Skip to content

Chapter 45: شناختی کارڈ کا مسئلہ

ہماری تاریخ کا یہ عجیب المیہ ہے کہ دین کو نظم اجتماعی پر غالب کرنے کے جو اقدامات بھی اربابِ اقتدار کی جانب سے ہوئے، وہ اپنی فطری ترتیب کے بالکل برعکس تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی بنا پر کوئی واضح تبدیلی ، ہمارے معاشرے میں نمود پذیر نہ ہو سکی ۔ نظام صلاۃ و زکوٰۃ کا نفاذ ، وفاقی شرعی عدالت کا قیام اور قرآن و سنت کی آئینی بالادستی جیسے اقدامات کے خصائص اپنی جگہ ، لیکن اُن کی بہ دولت دین کی موثر دعوت کی جانب کوئی پیش رفت تاحال سامنے نہیں آ سکی ۔ اِس کی وجہ سواے اِس کے اور کچھ نہیں کہ ایسے اقدامات میں نہ تو صحیح ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا اور نہ درست حکمتِ عملی کو اپنایا گیا ، اِس لیے اکثر یہی محسوس ہوا کہ اربابِ اقتدار نے صرف اپنے اقتدار کو تحفظ دینے کے لیے ایسے اقدامات کیے ہیں۔

گذشتہ دنوں ، ہماری حکومت نے شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کی منظوری دے کر اِسی نوع کا ایک اقدام اور کیا ہے ۔ اس کے نتیجے میں افراد کے تین گروہ سامنے آئے ہیں ، جو حکومت کے اس فیصلے کے بارے میں مختلف نقطہ ہاے نظر اور رویوں کا اظہار کر رہے ہیں ۔

ایک گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے، جنھوں نے ایک عرصے سے مذہبِ قادیانیت کو ہدفِ ملامت بنا رکھا ہے اور اِسی پس منظر میں وہ شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کے لیے تحریکی انداز میں کام کرتے رہے ہیں ۔ یہ گروہ حکومت کے اِس اقدام کو استحسان کی نظروں سے دیکھتا اور اِس فیصلے کو اپنی عظیم الشان کامیابی سے تعبیر کرتا ہے ۔

دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل ہیں، جو مذہب کو معاشرتی تعمیر و ترقی میں ایک رکاوٹ سمجھتے اور لادینی نظام کے قیام کو معاشرتی مسائل کا حل قرار دیتے ہیں ۔ شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کے بارے میں ان کا مقدمہ یہ ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے سے اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا ہے ، لہٰذا اس اقدام کو وہ ظلم و نا انصافی سے تعبیر ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت اِس فیصلے کو واپس لے ۔

تیسرا گروہ اُن حضرات پر مشتمل ہے، جو غیر مسلم ہیں اور ایک اقلیت کی حیثیت سے ، اِس ملک کے شہری ہیں ۔ وہ اِس خوف میں مبتلا ہیں کہ اس فیصلے کے نتیجے میں کہیں وہ حقوقِ شہریت ہی سے محروم نہ ہو جائیں ۔ لہٰذا یہ گروہ اِن دنوں احتجاجی مظاہروں اور جلسے جلوسوں میں مصروف ہیں ۔

ہماری راے میں اِن تینوں گروہوں کا نقطۂ نظر اور رویہ صحیح نہیں ۔ جہاں تک پہلے گروہ کا تعلق ہے تو اُسے یہ بات جان لینی چاہیے کہ اِس طرح کے بے ترتیب اقدامات سے نفاذِ اسلام کی جانب کوئی پیش قدمی نہیں ہو سکتی۔ اُن کے لیے صحیح راستہ یہ ہے کہ وہ نفاذِ دین کو بہ حیثیتِ مجموعی اپنا مقصد بنائیں اور اس کے لیے تشدد و احتجاج اور غیر حکیمانہ مطالبات کے بجاے دعوت و انذار کا طریقہ اختیار کریں۔ کسی صالح تبدیلی کے لیے دعوت و انذار ہی اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا راستہ ہے اور جو بھی اس راستے سے ہٹے گا ، وہ اللہ تعالیٰ کے طےکردہ حدود سے تجاوز کرے گا۔

دوسرے گروہ کو چاہیے کہ وہ ظلم و انصاف کے پیمانے مغرب سے مستعار لینے کے بجاے اُس دین سے حاصل کرنے کی کوشش کرے، جو فطرت کا صحیح عکاس ہے ۔ آزادیِ ضمیر و مذہب جس قدر اسلام میں پائی جاتی ہے ، واقعہ یہ ہے کہ کہیں اور اِس کی مثال بھی ڈھونڈنا ناممکن ہے ۔ وہ اگر مذہب کو انسان کا ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں تو ذاتی شناخت نامے میں مذہب کی تصریح سے اُن کا انکار سمجھ میں نہیں آتا ۔ اُن کے نزدیک اگر اِس سے حقوق میں تفریق پیدا ہوتی ہے تو اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تفریق ہمارے ہاں پہلے ہی سے روا ہے ۔ حصولِ ملازمت کے لیے دی جانے والے درخواستوں ، تعلیمی اداروں کے داخلہ فارموں اور پاسپورٹ کی دستاویزات وغیرہ میں مذہب کے خانے پہلے سے موجود ہیں ۔ اِس کے علاوہ اُنھیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہمارے ہاں رائج جداگانہ طریقۂ انتخاب بھی اس بات کا متقاضی ہے کہ شناختی کارڈ پر مذہب کا اندراج ہونا چاہیے ۔

تیسرے گروہ کو اِس سلسلے میں پورا اطمینان رکھنا چاہیے کہ اِس اقدام سے اُن کے حقوق و مراعات میں کوئی کمی نہیں ہوگی ، کیونکہ شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کے اعلان کے ساتھ ، حکومت کی طرف سے ، یہ اعلان ہرگز نہیں ہوا کہ اقلیتوں کو ان کے حقوق و مراعات سے محروم کیا جا رہا ہے ۔ اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اِسی معاشرے میں رہتے ہیں ۔ اُن کا مختلف طرزِ عبادت اور معاشرت اُنھیں دیگر مذاہب کے افراد سے منفرد بنا دیتا ہے ۔ وہ اگر اپنے مذہب پر پورا یقین رکھتے ہیں تو اُنھیں اِس کے بارے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے ، اس لیے کہ مذہب ہی انسان کی سب سے بڑی شناخت ہے ۔ ہر مسلمان اور غیر مسلم کے لیے اس کا مذہب ، اگر وہ اس پر ایمان رکھتا ہے ، باعثِ شرف ہونا چاہیے ۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ پاکستان کے تمام غیر مسلموں کو معاہد کی حیثیت حاصل ہے اور معاہدین کے بارے میں اسلام اِس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اگر وفادار شہریوں کی حیثیت سے نظم ریاست کی پابندی کرنے کے لیے تیار ہوں تو ریاست جن شرائط پر چاہے، اُن سے معاملہ کر سکتی ہے ، یہاں تک کہ اُن کو سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کے برابر حقوق بھی دے سکتی ہے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 /اگست 1947 ءکو دستورساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اقلیتوں کے بارے میں جو اعلان کیا ، اُسے بلاشبہ ایک معاہدے کی حیثیت حاصل ہے ۔

لہٰذا اقلیتوں کو شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج سے خوف زدہ نہیں ہو جانا چاہیے ، بلکہ اس فیصلے کو پورے اعتماد کے ساتھ ، کھلے دل سے قبول کرنا چاہیے ۔

مختصر یہ کہ اصولی طور پر حکومت کے اِس فیصلے سے اختلاف کی کوئی گنجایش نہیں ، البتہ معاشرے کو صحیح خطوط پر استوار کرنے کے بعد اِس طرح کا اقدام ہوتا تو زیادہ بہتر تھا ، لیکن اب اگر یہ فیصلہ ہو گیا ہے تو اِس پر ہنگامہ برپا کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

[دسمبر 1992ء]