Skip to content

Chapter 30: دعوت میں ثابت قدمی

کسی اجنبی بات کو منوانے کے لیے جتنا اُس بات کا محکم اور مدلل ہونا ضروری ہے، اتنا ہی اُس کے کہنے والوں کا اسے ثابت قدمی اور استقلال کے ساتھ کہتے رہنا بھی ضروری ہے ۔ جس طرح پتھر پر گرنے والا معمولی پانی کا قطرہ اگر لگاتار گرتا رہے تو پتھر میں شگاف ڈال دیتا ہے، اِسی طرح ایک بات جو مسلسل کہی جاتی رہی اور ایک کام جو تسلسل سے کیا جاتا رہے، آخرکار مطلوب نتائج پیدا کر لیتا ہے۔ دین کی دعوت کا بھی یہی معاملہ ہے ،اگر ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ کسی معاشرے میں یہ دعوت دی جاتی رہے تو ایک وقت آ جاتا ہے، جب آواز سے آواز اور قدم سے قدم ملنے لگتے ہیں اور معاشرہ تبدیلی یا انقلاب کے لیے پوری طرح تیار ہو جاتا ہے۔

ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زندگی اِس بات کی شاہد ہے کہ آپ نے کسی مرحلے پر بھی اپنے پاے صبر و استقلال میں کوئی لغزش نہ آنے دی۔ 13 سال تک مسلسل آپ اہل مکہ کے سامنے اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے، لیکن چند صالح نفوس کے سوا کسی نے بھی آپ کی بات پر کان نہ دھرا۔ کفارِ عرب نے ایک طرف آپ کے پیغام کی مخالفت کی اور آپ کی جدوجہد میں مزاحمت پیدا کی اور دوسری طرف آپ کو دولت اور آسایش کے لالچ دیے گئے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سعی و جہد پر نہ نقصان کا کوئی اندیشہ غالب آسکا اور نہ کوئی دنیوی مفاد آپ کے پیغام کے دھارے کا رخ تبدیل کر سکا ۔ نبی عربی کا یہی صبر و استقلال تھا، جس نے بالآخر اللہ کے آخری دین کو قرآنِ مجید کی پیش گوئی کے عین مطابق سرزمین عرب کی غالب ترین قوت بنا دیا ۔

ہمارے اِس معاشرے میں بھی جو لوگ دین کی دعوت کی جدوجہد کے لیے نکلیں، وہ جب تک ثابت قدمی اور استقامت کو اپنی جدوجہد کا جزوِ لازم نہ بنا لیں ،اُن کے لیے کامیابی کے در وا نہیں ہو سکتے ۔ یہی وہ چیز ہے، جو داعی کو نتائج دیکھنے کی خواہش سے بالاتر کر دیتی ہے اور اِسی وجہ سے راستے کے آلام و مصائب داعی کے عزم میں کوئی تغیر پیدا نہیں کر سکتے۔ جناب جاوید احمد صاحب غامدی نے اپنی کتاب”قانون دعوت“میں ثابت قدمی اور استقامت کو دعوت کی سب سے اہم شرط قرار دیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :

”یہ اس دعوت کی سب سے اہم شرط ہے اور قرآن مجید میں اس کام کے لیے جگہ جگہ اس کی اہمیت واضح کی ہے ،وہ لوگ جو اس کام کے لیے اٹھیں ، انھیں یہ حقیقت پہلے قدم ہی پر سمجھ لینی چاہیے کہ یہ راہِ عزیمت ہے اور اس میں امتحان اور آزمایش کے بعد ایسے مراحل بھی آتے ہیں جب مال گھٹتا ، باغات اجڑتے، مصائب امڈتے، دست و بازو قلم ہوتے ، سر جاتا اور جان جانِ آفرین کے سپرد کرنا پڑتی ہے ۔ اس میں بعض ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب ترغیب و ترہیب کے سب حربوں کا رخ تنہا داعی حق کے سینے کی طرف ہو جاتا ہے ، اور خوف و طمع کے سارے انداز تنہا اسی کو اس راہ سے ہٹانے کے لیے وقف ہو جاتے ہیں ۔ اس میں وہ مقامات بھی آتے ہیں جب اس کو حوالہ زنداں کیا جاتا ، اس کی پیٹھ پر تازیانے برستے ، اس کے جوڑ بند الگ کر دیے جاتے ہیں ، اسے کیچڑ بھرے حوض میں لٹکا دیا جاتا ، اسے’عین مقدس‘اور’قربان گاہ ‘کے درمیان سنگسار کر دیا جاتا ، اور اس کا سر قلم کر کے رقاصاؤں کے حضور میں پیش کر دیا جاتا ہے ۔ یہ سب منازل اس راہ میں آتی ہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کے قانونِ ابتلا کی رو سے کسی نہ کسی صورت میں لازماً آتی ہیں ،لیکن داعی حق سے اس دعوت کا مطالبہ یہی ہے کہ وہ پوری ثابت قدمی کے ساتھ اپنے موقف پر جما رہے اور اس طرح کے سب مواقع پر یہی پکارے کہ ’انا للّٰہ وانا الیہ راجعون‘۔

ارشاد خداوندی ہے :

”ایمان والو، (یہ نعمت تمھیں عطا ہوئی ہے تو اب تمھارے مخالفین کی طرف سے جو مشکلیں بھی پیش آئیں، اُن میں) ثابت قدمی اور نماز سے مدد چاہو۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ اُن کے ساتھ ہے جو (مشکلات کے مقابلے میں) ثابت قدم رہنے والے ہوں۔ اور جو لوگ اللہ کی (اِس) راہ میں مارے جائیں، اُنھیں یہ نہ کہو کہ مردہ ہیں۔ وہ مردہ نہیں، بلکہ زندہ ہیں، لیکن تم (اُس زندگی کی حقیقت) نہیں سمجھتے۔ہم (اِس راہ میں) یقینا تمھیں کچھ خوف، کچھ بھوک اور کچھ جان و مال اور کچھ پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے۔ اور (اِس میں) جو لوگ ثابت قدم ہوں گے، (اے پیغمبر)، اُنھیں (دنیا اور آخرت، دونوں میں کامیابی کی) بشارت دو۔(وہی) جنھیں کوئی مصیبت پہنچے تو کہیں کہ لاریب، ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں (ایک دن) اُسی کی طرف پلٹ کر جاناہے۔“

( البقرہ 2: 156-153)

[اپریل 1994ء ]