Skip to content

Chapter 28: دین کی دعوت یا عالم دین کے فہم کی دعوت

[ ہفتہ وار درسِ قرآن و حدیث کے بعد جناب جاوید احمد غامدی سے یہ سوال کیا گیا: ’’غامدی صاحب ،ہماری دعوت بالعموم ہمارے اُس فہم پر مبنی ہوتی ہے، جو ہم آپ کے افکار سے حاصل کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ کے افکار آپ کے اپنے فہم ہی پر مبنی ہوتے ہیں۔ اِس صورت میں ہماری دعوت دین کی دعوت کس طرح بن سکتی ہے؟‘‘اِس سوال کے جواب میں غامدی صاحب کی گفتگو کا خلاصہ درجِ ذیل ہے ۔]

دعوت ہمیشہ دین ہی کی طرف ہونی چاہیے۔ لیکن دین کی دعوت کو پیش کرنے کا کام اصحابِ علم ہی انجام دے سکتے ہیں۔ دین کے فہم کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرنے کے لیے انسان کو ایک عمر درکار ہوتی ہے۔ یہ صلاحیت پیدا کرنے کے بعد ہی کوئی شخص قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس کی خدمت انجام دے سکتا ہے۔

جو اصحابِ علم دین کے بارے میں رہنمائی کرتے ہیں، وہ بہرحال اپنا ایک نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے دین کو اخذ کرنے کے لیے کچھ اصول بھی متعین کیے ہوتے ہیں۔ اُن کے کام پر ایک عمومی اعتماد ہی آپ کو اُن سے وابستہ کرتا ہے۔

ہر صاحب ِعلم جب اپنا نقطۂ نظر پیش کرے گا تو اُس کے دلائل دے گا۔ آپ اگر اُن دلائل پر مطمئن ہیں تو اُسے قبول کیجیے اور اگر آپ کو اطمینان نہیں ہے تو اُسے قبول نہ کیجیے۔

لیکن جہاں تک دین کی دعوت کا تعلق ہے تو وہ قرآن اور سنت کو لوگوں تک پہنچانے کا نام ہے۔ دعوت کی بنیاد ہر حال میں اِنھی کو بننا چاہیے۔قرآن و سنت کے علاوہ آپ جس چیز کو بھی دعوت کا موضوع بنائیں گے، وہ محض فرقہ بندیوں کا باعث بنے گی۔

البتہ،آپ جن اہل علم پر اعتماد کرتے ہیں یا جن سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں، اُن کی تحریروں یا تقریروں سے لوگوں کو متعارف کرانے میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ اِس سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے کہ کسی نقطۂ نظر کے بارے میں جو فہم آپ کو حاصل ہے، وہ دوسروں کو بھی حاصل ہو جائے۔

[جون 2007ء]

____________