Skip to content

Chapter 27: مذہبی مکاتبِ فکر میں اتحاد

[ ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث کے بعد جناب جاوید احمد غامدی سے یہ سوال کیا گیا کہ دینی جماعتوں اور مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد کیسے ممکن ہے؟اِس سوال کے جواب میں غامدی صاحب کی گفتگو کا خلاصہ درجِ ذیل ہے ۔]

یہ مسئلہ میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا کہ مختلف نقطۂ نظر کے حامل لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ دین کی دعوت کا کام بہرحال اہل علم کو کرنا ہے۔ اہل علم کے مابین دین کی تعبیر کے بارے میں کچھ اختلاف بھی ہو گا۔ اِس اختلاف پر دین نے کوئی پابندی نہیں لگائی۔ یہ علمی اختلاف صحابۂ کرام کے درمیان بھی موجود رہا ہے۔ چنانچہ ہر صاحبِ فکر کو اپنی بات دلائل کے ساتھ پیش کرنی چاہیے اور عام آدمی کو دلائل ہی کی بنیاد پر اُس کی بات کو رد یا قبول کرنا چاہیے۔ اِس وجہ سے میں نہیں سمجھتا کہ دین کی تفہیم کے کاموں میں کسی نوعیت کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ آپ جیسے ہی اِس کے لیے کوشش کریں گے، حق کے بارے میں گریز اور منافقت کے رویے کا شکار ہو جائیں گے، جب کہ دعوت کی ذمہ داری میں بنیادی چیز یہی ہے کہ آپ حق کی سچی شہادت دیں اور صاف صاف طریقے سے اُس کو واضح کریں۔

اِس وجہ سے میرے نزدیک اِس معاملے میں کسی اتحاد کی ضرورت نہیں ہے۔ اِس کے بجاے ضرورت اِس امر کی ہے کہ مختلف دینی آرا کے بارے میں رواداری کا رویہ اپنایا جائے۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ہم اختلاف راے کو ذاتی عناد اور دشمنی کی بنیاد نہ بنائیں اور اُس کی بنا پر فرقہ بندیوں کی دیواریں کھڑی نہ کریں۔

جہاں تک اتحاد و اتفاق کا تعلق ہے تو اُسے قومی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے ہونا چاہیے۔ اِن امور میں اگر مختلف گروہ یا جماعتیں چند نکات پر متفق ہو جاتی ہیں تو یہ خیر کی بات ہے۔

[جون 2007ء]

____________