Skip to content

Chapter 5: ضمیمہ جات

ضمیمہ جات

ضمیمہ 1

معراج کی روایات کے طرق کا جائزہ

واقعۂ معراج کے بارے میں متعددمرفوع روایات حدیث کی کتابوں میں منقول ہیں۔ صحاح میں سے اِنھیں بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابنِ ماجہ نے نقل کیا ہے۔ موطا امام مالک اور سنن ابی داؤد میں یہ مذکور نہیں ہیں۔ اِن کے بنیادی راوی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ بعض طرق میں وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست روایت کر رہے ہیں اور بعض میں حضرت ابوذر غفاری اور حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہما کے توسط سے نقل کر رہے ہیں۔ مذکورہ کتب میں اگر اِن روایتوں کے اسنادکا استقصا کیا جائے تو درجِ ذیل نمایندہ روایتیں متعین ہوتی ہیں:

1۔ بخاری، رقم 7517۔

سلیمان (تبع تابعی) – شریک بن عبداللہ (تابعی) – انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

2۔ بخاری، رقم 349۔

یونس (تبع تابعی) – ابن شہاب زہری (تابعی) -انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) – ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ (صحابی) – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

3۔ بخاری، رقم 3887۔

ہمام بن یحییٰ(تبع تابعی) – قتادہ (تابعی) – انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) – مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ (صحابی) -رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

4۔ مسلم، رقم 429۔

حماد بن سلمہ (تبع تابعی ) – ثابت البنانی(تابعی) – انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

5۔ مسلم، رقم 433۔

یونس (تبع تابعی) – ابن شہاب زہری (تابعی) – انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) – ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ (صحابی) – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

6۔ مسلم، رقم 434۔

سعید (تبع تابعی) -قتادہ (تابعی) – انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) – مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ (صحابی) – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

7۔ ترمذی، رقم 3346۔

سعید (تبع تابعی) – قتادہ (تابعی) – انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) – مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ (صحابی) – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

8۔ ابن ماجہ، رقم 1399۔

یونس بن یزید(تبع تابعی) – ابن شہاب زہری (تابعی) – انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

9۔ نسائی، رقم 448۔

ہشام دستوائی (تبع تابعی) – قتادہ (تابعی) – انس بن مالک رضی اللہ عنہ (صحابی) – مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ (صحابی) – رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

اِن نو(9) روایتوں کے راویوں میں چھ تبع تابعین، چار تابعین اور تین صحابی ہیں۔ جن چار تابعین نے اِنھیں نقل کیا ہے، اُن کے اسما ے گرامی یہ ہیں:

1۔شریک بن عبداللہ،

2۔ ابن شہاب زہری،

3۔ قتادہ،

4۔ثابت البنانی۔

یہ چاروں تابعین مختلف صحابہ سے روایت نہیں کر رہے، بلکہ ایک ہی صحابی سے روایت کر رہے ہیں۔ یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ اِس امرِ واقعہ کے لازمی نتیجے کے طور پر دو حقائق کو ماننا ضروری ہے:

ایک یہ کہ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ ایک ہی روایت ہے،جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔اُن سے آگے اِسے چار مختلف راویوں نے نقل کیا ہے۔ یعنی یہ ایک ہی حدیث ہے، جو چار مختلف طرق سے آگے روایت ہوئی ہے۔

دوسرےیہ کہ اِس کے متن میں جو اختلاف سامنے آئے ہیں، وہ ممکنہ طور پر تابعین یا اُن کے بعد کے راویوں کے سہو و نسیان یا حک و اضافے کا نتیجہ ہیں۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ کسی معتبر راوی سے اِس بات کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ وہ ایک واقعے کو اِس طرح بیان کرے کہ وہ اپنی ذات میں متناقض یا مختلف ہو۔ یعنی کسی بھی صاحب ِ عقل و دانش سے اِس کی توقع محال ہوتی ہے کہ وہ مثال کے طور پر ایک واقعے کو بہ یک وقت خواب اور بیداری کا واقعہ قرار دے۔

اِس تناظر میں جب ہم درجِ بالا طرق کا تقابل کرتے ہیں تو بنیادی واقعات کے لحاظ سے ایک طریق باقی طرق سے مختلف معلوم ہوتا ہے۔ یہ ثابت البنانی کا طریق ہے، جسے مسلم نے نقل کیا ہے۔ یعنی بخاری میں رقم شریک بن عبداللہ، ابن شہاب زہری اور قتادہ کی روایتوں میں فی الجملہ مشابہت پائی جاتی ہے، جب کہ مسلم میں رقم ثابت البنانی کی روایت اُن سے مختلف ہے۔ یہ اختلاف حک و اضافہ، دونوں پہلوؤں سے ہے۔ بخاری کی تینوں روایتوں میں شق صدر کا واقعہ مذکور ہے، جب کہ مسلم کی روایت میں اِس کا نہ کوئی ذکر ہے اور نہ کوئی اشارہ ہے۔ مسجدِ اقصیٰ کا سفر بخاری کی تینوں روایتوں کے واقعے کا حصہ نہیں ہے، اِس کے برعکس مسلم کی روایت میں اِسی سے واقعے کا آغاز کیا گیا۔ اِس تجزیے کی بنا پر یہ بات قرین قیاس لگتی ہے کہ اصل واقعہ وہی ہے، جو شریک بن عبداللہ، ابن شہاب زہری اور قتادہ سے منقول ہے۔ جب کہ ثابت البنانی کا روایت کردہ واقعہ بعض تسامحات کا حامل ہے۔

مزید برآں، ثابت البنانی کی روایت قرآن میں مذکور واقعۂ اسرا سے بُعد اور مغائرت کو نمایاں کرتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں صرف واقعۂ اسرا، یعنی مسجدِ حرام سے مسجد اقصیٰ کے سفر کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اُس کے ساتھ معراج کا آسمانی سفر شامل نہیں ہے، جب کہ ثابت البنانی کی روایت میں یہ دونوں سفر جمع کر کے بیان ہوئے ہیں۔دیگر روایتوں میں قرآن سے ناموافقت کا یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ اِن میں واقعۂ اسرا سرے سے مذکور ہی نہیں ہے۔

ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ثابت البنانی کی روایت کو صحیح مسلم کے علاوہ صحاح کے کسی اور محدث نے نقل نہیں کیا۔ سنن نسائی میں، البتہ اِسی مضمون کی ایک روایت، رقم 450 نقل ہے، جسے یزید بن ابی مالک حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے ہیں۔ تاہم،اِسے علامہ ناصر الدین البانی نے منکر قرار دیا ہے۔ 73

اِس تفصیل کی بنا پر قرین صواب یہی ہے کہ مسلم میں رقم ثابت البنانی کی روایت کے بعض اجزا کو ثابت البنانی یا اُن سے آگے کسی راوی کے سہو و نسیان یا حک و اضافے کا نتیجہ خیال کرتے ہوئے اِس روایت کے بارے میں توقف کیا جائے اور واقعۂ معراج کی تفصیلات کو اِس کے علاوہ دیگر طرق سے اخذ کیا جائے۔

ضمیمہ 2

معراج کی روایات کا تقابلی جائزہ

ضمیمہ 1 میں صحاح کی محولہ روایات میں سے بیش تر وہ روایات ہیں، جن میں واقعے کو بالتفصیل نقل کیا گیا ہے۔ اِن کے علاوہ مختصر روایات بھی ہیں، جن میں یہی واقعہ جزوا ً بیان ہوا ہے۔ مذکورہ روایات میں بھی مقابلتاً بعض کے متن مختصر اور بعض کے جامع ہیں۔ اِس سے واضح ہے کہ راویوں نے اپنے فہم،اپنی یادداشت اور صواب دید کے مطابق جو سمجھا، جو محفوظ رکھا اور جسے ترجیح دی، اُسے اپنے الفاظ میں آگے نقل کر دیا ہے۔74 تاہم، ثابت البنانی کی روایت کے سوا باقی روایتوں میں فی الجملہ اتفاق و اشتراک پایا جاتا ہے۔ لیکن، اِس کے باوجود بیانِ واقعات میں تعدد، تنوع اور تکثیر و تقلیل کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ذیل میں اِن کے مندرجات کا تقابلی تجزیہ درج ہے۔

رسول اللہ کی موجودگی

* پانچ روایتوں میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الحرام میں موجود تھے۔

* دو روایتوں میں ذکر ہے کہ آپ اپنے گھر میں آرام فرما رہے تھے۔

* دو روایتوں میں کچھ مذکور نہیں ہے۔

ماحصل: بیت الحرام میں یا گھر میں موجودگی، دونوں میں سے کوئی صورت بھی ممکن ہے۔ روایتوں میں اِس ضمن میں اختلاف ہے۔ تاہم، اِس کا نفس واقعہ پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ ہمارے نزدیک،چونکہ زیادہ روایتوں میں بیت الحرام کی صراحت ہے، اِس لیے اِسی بیان کو قرین حقیقت ماننا چاہیے۔

عالم رؤیا یا عالم بیداری

* اِن میں سے کسی روایت میں بھی بیداری اور جسمانی معراج کی صراحت نہیں ہے۔

* ایک روایت میں، البتہ نیند اور روحانی معراج کی تصریح ہے۔

* تین روایتوں میں نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت کا ذکر ہے۔

ماحصل: روایتوں میں اِس معاملے میں کوئی اختلاف یا تعارض نہیں ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ بعض میں بیداری کا اور بعض میں نیند کا ذکر ہو۔ اِس تناظر میں اگر بعض روایتوں میں نیند کی صراحت ہے تو اُسے لازماً قبول کرنا چاہیے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ علم و استدلال کا مسلمہ ہے کہ کوئی واقعہ اگر ایک سے زیادہ راویوں سے منتقل ہوا ہو تو اُس کی تفصیلات کو تمام روایات کو جمع کر کےمتعین کرنا چاہیے۔

شق صدر

* روایتوں میں اِس امر پر اتفاق ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام دیگر فرشتوں کے ہم راہ تشریف لائے۔

* اِس پر بھی اتفاق ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ کا سینہ شق کیا، اندرون کو آب زم زم سے دھویا اور پھر اُسے ایمان اور حکمت سے لبریز کر کے بند کر دیا۔

ماحصل: مذکورہ روایتوں میں اِس معاملے میں کوئی تعارض نہیں ہے، لہٰذا اِسے قبول کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ مزید برآں، چونکہ یہ عالم رؤیا میں ہوا ہے، اِس لیے اِس پر کوئی اشکال بھی پیدا نہیں ہوتا۔

براق پر سواری

* چارروایتوں میں براق پر سواری کا ذکر ہے، باقی میں یہ ذکر نہیں ہے۔

ماحصل: کسی برق رفتار سواری کا وجود بعید از قیاس نہیں ہے۔ روایتوں میں بھی اِس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اِس لیے اِسے قبول کرنا بالکل بجا ہے۔ مزید یہ کہ رؤیا کا واقعہ ہونے کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ اِس کی نوعیت تمثیل کی ہو۔

بیت المقدس کا مشاہدہ

* ایک روایت میں اِس کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر جانے سے پہلے مسجدِ اقصیٰ تشریف لے گئے۔

* باقی روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ آپ مسجدِ حرام ہی سے آسمانوں کی طرف روانہ ہوئے۔

ماحصل: ضمیمہ 1 میں مذکور تفصیل اور تجزیے سے واضح ہے کہ یہ صرف ثابت البنانی کی روایت ہے، جس میں بیت المقدس کے سفر کا اضافہ ہے۔ باقی روایتیں اِس ذکر سے خالی ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کا سفر، یعنی واقعۂ اسرا ایک الگ واقعے کے طور پر قرآنِ مجید میں مذکور ہے اور اُس میں آسمانوں کا سفر شامل نہیں ہے۔ مزید برآں اُن روایتوں میں بھی آسمانی سفر کا ذکر نہیں ہے، جن کے مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیت المقدس کو ممثل کر کے پیش کیا تھا۔75 اِس بنا پر قرین صحت یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے سفر کا ذکر راوی سے سہواً شامل ہوا ہے، جو ایک الگ واقعہ ہے اور آسمانوں کے سفر معراج سے متعلق نہیں ہے۔

جبریل امین کے ہم راہ آسمان کی طرف معراج

* تمام روایتوں میں مذکور ہے کہ آپ کو آسمانوں پر لے جانے کا فریضہ حضرت جبریل علیہ السلام نے انجام دیا۔

* بارگاہِ الٰہی میں حاضری کے علاوہ تمام سفر کے دوران میں وہ آپ کے ہم راہ رہے۔

ماحصل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبریل امین کے ہم راہ آسمان کی بلندیوں کی طرف روانہ ہونے پر احادیث میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ عقل و نقل بھی اِس کی مخالفت نہیں کرتے، اِس لیے اِس بات کو درست ماننا چاہیے۔

سات آسمانوں میں باری باری داخلہ

* یہ بات تمام روایتوں میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باری باری تمام سات آسمانوں میں سے گزرے۔

* ہر آسمان پر آپ کو مختلف مشاہدات کرائے گئے۔

ماحصل: سات آسمانوں کی سیر کا واقعہ بھی عقل و نقل سے مطابقت رکھتا ہے۔ روایتوں میں بھی اِس پر کوئی اختلاف نقل نہیں ہوا ہے۔اِس لیے اِس کی صحت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔

آسمانوں پر مختلف انبیا ے کرام سے ملاقات

* ہر آسمان پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نہ کسی نبی سے ملایا گیا۔

* پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات پر تو تمام روایتوں کا اتفاق ہے۔

* اِسی طرح جن انبیا سے ملاقاتیں ہوئیں، اُن کے اسما بھی کم وبیش تمام روایتوں میں ایک جیسےہیں۔

* کس آسمان پر کس نبی سے ملاقات ہوئی، اِس کے بیان میں کچھ اختلافات ہیں۔ مگراِن سے ملاقاتوں کے وقوع پر کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا۔

ماحصل: مختلف آسمانوں پر انبیا سے جو ملاقاتیں ہوئیں، اُن کی حقیقت ہم نہیں جان سکتے، البتہ یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اِن کی نوعیت روحانی ملاقاتوں ہی کی ہو گی۔ اِس کے دو بنیادی وجوہ ہیں: اول یہ کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم رؤیا کی وجہ سے روحانی کیفیت میں تھے تو ملنے والے انبیا بھی یقیناً روحانی کیفیت میں ہوں گے۔ دوم یہ کہ وفات کی وجہ سے اُن انبیا کو چونکہ قیامت تک جسموں کے بغیر رہنا ہے، اِس لیے اِن ملاقاتوں کے جسمانی ہونے کا امکان نہیں ہے۔

سدرۃ المنتہیٰ کا مشاہدہ

* پانچ روایتوں میں سدرۃ المنتہیٰ کے مشاہدے کا ذکر ہے، باقی میں نہیں ہے۔

ماحصل: سورۂ نجم میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ پر حضرت جبریل علیہ السلام کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ فرمایا تھا۔ اِس موقع پر آپ خود زمین پر موجود تھے۔ اِس سے واضح ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کے ایک قطعی حقیقت ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ تاہم، اُس واقعے کا روایتوں میں مذکور واقعۂ معراج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِس لیے معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہیٰ کے مشاہدے کو ایک الگ مشاہدے پر محمول کرنا چاہیے۔ دونوں میں یہ فرق بھی ہے کہ قرآن میں مذکور مشاہدہ کھلی آنکھوں سے ہوا تھا اور روایتوں میں بیان کردہ مشاہدہ عالم رؤیا میں ہوا تھا۔

تقرب الٰہی اور رؤیت باری تعالیٰ

* ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ باری تعالیٰ نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نہایت درجہ قرب عطا فرمایا۔ اِس کے لیے ’قاب قوسین‘ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کے اِس قدر قریب ہوئے کہ گویا باہمی فاصلہ اتنا ہی رہ گیا،جتنا ایک کمان کے دو کناروں کے درمیان میں ہوتا ہے۔اِس طرح کا تقرب، ظاہر ہے کہ رؤیت کو مستلزم ہوتا ہے۔

* باقی روایتوں میں اِس نوعیت کی کوئی صراحت نہیں ہے۔

ماحصل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم رؤیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا واقعہ بعض دیگر روایتوں میں بھی نقل ہوا ہے، اِس لیے اِس کا وقوع بالکل قرین قیاس ہے۔ بلا شبہ، قرآنِ مجید کی بعض آیات اور بعض دیگر روایتوں میں اللہ تعالیٰ کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے امکان کو رد کیا گیا ہے، مگر چونکہ معراج کی رؤیت عالم رؤیا سے متعلق ہے، لہٰذا اِن روایتوں کا قرآن سے کوئی تخالف یا دیگر روایتوں سے کوئی تناقض پیدا نہیں ہوتا۔

پچاس نمازوں کی فرضیت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مشاورت

* یہ بات بھی تمام روایتوں میں نقل ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نےآپ کو پچاس نمازیں عطا فرمائیں۔ آپ یہ حکم لے کر واپس ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مشورہ دیا کہ آپ اللہ کی بارگاہ میں واپس جا کر اِن کی تعداد میں تخفیف کی درخواست پیش کریں۔

* اِس طرح اِس بات پر بھی روایتوں کا اتفاق ہے کہ آپ تخفیف کے لیے بار بار اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور بالآخر پانچ نمازوں کی فرضیت کا حکم لے کر دنیا میں واپس آئے۔

ماحصل: نماز کی عبادت ہمیشہ سے اللہ کے دین کا جزوِ لازم رہی ہے۔قرآنِ مجید سے واضح ہے کہ اللہ نے تمام انبیا اور اُن کی امتوں کو اِس فریضے کی تاکید فرمائی۔ سنن ابوداؤد کی ایک روایت، رقم 393 میں بیان ہوا ہے کہ جبریل امین نے ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ نماز ہمیشہ سے پانچ وقت ہی ادا کی جاتی رہی ہے۔ اِس لیے قرین صواب یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز بعثت کے ساتھ ہی مشروع ہو گئی ہو گی اور معراج میں اِسی مشروعیت کے پس پردہ حقائق کو ممثل کر کے دکھایا گیا ہو گا۔

ضمیمہ 3

یونس کی حضرت انس بن مالک سے روایت

بخاری، رقم 349

حدثنا ، قال: حدثنا ، عن ، عن ، عن ، قال: كان يحدث، أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’فرج عن سقف بيتي وأنا بمكة، فنزل جبريل صلى اللّٰه عليه وسلم ففرج صدري، ثم غسله بماء زمزم، ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمةً وإيمانًا، فأفرغه في صدري، ثم أطبقه، ثم أخذ بيدي فعرج بي إلى السماء الدنيا.

’’ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا : ہم سے لیث بن سعد نے یونس کے واسطہ سے بیان کیا، اُنھوں نے ابنِ شہاب سے، اُنھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، اُنھوں نے بیان کیا کہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر کی چھت کھول دی گئی، اُس وقت میں مکہ میں تھا۔ پھر جبریل علیہ السلام اترے اور اُنھوں نے میرا سینہ چاک کیا۔ پھر اُسے زمزم کے پانی سے دھویا۔ پھر ایک سونے کا طشت لائے، جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ اُس کو میرے سینے میں رکھ دیا، پھر سینے کو جوڑ دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے کر چلے۔

فلما جئت إلى السماء الدنيا، قال جبريل لخازن السماء: افتح، قال: من هذا؟ قال: هذا جبريل، قال: هل معك أحد؟ قال: نعم، معي محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، فقال: أرسل إليه؟ قال: نعم، فلما فتح علونا السماء الدنيا، فإذا رجل قاعد على يمينه أسودة وعلى يساره أسودة، إذا نظر قبل يمينه ضحك وإذا نظر قبل يساره بكى، فقال: مرحبًا بالنبي الصالح والابن الصالح، قلت لجبريل: من هذا؟ قال: هذا آدم، وهذه الاسودة عن يمينه وشماله نسم بنيه، فأهل اليمين منهم أهل الجنة والاسودة التي عن شماله اهل النار؟ فإذا نظر عن يمينه ضحك، وإذا نظر قبل شماله بكى. حتى عرج بي إلى السماء الثانية، فقال لخازنها: افتح، فقال له خازنها مثل ما قال الاول، ففتح.

جب میں پہلے آسمان پر پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا: کھولو۔ اُس نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ جواب دیا کہ جبریل، پھر اُنھوں نے پوچھا: کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جواب دیا: ہاں، میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کیا اِن کے بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا: جی ہاں۔ پھر جب اُنھوں نے دروازہ کھولا تو ہم پہلے آسمان پر چڑھ گئے، وہاں ہم نے ایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ اُن کے داہنی طرف کچھ لوگوں کے جھنڈ تھے اور کچھ جھنڈ بائیں طرف تھے۔ جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتے تو مسکرا دیتے اور جب بائیں طرف نظر کرتے تو رو پڑتے۔ اُنھوں نے مجھے دیکھ کر کہا: آؤ، خوش آمدید صالح نبی اور صالح بیٹے! میں نے جبریل سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اُنھوں نے کہا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور اُن کے دائیں بائیں جو جھنڈ ہیں، یہ اُن کے بیٹوں کی روحیں ہیں۔ جو جھنڈ دائیں طرف ہیں، وہ جنتی ہیں اور بائیں طرف کے جھنڈ دوزخی روحیں ہیں۔ اِس لیے جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے مسکراتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو (رنج سے) روتے ہیں۔ پھر جبریل مجھے لے کر دوسرے آسمان تک پہنچے اور اُس کے داروغہ سے کہا کہ کھولو۔ اُس آسمان کے داروغہ نے بھی پہلے کی طرح پوچھا، پھر کھول دیا۔

قال أنس: فذكر أنه وجد في السمٰوات آدم وإدريس وموسى وعيسى وإبراهيم صلوات اللّٰه عليهم، ولم يثبت كيف منازلهم، غير أنه ذكر أنه وجد آدم في السماء الدنيا، وإبراهيم في السماء السادسة.

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان پر آدم، ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو موجود پایا۔ اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کا ٹھکانا نہیں بیان کیا۔ البتہ، اتنا بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدم علیہ السلام کو پہلے آسمان پر پایا اور ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر۔

قال انس: فلما مر جبريل بالنبي صلى اللّٰه عليه وسلم بإدريس، قال: مرحبًا بالنبي الصالح والاخ الصالح، فقلت: من هذا؟ قال: هذا إدريس، ثم مررت بموسى، فقال: مرحبًا بالنبي الصالح والاخ الصالح، قلت: من هذا؟ قال: هذا موسى، ثم مررت بعيسى، فقال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح، قلت: من هذا؟ قال: هذا عيسى. ثم مررت بإبراهيم، فقال: مرحبًا بالنبي الصالح والابن الصالح، قلت: من هذا؟ قال هذا إبراهيم عليه وسلم.“

انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے۔ تو اُنھوں نے فرمایا کہ آئیے، خوش آمدید صالح نبی اور صالح بھائی! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جواب دیا کہ یہ ادریس علیہ السلام ہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو اُنھوں نے کہا: آئیے، خوش آمدید صالح نبی اور صالح بھائی! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، اُنھوں نے کہا: آئیے، خوش آمدید صالح نبی اور صالح بھائی! میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا۔ اُنھوں نے کہا: آئیے، خوش آمدید صالح نبی اور صالح بیٹے! میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔

قال ابن شهاب: فأخبرني ابن حزم، أن ابن عباس، وأبا حبة الانصاري كانا يقولان: قال النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’ثم عرج بي حتى ظهرت لمستوًى اسمع فيه صريف الاقلام‘‘، قال ابن حزم، وانس بن مالك: قال النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’ففرض اللّٰه على امتي خمسين صلاةً‘‘.

ابنِ شہاب نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن حزم نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابوحبہ الانصاری رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے جبریل علیہ السلام لے کر چڑھے، اب میں اُس بلند مقام تک پہنچ گیا، جہاں میں نے قلم کی آواز سنی (جو لکھنے والے فرشتوں کے قلموں کی آواز تھی) ابنِ حزم نے (اپنے شیخ سے) اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں۔

فرجعت بذلك حتى مررت على موسى، فقال: ما فرض اللّٰه لك على أمتك؟ قلت: فرض خمسين صلاةً، قال: فارجع إلى ربك، فإن امتك لا تطيق ذلك، فراجعت فوضع شطرها. فرجعت إلى موسى، قلت: وضع شطرها، فقال: راجع ربك، فإن امتك لا تطيق، فراجعت: فوضع شطرها، فرجعت إليه، فقال: ارجع إلى ربك فإن امتك لا تطيق ذلك، فراجعته، فقال: هي خمس وهي خمسون لا يبدل القول لدي.

میں یہ حکم لے کر واپس لوٹا۔ جب موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو اُنھوں نے پوچھا کہ آپ کی امت پر اللہ نے کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا کہ پچاس وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ اُنھوں نے مشورہ دیا: آپ واپس اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے، کیونکہ آپ کی امت اِتنی نمازوں کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ میں واپس بارگاہِ رب العزت میں گیا تو اللہ نے اُن میں سے ایک حصہ کم کر دیا۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ ایک حصہ کم کر دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دوبارہ جائیے، کیونکہ آپ کی امت میں اِس کے برداشت کی بھی طاقت نہیں ہے۔ پھر میں بارگاہ ِ رب العزت میں حاضر ہوا۔ پھر ایک حصہ کم ہوا۔ جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے کہا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں پھر جائیے، کیونکہ آپ کی امت اِس کو بھی برداشت نہ کر سکے گی۔ چنانچہ میں باربار آیا گیا، بالآخر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نمازیں (عمل میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) پچاس (کے برابر) ہیں۔ میری بات بدلی نہیں جاتی۔

فرجعت إلى موسى فقال: راجع ربك، فقلت: استحييت من ربي، ثم انطلق بي حتى انتهى بي إلى سدرة المنتهى، وغشيها ألوان لا أدري ما هي، ثم أدخلت الجنة فإذا فيها حبايل اللؤلؤ وإذا ترابها المسك.

اب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اُنھوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کے پاس جائیے، لیکن میں نے کہا: مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ پھر جبریل مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے، جسے کئی طرح کے رنگوں نے ڈھانک رکھا تھا۔ جن کے متعلق مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کیا ہیں۔ اِس کے بعد مجھے جنت میں لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ اُس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اُس کی مٹی مشک کی ہے۔‘‘

ضمیمہ 4

ہمام بن یحییٰ کی حضرت انس بن مالک سے روایت

بخاری، رقم 3887

حدثنا ، حدثنا ، حدثنا ، عن ، عن رضي اللّٰه عنهما، أن نبي اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم حدثهم، عن ليلة أسري به قال: ’’بينما أنا في الحطيم‘‘، وربما قال: في الحجر، ’’مضطجعًا إذ اتاني آت فقد‘‘، قال: وسمعته يقول: ’’فشق ما بين هذه إلى هذه‘‘، فقلت للجارود وهو إلى جنبي: ما يعني به، قال: من ثغرة نحره إلى شعرته، وسمعته يقول: من قصه إلى شعرته ’’فاستخرج قلبي، ثم أتيت بطست من ذهب مملوءة إيمانًا فغسل قلبي، ثم حشي.

’’ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، اُنھوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، اُن سے قتادہ نے بیان کیا، اُن سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور اُن سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے شبِ معراج کا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا۔ـــــبعض دفعہ قتادہ نے حطیم کے بجاے حجر بیان کیا ـــــکہ میرے پاس ایک صاحب (جبریل علیہ السلام) آئے اور میرا سینہ چاک کیا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ یہاں سے یہاں تک۔ میں نے جارود سے سنا، جو میرے قریب ہی بیٹھے تھے۔ پوچھا کہ انس رضی اللہ عنہ کی اِس لفظ سے کیا مراد تھی؟ تو اُنھوں نے کہا کہ حلق سے ناف تک چاک کیا (قتادہ نے بیان کیا کہ) میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، اُنھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کے اوپر سے ناف تک چاک کیا،پھر میرا دل نکالا اور ایک سونے کا طشت لایا گیا، جو ایمان سے بھرا ہوا تھا، اُس سے میرا دل دھویا گیا اور پہلے کی طرح رکھ دیا گیا۔

ثم أتيت بدابة دون البغل وفوق الحمار أبيض‘‘، فقال له الجارود: هو البراق يا أبا حمزة، قال انس: نعم يضع خطوه عند أقصى طرفه.

اِس کے بعد ایک جانور لایا گیا، جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا اور سفید تھا۔ جارود نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابو حمزہ، کیا وہ براق تھا؟ اُنھوں نے کہاکہ ہاں۔ اُس کا ہر قدم اُس کے منتہاے نظر پر پڑتا تھا۔

فحملت عليه فانطلق بي جبريل حتى أتى السماء الدنيا فاستفتح، فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه، قال: نعم، قيل: مرحبًا به فنعم المجيء جاء. ففتح فلما خلصت فإذا فيها آدم، فقال: هذا أبوك آدم فسلم عليه، فسلمت عليه فرد السلام، ثم قال: مرحبًا بالابن الصالح، والنبي الصالح.

(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) مجھے اُس پر سوار کیا گیا اور جبریل مجھے لے کر چلے، آسمان دنیا پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: کون ہے؟ اُنھوں نے بتایا کہ جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا اُنھیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا: جی ہاں۔ اِس پر آواز آئی: خوش آمدید! کیا ہی مبارک آنے والے ہیں وہ۔ پھر دروازہ کھول دیا۔ جب میں اندر گیا تو میں نے وہاں آدم علیہ السلام کو دیکھا، جبریل نے کہاکہ یہ آپ کے والد آدم علیہ السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے اُنھیں سلام کیا اور اُنھوں نے جواب دیا۔ اُنھوں نے کہا: خوش آمدید نیک بیٹے اور نیک نبی!

ثم صعد بي حتى أتى السماء الثانية فاستفتح، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل ومن معك؟ قال محمد، قيل: وقد أرسل إليه، قال: نعم، قيل: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، ففتح، فلما خلصت إذا يحيى وعيسى وهما ابنا الخالة، قال: هذا يحيى، وعيسى فسلم عليهما، فسلمت فردا، ثم قالا: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح.

پھر جبریل علیہ السلام اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر پہنچے۔ وہاں بھی دروازہ کھلوایا گیا تو آواز آئی: کون صاحب ہیں؟ بتایا: جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ اور کوئی صاحب بھی ہیں؟ کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا آپ کو اِنھیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ جبریل نے کہا: جی ہاں۔ پھر آواز آئی اِنھیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر دروازہ کھلا اور میں اندر گیا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام موجود تھے۔ یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبریل بولے: یہ عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے سلام کیا اور اِن حضرات نے میرے سلام کا جواب دیا اور کہا: خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی!

ثم صعد بي إلى السماء الثالثة فاستفتح، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه، قال: نعم، قيل: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، ففتح، فلما خلصت إذا يوسف، قال: هذا يوسف فسلم عليه، فسلمت عليه فرد، ثم قال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح.

یہاں سے جبریل مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے کر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ جبریل۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا اِنھیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اِس پر آواز آئی: اِنھیں خوش آمدید، کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر دروازہ کھلا اور جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں یوسف علیہ السلام موجود تھے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ یوسف علیہ السلام ہیں اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے سلام کیا تو اُنھوں نے اُس کا جواب دیا اور فرمایا: خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی!

ثم صعد بي حتى أتى السماء الرابعة فاستفتح، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: أوقد أرسل إليه، قال: نعم، قيل: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، ففتح، فلما خلصت إلى إدريس، قال: هذا إدريس فسلم عليه، فسلمت عليه فرد، ثم قال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر اوپر چڑھے اور چوتھے آسمان پر پہنچے۔ دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا: کون صاحب ہیں؟ بتایا کہ جبریل۔ پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا اِنھیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ کہا کہ اِنھیں خوش آمدید، کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ! جب دروازہ کھلا تو میں ادریس علیہ السلام کے پاس پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے فرمایا: یہ ادریس علیہ السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے اُنھیں سلام کیا اور اُنھوں نے جواب دیا اور فرمایا: خوش آمدید، پاک بھائی اور نیک نبی۔

ثم صعد بي حتى أتى السماء الخامسة فاستفتح، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه، قال: نعم، قيل: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، فلما خلصت فإذا هارون، قال: هذا هارون فسلم عليه، فسلمت عليه فرد، ثم قال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح.

پھر جبریل مجھے لے کر پانچویں آسمان پر آئے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کہ کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا کہ اِنھیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ اب آواز آئی: خوش آمدید، کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ یہاں میں ہارون علیہ السلام کے پاس پہنچا تو جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون علیہ السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے اُنھیں سلام کیا۔ اُنھوں نے جواب کے بعد کہا: خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی!

ثم صعد بي حتى أتى السماء السادسة فاستفتح، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: من معك؟ قال: محمد، قيل: وقد ارسل إليه، قال: نعم، قال: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، فلما خلصت فإذا موسى، قال: هذا موسى فسلم عليه، فسلمت عليه فرد، ثم قال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح، فلما تجاوزت بكى، قيل: له ما يبكيك، قال: ابكي لان غلامًا بعث بعدي يدخل الجنة من أمته أكثر ممن يدخلها من أمتي.

پھر جبریل مجھے لے کر آگے بڑھے اور چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: کون صاحب ہیں؟ بتایا کہ جبریل۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کوئی دوسرے صاحب بھی آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا اِنھیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ کہا گیا: اِنھیں خوش آمدید، کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو جبریل نے کہا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ میں نے سلام کیا اور اُنھوں نے جواب دے کر کہا: خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی! جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے۔ کسی نے پوچھا کہ آپ رو کیوں رہے ہیں؟ تو اُنھوں نے کہا: میں اِس بات پر رو رہا ہوں کہ یہ لڑکا میرے بعد نبی بنا کر بھیجا گیا ہے، لیکن جنت میں اِس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ ہوں گے۔

ثم صعد بي إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: نعم، قال: مرحبًا به فنعم المجيء جاء، فلما خلصت فإذا إبراهيم، قال: هذا أبوك فسلم عليه، قال: فسلمت عليه فرد السلام، قال: مرحبًا بالابن الصالح والنبي الصالح.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر ساتویں آسمان کی طرف گئے اور دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا: کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ جبریل۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ پوچھا گیا: کیا اِنھیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ جواب دیا کہ ہاں۔ کہا: اِنھیں خوش آمدید۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ۔ پھر جب میں اندر گیا تو ابراہیم علیہ السلام موجود تھے۔ جبریل نے کہا کہ یہ آپ کے والد ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اُنھیں سلام کیا تو اُنھوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بیٹے!

ثم رفعت إلي سدرة المنتهى، فإذا نبقها مثل قلال هجر وإذا ورقها مثل آذان الفيلة، قال: هذه سدرة المنتهى وإذا أربعة أنهار: نهران باطنان، ونهران ظاهران، فقلت: ما هذان يا جبريل، قال: أما الباطنان فنهران في الجنة، وأما الظاهران فالنيل، والفرات، ثم رفع لي البيت المعمور، ثم أتيت بإناء من خمر، وإناء من لبن، وإناء من عسل، فأخذت اللبن، فقال: هي الفطرة التي أنت عليها وأمتك.

پھر سدرۃ المنتہیٰ کو میرے سامنے کر دیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ اُس کے پھل مقام حجر کے مٹکوں کی طرح (بڑے بڑے) تھے اور اُس کے پتے ہاتھیوں کے کان کی طرح تھے۔ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ سدرۃ المنتہی ٰ ہے۔ وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں، دو باطنی اور دو ظاہری۔ میں نے پوچھا: جبریل، یہ کیا ہیں؟ اُنھوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں، وہ جنت سے تعلق رکھتی ہیں اور جو دو ظاہری نہریں ہیں، وہ نیل اور فرات ہیں۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو لایا گیا۔ وہاں میرے سامنے ایک گلاس میں شراب، ایک میں دودھ اور ایک میں شہد پیش کیا گیا۔ میں نے دودھ کا گلاس لے لیا۔اِس پر جبریل علیہ السلام بولے: یہی فطرت ہے اور آپ اِس پر قائم ہیں اور آپ کی امت بھی۔

ثم فرضت علي الصلوات خمسين صلاةً كل يوم، فرجعت فمررت على موسى، فقال: بما أمرت، قال: أمرت بخمسين صلاةً كل يومٍ، قال: إن أمتك لا تستطيع خمسين صلاةً كل يومٍ، وإني واللّٰه قد جربت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة، فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف لامتك، فرجعت فوضع عني عشرًا.

پھر مجھ پر روزانہ پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ میں واپس ہوا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے پوچھا: آپ کو کیاحکم ہوا ہے؟ میں نے کہا کہ روزانہ پچاس وقت کی نمازوں کا حکم ملا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ کی امت میں اِتنی طاقت نہیں ہے۔ اِس سے پہلے میرا واسطہ لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے۔ اِس لیے آپ اپنے رب کے حضور میں دوبارہ تشریف لے جائیں اور اپنی امت کے لیے تخفیف کی درخواست پیش کریں۔ چنانچہ میں اللہ تعالیٰ کے دربار میں دوبارہ حاضر ہوا اور تخفیف کے لیے عرض کی تو دس وقت کی نمازیں کم کر دی گئیں۔

فرجعت إلى موسى فقال مثله، فرجعت فوضع عني عشرًا، فرجعت إلى موسى فقال مثله، فرجعت فوضع عني عشرًا فرجعت إلى موسى، فقال مثله، فرجعت فأمرت بعشر صلوات كل يوم، فرجعت فقال مثله، فرجعت فأمرت بخمس صلوات كل يوم.

وہاں سے واپسی پر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے وہی سوال کیا (اور وہی مشورہ دیا)۔ چنانچہ میں ایک بار پھر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا (اور تخفیف کی درخواست پیش کی)۔ اِس مرتبہ بھی دس وقت کی نمازیں کم کر دی گئیں۔ میں پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے پھر اپنا مشورہ دہرایا۔ میں واپس بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہوا، جس کے نتیجے میں دس وقت کی نمازیں کم ہو گئیں۔ اب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے اپنی بات پھر دہرائی۔ میں پھر واپس چلا گیا تو دس نمازوں کی مزید کمی ہو گئی۔ یہی عمل ایک بار اور دہرایا گیا اور میں بارگاہِ الٰہی میں حاضرہوا۔ اِس کے نتیجے میں پانچ وقت کی نمازوں کا حکم باقی رہ گیا۔

فرجعت إلى موسى، فقال: بم أمرت، قلت: أمرت بخمس صلوات كل يوم، قال: إن أمتك لا تستطيع خمس صلوات كل يوم وإني قد جربت الناس قبلك وعالجت بني إسرائيل أشد المعالجة، فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف لامتك، قال: سألت ربي حتى استحييت ولكني أرضى وأسلم، قال: فلما جاوزت نادى مناد أمضيت فريضتي وخففت عن عبادي.

اِس کے بعد جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اُنھوں پوچھا کہ اب کیا حکم ہوا ہے؟ میں نے بتایا کہ روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کا حکم ہوا ہے۔ اُنھوں نے پھر وہی مشورہ دیا اور کہا کہ آپ کی امت اِس کی بھی طاقت نہیں رکھتی، میرا واسطہ آپ سے پہلے لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے۔ اپنے رب کے دربار میں ایک مرتبہ پھر جائیے اور مزید تخفیف کی درخواست کیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اب اپنے رب سے بار بار سوال کر چکا ہوں، اب مجھے مزید تقاضا کرتے ہوئے حیا محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا اب میں اِسی پر راضی ہوں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں وہاں سے جانے لگا تو ندا آئی کہ ہم نے اپنا فریضہ جاری کر دیا ہے اور اپنے بندوں کے لیےتخفیف کر دی ہے۔‘‘

ضمیمہ 5

ابن شہاب زہری کی حضرت انس بن مالک سے روایت

مسلم، رقم 433

وحدثني ، أخبرنا ، قال: أخبرني ، عن ، عن ، قال: كان يحدث أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’فرج سقف بيتي وأنا بمكة، فنزل جبريل عليه السلام، ففرج صدري، ثم غسله من ماء زمزم، ثم جاء بطست من ذهب ممتلئ حكمةً وإيمانًا، فأفرغها في صدري، ثم أطبقه، ثم اخذ بيدي فعرج بي إلى السماء، فلما جئنا السماء الدنيا، قال جبريل عليه السلام لخازن السماء الدنيا: افتح، قال: من هذا؟ قال: هذا جبريل، قال: هل معك أحد؟ قال: نعم، معي محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: فأرسل إليه؟ قال: نعم، ففتح، قال: فلما علونا السماء الدنيا، فإذا رجل عن يمينه أسودة، وعن يساره أسودة، قال: فإذا نظر قبل يمينه ضحك، وإذا نظر قبل شماله بكى، قال: فقال: مرحبًا بالنبي الصالح والابن الصالح، قال: قلت: يا جبريل، من هذا؟ قال: هذا آدم عليه السلام وهذه الاسودة عن يمينه، وعن شماله نسم بنيه، فأهل اليمين أهل الجنة والاسودة التي عن شماله أهل النار، فإذا نظر قبل يمينه ضحك، وإذا نظر قبل شماله بكى.

’’سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مکے میں تھا کہ میرے گھر کی چھت توڑی گئی اور جبریل علیہ السلام نازل ہوئے۔اُنھوں نے میرا سینہ چیرا، پھر اُس کو زمزم کے پانی سے دھویا، پھر سونے کا ایک طشت لائے، جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا، پھر اُسے میرے سینے میں انڈیل دیا اور پھر میرے سینے کو ملا دیا۔ اِس کے بعد میرا ہاتھ پکڑا اور قریبی آسمان پر پہنچے۔ پھر اُنھوں نے نگہ بان سے دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ اُس نے پوچھا: کون ہے؟ جواب دیا: جبریل۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا: کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ کہا: جی ہاں۔ تب اُس نے دروازہ کھول دیا۔ جب ہم آسمان کے اوپر گئے تو ایک شخصیت کو دیکھا، جن کے دائیں اور بائیں، دونوں طرف لوگوں کے جھرمٹ تھے۔ وہ جب داہنی طرف دیکھتے تو ہنستے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو رو پڑتے۔ اُنھوں نے مجھے دیکھ کر کہا: مرحبا، اے نیک بخت نبی اور نیک بخت بیٹے! میں نے جبریل علیہ السلام سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اُنھوں نے کہا: یہ آدم علیہ السلام ہیں اور یہ جو لوگوں کے جھنڈ اُن کے دائیں اور بائیں موجود ہیں، یہ اُن کی اولاد ہے۔ دائیں جانب وہ لوگ ہیں، جو جنت میں جائیں گے اور بائیں جانب وہ لوگ ہیں، جن کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اِس لیے جب وہ داہنی طرف دیکھتے ہیں تو (خوشی سے) ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو (رنج سے) رو پڑتے ہیں۔

قال: ثم عرج بي جبريل، حتى أتى السماء الثانية، فقال لخازنها: افتح، قال: فقال له خازنها: مثل ما قال خازن السماء الدنيا، ففتح‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اِس کے بعد جبریل مجھ کو لے کر اوپر چڑھے، یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے اور اُس کے نگہ بان سے دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ اُس نے بھی ویسے ہی کہا، جیسا کہ پہلے آسمان کے نگہ بان نے کہا تھا۔ پھر دروازہ کھولا گیا۔

فقال أنس بن مالك: فذكر أنه وجد في السماوات، آدم، وإدريس، وعيسى، وموسى، وإبراهيم صلوات اللّٰه عليهم أجمعين، ولم يثبت كيف منازلهم، غير أنه ذكر، أنه قد وجد آدم عليه السلام في السماء الدنيا وإبراهيم في السماء السادسة.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں پر حضرت آدم، حضرت ادریس، حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات کی۔ تاہم، اُنھوں نے یہ تفصیل بیان نہیں کی کہ اِن میں سے کون کس آسمان پر ملا۔ البتہ، یہ نقل کیا ہے کہ آدم علیہ السلام سے پہلے آسمان پر ملاقات ہوئی اور ابراہیم علیہ السلام سے چھٹے آسمان پر۔

قال: فلما مر جبريل ورسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم بإدريس صلوات اللّٰه عليه، قال: مرحبًا بالنبي الصالح والاخ الصالح، قال: ’’ثم مر، فقلت: من هذا؟ فقال: هذا إدريس‘‘.

پھر جب جبریل علیہ السلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ادریس علیہ السلام کے پاس پہنچے تو اُنھوں نے کہا: مرحبا اے نیک نبی اور نیک بھائی! آپ نے جبریل سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ جبریل نے جواب دیا: یہ ادریس علیہ السلام ہیں۔

قال: ’’ثم مررت بموسى عليه السلام، فقال: مرحبا بالنبي الصالح والاخ الصالح، قال: قلت: من هذا؟ قال: هذا موسى‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ اُنھوں نے کہا: مرحبا، اے صالح نبی اور صالح بھائی! میں نے جبریل سے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ اُنھوں نے بتایا:یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔

قال: ’’ثم مررت بعيسى، فقال مرحبًا بالنبي الصالح والاخ الصالح، قلت: من هذا؟ قال: هذا عيسى ابن مريم‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر میں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو اُنھوں نے کہا: مرحبا اے نیک نبی اور نیک بھائی! میں نے جبریل سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اُنھوں نے کہا: یہ عیسٰی علیہ السلام ہیں مریم علیہا السلام کے بیٹے۔

قال: ’’ثم مررت بإبراهيم عليه السلام، فقال: مرحبًا بالنبي الصالح والابن الصالح، قال: قلت: من هذا؟ قال: هذا إبراهيم‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اِس کے بعد میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچا۔ اُنھوں نے کہا: مرحبا اے صالح نبی اور صالح بیٹے! میں نے جبریل سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اُنھوں نے کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔

قال : وأخبرني ابن حزم، ان ، كانا يقولان: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’ثم عرج بي، حتى ظهرت لمستوًى اسمع فيه صريف الاقلام‘‘.

ابنِ شہاب بیان کرتے ہیں: مجھ سے ابنِ حزم نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوحبہ انصاری رضی اللہ عنہ (عامر یا مالک یا ثابت)، دونوں کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں چڑھایا گیا ایک ہموار بلند مقام پر، جہاں میں نے قلموں کی آواز سنی۔

قال ابن حزم : قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’ففرض اللّٰه على أمتي خمسين صلاةً، قال: فرجعت بذلك حتى أمر بموسى، فقال موسى عليه السلام: ماذا فرض ربك على أمتك؟ قال: قلت: فرض عليهم خمسين صلاةً، قال لي موسى عليه السلام: فراجع ربك، فإن أمتك لا تطيق ذلك، قال: فراجعت ربي فوضع شطرها، قال: فرجعت إلى موسى عليه السلام فاخبرته، قال: راجع ربك، فإن أمتك لا تطيق ذلك، قال: فراجعت ربي، فقال: هي خمس، وهي خمسون لا يبدل القول لدي، قال: فرجعت إلى موسى، فقال: راجع ربك، فقلت: قد استحييت من ربي‘‘.

ابنِ حزم اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۔ واپسی پر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے پوچھا کہ اللہ نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ اُن پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ اپنے رب کے پاس لوٹ جائیے (اور اُس سے کمی کی درخواست کیجیے)، کیونکہ آپ کی امت میں اِس قدر طاقت نہیں ہے۔ چنانچہ میں اپنے پروردگار کے پاس واپس گیا اور اُس نے ایک حصہ معاف فرما دیا۔ واپسی پر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور ان سے ماجرا بیان کیا تو اُنھوں نے کہا: آپ اپنے رب کے پاس لوٹ جائیے (اور اُس سے کمی کی درخواست کیجیے)، کیونکہ آپ کی امت میں اِس قدر طاقت نہیں ہے۔ چنانچہ میں اپنے پروردگار کے پاس واپس گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پانچ نمازیں فرض ہیں اور وہ پچاس کے برابر ہیں۔ میری جناب سے صادر کی گئی بات بدلا نہیں کرتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ حکم لے کر میں لوٹ آیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو اُنھوں نے وہی بات دہرائی اور پروردگار کے پاس واپس جانے کے لیے کہا: اِس پر میں نے کہا: اب مجھے شرم آتی ہے کہ میں اپنے پروردگار کے پاس پھر اِس کام کے لیے جاؤں۔

قال: ’’ثم انطلق بي جبريل، حتى نأتي سدرة المنتهى، فغشيها ألوان لا أدري ما هي، قال: ثم أدخلت الجنة، فإذا فيها جنابذ اللؤلؤ وإذا ترابها المسك‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چلے اور سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے۔ اُس پر ایسے رنگ تھے، جنھیں میں نہیں سمجھتا تھا۔ پھر وہ مجھے جنت میں لے گئے، وہاں موتیوں کے گنبد تھے اور اُس کی مٹی مشک کی تھی۔ “

ضمیمہ 6

قتادہ کی حضرت انس بن مالک سے روایت

مسلم، رقم 434

حدثنا ، حدثنا ، عن ، عن ، عن لعله قال: عن رجل من قومه، قال: قال نبي اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’بينا أنا عند البيت بين النائم واليقظان، إذ سمعت قائلاً، يقول: أحد الثلاثة بين الرجلين، فاتيت فانطلق بي، فأتيت بطست من ذهب فيها من ماء زمزم، فشرح صدري إلى كذا وكذا‘‘، قال قتادة: فقلت للذي معي: ما يعني؟ قال: إلى أسفل بطنه، فاستخرج قلبي، فغسل بماء زمزم، ثم أعيد مكانه، ثم حشي إيمانًا وحكمةً.

’’سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اُنھوں نے غالباً اپنی قوم کے ایک فرد مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں خانۂ کعبہ کے پاس تھا اور میری کیفیت نیند اور بیداری کے درمیان کی سی تھی۔ یک بہ یک میں نےایک شخص کو کچھ کہتے ہوئے سنا، جو (آنے والے) دو مردوں کے درمیان میں تیسرا تھا۔ پھر وہ میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا۔ پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، جس میں زم زم کا پانی تھا۔ پھر میرا سینہ یہاں اور یہاں تک چیرا گیا۔ ــــــقتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا: اِس سے کہاں تک چیرنا مراد ہے؟ اُس نے بتایا کہ پیٹ کے نیچے تک۔ ـــــــ پھر آپ نے فرمایا: اُس نے میرا دل نکال کر اُسے زم زم سے دھویا۔ پھر دل کو اُس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور اُسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا۔

ثم أتيت بدابة أبيض، يقال له البراق فوق الحمار ودون البغل، يقع خطوه عند أقصى طرفه، فحملت عليه، ثم انطلقنا حتى اتينا السماء الدنيا، فاستفتح جبريل عليه السلام، فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: نعم، قال: ففتح لنا، وقال: مرحبًا به ولنعم المجيء جاء، قال: فاتينا على آدم عليه السلام.

پھر ایک سفید رنگ کا جانور لائے، جسے براق کہتے تھے۔ وہ گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا تھا۔ وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا، جہاں تک اُس کی نگاہ پہنچتی تھی۔ مجھے اُس پر سوار کیا گیا اور پھر ہم روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ پہلے آسمان پر پہنچ گئے۔ جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا: کون ہے؟ کہا: جبریل۔ کہا: تمھارے ساتھ کون ہے؟ کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ پوچھا گیا کہ کیا اُنھیں بلوایا گیا ہے؟ جبریل نے جواب دیا: جی ہاں۔ پھر دروازہ کھلا اور فرشتوں نے کہا: مرحبا، آپ کی تشریف آوری مبارک ہو۔ پھر ہم آدم علیہ السلام کے پاس آئے۔

أنه لقي في السماء الثانية عيسى ويحيى عليها السلام، وفي الثالثة يوسف، وفي الرابعة إدريس، وفي الخامسة هارون، صلوات اللّٰه عليهم.

پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے آسمان پر عیسٰی علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام سے ملے۔ تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام سے، چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے اور پانچویں آسمان پر ہارون علیہ السلام سے آپ کی ملاقات ہوئی۔

قال: ثم انطلقنا حتى انتهينا إلى السماء السادسة، فاتيت على موسى عليه السلام، فسلمت عليه، فقال: مرحبًا بالاخ الصالح والنبي الصالح، فلما جاوزته بكى، فنودي ما يبكيك، قال: رب، هذا غلام بعثته بعدي يدخل من أمته الجنة أكثر مما يدخل من أمتي.

پھر ہم آگے روانہ ہوئے،یہاں تک کہ چھٹے آسمان پر پہنچے۔ وہاں موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ میں نے اُنھیں سلام کیا۔ اُنھوں نے کہا: مرحبا،نیک بھائی نیک نبی۔ پھر جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے، ندا آئی کہ موسیٰ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اُنھوں نے کہا: پروردگار، اِس لڑکے کو تو نے میرے بعد پیغمبر بنایا ہے، مگر جنت میں اِس کی امت کے زیادہ لوگ جائیں گے اور میری امت کے لوگ کم ہوں گے۔

قال: ’’ثم انطلقنا حتى انتهينا إلى السماء السابعة، فأتيت على إبراهيم‘‘، وقال في الحديث: وحدث نبي اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أنه رأى أربعة أنهار يخرج من أصلها نهران ظاهران، ونهران باطنان، فقلت: يا جبريل، ما هذه الانهار؟ قال: أما النهران الباطنان فنهران في الجنة، وأما الظاهران فالنيل والفرات.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہم آگے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچے۔ وہاں میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا۔ پھرمیں نے چار نہریں دیکھیں، جو سدرہ کی جڑ سے نکلتی تھیں۔ دو نہریں کھلی تھیں اور دو نہریں ڈھانپی ہوئی تھیں۔ میں نے کہا: اے جبریل، یہ نہریں کیسی ہیں؟ اُنھوں نے کہا: ڈھانپی ہوئی دو نہریں تو جنت کی ہیں اور کھلی ہوئی نہریں نیل و فرات ہیں۔

ثم رفع لي البيت المعمور، فقلت: يا جبريل، ما هذا؟ قال: هذا البيت المعمور، يدخله كل يوم سبعون الف ملك، إذا خرجوا منه لم يعودوا فيه آخر ما عليهم.

پھر میرے سامنے بیت المعمور کو پیش کیا گیا۔ میں نے پوچھا کہ جبریل، یہ کیا ہے؟ اُنھوں نے بتایا کہ یہ بیت المعمور ہے۔ اِس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں، جو پھر کبھی واپس نہیں آتے۔ پس یہی اُن کا آخر ہے۔

ثم أتيت بإناءين أحدهما خمر والآخر لبن، فعرضا علي فاخترت اللبن، فقيل: أصبت أصاب اللّٰه بك أمتك على الفطرة.

پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے۔ ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ۔ دونوں میرے سامنے کیے گئے تو میں نے دودھ کو پسند کیا۔ ندا آئی: آپ نے ٹھیک انتخاب کیا ہے۔ اللہ آپ کو ٹھیک راستے پر لایا ہے اور آپ کی امت بھی اِسی راستے پر چلے گی۔

ثم فرضت علي كل يوم خمسون صلاةً، ثم ذكر قصتها إلى آخر الحديث.

پھر میرے اوپر ہر روز پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ پھر بیان کیا گیا سارا قصہ آخر تک۔ “

ضمیمہ 7

قتادہ کی حضرت انس بن مالک سے روایت

نسائی، رقم 448

اخبرنا ، قال: حدثنا ، قال: حدثنا ، قال: حدثنا ، عن عن أن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال: ’’بينا أنا عند البيت بين النائم واليقظان، إذ أقبل أحد الثلاثة بين الرجلين، فاتيت بطست من ذهب ملآن حكمةً وإيمانًا فشق من النحر إلى مراق البطن فغسل القلب بماء زمزم ثم ملئ حكمةً وإيمانًا.

’’انس بن مالک رضی اللہ عنہ، مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبہ کے پاس نیم خواب اور نیم بیداری میں (لیٹا ہوا) تھا۔ اِسی اثنا میں میرے پاس تین افراد آئے۔ اِن تینوں میں سے ایک جو دو کے درمیان میں تھا،میری طرف آیا۔ پھر میرے پاس حکمت و ایمان سے بھرا ہوا سونے کا ایک طشت لایا گیا۔ اُس نے میرا سینہ حلقوم سے پیٹ کے نچلے حصہ تک چاک کیا، پھر دل کو آب زم زم سے دھویا اور اُسے حکمت و ایمان سے بھر دیا۔

ثم أتيت بدابة دون البغل وفوق الحمار، ثم انطلقت مع جبريل عليه السلام فاتينا السماء الدنيا، فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد أرسل إليه، مرحبًا به ونعم المجيء جاء، فأتيت على آدم عليه السلام فسلمت عليه، قال: مرحبًا بك من ابن ونبي.

اِس کے بعد میرے پاس خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک جانور لایا گیا اور میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ روانہ ہوا۔ پھر آسمانِ دنیا پر پہنچے۔ پوچھا گیا کہ کون ہے؟ جواب دیا: جبریل ہوں۔ پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ (جبریل نے اثبات میں جواب دیا تو کہا گیا): مرحبا، اُن کی تشریف آوری مبارک ہو۔ پھر میں آدم علیہ السلام کے پاس پہنچا اور اُنھیں سلام کیا، اُنھوں نے کہا: خوش آمدید اے بیٹے اور نبی!

ثم اتينا السماء الثانية، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، فمثل ذلك، فاتيت على يحيى، وعيسى فسلمت عليهما، فقالا: مرحبا بك من أخ ونبي.

پھر ہم دوسرے آسمان پر پہنچے، پوچھا گیا کہ کون ہے؟ جواب دیا: جبریل ہوں، پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ یہاں بھی اُسی طرح ہوا (جیسا کہ پہلے آسمان پر ہوا تھا)۔ یہاں میں عیسیٰ علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور دونوں کو سلام کیا، دونوں نے کہا: خوش آمدید تمھیں اے بھائی اور نبی!

ثم اتينا السماء الثالثة، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، فمثل ذلك، فأتيت على يوسف عليه السلام فسلمت عليه، قال: مرحبًا بك من أخ ونبي.

پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے۔ پوچھا گیا کہ کون ہے؟ جواب دیا: جبریل ہوں، پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ یہاں بھی اُسی طرح ہوا (جیسا کہ پہلے آسمان پر ہوا تھا)۔ یہاں میں یوسف علیہ السلام سے ملا اور اُنھیں سلام کیا۔ اُنھوں نے کہا: خوش آمدید تمھیں اے بھائی اور نبی!

ثم أتينا السماء الرابعة، فمثل ذلك، فأتيت على إدريس عليه السلام فسلمت عليه، فقال: مرحبًا بك من أخ ونبي.

پھر ہم چوتھے آسمان پر آئے، وہاں بھی اِسی طرح ہوا (جیسا پچھلے آسمانوں پر ہوا تھا)۔ یہاں میں ادریس علیہ السلام سے ملا اور اُنھیں سلام کیا۔ انھوں نے کہا: خوش آمدید تمھیں اے بھائی اور نبی!

ثم أتينا السماء الخامسة، فمثل ذلك، فأتيت على هارون عليه السلام فسلمت عليه، قال: مرحبًا بك من أخ ونبي.

پھر ہم پانچویں آسمان پر آئے۔ یہاں بھی ویسا ہی ہوا،(جیسا پچھلے آسمانوں پر ہوا تھا)۔ یہاں میں ہارون علیہ السلام کے پاس آیا اور اُنھیں سلام کیا۔ اُنھوں نے کہا: خوش آمدید تمھیں اے بھائی، اور نبی!

ثم أتينا السماء السادسة، فمثل ذلك، ثم أتيت على موسى عليه السلام فسلمت عليه، فقال: مرحبًا بك من أخ ونبي، فلما جاوزته بكى، قيل: ما يبكيك؟ قال: يا رب، هذا الغلام الذي بعثته بعدي يدخل من أمته الجنة اكثر وأفضل مما يدخل من أمتي.

پھر ہم چھٹے آسمان پر آئے۔ یہاں بھی ویسا ہی ہوا، (جیسا پچھلے آسمانوں پر ہوا تھا)۔ یہاں میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا اور اُنھیں سلام کیا۔انھوں نے کہا: خوش آمدید تمھیں اے بھائی اور نبی! پھر جب میں اُن سے آگے بڑھا تو وہ رونے لگے۔ اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کو کون سی چیز رلا رہی ہے؟ اُنھوں نے کہا: پروردگار، یہ لڑکا جسے تو نے میرے بعد بھیجا ہے، اُس کی امت سے جنت میں داخل ہونے والے لوگ میری امت کے داخل ہونے والے لوگوں سے زیادہ ہوں گے اور افضل ہوں گے۔

ثم أتينا السماء السابعة، فمثل ذلك، فأتيت على إبراهيم عليه السلام، فسلمت عليه، فقال: مرحبًا بك من ابن ونبي.

اِس کے بعد ہم ساتویں آسمان پر آئے، یہاں بھی ویسا ہی ہوا۔ یہاں میں ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا اور اُنھیں سلام کیا۔ اُنھوں نے کہا: خوش آمدید اے بیٹے اور نبی!

ثم رفع لي البيت المعمور، فسألت جبريل، فقال: هذا البيت المعمور يصلي فيه كل يوم سبعون الف ملك فإذا خرجوا منه لم يعودوا فيه آخر ما عليهم، ثم رفعت لي سدرة المنتهى فإذا نبقها مثل قلال هجر وإذا ورقها مثل آذان الفيلة وإذا في أصلها أربعة أنهار نهران باطنان ونهران ظاهران، فسألت جبريل، فقال: أما الباطنان ففي الجنة وأما الظاهران فالفرات والنيل.

اِس کے بعد بیت المعمور کو میرے قریب کر دیا گیا۔ میں نے (اِس کے متعلق) جبریل سے پوچھا تو اُنھوں نے کہا: یہ بیت المعمور ہے۔ اِس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں۔ جب وہ اِس سے نکلتے ہیں تو پھر دوبارہ اِس میں داخل نہیں ہوتے۔ یہی اُن کا آخری داخلہ ہوتا ہے۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ کو میرے سامنے کر دیا گیا۔ اِس کے بیر حجرکے مٹکوں جیسے اور اِس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے تھے۔ اِس کی جڑ سے چار نہریں نکل رہی تھیں۔ دو نہریں ڈھانپی ہوئی تھیں اور دو کھلی ہوئی تھیں۔ میں نے جبریل سے اِن کے بارے میں پوچھا تو اُنھوں نے کہا: ڈھانپی ہوئی نہریں تو جنت میں ہیں اور کھلی نہریں فرات اور نیل ہیں۔

ثم فرضت علي خمسون صلاةً فأتيت على موسى، فقال: ما صنعت؟ قلت: فرضت علي خمسون صلاةً، قال: إني أعلم بالناس منك، إني عالجت بني إسرائيل أشد المعالجة وإن أمتك لن يطيقوا ذلك فارجع إلى ربك فأساله أن يخفف عنك، فرجعت إلى ربي فسألته أن يخفف عني فجعلها أربعين، ثم رجعت إلى موسى عليه السلام، فقال: ما صنعت؟ قلت: جعلها أربعين، فقال لي مثل مقالته الاولى، فرجعت إلى ربي عز وجل فجعلها ثلاثين، فأتيت على موسى عليه السلام فأخبرته، فقال لي مثل مقالته الاولى، فرجعت إلى ربي فجعلها عشرين ثم عشرةً ثم خمسةً، فأتيت على موسى عليه السلام، فقال لي مثل مقالته الاولى، فقلت: إني أستحي من ربي عز وجل أن ارجع إليه، فنودي أن قد أمضيت فريضتي وخففت عن عبادي وأجزي بالحسنة عشر أمثالها‘‘.

پھر میرے اوپر پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئیں۔ واپسی کے سفر میں میں جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچاتو اُنھوں نے پوچھا: آپ نے کیا کیا؟ میں نے کہا: میرے اوپر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ اُنھوں نے کہا: میں لوگوں کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں، میں بنی اسرائیل کو خوب جھیل چکا ہوں، آپ کی امت اِس کی طاقت نہیں رکھتی۔ لہٰذا آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور درخواست کریں کہ اِن میں تخفیف کر دے۔ چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس آیا اور تخفیف کی گزارش کی۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے منظور کرتے ہوئے چالیس نمازیں کر دیں۔ پھر جب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس پہنچا تو اُنھوں نے پوچھا کہ آپ نے کیا معاملہ کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے نمازوں کی تعداد چالیس کر دی ہے۔ اِس پر اُنھوں نے مجھ سے وہی بات کہی، جو پہلی بار کہی تھی۔ میں پھر اپنے رب عز وجل کے پاس واپس حاضر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اُنھیں تیس کر دیا۔پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا، اور اُنھیں اِس کی خبر دی۔ اُنھوں نے پھر وہی بات کہی، جو پہلے کہی تھی۔ چنانچہ میں اپنے رب کے پاس واپس گیا تو اُس نے اُنھیں بیس پھر دس اور پھر پانچ کر دیا۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو اُنھوں نے پھر وہی بات کہی، جو پہلے کہی تھی تو میں نے کہا: (اب مجھے) اپنے رب عزوجل کے پاس (بار بار) جانے سے شرم آ رہی ہے۔ اِس پر ندا آئی: میں نے اپنا فریضہ نافذ کر دیا ہے، اور اپنے بندوں کے لیے تخفیف کر دی ہے اور میں نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں۔‘‘

ضمیمہ 8

ابن شہاب زہری کی حضرت انس بن مالک سے روایت

ابن ماجہ، رقم 1399

حدثنا ، حدثنا ، اخبرني ، عن ، عن ، قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ’’فرض اللّٰه على أمتي خمسين صلاةً، فرجعت بذلك حتى آتي على موسى، فقال موسى: ماذا افترض ربك على أمتك؟، قلت: فرض علي خمسين صلاةً، قال: فارجع إلى ربك فإن أمتك لا تطيق ذلك، فراجعت ربي، فوضع عني شطرها، فرجعت إلى موسى فاخبرته، فقال: ارجع إلى ربك فإن أمتك لا تطيق ذلك، فراجعت ربي، فقال: هي خمس، وهي خمسون، لا يبدل القول لدي، فرجعت إلى موسى، فقال: ارجع إلى ربك، فقلت: قد استحييت من ربي‘‘.

”‏‏‏‏انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے (معراج کی رات) میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں تو میں اُنھیں لے کر لوٹا، یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔ اُنھوں نے پوچھا: آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ اُنھوں نے کہا: اپنے رب کے پاس جائیں، کیونکہ آپ کی امت اِنھیں ادا نہ کر سکے گی۔ میں اپنے رب کے پاس واپس گیا تو اُس نے آدھی معاف کر دیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، اور اُن سے (تخفیف کے بارے میں) بیان کیا۔ اُنھوں نے کہا: اپنے رب کے پاس دوبارہ واپس جائیں، کیونکہ آپ کی امت اِس کو انجام نہ دے سکے گی۔ چنانچہ میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا تو اُس نے فرمایا: یہ (ادا کرنے میں) پانچ وقت کی نمازیں ہیں، جو (اجر میں) پچاس نمازوں کے برابر ہیں۔ میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا، اٹل ہوتا ہے۔ اِس کے بعد میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اُنھوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کے پاس واپس جائیں۔ میں نے جواب دیاکہ اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔‘‘

ضمیمہ 9

قتادہ کی حضرت انس بن مالک سے روایت

ترمذی، رقم 3346

حدثنا ، حدثنا ، ، عن ، عن ، عن أنس بن مالك، عن مالك بن صعصعة رجل من قومه، أن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’بينما أنا عند البيت بين النائم واليقظان إذ سمعت قائلاً يقول: أحد بين الثلاثة، فأتيت بطست من ذهب فيها ماء زمزم فشرح صدري إلى كذا وكذا‘‘، قال قتادة: قلت لانس بن مالك: ما يعني؟ قال: إلى اسفل بطني، ’’فاستخرج قلبي فغسل قلبي بماء زمزم ثم أعيد مكانه ثم حشي إيمانًا وحكمةً‘‘، وفي الحديث قصة طويلة.

’’انس بن مالک رضی الله عنہ اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصعہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بیت اللہ کے پاس (لیٹا ہوا تھا) اور سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں تھا، (یعنی نیم خوابی کے عالم میں تھا)۔ اچانک میں نے ایک کہنے والے کو کہتے ہوئے سنا۔وہ کہہ رہا تھا: وہ جو تین آدمیوں میں سے ایک ہیں۔ پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا۔ اُس میں زم زم کا پانی تھا۔ اُس نے میرے سینے کو یہاں سے یہاں تک چاک کیا۔ ـــــ قتادہ کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے کہا: کہاں تک؟ اُنھوں نے کہا: آپ نے فرمایا: پیٹ کے نیچے تک ـــــ پھر آپ نے فرمایا: اُس نے میرا دل نکال کر اُسے زم زم سے دھویا۔ پھر دل کو اُس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور اُسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا۔ اِس حدیث میں ایک لمبا قصہ بیان ہوا ہے۔‘‘

ضمیمہ 10

ثابت البنانی کی حضرت انس بن مالک سے روایت

مسلم، رقم 429

حدثنا ، حدثنا ، حدثنا ، عن ، أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، قال: ’’أتيت بالبراق وهو دابة أبيض، طويل فوق الحمار، ودون البغل يضع حافره عند منتهى طرفه، قال: فركبته حتى أتيت بيت المقدس، قال: فربطته بالحلقة التي يربط به الانبياء، قال: ثم دخلت المسجد فصليت فيه ركعتين، ثم خرجت، فجاءني جبريل عليه السلام بإناء من خمر، وإناء من لبن، فاخترت اللبن، فقال جبريل: اخترت الفطرة.

’’‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے براق لایا گیا۔ وہ ایک سفید رنگ کا جانور تھا، جو گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا تھا۔وہ اپنے سم وہاں رکھتا تھا، جہاں تک اُس کی نگاہ پہنچتی تھی۔ میں اُس پر سوار ہوا اور بیت المقدس تک آیا۔ وہاں اُسے اُس کھونٹے سے باندھ دیا، جس سے دوسرے پیغمبر اپنے اپنے جانوروں کو باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد کے اندر گیا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ اِس کے بعد باہر نکلا تو جبریل علیہ السلام دو برتن لے کر آئے۔ ایک برتن میں شراب تھی اور ایک میں دودھ تھا۔ میں نے دودھ پسند کیا تو جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ نے فطرت کو پسند کیا ہے۔

ثم عرج بنا إلى السماء، فاستفتح جبريل، فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بآدم فرحب بي، ودعا لي بخير.

پھرجبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ آسمان پر چڑھے (جب وہاں پہنچے) تو فرشتوں سے دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ وہاں ہم نے آدم علیہ السلام کو دیکھا۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور میرے لیے بہتری کی دعا کی۔

ثم عرج بنا إلى السماء الثانية، فاستفتح جبريل عليه السلام، فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بابني الخالة عيسى ابن مريم ويحيى بن زكرياء صلوات اللّٰه عليهما، فرحبا ودعوا لي بخير.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر دوسرے آسمان پر چڑھے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے دونوں خالہ زاد بھائیوں کو دیکھا، یعنی عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور میرے لیے بہتری کی دعا کی۔

ثم عرج بي إلى السماء الثالثة، فاستفتح جبريل، فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بيوسف عليه السلام، إذا هو قد أعطي شطر الحسن، فرحب ودعا لي بخير.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر تیسرے آسمان پر چڑھے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا۔ اللہ نے حسن کا آدھا حصہ اُن کو دے رکھا تھا۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور میری بہتری کے لیے دعا کی۔

ثم عرج بنا إلى السماء الرابعة، فاستفتح جبريل عليه السلام، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قال: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بإدريس، فرحب ودعا لي بخير، قال اللّٰه عز وجل: ’’وَّ رَفَعۡنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا‘‘.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے كر چوتھے آسمان پر چڑھے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور مجھےاچھی دعا دی۔ ــــ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ہم نے اٹھا لیا ادریس کو اونچی جگہ پر‘‘۔ـــــ

ثم عرج بنا إلى السماء الخامسة، فاستفتح جبريل، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بهارون عليه السلام، فرحب ودعا لي بخير.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر پانچویں آسمان پر چڑھے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے ہارون علیہ السلام کو دیکھا۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور مجھے نیک دعا دی۔

ثم عرج بنا إلى السماء السادسة، فاستفتح جبريل عليه السلام، قيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بموسى عليه السلام، فرحب ودعا لي بخير.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر چھٹے آسمان پر پہنچے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا۔ اُنھوں نے مرحبا کہا اور مجھےاچھی دعا دی۔

ثم عرج إلى السماء السابعة، فاستفتح جبريل، فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه ففتح لنا، فإذا أنا بإبراهيم عليه السلام مسندًا ظهره إلى البيت المعمور، وإذا هو يدخله كل يوم سبعون الف ملك، لا يعودون إليه.

پھر جبریل علیہ السلام مجھے لے کر ساتویں آسمان پر چڑھے تو فرشتوں سے دروازہ کھولنےکے لیے کہا۔ اُنھوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے کہا: تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا: کیا بلائے گئے ہیں؟ جبریل نے کہا: جی ہاں، اِنھیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ دروازہ کھلا تو میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا۔ وہ بیت المعمور سے تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ اور اِس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں، جو پھر کبھی نہیں آتے۔

ثم ذهب بي إلى السدرة المنتهى، وإذا ورقها كآذان الفيلة، وإذا ثمرها كالقلال، قال: فلما غشيها من أمر اللّٰه ما غشي تغيرت، فما أحد من خلق اللّٰه يستطيع أن ينعتها من حسنها، فاوحى اللّٰه إلي ما أوحى، ففرض علي خمسين صلاةً في كل يوم وليلة.

پھر جبریل علیہ السلام مجھ کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لے گئے۔ اُس کے پتے اتنے بڑے تھے، جیسے ہاتھی کے کان اور اُس کے بیر بڑے بڑے گھڑوں جیسے تھے۔ پھر جب اِس درخت کو اللہ کے حکم سے ڈھانکا گیاتو اُس کی خوب صورتی ناقابل بیان ہو گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں جو کچھ ڈالنا چاہا، ڈال دیا اور دن رات میں مجھ پر پچاس نمازیں فرض کیں۔

فنزلت إلى موسى عليه السلام، فقال: ما فرض ربك على أمتك؟ قلت: خمسين صلاةً، قال: ارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، فإن أمتك لا يطيقون ذلك، فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم، قال: فرجعت إلى ربي، فقلت: يا رب، خفف على أمتي، فحط عني خمسًا، فرجعت إلى موسى، فقلت: حط عني خمسًا، قال: إن أمتك لا يطيقون ذلك، فارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، قال: فلم أزل أرجع بين ربي تبارك وتعالٰى، وبين موسى عليه السلام، حتى قال: يا محمد، إنهن خمس صلوات كل يوم وليلة، لكل صلاة عشر، فذلك خمسون صلاةً ومن هم بحسنة، فلم يعملها، كتبت له حسنةً، فإن عملها، كتبت له عشرًا، ومن هم بسيئة فلم يعملها، لم تكتب شيئًا، فإن عملها، كتبت سيئةً واحدةً‘‘.

جب میں واپس اترا اور موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو اُنھوں نے پوچھا: پروردگار نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ اُنھوں نے کہا: پھر اپنے پروردگار کے پاس واپس لوٹ جائیے اور اِن میں تخفیف کی درخواست کیجیے۔ کیونکہ آپ کی امت میں اِتنی طاقت نہیں ہے اور میں بنی اسرائیل کو اِس معاملے میں آزما چکا ہوں۔ چنانچہ میں اپنے پروردگار کے پاس واپس گیا اور عرض کیا: اے پروردگار، تخفیف کر میری امت پر۔ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کر دیں۔ میں واپس موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کر دی ہیں۔ اُنھوں نے کہا: آپ کی امت کو اِتنی طاقت نہ ہو گی، آپ اپنے رب کے پاس پھر جائیں اور تخفیف کی درخواست کریں۔ میں اِسی طرح لگاتار اپنے پروردگار اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد، ہر دن اور رات میں یہ پانچ نمازیں ہیں اور ہر ایک نماز میں دس نمازوں کا اجر شامل ہے، یعنی وہی پچاس نمازیں ہوئیں۔ اور اگر کوئی شخص اچھے کام کی نیت کرے، مگر اُسے کر نہ سکے تو اُسے ایک نیکی کا ثواب ملے گا اور جو اُس کو کر پائے گا، اُسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔اگر کوئی شخص برائی کی نیت کرے گا اور برائی نہ کر سکے گاتو اِس پر کچھ نہ لکھا جائے گا اور اگر برائی کر بیٹھے تو ایک ہی برائی لکھی جائے گی۔

قال: ’’فنزلت حتى انتهيت إلى موسى عليه السلام، فأخبرته، فقال: ارجع إلى ربك فاسأله التخفيف، فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: فقلت: قد رجعت إلى ربي حتى استحييت منه‘‘.

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر میں واپس اترا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور انھیں اس کی خبر دی تو اُنھوں نے کہا: پھر جائیں اپنے پروردگار کے پاس اور مزید تخفیف کی درخواست کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے پروردگار کے پاس بار بار جا کر اب شرم محسوس کرتا ہوں۔“

ضمیمہ 11

صحاح کی پانچ بنیادی روایتوں کا تقابلی جدول

روایت
بخاری،
رقم 7517
بخاری،
رقم349
بخاری،
رقم3887
مسلم،
رقم 429
نسائی،
رقم 448
کتاب
کتاب التوحید
کتاب الصلوٰۃ
مناقب الانصار
کتاب الایمان
کتاب الصلوٰۃ
روایت کا درجہ
صحیح
صحیح
صحیح
صحیح
صحیح
صحابی راوی
حضرت انس بن مالکؓ
حضرت انس بن مالکؓ۔ حضرت ابوذر غفاریؓ
حضرت انس بن مالکؓ۔ حضرت مالک بن صعصعہؓ
حضرت انس بن مالکؓ
حضرت انس بن مالکؓ۔ حضرت مالک بن صعصعہؓ
تابعی راوی
شریک بن عبداللہ
ابن شہاب
قتادہ
ثابت البنانی
قتادہ
روایت
بخاری،
رقم7517
بخاری،
رقم349
بخاری،
رقم3887
مسلم،
رقم 429
نسائی،
رقم 448
معراج سے پہلے تین فرشتوں کی آمد
ایک رات تین فرشتے آئے،آپؐ کو پہچانا اور پھر واپس چلے گئے
–
–
–
–
معراج کا وقت
رات
–
–
–
–
رسول اللہ کی موجودگی
مسجد الحرام
آپؐ کا گھر(مکہ)
حطیم مسجد الحرام
–
کعبہ کے قریب
گھر کی چھت کا کھلنا
آپؐ کے گھر کی چھت کھولی گئی
رسول اللہ ؐ کی کیفیت
آپؐ سو رہے تھے مگر دل جاگ رہا تھا
–
آپؐ سوئے ہوئے تھے
–
آپؐ سونے اور جاگنے کی ملی جلی کیفیت میں تھے
روایت
بخاری،رقم
7517
بخاری،رقم
349
بخاری،رقم
3887
مسلم،رقم 429
نسائی، رقم 448
فرشتے کی آمد
جبریلؑ آئے
جبریلؑ آئے
ایک فرشتہ آیا
شق صدر
*فرشتے آپؐ کو اٹھا کر زم زم کنویں پر لے گئے
*جبریلؑ نے سینہ کھولا۔پانی سے اندرون دھویا
*سینے کو ایمان و حکمت سے بھر کر بند کر دیا
*جبریلؑ نے سینہ کھولا
* زم زم سے دھویا
* ایمان سے بھرا طشت اندررکھ کر اسے بند کر دیا
*جبریلؑ نے سینہ کھولا
*دل نکال کر طشت میں رکھا
*پھردھو کر واپس رکھ دیا
* سینہ کھولا گیا
*دل زم زم سے دھویا
*پھراسے ایمان و حکمت سے بھر دیا
براق پر سواری
–
–
آپؐ براق پر سوار ہوئے
آپؐ براق پر سوار ہوئے
آپؐ براق پر سوار ہوئے
روایت
بخاری،
رقم7517
بخاری،
رقم349
بخاری،
رقم3887
مسلم،
رقم 429
نسائی،
رقم 448
بیت المقدس کا مشاہدہ
–
–
–
آپؐ بیت المقدس پہنچے
*آپؐ نے براق کو مسجد کے باہر حلقے سے باندھا
*دو رکعت نماز پڑھی
*آپؐ کو دودھ اور شراب پیش کی گئی، آپؐ نے دودھ کا انتخاب کیا
روایت
بخاری،
رقم7517
بخاری،
رقم349
بخاری،
رقم3887
مسلم،
رقم 429
نسائی،
رقم 448
آسمان کی طرف معراج (چڑھنا)
*جبریلؑ آپؐ کو لے کر آسمان دنیا کی طرف چڑھے
*جبریلؑ آپؐ کا ہاتھ پکڑ کرآسمان کی طرف چڑھے
*آپؐ اور جبریلؑ آسمان کی طرف چڑھے
*آپؐ اور جبریلؑ آسمان کی طرف چڑھے
*آپؐ اور جبریلؑ آسمان کی طرف چڑھے
پہلے آسمان کا مشاہدہ
*پہلے آسمان پر آپؐ کو آدم ؑسے ملایا گیا
*یہاں آپؐ نے نیل و فرات کو نہروں کی شکل میں دیکھا
* آپؐ نے نہرکوثر بھی دیکھی
*پہلے آسمان پر آپؐ کو آدم ؑسے ملایا گیا
*آدمؑ کے دائیں بائیں ان کی اولاد کی نیک اور بری روحوں کے جھنڈ تھے
*پہلے آسمان پر آپؐ کو آدم ؑ سے ملایا گیا
*پہلے آسمان پر آپؐ کو آدم ؑسے ملایا گیا
*پہلے آسمان پر آپؐ کو آدم ؑ سے ملایا گیا
روایت
بخاری،
رقم7517
بخاری،
رقم349
بخاری،
رقم3887
مسلم،
رقم 429
نسائی،
رقم 448
دوسرے آسمان کا مشاہدہ
دوسرے آسمان پر آپؐ نے حضرت ادریسؑ کو دیکھا
حضرت ادریسؑ، حضرت عیسیٰ ؑاور حضرت موسیٰؑ سے مختلف آسمانوں پر ملاقاتیں
دوسرے آسمان پر آپؐ کو عیسیٰؑ اور یحیی ٰؑ سے ملایا گیا
دوسرے آسمان پر آپؐ کو عیسیٰؑ اور یحیی ٰؑ سے ملایا گیا
دوسرے آسمان پر آپؐ کو عیسیٰؑ اور یحیی ٰؑ سے ملایا گیا
تیسرے آسمان کا مشاہدہ
–
تیسرے آسمان پر آپؐ کو یوسف ؑ سے ملایا گیا
تیسرے آسمان پر آپؐ کو یوسف ؑ سے ملایا گیا
تیسرے آسمان پر آپؐ کو یوسف ؑ سے ملایا گیا
چوتھے آسمان کا مشاہدہ
چوتھے آسمان پر آپؐ نے ہارونؑ کو دیکھا
چوتھے آسمان پر آپؐ کو ادریسؑ سے ملایا گیا
چوتھے آسمان پر آپؐ کو ادریسؑ سے ملایا گیا
چوتھے آسمان پر آپؐ کو ادریسؑ سے ملایا گیا
روایت
بخاری،رقم
7517
بخاری،رقم
349
بخاری،رقم
3887
مسلم،رقم 429
نسائی، رقم 448
پانچویں آسمان کا مشاہدہ
پانچویں آسمان پر آپؐ نے کسی اور نبی کو دیکھا
پانچویں آسمان پر آپؐ کو ہارونؑ سے ملایا گیا
پانچویں آسمان پر آپؐ کو ہارونؑ سے ملایا گیا
پانچویں آسمان پر آپؐ کو ہارونؑ سے ملایا گیا
چھٹے آسمان کا مشاہدہ
چھٹے آسمان پرآپؐ نے ابراہیمؑ کو دیکھا
چھٹے آسمان پر آپؐ ابراہیمؑ سے ملے
چھٹے آسمان پر آپؐ موسیٰ ؑسے ملے
چھٹے آسمان پر آپؐ موسیٰ ؑسے ملے
چھٹے آسمان پر آپؐ موسیٰ ؑسے ملے
ساتویں آسمان کا مشاہدہ
ساتویں آسمان پرآپؐ نے حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھا
–
ساتویں آسمان پر آپؐ کو ابراہیمؑ سے ملایا گیا
ساتویں آسمان پر آپ ؐ ابراہیمؑ سے ملے۔ وہ بیت المعمور سے ٹیک لگائے ہوئے تھے
ساتویں آسمان پر آپؐ ابراہیمؑ سے ملے۔ پھر
آپؐ بیت المعمور کے قریب ہوئے
روایت
بخاری،
رقم7517
بخاری،
رقم349
بخاری،
رقم3887
مسلم،
رقم 429
نسائی،
رقم 448
سدرۃ المنتہیٰ کا مشاہدہ
آپؐ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے
*آپؐ کے سامنے سدرۃ المنتہیٰ لائی گئی
*آپؐ نے نیل و فرات کو نہروں کی شکل میں دیکھا
*بیت المعمور کو آپؐ کے سامنے لایا گیا
*آپؐ کو دودھ اور شراب پیش کی گئی۔آپؐ نے دودھ کا انتخاب کیا
آپؐ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے
*آپؐ کے سامنے سدرۃ المنتہیٰ لائی گئی
* وہاں آپؐ نے نیل و فرات کو نہروں کی شکل میں دیکھا
روایت
بخاری،
رقم7517
بخاری،
رقم349
بخاری،
رقم3887
مسلم،
رقم 429
نسائی،
رقم 448
مزید بلندی پر فرشتوں کے قلم کی آواز
–
آپؐ بلندی پر گئے تو فرشتوں کے قلم کی آواز سنی
–
–
–
تقرب الٰہی
آپؐ ذات باری کے اتنے قریب ہوئے،جیسے کمان کے دو کنارے
–
–
–
–
اللہ کا آپؐ پر وحی کرنا
اللہ نے آپؐ پر وحی کی
–
–
اللہ نے آپؐ پر وحی کی
–
پچاس نمازوں کی فرضیت
اللہ نے آپؐ پر پچاس نمازیں فرض کیں
آپؐ پر پچاس نمازیں فرض ہوئیں
اللہ نے آپؐ پر پچاس نمازیں فرض کیں
اللہ نے آپؐ پر پچاس نمازیں فرض کیں
اللہ نے آپؐ پر پچاس نمازیں فرض کیں
روایت
بخاری،
رقم7517
بخاری،
رقم349
بخاری،
رقم3887
مسلم،
رقم 429
نسائی،
رقم 448
واپسی پر حضرت موسیٰؑ کا نمازوں میں کمی کا مشورہ
واپسی پر موسیٰؑ نے نمازوں میں کمی کرانے کا مشورہ دیا
واپسی پر موسیٰؑ نے نمازوں میں کمی کرانے کا مشورہ دیا
واپسی پر موسیٰؑ نے نمازوں میں کمی کرانے کا مشورہ دیا
موسیٰؑ نے نمازوں میں کمی کرانے کا مشورہ دیا
موسیٰؑ نے نمازوں میں کمی کرانے کا مشورہ دیا
اللہ کے حضور نمازیں کم کرنے کی درخواست
آپؐ اللہ کے پاس واپس گئے اور نمازیں کم کرنے کی درخواست کی
آپؐ اللہ کے پاس واپس گئے اور نمازیں کم کرنے کی درخواست کی
آپؐ اللہ کے پاس واپس گئے اور نمازیں کم کرنے کی درخواست کی
آپؐ اللہ کے پاس واپس گئے اور نمازیں کم کرنے کی درخواست کی
آپؐ اللہ کے پاس واپس گئے اور نمازیں کم کرنے کی درخواست کی
نمازوں میں تخفیف
10 نمازیں کم کی گئیں
کچھ نمازیں کم کی گئیں
10 نمازیں کم کی گئیں
5نمازیں کم کی گئیں
10 نمازیں کم کی گئیں
موسیٰؑ کا مزید تخفیف کا مشورہ
حضرت موسیٰؑ نے آپؐ کو دوبارہ وہی مشورہ دیا
حضرت موسیٰ ؑنے آپؐ کو دوبارہ وہی مشورہ دیا
حضرت موسیٰؑ نے آپؐ کو دوبارہ وہی مشورہ دیا
حضرت موسیٰ ؑ نے آپؐ کو دوبارہ وہی مشورہ دیا
حضرت موسیٰؑ نے آپؐ کو دوبارہ وہی مشورہ دیا
روایت
بخاری،رقم
7517
بخاری،رقم
349
بخاری،رقم
3887
مسلم،رقم 429
نسائی، رقم 448
آپؐ کی طرف سے مشورے کی قبولیت
آپؐ مشورہ قبول کر کے پھر اللہ کے پاس پہنچے
آپؐ مشورہ قبول کر کے پھر اللہ کے پاس پہنچے
آپؐ مشورہ قبول کر کے پھر اللہ کے پاس پہنچے
آپؐ مشورہ قبول کر کے پھر اللہ کے پاس پہنچے
آپؐ مشورہ قبول کر کے پھر اللہ کے پاس پہنچے
موسیٰؑ کا باربار مشورہ اور آپؐ کا بار بار لوٹنا
موسیٰؑ کے مشورے پر آپؐ بار بار لوٹتے رہے
موسیٰؑ کے مشورے پر آپؐ بار بار لوٹتے رہے
موسیٰؑ کے مشورے پر آپؐ بار بار لوٹتے رہے
موسیٰؑ کے مشورے پر آپؐ بار بار لوٹتے رہے
موسیٰؑ کے مشورے پر آپؐ بار بار لوٹتے رہے
بالآخر پانچ نمازوں کی فرضیت
بالآخراللہ نے دس گنا اجر کے ساتھ پانچ نمازیں فرض کیں
بالآخراللہ نے دس گنا اجر کے ساتھ پانچ نمازیں فرض کیں
بالآخراللہ نے پانچ نمازیں فرض کیں
بالآخراللہ نے دس گنا اجر کے ساتھ پانچ نمازیں فرض کیں
بالآخراللہ نے پانچ نمازیں فرض کیں۔ ایک نیکی کے بدلے دس نیکیوں کا ثواب
نمازوں کی فرضیت کے بعد سدرۃ المنتہیٰ کا مشاہدہ
پھر جبریلؑ آپؐ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے گئے
جنت کا مشاہدہ
پھر آپؐ نے جنت کا مشاہدہ کیا
آپؐ کا نیند سے بیدار ہونا
آپؐ نیند سے بیدار ہوئے تو مسجد الحرام میں تھے
  1. کتاب صحیح و ضعیف سنن النسائی، المکتبۃ الشاملہ۔ ’منکر‘ وہ حدیث ہے، جس کی سند میں موجود راوی ضعیف ہو اور یہ روایت ثقہ راوی کی روایت کے مخالف ہو۔ محدثین کے مطابق منکر حدیث نہایت درجہ ضعیف ہوتی ہے۔
  2. واضح رہے کہ روایت بالمعنیٰ کے اِس طریقے میں سلسلۂ سند کا ہر راوی یہی طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں بخاری و مسلم اور دیگر محدثین تک پہنچتے پہنچتےا یک روایت کے مختلف طرق میں اختلاف اور فرق واقع ہو جاتا ہے۔
  3. ہماری مراد اُس واقعے سے ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو واقعۂ اسراسے آگاہ کیا تو اُنھوں نے آپ کی بات کو مذاق کا نشانہ بنایا، پھر آپ نے اُن کے اجتماع میں سفر کی تمام تفصیلات بیان فرمائیں۔ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی آسانی کے لیے مسجدِ اقصیٰ کو ممثل کر کے آپ کے سامنے رکھ دیا اور آپ اُس کی عمارت کی تفصیل اُنھیں بیان فرماتے رہے۔