی حدیث سناتا ہوں، اُس کو اِس سند کے ساتھ جوڑ دیتا ہوں۔(المجروحین 1/81)
  22. 22۔ ایک راوی محمد بن عبدالمالک انصاری کے بارے میں حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ وہ نابینا تھا اور احادیث وضع کیا کرتا تھا ۔ اُس نے یہ حدیث وضع کی:

    فمن قاد أعمیٰ أربعین خطوة وجبت له الجنة. (میزان الاعتدال 3/631)

    ”جو کسی نابینا کا ہاتھ پکڑ کر اُسے چالیس قدم تک لے چلے، اُس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“

  23. 23۔ محمد ابن الجوزی اپنی کتاب ”القصاص والمذکرین“ میں ابو الولید الطیالسی سے نقل کرتے ہیں کہ میں شعبہ کے پاس بیٹھا تھا۔ ایک نوجوان اُن کے پاس آیا اور ایک حدیث کے بارے میں دریافت کرنے لگا۔ شعبہ نے کہا: ”کیا آپ قصہ گو ہیں؟ اُس نے کہا: جی ہاں، شعبہ نے کہا کہ تو جائیے، ہم قصہ گو لوگوں کو حدیثیں نہیں سنایا کرتے۔ میں نے اِس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے: یہ لوگ ہم سے بالشت بھر حدیث لیتے ہیں اور اُس کو ایک گز بنا دیتے ہیں۔“(تاریخ حدیث و محدثین، ابو زہرہ335)۔

    یہ واعظ حضرات آدم علیہ السلام کا حلیہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم کا قد اِس قدر لمبا تھا کہ آسمان یا بادل سے ٹکرانے کی وجہ سے اُن کے سر کے بال جاتے رہے۔ جب آدم زمین پر اترے تو جنت کی جدائی میں اِس قدر روئے کہ اُن کے آنسوؤں سے دریا بہنے لگا اور اُس میں کشتیاں چلنے لگیں۔حضرت داؤد علیہ السلام پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ واعظ بیان کرتے ہیں کہ آپ چالیس راتیں خدا کے آگے سجدہ میں پڑے رہے اور اِس قدر روئے کہ آنسوؤں سے گھاس اگ آئی۔ پھر سرد آہ بھری تو یہ گھاس ہلنے لگی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہیں کہ اُن کا عصا اتنا لمبا تھا، جتنا لمبا ایک طویل کھجور کا درخت ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آنکھ بجلی جیسی اور اُن کی خوشبو فلاں قسم کی تھی۔

    حضرت یونس علیہ السلام کا حال اِس طرح بیان کرتے ہیں کہ آپ لبنان کے پہاڑ پر آئے۔ آپ کے معتقدین میں سے ایک شخص ایسا تھا ،جو سال بھر رکوع کی حالت میں رہتا۔ اور ایک سال سجدہ میں گزارتا۔ اتنی مدت کے بعد کچھ کھاتا پیتا ۔(تاریخ حدیث و محدثین،ابو زہرہ 335)۔

  24. 24۔ ابوزہرہ لکھتے ہیں: ’’اِس دور میں نقدِ رجال کے سلسلہ میں دو شخصوں نے بڑی شہرت حاصل کی۔ یہ دونوں عظیم حافظِ حدیث تھے، یعنی یحییٰ بن سعید القطان (متوفی 189 ھ) اور عبدالرحمٰن بن مہدی (متوفی 198ھ)۔ لوگ اِن پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ چنانچہ جس راوی کو اِن دونوں نے ثقہ قرار دیا، وہ مقبول ہوا اور جس کو ضعیف سمجھا، وہ مجروح ٹھہرا۔ اور جس راوی کی عدالت اور ضعف کے بارے میں یہ مختلف الخیال تھے، اُس کو لوگوں نے اپنی دانست کے مطابق جس بات کو راجح سمجھا، اُس پر عمل کیا۔‘‘ (تاریخ حدیث و محدثین 142)
  25. 25۔ اِس سے مراد حدیث کا وہ خاص شعبۂ علم ہے، جس میں رجال حدیث، یعنی راویوں کے حالات، پیدایش، وفات، اساتذہ و تلامذہ کی تفصیل، طلبِ علم کے لیے سفر، ثقہ و غیر ثقہ ہونے کے بارے میں ماہرین علم حدیث کے فیصلے درج ہوتے ہیں۔ اِس ضمن میں وقتاً فوقتاً بہت سی کتابیں تالیف کی گئیں۔
  26. 26۔ فن جرح و تعدیل کی چند اہم کتابوں کے نام یہ ہیں:

    تاریخ کبیر، امام بخاری( 256ھ ) الجرح والتعدیل، امام ابی حاتم الرازی (327ھ)۔ الکامل فی ضعفاء الرجال، عبداللہ بن عدی الجرجانی (365ھ) ۔ الجرح و التعديل، عبد الرحمٰن بن محمد ابن ابی حاتم (327 ھ)۔ تہذیب الکمال، یوسف بن الزکی المزی (742 ھ)۔ میزان الا عتدال، ذہبی (748 ھ)۔ تہذیب التہذیب، ابن حجر العسقلانی (852ھ )۔ لسان المیزان، ابن حجر العسقلانی (852ھ)۔ سیر اعلام النبلاء، ذہبی (748 ھ)۔

    موضوع احادیث کے بارے میں چند نمایاں کتابیں یہ ہیں:

    تذكرة الموضوعات، الحافظ محمد بن طاہر المقدسي (507 ھ)۔ الموضوعات،امام جوزی (597ھ)۔ المنار المنيف، ابن قيم (751 ھ)۔ اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة، سيوطی(911 ھ)۔ الأحاديث الموضوعة في الأحكام المشروعة، موصلی (622 ھ)۔موضوعات، الصاغانی (650ھ)۔ ترتيب الموضوعات ، ابن الجوزی (597ھ)۔

  27. 27۔ ابو زہرہ ، ’’تاریخ التشریع الاسلامی للخضری‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

    ’’سابقہ بیانات اِس حقیقت کی آئینہ داری کرتے ہیں کہ حدیث نبوی کی قدر و قیمت معین کرنے میں بڑا اختلاف پایا جاتا تھا۔ گاہے ایسا ہوتا کہ حنفی شخص حدیث کی شہرت کی بنا پر اُس پر عمل کرتا اور شافعی المسلک ضعیف الاسناد ہونے کی بنا پر اُس کو متروک العمل ٹھہراتا۔ ایک مالکی المسلک شخص ایک حدیث پر اِس لیے عمل نہ کرتا کہ اہل مدینہ کا تعامل اُس کے خلاف ہے۔ اِس کے برخلاف شافعی المسلک صحیح الاسناد ہونے کی بنا پر اُس پر عمل کرتا۔ آخری دور میں ایسے لوگ منظر عام پر آئے، جو اپنے فقہی مسالک کی تائید و حمایت کرتے اور دوسرے ائمہ پر تنقید کرتے تھے۔ اُنھوں نے اُن اصول و ضوابط کو نظر انداز کر دیا، جن پر اُن کے ائمہ گام زن تھے۔ وہ جب دیکھتے کہ دوسرے فقہی مسلک کے حاملین نے کسی حدیث پر عمل نہیں کیا تو وہ اُن پر معترض ہوتے کہ اُنھوں نے ایک صحیح الاسناد حدیث کی مخالفت کی ہے۔ اگرچہ وہ حدیث اُن شرائط کی جامع نہ ہو، جو دوسرے فقہی مسلک کے حاملین کے نزدیک ضروری ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کرتے کہ جس حدیث پر اُن کے امام نے عمل نہیں کیا، وہ حتی المقدور جیسے بھی ممکن ہو، اُس کو ضعیف ٹھہرانے کی کوشش کرتے، حالاں کہ یوں کہنا بہت آسان تھا کہ چونکہ وہ حدیث اُن ضروری شرائط کی حامل نہیں، جو امام کے نزدیک لازم تھے، اِس لیے امام نے اُس کو معمول بہ قرار نہیں دیا۔“ (210)

  28. 28۔ امام ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ ائمۂ مجتہدین میں سے کوئی امام بھی ایسا نہیں جس نے متعدد احادیث کو بہ وجوہ رد نہ کر دیا ہو یا اِس لیے کہ وہ احادیث اُن کے نزدیک شرائطِ صحت کی جامع نہیں یا منسوخ ہونے کی وجہ سے یا اِس لیے کہ اُن کی معارض دوسری حدیث موجود ہے۔ امام مالک ہی کو دیکھیے باوجودیکہ آپ امام دار الہجرت اور امیر المومنین فی الحدیث تھے۔ تاہم آپ نے ستر (70) احادیث کی مخالفت کر کے اپنی راے پر عمل کیا، اِس لیے کہ وہ احادیث اُن کے معیار پر پوری نہیں اترتی تھیں (جامع البیان2/148 ۔ شروط الائمۃ الخمسۃ 49، نیز مقدمہ ابن خلدون فصل علوم الحدیث و مقدمہ قسطلانی علی البخاری 33)۔
  29. 29۔ تدریب الراوی 56۔
  30. 30۔ جملہ حفاظ و ائمۂ حدیث کا اجماعی فیصلہ ہے کہ بخاری و مسلم نے اپنی اپنی کتاب میں احادیثِ صحیحہ کا استیعاب نہیں کیا اور نہ اِس کا التزام کیا ہے۔ امام بخاری سے منقول ہے کہ اُنھوں نے فرمایا:

    ”میں نے صحیح بخاری میں صرف وہی احادیث شامل کی ہیں، جو صحیح تھیں۔ اور بعض احادیث صحیحہ کو خوف طوالت کے پیش نظر ترک کر دیا۔“ (تاریخ حدیث و محدثین، ابو زہرہ 500)

  31. 31۔ امام مسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:

    ”جو احادیث صحیحہ مجھے یاد تھیں، وہ سب کی سب میں نے اِس کتاب میں شامل نہیں کیں۔ میں نے صرف وہ احادیث اِس میں جمع کی ہیں، جن کی صحت پر اجماع قائم ہو چکا ہے۔ ‘‘

    (مقدمہ ابن الصلاح، تاریخ حدیث و محدثین، ابو زہرہ 501)

  32. 32۔ تاریخ حدیث و محدثین، ابو زہرہ 502۔
  33. 33۔ تاریخ حدیث و محدثین، ابو زہرہ 502۔
  34. 34۔ تاریخ حدیث و محدثین، ابو زہرہ 502۔
  35. 35۔ شیخ محمد زاہد کوثری ”شروط الائمۃ الخمسۃ للحازمی“ کے حاشیہ پر رقم طراز ہیں:

    ”یہ امر قابل غور ہے کہ شیخین (امام بخاری و مسلم) نے صحیحین (صحیح بخاری و صحیح مسلم) میں امام ابوحنیفہ کی کوئی روایت شامل نہیں کی، باوجودیکہ اُن کی ملاقات جناب امام کے کم سن اصحاب الاصحاب سے ہوئی تھی اور اُن سے اخذ و استفادہ بھی کیا تھا۔ بخاری و مسلم نے امام شافعی کی کوئی روایت بھی شامل کتاب نہیں کی، اِس کے باوصف کہ وہ دونوں امام شافعی کے بعض تلامذہ کو مل چکے تھے۔ امام بخاری نے امام احمد کی صرف دو روایتیں کتاب میں شامل کی ہیں۔ ایک تعلیقاً (بلاسند) اور دوسری بالواسطہ، حالاں کہ امام بخاری امام احمد سے مل چکے تھے اور اُن کی صحبت میں رہ چکے تھے۔ اِسی طرح امام مسلم نے امام بخاری کی کوئی روایت صحیح مسلم میں شامل نہیں کی،اِس کے باوجود کہ وہ بخاری کے شاگرد اور اُن کے تربیت یافتہ ہیں۔ مسلم نے امام احمد سے تیس کے لگ بھگ احادیث روایت کی ہیں۔ امام احمد نے اپنی مسند میں امام مالک سے از نافع بہ طریق شافعی صرف چار حدیثیں روایت کی ہیں، حالاں کہ یہ صحیح ترین سند ہے یا صحیح ترین اسانید میں سے ایک ہے۔ امام احمد نے شافعی سے لے کر جو احادیث روایت کی ہیں، وہ بیس سے بھی کم ہیں، اِس کے باوصف کہ امام احمد امام شافعی کی صحبت میں رہ کر اُن سے موطا امام مالک کا سماع کر چکے تھے۔ مزید برآں، امام احمد کو امام شافعی کے مذہب قدیم کے راویوں میں سے بھی شمار کیا جاتا ہے۔“

    (تاریخ حدیث و محدثین، ابو زہرہ 504)

  36. 36۔ یعنی راوی مسلمان اور عاقل ہو، فاسق نہ ہو اور مروت سے محروم نہ ہو۔
  37. 37۔ حدیث کو پورے طور سے یاد رکھنا اور محفوظ کر لینا۔
  38. 38۔ سند کی ابتدا سے انتہا تک ہر راوی نے دوسرے راوی سے بلاواسطہ حدیث حاصل کی ہو اور سند سے کوئی راوی چھوٹا ہوا نہ ہو۔
  39. 39۔ امام نووی نے یہ تعداد 200بتائی ہے، جب کہ ابن حجر نے 188 بتائی ہے، جن میں سے 110 بخاری کی روایات ہیں ۔(دارقطنی116،ارشاد الحق اثری)
  40. 40۔ یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور ان کو نقل کرنے والے صحابہ بھی متعین ہیں اور دورِ رسالت اور دورِ صحابہ کے بعد اُن میں کوئی اضافہ بھی ممکن نہیں ہے تو پھراُن میں اختلاف اور تحقیق کے تسلسل کا کیا سبب ہے؟ کیا احادیث کے ساتھ وہی معاملہ نہیں ہونا چاہی، جو قرآنِ مجید کے ساتھ ہوا، یعنی دورِ رسالت کے بعد قرآن کے متن پر کوئی بحث نہیں ہے، اور اُس کی تحقیق و تدوین کی نہ ماضی میں کوئی ضرورت پیش آئی اور نہ مستقبل میں پیش آ سکتی ہے ؟

    اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال درست نہیں ، کیونکہ قرآن اجماع و تواتر سے اور باللفظ منتقل ہوا ہے، جب کہ احادیث اخبارِ آحاد سے اور بالمعنیٰ منتقل ہوئی ہیں ۔روایت بالمعنیٰ کو ایسے سمجھیے کہ مثلاً حضرت عبدا للہ بن عمر یا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن کی کسی بات کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ اِس مقصد کے لیے اُنھوں نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، اُنھیں قرآن کی تفسیر تو کہا جا سکے گا، قرآن نہیں کہا جائے گا۔ یعنی مطلب یہ ہو گا کہ اُن حضرات نے قرآن کی آیت کو اپنے فہم کے مطابق اور اپنے الفاظ میں بیا ن کیا ہے۔ احادیث کا معاملہ بھی یہی ہے کہ اس میں سامع نے اسے اپنی سماعت کے مطابق سنا ہے، اپنے فہم کے مطابق سمجھا ہے اور اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ مزید یہ کہ ہم مفسر کے قول کی صحت کو قرآن کے متن کی روشنی میں جانچ سکتے ہیں، مگر احادیث کے معاملے میں یہ موقع موجود نہیں ہے۔ نہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس موجود ہیں اور نہ آپ کے اصل الفاظ دستیاب ہیں۔