اسلام کے مآخذ
اگر میں اسلام کے اس پیغام اور دین کا فہم چاہتا ہوں، جو اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہمیں دیا ہے تو مجھے کن مآخذ کی طرف رجوع کرنا ہو گا ؟ اس سوال کے جواب کے طور پر متعدد آرا میرے سامنے آئیں۔ میرے ماحول میں موجود مذہبی علما نے مجھے بتایا کہ دین کا بڑا حصہ قرآن میں موجود ہے، لیکن یہ کافی نہیں ہے—قرآن میں مکمل دین موجود نہیں ہے۔ اللہ کے کئی احکام حدیث میں ہیں اور قرآن کا حصہ نہیں ہیں۔ مجھے یہ جان کر سخت حیرت ہوئی کہ حدیث نہ صرف قرآن کی تشریح ہے، بلکہ اس میں کچھ ایسے مستقل بالذات اسلامی احکام بھی شامل ہیں، جو قرآن میں نہیں پائے جاتے۔ ایک عام سی مثال دوں تو قرآن براہِ راست یا اصولی طور پر زندہ مخلوق کی تصویر بنانے کی ممانعت نہیں کرتا، لیکن یہ ممانعت احادیث میں وارد ہوئی ہے۔ خاص طور پر، زندہ چیز کی تصویر بنانا قیامت کے دن سخت سزا کا باعث بتایا گیا ہے ۔1 اس حدیث کے مطابق اگر میں اپنی والدہ کی تصویر بناؤں، اور اسے گھر میں سجا دوں تو مجھے قیامت کے دن سزا دی جائے گی۔
یہ خیال میرے لیے شدید اضطراب کا باعث بنا۔ یہ میرے لیے بہت پریشان کن تھا کہ حدیث میں اللہ تعالیٰ کے وہ احکام موجود ہیں، جو قرآن میں نہیں پائے جاتے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ قرآن مکمل نہیں ہے۔ ذرا تصور کریں کہ اللہ کی وہ آخری کتاب، جو قیامت تک تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی، نامکمل ہو اور دین کے کچھ حصے حدیث کی ضخیم کتب میں بکھرے ہوں۔ وہ احادیث، جنھیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے کئی دہائیوں اور صدیوں بعد تحریر اور مرتب کیا گیا، میرے لیے یہ تصور ناقابل قبول تھا۔ اللہ تعالیٰ کیسے ایک ایسی کتاب کو آخری قرار دے سکتے ہیں جو ہدایت کے اعتبار سے ناقص ہو؟
البتہ، جاوید احمد غامدی صاحب کی تحقیقات میں مجھے اسلام کے مآخذ کا ایک واضح تعارف ملا اور یہ سیکھنے کا موقع حاصل ہوا کہ ان ماخذوں کو کیسے سمجھنا چاہیے۔ میں نے جانا کہ قرآن اور حدیث کی حقیقت کیا ہے اور کس طرح انھیں باہم متعلق کر کے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
یہاں میں اپنے فہم کے مطابق غامدی صاحب کی طرف سے دین کے مآخذ کی تعیین اور تفہیم کا خلاصہ بیان کرتا ہوں۔ بعد ازاں، میں یہ وضاحت کرنے کی کوشش کروں گا کہ غامدی صاحب کا نقطۂ نظر عمومی تشریح سے کس طرح مختلف ہے اور کیوں میری راے میں صائب ہے۔ میرے نزدیک جو کوئی بھی اسلام کے اصل مآخذ کو صحیح طور پر سمجھ لیتا ہے، اس کے لیے دین کا جامع فہم اور اس کی حقیقت کا ادراک حاصل کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔
1۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ، دین کا تنہا ماخذ
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں اور اسی بنا پر دین کا واحد ذریعہ ہیں۔ دین میں کسی بھی چیز کا اضافہ یا کمی صرف اسی وقت ممکن ہے جب اس کی واضح منظوری محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی جانب سے جو دین پہنچایا، وہ تین بنیادی علمی ذرائع پر مشتمل ہے: قرآن، سنت اور حدیث۔ آئیے ،ان تینوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
2۔ قرآن کیا ہے؟
قرآن ، جس کا لفظی معنی ”پڑھنا“ یا ”تلاوت کرنا“ ہے، وہ کتاب ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پیروکاروں کے سامنے اللہ کے کلام اور انسانیت کے لیے آخری ہدایت کے طور پر پیش کیا۔ میں اسی باب کے آیندہ مباحث میں تفصیل سے بیان کروں گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے قریبی صحابۂ کرام نے کس طرح بڑی محنت کے ساتھ قرآن کو جمع، محفوظ کیا اور اپنی زندگی میں ہی اسلام کے ہزاروں پیروکاروں تک پہنچایا۔
قرآن اپنا تعارف اس طرح کر اتا ہے:
1۔ دیگر الہامی کتب پر ”مہیمن“ یعنی کسوٹی اور معیار ۔ (المائدہ5 : 48)
2۔ ”میزان“ یعنی حق و باطل کو الگ الگ کرنے کا معیار ۔(الشوریٰ42 :17)
3۔ ”فرقان“ ہدایت کا نہایت واضح پیغام اور حق و باطل کا فیصل۔ (الفرقان25 : 1، البقرہ 2 :185)
4۔ ”واضح کتاب“ ۔ (الشعراء 26 :2)
5۔ ایسی کتاب جو ”ہر چیز کی وضاحت کرتی ہے“ ۔ (النحل 16 :89)
6۔ ایسی کتاب جو ”یاد رکھنے اور سمجھنے میں آسان ہے“۔ (القمر 54 :40)
7۔ ”سیدھی اور صاف کتاب“ ۔ (الکہف 18 : 2)
8۔ ”ایسی کتاب جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں، پھر خداے حکیم و خبیر کی طرف سے اُن کی تفصیل کی گئی“۔ (ہود 11 :1)
قرآن کی سورۂ بقرہ (2) کی آیت 213 میں بیان ہوا ہے کہ الہامی کتابوں کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ جب بھی دین کے متعلق کوئی اختلاف ہو تو کتاب اللہ اس اختلاف میں فیصلہ کُن حَکَم بن سکے۔ اس کا معنی ہے کہ دینی معاملات میں قرآن ہی کو حتمی معیار مانا جائے تاکہ حق اور باطل کا صحیح تعین ہو سکے۔
لہٰذا قرآن کی اپنی تعریف کے مطابق یہ کتاب دینی ہدایت کے لیے حتمی معیار ہے۔ اسلام اور عمومی طور پر دین کے متعلق تمام دیگر مواد کو قرآن کی روشنی میں پرکھا جانا چاہیے، نہ کہ اس کے برعکس۔
3۔ سنت کیا ہے؟
سنت کا معنی کسی عمل کو انجام دینے کا طریقہ ہے۔ سنت دین کے عملی پہلو سے متعلق ہے۔ نماز، طہارت کے احکام، روزہ، حج اور نکاح جیسی چیزیں سب سنت کے اجزا ہیں۔ دین کے اس عملی حصے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہی میں جمہور امت کو منتقل کر دیا گیا تھا۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ نماز کیسے پڑھنی ہے، طہارت کیسے حاصل کرنی ہے، روزہ کیسے رکھنا ہے، حج کیسے ادا کرنا ہے اور نکاح کے رسوم کیسے بجا لانے ہیں وغیرہ۔
الف۔ سنت کی نوعیت
”سنت“ کا لفظ ”طریقے“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اس کا تعلق عملی امور سے ہے۔ یعنی سنت یہ بتاتی ہے کہ عملی طور پر کوئی کام کیسے انجام دینا ہے۔ قرآن میں ”سنت“ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے کچھ اعمال کے بیان کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ مثلاً قرآن میں سورۂ احزاب (33 ) کی آیات 60-62 میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے منافقین اور بہتان تراشنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنی بداعمالیاں جاری رکھیں گے تو انھیں پکڑ لیا جائے گا اور قتل کر دیا جائے گا۔ اس سیاق میں اللہ کے اس حکم کو ”سنت اللہ“ (اللہ کی سنت) کہا گیا ہے۔ اس طرح ”سنت“ نہ صرف کسی امر پر عمل کرنے کا طریقہ بیان کرتی ہے، بلکہ دین کے عملی پہلو کو بھی واضح کرتی ہے۔
ب۔ سنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے موجود تھی
سنت کا تصور صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص نہیں ہے۔قرآن اسے اللہ تعالیٰ کے تمام رسولوں سے منسوب ایک روایت کے طور پر بیان کرتا ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی دین دیا گیا جو حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کو دیا گیا تھا، اور انھیں اسی دین کی پیروی کا حکم دیا گیا۔ 2 لہٰذا انبیا کی یہ سنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی موجود تھی۔ مثال کے طور پر نماز کو لیجیے۔ نماز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے پہلے بھی موجود تھی۔ یہ محض دعویٰ نہیں ہے، بلکہ اس بات کا تاریخی ثبوت موجود ہے۔ مدینہ کے یہودی نماز ادا کرتے تھے، جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی نماز کے دوران یہودیوں سے مختلف لباس پہنیں ۔3 مزید یہ کہ نماز کا ذکر عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کی متعدد آیات میں وارد ہوا ہے۔ کتاب پیدایش 4میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نماز پڑھنے کا ذکر ہے۔ کتاب خروج 5میں مذکور ہے کہ بنی اسرائیل اپنے سروں کو نماز میں جھکاتے تھے۔ زبورمیں حضرت داؤد علیہ السلام لوگوں کو نماز میں جھکنے اور سجدہ کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔6
اسی طرح صحیح مسلم 7میں مذکور ہے کہ عرب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے بھی خاص اللہ کے لیے نماز ادا کرتے تھے، جیسا کہ ایک صحابی نے بیان کیا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات سے تین سال پہلے ہی صبح اور شام کی نمازیں بہ طور عبادت پڑھتے تھے۔
روزے کی عبادت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے رائج تھی۔ قرآن میں فرمایا گیا ہے: ” ایمان والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلوں پر فرض کیا گیا تھا…“ ۔8 زکوٰۃ اور حج کا بھی یہی معاملہ ہے۔ یہ تمام عبادات ابراہیمی روایت کا حصہ تھیں، جو عربوں کے لیے پہلے سے مانوس تھی۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے نئے احکامات کے مطابق سنت میں ترامیم کیں اور اس میں جو انحرافات کیے جا چکے تھے، انھیں درست کیا۔
ج۔ سنت صرف دین سے متعلق ہے
اکثر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے تمام پہلو سنت ہیں۔ سورۂ نجم کی تیسری آیت کو عموماً اس موقف کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات یا ہر عمل—چاہے وہ دنیوی ہو یا دینی—اللہ کی طرف سے ہے۔ اس آیت میں فرمایا گیا ہے:
”وہ (محمد) اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ (قرآن) تو ایک وحی ہے جو اُسے کی جاتی ہے۔ اُس کو ایک زبردست قوتوں والے نے تعلیم دی ہے ۔“
سنت کے اس عمومی تصور کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس، پگڑی، سر کے بال رکھنے کا انداز، ان کی پسندیدہ غذا، ان کی تجویز کردہ ادویات، ان کے سونے جاگنے کا طریقہ، یہاں تک کہ وہ لکڑی کی مسواک بھی جو وہ استعمال کرتے تھے، سب ہی الہامی قرار پاتے ہیں، اور سنت کے زمرے میں شامل کیے جاتے ہیں۔ تاہم، یہ موقف درست نہیں ہے۔
سورۂ نجم کی آیات 3- 4 تو یہ بتاتی ہیں کہ اللہ اور دین کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش سے بات نہیں کرتے، بلکہ اس دائرے میں ان کی ہر بات وحی پر مبنی ہوتی ہے۔ سنت ان اعمال و احکامات پر مشتمل ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کے حوالے سے مقرر فرمائے ہیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات یا ہر عمل سنت نہیں ہے۔ اس فرق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اولاً، قرآن میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واحد مقصد اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا تھا۔
مزید برآں، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک حدیث میں اس بات کی وضاحت فرمائی کہ ان کے دینی احکامات اور اعمال ہی دین کا حصہ ہیں:
”میں بھی ایک انسان ہی ہوں ،جب میں تمھارے دین کے متعلق تمھیں کوئی حکم دوں تو اُسے لے لو اور جب میں اپنی راے سے کچھ کہوں تو میری حیثیت بھی اِس سے زیادہ کچھ نہیں کہ میں ایک انسان ہوں …تم اپنے دنیوی معاملات کو بہتر جانتے ہو۔“
(مسلم ،رقم6128-6126)
اس لیے اگر کوئی شخص محبت اور عقیدت کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں ان کی پیروی کرنا چاہے تو یہ بالکل درست اور قابل ستایش عمل ہو گا۔ لیکن سنت صرف ان اعمال کو شامل ہے، جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ طور دین اور دینی معاملات میں مقرر فرمایا ہے۔
4۔ حدیث کیا ہے؟
حدیث کا معنیٰ روایت، حکایت یا بیان ہے۔ یہ علم کا وہ حصہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اس وقت تشکیل پایا جب لوگوں نے آپ کی زندگی، اقوال اور اعمال کو یادداشت میں محفوظ کرنا، ان پر بحث تمحیص کرنا اور انھیں آگے بیان کرنا شروع کیا۔ ایک طرف قرآن اور سنت ہیں،جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام کے ذریعے سے براہ راست ایک پوری نسل نے حاصل کیے اور بعد کی نسلوں تک منتقل کیے۔ نسل در نسل انتقال کا یہ سلسلہ آج تک چلا آ رہا ہے۔ دوسری طرف حدیث ہے جو افراد کے ذاتی تجربات کی حکایت ہے۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کام کرتے دیکھا یا آپ کی کوئی بات سنی تو اسے آگے بیان کر دیا۔ یہ اخبار آحاد پہلے تو لوگوں میں زبانی طور پر منتقل ہوتے رہے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے کئی دہائیوں بعد ان کو جمع اور محفوظ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ حدیث کی ان روایات کی تصدیق اور درستی کو جانچنے کے لیے ابتدائی محققین اور محدثین نے ایک مکمل علم کی بنیاد رکھی، جسے”علم الحدیث “کہتے ہیں۔ اس علم کے ذریعے سے ان روایات کو قبول یا رد کیا جاتا تھا اور یہیں سے علم الحدیث کے عظیم شعبے کا آغاز ہوا، جس پر مسلمان بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں، کیونکہ اس علم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تاریخی معلومات کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
حدیث کے مضامین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات کے ساتھ ساتھ آپ کی طرف سے قرآن اور سنت کے دینی احکام کی تشریحات اور اطلاقات بھی شامل ہیں۔
انتباہ: حدیث سے کوئی حوالہ پیش کرتے وقت ضروری ہے کہ پیش کردہ روایت کی صحت کی تصدیق کی جائے۔ صرف ان احادیث کو بہ طور حوالہ پیش کیا جائے جو علما اور ماہرین حدیث کی اکثریت کے نزدیک ”صحیح“تسلیم کی جاتی ہیں۔ میں اس بات پر اس لیے زور دیتا ہوں کہ بعض مسلم معاشروں میں ضعیف یا غیر مستند احادیث کا حوالہ دینے کا عمل عام ہے۔ ضعیف احادیث سے مراد وہ روایات ہیں جن کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی گئی ہے، مگر علماے حدیث نے مختلف وجوہات کی بنا پر اس انتساب کو تسلی بخش قرار نہیں دیا۔
5۔ قرآن، سنت اور حدیث کی حفاظت اور منتقلی کے مختلف طریقے
تاریخ کی دو اقسام ہیں۔ ایک مستند تاریخ ہے، جو کسی واقعے کے اجتماعی مشاہدے، معاشرے کی سطح پر حفاظت اور اجماعی منتقلی پر مبنی ہوتی ہے۔ مثلاً، ہندوستانی آئین کو 26 نومبر 1949 ء کو ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی نے پاس کیا تھا۔ یہ ایک مستند تاریخی حقیقت ہے، کیونکہ یہ واقعہ لاکھوں لوگوں کے مشاہدے میں آیا ، جنھوں نے اسے محفوظ کیا۔ مستند تاریخ عام طور پر کسی شک و شبہے سے بالاتر ہوتی ہے اور اسے لوگوں نے تسلسل سے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کیا ہوتا ہے۔ تاریخ کی دوسری قسم وہ ہے جو ہمیں اکا دُکا افراد کے بیانات کے ذریعے سے ملی ہے۔ اس کی مثال یہ ہو گی کہ دستور ساز اسمبلی کے 1949ء کے اجلاس میں ہونے والے مباحثے کیا تھے اور اس بحث میں کس رکن اسمبلی نے کس سے کیا بات کہی۔ یہ تاریخ اخبار آحاد پر مبنی ہے۔ یعنی یہ ان افراد کے بیانات پر منحصر ہے جنھوں نے کچھ دیکھا یا سنا۔ اس کا مواد مکمل طور پر غیر متنازع نہیں ہوتا اور ہمیشہ ماہرین کے تنقیدی جائزے کا موضوع ہوتا ہے۔ حدیث تاریخ کی اسی دوسری قسم میں آتی ہے۔
کئی مسلمان سنت اور حدیث کے الفاظ کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں، مگر دونوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ سنت ان اعمال کا نام ہے جنھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کا حصہ قرار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل اس بات کو یقینی بنایا کہ ہر شخص دین کے ان عملی پہلوؤں سے واقف ہو۔ دوسری طرف، احادیث وہ بیانات ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں ان افراد کی یادداشتوں پر مبنی ہیں، جو یا تو آپ کو براہ راست جانتے تھے یا آپ کے بعد آنے والی پہلی یا دوسری نسل سے تعلق رکھتے تھے، اور یہ وہ لوگ تھے، جن کے پیش رو آپ کو جانتے تھے۔ حدیث کے ذخیرے کا معنی اور اہمیت ہم عنقریب زیر بحث لائیں گے۔
اسلام کی تمام تعلیمات قرآن اور سنت میں محصور ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لاکھوں صحابۂ کرام نے قرآن اور سنت کو براہ راست آپ سے حاصل کیا اور اسے ایک نسل سے دوسری نسل تک مجموعی طور پر منتقل کیا، اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ روایاتِ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال اور اقوال کے بارے میں حکایات ہیں، جو قرآن اور سنت کی طرح عوامی اور اجماعی سطح پر منتقل نہیں ہوئیں، بلکہ کچھ افراد کی ذاتی یادداشتوں کے ذریعے سے منتقل ہوئی ہیں۔ اس طرح حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات کی تاریخ ہے۔ البتہ، اس کو قرآن اور سنت کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔ یہ تاریخی روایات قرآن اور سنت میں موجود دین کی وضاحت اور اس کے اطلاقات جاننے کا ذریعہ ہیں، مگر دین میں کوئی ایسا نیا حکم یا اصول شامل نہیں کرتیں، جو قرآن اور سنت میں موجود نہ ہو۔
میں یہاں مختصراً جاوید احمد غامدی صاحب کے اصولِ فہم سنت و حدیث، جیسا کہ انھوں نے اپنی کتاب ”میزان“ میں بیان کیے ہیں، کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ یہ اصول اسلام کے ایسے طالب علموں کے لیے لکھے گئے ہیں، جو اعلیٰ علمی سطح پر دین کا مطالعہ کرتے ہیں۔ تاہم چونکہ عام مسلمانوں میں سنت اور حدیث کے فرق کے بارے میں کافی اشتباہ پایا جاتا ہے، اس لیے یہاں ان اصولوں کا مختصر ذکر کرنا ضروری ہے، کیونکہ ان اصولوں نے ہی مجھے اسلام کا بہتر فہم حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔
6۔ سنت کے درست فہم کے سات اصول
1۔ سنت دینی معاملات تک محدود ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کی نوعیت، آپ کی سواری کے لیے استعمال ہونے والا جانور، یا آپ کی پسندیدہ خوراک سنت کا حصہ نہیں ہے۔ سنت صرف دینی امور پر مشتمل ہے۔
2۔ سنت دین کے عملی پہلو یا دین کی عملی تطبیق سے متعلق ہے۔
3۔ کسی چیز کو سنت تب ہی کہا جا سکتا ہے جب اس کا ماخذ انبیا کا ثابت عمل ہو۔ قرآن کا کوئی حکم سنت نہیں کہلا سکتا۔ مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کے مجرموں کو کوڑوں کی سزا دی، لیکن یہ سنت نہیں ہے، کیونکہ اس کا ماخذ قرآن ہے، نہ کہ انبیا کا عمل۔ البتہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کو سنت کہا جا سکتا ہے، کیونکہ قرآن یہ گواہی دیتا ہے کہ یہ مذہبی رسوم حضرت ابراہیم سمیت تمام انبیا کے اعمال تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اعمال کو حضرت ابراہیم کی سنت کے طور پر اپنی تصویب اور ضروری تصحیح کے بعد جاری فرمایا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن اور سابقہ الہامی صحیفوں اور کتب میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ پچھلی قوموں کے لوگ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے ہی نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسے اعمال کرتے تھے۔ ان اعمال کی ابتدا حضرت ابراہیم کے عمل سے ہوئی، جسے قرآن نے بھی سند دی۔ لہٰذا اگر کوئی چیز ایسی ہے جس کی اصل قرآن کا حکم ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کیا یا اس کی وضاحت کی تو وہ سنت نہیں کہلائے گی۔ صرف وہ چیزیں سنت ہیں جن کی ابتدا انبیا کا عمل ہے اور جن کی تصویب قرآن میں بھی موجود ہے۔
4۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا عمل جو آپ نے خود تو کیا، مگر اس کو دین کا لازمی حصہ نہیں بنایا، وہ سنت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، نماز فجر کی دو رکعت فرض ہیں ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضافی دو رکعتیں نفل کے طور پر ادا کیں، مگر انھیں فرض نہیں کیا، اس لیے وہ سنت نہیں، بلکہ تطوع، یعنی نفل ہیں۔
5۔ قرآن کے مطابق دین کی بنیادی ہدایت انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ اگرچہ انسان اس سے انحراف کر سکتا ہے، لیکن یہ ہدایت اس کی فطرت میں پیوست ہے۔ لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آنے والی جو چیز فطرت کی وضاحت کرتی ہو، اسے بھی سنت نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا (بخاری، رقم436) اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ انسان کی فطرت اس سے اِبا کرتی ہے اور اسے ناپاک سمجھتی ہے۔ انھوں نے اس ممانعت کو سنت کے طور پر مقرر نہیں کیا۔
6۔ وہ اعمال جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ طور رہنمائی سکھائے، لیکن ان کی نوعیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لازم نہیں ہیں، وہ سنت نہیں کہلائیں گے۔ مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو کچھ نفلی دعائیں اور اذکار بتائے، مگر واضح تھا کہ آپ کا یہ ارادہ نہیں تھا کہ انھیں دین کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
7۔ سنت قرآن کی طرح اجماع اور تواتر کے ذریعے سے ہم تک پہنچی ہے۔ جیسے قرآن صحابۂ کرام نے اپنے اجماع اور تواتر سے آگے منتقل کیا اور اسے انفرادی روایتوں پر چھوڑنے کے بجاے اجماعی طور پر اس کا ابلاغ کیا، اسی طرح سنت بھی اسی ذریعے سے سے منتقل ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب جو چیز اس تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچی ہے، وہی سنت ہے، جب کہ وہ امور جو اخبار آحاد کی صورت میں ہم تک پہنچے ہیں، وہ قرآن و سنت کی وضاحت کر سکتے ہیں، مگر خود سنت کا درجہ نہیں رکھتے۔
7۔ فہم حدیث کے سات اصول
1۔ حدیث کی سند کا صحیح ہونا ضروری ہے۔ صرف انھی احادیث سے احتجاج کیا جائے جن کی سند کو ماہرین حدیث نے قابلِ اعتبار قرار دیا ہو۔
2۔ حدیث کا مضمون قرآن، سنت اور علم و عقل کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔ امام خطیب بغدادی کے الفاظ میں:
”خبر واحد اُس صورت میں قبول نہیں کی جاتی جب عقل اپنا فیصلہ اُس کے خلاف سنا دے؛وہ قرآن کے کسی ثابت اور محکم حکم کے خلاف ہو، سنت معلومہ یا ایسے کسی عمل کے خلاف ہو جو سنت کی طرح معمول بہ ہو؛ کسی دلیل قطعی سے اُس کی منافات بالکل واضح ہو جائے۔“9
3۔ حدیث پر غور و فکر کرنے والے ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ چھٹی صدی عیسوی میں قریش کی زبان پر پوری دسترس حاصل کرے۔ یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان تھی۔
4۔ حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے تاکہ اس کے صحیح معنی تک پہنچا جا سکے۔
5۔ حدیث کے صحیح معنی تک پہنچنے کے لیے اس کے مکمل سیاق و سباق کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ جاننا چاہیے کہ کیا کہا جا رہا ہے، کب کہا جا رہا ہے، کیوں کہا جا رہا ہے، اور کس سے کہا جا رہا ہے، ان تمام عوامل کو درست طور پر جاننا ضروری ہے، ورنہ بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک حدیث میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کا خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیے۔ اس بیان کو سیاق و سباق سے کاٹ کر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ہر دور میں مسلمانوں کا سربراہ کوئی قریشی ہی ہونا چاہیے۔10 لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو مکمل سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے بعد کے فوری حالات کے تناظر میں ایک مشورہ دے رہے تھے، اور یہ فرمان کوئی مستقل مذہبی حکم نہیں تھا جو ہمیشہ کے لیے ہو۔ دراصل آپ ایک قرآنی حکم کا اطلاق فرما رہے تھے۔ قرآن کی سورۂ شوریٰ کی آیت38 کے مطابق مسلمانوں کو اپنے اجتماعی معاملات مشورے اور اکثریت کی مرضی سے طے کرنے چاہئیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا کہ چونکہ اُس وقت قریش ہی کو مسلمانوں کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد قریش میں سے امیر منتخب کیا جائے۔ اس طرح جب اس حدیث کو اس کے مکمل سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور میں قرآن کے ایک اصول کا اطلاق کیا تھا، اور یہ کوئی مستقل دینی حکم تھا، نہ یہ تمام زمانوں کے مسلمانوں کے لیے مستقل پالیسی وضع کرتا تھا۔
6۔ کسی موضوع پر حدیث کا صحیح مفہوم جاننے کے لیے اس باب سے متعلق تمام احادیث کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ مثلاً، جان داروں کی تصویریں بنانے کی ممانعت پر مبنی احادیث کو انفرادی طور پر دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کی تصویر بنانے پر مکمل پابندی عائد کی ہے، لیکن جب اس موضوع سے متعلق تمام احادیث کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر بت پرستی کے لیے بنائی جانے والی تصاویر پر پابندی لگائی تھی۔
7۔ اللہ تعالیٰ کا دین علم و عقل کے مسلمات پر قائم ہے۔ ان مسلمات کا فہم اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے۔ اگر کوئی حدیث بہ ظاہر ان مسلمات سے متصادم نظر آئے تو اسے اس متضاد معنی کے ساتھ قبول نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی فوراً رد کیا جانا چاہیے، بلکہ اس حدیث کے اس مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے جو ان مسلمات سے ہم آہنگ ہو۔ اگر ایسا کوئی معنی اخذ کیا جا سکے تو اسے ہی حدیث کا اصل مفہوم سمجھنا چاہیے۔
8۔ صحابۂ کرام کی تاریخ پر مختصر نوٹ
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ بھی دین اسلام کو سمجھنے کے لیے ایک قیمتی ماخذ ہے۔ یہ تاریخ ہمیں یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم دیکھ سکیں کہ انھوں نے دین کو کیسے سمجھا اور اسے کیسے آگے پہنچایا۔ آخر صحابۂ کرام سے بہتر اسلام کو کون سمجھ سکتا ہے؟ تاہم، یہ تاریخی مواد بھی مختلف افراد کی روایات، یعنی اخبار آحاد کے ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے، لہٰذا اسے قرآن و سنت کے دائرۂ کار میں رہ کر پرکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
9۔ علما کے اجماع کے متعلق مختصر نوٹ
ایک اور عقیدہ جو مسلمانوں میں رائج ہے، وہ یہ ہے کہ اگر علما کی اکثریت کسی خیال یا کسی دینی امر کی تشریح پر متفق ہو جائے تو وہ مقدس بن جاتا ہے اور اس کو چیلنج کیا جا سکتا ہے، نہ اس پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ یہ مفروضہ علما کی اکثریت کو اسلام اور اسلامی احکام کے مآخذ پر ویٹی کن کی طرح کا حَکَم بنا دیتا ہے، جسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اس مسئلے پر جاوید احمد غامدی صاحب کا نقطۂ نظر انتہائی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی تمام دینی اتھارٹی کے واحد ماخذ اور ایمان کے معاملات پر حتمی فیصلہ کرنے والے ہیں۔ قرآن کے مطابق صرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی دین میں اتھارٹی ہیں، کیونکہ وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی فرد یا علما کی کسی جماعت کو معصوم یا تنقید سے مستثنیٰ نہیں سمجھا جا سکتا۔
علما کی اکثریت کے اجماع کو ہمیشہ درست ماننے کے عقیدے کی بنیاد درج ذیل حدیث پر رکھی گئی ہے:
”اللہ میری امت کو کسی گم راہی پر جمع نہ کرے گا ۔“ (ترمذی، رقم 2167)
یہ استدلال درست نہیں ہے۔کیونکہ مذکورہ حدیث کو ماہرین حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے اور اسے کسی دلیل کی تائید کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم، اگر بر سبیل تنزل فرض کریں کہ اسے قبول کر بھی لیا جائے تو یہ حدیث یہ مفہوم نہیں دیتی کہ علما کی اکثریت کبھی اخلاص کے ساتھ غلطی نہیں کر سکتی۔ بلکہ اس کا مفہوم صرف اتنا ہے کہ قرآن و سنت میں دین کی بنیادی باتیں اتنی واضح ہیں کہ تمام مسلمان کسی کھلی گم راہی پر متفق نہیں ہوں گے۔ مثلاً یہ ممکن نہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت اس بات پر متفق ہو جائے کہ خدا دو یا تین ہیں یا پانچ نمازوں کے بجاے صرف دو فرض نمازیں ہیں وغیرہ۔ اس روایت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ علما کی اکثریت دینی معاملات کی تشریح میں اخلاص کے ساتھ کوئی غلطی نہیں کر سکتی۔
مزید برآں، کچھ قرآنی آیات بھی اس مفروضے کے حق میں پیش کی جاتی ہیں، لیکن وہ بہ ظاہر زبردستی کی توجیہات معلوم ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک مشہور آیت جو اجماع کو دینی رہنمائی کے ایک ماخذ کے طور پر جائز ثابت کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، وہ یہ ہے:
”اور جو راہ ہدایت کے پوری طرح واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کریں گے اور اُن لوگوں کے راستے کو چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کریں گے جو (تم پر) سچے دل سے ایمان لائے ہیں، اُنھیں ہم اُسی راستے پر ڈال دیں گے جس پر وہ خود گئے ہیں اور دوزخ میں جھونکیں گے ۔ وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔“ (النساء 4: 115)
یہ آیت یہ بیان کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی حقانیت کو جان لے اور انھیں اللہ کا رسول تسلیم کر لے، پھر بھی کسی وجہ سے ان کی مخالفت کرے تو اسے قیامت کے دن اللہ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس آیت کی یہ تشریح کہ اس میں مومنین سے مراد علما کی اکثریت ہے، اور اس سے انحراف کو قابلِ سزا قرار دینا ایک منطقی مغالطہ ہے۔ یعنی اس آیت کی یہ تشریح کرنا کہ علما کی اکثریت اخلاص کے ساتھ بھی غلطی نہیں کر سکتی، وہ معصوم عن الخطا ءہیں، بہت ہی مبالغہ آمیز بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر علما کی اکثریت کسی دینی تشریح پر متفق ہو جائے تو عقلی دلائل کی بنیاد پر اس اجماع کو چیلنج کرنا اللہ کے نزدیک قابلِ سزا ہو سکتا ہے۔ یہ موقف بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔
10۔ فہم اسلام کے تین غلط تصورات
امید ہے کہ قرآن، حدیث اور سنت کی حقیقت کسی حد تک وضاحت کے ساتھ بیان ہو چکی ہے ۔ اب میں ان تین وجوہات کا ذکر کروں گا جن کی وجہ سے مجھے اسلام کی عمومی تعبیر اخلاقی یا عقلی طور پر باعث اشکال نظر آتی ہے۔ یہی وہ امور ہیں جو غامدی صاحب اور اسلام کے عمومی روایتی شارحین کے درمیان وجہ اختلاف ہیں۔ ذیل میں فہم اسلام کے تین غلط تصورات پیش کیے جاتے ہیں:
1۔ قرآنی آیات یا احادیث مبارکہ کو سیاق و سباق سے کاٹ کر سمجھنا۔
2۔ قرآن مجید کو احادیث کی روشنی میں سمجھنا، بجاے اس کے کہ احادیث کو قرآن مجید کی روشنی میں سمجھا جائے۔
3۔ احادیث کو قرآن اور سنت کی شرح و وضاحت کے بجاے دین کا ایک مستقل ماخذ ماننا۔
اب ہم ان تینوں نکات کا الگ الگ تجزیہ کرتے ہیں:
الف۔ سیاق و سباق کے بغیر قرآن کو سمجھنے کا رجحان
جب ہم کوئی کتاب یا معلومات پڑھتے ہیں تو ضروری ہوتا ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ یہ کس نے کہا ہے، کیا کہا گیا ہے، کیوں کہا گیا ہے، اور اس کا مخاطب کون ہے۔ تاہم، بدقسمتی سے بعض مسلمان حلقوں میں ایک رجحان یہ پایا جاتا ہے کہ قرآن کی آیات کو سیاق و سباق کے بغیر اور الگ تھلگ انداز میں سمجھا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی وضاحت کے لیے ایک مثال پیش کی جا سکتی ہے۔
جو لوگ قرآن کو محض اللہ تعالی کے منفرد اقوال کا مجموعہ سمجھتے ہیں اور اس کی آیات کو ان کے سیاق و سباق سےکاٹ کر دیکھتے ہیں، وہ اکثر سورۂ مائدہ کی آیت 51 کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کرنے سے منع کیا ہے۔ اگر اس آیت کو سیاق سے علیحدہ دیکھا جائے تو یہی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ آیت یوں ہے:
”ایمان والو، تم اِن یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور (یاد رکھو کہ) تم میں سے اگر کوئی (اِس تنبیہ کے باوجود) اِنھیں اپنا دوست بناتا ہے تو اُس کا شمار پھر اِنھی میں ہے۔حقیت یہ ہے کہ اللہ اِس طرح کے ظالموں کو کبھی راہ نہیں دکھاتا۔‘‘
لیکن جب ہم آیات 51 تا 59 تک مکمل سیاق و سباق دیکھتے ہیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مذکورہ آیت میں قرآن ان یہودیوں اور عیسائیوں کی بات کر رہا ہے جو مسلمانوں کو ایمان لانے کی وجہ سے اذیتیں دے رہے تھے۔
علاوہ ازیں، جب ان آیات کو قرآن سے کاٹ کر نہیں، بلکہ کتاب اللہ کے دیگر مقامات خاص طور پر مندرجہ ذیل دو آیات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت بھی عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ حکم تمام یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے نہیں، بلکہ ایک مخصوص گروہ کے متعلق تھا۔
”اللہ تمھیں اِس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ بے شک، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اللہ جس بات سے تم کو روکتا ہے، وہ یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے اور تمھارے نکالنے میں دوسروں کی مدد کی ہے۔ (وہ اِس سے روکتا ہے اور تمھیں متنبہ کرتا ہے کہ) جو اِس طرح کے لوگوں سے دوستی کریں گے، وہی ظالم ہیں۔“ (الممتحنہ60:8-9)
ب۔ قرآن کو احادیث کی روشنی میں سمجھنا
کچھ حلقوں میں قرآن کو سمجھنے کے لیے احادیث اور علما کی تشریحات کو لازم قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم، قرآن خود اس طریقۂ فہم کے خلاف شہادت دیتا ہے۔ قرآن بارہا یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ:
1۔ دیگر الہامی کتب پر ”مہیمن“، یعنی کسوٹی اور معیار ہے ۔(المائدہ5 : 48)
2۔ ”میزان“ ،یعنی حق و باطل کو الگ الگ کرنے کے لیے معیار ہے ۔(الشوریٰ 42 :17)
3۔ ”فرقان“ اور ”ہدایت کا نہایت واضح پیغام اور حق و باطل کا فیصل“ ہے ۔(الفرقان 25 : 1۔ البقرہ 2: 185)
4۔ ”واضح کتاب“ (الشعراء26: 2) ہے جو ”ہر چیز کی وضاحت کرتی ہے“ ۔(النحل 16 : 89)
5۔ ”ایسی کتاب ہے جو ”یاد رکھنے اور سمجھنے میں آسان ہے“۔ (القمر 54 :40)
6۔ ”سیدھی اور صاف کتاب“ ہے۔ (الکہف 18 : 2)
7۔ ”ایسی کتاب“ ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں، پھر خداے حکیم و خبیر کی طرف سے اُن کی تفصیل کی گئی ۔ (ہود11 :1)
سورۂ بقرہ کی آیت 213 میں بیان ہوا ہے کہ الہامی کتابوں کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ جب بھی دین کے متعلق کوئی اختلاف ہو تو کتاب اللہ اس اختلاف میں فیصلہ کن حَکَم بن سکے۔ اس کا معنی ہے کہ دینی معاملات میں قرآن ہی کو حتمی معیار مانا جائے تاکہ حق اور باطل کا صحیح تعین ہو سکے۔
قرآن کی اپنی گواہی کا تقاضا ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے تمام دیگر مآخذ کو قرآن کے تناظر میں دیکھا جائے، نہ کہ قرآن کو دوسرے ماخذوں کے پیمانے پر پرکھنے کی کوشش کی جائے۔ یہ اصول اس وقت مزید مضبوط اور واضح ہو جاتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث کا مواد اس نقطۂ نظر کی وجہ سے زیادہ منظم، مربوط اور قابل فہم نظر آتا ہے۔حدیث کو اگر قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے تو یہ نہ صرف منطقی اور اخلاقی اصولوں سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے، بلکہ قرآنی سانچے کے اندر مکمل طور پر ڈھل جاتی ہے۔ اس اصول کی وضاحت کے لیے اگلے سیکشن میں تصویر سازی کی ممانعت کے بارے میں ایک مثال دی جائے گی، جو اس نقطۂ نظر کو مزید روشن کرے گی۔
ج۔ احادیث کو دین کا مستقل ماخذ ماننا
مسلم دنیا میں عمومی طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ احادیث نہ صرف قرآن اور سنت میں موجود دین کی شرح و وضاحت اور اس کے احکام کے عملی نفاذ کو بیان کرتی ہیں، بلکہ وہ دین کے ایسے نئے احکام بھی دیتی ہیں جن کا قرآن اور سنت میں کوئی ذکر نہیں۔ سادہ الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ لوگ عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ احادیث میں اللہ کے ایسے احکام شامل ہیں، جن کی بنیاد قرآن اور سنت میں نہیں پائی جاتی۔ تاہم، اس تصور سے چند اہم سوالات جنم لیتے ہیں:
اگر یہ سچ ہے تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں صرف قرآن اور سنت کو محفوظ کرنے اور وسیع پیمانے پر امت تک ان کے ابلاغ کی بھرپور محنت کیوں کی؟ اور اگر اللہ کے دین کے کچھ حصے صرف چند افراد کو مخصوص مواقع پر بتائے گئے تھے تو ان تعلیمات کو محفوظ کرنے اور منتقل کرنے کے لیے اسی درجے کی محنت کیوں نہ کی گئی؟ مزید یہ کہ ان تعلیمات کے تحفظ اور ترسیل کو محض سنی سنائی باتوں پر کیوں چھوڑا گیا، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کئی دہائیوں بعد ان کا جائزہ لے کر محفوظ کیا جا سکا؟
اس تصور کے ساتھ دو بنیادی مسائل ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اس سے ایک تشویش ناک خیال ابھرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فریضے کو ادا کرنے میں ناکام رہے جسے قرآن نے ان کی ذمہ داری قرار دیا ہے، یعنی: ’’…(پیغام کو) وضاحت کے ساتھ پہنچا دینا ‘‘ (المائدہ 5 :92) اور اسے ’’… صاف صاف پہنچا دینا ‘‘ ۔ (النحل 16 : 82)
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جب احادیث کو دین کا مستقل ماخذ سمجھا جاتا ہے تو اسلام میں کئی تضادات پیدا ہو جاتے ہیں، جن کی اصلاح زبردستی وضاحتوں کے ذریعے سے کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، جب احادیث کو قرآن اور سنت کے ذریعے سے بیان کردہ دین کی وضاحت اور اس کے عملی اطلاق کے طور پر دیکھا جاتا ہے تو ان کا مواد زیادہ مربوط اور تضادات سے پاک ہو جاتا ہے اور دین کے بنیادی سانچے کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ نظر آتا ہے۔
یہ موضوع میں آیندہ ایک باب میں تفصیلی مثالوں کے ذریعے سے مزید وضاحت سے بیان کروں گا، لیکن یہاں ایک مختصر مثال پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ قرآن کو احادیث کی روشنی میں سمجھنے یا احادیث کو دین کا مستقل ماخذ قرار دینے سے کس قسم کی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔متعدد احادیث میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ جان دار چیزوں کی تصویر بنانا اللہ کے نزدیک حرام ہے، اور یہ عمل اتنا سنگین گناہ ہے کہ قیامت کے دن اس پر سزا دی جائے گی۔ مثال کے طور پر ایک حدیث کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو لوگ تصویریں بناتے ہیں، قیامت کے دن ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ اپنے بنائی ہوئی (تصویر) میں جان ڈال دو ۔“ (صحیح مسلم، رقم 2108)
دیگر احادیث میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے جان دار اشیا کی تصویر کشی پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار وارد ہوا ہے۔ جو لوگ احادیث کو دین کا مستقل ماخذ مانتے ہیں، ان کے نزدیک جان دار اشیا کی تصویر بنانا ہر حالت میں گناہ ہے اور قیامت کے دن اس پر سخت عذاب ہوگا۔یہ نظریہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے مرحوم والد کی محض ایک یادگار تصویر بنائے تاکہ ان کے چہرے کو دیکھ کر سکون حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ اس تصویر میں جان ڈال دو۔ یہ تصور نہ صرف غیر منطقی محسوس ہوتا ہے، بلکہ یہ بھی سوال پیدا کرتا ہے کہ اگر یہ عمل واقعی اتنا سنگین تھا تو اللہ نے قرآن میں اس کی حرمت کا صریح حکم کیوں نہیں دیا؟
مزید برآں، اگر کوئی تصویر صرف یادگار یا محبت کی علامت کے طور پر بنائی جائے اور اس کا مقصد نہ تو اللہ کی تخلیق کی برابری ہو اور نہ ہی اسے عبادت کے لیے استعمال کیا جائے تو ایسی صورت میں اس عمل پر سزا دینا انصاف کے منافی معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ تصویر میں جان ڈالے، سراسر غیر معقول بات معلوم ہوتی ہے۔ جو لوگ احادیث کو قرآن اور سنت کے فریم ورک میں رکھ کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جان دار اشیا کی تصویر کشی کو کلیتاً حرام قرار نہیں دے رہے، بلکہ ان تصویروں کی ممانعت کر رہے ہیں جو بت پرستی کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ چونکہ قرآن میں بت پرستی کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے، اس لیے اس حدیث کو اسی تناظر میں سمجھنا منطقی اور معقول معلوم ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص تصویر بنا کر اسے عبادت کے لیے استعمال کرے، جو قرآن میں صریحاً ممنوع ہے تو ایسی صورت میں اس پر عذاب دینا انصاف کے عین مطابق ہوگا اور اس سے یہ مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی تصویر میں جان ڈالے۔ یہ نقطۂ نظر نہ صرف زیادہ منطقی ہے، بلکہ قرآن اور سنت کے اصولوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ بھی ہے۔
احادیث کو قرآن اور سنت کی روشنی میں سمجھنے کے اس اصول کو اکثر انکارِ حدیث پر محمول کر لیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ بات حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ ہماری بات کا مقصد یہ نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یا آپ کے کسی عمل کو محض اس بنا پر رد کر دیا جائے کہ وہ قرآن میں درج نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی حدیث سند کے اعتبار سے درست ہو تو اس میں بیان کردہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کے لیے واجب العمل اور مقدس تسلیم کی جائے گی۔
میری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ احادیث کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے سب سے موزوں اور درست طریقہ یہ ہے کہ انھیں قرآن اور سنت کی روشنی میں پرکھا جائے، نہ کہ اس کے برعکس۔ یہ اصول نہ صرف احادیث کے متن کو واضح کرتا ہے، بلکہ دین کے دیگر مآخذ کے ساتھ ان کے تعلق کو بھی مزید مستحکم اور مربوط کرتا ہے۔
__________
- 1۔ سنن نسائی،رقم 5361۔
- 2۔ الشوریٰ 43 :13۔
- 3۔ ابوداؤد، رقم 235۔
- 4۔ 22 :5۔
- 5۔ 4: 31۔
- 6۔ 95: 6۔
- 7۔ رقم 6359۔
- 8۔ البقرہ 2:183۔
- 9۔ جاوید احمد غامدی، میزان، لاہور، المورد، 2015ء، 63۔
- 10۔ جاوید احمد غامدی، میزان، لاہور، المورد، 2015ء، 64۔