Skip to content

Chapter 5: باب سوم

باب سوم

شق قمر کا واقعہ ـــــــ احادیث و آثار کی روشنی میں

شق قمر کا واقعہ اصلاً قرآنِ مجید میں مذکورہے۔ اُس نے اِس قسم کی نشانیوں کے پس منظر اور خاص اِس واقعے کی نوعیت اور غرض و غایت کو پوری صراحت سے واضح کیا ہے۔ چنانچہ اِس واقعے کی تشریح و تفصیل میں اُسی کے مندرجات کو اساسی حیثیت حاصل ہے۔ تاہم، اِس کا ذکر متعدد صحابۂ کرام نے بھی کیا ہے۔ اِن میں حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت جبیر بن مطعم، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم نمایاں ہیں۔ اِن میں سے بعض عینی شاہد ہیں اور بعض نے اِسے دوسروں کی شہادت پر روایت کیا ہے۔ یہ روایات احادیث و آثار کی صورت میں بخاری، مسلم، ترمذی، احمد، ابو عوانہ، ابو داؤد طیالسی، عبدالرزاق، ابن جریر، بیہقی، طبرانی، ابن مردویہ اور ابو نعیم اصفہانی کے مجموعوں میں متعدد اور مختلف سندوں کے ساتھ منقول ہیں۔اِن روایات کو راویوں کے مشاہدے کے اعتبار سے دو زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1۔ شق قمر کا مشاہدہ کرنے والے اصحاب کی روایات

2۔ شق قمرکا مشاہدہ نہ کرنے والے اصحاب کی روایات

ذیل میں اِسی ترتیب سے مذکورہ روایات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ البتہ، اِس کے مطالعے سے پہلے شق قمر کے زمانے کا تعین ضروری ہے۔

شق قمر کے وقوع کا زمانہ

شق قمر کا واقعہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہجرت سے پہلے رونما ہوا تھا۔ تاریخ و سیرت اور حدیث و تفسیر کے علما کا اِس پر اتفاق ہے۔ اُن کے اندازے کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے مکہ مکرمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں پیش آیا تھا۔ آپ اُس وقت منیٰ میں تھے۔ اِس موقع پر متعدد صحابۂ کرام اور کفارِ قریش نے اِس کا مشاہدہ کیا تھا۔

شارح بخاری حافظ ابنِ حجر عسقلانی ’’فتح الباری‘‘ میں انشقاق القمر کی روایتوں کے تحت لکھتے ہیں:

قال: انشقّ القمر بمكة يعني: أن الانشقاق كان وهم بمكة قبل أن يهاجروا إلى المدينة. ( 7/184 )

’’ایک روایت میں راوی (حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا ہےکہ شق قمر کا واقعہ مکہ میں رونما ہوا تھا۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ جب چاند دو ٹکڑے ہوا تو وہ مدینہ کی طرف ہجرت سے پہلے مکہ میں تھے۔‘‘

’’المواہب اللدنیہ‘‘ میں علامہ احمد بن محمد قسطلانی نے لکھا ہے:

كان بمكة قبل الهجرة بنحو خمس سنين. ( 2/254)

’’یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے رونما ہوا۔‘‘

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اِسی تاریخ کی تصریح کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’تمام روایات کو جمع کرنے سے اِس کی جو تفصیلات معلوم ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں کہ یہ ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ قمری مہینے کی چودھویں شب تھی۔ چاند ابھی ابھی طلوع ہوا تھا۔ یکایک وہ پھٹا اور اُس کا ایک ٹکڑا سامنے کی پہاڑی کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا۔ یہ کیفیت بس ایک ہی لحظہ رہی اور پھر دونوں ٹکڑے باہم جڑ گئے۔ نبی صلی الله علیہ و سلم اُس وقت منیٰ میں تشریف فرما تھے۔‘‘

(تفہیم القرآن 5/229)

سید سلیمان ندوی نے بیان کیا ہے کہ یہ واقعہ کفارِ قریش کے لیے آخری نشانِ ہدایت تھا۔ اتنی بڑی نشانی کو دیکھ کر بھی جب قریش ایمان نہ لائے تو اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ اب حجت تمام ہو گئی ہے، اِس لیے اِس قوم کو چھوڑ کر ہجرت کر جائیے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ہدایت کی اِن نشانیوں میں کفارِ مکہ کے لیے سب سے آخری اور فیصلہ کن نشان شق قمر کا تھا، جس کے بعد آیاتِ ہلاکت کا آغاز ہونے والا تھا…ہجرت سے پہلے شق قمر کا نشان ظاہر ہوا اور اُس کو دیکھ کر بھی جب قریش کے رؤسا اسلام نہ لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا اور ہلاکت کے عذاب کے نازل ہونے کا وقت قریب آ گیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم میں اسرارِ نبوت کے جو محرم تھے، وہ پہلے ہی سمجھ چکے تھے کہ یہ ہجرت قریش کی بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ مستدرک حاکم (جلد 3، ص : 7) اور مسند ابن حنبل (جلد 1، ص : 216) میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا (انا للّٰہ) مکہ والوں نے اپنے پیغمبر کو نکال دیا،اب یہ ضرور ہلاک ہو جائیں گے، چنانچہ (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ) والی قتال کی آیت نازل ہوئی۔‘‘

(سیرت النبی3/172- 173)

شق قمر کا مشاہدہ کرنے والے اصحاب کی روایات

شق قمر کا مشاہدہ کرنے والے اصحاب کی روایات

واقعے کی تفصیلات اور روایات کے بعض اشارات سے قرین قیاس یہی ہےکہ اِس موقع پر صحابۂ کرام کی ایک معتد بہ تعداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےہم راہ موجود تھی۔ تاہم، جن اصحاب نے اِسے روایت کیا ہے، اُن میں سے عینی شاہدین کی تعداد تین ہے۔ یہ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم ہیں۔ اِن کی روایات درجِ ذیل ہیں:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت

1۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مکی صحابی ہیں۔ اِن کا شمار ابتدائی ایمان لانے والوں میں ہوتا ہے۔ شق قمر کے موقع پر اِن کی عمر تقریباً چوبیس پچیس سال تھی۔ اِس واقعے کی روایات میں اِنھی کی روایت کو بنیادی روایت کی حیثیت حاصل ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ واقعے کے عینی شاہد ہیں اور اُنھوں نے اِس کے وقوع کے زمانے اور مقام،دونوں کا تعین کیاہے۔ اِسی طرح اِس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعے پر رد ِعمل بھی مذکور ہے۔ یہ روایت کم و بیش اُن تمام محدثین نے نقل کی ہے، جنھوں نے انشقاق القمر کو اپنی کتابوں میں موضوع بنایا ہے۔ اِس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

* بخاری و مسلم کے مختلف طرق سے واضح ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ 13 میں موجود تھے۔

* اُنھوں نے دیکھا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے۔

* ایک ٹکڑا الگ ہو کر پہاڑ کے دوسری جانب چلا گیا۔

* نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گواہ رہنا۔

بیہقی کے طریق میں یہ اضافہ ہے کہ اِس واقعے پر کفار نے تبصرہ کیا کہ لگتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جادو کر دیا ہے۔ لہٰذا باہر سے آنے والوں کا انتظار کرو۔ اگر وہ تصدیق کریں تو اِس کا مطلب ہے کہ واقعہ حقیقی ہے۔جب باہر سے آنے والوں سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے بتایا کہ وہ بھی اِس کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔

روایت کے چند نمایندہ طرق درجِ ذیل ہیں:

روایت کے چند نمایندہ طرق درجِ ذیل ہیں:

حدثنا عبدان ، عن ابي حمزة عن الاعمش ، عن إبراهيم ، عن ابي معمر ، عن عبد اللّٰه رضي اللّٰه عنه، قال: انشق القمر ونحن مع النبي صلى اللّٰه عليه وسلم بمنى، فقال: اشهدوا وذهبت فرقة نحو الجبل.

(بخاری، رقم 3869)

’’ہم سے عبدان نے بیان کیا، اُن سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، اُن سے اعمش نے، اُن سے ابراہیم نے، اُن سے ابومعمر نے اور اُن سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے میدان میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا تھا: لوگو، گواہ رہنا۔ اور چاند کا ایک ٹکڑا دوسرے سے الگ ہو کر پہاڑ کی طرف چلا گیا تھا۔‘‘

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، وإسحاق بن إبراهيم جميعًا، عن ابي معاوية . وحدثنا عمر بن حفص بن غياث ، حدثنا ابي كلاهما، عن الاعمش . وحدثنا منجانب بن الحارث التمیمی واللفظ له اخبرنا ابن مسهر ، عن الاعمش ، عن إبراهيم عن ابي معمر ، عن عبد اللّٰه بن مسعود ، قال: بينما نحن مع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم بمنى إذا انفلق القمر فلقتين، فكانت فلقة وراء الجبل وفلقة دونه فقال لنا رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: اشهدوا.

(مسلم، رقم 7250)

‏‏‏‏’’ہم سے ابو بکر بن ابی شیبہ، ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، اُن سے ابومعاویہ نے بیان کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ اِن دونوں کو میرے والد نے الاعمش کے حوالے سے بیان کیا۔ اور ہم سے منجاب بن الحارث التمیمی نے بیان کیا، اور یہ لفظ اُنھی کے لیے ہے، ہمیں ابن مسہر نے خبر دی، اُن سے اعمش نے بیان کیا، اُن سے ابراہیم نے، اُن سے ابو معمر نے، اُن سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں تھے کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایک ٹکڑا تو پہاڑ کے اِس طرف رہا اور ایک اُس طرف چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ رہو۔“

حدثنا عبيد اللّٰه بن معاذ العنبري ، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن الاعمش ، عن إبراهيم ، عن ابي معمر ، عن عبد اللّٰه بن مسعود ، قال: انشق القمر على عهد رسول اللّٰه صلى اللّٰہ عليه وسلم فلقتين، فستر الجبل فلقةً، وكانت فلقة فوق الجبل، فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: اللهم اشهد . (مسلم، رقم 7251)

‏‏‏‏’’ہم سے عبيد اللہ بن معاذ العنبر ی نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، اُن سے اعمش نے، اُن سے ابراہیم نے، اُن سے ابی معمر نے اور اُن سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ پس ایک ٹکڑے نے پہاڑ کو ڈھانک لیا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ، میں گواہی دیتا ہوں۔‘‘

أخبرنا أبو عبد اللّٰه محمد بن عبد اللّٰه الحافظ، ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا العباس بن محمد، ثنا سعيد بن سليمان، ثنا هشيم، ثنا مغيرة، عن أبِي الضحى، عن مسروق، عن عبد اللّٰه يعني ابن مسعود، قال: انشقّ القمر بمكة حتى صار فرقتين فقال كفار أهل مكة هذا سحر سحركم به ابن أبي كبشة.

’’ہمیں ابو عبد اللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے خبر دی کہ اُن سے ابو عباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے عباس بن محمد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، اُن سے مغیرہ نے، اُن سے ابو ضحٰی نے، اُن سے مسروق نے، اُن سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مکہ میں چاند پھٹ گیا، یہاں تک کہ دو ٹکڑے ہو گیا۔ کفار نے (ایک دوسرے سے ) کہا کہ یہ جادو تھا، جو ابنِ ابی کبشہ14 نے تم لوگوں پر کر دیا تھا۔

انظروا السفار فإن كانوا رأوا ما رأيتم فقد صدق وإن كانوا لم يروا ما رأيتم فهو سحر سحركم به قال فسئل السفار قال: وقدموا من كل وجه، فقالوا رأينا.

(الاعتقاد البیہقی 1/269)

باہر کے لوگوں کا انتظار کرو۔ اگر اُنھوں نے بھی وہی دیکھا، جو تم نے دیکھا ہے تو پھر تو وہ سچ ہو گا اور اگر اُنھوں نے وہ کچھ نہیں دیکھا، جو تم نے دیکھا ہے تو پھر یہ جادو ہو گا،جو اُس نے تم پر کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب مختلف اطراف سے لوگ آئے تو اُن سے یہ سوال پوچھا گیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ ہم بھی یہ منظر دیکھ چکے ہیں۔‘‘

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی روایت

2۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی روایت

طحاوی کی ’’شرح مشکل الآثار‘‘ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت نقل ہوئی ہے۔ یہ مختصر روایت ہے۔ اِس میں بیان ہوا ہے کہ جب یہ واقعہ رونما ہوا تو وہ اور بعض دیگر صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ موجود تھے۔ روایت یہ ہے:

حدثنا علي بن عبد الرحمنِ بنِ محمد بنِ المغيرة المخزومي الكوفِي، حدثنا لوين، حدثنا حديج بن معاوية الجعفي، عن أبِي إسحاق، عن أبِي حذيفة قال أبو جعفر ــــ وهو سلمة بن صهيب الأرحبي ــــ عن علي بن أبی طالب رضي اللّٰہ عنه قال: انشق القمر، ونحن مع رسول اللّٰہ عليه السلام. (رقم 696)

’’ہم سے علی بن عبدالرحمٰن بن محمد بن مغیرہ مخزومی کوفی نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے لوین نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے حدیج بن معاویہ جعفی نے بیان کیا، اُن سے ابو اسحاق نے، اُن سے ابوحذیفہ نے بیان کیا کہ ابوجعفرــــ جو سلمہ بن صہیب الارجی ہیں ــــ نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (ہم نے دیکھا کہ) چاند شق ہو گیا اور اُس وقت ہم رسول اللہ علیہ السلام کے ساتھ تھے۔‘‘

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی روایت

3۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ مطعم بن عدی کے صاحب زادے ہیں۔ مطعم بن عدی وہی شخصیت ہیں، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو طائف سے واپسی پر پناہ دی تھی۔ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ اورفتح مکہ کے درمیانی زمانے میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔ شق قمر کے موقع پر وہ مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھے۔ اُن سے منقول ترمذی اور ’’المعجم الکبیر للطبرانی‘‘ کی روایات کا خلاصہ یہ ہے:

* ترمذی میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔

* ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر اور دوسرا دوسرے پہاڑ پر آ گیا۔

* کفار میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر جادو کر دیا ہے۔ بعض نے کہا کہ وہ ہم پر تو جادو کر سکتے ہیں، مگر سب لوگوں پر جادو تو نہیں کر سکتے۔

’’المعجم الکبیر للطبرانی‘‘ میں ہے کہ اِس موقع پر حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔

روایات درجِ ذیل ہیں:

حدثنا عبد بن حميد ، حدثنا محمد بن كثير ، حدثنا سلیمان بن کثیر، عن حصين ، عن محمد بن جبیر بن مطعم، عن ابيه ، قال: انشق القمر على عهد النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم حتى صار فرقتين على هذا الجبل وعلى هذا الجبل، فقالوا: سحرنا محمد، فقال بعضهم: لئن كان سحرنا ما يستطيع ان يسحر الناس كلهم.

(ترمذی، رقم 3289)

’’ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن کثیر نے بیان کیا، اُن سے حصین نے بیان کیا، اُن سے محمد بن جبیر اپنے والد (جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا، ایک ٹکڑا اِس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اُس پہاڑ پر۔ لوگوں نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم پر جادو کر دیا ہے، لیکن اُنھی میں سے بعض نے کہا: اگر اُنھوں نے ہم پر جادو کر دیا ہے تو (باہر کے) سبھی لوگوں کو جادو کے زیرِاثر نہیں لا سکتے۔‘‘

حدثنا العباس بن حمدان الحنفي، حدثنا علي بن المنذر الطريقي، حدثنا محمد بن فضيل، عن حصين، عن سالم بن أبي الجعد، عن محمد بنِ جبير، عن أبيه، قال: انشق القمر، ونحن مع رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم.

(المعجم الكبير للطبرانی، رقم 1540)

’’ہم سے عباس بن حمدان حنفی بیان کرتے ہیں، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے علی بن منذر طریقی بیان کرتے ہیں، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن فضیل بیان کرتے ہیں، اُن سے حصین بیان کرتے ہیں، اُن سے سالم بن ابی جعد، اُن سے محمد بن جبیر اپنے والد (حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ چاند پھٹ گیا اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔‘‘

شق قمرکا مشاہدہ نہ کرنے والے اصحاب کی روایات

شق قمر کی روایت کرنے والوں میں عینی شاہدین کے علاوہ وہ اصحاب بھی شامل ہیں، جنھوں نے اِس واقعے کا مشاہدہ نہیں کیا تھا۔ اُن میں سے بعض مدینہ میں تھے، بعض کم سن تھے اور بعض ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اِن میں سے حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہم نمایاں ہیں۔ اِن کی روایات درجِ ذیل ہیں:

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی روایت

1۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مدنی صحابی ہیں۔ یہ ہجرت سے تقریباً 30 سال پہلے یثرب میں پیدا ہوئے۔ شق قمر کے موقع پر اِن کی عمر کم و بیش 25 سال تھی اور یہ یثرب (مدینہ) میں مقیم تھے۔ اِن سے منقول روایت کا خلاصہ یہ ہے:

* ’’مصنف عبدالرزاق‘‘ میں ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے جمعے کا خطبہ دیتے ہوئے پہلے سورۂ قمر کی آیات پڑھیں اور پھر اِس واقعے کا ذکر کیا۔

* اُنھوں نے بتایا کہ شق قمر کا واقعہ چونکہ ظاہر ہو چکا ہے، اِس لیے اب قیامت بہت قریب ہے۔

روایت یہ ہے:

عن ابن عيينة، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: سمعت حذيفة يوم الجمعة وهو على المنبر قرأ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ، وَانْشَقَّ الْقَمَرُ، فقال: قد اقتربت الساعة وقد انشق القمر فاليوم المضمار وغدًا السباق. (رقم 5285)

’’ابن عیینہ بیان کرتے ہیں، اُن سے عطا بن سائب بیان کرتے ہیں کہ ابوعبد الرحمٰن سلمی فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔ اُنھوں نے سورۂ قمر کی ابتدائی آیات تلاوت کیں: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ۔ پھر فرمایا: قیامت قریب آ گئی ہے اور چاند دو ٹکڑے ہو چکا ہے۔ چنانچہ آج کا دن تیاری کا دن ہے اور کل کا دن سبقت کر کے آگے بڑھنے کا دن ہو گا۔“

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت

2۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فرزند ہیں۔ ہجرت سے دس گیارہ سال پہلے پیدا ہوئے تھے۔شق قمر کے موقع پر اِن کی عمر تقریباً پانچ چھ سال تھی۔اِن سے منقول ترمذی اور مستدرک کی روایتوں کا خلاصہ یہ ہے:

* ترمذی کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔

* آپ نے فرمایا تھا : تم لوگ گواہ رہنا۔

* حاکم کی ’’مستدرک علی الصحیحین‘‘ میں اِس پر یہ اضافہ ہے کہ چاند کا ایک ٹکڑا سامنے رہا اور دوسرا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا۔

دونوں روایتیں درجِ ذیل ہیں:

لصحیحین‘‘ میں اِس پر یہ اضافہ ہے کہ چاند کا ایک ٹکڑا سامنے رہا اور دوسرا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا۔

دونوں روایتیں درجِ ذیل ہیں:

حدثنا محمود بن غيلان ، حدثنا ابو داؤد ، عن شعبة ، عن الاعمش ، عن مجاهد ، عن ابن عمر ، قال: انفلق القمر على عهد رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم، فقال رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم: اشهدوا.

(ترمذی، رقم 2182)

’’ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، اُنھوں کے کہا کہ ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، اُن سے شعبہ نے بیان کیا، اُن سے اعمش نے اور اُن سے مجاہد نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گواہ رہو۔‘‘

فحدثناه أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا إبراهيم بن مرزوق البصري بمصر، ثنا أبو داؤد الطيالسي، ثنا شعبة، عنِ الأعمشِ، عن مجاهد، عن عبد اللّٰہ بن عمرو رضي اللّٰہ عنه، فِي قوله عز وجل: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ. قال: كان ذلك على عهد النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم، انشق القمر فلقتين فلقة من دون الجبل، وفلقة خلف الجبل. فقال النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم: اللهم اشهد.

(المستدرك للحاکم، رقم 3759)

’’ہم سے ابو عباس محمد بن یعقوب نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن مرزوق بصری نے مصر میں بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ مجھ سے شعبہ نے بیان کیا، اُن سے اعمش نے بیان کیا، اُن سے مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله عنہ نے سورۂ قمر کی ابتدائی آیت کی شرح کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑوں میں شق ہو گیا تھا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے سامنے تھا اور دوسرا اُس کے پیچھے۔ اِس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پروردگار میں گواہی دیتا ہوں۔‘‘

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت

3۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے ہیں۔ اِن کی پیدایش ہجرت سے 3 سال قبل شعبِ ابی طالب میں ہوئی تھی۔ شق قمر کا واقعہ اِن کی پیدایش سے پہلے کا ہے۔بخاری و مسلم میں درج اُن سے منقول روایت کے مطابق اُنھوں نے فقط اتنی بات بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔

روایت کے مختلف طرق درجِ ذیل ہیں:

حدثنا يحيى بن بكير ، قال: حدثنی بكر ، عن جعفر ، عن عراك بن مالك ، عن عبيد اللّٰہ بن عبد اللّٰہ بن عتبة بن مسعود ، عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنهما، قال: انشق القمر في زمان النبي صلى اللّٰہ عليه وسلم .

(بخاری، رقم 4866)

’’ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر نے بیان کیا، اُن سے جعفر نے، اُن سے عراک بن مالک نے، اُن سے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔‘‘

حدثنا موسى بن قريش التميمي ، حدثنا إسحاق بن بكر بن مضر ، حدثني ابي ، حدثنا جعفر بن ربيعة ، عن عراك بن مالك ، عن عبید اللّٰہ بن عبد اللّٰہ بن عتبۃ بن مسعود، عن ابن عباس، قال: إن القمر انشق على زمان رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم.

(مسلم، رقم 7257)

’’ہم سے موسىٰ بن قریش بن التمیمی نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے اسحاق بن بکر بن مضر نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، اُن سے عراك بن مالك نے بیان کیا ، اُن سے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔‘‘

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت

4۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مدنی صحابی ہیں۔ یہ ہجرت سے دس سال پہلے یثرب (مدینہ) میں پیدا ہوئے۔ شق قمر کے موقع پر اِن کی عمر کم و بیش پانچ سال تھی اور یہ یثرب میں مقیم تھے۔ اِن سے منقول روایت میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔

روایت کے مختلف طرق درجِ ذیل ہیں:

ں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔

روایت کے مختلف طرق درجِ ذیل ہیں:

حدثنا مسدد ، حدثنا يحيى حدثنا شعبة ، عن قتادة ، عن انس ، قال: انشق القمر فرقتين.

(بخاری، رقم 4868)

’’ہم سے مسدد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، اُن سے شعبہ نے، اُن سے قتادہ نے اور اُن سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تھا۔‘‘

وحدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا محمد بن جعفر ، وابو داؤد . وحدثنا ابن بشار ، حدثنا يحيى بن سعيد ، ومحمد بن جعفر، وابو داؤد كلهم، عن شعبة ، عن قتادة ، عن انس ، قال: انشق القمر فرقتين، وفي حديث ابي داؤد: انشق القمر على عهد رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم.

(مسلم رقم، 7256)

’’ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر اور ابوداؤد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ابنِ بشار نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید، محمد بن جعفر اور ابوداؤد نے بیان کیا، اُن سے شعبہ نے بیان کیا، اُن سے قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تھا۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔‘‘

روایتوں کا تجزیہ اور تقابلی جائزہ

روایتوں کا تجزیہ اورتقابلی جائزہ

درجِ بالا تمام روایتیں قرآنِ مجید کے بیان کی فی الجملہ تائید اور تفصیل کرتی ہیں۔ اِن میں سے کوئی بھی کتاب اللہ کے اصل بیان اور مدعا سے متصادم یا متجاوز نہیں ہے۔ اِن کے متفق علیہ نکات کا خلاصہ یہ ہے :

* شق قمر کا واقعہ ایک حسی واقعہ تھا۔

* یہ واقعہ ہجرتِ مدینہ سے کم و بیش پانچ سال پہلے پیش آیا تھا۔

* اِس کے عینی شاہدین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابۂ کرام اور کفارِ قریش شامل تھے۔

* لوگوں نے بلا امتیازِ مذہب اِسے نسلاً بعد نسلٍ آگے بیان کیا، اِس لیے تاریخی اعتبار سے اِس کی حیثیت خبرِ متواتر کی ہے۔

* واقعہ رات کے ابتدائی مرحلے میں اُس وقت پیش آیا، جب لوگ ابھی جاگ رہے تھے۔

* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب منیٰ میں موجود تھے۔

* چاند بدرِ کامل کی صورت میں تھا اور واضح نظر آ رہا تھا۔

* چاند پھٹا اور دو ٹکڑے ہو کر الگ ہو گیا۔

* پھر ایک ٹکڑا پہاڑ کے ایک طرف چلا گیا اور دوسرا دوسری طرف چلا گیا۔

* اِس موقع پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو، تم گواہ رہنا۔

* کفار نے اِس واقعے کا براہِ راست مشاہدہ کیا، مگر اُنھیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا، اِس لیے اُنھوں نے اِسے جادو سے تعبیر کیا۔

* اُنھی میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ سفر سے آنے والے لوگوں کا انتظار کرو، کیونکہ اُن پر جادو نہیں ہو سکتا۔

* جب لوگ آئے تو اُنھوں نے بھی اِس واقعے کی شہادت دی۔

* چنانچہ کفار کو اِس واقعے کی حقیقت تسلیم کرنا پڑی۔

* اِس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے۔

شق قمر کی کم و بیش تمام روایتوں میں فی الجملہ یہی نکات مذکور ہیں۔ تاہم، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے بعض طرق میں اِن کے علاوہ چند مزید باتیں بھی نقل ہوئی ہیں، جو دیگر اصحاب کی روایتوں میں منقول نہیں ہیں۔ یہ طرق درجِ ذیل ہیں:

قمر کی کم و بیش تمام روایتوں میں فی الجملہ یہی نکات مذکور ہیں۔ تاہم، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے بعض طرق میں اِن کے علاوہ چند مزید باتیں بھی نقل ہوئی ہیں، جو دیگر اصحاب کی روایتوں میں منقول نہیں ہیں۔ یہ طرق درجِ ذیل ہیں:

حدثني عبد اللّٰہ بن عبد الوهاب ، حدثنا بشر بن المفضل ، حدثنا سعيد بن ابي عروبة ، عن قتادة ، عن انس بن مالك رضي اللّٰہ عنه: ان اهل مكة سالوا رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم ان يريهم آيةً، فاراهم القمر شقتين حتى راوا حراءً بينهما.

(بخاری، رقم 3868)

’’مجھ سے عبداللہ بن عبد الوہاب نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، اُن سے قتادہ نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کفارِ مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھا دیے۔ یہاں تک کہ اُنھوں نے حرا پہاڑ کو اُن دونوں ٹکڑوں کے بیچ میں دیکھا۔‘‘

‏‏‏‏حدثني زهير بن حرب ، وعبد بن حميد ، قالا: حدثنا يونس بن محمد ، حدثنا شيبان ، حدثنا قتادة ، عن انس ان اهل مكة سالوا رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ عليه وسلم ان يريهم آيةً فاراهم انشقاق القمر مرتين.

(مسلم، رقم 7254)

’’مجھ سے زہير بن حرب اور عبد بن حميد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے يونس بن محمد نے بیان کیا ، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے شيبان نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ ‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشانی چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو دو بار چاند کا پھٹنا دکھایا۔‘‘

اِن طرق میں درجِ ذیل تین اضافی باتیں نقل ہوئی ہیں:

1۔ شق قمر کا واقعہ دو مرتبہ پیش آیا۔

2۔ یہ کفار کے مطالبۂ نشانی کے جواب میں واقع ہوا۔

3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں چاند کا دو ٹکڑے ہونا دکھا دیا۔

یہ تینوں نکات امکانِ وقوع کے لحاظ سے بعید از قیاس نہیں ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی قدرت سے چاند ایک بار شق ہو سکتا ہے تو ایک سے زیادہ مرتبہ بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح اللہ اگر اقوام سابق کے مطالباتِ نشانی کے جواب میں کوئی نشانی بھیج سکتا ہے تو یہ معاملہ قریش کے ساتھ بھی ممکن ہے۔ مزید برآں، یہ کہ اگر اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو متعدد دیگر معجزے عطا فرما سکتا ہے تو شق قمر کو بھی آپ کے ذریعے سے ظاہر کرنا خلافِ توقع نہیں ہے۔ تاہم، اِس کے باوجود بیش تر محدثین اور مفسرین نے اِن اضافوں کو قبول نہیں کیا۔

اِس ضمن میں اُن کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے:

1۔ اِس واقعے کے وقوع کے موقع پر حضرت انس رضی اللہ عنہ چار پانچ سال کے کم سن تھے اور مدینہ میں رہتے تھے۔ اِس سے واضح ہے کہ اُنھوں نے اِس واقعے کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا۔ مزید یہ کہ جن شخصیات سے اُنھوں نے واقعے کو سنا، اُن کا ذکر روایت میں نہیں ہے۔ اِس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ اُنھوں نے اِسے اپنے زمانے کی ایک مشہور و معروف خبر کے طور پر سنا اور نقل کیا ہے۔ اِس بنا پر ضروری ہے کہ اِس معاملے میں اصل خبر کی حیثیت واقعے کے عینی شاہد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو دی جائے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایتوں کے فقط اُنھی اجزا کو قبول کیا جائے، جو ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر عینی شاہدین کی روایات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

2۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ’مرتین‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ جن کا مطلب یہ ہے کہ یہ واقعہ دو مرتبہ پیش آیا ہے۔ یہ ایک بالکل منفرد بات ہے۔ قرآنِ مجید کے الفاظ بھی اِس مفہوم کی گنجایش نہیں دیتے۔ وہ انشقاق القمر کے واحد وقوع پر دلالت کرتے ہیں۔ قرین قیاس یہی ہے کہ بعد کے بعض راویوں نے غلط فہمی سے ’فرقتین‘ یا ’فلقتین‘ (دو ٹکڑے)کو ’مرتین‘ (دو بار) سمجھ کر نقل کر دیا ہے۔ یہ غلطی مذکورہ روایت کے ضعف کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

3۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی بعض طرق میں کفار کی طرف سے نشانی کےمطالبے کا ذکر نہیں ہے اور بعض طرق میں ’مرتین‘ کے بجاے درست لفظ ’فرقتین‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ بات بھی اِس امر کا امکان پیدا کرتی ہے کہ اِس طرح کے الفاظ بعد کے راویوں کے اضافے ہیں۔

ان دلائل کے حوالے سے حدیث و تفسیر کے چند علما کے اقتباسات درجِ ذیل ہیں:

’’المواہب اللدنیہ‘‘ میں علامہ احمد بن محمد قسطلانی لکھتے ہیں:

فأما أنس وابن عباس فلم يحضرا ذلك، لأنه كان بمكة قبل الهجرة بنحو خمس سنين، وكان ابن عباس إذ ذاك لم يولد، وأما أنس فكان ابن أربع سنين أو خمس بالمدينة.

(2/254)

’’جہاں تک حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے تو وہ اِس واقعہ کے وقت موجود نہ تھے، کیونکہ یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے تقریباً پانچ سال پہلے ہوا اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ اُس وقت چار پانچ سال کے تھے اور مدینہ طیبہ میں تھے۔‘‘

امام ابنِ حجر عسقلانی نے ’’ فتح الباری‘‘ میں لکھا ہے:

لان أنسًا لم يدرك هذه القصة وقد جاءت هذه القصة من حديث بن عباس وهو أيضًا ممن لم يشاهدها ومن حديث بن مسعود وجبير بن مطعم وحذيفة وهؤلاء شاهدوها ولم ار في شيء من طرقه ان ذلك كان عقب سؤال المشركين الا في حديث أنس ثم وجدت في بعض طرق حديث بن عباس.(7/ 182)

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اِس واقعے کا مشاہدہ نہیں کیا، اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ جن سے یہ واقعہ منقول ہے، اُنھوں نے بھی اِس کا مشاہدہ نہیں کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت جبیر بن مطعم اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم جو اِس واقعے کے عینی شاہد ہیں، اُن کی روایتوں میں اِس طرح کی بات نہیں ہے کہ یہ واقعہ مشرکین کے مطالبے کے جواب میں تھا۔ یہ بات صرف حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور ہے یا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے بعض طرق میں نقل ہوئی ہے۔‘‘

وہ مزید لکھتے ہیں:

ولااعرف من جزم من علماء الحديث بتعدد الانشقاق في زمنه صلى اللّٰہ عليه و سلم، … وهذا مما يعلم أهل الحديث والسير انه غلط فإنه لم يقع الا مرةً واحدةً.

(7/183)

’’میں نہیں جانتا کہ علماے حدیث میں سے کوئی اِس کا قائل ہوا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے شق ہونے کا واقعہ متعدد بار ہوا…اور اہل حدیث اور اہل سیر کے نزدیک یہ بات غلط ہے۔ پس حقیقت یہ ہے کہ شق قمر کا واقعہ فقط ایک مرتبہ ہوا ہے۔‘‘

حافظ ابنِ حجر کی اِسی بات کا خلاصہ کرتے ہوئے علامہ قسطلانی نے لکھا ہے:

ولعل قائل ’مرتین‘ أرادا : فرقتين. وهذا الذى لا يتجه غيره جمعًا بين الروايات.

(المواہب اللدنيہ 2/256)

’’اور ممکن ہے کہ ’مرتین‘ کہنے والوں کا مطلب ’فرقتین‘ ہو۔ مختلف روایات کو صرف اِسی طرح جمع کیا جا سکتا ہے۔‘‘

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اِن نکات کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ میں ہے:

’’بعض روایات جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اُن کی بنا پر یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ شق القمر کا واقعہ ایک مرتبہ نہیں، بلکہ دو مرتبہ پیش آیا تھا۔ لیکن اول تو صحابہ میں سے کسی اور نے یہ بات بیان نہیں کی ہے۔ دوسرے خود حضرت انس کی بھی بعض روایات میں مرتین(دو مرتبہ) کے الفاظ ہیں اور بعض میں ’فرقتین‘ اور ’شقتین‘ (دو ٹکڑے ) کے الفاظ۔ تیسرے یہ کہ قرآنِ مجید صرف ایک ہی انشقاق کا ذکر کرتا ہے۔ اِس بنا پر صحیح بات یہی ہے کہ یہ واقعہ صرف ایک مرتبہ پیش آیا تھا۔ رہے وہ قصے جو عوام میں مشہور ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے چاند کی طرف اشارہ کیا اور وہ دو ٹکڑے ہو گیا اور یہ کہ چاند کا ایک ٹکڑا حضورکے گریبان میں داخل ہو کر آپ کی آستین سے نکل گیا، تو یہ بالکل ہی بے اصل ہیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِس واقعہ کی حقیقی نوعیت کیا تھی؟ کیا یہ ایک معجزہ تھا، جو کفارِ مکہ کے مطالبہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی رسالت کے ثبوت میں دکھایا تھا ؟ یا یہ ایک حادثہ تھا،جو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے چاند میں پیش آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو اِس کی طرف توجہ صرف اِس غرض کے لیے دلائی کہ یہ امکانِ قیامت اور قربِ قیامت کی ایک نشانی ہے؟ علما ےاسلام کا ایک بڑا گروہ اِسے حضور کے معجزات میں شمار کرتا ہے اور اُن کا خیال یہ ہے کہ کفار کے مطالبہ پر یہ معجزہ دکھایا گیا تھا۔ لیکن اِس راے کا مدار صر ف بعض اُن روایات پر ہے، جو حضرت انس سے مروی ہیں۔ اُن کے سوا کسی صحابی نے بھی یہ بات بیان نہیں کی ہے۔ فتح الباری میں ابنِ حجر کہتے ہیں کہ ’’ یہ قصہ جتنے طریقوں سے منقول ہوا ہے، اُن میں سے کسی میں بھی حضرت انس کی حدیث کے سوا یہ مضمون میری نگاہ سے نہیں گزرا کہ شق القمر کا واقعہ مشرکین کے مطالبہ پر ہوا تھا۔ ‘‘ (باب انشقاق القمر)۔ ایک روایت ابو نعیم اصفہانی نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے بھی اِس مضمون کی نقل کی ہے، مگر اُس کی سند ضعیف ہے، اور قوی سندوں سے جتنی روایات کتبِ حدیث میں ابنِ عباس سے منقول ہوئی ہیں، اُن میں سے کسی میں بھی اِس کا ذکر نہیں ہے۔ علاوہ بریں حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن عباس، دونوں اِس واقعہ کے ہم عصر نہیں ہیں۔ بخلاف اِس کے جو صحابہ اُس زمانے میں موجود تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود،حضرت حذیفہ، حضرت جبیربن مطعم، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن عمر، اُن میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ مشرکین مکہ نے حضور کی صداقت کے ثبوت میں کسی نشانی کا مطالبہ کیا تھا اور اِس پر شق القمر کا یہ معجزہ اُن کو دکھایا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآنِ مجید خود بھی اِس واقعہ کو رسالت محمدی کی نہیں، بلکہ قربِ قیامت کی نشانی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ البتہ، یہ اِس لحاظ سے حضور کی صداقت کا ایک نمایاں ثبوت ضرور تھا کہ آپ نے قیامت کے آنے کی جو خبریں لوگوں کو دی تھیں، یہ واقعہ اُن کی تصدیق کر رہا تھا۔‘‘(5/ 229-230)

  1. [13] دوپہاڑیوں کے درمیان یہ ایک وسیع میدان ہے، جس کا فاصلہ مکہ سے تقریباً پانچ کلو میٹر ہے۔ 8/ذوالحجہ کو مکہ سے آنے کے بعد اور10/ ذوالحجہ کو عرفات سے واپس آکر حجاج یہیں قیام کرتے اور حج کے باقی مناسک پورے کرتے ہیں۔
  2. [14] کفارِ قریش بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ’’ابنِ ابی کبشہ‘‘ کے لقب سے کرتے تھے۔ اِس نسبت کی تحقیق میں مورخین و محدثین نے متعدد آرا پیش کی ہیں۔ ایک راے یہ ہے کہ یہ زمانۂ ماضی کی ایک شخصیت وجز بن غالب سے نسبت ہے، جس کی کنیت ابو کبشہ تھی اور وہ بتوں کی پرستش سے انکار کرتا تھا اور لوگوں کو بھی اُس سے منع کرتا تھا۔ بلاذری نے لکھا ہے: ’’ایک راے یہ ہے کہ وجز بن غالب خزاعی تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نانا وہب بن عبد مناف زہری کی والدہ ہند بنت ابی قیلہ کےوالد تھے۔ وہ مکہ میں رہنے لگے تھے اور اُس کے اکابر میں شمار ہونے لگے تھے۔ بعض آرا کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی والد کی کنیت ابو کبشہ تھی۔‘‘(انساب الاشراف 1/91)