مواد پر جائیں

باب 3: باب اول

باب اول

اسرا و معراج

جناب جاوید احمد غامدی کا موقف

ہمارے روایتی نقطۂ نظر میں اسراو معراج کو بالعموم ایک موقعے کا واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں مذکور مختلف تفصیلات کو اُس کے اجزا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اِس کے نتیجے میں عام تصور یہی ہے کہ یہ ایک ہی موقعے کا سفر ہے، جو رات کے وقت عالم بیداری میں ہوا اور مسجدِ حرام سے شروع ہو کر مسجد ِاقصیٰ تک اور وہاں سے ملاے اعلیٰ تک پہنچ کر مکمل ہوا۔

استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے نزدیک یہ راے قرآن و حدیث کے نصوص کے خلاف ہے۔ اُن کا موقف یہ ہے کہ یہ ایک واقعہ نہیں، بلکہ چار مختلف واقعات ہیں، جو الگ موقعوں پر، الگ صورتوں میں اور الگ حالتوں میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ قرآن و حدیث کے متعلقہ مقامات اِن کی تفریق اور انفرادیت کو پوری طرح واضح کر دیتے ہیں۔ اِسی طرح یہ بھی درست نہیں ہے کہ یہ تمام واقعات عالم بیداری میں پیش آئے۔ اصل یہ ہے کہ اِن میں سے دو عالم رؤیا میں اور دو عالم بیداری میں رونما ہوئے ہیں۔

اِن میں سے ایک، ’’واقعۂ اسرا‘‘ ہے، جو قرآنِ مجید کی سورۂ بنی اسرائیل(17) میں بیان ہواہے۔یہ عالم رؤیا میں پیش آیا ہے۔

دوسرا، ’’ واقعۂ قاب قوسین ‘‘ہے، جو سورۂ نجم (53) کی آیات 1تا12 میں مذکور ہے۔ یہ عالم بیداری میں پیش آیا ہے۔

تیسرا، ’’واقعۂ سدرہ‘‘ ہے، جو سورۂ نجم (53) ہی کی آیات 13تا 18میں درج ہے۔ یہ بھی عالم بیداری میں پیش آیا ہے۔

چوتھا،3 ’’واقعۂ معراج‘‘ ہے، جو صحیح بخاری کی روایت، رقم 7517 اور بعض دیگر روایتوں میں نقل ہوا ہے۔ یہ عالم رؤیا میں پیش آیا ہے۔

یہ چاروں واقعات من جانب اللہ ہیں۔اِن کی نوعیت آیات ِ الٰہی کی اور اِن کی حقیقت وحی و الہام کی ہے۔ اِن میں مذکوراخبار و اطلاعات اور واقعات و مشاہدات کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ نبوت و رسالت سے ہے۔ لہٰذا اِنھیں اُسی کے تناظر میں سمجھنا چاہیے اور اُسی کے لحاظ سے اِن کی شرح و تفسیر کرنی چاہیے۔اِس معاملے میں فقط نصوص کی تفہیم تک محدود رہنا ضروری ہے۔ چنانچہ اِن کے بارے میں نہ کوئی خیال آرائی کرنی چاہیے، نہ اِنھیں داستاں سرائی کا موضوع بننا چاہیے اور نہ خام اور ناقص انسانی علوم و فنون اور تجربات و مشاہدات کو بنیاد بنا کر اِن کے انکار کی راہ ڈھونڈنی چاہیے۔

1- واقعۂ اسرا

ـــــ مسجدِ اقصیٰ کا سفر ـــــ

1۔ سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰي بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَي الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا. اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ. ( بنی سرائیل 17: 1)

’’ہر عیب سے پاک ہےوہ ذات جو اپنے بندے کو ایک راتوں رات مسجدِ حرام سے اُس دور کی مسجدتک لے گئی، جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہےتاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک، وہی سمیع و بصیرہے۔‘‘

2۔ وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا. وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ. وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا. (بنی سرائیل 17: 59 -60)

’’ہم کو عذاب کی نشانیاں بھیجنے سے اِسی بات نے روک رکھا ہے کہ اگلوں نے اُنھیں جھٹلا دیا تھا۔ ثمود کو ہم نے اونٹنی (اِسی طرح کی) ایک آنکھیں کھول دینے والی نشانی کے طور پر دی تھی، لیکن اُنھوں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اُس کی تکذیب کردی۔ (پھر نشانیاں بھیجنے سے کیا حاصل)؟ ہم نشانیاں اِسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ (عذاب سے پہلے لوگوں کواُن کے انجام سے) ڈرادیں۔ تم یاد کرو، جب ہم نے (اِسی تنبیہ و تخویف کے لیے) تم سے کہا تھا کہ تمھارے پروردگار نے اِن لوگوں کو گھیرے میں لے لیا ہے (اور یہ اُس کا مذاق اڑا رہے تھے)۔ اور ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا، اُس کو بھی ہم نے (اِن کے اِسی رویے کی وجہ سے) اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا اور اُس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔ ہم تو اِن کے انجام سے اِنھیں ڈرا رہے ہیں، لیکن یہ چیز اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے۔‘‘

پس منظر

سورۂ بنی اسرائیل (17) کی آیت 1 میں ’مسجدِ حرام‘سے مکہ کا بیت اللہ اور ’مسجدِ اقصیٰ‘ سے یروشلم کا بیت المقدس مراد ہے۔ یہ دونوں مسجدیں اللہ کے حکم سے تعمیر کی گئیں اور اِنھیں دنیا بھر کے لیے توحید کی دعوت کا مرکز بنایا گیا۔ چنانچہ یہ اپنے مقامات، یعنی مکہ اور فلسطین سمیت، ہمیشہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کی تحویل میں رہیں۔ بیت اللہ کی تولیت اور ام القریٰ مکہ کی امانت اولادِ اسمٰعیل کے سپرد ہوئی اور بیت المقدس کا انتظام و انصرام اورسرزمین فلسطین کا اقتداربنی اسرائیل کو سونپا گیا۔ بنی اسمٰعیل میں جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور بنی اسرائیل کو دین کی دعوت اور شہادت کے منصب سے معزول کر دیا گیا 4 تو اللہ تعالیٰ نے ام القریٰ مکہ کے ساتھ فلسطین کی سرزمین کو بھی آپ اور آپ کی قوم بنی اسمٰعیل کے حوالےکرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ پس منظر ہے، جس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ اقصیٰ لے جایا گیا۔

تفصیل

قرآن مجید میں یہ واقعہ اجمال کے ساتھ نقل ہوا ہے۔ نوعیت اور مقصد کے علاوہ دیگر تفصیلات کا ذکر نہیں ہے۔ جو باتیں مذکور ہیں، وہ درجِ ذیل ہیں:

پہلی بات یہ ہے کہ ایک رات اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ، یعنی سیکڑوں میل کے فاصلے پر قائم دور دراز5 کی مسجد میں لے گئے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اِس لے جانے سے اللہ کا مقصد آپ کو اپنی کچھ غیر معمولی نشانیوں کا مشاہدہ کرانا تھا۔ اِس مفہوم کے لیے آیت میں ’لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا‘(تاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں) کے الفاظ آئے ہیں۔آیت میں اِن نشانیوں کی کوئی تفصیل نہیں کی گئی، 6 تاہم،سیاق و سباق کے قرائن اور قرآنِ مجید کے دیگر نظائر کی بنا پر قرینِ قیاس یہی ہے کہ اِن سے مراد وہ آثار و شواہد اور انوار و برکات ہیں، جن سے اللہ کے یہ دونوں گھر معمور تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اِنھیں دکھانے کا مقصد، ممکنہ طور پر، یہی بشارت تھی کہ اب توحید کے اِن مراکز کی امانت آپ کو ملنے والی ہے۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’مقصود اِن (نشانیوں)کے دکھانے سے، ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتا ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی یہ مرضی واضح ہو جائے کہ اب یہ ساری امانت ناقدروں اور بدعہدوں سے چھین کر آپ کے حوالے کی جانے والی ہے۔‘‘(تدبر قرآن4/475)

تیسری بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے اور آیاتِ الٰہی کا مشاہدہ کرانے کا یہ واقعہ رؤیا میں پیش آیا۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 60 کے الفاظ ’الرُّءْيَا الَّتِيْ اَرَيْنٰكَ‘ (ہم نے جورؤیا تمھیں دکھایا) سے یہی بات متعین ہوتی ہے۔

اِن مذکور باتوں کا خلاصہ چند نکات میں یہ ہے:

1۔یہ واقعہ رات کےاوقات میں رونما ہوا۔

2۔ اِس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں موجود تھے۔

3۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مسجدِ حرام سے ایک دور کی مسجد، یعنی بیت المقدس میں لے گئے۔

4۔ اِس لے جانے کا مقصد آپ کو اللہ کی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرانا تھا۔

5۔ مشاہدے کے بعد آپ کو مسجدِ حرام میں واپس لایا گیا۔7

6۔کم و بیش 80 دنوں کی دو طرفہ مسافت کا یہ سفر اور اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ ایک ہی رات میں مکمل ہوا۔

7۔ یہ واقعہ عالم رؤیا میں پیش آیا۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں سو رہے تھے اور اِسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے یہ سفر کرایا۔8

8۔رؤیا کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے تمام سفر اور تمام مشاہدات جسمانی طور پر نہیں، بلکہ نفسی اورروحانی طور پر کیے۔

جو باتیں واقعے میں مذکور نہیں ہیں، وہ یہ ہیں۔

1۔یہ ذکر نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود لے کر گئے یا کسی فرشتے کو اِس کام کے لیے مقرر فرمایا۔

2۔ یہ ذکر نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سفر کسی سواری پر کیایا آپ کے نفسی وجود نے اللہ کے حکم کی براہِ راست تعمیل کی۔

3۔یہ ذکر نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون کون سی نشانیاں دکھائی گئیں۔

4۔ یہ ذکر نہیں ہے کہ بیت المقدس کے اندر کیا واقعات پیش آئے۔

تفہیم

آیات کی توضیح و تفہیم کے اہم نکات درجِ ذیل ہیں:

اولاً، آیت1 کا آغاز ’سُبْحٰنَ الَّذِيْ‘کے الفاظ سے ہوتا ہے اور اختتام ’اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ‘ کے جملے پر ہوتا ہے۔ اِن کے معنی ہیں: ’’ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات‘‘ اور ’’اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے‘‘۔ ’السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ‘ کی صفات اصل میں ’سُبْحٰنَ ‘ کے لفظ کی توضیح ہیں۔اِن سے واقعۂ اسرا کی غایت پوری طرح نمایاں ہو جاتی ہے۔ ’’البیان‘‘ میں لکھا ہے:

’’آیت کے شروع میں لفظ ’سُبْحٰن‘ جس پہلو سے آیا ہے، (سمیع و بصیر کی)یہ صفات اُس کی وضاحت کر رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ہی سمیع و بصیر ہے تو یہ اُسی کا کام تھا کہ اُن بد عہدوں کا محاسبہ کرے، جنھوں نے، سیدنا مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں، اُس کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے۔ بنی اسرائیل اِس گھر میں جو کچھ کہتے اور کرتے رہے ہیں، اُس کو سننے اور دیکھنے کے بعد یہی ہونا تھا۔ چنانچہ خدا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اِس گھر کی امانت اب نبی امی کے حوالے کر دی جائے گی۔ آپ کو رات ہی رات میں مسجدِ حرام سے یہاں تک اِسی مقصد سے لایا گیا ہے۔ خدا ہر عیب سے پاک ہے، لہٰذا وہ کسی طرح گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ ایک قوم کو لوگوں پر اتمام حجت کے لیے منتخب کرے اور اُس کی طرف سے اِس درجے کی سرکشی کے باوجود اُسے یوں ہی چھوڑے رکھے۔ ناگزیر تھا کہ پیشِ نظر مقصد کے لیے وہ کوئی دوسرا اہتمام کرے۔ اُس نے یہی کیا ہے اور عالمی سطح پر دعوت و شہادت کی ذمہ داری بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی ہے۔‘‘ (3 / 63)

ثانیاً، اِسی آیت کے الفاظ ’الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ‘ (جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے) سے واضح ہے کہ یہاں محض مسجدِ اقصیٰ کی تولیت مراد نہیں ہے، بلکہ اِس کے ساتھ اُس علاقے کا اقتدار بھی مراد ہے، جس میں یہ مسجد قائم ہے۔ اِسی طرح ’لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا‘(تاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں) میں آیات کا اشارہ جن نشانیوں کی طرف ہے، اُن میں سرزمین فلسطین پر غلبہ بھی شامل ہے۔ استاذ ِگرامی نے لکھا ہے:

’’… ابراہیم علیہ السلام کی بابل سے ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو مقامات کا انتخاب کیا، جہاں خود اُس کے حکم سے دو مسجدیں تعمیر کی گئیں اور اُنھیں پورے عالم کے لیے توحید کی دعوت کا مرکز بنا دیا گیا۔ ایک سرزمین عرب اور دوسرے فلسطین۔ اِن میں سے پہلا مقام وادیِ غیر ذی زرع اور دوسرا انتہائی زرخیز ہے۔ قدیم صحیفوں میں اِسی بنا پر اُسے دودھ اور شہد کی سرزمین کہا گیا ہے۔’الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ‘کے الفاظ سے قرآن نے اِسی طرف اشارہ کیا ہے اور اِس طرح بالکل متعین کر دیا ہے کہ دور کی جس مسجد کا ذکر ہو رہا ہے، وہ یروشلم کی مسجد ہے۔ …

( ’لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا‘میں نشانیوں سےمراد ہے کہ) اِس بات کی نشانیاں کہ حرم مکہ کے ساتھ اب فلسطین کی سرزمین اور اُس کی امانت بھی بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی جائے گی۔‘‘

(البیان 3 / 62)

ثالثًا،آیت 59 میں اللہ نے واضح کیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ وہ کفارِ قریش کی تنبیہ و تخویف کے لیے مزید نشانیاں نازل نہیں فرما رہے۔ اِس کا سبب یہ بتایا ہے کہ جب بھی اُنھوں نے اِ س نوعیت کی نشانیاں نازل فرمائی ہیں تو لوگوں نے اِن سے تنبیہ و تخویف حاصل کرنے کے بجاے اِن کی تکذیب کی ہے اور اِن کا مذاق اڑایا ہے۔ اِس ضمن میں بہ طور ِمثال، سابقہ اقوام میں سے قوم ثمود کی طرف بھیجی گئی نشانی کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ اللہ نے اونٹنی کو اپنی نشانی مقرر فرمایا تو لوگوں نے اُس کو جھٹلا دیا۔

رابعا ً، آیت 60 بھی اِسی سیاق میں ہے۔ اِس میں قریش کے سامنے بیان کی گئی تین نشانیوں کی مثال دی ہے۔ اِن میں سے ایک مکہ کو گھیرے میں لینے کی ہے،9 دوسری واقعۂ اسرا کی اور تیسری شجرۂ ملعونہ10 کی ہے۔ اِن کا حوالہ دے کر بتایا ہے کہ قریش کا رویہ بھی اِس معاملے میں سابق اقوام سے مختلف نہ تھا۔ اُنھوں نے بھی آیاتِ الٰہی کی تکذیب اور تضحیک کا بدترین رویہ اختیار کیا۔ چنانچہ یہ نشانیاں نہ اِن کے لیے تنبیہ و تخویف کا باعث بن رہی ہیں اور نہ ایمان و اسلام کا، بلکہ اِن سے اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مذکورہ تین مثالوں میں سےدوسری مثال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجدِ اقصیٰ کے سفر کی ہے۔ اِس سفر میں یہ اشارہ مضمر تھا کہ اب مکہ اور اُس کی مسجدِ حرام اور فلسطین اور اُس کی مسجدِ اقصیٰ، دونوں کی امانت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منتقل ہونے والی ہے۔ اِس کا کفارِ قریش نے مذاق اڑایا اور تنبیہ و تخویف کی ایک عظیم نشانی کو اپنے لیے فتنہ بنا ڈالا۔ استاذِ گرامی اِس حوالے سے لکھتے ہیں:

’’یہ اشارہ واقعۂ اسرا کی طرف ہے، جس کا ذکر سورہ کی ابتدا میں ہوا ہے۔ اِس میں چونکہ قریش اور بنی اسرائیل، دونوں کے لیے یہ تنبیہ مضمر تھی کہ مسجدِ حرام کے ساتھ اب بیت المقدس کی امانت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کی جا رہی ہے، اِس لیے اِس کا بھی مذاق اڑایا گیا کہ لیجیے، اب یہ بیت المقدس پر بھی قبضہ کرنے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ استاذ امام کے الفاظ میں، جو چیز اُن کی تنبیہ و تخویف اور اُن کو اِن کے مستقبل سے آگاہ کرنے کے لیے تھی، وہ اُن کی شامت ِاعمال سے اُن کے لیے فتنہ بن کے رہ گئی۔ ‘‘

(البیان 3/94)

خامساً، رؤیا عربی زبان کا نہایت معروف اور مستعمل لفظ ہے۔ عربی میں یہ نیند میں دیکھنے کے معنوں میں ایسے ہی استعمال ہوتا ہے، جیسے ہم انگریزی، ہندی اور اردو میں ڈریم (Dream)، سپنا اور خواب کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اِس کے شعر و ادب میں خواب کا مفہوم ادا کرنے کے لیے اِسی لفظ کو اختیار کیا جاتا ہے۔ عربی لغات میں اِس کے یہی معنی درج ہیں۔ احادیث میں یہ کم و بیش سات سو مقامات پر استعمال ہوا ہےاور ہر جگہ اِسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ قرآنِ مجید میں بھی یہ مختلف سورتوں میں سات مرتبہ آیا ہے۔ ہر موقع پر اِس سے خواب ہی مرادہے۔ اِس لفظ کے معنی و مفہوم کا اگر یہ معاملہ ہے تو پھر ضروری ہے کہ مذکورہ آیت میں اِسے خواب ہی کے معنوں میں لیا جائے اور اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر اسرا کے سفر کو جسمانی نہیں، بلکہ روحانی سفر پر محمول کرنا چاہیے۔

سادساً، تاہم اِس رؤیا سے وہ خواب مراد نہیں ہے، جو انسانوں کا روز مرہ تجربہ ہے۔ ہر گز نہیں، یہ وہ رؤیا ہے، جو وحی الٰہی کی ایک قسم ہے اور جس سے صرف انبیاے کرام ہی مستفیض ہو سکتے ہیں۔ عام انسانوں کا اِس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انبیاے کرام کو جو کچھ رؤیا میں دکھایا جاتا ہے، وہ صادق، نفس الامر کے مطابق اور مبنی بر حقیقت ہوتا ہے اور بعض اوقات بیداری میں بہ چشم سر دیکھنے سے بھی زیادہ واضح اور آشکار ہوتا ہے۔ امام امین احسن اصلاحی اِس نوعیت کے رؤیا کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’… حضرات انبیا علیہم السلام کو جو رؤیا دکھائی جاتی ہے، وہ رویاے صادقہ ہوتی ہے۔ اِس کے متعدد امتیازی پہلو ہیں، جو ذہن میں رکھنے کے ہیں۔

پہلی چیز تو یہ ہے کہ رؤیاے صادقہ وحی الٰہی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں پر جس طرح فرشتے کے ذریعے سے کلام کی صورت میں اپنی وحی نازل فرماتا ہے، اُسی طرح کبھی رؤیا کی صورت میں بھی اُن کی رہنمائی فرماتا ہے۔

دوسری چیز یہ ہے کہ یہ رؤیا نہایت واضح، غیرمبہم اور روشن صورت میں’ كَفَلْقِ الصُّبْح‘ ہوتی ہے، جس پر نبی کو پورا شرح صدر اور اطمینانِ قلب ہوتا ہے۔ اگر اِس میں کوئی چیز تمثیلی رنگ میں بھی ہوتی ہے تو اِس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر واضح فرما دیتا ہے۔

تیسری چیز یہ ہے کہ جہاں واقعات و حقائق کا مشاہدہ کرانا مقصود ہو، وہاں یہی ذریعہ نبی کے لیے زیادہ اطمینان بخش ہوتا ہے، اِس لیے کہ اِس طرح واقعات کی پوری تفصیل مشاہدہ میں آ جاتی ہے اور وہ معانی و حقائق بھی ممثل ہو کر سامنے آ جاتے ہیں، جو الفاظ کی گرفت میں مشکل ہی سے آتے ہیں۔

چوتھی چیز یہ ہے کہ رؤیا کا مشاہدہ چشم سر کے مشاہدہ سے زیادہ قطعی، زیادہ وسیع اور اُس سے ہزارہا درجہ عمیق اور دور رس ہوتا ہے۔ آنکھ کو مغالطہ پیش آ سکتا ہے، لیکن رؤیاے صادقہ مغالطہ سے پاک ہوتی ہے۔ آنکھ ایک محدود دائرہ ہی میں دیکھ سکتی ہے، لیکن رؤیا بہ یک وقت نہایت وسیع دائرہ پر محیط ہو جاتی ہے۔ آنکھ حقائق و معانی کے مشاہدے سے قاصر ہے، اِس کی رسائی مرئیات ہی تک محدود ہے،لیکن رؤیا معانی و حقائق اور انوار و تجلیات کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تجلی الٰہی اپنی آنکھوں سے دیکھنی چاہی، لیکن وہ اُس کی تاب نہ لا سکے۔ برعکس اِس کے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ معراج میں جو مشاہدے کرائے گئے، وہ سب آپ نے کیے اور کہیں بھی آپ کی نگاہیں خیرہ نہیں ہوئیں۔‘‘(تدبر قرآن4/475-476)

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ یہ ایک باقاعدہ سفر تھا، اللہ تعالیٰ کے اہتمام میں تھا اور اِس کے دوران میں جو کچھ آپ نے مشاہدات فرمائے، وہ حقیقی، قطعی اور یقینی تھے۔

سابعا ً، سورۂ بنی اسرائیل کی درجِ بالا آیات کے الفاظ اور اسالیب بات کی تکمیل پر دلالت کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں کسی اور مقام پر اِس سے متعلق کوئی اضافی یا ضمنی بات بھی مذکور نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اِسے ایک متعین، منفرد اور مکمل واقعے کی حیثیت سے قبول کیا جائے اور قرآن و حدیث کے کسی دوسرے واقعے کو اِس کے ساتھ جوڑنے کی سعی نہ کی جائے۔

2- واقعۂ قاب قوسین

ـــــ دو کمانوں کے برابر فاصلہ ـــــ

وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰي. مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰي. وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰي. اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰي. عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰي. ذُوْ مِرَّةٍ فَاسْتَوٰي. وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰي. ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰي. فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰي. فَاَوْحٰۤي اِلٰي عَبْدِهٖ مَا اَوْحٰي. مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰي. اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰي مَا يَرٰي.(النجم 53: 1 -12 )

’’تارے گواہی دیتے ہیں، جب وہ گرتے ہیں کہ تمھارا رفیق نہ بھٹکا ہے، نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ (قرآن) تو ایک وحی ہے، جو اُسے کی جاتی ہے۔ اُس کو ایک زبردست قوتوں والے نے تعلیم دی ہے،جو بڑا صاحب کردار، بڑا صاحب حکمت ہے۔چنانچہ وہ نمودار ہوا، اِس طرح کہ وہ آسمان کے اونچے کنارے پرتھا۔پھر قریب ہوا اور جھک پڑا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ پھر اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔ جو کچھ اُس نے دیکھا، وہ دل کا وہم نہ تھا۔ اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو، جو وہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہے؟‘‘

پس منظر

سورۂ نجم کی یہ آیات کہانت کے اُس الزام کی تردید میں نازل ہوئی ہیں، جو قریش کے لیڈر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے۔ اِس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو قرآن سناتے تو وہ اُس کے اسلوب کی ندرت، اُس کی زبان کے اعجاز اور اُس کے بیان کی حلاوت سے مسحور ہو جاتے۔ اِسی طرح آپ اُنھیں نزولِ وحی کے بارے میں اپنے تجربات و مشاہدات سے بھی آگاہ فرماتے تھے۔ اِس کے نتیجے میں لوگ فطری طور پر آپ کی طرف مائل ہو جاتے تھے۔ قریش کی قیادت کو یہ گوارا نہ تھا کہ لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوں اور آپ کے کلام کو من جانبِ اللہ ماننے لگ جائیں۔ اِس صورت حال میں اُنھیں اپنی بقا کا یہی راستہ نظر آیا کہ آپ کی زبان پر جاری ہونے والے کلام اور اُس کے نزول سے متعلق لوگوں میں بد اعتمادی پیدا کریں۔ اِس مقصد کے لیے جہاں اُنھوں نے آپ کو شاعر اور مجنون کہا، وہاں یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ آپ، معاذ اللہ، کاہن اور منجم ہیں۔ دلیل یہ تھی کہ آپ کا کلام مسجع و مقفیٰ بھی ہے، اِس میں غیب کی خبریں بھی ہیں اور اِسے آسمانی فرشتوں سے منسوب بھی کیا جاتا ہے۔ یہ دلیل ظاہر ہے کہ اِس بنا پر تھی کہ کاہن اور منجم منظوم اور مسجع منتر پڑھتے تھے، مستقبل کا حال بتاتے تھے اور اپنی اِن خرافات کو جنات اور آسمانی روحوں کا القا قرار دیتے تھے۔

اِس اتہام و الزام کے جواب میں قرآنِ مجید نے قریش مکہ کو مخاطب کیا اور بہ دلائل اُن کے باطل خیالات کی تردید فرمائی۔ اِس ضمن میں اِن حقائق کو نمایاں کیا گیا:

ایک حقیقت یہ واضح فرمائی کہ اے قریش مکہ، تمھارے یہ رفیق (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ بھٹکے ہیں اور نہ بہکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمھارے یہ ہم نشیں جو اِس وقت نبوت کا اعلان کر رہے ہیں، تمھی میں پیدا ہوئے اور تمھی میں پروان چڑھے ہیں۔ اِن کی تمام عمر تمھارے ساتھ گزری ہے۔ اِن کی صفات اور اِن کا ماضی و حال تمھارے سامنے ہے۔ اِسی بنا پر تم اِنھیں صادق اور امین کہتے اور اِن کے اخلاق و کردار کے قصیدے پڑھتے رہے ہو۔اب جیسے ہی اِنھوں نے نبوت کا اعلان کیا ہے تو تم اِنھیں کاہن قرار دے کر، معاذ اللہ، بھٹکا ہوا اور بہکا ہوا قرار دے رہے ہو۔ یہ سراسر بہتان ہے۔ جان رکھو کہ نہ اِنھوں نے راہ گم کی ہے اور نہ راستے سے بھٹکے ہیں۔ یہ اپنے پروردگار کی صراطِ مستقیم پر گام زن ہیں۔ بھٹکے ہوئے تو تم ہو، جو سب کچھ جانتے بوجھتے اِنھیں کاہن اور منجم کہہ کر اِن کی نبوت کا انکار کر رہے ہو۔

دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ اے قریش، تمھارے یہ رفیق (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) جو قرآن تمھارے سامنے پڑھتےہیں،اُس کا تعلق نہ اُن کی اپنی ذات سے ہے اور نہ نفس کی خواہشوں سے ہے۔ یہ کلام الہٰی ہے،جو تمھاری ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ یہ اللہ کی وحی کی صورت میں پیغمبر تک پہنچتا ہے اور وہ اِس میں کوئی ردو بدل، کوئی ترمیم و اضافہ نہیں کرتے۔

تیسری بات یہ ارشاد کی ہے کہ وحی کی یہ تعلیم حضرت جبریل علیہ السلام جیسے زبردست قوتوں والے جلیل القدر فرشتے نے دی ہے۔ وہ شدید القویٰ ہے، یعنی اِس کام کے لیے تمام اعلیٰ صفات سے متصف اور غیر معمولی قوت و صلاحیت کا حامل ہے۔ آسمانوں سے زمین تک کے سفر میں نہ کوئی اُس کی بات کو اچک سکتا ہے اور نہ اُس میں در اندازی کی ہمت کر پاتا ہے۔ وہ با کردار اورصاحبِ حکمت و دانش بھی ہے۔ اِن اوصاف کی وجہ سے وہ اللہ کے رسول تک ٹھیک ٹھیک وہی پیغام، وہی علم اور وہی تعلیم پہنچاتا ہے، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اُسے دیا ہے۔ وہ اُس میں کوئی تصرف نہیں کرتا۔ کوئی فرشتہ، کوئی جن، کوئی انسان یا کائنات کی کوئی اور مخلوق اُسے مرعوب کر کے یا دھوکا دے کر اُس سے اِس کام میں غلطی کا ارتکاب بھی نہیں کرا سکتی۔11

امام ا مین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’…اُس (فرشتے) کی ہر صفت و صلاحیت نہایت محکم و مضبوط ہے۔ اِس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی دوسری روح اُس کو متاثر یا مرعوب کر سکے، اُس سے خیانت کا ارتکاب کرا سکے یا اُس کی تعلیم میں کوئی خلطِ مبحث کر سکے یا اُس سے کوئی فروگذاشت ہو سکے یا اُس کو کوئی وسوسہ لاحق ہو سکے۔ اِس طرح کی تمام کم زوریوں سے اللہ تعالیٰ نے اُس کو محفوظ رکھا ہے تاکہ جو فرض اُس کے سپرد فرمایا ہے، اُس کو وہ بغیر کسی خلل و فساد کے پوری دیانت و امانت کے ساتھ ادا کر سکے۔…

وہ اپنی عقل اور اپنے کردار میں نہایت محکم ہے۔ اِس کا امکان نہیں ہے کہ وہ کوئی دھوکا کھا سکے یا کوئی اُس کو دھوکا دے سکے یا وہ کسی کے ہاتھ بک سکے اور کوئی اُس کو خرید سکے۔‘‘(تدبر قرآن8/53-54)

تفصیل

اِس پس منظر میں وہ واقعہ بیان ہوا ہے، جب حضرت جبریل علیہ السلام پہلی مرتبہ اپنی اصل صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے۔

اِس کی جو تفصیل آیات سے مفہوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے:

* واقعے کا آغاز اِس طرح ہوا کہ جبریل امین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے افق اعلیٰ پر نمودار ہوئے۔12 آیت کے اسلوب سے واضح ہے کہ وہ اپنی اصل صورت میں13اور پورے قد و قامت کے ساتھ ظاہر ہوئے 14اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ بیداری میں کھلی آنکھوں سے اُن کا مکمل مشاہدہ کیا۔ ’’البیان‘‘ میں ہے:

’’اصل میں’الْاُفُقُ الْاَعْلٰي‘کے الفاظ آئے ہیں، یعنی وہ افق جو سمتِ رأس میں ہوتا ہے۔ یہ پہلی وحی اور جبریل امین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی ملاقات کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل جلی اور غیرمشتبہ صورت میں اِس طرح نمودار ہوئے، جس طرح ماہِ تمام یا مہر ِنیم روز نمودار ہوتا ہے اور پیغمبر نے کھلی آنکھوں کے ساتھ اُن کا مشاہدہ کیا۔‘‘(5/ 65)

*پھر وہ زمین پر موجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھکے۔ یعنی پورے التفات، بھرپور اہتمام اور کمال شفقت کے ساتھ آپ کی طرف متوجہ ہوئے۔15استاذِ گرامی نے لکھا ہے:

’’(’ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰي‘پھر قریب ہوا اور جھک پڑا)۔یہ اُس التفات و اہتمام اور غایت شفقت کا بیان ہے، جس کے ساتھ جبریل امین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی تاکہ جو ہدایات آپ کو دی جا رہی ہیں، آپ اُنھیں اچھی طرح سن اور سمجھ لیں۔‘‘

(البیان 5/ 65)

* اِس کے بعد جبریل امین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت قریب آگئے۔ اتنے قریب کہ اُن کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان بہت کم فاصلہ رہ گیا۔

* اِس قدر قریب آ کر اُنھوں نے آپ کو وہ وحی پہنچائی، جو وہ اللہ کی طرف سے لے کر آئے تھے۔16 سورۂ نجم کے اِس مقام پر چونکہ واقعے کی نوعیت اور حقیقت کو بیان کرنا مقصود ہے، اِس لیے وحی کے مندرجات کی تفصیل نہیں کی گئی۔

درجِ بالا تفصیل سے واقعۂ قاب قوسین کے حوالے سے جو باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں:

1۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم بیدار تھے۔

2۔ آپ نے دیکھا کہ آسمان کے انتہائی بلند مقام سے حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہوئے۔

3۔ وہ اپنی اصل صورت میں تھے۔

4۔ پھر وہ آپ کے نہایت قریب آ گئے، اتنے قریب کہ آپ میں اور اُن میں گویا دو کمانوں کے بہ قدر فاصلہ رہ گیا۔

5۔ پھر اُنھوں نے قرآن کا وہ حصہ آپ کو وحی کیا، جو اللہ نے اُنھیں دے کر بھیجا تھا۔

6۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سارا مشاہدہ عالم بیداری میں کھلی آنکھوں سے کیا۔

7۔ واقعے کی تفصیل اور سیاق و سباق سے واضح ہے کہ یہ ایک مکمل واقعہ ہے اور منفرد طور پر ظہورپذیر ہوا ہے۔ کسی دوسرے واقعے سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

8۔قاب قوسین (دو کمانوں کے برابر فاصلہ) عربی زبان کا محاورہ ہے، جس کے معنی نہایت قریب ہونے کے ہیں۔

جو باتیں واقعے میں مذکور نہیں ہیں، وہ یہ ہیں:

1۔یہ ذکر نہیں ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اُس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہاں موجود تھے۔

2۔ یہ ذکر نہیں ہے کہ یہ دن کے اوقات میں پیش آیا یا رات کے اوقات میں۔

3۔یہ ذکر نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو وحی پہنچائی گئی، وہ کیا تھی۔

تفہیم

آیات کی توضیح و تفہیم کے اہم نکات درجِ ذیل ہیں:

اولاً، حضرت جبریل علیہ السلام کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نزدیکی اور قرب کے اظہار کے لیے ’فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی وہ آپ کے اِس قدر قریب ہو گئے کہ درمیانی فاصلہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے بھی کم رہ گیا۔17 اِس سے مقصود باہمی فاصلے کا تعین نہیں، بلکہ نہایت درجہ تقرب کو بیان کرنا ہے۔ ’’البیان‘‘ میں ہے:

’’یہ تشبیہ اہل عرب کے ذوق کے لحاظ سے ہے اور غایت قرب و اتصال کی تعبیر کے لیے آئی ہے۔ اِس میں ’اَوْ‘ اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پیشِ نظر محض قرب کا بیان ہے، اِس سے مقدارِ فاصلہ کی تعیین مقصود نہیں ہے۔ یہ کم یا زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

(5/ 65)

ثانیاً،’فَاَوْحٰي اِلٰي عَبْدِهٖ مَا اَوْحٰي‘ (پھر اُس نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی) میں ’عَبْدِهٖ‘ کے الفاظ سے واضح ہے کہ ’فَاَوْحٰي‘ کا فاعل جبریل علیہ السلام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ہے۔ وحی کا اصل منبع اور ماخذ چونکہ اللہ تعالیٰ ہیں، اِس لیے اگر وہ اِس کے ابلاغ و ارسال کے لیے کسی فرشتے کا توسط اختیار کرتے ہیں تو اِس سے وحی کے فعل کی اُن سے نسبت پر کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔18 ’عَبْدِهٖ‘کی ضمیرِ اضافت کو اللہ تعالیٰ کے لیے ماننا لازم ہے۔ اِسے جبریل سے منسوب کرنے سے شرک کا مفہوم پیدا ہو گا، جس کی قرآن میں کوئی گنجایش نہیں ہو سکتی۔قرآن و سنت اِس پر قطعی ہیں کہ تمام مخلوقات کے لیے معبود کی حیثیت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، لہٰذا بندگی کا تعلق فقط اُسی سے قائم ہو سکتا ہے۔

ثالثًا، واقعے کی نوعیت کو بیان کرنے کے لیے’مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰي. اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰي مَا يَرٰي‘(جو کچھ اُس نے دیکھا، وہ دل کا وہم نہ تھا۔ اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو، جو وہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہے؟) کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ مشاہدہ فرمایا، وہ عالم بیداری میں اور کھلی آنکھوں کے ساتھ تھا۔ گویا نہ یہ رؤیا تھا،جو اللہ نے نیند کے عالم میں آپ کو دکھایا اور نہ ایسی تمثیل تھی، جو من جانبِ اللہ آپ کے قلب و ذہن پر نقش کر دی گئی تھی۔19 یہ حسی مشاہدہ تھا، جو آپ نے تمام ظاہری حواس اور پورے شعور و ادراک کے ساتھ کیا تھا۔امام امین احسن اصلاحی سورہ کے اِس جز کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس مشاہدے کی تصدیق و تصویب ہے کہ کوئی اِس مشاہدے کو دل کی خیال آرائی اور نفس کے فریب پر محمول نہ کرے، یہ فریبِ نفس اور دھوکا نہیں، بلکہ فی الحقیقت نبی کو یہ مشاہدہ ہوا ہے۔…

وہ جو کچھ آنکھوں سے دیکھتا ہے اور کانوں سے سنتا ہے، اُس سے تم کو آگاہ کر رہا ہے۔ اگر یہ چیز تم کو نظر نہیں آتی تو اِس سے نفس حقیقت باطل نہیں ہو جائے گی۔‘‘

(تدبر قرآن8/55-56)

رابعا ً، واقعۂ قاب قوسین، یعنی جبریل امین کا افق سے نمودار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی قریب ہو جانے کا واقعہ اِسی قدر ہے، جتنا اِس مقام پر بیان ہوا ہے۔ آیات کے الفاظ اور اسالیب اِس کے بیان کی تکمیل پر دلالت کرتے ہیں۔ مزید برآں، قرآنِ مجید میں کسی اور مقام پر اِس سے متعلق کوئی اضافی یا ضمنی بات مذکور نہیں ہے۔ اِس لیے لازم ہے کہ اِسے ایک متعین، منفرد اور مکمل واقعے کی حیثیت سے قبول کیا جائے اور قرآن و حدیث کے کسی دوسرے واقعے کو اِس کے ساتھ جوڑنے کی سعی نہ کی جائے۔

خامساً، سورۂ نجم کی مذکورہ آیات میں حضرت جبریل علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوا ہے:

عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰي. ذُوْ مِرَّةٍ فَاسْتَوٰي. وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰي. ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰي. فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰي.(53: 5- 9)

’’اُس کو ایک زبردست قوتوں والے نے تعلیم دی ہے، جو بڑا صاحبِ کردار، بڑا صاحبِ حکمت ہے۔ چنانچہ وہ نمودار ہوا، اِس طرح کہ وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا۔ پھر قریب ہوا اور جھک پڑا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ ‘‘

بعض علما و مفسرین نے یہاں جبریل علیہ السلام کے بجاے اللہ تعالیٰ کو مراد لیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات چند وجوہ سے درست نہیں ہے:

ایک یہ کہ ’شَدِيْدُ الْقُوٰي‘، ’ذُوْ مِرَّةٍ فَاسْتَوٰي‘ اور ’دَنَا فَتَدَلّٰي‘ کے اسالیب جس انداز سے آئے ہیں، وہ اللہ پروردگارِ عالم کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا۔ اِس میں صلاحیتوں، صفات اور افعال کا اسلوب ِبیان مخلوقات کی نسبت سے زیادہ مناسب حال ہے۔

دوسرے یہ کہ سورۂ تکویر (81) میں حضرت جبریل علیہ السلام کی بعض صلاحیتوں کا ذکر ہوا ہے تو کم و بیش اِسی طرح کے اسالیب اختیار کیے گئے ہیں۔لہٰذا ’القرآن یفسر بعضه بعضًا‘ کے اصول پر یہاں جبریل ہی کو مراد لیا جائے گا۔ ارشاد ہے:

اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ. ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ. مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ.

(19- 21)

’’بے شک، یہ ایک رسولِ کریم کا لایا ہوا کلام ہے۔ بہت صاحبِ قوت، عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ، اُس کا حکم وہاں مانا جاتا ہے اور وہ نہایت امین بھی ہے۔ ‘‘

امام امین احسن اصلاحی سورہ کے اِن الفاظ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’یہ اُس فرشتہ (حضرت جبریل علیہ السلام) کی صفت بیان ہو رہی ہے، جس نے اِس کلام کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی۔ فرمایا کہ وہ’شَدِیْدُ الْقُوٰی‘یعنی تمام اعلیٰ صفات اور صلاحیتوں سے بھرپور اور اُس کی ہر صفت و صلاحیت نہایت محکم و مضبوط ہے۔ اِس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی دوسری روح اُس کو متاثر یا مرعوب کر سکے، اُس سے خیانت کا ارتکاب کرا سکے یا اُس کی تعلیم میں کوئی خلطِ مبحث کر سکے یا اُس سے کوئی فروگذاشت ہو سکے یا اُس کو کوئی وسوسہ لاحق ہو سکے۔ اِس طرح کی تمام کم زوریوں سے اللہ تعالیٰ نے اُس کو محفوظ رکھا ہے تاکہ جو فرض اُس کے سپرد فرمایا ہے، اُس کو وہ بغیر کسی خلل و فساد کے پوری دیانت و امانت کے ساتھ ادا کر سکے۔ سورۂ تکویر میں اِس فرشتہ کی تعریف یوں آئی ہے:’ا نَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ. ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ. مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ‘۔…

’ذُوْمِرَّۃٍ‘۔ یعنی وہ اپنی عقل اور اپنے کردار میں نہایت محکم ہے۔ اِس کا امکان نہیں ہے کہ وہ کوئی دھوکا کھا سکے یا کوئی اُس کو دھوکا دے سکے یا وہ کسی کے ہاتھ بک سکے اور کوئی اُس کو خرید سکے۔ یہ لفظ اخلاقی و عقلی برتری کے لیے آتا ہے۔ ‘‘

(تدبر قرآن 8/ 53-54)

تیسرے یہ کہ سورۂ نجم کے زیرِ بحث تمہیدی بیان کا اختتام آیت 18 کے جن الفاظ پر ہوا ہے، اُن سے واضح ہے کہ یہاں مذکورہ مشاہدات کے بہ شمول جو مشاہدات بھی کرائے گئے ہیں، اُن کا تعلق آیاتِ الٰہی سے ہے۔ ذاتِ الہٰی سے اُن کا تعلق نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

لَقَدۡ رَاٰی مِنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِ الۡکُبۡرٰی.

’’اُس نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھی ہیں۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس آیت کے حوالے سے لکھا ہے:

’’یہ بیان ہے اُن مشاہدات کا جو اِس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئے۔ فرمایا کہ اُس نے اپنے رب کی بعض بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ اِن نشانیوں کی کوئی تفصیل نہیں فرمائی کہ نہ الفاظ اِن کے متحمل ہو سکتے اور نہ وہ ہماری عقل کی گرفت میں آ سکتیں۔تاہم، لفظ ’کُبْرٰی‘دلیل ہے کہ یہ نشانیاں اُن نشانیوں سے بالاتر تھیں، جن کا مشاہدہ، آفاق و انفس میں، ہر قدم پر، ہر صاحبِ نظر کو ہوتا رہتا ہے۔… تاہم، یہ امر ملحوظ رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشاہدہ صرف اپنے رب کی نشانیوں ہی کا ہوا، خود اللہ تعالیٰ کے مشاہدے کا کوئی اشارہ یہاں نہیں ہے۔‘‘(تدبرقرآن 8/57)

3- واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ

ــــ سدرة المنتہیٰ پر حضرت جبریل کا مشاہدہ ــــ

وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰي. عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰي. عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰي. اِذْ يَغْشَي السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰي. مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰي. لَقَدْ رَاٰي مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰي.(النجم53 :13-18)

’’اور اُس نے ایک مرتبہ پھر اُسے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اترتے دیکھا ہے، جس کے پاس ہی جنت الماویٰ ہے، جب سدرہ پر چھا رہا تھا ،جو کچھ کہ چھا رہاتھا۔ اُس کی نگاہ نہ بہکی، نہ بےقابو ہوئی۔ اُس نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھی ہیں۔‘‘

پس منظر

یہ واقعہ بھی سورۂ نجم میں بیان ہوا ہے اور اُسی تناظر میں ہے، جس میں اِس سے پہلے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ یعنی اِس کی نوعیت بھی کہانت کے اُس الزام کی تردید کی ہے، جو سردارانِ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے۔

تفصیل

اِس کی جو تفصیل آیات سے معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے:

* رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبریل کو افق اعلیٰ پر ا ور قاب قوسین کی صورت میں دیکھنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اُن کا مشاہدہ کیا۔ اسلوب ِکلام سے واضح ہے کہ یہ دوسرا مشاہدہ پہلے مشاہدے کے بعد کسی دوسرے موقع پر ہوا۔ گویا اِس کے اور پہلے مشاہدے کے درمیان کوئی اور مشاہدہ نہیں ہوا۔

* دوسرے مشاہدے کا ذکر کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا جبریل امین کو دیکھنا، معاذ اللہ، کوئی واہمہ یا مغالطہ تھا، کیونکہ کھلی آنکھوں کے ساتھ مشاہدے کا یہ واقعہ ایک کے بعد دوسری مرتبہ بھی ہوا ہے۔ لہٰذا کسی کے لیے شک و شبہ پیدا کرنے کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔20 ’’ البیان‘‘ میں لکھا ہے:

’’یہ دوسری ملاقات کا ذکر ہے۔ اِس کے بعد، معلوم ہے کہ یہ سلسلہ تواتر کے ساتھ شروع ہو گیا۔ مدعا یہ ہے کہ پیغمبر کو یہ مشاہدہ ایک ہی بار نہیں ہوا کہ اِس کو کوئی وہم یا مغالطہ قرار دیا جا سکے۔ اُنھوں نے جبریل علیہ السلام کو دوبارہ بھی دیکھا ہے اور اِس موقع پر بھی وہ اُن کے سامنے اپنی اصلی صورت میں نمودار ہوئے ہیں۔‘‘ (5 / 65 -66)

* رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو جب پہلی بار دیکھا تو وہ افق اعلیٰ سے نمودار ہوئے تھے۔ اب جب یہ دوسری بار دیکھا ہے تو وہ سدرۃ المنتہیٰ کے مقام کے پاس تھے۔

* جنت الماویٰ کے ذکر کے بعد کسی نام اور اشارے کے بغیر سدرہ پر کچھ چھا جانے کا ذکر ہے۔ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انوار و تجلیات کی کسی ایسی صورت کا مشاہدہ فرمایا، جو زبان و بیان کے دائرے سے باہر اور عام انسانوں کے فہم و ادراک سے ماورا ہے۔ ’’البیان ‘‘میں اِس حوالے سے لکھا ہے:

’’یہ اسلوب بیان بتاتا ہے کہ سدرہ پر اُس وقت انوار و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ الفاظ اُس کی تعبیر و تصویر سے قاصر ہیں۔‘‘ (5 / 66)

* نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدے کی کیفیت کو ’مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰي‘ (اُس کی نگاہ نہ بہکی، نہ بے قابوہوئی)کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ یہ مشاہدہ عین عالم بیداری میں تھا۔ آپ نے کھلی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھا،جو پروردگار نے آپ کو دکھانا چاہا۔ جوتجلیاں، جو روشنیاں، جو جلوے اور جو نور کے مناظر آپ کے نظر نواز ہوئے، اُن کا آپ نے کامل طریقے سے اور پوری دل جمعی کے ساتھ مشاہدہ فرمایا۔ اِس موقع پر نور و ظہور کی بے پناہ آب و تاب اور چکاچوند کے باوجود آپ کی نگاہیں توجہ اور تسلسل کے ساتھ مناظر کو دیکھتی رہیں اور بالکل بے قابو نہ ہوئیں۔ ’’البیان‘‘میں ہے:

’’…اِس ہجوم تجلیات کے باوجود آپ کی نگاہ نہ چوندھیائی، نہ بے قابو ہوئی، بلکہ آپ پورے سکون، ضبط اور یک سوئی کے ساتھ دیکھتے رہے۔‘‘(5 / 66- 67)

*نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس موقع پر اپنے رب کی عظیم الشان نشانیوں کا مشاہدہ فرمایا۔ اِس مفہوم کے لیے ’لَقَدْ رَاٰي مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰي‘ (اُس نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھی ہیں) کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس ضمن میں کسی متعین نشانی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ البتہ لفظِ کبریٰ (عظیم) سے واضح ہے کہ یہ نشانیاں اِس قدر غیر معمولی تھیں کہ انسانوں کے حیطۂ علم و ادراک سے ماورا تھیں۔ ’’البیان‘‘ میں لکھا ہے:

’’اِن نشانیوں کی کوئی تفصیل نہیں کی گئی، اِس لیے کہ نہ الفاظ اِس تفصیل کے متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ وہ ہمارے علم و عقل اور تصورات کی گرفت میں آسکتی ہیں۔ تاہم، آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ نشانیاں اُن نشانیوں سے بالاتر تھیں، جن کا مشاہدہ ہم انفس و آفاق میں کرتے ہیں۔ ‘‘(5 / 67)

درجِ بالا تفصیل سے جو باتیں واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ کے حوالے سے معلوم ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں:

1۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم بیدار تھے۔

2۔ آپ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اترتے دیکھا۔

3۔ یہ دوسرا موقع تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل امین کو اُن کی اصل صورت میں دیکھا تھا۔

4۔یہ مقام سدرۃ المنتہیٰ سے آگے اور جنت الماویٰ سے پہلے تھا۔ گویا حضرت جبریل علیہ السلام کا نزول عالم ناسوت اور عالم لا ہوت کے مقام اتصال پر ہوا۔

5۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل امین کو دیکھنے کے علاوہ اللہ کی بعض ایسی عظیم الشان نشانیوں کا مشاہدہ فرمایا، جو انسانی زبان و بیان اور فہم و ادراک کی صلاحیت سے بالا تر ہیں۔

6۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سارا مشاہدہ عالم بیداری میں کھلی آنکھوں سے کیا۔

7۔ عظیم انوار و تجلیات کے باوجود نہ آپ کی آنکھیں چوندھیائیں اور نہ نگاہیں خیرہ ہوئیں۔ آپ نے پوری یک سوئی اور اطمینان سے ہر نشانی کا مشاہدہ فرمایا۔

جو باتیں واقعے میں مذکور نہیں ہیں، وہ یہ ہیں:

1۔یہ ذکر نہیں ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اُس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہاں پر موجود تھے۔

2۔ یہ ذکر نہیں ہے کہ یہ دن کے اوقات میں پیش آیا یا رات کے اوقات میں۔

3۔یہ ذکر نہیں ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کے مقام اور جبریل علیہ السلام کی شخصیت کے علاوہ آپ نے کن مقامات و شخصیات کا مشاہدہ فرمایا۔

تفہیم

آیات کی توضیح و تفہیم کے اہم نکات درجِ ذیل ہیں:

اولاً،سدرۃ المنتہیٰ کیا ہے؟قرآن و حدیث کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک مقام ہے، جو سات آسمانوں تک پھیلی ہوئی اِس مادی دنیا یا عالم موجودات کی آخری حد ہے۔ اِس سے آگے ماویٰ کے باغات ہیں، جہاں سے اُس نادیدہ عالم کا آغاز ہوتا ہے، جس میں دونوں جہانوں کے پروردگار کا عرش قائم ہے۔ اِن جہانوں کے لیے ہماری زبان میں بالترتیب عالم ناسوت اور عالم لاہوت کی تعبیرات بھی استعمال ہوتی ہیں۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’’سِدْرَة الْمُنْتَهٰي‘ وہ مقام ہے، جہاں اِس عالم ناسوت کی سرحدیں ختم ہوتی ہیں۔ ’سِدْرَة‘ بیری کے درخت کو کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہےکہ یہ بیری کا درخت عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے درمیان ایک حدِ فاصل ہے۔ ہمارے لیے یہ سارا عالم نادیدہ ہے۔ نہ ہم ’عالم ناسوت‘ اور ’عالم لاہوت‘ کے حدود کو جانتے اور نہ اِن دونوں کے درمیان کے اِس نشانِ فاصل کی حقیقت سے واقف ہیں، جس کو یہاں ’سِدْرَة‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یہ چیزیں متشابہات میں داخل ہیں۔ اِس وجہ سے، قرآن کی ہدایت کے مطابق، اِن پر ایمان لانا چاہیے، اِن کی حقیقت کے درپے ہونا جائز نہیں ہے۔ اِن کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ جن کا علم راسخ ہوتا ہے، اُن کے علم میں اِن چیزوں سے اضافہ ہوتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو اِن کی حقیقت جاننے کے درپے ہوتے ہیں، وہ ٹھوکر کھاتے اور گم راہی میں مبتلا ہوتے ہیں۔‘‘ (تدبر قرآن 8/56)

ثانیاً، سدرۃ المنتہیٰ کے مقام کی بلندی کو واضح کرنے اور اِس کے گرد و نواح کی نشان دہی کے لیے جنت الماویٰ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورۂ سجدہ (32) سے واضح ہے کہ اِس سے مراد وہ جنت نہیں ہے، جو لوگوں کو اُن کے ایمان و عمل کی جزا میں ملے گی۔ اِس سے وہ باغات مراد ہیں، جہاں اہل ایمان اصل جنت میں داخل ہونے سے پہلے ابتدائی ضیافت سے مستفید ہوں گے۔ ارشاد فرمایا ہے:

اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰي نُزُلًا بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ. (19:32)

’’ جو ایمان لائے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، اُن کے لیے ٹھیرنے کے باغ ہیں، اُن کی ضیافت کے طور پر، اُن کے اعمال کے صلے میں۔‘‘21

ثالثًا، جہاں تک جنات الماویٰ کے محل وقوع کا تعلق ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عالم لاہوت کے آغاز پر قائم ہیں۔ امام امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

’’… معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ’سِدْرَةُ الْمُنْتَهٰي‘ عالم ناسوت کی آخری حد پر ہے، اُسی طرح ’جَنَّةُ الْمَاْوٰي‘ عالم لاہوت کے نقطۂ آغاز پر ہے۔ اِس نشان دہی سے یہ بات واضح ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریل علیہ السلام کا دوبارہ مشاہدہ دونوں عالموں کے نقطۂ اتصال پر ہوا۔‘‘(تدبر قرآن 8/ 57)

رابعا ً، واقعۂ سدرۃ المنتہیٰ، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پرکھلی آنکھوں سے پورے اطمینان کے ساتھ دیکھنے کا واقعہ اِسی قدر ہے، جتنا اِس مقام پر بیان ہوا ہے۔ ’وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰي عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰي‘ (اور اُس نے ایک مرتبہ پھر اُسے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اترتے دیکھا ہے)کے الفاظ نے اِسے واقعۂ قاب قوسین سے بالکل الگ کر دیا ہے۔ مزید برآں، قرآنِ مجید میں کسی اور مقام پر اِس سے متعلق کوئی اضافی یا ضمنی بات مذکور نہیں ہے۔ اِس لیے لازم ہے کہ اِسے ایک متعین، منفرد اور مکمل واقعے کی حیثیت سے قبول کیا جائے اور قرآن و حدیث کے کسی دوسرے واقعے کو اِس کے ساتھ جوڑنے کی سعی نہ کی جائے۔

4- واقعۂ شق صدر اور معراج

ــــسینہ کھولنے اور معراج پر لے جانے کا واقعہــــ

عن شريك بن عبد اللّٰه أنه قال: سمعت أنس بن مالك یقول: ليلة اسري برسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من مسجد الكعبة انه جاءه ثلاثة نفر قبل أن يوحى إليه وهو نائم في المسجد الحرام، فقال أولهم: أيهم هو؟ فقال اوسطهم: هو خيرهم، فقال آخرهم: خذوا خيرهم، فكانت تلك الليلة.

فلم يرهم حتى أتوه ليلةً أخرى فيما يرى قلبه، وتنام عينه، ــــــ ولا ينام قلبه، وكذلك الأنبياء تنام أعينهم ولا تنام قلوبهم، ــــــ فلم يكلموه حتى احتملوه فوضعوه عند بئر زمزم، فتولاه منهم جبريل، فشق جبريل ما بين نحره إلى لبته حتى فرغ من صدره وجوفه، فغسله من ماء زمزم بيده حتى أنقى جوفه، ثم أتى بطست من ذهب فيه تور من ذهب محشوًا إيمانًا وحكمةً، فحشا به صدره ولغاديده يعنى عروق حلقه ثم أطبقه.

ثم عرج به إلى السماء الدنيا، فضرب بابًا من ابوأبها، فناداه أهل السماء: من هذا؟ فقال: جبريل، قالوا: ومن معك؟ قال: معي محمد، قال: وقد بعث؟ قال: نعم، قالوا: فمرحبًا به واهلاً، فيستبشر به اهل السماء لا يعلم اهل السماء بما يريد اللّٰه به في الارض حتى يعلمهم.

فوجد في السماء الدنيا آدم، فقال له جبريل: هذا أبوك آدم فسلم عليه، فسلم عليه ورد عليه آدم، وقال: مرحبًا وأهلاً بابني، نعم الابن أنت فإذا هو في السماء الدنيا بنهرين يطردان، فقال: ما هذان النهران يا جبريل؟ قال: هذا النيل والفرات عنصرهما، ثم مضى به في السماء، فإذا هو بنهر آخر عليه قصر من لؤلؤ وزبرجد، فضرب يده، فإذا هو مسك أذفر، قال: ما هذا يا جبريل؟ قال: هذا الكوثر الذي خبأ لك ربك.

ثم عرج به إلى السماء الثانية، فقالت الملائكة له مثل ما قالت له الاولى: من هذا؟ قال: جبريل، قالوا ومن معك؟ قال: محمد صلى اللّٰه عليه وسلم، قالوا: وقد بعث إليه؟ قال: نعم، قالوا: مرحبًا به وأهلاً.

ثم عرج به إلى السماء الثالثة، وقالوا له مثل ما قالت الاولى والثانية، ثم عرج به إلى الرابعة، فقالوا له مثل ذلك، ثم عرج به إلى السماء الخامسة، فقالوا مثل ذلك، ثم عرج به إلى السماء السادسة، فقالوا له مثل ذلك، ثم عرج به إلى السماء السابعة، فقالوا له مثل ذلك.

كل سماء فيها أنبياء قد سماهم، فأوعيت منهم إدريس في الثانية، وهارون في الرابعة، وآخر في الخامسة، لم احفظ اسمه، وإبراهيم في السادسة، وموسى في السابعة ــــــ بتفضيل كلام اللّٰه ــــــ فقال موسى: رب لم أظن أن يرفع علي أحد!

ثم علا به فوق ذلك بما لا يعلمه إلا اللّٰه، حتى جاء سدرة المنتهى، ودنا للجبار رب العزة، فتدلى، حتى كان منه قاب قوسين أو أدنى، فأوحى اللّٰه فيما أوحى إليه خمسين صلاةً على امتك كل يوم وليلة.

ثم هبط حتى بلغ موسى، فاحتبسه موسى، فقال: يا محمد، ماذا عهد إليك ربك؟ قال: عهد إلي خمسين صلاةً كل يوم وليلة، قال: إن أمتك لا تستطيع ذلك فارجع، فليخفف عنك ربك وعنهم، فالتفت النبى صلى اللّٰه عليه وسلم إلى جبريل كانه يستشيره في ذلك، فأشار إليه جبريل: أن نعم إن شئت فعلاً به إلى الجبار، فقال وهو مكانه: يا رب، خفف عنا فإن امتي لا تستطيع هذا، فوضع عنه عشر صلوات.

ثم رجع إلى موسى، فاحتبسه فلم يزل يردده موسى إلى ربه حتى صارت إلى خمس صلوات، ثم احتبسه موسى عند الخمس، فقال: يا محمد، واللّٰه لقد راودت بني إسرائيل قومي على أدنى من هذا، فضعفوا فتركوه، فامتك اضعف أجسادًا وقلوبًا وأبدانًا وأبصارًا وأسماعًا، فارجع، فليخفف عنك ربك، كل ذلك يلتفت النبي صلى اللّٰه عليه وسلم إلى جبريل ليشير عليه ولا يكره ذلك جبريل، فرفعه عند الخامسة.

فقال: يا رب، إن أمتي ضعفاء أجسادهم وقلوبهم وأسماعهم وأبصارهم وأبدانهم، فخفف عنا، فقال الجبار: يا محمد، قال: لبيك وسعديك، قال: إنه لا يبدل القول لدى كما فرضته عليك في أم الكتاب، قال: فكل حسنة بعشر أمثالها فهي خمسون في أم الكتاب وهي خمس عليك.

فرجع إلى موسى، فقال: كيف فعلت؟ فقال: خفف عنا أعطانا بكل حسنة عشر أمثالها، قال موسى: قد واللّٰه راودت بني إسرائيل على أدنى من ذلك فتركوه، ارجع إلى ربك فليخفف عنك أيضًا.

قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: يا موسى، قد واللّٰه استحييت من ربي مما اختلفت إليه، قال: فاهبط باسم اللّٰه.

قال: واستيقظ وهو في مسجد الحرام. (بخاری، رقم7517 )

’’شریک بن عبداللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اُس رات کے بارے میں یہ بیان کرتے سنا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ کعبہ سے لے جایا گیا۔ (وہ بیان کرتے ہیں): وحی (کا سلسلہ) شروع ہونے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین افراد (فرشتے) آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ اُن میں سے ایک نے پوچھا: اِن (لوگوں) میں سے وہ کون ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا: وہ جو اِن (لوگوں ) میں سب سے بہتر ہیں۔ تیسرے نے کہا: جو سب سے بہتر ہیں بس اُنھیں لے جائیے۔ (پھر و ہ تینوں واپس چلے گئے)۔ اِس رات میں بس اتنا ہی معاملہ ہوا۔

اُس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں نہیں دیکھا، یہاں تک کہ یہی (تینوں افراد) ایک دوسری رات میں (دوبارہ) آئے۔ اُس وقت آپ کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا، مگر آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں۔ ــــــ اور آپ کا دل کبھی نہیں سوتا تھا۔ سب نبیوں کا یہی معاملہ ہے کہ (نیند کے عالم میں بھی) اُن کی آنکھیں تو سو جاتی ہیں، مگر اُن کے دل کبھی نہیں سوتے۔ ــــــ اُنھوں نے آپ سے کوئی بات نہیں کی، بلکہ آپ کو اٹھایا اور زم زم کے کنوئیں کے پاس لے جا کر لٹا دیا۔ پھر اُن میں سے جبریل علیہ السلام نے آپ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ جبریل علیہ السلام نے آپ کے حلق سے لے کر زیریں سینے تک کے حصے کو چیر ڈالا اور سینے اور پیٹ کے اندر جو کچھ تھا، اُسے نکال دیا۔ پھر اُنھوں نے زم زم کا پانی لے کر اپنے ہاتھوں سے اسے دھویا۔ یہاں تک کہ پیٹ کو بالکل صاف کر دیا۔ پھر اُس کے بعد سونے کا ایک طشت لایا گیا، جس میں سونے ہی کا ایک آفتابہ رکھا تھا، جو ایمان اور حکمت سے لبریز تھا۔ جبریل علیہ السلام نے اُس سے آپ کے سینے اور حلق کی رگوں کو بھر دیا اور پھر سینے کو سی کربرابر کر دیا۔

پھر جبریل علیہ السلام آپ کو لے کر آسمانِ زیریں کی طرف پرواز کر گئے۔ (وہاں پہنچ کر) اُنھوں نے اُس کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھٹکھٹایا۔ آسمان والوں کی طرف سے آواز آئی: کون آیا ہے؟ اُنھوں نے کہا: جبریل۔ پوچھا: آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا: میرے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ پوچھا: کیا اُنھیں بلایا گیا ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: جی ہاں۔ اُنھوں نے کہا: مرحبا، خوش آمدید۔ اہل آسمان اِن (کی آمد) سے بہت خوش ہیں۔ (تاہم) آسمان والے نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اِن سے زمین میں کیا چاہتے ہیں، یہاں تک کہ اُنھیں اِس سے آگاہ کر دیا جائے۔

پھر اِس آسمانِ زیریں پر آپ نے حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا۔ جبریل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ یہ آپ کے والد آدم علیہ السلام ہیں، اِنھیں سلام کیجیے۔ آپ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سلام کیا اور اُنھوں نے اُس کا جواب دیا۔ پھر آدم علیہ السلام نے کہا: مرحبا، خیر مقدم میرے بیٹے، آپ کیا ہی اچھے فرزند ہیں۔ پھر اِسی اثنا میں آپ نے آسمانِ زیریں پر دو نہریں بہتی ہوئی دیکھیں۔ آپ نے پوچھا: جبریل، یہ نہریں کیا ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے بتایا: یہ نیل و فرات کی حقیقی صورت ہے۔ پھر وہ آپ کو لے کر وہاں سے آگے بڑھے اور آپ نے ایک اور نہر دیکھی، جس کے کنارے موتیوں اور زمرد کا ایک محل تھا۔ آپ نے اُس (نہر) میں ہاتھ ڈالا تو اُس کی مٹی بالکل خوش بو دارمشک جیسی تھی۔ آپ نے پوچھا: جبریل یہ کیا ہے؟ اُنھوں نے کہا : یہ کوثر ہے، جو آپ کے پروردگار نے آپ کے لیے خاص کر رکھا ہے۔

اِس کے بعد جبریل علیہ السلام آپ کو لے کر دوسرے آسمان پر پہنچے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے آسمان کے فرشتوں نے کہا تھا کہ کون آیا ہے؟ انھوں نے کہا: جبریل۔ اُنھوں نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا: میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا: کیا اُنھیں بلایا گیا ہے؟جبریل علیہ السلام نے کہا: جی ہاں۔ اُنھوں نے کہا: مرحبا، خوش آمدید۔

پھر جبریل علیہ السلام آپ کو تیسرے آسمان پر لے گئے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے اور دوسرے آسمان کے فرشتوں نے کہا تھا۔ پھر جبریل علیہ السلام چوتھے آسمان پر لے گئے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے کہا تھا۔ پھر وہ پانچویں آسمان پر لے گئے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے کہا تھا۔ پھر چھٹے آسمان پر لے گئے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے کہا تھا۔ پھر ساتویں آسمان پر لے گئے۔ یہاں بھی فرشتوں نے وہی کچھ کہا، جو پہلے کہا تھا۔

اِن میں سے ہر آسمان پر انبیاے کرام موجود تھے (جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہوئی تھی)۔ اُن انبیا کے نام بھی بیان کیے گئے تھے۔ (راوی بیان کرتے ہیں کہ ) اِن میں سے یہ نام مجھے یاد ہیں: ادریس علیہ السلام دوسرے آسمان پر، ہارون علیہ السلام چوتھے آسمان پر،ایک اور نبی پانچویں آسمان پر ــــــ جن کا نام مجھےیاد نہیں ہے ــــــ ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر اور موسیٰ علیہ السلام ساتویں آسمان پر ــــــ اِس لیے کہ اُنھیں (دنیا میں) اللہ کے ساتھ کلام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ــــــ موسیٰ علیہ السلام نے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جبریل علیہ السلام کے ہم راہ دیکھ کر اور یہ جان کر کہ آپ کو ساتویں آسمان سے بھی اوپر لے جایا جا رہا ہے، تعجب سے) کہا: پروردگار، میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی مجھ سے بھی اوپر جائے گا!

پھر جبریل علیہ السلام آپ کو اِس (ساتویں آسمان)سے بھی اوپر اُن بلندیوں کی طرف لے گئے، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ یہاں تک کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ گئے۔ پھر اللہ رب العزت نے نزول فرمایا اور آپ کے قریب ہوئے۔ یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ پھر اللہ نے آپ کو وحی کی اور اُس کے ذریعے سے ہر روز وشب میں پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا، جو تمھاری امت پر فرض ہوئیں۔

اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نیچے اُترے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ موسیٰ علیہ السلام نے آپ کو روک لیا۔ اُنھوں نے دریافت کیا کہ اے محمد، اللہ نے آپ پر کیا ذمہ داری ڈالی ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھ سے ہر دن رات میں پچاس نمازوں کا عہد لیا گیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ کی امت میں اِس کی ہمت نہیں ہے، (لہٰذا میرا مشورہ یہ ہے کہ) آپ واپس تشریف لے جائیے اور اپنی اور اپنی امت کی جانب سے اِن میں کمی کی درخواست کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جبریل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، گویا اِس بارے میں اُن سے مشورہ چاہتے ہیں۔ جبریل علیہ السلام نے اثبات کا اظہار کیا کہ آپ جانا چاہیں تو ٹھیک ہے۔ چنانچہ آپ پھر اُسی مقام پر بارگاہِ الٰہی میں واپس پہنچے (جہاں پہلے حاضری ہوئی تھی)۔آپ نے درخواست کی کہ پروردگار، ہمارے لیے اِس میں رعایت عطا فرمائیے، کیونکہ میری امت اِس کی طاقت نہیں رکھتی۔ (درخواست کو قبول کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ نے دس نمازیں کم کر دیں۔ (اب چالیس نمازیں رہ گئیں)۔

واپسی پر جب آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو اُنھوں نے آپ کو پھر روک لیا۔ (اور وہی مشورہ دیا، جو پہلے دیا تھا، آپ مشورہ قبول کر کے پھر بارگاہ ِ الٰہی میں حاضر ہوئے)۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے آپ کو (تخفیف کے مشورے کے ساتھ) واپس بھیجنے کا سلسلہ جاری رہا، (اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخفیف ہوتی رہی) یہاں تک کہ فرض نمازوں کی تعداد پانچ رہ گئی۔

موسیٰ علیہ السلام نے اِس کے بعد پھر آپ کو روکا اور (اور حسبِ معمول) کہا: اے محمد، اللہ کی قسم، میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اِس سے بھی کم پر راضی کرنا چاہا تھا، مگر اُنھوں نے کم زوری دکھائی اور اِس (فریضے) کو چھوڑ دیا۔ آپ کی امت تو قلب و بدن اور سماعت و بصارت میں زیادہ کم زور ہے، لہٰذا آپ ایک بار پھر جائیے تاکہ اللہ اِس میں مزید کمی فرما دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا تاکہ اُن کی راے معلوم ہو۔ جبریل علیہ السلام نے اِسے ناپسند نہیں کیا۔ چنانچہ وہ پانچویں مرتبہ آپ کو لے گئے۔

آپ نے درخواست کی کہ پروردگار، میری امت کے لوگ قلب و بدن اور سماعت و بصارت میں کم زور ہیں، اِس لیے آپ سے مزید کمی کی درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! رسول اللہ نے کہا: لبیک و سعدیک (میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں )۔ اللہ نے فرمایا: میرا کہا ہوا تبدیل نہیں ہوتا۔ (چنانچہ حکم تو وہی رہے گا) جیسا کہ میں نے ام الکتاب (یعنی لوح محفوظ) میں تم پر فرض کیا ہے۔ (البتہ، آپ کی امت کے لیے تخفیف کی صورت یہ ہو گی کہ اُن کی ) ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہو گی۔ چنانچہ ام الکتاب میں یہ نمازیں پچاس ہی رہیں گی، مگر آپ کے لیے اِن کی تعداد پانچ ہو گی۔ (گویا ایک نماز کا درجہ دس نمازوں کے برابر ہو گا)۔

(یہ حکم لے کر) آپ واپس موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ اُنھوں نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ آپ نے جواب دیا کہ اللہ نے نمازوں میں اِس طرح تخفیف کی ہے کہ ایک (نماز کی ) نیکی کو دس(نمازوں کی) نیکیوں کے برابر کر دیا ہے۔ اِس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (وہی بات دہرائی اور) کہا: بخدا میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل سے اِس سے بھی کم کا تقاضا کیا تھا، مگر اُنھوں نے کم زوری دکھائی اور اِس (فریضے) کو چھوڑ دیا۔ آپ ایک بار پھر جائیے تاکہ اللہ اِس میں مزید کمی کر دے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : موسیٰ، بخدا ، مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے کہ میں (اِس کام کے لیے) پھر اُس کے پاس جاؤں۔ (اِس پر) موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ(اچھا، تو بس پھر) اب اللہ کا نام لے کر نیچے اتر جائیے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اِس کے بعد جب آپ بیدار ہوئے تو مسجدِ حرام میں تھے۔‘‘

پس منظر

یہ اِس سلسلے کا چوتھا اور آخری واقعہ ہے۔یہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اِسے امام بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ دو اجزا پر مشتمل ہے۔ پہلے جز میں شق صدر کا ذکر ہے۔ یعنی حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک کو کھولا اور اُسے آب ِزم زم سے دھو کر اور ایمان و حکمت سے لبریز کر کے بند کر دیا۔ دوسرے جز میں معراج کی تفصیل بیان ہوئی ہے، جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبریل امین کے ہم راہ آسمانوں کی طرف روانہ ہوئے۔ پھردرجہ بہ درجہ سات آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ سے گزر کر بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوئے اور وہاں سے نمازوں کا تحفہ لے کر واپس لوٹے۔

یہ عام انسانی واقعہ نہیں ہے۔ اِس کا تعلق منصبِ نبوت کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ جب اِس منصب کے لیے کسی انسان کا انتخاب کرتے ہیں تو اُسے اپنی ہم کلامی اور مخاطبت سے فیض یاب کرتے ہیں۔ اِس مخاطبت کی مختلف صورتیں ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے مطابق اختیار کی جاتی ہیں۔ اِس امر کی وضاحت میں ’’میزان‘‘میں لکھا ہے:

’’نبوت کیا ہے؟ یہ مخاطبۂ الٰہی کے لیے کسی شخص کا انتخاب ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اِس منصب کے لیے جب اپنے بندوں میں سے کسی کا انتخاب کر لیتا ہے تو اُس سے کلام فرماتا ہے۔ قرآن نے بتایا ہے کہ انسان کو اِس کا شرف ہمیشہ دو ہی طریقوں سے حاصل ہوا ہے:

ایک عام مخاطبت کے ذریعے سے جو پردے کے پیچھے سے ہوتی ہے۔ اِس میں بندہ ایک آواز سنتا ہے، مگر بولنے والا اُسے نظر نہیں آتا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہی ہوا۔ طور کے دامن میں ایک درخت سے یکایک اُنھیں ایک آواز آنی شروع ہوئی، لیکن بولنے والا اُن کی نگاہوں کے سامنے نہیں تھا۔

دوسرے وحی کے ذریعے سے۔ یہ لفظ کسی کے دل میں کوئی بات ڈالنے کے لیے آتا ہے۔ اِس کی پھر دو صورتیں ہوتی ہیں: اولاً، اللہ تعالیٰ براہِ راست نبی کے دل میں اپنی بات ڈال دے۔ ثانیاً، فرشتہ بھیجے اور وہ اُس کی طرف سے نبی کے دل میں بات ڈالے۔ یہ معاملہ خواب اور بیداری، دونوں میں ہو سکتا ہے۔ پھرجوبات اُس میں کہی جاتی ہے، وہ خواب میں بعض اوقات ممثل بھی ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِس کے نزول کی کیفیات روایتوں میں بیان ہوئی ہیں، اِن سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کی شدید ترین صورت میں اِس سے پہلے گھنٹی کی سی آواز پیدا ہوتی تھی، یہاں تک کہ سخت ترین سردی کے موسم میں بھی آپ پسینے سے تر ہو جاتے تھے۔ اِس سے آگے اِس کی حقیقت کیا ہے؟ قرآن کا ارشاد ہے کہ اِس کو سمجھنا انسان کے حدودِ علمی سے باہر ہے۔چنانچہ فرمایا ہے:

وَيَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ. قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا.

(بنی اسرائیل 17: 85)

’’وہ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں (جو تم پر وحی کی جاتی ہے)۔ اِن سے کہو، یہ روح میرے پروردگار کا ایک حکم ہے اور اِس طرح کے حقائق کاتم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔‘‘‘‘

(130 – 131)

اِس تفصیل سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیا کے ساتھ تکلیم و تخاطب کی جو مختلف صورتیں اختیار کی جاتی تھیں، اُن میں نمایاں یہ ہیں:

1۔ اللہ کا اوٹ میں رہتے ہوئے براہِ راست کلام فرمانا۔

2۔ اللہ کا نبی کے دل میں اپنی بات ڈال دینا۔

3۔ اللہ کا فرشتے کے ذریعے سے بیداری میں اپنا پیغام پہنچانا۔

4۔ اللہ کا بیداری میں حقائق کو ممثل کر کے دکھانا۔

5۔ اللہ کا فرشتے کے ذریعے سے خواب میں اپنا پیغام پہنچانا۔

6۔ اللہ کا خواب میں حقائق کو ممثل کر کے دکھانا۔

واقعۂ معراج کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس میں موخرالذکر دو صورتیں اختیار کی گئی ہیں۔

تفصیل

واقعے کی جو تفصیل روایت سے معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے:

1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات مسجدِ حرام میں آرام فرما رہے تھے۔ روایت میں اِس کے لیے ’وهو نائم في المسجد الحرام ‘ (آپ مسجد حرام میں سو رہے تھے) کے الفاظ آئے ہیں۔ وہاں آپ کے علاوہ اور لوگ بھی سوئے تھے۔22

2۔ اِس عالم میں آپ نے دیکھا کہ تین فرشتے آئے ہیں اور اُنھوں نے آپ کی پہچان کی ہے۔23 اُس رات یہ فرشتے آپ کو دیکھ کر واپس چلے گئے۔

3۔ بعد ازاں کسی رات میں وہ دوبارہ آئے۔24 اِس موقع پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں سو رہے تھے۔ ’ يرى قلبه، وتنام عينه‘ (جب کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا اور آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں) کے الفاظ سے یہی بات واضح ہوتی ہے۔

4۔ اُنھوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے وجودِ اطہر کو اٹھایا اور اُسے زم زم کے کنویں کے پاس لےگئے۔ وہاں حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ کا سینہ چاک کیا اور اندرون کو آب ِزم زم سے دھویا۔ پھر آپ کے پاس ایک سونے کا طشت لایا گیا، جس میں علم و حکمت سے بھرا پیالہ رکھا تھا۔جبریل علیہ السلام نے اِس پیالےسے علم و حکمت کو نکالا 25 اور اُس سے آپ کے سینے کو بھر دیا۔ پھر اُنھوں نے سینہ سی دیا۔26

5۔ یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعدجبریل امین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آسمانوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ آپ باری باری تمام سات آسمانوں میں سے گزرے۔ ہر آسمان پر آپ کو ایک پیغمبر سے ملایا گیا۔ راوی کی یادداشت کے مطابق یہ پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام، حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے ۔ دوسرے آسمان پر آپ کو زمین کے دریاے دَجلہ اور فُرات اور جنت کے حوضِ کوثر کا مشاہدہ بھی کرایا گیا۔ یہ تینوں نہروں کی صورت میں ممثل تھے۔

6۔ سات آسمانوں سے گزار کر آپ کو سدرۃ المنتہیٰ کے مقام پر پہنچایا گیا۔ وہاں آپ کو ذاتِ باری تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوا۔ قرب کی نوعیت ایسی تھی، جیسے کمان کے دو کنارے ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں۔ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پچاس نمازوں کی فرضیت کا حکم وحی کیا گیا۔

7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حکم لے کر واپسی کے سفر پرروانہ ہوئے تو ساتویں آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ اُنھوں نے اللہ سے ہونے والے عہد کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ نے پچاس نمازوں کی فرضیت سے آگاہ فرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے تجربے کی بنا پر تجویز کیا کہ دن رات میں پچاس نمازیں ادا کرنا آپ کی امت کے لیے دشوار ہو گا۔ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ آپ بارگاہ ِ خداوندی میں واپس تشریف لے جائیے اور اللہ کے حضور اِن میں کمی کی درخواست پیش کیجیے۔ آپ کو یہ تجویز درست لگی، لہٰذا آپ واپس جناب ِالٰہی میں پیش ہوئے اور نمازوں کی تعداد میں تخفیف کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے درخواست قبول فرمائی اور دس نمازوں کی رعایت دے دی۔ واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو اُنھوں نے اُسی بات کو پھر دہرایا۔ آپ ایک مرتبہ پھر اللہ کے حضور میں پہنچے اور دس نمازوں کی مزید رعایت حاصل کر کے واپس لوٹے۔ تخفیف کی درخواست کا یہ عمل اِسی طرح جاری رہا، یہاں تک کہ نمازوں کی تعداد پانچ تک باقی رہ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے کمالِ عنایت سے ہر نماز کو دس نمازوں کے برابر کا درجہ دیا اور ارشاد فرمایا کہ ام الکتاب میں یہ پچاس نمازیں ہی رہیں گی، مگرآپ کی امت پر پانچ فرض ہوں گی۔ گویا جب آپ پانچ نمازیں ادا کریں گے تو وہ عنداللہ پچاس ہی شمار ہوں گی۔

8۔ اِس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پانچ نمازوں میں بھی تخفیف کرانے کا مشورہ دیا، مگر اِس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے مشورے کو قبول نہیں فرمایا۔

9۔ اِس پر حضرت موسیٰ نے اتفاق کرتے ہوئےنیچے کی طرف واپس جانے کا مشورہ دیا۔

10۔ پھر جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے اپنے آپ کو مسجدِ حرام میں پایا۔

تفہیم

روایت کی توضیح و تفہیم کے اہم نکات درجِ ذیل ہیں:

اولاً، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سفر اور اِس کے تمام واقعات و مشاہدات عالم رؤیا میں رونما ہوئے۔بیانِ واقعہ کے ابتدائی اور اختتامی الفاظ اِس نوعیت کو نہایت صراحت کے ساتھ واضح کرتے ہیں۔ ابتدا میں بیان ہوا ہے:

حتى اتوه ليلةً اخرى فيما يرى قلبه، وتنام عينه، ولا ينام قلبه، وكذلك الانبياء تنام اعينهم ولا تنام قلوبهم.

’’یہاں تک کہ ایک دوسری رات کو وہ (دوبارہ )آئے۔ اُس وقت آپ کی کیفیت ایسی تھی کہ آپ کی آنکھیں تو سو رہی تھیں، مگر آپ کا دل نہیں سو رہا تھا۔ پیغمبروں کا معاملہ یہی ہوتا ہے کہ (نیند کے عالم میں بھی) اُن کی آنکھیں تو سو جاتی ہیں، مگر اُن کے دل نہیں سوتے۔ ‘‘

اختتامی الفاظ ہیں:

واستيقظ وهو في مسجد الحرام.

’’اِس کے بعد جب آپ بیدار ہوئے تو مسجدِ حرام میں تھے۔ ‘‘

ثانیاً، ذاتِ باری تعالیٰ کےتقرب کو بیان کرنے کے لیےیہاں ’حتى كان منه قاب قوسين او ادنٰى‘ (یہاں تک کہ ذاتِ باری سے فاصلہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم رہ گیا)کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ کم و بیش وہی الفاظ ہیں، جو سورۂ نجم میں جبریل علیہ السلام کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نزدیکی کا مفہوم ادا کرنے کے لیے آئےہیں۔ ارشاد ہے: ’فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰي‘ ۔ (یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا) عربی زبان میں یہ اُسی طرح کا تشبیہ کا اسلوب ہے، جس طرح ہم اپنی زبان میں ’ایک گز یا دو گز کا فاصلہ‘ یا ’دو چار ہاتھ کا فاصلہ‘27 کے الفاظ اختیار کرتے ہیں اور اِس سے ہماری مراد منزل کی نزدیکی یا چیزوں کی قربت ہوتی ہے۔ چنانچہ قرین قیاس یہی ہے کہ روایت میں آپ سے اللہ کے قرب کو نمایاں کرنے کے لیے سورۂ نجم ہی کے پیرایۂ بیان کو مستعار لیا گیاہے۔

ثالثًا، قرب ِ الٰہی کے مذکورہ اسلوب کی بنا پر غالب گمان یہی ہے کہ اِس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے دیدار کا شرف حاصل ہوا ہو گا۔ بعض دیگر روایتوں میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سےیہ الفاظ آئے ہیں کہ میں نے اپنے پروردگار کو اعلیٰ ترین صورت میں دیکھا۔بالبداہت واضح ہے کہ یہاں عالم رؤیا میں دیکھنا مراد ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ روایت کے الفاظ’وتنام عينه، ولا ينام قلبه‘ دلیل ہیں کہ معراج کا واقعہ ایسے موقع پر پیش آیا، جب آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں اور آپ کا دل نہیں سو رہا تھا۔ بعض دیگر روایتوں میں بھی بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو نیند کی کیفیت میں عالم رؤیا میں دیکھا تھا۔ اِس سلسلے کی ایک روایت ملاحظہ ہو: 28

عن معاذ بن جبل رضي اللّٰه عنه، قال: احتبس عنا رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ذات غداة عن صلاة الصبح حتى كدنا نتراءى عين الشمس، فخرج سريعًا فثوب بالصلاة فصلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وتجوز في صلاته، فلما سلم دعا بصوته، فقال لنا: على مصافكم كما أنتم، ثم انفتل إلينا، ثم قال: أما إني سأحدثكم ما حبسنى عنكم الغداة.

’’معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز ادا کرنے سے روکے رکھا، (کیونکہ آپ امامت کے لیے گھر سے باہر تشریف نہیں لائے تھے)۔ قریب تھا کہ ہم سورج کو دیکھ لیں گے کہ آپ تیزی سے باہر تشریف لائے۔ آپ نے نماز کے لیے لوگوں کو بلایا اور نماز پڑھائی۔ (وقت کی کمی کی وجہ سے) آپ نے مختصر نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر لوگوں کو (قریب) بلا لیا۔ فرمایا: اپنی اپنی جگہ بیٹھ جاؤ۔ (جب ہم بیٹھ گئے تو) پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میں تم لوگوں کو وہ بات بتانا چاہتا ہوں، جس کی وجہ سے مجھے فجر میں تاخیر ہوئی ہے۔

إني قمت من الليل فتوضأت وصليت ما قدر لى، فنعست في صلاتلى حتى استثقلت فإذا أنا بربى تبارك وتعالٰى في أحسن صورة.

(آپ نے فرمایا):میں رات کو تہجد کی نماز پڑھنے کے لیے اٹھا۔ میں نےوضو کیا اور حسبِ توفیق نماز ادا کی۔ پھر نماز کے دوران میں مجھ پر غنودگی طاری ہو گئی، یہاں تک کہ میں گہری نیند سو گیا۔اِسی اثنا میں میں نے اپنے آپ کو اپنے بزرگ و برتررب کے حضور میں پایا۔ (میں نے دیکھا کہ) اُس کی ذات اعلیٰ ترین صورت میں (میرے سامنے) ہے۔

فقال: يا محمد، قلت: لبيك رب، قال: فيم يختصم الملا الأعلى؟ قلت: لا أدري، قالها ثلاثًا.

رب تعالیٰ نے آواز دی: اے محمد، میں نے جواب دیا: میں حاضر ہوں، میرے پروردگار! ارشاد فرمایا: کیا آپ جانتے ہیں کہ ملاے اعلیٰ میں کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں (اِس بارے میں) نہیں جانتا۔ اللہ نے یہ سوال تین مرتبہ دہرایا۔ (ہر بار میں نے یہی جواب دیا)۔

قال: فرايته وضع كفه بين كتفي حتى وجدت برد انامله بين ثديي، فتجلى لي كل شيء وعرفت.

(ترمذی، رقم 3235)

(پھر) آپ نے فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا، اُس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا۔ یہاں تک کہ میں نے اُس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے اندر محسوس کی۔ اِس کے نتیجے میں (ملاے اعلیٰ) کی ہر چیز میرے سامنے روشن ہو گئی اور میں (صورتِ حال کو) پوری طرح جان گیا۔‘‘

ابعا ً، روایت کے الفاظ ’فهي خمسون في ام الكتاب وهي خمس عليك‘ (ام الکتاب میں یہ نمازیں پچاس ہی رہیں گی، مگر آپ کے لیے اِن کی تعداد پانچ ہو گی) سے بہ ظاہر یہ بات مفہوم ہوتی ہے کہ نمازِ پنجگانہ اِسی موقع پر فرض ہوئی تھی۔ ہمارے علما کا عام موقف بھی یہی ہے۔لیکن یہ موقف قرآنِ مجید اور بعض روایتوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔اُس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی عبادت ہمیشہ سے اللہ کے دین کا جزو ِلازم رہی ہے۔قرآنِ مجید میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نےانبیاے کرام کو اولین فریضے کے طور پر اِس کی تاکید فرمائی۔ سنن ابوداؤد کی ایک روایت، رقم 393 سے بھی اِس امر کی تائید ہوتی ہے۔ اُس میں بیان ہوا ہے کہ جبریل امین نے ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ نماز ہمیشہ سے پانچ وقت ہی ادا کی جاتی رہی ہے۔ اِس تناظر میں قرین صواب یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی مشروع ہو گئی ہو گی اور معراج میں اِسی مشروعیت کے پس پردہ حقائق کو ممثل کر کے آپ کو دکھایا گیا ہو گا۔

خلاصۂ کلام

گذشتہ صفحات میں استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے موقف کو بالتفصیل بیان کیا گیاہے۔ اِس کا خلاصہ درجِ ذیل ہے:

* ’’اسرا و معراج‘‘ کے زیرِ عنوان بیان کی جانےوالی تفصیلات ایک واقعہ نہیں، بلکہ چار الگ الگ واقعات ہیں۔

* اِن میں سے ایک اسرا، دوسرا قاب قوسین، تیسرا سدرۃ المنتہیٰ اور چوتھا معراج ہے۔

* اول الذکر تین واقعات قرآنِ مجید میں اور چوتھا واقعہ احادیث میں بیان ہوا ہے۔

* اِن واقعات کے زمانۂ وقوع اور ترتیبِ زمانی کے بارے میں قرآن و حدیث میں کوئی حتمی بات مذکور نہیں ہے۔

* چار میں سے دو رؤیا کے اور دو بیداری کے مشاہدات ہیں۔

* چاروں من جانبِ اللہ اور نبوت کے ساتھ خاص ہیں، اِس لیے اِن کی نوعیت بہ منزلۂ وحی ہے۔

* چنانچہ خواہ یہ رؤیا کے مشاہدات ہیں یا چشم سر کے، دونوں صورتوں میں یکساں طور پر معتبر ہیں۔ نیند اور بیداری کے فرق کی بنا پر اِن کے اعتبار میں تفریق نہیں کی جا سکتی۔

* اِن میں سے جو واقعات قرآنِ مجید میں مذکور ہیں، اُن کی قطعیت تو ہر شک و شبہے سے پاک ہے، مگر جو واقعہ روایات میں آیا ہے، اُس کی نسبت اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متحقق ہے تو اُس کی قبولیت میں بھی کسی تردد کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔

* کوئی مسلمان نہ اِن کے وقوع کا انکار کر سکتا ہے اور نہ اِنھیں عام انسانی تجربات کے مماثل قرار دے کر اِن کی الہامی شان کم کر سکتا ہے۔

* چاروں واقعات کے متعلقہ نصوص اِن کی انفرادیت کو پوری طرح واضح کر تے ہیں۔

* تاہم، احادیث و آثار کے بعض راویوں نے اِنھیں ایک واقعےکی صورت میں پیش کیا ہے۔ اِسی بنا پر علما و مفسرین اِنھیں ایک واقعے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

* اِس غلطی کا سبب لفظی اشتراکات یا واقعاتی مماثلتیں یا حفظ کے مسائل یا فہم کی کوتاہیاں یا بیان کی کم زوریاں ہو سکتی ہیں۔

* قرآن کو حدیث کی روشنی میں سمجھنے کے بجاے اگر حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کا اصول اپنا یا جائےتو اِس طرح کی فرو گذاشتوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

  1. یہ بیان کی ترتیب ہے، اِس سے زمانی ترتیب مراد نہیں ہے۔
  2. سورۂ آل عمران (3) کی آیت 26 میں اللہ تعالیٰ نے اِسی تناظر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دعا کی ہدایت فرمائی۔ ارشاد ہے: ’’(اِن کا عہد تمام ہوا،اِ س لیے اب ) تم دعا کرو کہ اے اللہ، بادشاہی کے مالک، توجس کو چاہے، بادشاہی دے اور جس سے چاہے، یہ بادشاہی چھین لے؛ اور جس کوچاہے، عزت دے اورجس کو چاہے،ذلیل کردے۔ تمام خیر تیرے ہی اختیار میں ہے۔ بے شک، توہرچیز پر قدرت رکھتاہے۔‘‘ استاذِ گرامی نے اِس کے تحت حاشیے میں لکھا ہے: ’’یہ بہ ظاہر ایک دعا ہے، لیکن غور کیجیے تو اِس میں بنی اسمٰعیل کے لیے ایک عظیم بشارت چھپی ہوئی ہے، اِس لیے کہ یہ دعا صاف اشارہ کررہی ہے کہ تمام خیر کے مالک، پروردگارِ عالم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ دنیا کی بادشاہی بنی اسمٰعیل کو دے دی جائے گی اوربنی اسرائیل کی کوئی مخالفت بھی اِس فیصلے کو تبدیل نہ کرسکے گی۔ اُن کے لیے ذلت ہی ذلت ہے۔ چنانچہ وہ اِس دنیا میں اب اگر رہیں گے تو بنی اسمٰعیل کے محکوم ہو کر رہیں گے، اِس کے سوا جینے کی کوئی دوسری صورت اُن کے لیے باقی نہیں رہی۔‘‘(البیان 1/ 335)
  3. یہ حرم مکہ سے تقریباً 1300 کلو میٹر کے فاصلے پر اور کم و بیش 40 دن کی مسافت پر تھی۔ اِس کا تعارف اِسی بنا پر ’الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی‘، یعنی دور کی مسجد کے الفاظ سے کرایا ہے تاکہ مخاطبین کا ذہن آسانی سے اِس کی طرف منتقل ہو سکے۔
  4. اِس کی وجہ یہ ہے کہ نہ وہ نشانیاں انسانی علم و عقل کی گرفت میں آسکتی ہیں اور نہ الفاظ اُن کی تفصیل کا تحمل کر سکتے ہیں۔
  5. یہ بات کلام میں لفظاً مذکور نہیں ، مگر اُس سے متبادر ہے۔
  6. رؤیا کے موضوع پر تفصیلی بحث آیندہ صفحات میں ’’واقعۂ اسرا میں ’رؤیا‘ سے مراد ـــــ روایتی موقف‘‘ کے زیرِ عنوان کی گئی ہے۔
  7. یہ اُن آیات کی طرف اشارہ ہے، جن میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی تھی کہ سرزمین مکہ کو اب ہم اُس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے اُس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ اُس انجام کی صریح پیشین گوئی اور اُس کے حوالے سے قریش کو تنبیہ تھی، جس سے وہ فتح مکہ کے موقع پر دوچار ہوئے۔ملاحظہ ہو: الرعد13: 41۔ الانبیاء21 :44۔
  8. اِس سے جہنم کا درخت شجرۂ زقوم مراد ہے۔ اِس کے بارے میں ’’البیان‘‘ کا نوٹ ہے: ’’…جس میں نہ سایہ ہو گا نہ پھل، بلکہ کانٹوں کا ایک ڈھیر ہو گا،جس کو دوزخی بھوک سے بے تاب ہو کر کھائیں گے تو اُن کے پیٹ میں وہ ایسی آگ لگا دے گا، جیسے اُن کے پیٹ میں پانی کھول رہا ہو۔ اِس درخت کی یہی صفت ہے، جس کے لیے آیت میں ’مَلْعُوْنَة‘کا لفظ آیا ہے۔ یعنی اُس کو خدا نے پھول، پھل اور سایے کی برکتوں والا نہیں بنایا، بلکہ اِن سب چیزوں سے محروم کرکے اپنی لعنت کا ایک نشان بنا دیا ہے۔ قرآن نے لوگوں کی تنبیہ و تخویف کے لیے جب اِس کا ذکر کیا تو قریش کے لال بجھکڑوں نے اِس کو بھی استہزا کا موضوع بنا لیا اور کہا کہ ذرا اِس شخص کو دیکھو، ایک طرف کہتا ہے کہ دوزخ میں ایسی آگ ہو گی، جو پتھروں کو جلا دے گی اور دوسری طرف اُسی زبان سے خبر دے رہا ہے کہ وہاں درخت بھی اگتے ہیں۔‘‘(3/ 94- 95)
  9. سورۂ تکویر میں حضرت جبریل علیہ السلام کی صفات کو اِن الفاظ میں بیان فرمایا ہے:’اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ. ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ. مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ‘،’’بے شک، یہ ایک رسولِ کریم کا لایا ہوا کلام ہے،بہت صاحبِ قوت، عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ،اُس کا حکم وہاں مانا جاتا ہے اور وہ نہایت امین بھی ہے ‘‘(81: 19- 21) ۔
  10. یعنی افق کا وہ بالائی کنارہ جو زمین کے اوپر بالکل سیدھی سمت میں ہوتا ہے، جہاں چودھویں رات کا چاند پوری تابانی کے ساتھ نظر آتا ہے یا جہاں سورج نصف النہار کے وقت قائم ہوتا ہے۔
  11. یہ اُن کا معمول نہ تھا۔ عام طور پر وہ انسانی شکل میں یا کسی اور صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتے تھے۔
  12. روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا قد و قامت ایسا تھا، گویا اُس نے پورے آسمان کا احاطہ کیا ہو اور اُن کے 6 سو سے زیادہ پر تھے۔
  13. امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی مزید وضاحت اِن الفاظ میں کی ہے: ’’…یعنی یہ نہیں ہوا کہ دور سے اپنی بات پھینک ماری ہو اور اِس امر کی پروا نہ کی ہو کہ آپ نے بات اچھی طرح سنی یا نہیں اور سنی تو سمجھی یا نہیں، بلکہ پورے التفات و اہتمام سے اِس طرح آپ کے کان میں بات ڈالی کہ آپ اچھی طرح سن اور سمجھ لیں۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ کاہنوں کے شیاطین کا جو علم ہوتا ہے، اُس کو قرآن نے ’خَطِفَ الْخَطْفَةَ‘ (الصافات 37: 10) سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی اچکی ہوئی بات، جس طرح چور اور اچکے کوئی چیز اچک لیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب استاد اچکے ہیں توو ہ اپنے شاگردوں کو تعلیم بھی اچکوں ہی کی طرح دیتے ہوں گے۔ قرآن نے یہاں حضرت جبریل علیہ السلام کے طریقۂ تعلیم کو اِس لیے نمایاں فرمایا ہے کہ دونوں کا فرق اچھی طرح واضح ہو سکے۔‘‘ (تدبر قرآن 8/54-55)
  14. تاہم، یہ واقعہ چونکہ قرآنِ مجید کی حقانیت پر استدلال کے لیے بیان ہوا ہے، اِس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ اِس موقع پر قرآن ہی کا کوئی حصہ وحی کیا گیا ہو گا۔
  15. یہ اُسی طرح کا اسلوب ہے، جس طرح ہم ایک گز یا دو گز کے الفاظ بولتے ہیں۔ (تدبر قرآن8/55)
  16. ’فَاَوْحٰي اِلٰي عَبْدِهٖ مَا اَوْحٰي‘ میں ’اَوْحٰي‘ کا فاعل بادی النظر میں حضرت جبریل کو بھی مانا جا سکتا ہے۔ اِس بنا پر بعض صوفیہ نے یہ مفہوم اخذ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے،معاذ اللہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریل کا بندہ قرار دیا ہے۔ یہ سراسر باطل مفہوم ہے۔ قرآنِ مجید کے عرف اور اسلوب کا لحاظ رہے تو اِس مفہوم کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔
  17. واضح رہے کہ یہ دونوں صورتیں بھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آتی تھیں تو من جانبِ اللہ اور مبنی بر حق ہوتی تھیں۔
  18. یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل امین کو اُن کی اصلی صورت میں فقط دو مرتبہ دیکھا ہے؟ روایات کے مطابق اِس کا جواب اثبات میں ہے۔ مسلم کی حدیث ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سورۂ تکویر اور سورۂ نجم کی ) مذکورہ آیتوں میں جبریل علیہ السلام مراد ہیں۔ میں نے اُنھیں دو موقعوں کے علاوہ اُن کی اُس صورت میں نہیں دیکھا، جس پر اللہ نے اُنھیں تخلیق کیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ آسمان سے اتر رہے تھے اور اُن کا وجود آسمان سے زمین تک پھیلا ہوا تھا۔‘‘ (رقم457)
  19. اِس پر’البیان ‘ کا حاشیہ یہ ہے: ’’یہ اُن باغوں کا ذکر ہے، جہاں اصل جنت میں داخل ہونے سے پہلے اولین ضیافت کے لیے ایمان والوں کو ٹھیرایا جائے گا۔ اِن کے لیے ’جَنّٰت‘کا لفظ جمع استعمال ہوا ہے۔ اِس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ تمام اہل جنت کے لیے الگ الگ ہوں گے۔‘‘ (4 / 102)
  20. فرشتوں کے اِس مکالمے سے یہی بات مفہوم ہوتی ہے: ’فقال اولهم: ايهم هو؟ فقال اوسطهم: هو خيرهم، فقال آخرهم: خذوا خيرهم ‘ (اِن میں سے ایک نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ جواِن میں سب سے بہتر ہیں۔ تیسرے نے کہا کہ اِن میں جو سب سے بہتر ہیں، اُنھیں لے لو) ۔
  21. اِس کا مقصد غالباً یہ ہو گا کہ آیندہ شبِ معراج کو جب وہ آپ کو لینے آئیں تو اُنھیں پہچاننے میں کوئی غلطی نہ ہو۔
  22. روایت کے الفاظ میں یہ صراحت نہیں ہے کہ یہ دوسری آمد اگلی رات ہی میں ہوئی یا کچھ ایام گزرنے کے بعد ہوئی۔
  23. اسلوب سے یہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ علم و حکمت جیسی غیر مادی شے کو کسی سیال مادے کی صورت میں ممثل کر کے آپ کو دکھایا گیا۔
  24. یہ تمام معاملات عالم رؤیا میں انجام پائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ واقعہ کے آغاز میں بیان کر دیا گیا ہے کہ جب یہ واقعہ رونما ہوا تو آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں۔
  25. قائم چاند پوری سے منسوب معروف شعر ہے: قسمت کی خوبی دیکھیے، ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا
  26. اِس موضوع پر تفصیلی بحث آیندہ صفحات میں’’ رؤیتِ باری تعالیٰ‘‘ کے زیرِ عنوان کی گئی ہے۔