مواد پر جائیں

باب 4: باب دوم

باب دوم

شق قمر کا واقعہ ـــــــ قرآنِ مجید کی روشنی میں

قرآنِ مجید میں شق قمر کا واقعہ سورۂ قمر (54) کی ابتدا ئی آیات میں مذکور ہے۔ اِس کی نوعیت اورحقیقت اور غرض و غایت کو جاننے کے لیے اِن آیات کے معانی و مطالب کو سمجھنا ضروری ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ. وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ. وَ کَذَّبُوۡا وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ وَ کُلُّ اَمۡرٍ مُّسۡتَقِرٌّ. (القمر 54: 1-3)

’’وہ گھڑی قریب آ گئی، جس سے اِنھیں خبردار کیا جا رہا ہے اور چاند شق ہوگیا۔ (مگر یہ نہ مانیں گے) اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے،جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ (چنانچہ یہی ہوا ہے) اور اِنھوں نے اب بھی جھٹلا دیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔ اور (ہم نے اُسی وقت اِن کو نہیں پکڑا، اِس لیے کہ ہمارے ہاں) ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔‘‘

اِس مقام کو جب قرآنِ مجید کے مجموعی مطالب اور نظم کلام کی روشنی میں پڑھا جائے تو درجِ ذیل باتیں متعین ہوتی ہیں:

1۔ سورہ کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ام القریٰ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذارِ عام میں نازل ہوئی ہے۔ سورہ کا موضوع قیامت کا اثبات اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ اِس میں خدا کی دینونت کے ظہور سے استدلال کیا گیا ہے۔

2۔ سورہ کے مضمون سے یہ بھی واضح ہے کہ اِس میں خطاب قریش مکہ سے ہے، جو عذاب کے لیے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔درجِ بالا آیات میں ’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ‘ (اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے) کے الفاظ بھی اِسی بات کی تصریح کرتے ہیں۔

3۔ سورہ میں قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کی سرگذشتوں کا حوالہ دیا ہے۔ واضح کیا ہے کہ اِن کی طرف اللہ کے رسول مبعوث ہوئے۔ اُن کے ساتھ اللہ نے اپنی نشانیاں بھی نازل فرمائیں، مگر یہ آخر دم تک جھٹلانے ہی پر کمر بستہ رہیں۔ لہٰذا اللہ نے اُن پر اپنا عذاب نازل فرمایا۔ قریش مکہ کا معاملہ اِن سے مختلف نہیں ہے۔ چنانچہ اُن کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہو گا، جو سابقہ اقوام کے مجرمین کے ساتھ ہوا تھا۔اِس بات کو ایک حتمی پیش گوئی کے طور پر ارشاد فرمایا ہے۔ سورہ کی آیت 45کے الفاظ ہیں:

سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَ یُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ.

(54 :45)

”اِن کا یہ جتھا عنقریب شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہوں گے۔“

عذاب کی اِس پیش گوئی کے حوالے سے استاذِ گرامی نے لکھا ہے:

’’یہ صریح پیشین گوئی ہے، جو ہجرت سے برسوں پہلے کر دی گئی تھی اور جس طرح کی گئی تھی، حرف بہ حرف اُسی طرح پوری ہو گئی۔ قریش پر اتمام حجت کے بعد یہ منظر پہلی مرتبہ معرکۂ بدر کے موقع پر دیکھا گیا۔ خدا کی افواجِ قاہرہ کے مقابل میں اُن کے جتھے اِس کے بعد کسی میدان میں بھی ٹھیر نہیں سکے، یہاں تک کہ مکہ فتح ہو گیا اور لوگوں نے ہر جگہ اُنھیں اپنی آنکھوں سے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے دیکھ لیا۔‘‘(البیان 91/5)

4۔ سورہ کا آغاز ’اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ‘ (قیامت کی گھڑی قریب آ گئی) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ استاذِ گرامی کے الفاظ میں ’السَّاعَۃُ‘ سے یہاں قیامت کی گھڑی مراد ہے، ’’جو رسول کے مکذبین کے لیے اُس عذاب سے شروع ہو جاتی ہے، جو اُس کی تکذیب پر اصرار کے نتیجے میں اُن پر لازماً آتا ہے۔‘‘11 یعنی اُن کے اخروی فیصلے کا نفاذ اِسی دنیا میں ہو جاتا ہے اور اُن کی سزا بھی یہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔ آخرت میں اُن کا مزید حساب کتاب نہیں ہوتا۔ وہ پہلے دنیوی عذاب جھیلتے ہیں، پھر قبر کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر اُسی کے تسلسل میں دوزخ کا ایندھن بنتے ہیں۔ کفار ِقریش کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ تکذیب اور تکفیر کی اِسی روش پر قائم رہے تو اُن کا انجام بھی یہی ہوگا۔ عنقریب اُن کا فیصلہ صادر ہو جائے گا اور اُن کے سلسلۂ عذاب کا آغاز ہو جائے گا۔

5۔ ’وَانۡشَقَّ الۡقَمَرُ‘ کے الفاظ چاند کے شق ہونے یا اُس کے پھٹ جانے کے بارے میں بالکل صریح ہیں۔ ’انۡشَقَّ‘ ماضی کا فعل ہے، جو کسی عمل کے وقوع اور تکمیل پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی شق ہونے کا فعل واقع ہو کر پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا۔ اِس سے آگے متصل آیت بھی اِسی بات کی تاکید و توثیق کر رہی ہے کہ یہ مستقبل میں ہونے والا کوئی واقعہ12 نہیں ہے، جسے ابھی ظہور پذیر ہونا ہے، بلکہ ایسا واقعہ ہے، جو واقع ہو چکا ہے۔ اگلی آیت یہ ہے: ’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ‘ (اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے)۔

استاذِ گرامی بیان کرتے ہیں:

’’’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ ‘، ’’اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے، جو پہلے سے چلا آ رہا ہے‘‘ کا جملہ اِس بات کی صریح دلیل ہے کہ شق قمر کا یہ واقعہ مستقبل کی کوئی خبر نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے، جس سے قرآن نے عذاب اور قیامت کے وقوع پر استدلال کیا ہے۔ اِس لیے کہ ’اِنْشَقَّ الْقَمَرُ‘ کے معنی اگر یہ کیے جائیں کہ چاند شق ہو جائے گا تو اِس کے بعد یہ جملہ بالکل بے جوڑ ہو جاتا ہے۔‘‘(البیان5/ 83)

6۔ اِسی طرح اِسے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے کسی زمانے سے بھی منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ آیت 2 سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ اِس کے مخاطبین قریش ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ وہ اِس نوعیت کی نشانیوں کو جادو قرار دے کر جھٹلانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

شق قمر کے واقعے کی نوعیت

شق قمر کو قرآنِ مجید نے ’آیۃ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اِس کے معنی و مصداق اور اطلاق و استعمال کے حوالے سےپہلے باب میں مفصل بحث کی گئی ہے۔ اِس بحث کی نوعیت اگلے مباحث کے فہم میں گویا مقدمے کی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کے علم و استدلال اور تحلیل و تجزیہ میں اِسے اساس کی حیثیت حاصل ہے۔ اِس بنا پر مناسب ہو گا کہ گذشتہ باب کا خلاصہ سامنے رکھ لیا جائے۔ یہ چند نکات میں درجِ ذیل ہے:

* ’آیۃ‘ عربی زبان کا معروف لفظ ہے۔ اِس کے معنی علامت اور نشانی کے ہیں۔

* یہ لفظ جب اللہ تعالیٰ کی نسبت سے بیان ہو تو اِس سے مراد انفس و آفاق کی وہ نشانیاں ہوتی ہیں، جو اُس کی مختلف صفات کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

* قرآنِ مجید جب انسانوں کو اللہ کی صفات کے بارے میں توجہ دلانا چاہتا ہے تو وہ اِنھی آیات کو بہ طورِ دلیل پیش کرتا ہے اور اِس طرح اُن کے لیے تذکیر و ترغیب، تہدید و تخویف اور تنبیہ و تعذیب کا سامان کرتا ہے۔

* اِس اصطلاحی مفہوم میں یہ لفظ قرآنِ مجید میں چار مختلف مصداقات کے لیے استعمال ہوا ہے۔

ایک، ـــــ انفس و آفاق میں معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی کے لیے ـــــ جو انفس و آفاق میں ظاہر و باہر ہیں اور جن کا تعلق اللہ کی قدرت کے عادی امور سے ہے۔ اللہ کا انسان کو مٹی کے خمیر سے تخلیق کرنا یا سورج اور چاند کو ایک قانون کا پابند کرنا یا آسمان سے پانی برسا کر مردہ زمین کے اندر زندگی پیدا کرنااِسی نوعیت کی آیات ہیں۔

دوسرے، ـــــ انفس و آفاق میں معمول کے خلاف ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی کے لیے ـــــ جو مافوق الفطرت اور خارقِ عادت ہیں اور اللہ کے براہِ راست حکم سے یا کارکنانِ قضا و قدر کے ذریعے سے واقع ہوتی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانۂ رسالت میں بنی اسرائیل پر من و سلویٰ اترنا، صحراے سینا میں اُن پر مستقل بادلوں کا سایہ رہنا، حضرت مسیح علیہ السلام کا بن باپ کے پیدا ہونا اور گہوارے میں کلام کرنا اِسی کی مثالیں ہیں۔

تیسرے، ـــــانفس و آفاق کی خلافِ معمول ظاہر ہونے والی اُن آیاتِ الٰہی کے لیے ـــــ جو مافوق الفطرت اور خارقِ عادت ہیں اور اللہ کے حکم پر اُس کے نبیوں کے ذریعے سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اِنھی کو مذہبی اصطلاح میں ’’معجزہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اِس کے نظائر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ بننا، اُس کی ضرب سے بارہ چشموں کا پھوٹنا، حضرت مسیح علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا اور رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پر کلام الٰہی کا جاری ہونا شامل ہیں۔

چوتھے، ــــــ انفس و آفاق میں حسبِ معمول اور خلافِ معمول ظاہر ہونے والی آیاتِ الٰہی کو بیان کرنے والی آیاتِ قرآنی کے لیے ــــــجو قرآن کے بین الدفتین درج ہیں اور اُس کی سورتوں کے فقروں کے طور پر تلاوت کی جاتی ہیں۔

اِن نکات کی روشنی میں اب سوال یہ ہے کہ سورۂ قمر میں لفظ ’ آیۃ‘ مذکورہ چار اطلاقات میں سے کس اطلاق کو قبول کرتا ہے؟

اگر ہم اِسےقرآن کے جملے یا آیت کے مفہوم میں لینا چاہیں تو ظاہر ہے کہ اِس کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔ ’وَاِنۡ یَّرَوۡا اٰیَۃً یُّعۡرِضُوۡا وَیَقُوۡلُوۡا سِحۡرٌ مُّسۡتَمِرٌّ‘ کا جملہ، بلاشبہ قرآن کی آیت ہے، مگر اِس جملے کے اندر استعمال ہونے والے لفظ ’آیۃ ‘ کا مطلب آیت قرآنی ہر گز نہیں ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ قرآن کے کسی فقرے یا بیان کے لیے نہیں، چاند شق ہونے کے واقعے کے لیے استعمال ہوا ہے۔

اِسی طرح اگر اِس کا اطلاق انفس و آفاق کی معمول کے مطابق ظاہر ہونے والی نشانیوں پر کیا جائے تو یہ بھی درست نہ ہو گا، کیونکہ یہ معمول کا واقعہ نہیں ہے۔ معلوم انسانی تاریخ میں یہ واقعہ ایک ہی مرتبہ پیش آیا ہے۔ چاند کا طلوع و غروب، اُس کا عروج و محاق، اُس کی ماہِ نو، ماہِ کامل اور ماہِ مشبہ کی مختلف صورتیں، اُس کا جزوی یا مکمل گرہن، اُس کی سرخی، سفیدی اور سیاہی، اُس کی گردش سے مہ و سال کا تعین، اُس کی کشش سے سمندر کا مد و جزر، اُس کی دل کش روشنی اور اُس روشنی میں رات کے مسافروں کے لیے رہنمائی کا سامان، یہ سب اللہ کی آیات ہیں، اُس کی عظیم نشانیاں ہیں، مگر یہ سب روز مرہ اور معمول کے واقعات ہیں۔ اِن کے وقوع میں تسلسل اور تواتر ہے۔ انسان اِن سے مانوس اور مربوط ہوتے ہیں۔ یہ آفاق کی عاداتِ مستمرہ ہیں، خوارقِ عادات نہیں ہیں۔ اِن سب کے برعکس شق قمر ایک خلاف معمول اور خارقِ عادت واقعہ ہے، اِس لیے آیت کے اِس مفہوم کا بھی اِس پر اطلاق نہیں ہو سکتا۔

جہاں تک اُن آیات کا تعلق ہے، جو معجزات و خوارق کی صورت میں انبیا کے توسط سے ظاہر ہوتی ہیں تو اُن کے زمرے میں بھی اِس واقعے کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا توسط اختیار نہیں کیا گیا۔ یعنی نہ آپ نے اپنی زبان سے کوئی الفاظ صادر فرمائے، نہ دستِ مبارک کے اشارےسے چاند کو دو ٹکڑے ہونے کا حکم دیا اور نہ اُس کی جانب کسی چیز کو پھینکا۔ ایسی کوئی صورت ہوتی تو بلاشبہ، اِس واقعے کا شمار اُن آیات میں ہوتا،جو اللہ کے اذن پر انبیا کے ہاتھ سے ظاہر ہوتی ہیں۔

اب ایک ہی صورت باقی ہے کہ اِسے آیاتِ الہٰی کی اُس نوعیت پر محمول کیا جائے، جو خارقِ عادت تو ہے، مگراللہ کی طرف سے براہِ راست ظاہر ہوئی ہے۔

چنانچہ درست تاویل یہی ہے کہ یہ واقعہ ایسی غیر معمولی نشانی ہے، جو اللہ کے براہ ِ راست حکم سے ظاہر ہوئی اور اِس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط کو اختیار نہیں کیا گیا۔ یعنی اِس کا شمار اُسی طرح کی نشانیوں میں ہوتا ہے، جیسی اِس سے پہلےبنی اسرائیل کے پیغمبروں کے زمانے میں ظاہر کی گئیں۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اِسی طرح کی نشانیاں دکھانے کا فیصلہ کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ سورۂ حٰم السجدہ اور سورۂ نمل میں بیان ہواہے۔ حٰم السجدہ میں اعلان فرمایاہے:

سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ….

(41: 53)

’’(تم مطمئن رہو، اے پیغمبر، اور یہ بھی متنبہ ہو جائیں)، اِنھیں ہم عنقریب اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود اِن کے اندر بھی، یہاں تک کہ اِن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن بالکل حق ہے…۔ ‘‘

سورۂ نمل میں ارشاد ہے:

وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ سَیُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ فَتَعۡرِفُوۡنَہَا ؕ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ. (27: 93)

’’اور کہہ دو کہ شکر اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ عنقریب اپنی نشانیاں تمھیں دکھائے گا اور تم اُنھیں پہچان لو گے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، تمھارا رب اُس سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے حٰم السجدہ کے اعلان کو ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور مکذبین قرآن کے لیے تہدید و وعید‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ اِس کی وضاحت میں اُنھوں نے لکھا ہے:

’’مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو، اُس کے دلائل کی بنیاد پر، ماننے کے لیے تیار نہیں، بلکہ اُس کی تصدیق کے لیے ہماری نشانیاں ہی دیکھنے پر مصر ہیں تو عنقریب وہ وقت بھی آ رہا ہے، جب مکہ کے اطراف میں بھی اور خود مکہ میں، قریش کے اندر بھی، اِس کی حقانیت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوں گی کہ یہ پکار اٹھیں گے کہ بے شک، قرآن بالکل حق ہے۔ ’آیات‘ سے مراد غلبۂ حق اور ہزیمتِ باطل کے وہ آثار و شواہد ہیں، جن کی قرآن نے پیشین گوئی کی ہے۔ یہ پیشین گوئی اِس سورہ میں بھی پیچھے تاریخی دلائل کی روشنی میں گزر چکی ہے۔ ابتداءً تو قریش کے لیڈروں نے اِن باتوں کو تعلّی پر محمول کر کے اِن کا مذاق اڑایا، لیکن جب مدینہ میں اور خود مکہ کے اندر اور اُس کے اطراف میں، یہاں تک کہ خود قریش کے اچھے لوگوں کے اندر بھی اسلام جڑ پکڑنے لگا، تب اُن کو اور اُن کے پشت پناہوں کو کچھ تنبہ ہوا۔ بالآخر ہجرت کے بعد غلبۂ اسلام کے ایسے واقعات پیش آئے کہ قریش تو درکنار روم و فارس کے لیے بھی اسلام کے مقابل میں ٹکنا ناممکن ہو گیا۔‘‘ (تدبر قرآن 7/128- 129)

استاذ ِگرامی سورۂ نمل کی مذکورہ آیت کے تحت لکھتے ہیں:

’’یعنی تمھیں پتا چل جائے گا کہ یہ وہی نشانیاں ہیں، جن کے بارے میں میں نے تمھیں خبردار کر دیا تھا۔ چنانچہ معلوم ہے کہ ہجرت کے بعد یہ سب نشانیاں ظاہر ہوگئیں اور لوگوں نے بہ چشم سر دیکھ لیا کہ خدا کے پیغمبر نے کتنی سچی باتیں بتائی تھیں۔‘‘

(البیان 3/581)

چاند کو دو ٹکڑے کرنا، درحقیقت اُسی فیصلے کا اظہار تھا، جس کا اعلان پہلے کر دیا گیا تھا۔ یہ آفاق میں ظاہر ہونے والی نہایت غیر معمولی اور عظیم الشان نشانی تھی۔ اِس کی حیرت انگیزی، اِس کی شان، اِس کے ہول اور اور اِس کےرعب و دبدبے نے اِسے ایک عظیم آیتِ الٰہی کے طور پر نمایاں کیا تھا۔نوعیت کے اعتبار سے اِس کا شماراُن آیات میں ہوتا ہے، جو اللہ کی طرف سے براہِ راست ظاہر کی گئی تھیں اور جن میں انبیا کے توسط کو اختیار نہیں کیا گیا تھا۔ گویا یہ اُسی قسم کی نشانیوں میں سے ہے، جیسی اِس سے پہلےبنی اسرائیل کے پیغمبروں کے زمانے میں ظاہر کی گئیں۔ اِن کی مثالیں من و سلویٰ کا اترنا، بدلیوں کا سایہ فگن ہونا، کوہِ طور کا معلق ہونا، سیدنا مسیح علیہ السلام کا بن باپ کے تخلیق پاناہیں۔

شق قمر کے واقعے کا مقصد

قرآن سے یہ بھی واضح ہے کہ شق قمر کی نشانی کفارِ قریش کے لیے تھی اور اِس کا مقصد اُنھیں ’الساعۃ ‘ ،یعنی قیامت کی گھڑی کے بارے میں متنبہ کرنا تھا۔ رسول کے مکذبین کے لیے قیامت کی یہ گھڑی اُس عذاب سے شروع ہوتی ہے، جو اُس کی تکذیب پر اصرار کے نتیجے میں دنیا ہی میں برپا ہو جاتا ہے اور اِس گھڑی کا اتمام اُس وقت ہو گا، جب صور پھونکا جائے گا اور قیامت واقع ہو جائے گی۔

اِس عذاب کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے انبیا کی دعوت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اِس کی تفصیل اِس طرح ہےکہ اللہ کے نبی دعوت الیٰ اللہ اور قیامت کے انذار و بشارت کے لیے دنیا میں آتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے مخاطبین کو اللہ پروردگارِ عالم کی طرف بلاتے ہیں اور ماننے والوں کو قیامت میں اچھے انجام کی خوش خبری سناتے ہیں اور نہ ماننے والوں کو برے انجام سے خبردار کرتے ہیں۔ یہ نبیوں کا منصبی فریضہ ہے۔ اُن کے اِس فریضے کو قرآن نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیۡنَ وَمُنۡذِرِیۡنَ….

(البقرہ2: 213)

’’لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر (اُن میں اختلاف پیدا ہوا تو) اللہ نے نبی بھیجے، بشارت دیتے اور انذار کرتے ہوئے…۔ ‘‘

نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ حکم اِن لفظوں میں آیا ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا. وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا.

(الاحزاب33: 45-46)

’’اے نبی، (تم بھی بے پروا ہو جاؤ)، ہم نے تمھیں گواہی دینے والا اور خوش خبری سنانے والا اور خبردار کرنے والابنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کے اذن سے اُس کی طرف دعوت دینے والا اور (لوگوں کو تاریکیوں سے نکالنے کے لیے) ایک روشن چراغ۔‘‘

اِن نبیوں میں سے بعض ہستیوں کو اللہ ’’نبوت‘‘ کے ساتھ ’’رسالت‘‘کے منصب پر بھی فائز کرتے ہیں۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ نبی اپنے مخاطبین پر حق کو آخری درجے میں واضح کر کے اُن پر اللہ کی حجت تمام کر دے۔ آسمان کی عدالت زمین پر لگ جائے اور جھٹلانے والوں کے اخروی اور حتمی انجام کو اِسی دنیا میں طے اور عملاً نافذ کر دیا جائے۔ گویا رسول کے مکذبین کے لیے ایک قیامتِ صغریٰ برپا ہو اور اُن کی جنت اور جہنم کا فیصلہ اِسی زندگی میں ہو جائے۔ قرآن میں اِن رسولوں کی جوسرگذشتیں بیان ہوئی ہیں، اُن سے واضح ہے کہ حضرت نوح، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت ہود، حضرت شعیب، حضرت موسیٰ علیہم السلام کے منکرین کے ساتھ یہی معاملہ ہوا۔ وہ آفاتِ سماوی کے ذریعے سے نیست و نابود کیے گئے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مکذبین کو بھی اِسی قانون کے تحت آپ کے صحابہ کی تلواروں کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔

اِس تناظر میں دیکھیے، سورہ کے آغاز میں فرمایا ہے کہ قریش کے منکرین کے لیے ’الساعۃ‘ ، یعنی عذاب کی گھڑی قریب آ گئی، جس کے بارے میں اللہ کا رسول اُنھیں متنبہ کر رہا تھا او ر اِس کی نشانی کے طور پر اللہ نے چاند کو شق کر کے دکھا دیا ہے۔ اِس تمہید کے بعد انبیاے سابق کی سرگذشتوں کا حوالہ دیا ہے اور بتایا ہے کہ اُن کے مخاطبین نے بھی اُنھیں جھٹلایا تھا تو اللہ نے اُنھیں نیست و نابود کر دیا۔ چنانچہ قوم نوح نے جھٹلایا تو اُسے پانی میں غرق کر دیا، عاد نے جھٹلایا تو اُنھیں بادِ تند سے ہلاک کر دیا اور اُن کی لاشیں کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح ہو گئیں، جو ہوا کے زور سے ادھر ادھر لڑھک رہے تھے، ثمود نے جھٹلایا تو اللہ نے اُن کے لیے اونٹنی کو نشانی بنا دیا اور جب اُنھوں نے اُس کی کونچیں کاٹ دیں تو اللہ نے اُنھیں ہول ناک کڑک اور ہیبت ناک چیخ سے ہلاک کر دیا اور اُن کی آبادیوں کو بالکل پامال کر ڈالا، قوم لوط نے تکذیب کی تو اُنھیں پتھر برسانے والی ہوا سے تباہ و برباد کر دیا، قوم فرعون نے جھٹلایا تو اُسے بھی زبردست قوت سے دبوچ کر فنا کر ڈالا۔ اِن تاریخی شہادتوں کو پیش کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اگر اِن قوموں کے جھٹلانے کا نتیجہ عذاب کی صورت میں نکلا ہے تو تمھارے جھٹلانے کا نتیجہ مختلف کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر تم کچھ دیر اور اِسی روش پر قائم رہے تو سمجھ لو تمھارے عذاب کا وقت بھی قریب آ لگا ہے۔ شق قمر کا غیر معمولی واقعہ اِسی کی ایک نشانی ہے۔یہ اِس حقیقت کا پتا دیتی ہے کہ جو قادر ِمطلق چاند جیسے عظیم کرّے کو دو ٹکڑے کر کے پھر جوڑ سکتا ہے، اُس کے لیے تمھارے جوڑ بند الگ کر کے دوبارہ جوڑنا چنداں مشکل نہیں ہے۔ چنانچہ آگاہ رہو کہ تمھاری قیامتِ صغریٰ کی ساعت بھی قریب ہے اور اُسی کے تسلسل میں قیامت کبریٰ کی ساعت بھی زیادہ دور نہیں ہے۔ سورہ کے آخری حصے میں ارشاد فرمایا ہے:

اَکُفَّارُکُمۡ خَیۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓئِکُمۡ اَمۡ لَکُمۡ بَرَآءَۃٌ فِی الزُّبُرِ. اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ نَحۡنُ جَمِیۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ. سَیُہۡزَمُ الۡجَمۡعُ وَیُوَلُّوۡنَ الدُّبُرَ. بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَ السَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَ اَمَرُّ.

(القمر 54: 43-46)

’’(قریش کے لوگو، پھر) تمھارے یہ منکرین کیا اُن سے کچھ بہتر ہیں یا صحیفوں میں تمھارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟ کیا اِن کا زعم ہے کہ ہم ایسا جتھا ہیں، جو مقابلہ کر لے گا؟ (سن لو)، اِن کا یہ جتھا عنقریب شکست کھا جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہوں گے۔ نہیں، بلکہ اِن سے جو وعدہ ہے، اُس کے پورا ہونے کا اصل وقت تو قیامت کا دن ہے اور قیامت کا دن (اِن منکروں کے لیے) بڑا سخت اور بڑا ہی تلخ ہو گا۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے سورہ کے آغاز اور اختتام میں لفظ ’اَلسَّاعَۃُ‘ کی جس طرح وضاحت کی ہے، اُس سے شق قمر کا مقصد پوری طرح واضح ہو گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’’اَلسَّاعَۃُ‘ سے مراد فیصلہ اور عذاب کی گھڑی ہے۔…یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک تو اُس عذاب سے جو اِس دنیا میں لازماً قوم پر آ کے رہتا ہے، اگر وہ رسول کے انذار کو خاطر میں نہیں لاتی، بلکہ اُس کی تکذیب پر اڑ جاتی ہے۔ دوسرے اُس عذاب سے جو آخرت میں پیش آئے گا۔ اِن دونوں عذابوں میں فرق صرف آغاز و تکمیل یا تمہید اور خاتمہ کا ہے۔ رسول کی تکذیب کے عذاب میں جو قوم پکڑی جاتی ہے، وہ درحقیقت آخرت کے عذاب ہی کے لیے پکڑی جاتی ہے، اِس وجہ سے لفظ ’اَلسَّاعَۃُ‘ بسا اوقات اِن دونوں ہی عذابوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اِس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ہر قوم جس کے اندر رسول آ گیا، اُس کے فیصلہ کی گھڑی سر پر آ گئی۔ گویا ’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ‘ کا اسلوب بیانِ مبالغہ کا اسلوب نہیں، بلکہ یک سر بیانِ حقیقت ہے۔

’وَانْشَقَّ الْقَمَرُ‘۔ یہ علامت بیان ہوئی ہے عذاب کی گھڑی کے قریب آنے کی۔ اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کا حوالہ ہم اِس کتاب میں جگہ جگہ دے چکے ہیں کہ یوں تو اِس زمین و آسمان کے چپہ چپہ پر اِس کی قدرت و حکمت کی نشانیاں موجود ہیں اور آئے دن نئی نئی نشانیاں بھی ظاہر ہوتی رہتی ہیں، لیکن رسولوں کی بعثت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر ایسی نشانیاں ظاہر فرماتا ہے، جن سے رسول کے انذار اور اُس کے دعواے رسالت کی صداقت ظاہر ہوتی ہے…

اِن نشانیوں کا مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، رسول کے انذار کو تقویت پہنچانا ہوتا ہے۔ رسول جن باتوں کی منادی زبان سے کرتا ہے، اُس کی تائید کے آثار و شواہد اِس کائنات میں بھی، مختلف شکلوں میں، ظاہر ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت اچھی طرح پوری ہو جائے۔ اِسی طرح کی ایک نشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کی تائید کے لیے چاند کے پھٹنے کی صورت میں ظاہر ہوئی تاکہ منکرین عذاب و قیامت پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے کہ قرآن اُن کو جو ڈرا رہا ہے کہ زمین اُس دن ہلا دی جائے گی، پہاڑ پاش پاش ہو کر فضا میں اڑنے لگیں گے، سمندر ابل پڑیں گے، سورج تاریک ہو جائے گا؛ یہ باتیں اُن کو مرعوب کرنے کے لیے نہیں بیان ہوئی ہیں، بلکہ یہ حقائق ہیں، جو ایک دن پیش آ کے رہیں گے اور یہ بعید از امکان بھی نہیں ہیں، اِن کے شواہد کسی نہ کسی شکل میں اِس دنیا میں بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔…

کفارِ قیامت کو جو بہت بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے، اِس کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہو جائے۔ پہاڑوں سے متعلق اُن کا جو سوال قرآن میں نقل ہوا ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن چیزوں کو وہ بالکل اٹل، غیرمتزلزل اور غیر فانی سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر اُن کو بتایا کہ اِس کائنات کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی، خواہ وہ کتنی ہی عظیم ہو، نہ خود مختار ہے، نہ غیر فانی، نہ غیر متزلزل، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا، اُن سب کو درہم برہم کر کے رکھ دے گا۔…

یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اوپر والی آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ) میں اُس عذاب و ہزیمت کا ذکر تھا، جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً اِسی دنیا میں سابقہ پیش آتا ہے۔ اِس آیت (بَلِ السَّاعَۃُ مَوۡعِدُہُمۡ وَ السَّاعَۃُ اَدۡہٰی وَ اَمَرُّ)میں اُس عذاب کا حوالہ ہے، جو اصل روزِ حساب، یعنی قیامت میں اُن کے سامنے آئے گا اور جو بڑا ہی کٹھن ہو گا۔ اِس کتاب میں جگہ جگہ ہم اِس سنت الٰہی کا حوالہ دے چکے ہیں کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والے اِس دنیا میں بھی لازماً شکست کھاتے ہیں اور آخرت تو اُن کی رسوائی کی جگہ ہے ہی۔‘‘

(تدبر قرآن8/ 90-91، 113)

  1. [11] البیان 5/ 82۔
  2. [12] بعض علما کے نزدیک یہ مستقبل کے واقعے کا بیان ہے۔ اُن کے خیال میں ماضی کا صیغہ اُس کی قطعیت کو نمایاں کرنے کے لیے آیا ہے۔