Skip to content

Chapter 23: تعلق باللہ اور تعلق بالرسول

چند اہم تقاضے

بندے کا اپنے پروردگار کے ساتھ صحیح تعلق ہی سب سے اہم تعلق ہے۔ اِسی تعلق کا صحیح شعور انسان میں دوسرے تعلقات کی صحیح معرفت پیدا کرتا ہے، یعنی انسان کا اپنے خاندان اور معاشرے کے ساتھ مفید تعلق اُسی صورت میں استوار ہو تا ہے، جب اُس کا اللہ کے ساتھ تعلق صحیح بنیادوں پر قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق کا حقیقی شعور ہمیں اللہ کے پیغمبر ہی کے ذریعے سے ملا ہے۔ لہٰذا اُن کے ساتھ تعلق کی نوعیت بھی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ قرآنِ مجید نے اللہ اور اُس کے رسول کے ساتھ تعلق کے تقاضوں کو جگہ جگہ واضح کیا ہے۔ ہم اِن میں سے چند اہم تقاضے یہاں بیان کرتے ہیں:

تعلق باللہ کے تقاضے

توحید

اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ معبودِ حقیقی اُسی کو مانا جائے، اُس کی ذات کے سوا کائنات کی ہر چیز کو فانی تصور کیا جائے، اُسی کی عبادت کی جائے اور اُسی سے مدد طلب کی جائے۔ ارشاد رباری تعالیٰ ہے:

 وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ . وَ لَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۟ کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجۡہَہٗ ؕ لَہُ الۡحُکۡمُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ.

(القصص28: 88-87)

’’ اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو۔ اور نہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارو۔ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اُس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے۔ فیصلہ اُسی کے اختیار میں ہے اور تم اُسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔‘‘

استعانت

اللہ تعالیٰ سے تعلق کا ایک تقاضا یہ ہے کہ ہر مشکل کے حل کے لیے اللہ ہی سے مدد طلب کی جائے، ہر کٹھن مرحلے میں اُسی کو پکارا جائے۔ جب آدمی خلوصِ نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتا ہے تو وہ اُس کی جائز طلب ضرور پوری کرتا ہے۔ اہل ایمان کی پسندیدہ روش یہ ہے کہ وہ اپنی مشکلات میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتے ہیں، اور وہ اُن کی مشکلات دور فرما دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ. (البقرہ2: 186)

’’اور جب میرے بندے تم سے میرے متعلق سوال کریں، تو میں قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں، جب وہ مجھے پکارتا ہے۔‘‘

انسان کچھ چیزوں کے بارے میں آرزو مند ہوتا ہے اور اُنھیں حاصل کرنا چاہتا ہے اور دوسری کچھ چیزوں کے بارے میں اندیشہ ناک ہوتا ہے اور اُن سے بچنا چاہتا ہے، یعنی عام طور پر امید و بیم کی کیفیات انسان پر طاری رہتی ہیں۔ اِن دونوں کیفیتوں میں انسان سے مطلوب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو پکارے۔ قرآن کا فرمان ہے:

وَ ادۡعُوۡہُ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ؕ اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ . 

(الاعراف7: 56)

’’اسی کو پکارو، بیم و رجا، دونوں حالتوں میں۔ یہی خوبی کا راستہ ہے، تم اِسی پر چلو، اِس لیے کہ اللہ کی رحمت اُن لوگوں سے قریب ہے جو خوبی اختیار کرنے والے  ہیں۔ ‘‘

محبت

اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ سب سے بڑھ کر اُسی سے محبت کی جائے۔ اللہ ہی ہے جو ہمارا خالق ہے، ہمارا مالک ہے۔ اِس کائنات کا سارا انتظام اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ اِس کائنات کا ذرہ ذرہ اُسی کی رحمت کا شاہد ہے۔ ہم اپنے وجود کو دیکھیں یا اِس کائنات پر نظر ڈالیں، دونوں طرف اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان رحمتوں کا ظہور ہے۔ چنانچہ یہ ہماری فطرت کی آواز ہے کہ اُس سے بڑھ کر ہماری محبت کا حق دار اور کوئی نہیں ہے اور دنیا کی کسی چیز سے بھی اگر محبت ہو گی تو وہ محبتِ الٰہی کے تابع ہی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے محبت کا یہ تقاضا ہے کہ کسی دوسرے کو اُس کا ہم سر نہ ٹھہرایا جائے۔ ارشاد خداوندی ہے:

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ.

(البقرہ2: 165)

’’اور لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو خدا کے ہم سر ٹھہراتے ہیں، جن سے وہ اُس طرح محبت کرتے ہیں، جس طرح خدا سے محبت کرنی چاہیے، لیکن جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھنے والے ہیں۔‘‘

وفاداری

اللہ تعالیٰ سے تعلق کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے وفاداری نبھائی جائے۔ خدا کے ساتھ وفاداری کو محض بلند بانگ دعوے کرنے اور چند خاص رسموں کو ادا کردینے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اُس کے لیے قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے وفاداری نبھانے کا طریقہ خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنی محبوب چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ ارشاد ہوتا ہے:

لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ.(آل عمران3: 92)

’’ تم خدا کی وفاداری کا درجہ ہرگز نہیں حاصل کر سکتے، جب تک اُن چیزوں میں سے نہ خرچ کرو جن کو تم محبوب رکھتے ہو۔‘‘

اِس وفاداری کی مزید وضاحت اِس آیت قرآنی سے ہوتی ہے:

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ.(البقرہ2: 177)

’’خدا کی وفاداری کا حق اِس سے ادا نہیں ہو جاتا کہ اپنا رخ مشرق اور مغرب کی طرف کرو، بلکہ اصل وفاداری تو اُن کی ہے جو اللہ پر، یوم آخرت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے مال اُس کے محبوب ہونے کے باوجود دیتے ہیں قرابت مندوں کو، یتیموں کو، مسکینوں کو، مسافروں کو، سائلوں کو۔ نیز اُس کو خرچ کرتے ہیں گردنوں کو آزاد کرانے میں، اور نماز کا اہتمام کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، اور جب عہد کر بیٹھیں تو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں، اور خاص کر وہ لوگ جو بھوک اور بیماری میں اور جنگ کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہوں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔‘‘

خشیت

اللہ تعالیٰ سے تعلق کا ایک تقاضا یہ ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرا جائے اور اِس بات کو کبھی فراموش نہ کیا جائے کہ یہ دنیا کوئی کھیل تماشا نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک حکیمانہ منصوبہ ہے جس کے تحت اِس دنیا کو ایک دن ختم ہو نا ہے اور اِس خاتمے پر لازماً جزا و سزا کا مرحلہ آئے گا۔ اِس مرحلے کے لیے ہر شخص کو ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے اور اِس حقیقت سے با خبر رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔ وہ ہر فرد کے ایک ایک قول و فعل سے واقف ہے۔ چنانچہ اخروی نجات کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہر وقت دل میں جاگزیں رہے تاکہ اُس کے احکام کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔ قرآن کہتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ لۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ.

(الحشر59: 18)

’’ایمان کا دعویٰ رکھنے والو، اللہ سے ڈرو اور (تم میں سے) ہر شخص دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ (اِسے دیکھو) اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔‘‘

عجز

اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اُس کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار کیا جائے۔ یہ اظہار اللہ تعالیٰ کے سامنے رکوع و سجود کے ذریعے سے بھی کیا جائے اور اپنی زبان پر اللہ کی حمد وثنا کے کلمات جاری کرکے بھی کیا جائے۔ ارشاد باری ہے:

اُدۡعُوۡا رَبَّکُمۡ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً.

(الاعراف7: 55)

’’اپنے رب کو پکارو، گڑ گڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے۔‘‘

تعلق بالرسول کے تقاضے

اطاعت

رسول کے ساتھ تعلق کا سب سے اولین تقاضا یہ ہے کہ اُس کی اطاعت کی جائے۔ قرآنِ مجید میں جگہ جگہ اِس تقاضے کی طر ف اشارہ کیا گیاہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ.

(النور 24: 56)

’’اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔‘‘

وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَخۡشَ اللّٰہَ وَ یَتَّقۡہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ.

(النور24: 52)

’’اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کریں گے اور جو اُس سے ڈریں گے اور اُس کے حدود کی پاس داری کریں گے،  تو وہی ہیں جو مراد کو پہنچیں گے۔‘‘

حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ والا صفات کو دین میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن ہمیں آپ کے ذریعے سے ملا ہے، سنت آپ کے طریقے کا نام ہے۔ حدیث آپ کے اقوال کا مجموعہ ہے۔ گویا، دین کے یہ تینوں بنیادی منابع رسول اللہ کی ذات میں اِس طرح مرتکز ہو جاتے ہیں کہ آپ کو دین کا اصل ماخذ مانے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔ رسول اللہ کی اِس حیثیت میں اطاعت ہی مسلمان سے مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ لَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَکُمۡ. (محمد47 :33)

’’ایمان والو، (ہر چیز سے بے پروا ہو کر) اللہ کے حکم پر چلو اور رسول کے حکم پر چلو اور (اللہ اور رسول سے بے وفائی کر کے) اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو ۔‘‘

نمونۂ عمل

رسول اللہ سے تعلق کا ایک تقاضا یہ ہے کہ آپ کی اخلاقی شخصیت کو اپنے لیے نمونہ اور اسوہ تصور کیا جائے اور اپنی زندگی کو اُس کے مطابق ڈھالنے کی سعی کی جائے۔ بڑوں سے آپ کا حسن سلوک، چھوٹوں سے آپ کا اظہار شفقت، ازواج سے آپ کا رویہ، ایک معلم دین کی حیثیت سے آپ کا کردار، بہ طور ِ حکمران آپ کا طرزِ عمل، بہ حیثیت ِ فاتح آپ کا حسن سلوک، غرض یہ کہ ہر معاملۂ زندگی میں آپ کا اسوہ ہمارے لیے مشعل راہ ہونا چاہیے۔ قرآن کا ارشاد ہے:

لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ. (الاحزاب33: 21)

’’رسول اللہ کی ذات میں تمھارے لیے (اخلاق کا) بہترین نمونہ ہے۔‘‘

نصرت اور تعظیم

رسول سے تعلق کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ رسول کی نصرت کی جائے اور اُس کی تعظیم و توقیر کی جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ کی نصرت اور اُن کی تعظیم و توقیر کا حق ادا کر دیا۔ دعوتِ دین کی جدوجہد میں وہ آپ کے دست و بازو بن گئے اور دین کے ہر معاملہ میں اپنے سر تسلیم خم کر دیے۔ آج رسول اللہ کی نصرت اِس طرح کی جا سکتی ہے کہ اُن کے دین کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کے لیے جدوجہد کی جائے، اُن کے احکام کے آگے اپنے سر جھکا دیے جائیں۔

ارشادِ خداوندی ہے:

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا . لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ. (الفتح48: 9-8)

’’ہم نے، (اے پیغمبر)، تم کو گواہی دینے والا، خوش خبری پہنچانے والا اور خبردار کرنے والابنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ (لوگو)، تم اللہ اور اُس کے رسول پر سچا ایمان لاؤ، رسول کا ساتھ دو، اُس کی تعظیم و توقیر کرو۔‘‘

محبت

رسول سے تعلق کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ رسول اللہ کے ساتھ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبت کی جائے اور رسول اور اُس کے دین کی خاطر والدین، اولاد، بہن بھائیوں، عزیز و اقارب، اپنے مال و اسباب ، حتیٰ کہ اپنی جان کی قربانی سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ رسول اللہ کے ساتھ محبت کے اِس تعلق کو اپنے دل میں جاگزیں کرنا اور اپنے زبان و عمل سے اِس تعلق کا اظہار کرنا کامل ایمان کا ناگزیر تقاضا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’کوئی شخص اُس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میرے لیے اُس کی محبت، اپنے مال اسباب، اہل خانہ اور سب لوگوں سے بڑھ کر نہ ہو۔‘‘ (مسلم، رقم 62)

ختم نبوت پر ایمان

اِس محبت کا اظہار، ظاہر بات ہے کہ رسول اللہ کی اطاعت کرنے، آپ کے اسوہ کو اپنانے، آپ کی سنت کو اختیار کرنے اور آپ کے دین کو انفرادی و اجتماعی زندگی میں جاری و ساری کرنے ہی سے ہو گا۔

رسول اللہ کے ساتھ تعلق کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی اور رسول مانا جائے، یعنی یہ تسلیم کر لیا جائے کہ وحی و الہام کا سلسلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکا ہے۔ اب اگر کوئی شخص سلسلۂ وحی و الہام کے دوبارہ شروع ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اُس کی حیثیت ایک جھوٹے مدعی سے زیادہ ہرگز نہیں ہے۔ لہٰذا اُس کی بات پر کان دھرنا بھی دین اور ایمان کے منافی ہے۔ قرآنِ مجید کا ارشاد ہے:

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا.

(الاحزاب33: 40)

’’ محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ (اِس لیے یہ ذمہ داری اُنھی کو پوری کرنی تھی)، اور اللہ ہر چیز سے با خبر ہے۔‘‘

[جون 1994ء]