وہ افکار جو وحی کی تعلیم سے خالی ہیں اور وہ نظریات جو اللہ کے دین کی رہنمائی سے محروم ہیں، آج رو بہ زوال ہیں۔ اِسی وجہ سے اُن افکار و نظریات پر قائم دنیا کے مختلف نظاموں کی بنیادیں متزلزل ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ وہ عالم پیر آج مر رہا ہے، جسے فرنگی مقامروں نے قمارخانہ بنا رکھا تھا۔
یہی وہ مقام ہے، جس پر آج یہ دنیا جہانِ تازہ کی تخلیق کی منتظر نظر آتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ جہانِ تازہ کون پیدا کرے گا؟ کیا وہ قومیں جہانِ تازہ تخلیق کریں گی، جن کے افکار کی نہایت ِکمال انسان کے جبلی جذبوں کی تسکین سے زیادہ اور کچھ نہیں؟ کیا وہ لوگ جہانِ تازہ پیدا کریں گے، جو انسان کی علمی و فکری اور اخلاقی صلاحیتوں کو اجتماعی معیشت کے مقابر میں دفن کرنا چاہتے ہیں؟ کیا وہ خطے جہانِ تازہ کو جنم دیں گے، جو انسانیت اور اخلاق کا ہر تقاضا بھلا کر سرمایہ دار کے خوں خوار پنجوں کو مضبوط بنا رہے ہیں؟ کیا اُن علاقوں میں جہانِ تازہ کی تعمیر ہو گی، جہاں پتھر اور نجوم و کواکب مسجودِ انسانیت ہیں۔
یہ اقوام، یہ لوگ، یہ خطے، یہ علاقے بھلا کیسے جہانِ تازہ تخلیق کر سکتے ہیں، جب کہ اِن کی رگوں میں دوڑنے والا خون اور اِن کی مٹی کو سیراب کرنے والا پانی کہنہ افکار اور فرسودہ روایات سے مرکب ہے۔
ہاں، ایک ایسی قوم ہے جو اِس عالم کی تشکیل نو کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ قوم ملتِ اسلامیہ ہے۔ اِس قوم کے پاس قرآنِ مجید کی صورت میں وہ عالم گیر رہنمائی موجود ہے، جس کے بغیر عقل در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتی اور جذبات بے لگام ہو کر انسان کے اخلاقی اور روحانی وجود کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اِس کے پاس دنیا کے کامل ترین انسان کا اسوہ موجود ہے ، جس کی روشنی انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کو گہوارۂ امن بنا دیتی ہے۔ اِس قوم کے پاس دنیا کے مرکزی خطے ہیں، اِس کے پاس کثیر آبادی ہے، اِس کے پاس زرخیز اذہان ہیں، اِس کے پاس سرمایہ ہے۔ بے شمار انعام و اکرام ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے اِس قوم پر کر رکھے ہیں۔
آج، یہ قوم اگر اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو نہ صرف یہ اپنی عظمتِ رفتہ کو واپس لا سکتی ہے، بلکہ پوری دنیا کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ زمانہ منتظر ہے کہ یہ جہانِ تازہ تخلیق کرے۔ اللہ تعالیٰ نے اِس تخلیق کے ہر مرحلے میں اپنی نصرت و امداد کا وعدہ کر رکھا ہے۔
اِس سے پہلے کہ کوئی دوسری قوم کسی کہنہ نظام زندگی کو نئے قالب میں ڈھال کر پھر اٹھ کھڑی ہو، اِس سے پہلے کہ انسانیت انسانوں سے مایوس ہو کر خودکشی کرلے اور اِس سے پہلے کہ عالم کا پروردگار اِس زمین و آسمان کو میدانِ حشر میں تبدیل کر دے۔
کاش ایسا ہو! کہ ملت اسلامیہ کے سپاہی جہانِ تازہ کو وجود بخشنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔