مواد پر جائیں

باب 7: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سرگذشتِ رسالت

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اُن انبیا میں سے تھے، جنھیں اللہ نے منصبِ رسالت پر سرفراز کیا تھا۔ وہ بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر تھے اور اُن پر اتمام حجت کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ قرآن میں بیان ہوا ہے کہ فرشتوں نے آپ کی ولادت کے ساتھ آپ کی رسالت کی بشارت بھی آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم علیہا السلام تک پہنچا دی تھی۔ آل عمران میں مذکور ہے:

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَي ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ.وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ.قَالَتْ رَبِّ اَنّٰي يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ اِذَا قَضٰ٘ي اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ.وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ.وَرَسُوْلًااِلٰي بَنِيْ اِسْرَآءِيْلَ. (3: 49-45)

’’ اِنھیں یاد دلاؤ، جب فرشتوں نے کہا: اے مریم، اللہ تجھے اپنے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے۔ اُس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ وہ دنیا اور آخرت، دونوں میں صاحب وجاہت اور مقربین میں سے ہو گا۔ لوگوں سے گہوار ے میں بھی (اپنی نبوت کا) کلام کرے گا اوربڑی عمر کو پہنچ کربھی اور صالحین میں شمار کیا جائے گا۔ وہ بولی: پروردگار، میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ فرمایا: اِسی طرح اللہ جو چاہے ،پیدا کرتا ہے۔ وہ جب کسی معاملے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کو اتنا ہی کہتاہے کہ ہوجا، پھر وہ ہوجاتا ہے۔ (لہٰذا اِسی طرح ہوگا)اور اللہ اُسے قانون اورحکمت سکھائے گا، یعنی تورات وانجیل کی تعلیم دے گا۔ اوراُس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا ۔‘‘

اِس مقام پر مسیح علیہ السلام کے منصب رسالت کے لیے ’رَسُوْلًا اِلٰي بَنِيْ اِسْرَآءِيْلَ ‘ کے الفاظ آئے ہیں ۔ امام امین احسن اصلاحی اِن کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’’رَسُوْلًا‘سے پہلے ایک فعل محذوف ہے۔ یعنی ’يَبْعَثُهٗ رَسُوْلًا‘۔ سیدنا مسیح حضرت یحییٰ علیہ السلام کی طرح صرف ایک نبی نہیں تھے، بلکہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اُس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے، اُسی طرح یہ بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ رسول اور نبی میں فرق ہوتا ہے۔ رسول جس قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے ،اُس کے لیے خدا کی عدالت بن کر آتا ہے۔ اِس کے لازمی نتیجے کے طور پراُس قوم کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اگر وہ ایمان لاتی ہے تو نجات پاتی ہے اور اگر اپنے کفر پر اڑی رہ جاتی ہے اور اپنے نبی کو گزند پہنچانے کی کوشش کرتی ہے تو فنا کر دی جاتی ہے۔ اِس حقیقت کی طرف حضرت یحییٰ علیہ اسلام نے مختلف اسلوبوں سے اشارہ فرمایا تھا۔ مثلاً یہ کہ ’میں تو تمھیں پانی سے بپتسمہ دے رہا ہوں، پر جو آ رہا ہے، وہ تمھیں آگ سے بپتسمہ دے گا، یا یہ کہ، اب درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے‘؛ یا یہ کہ اُس کے ہاتھ میں اُس کا چھاج ہو گا اور وہ اپنے کھلیان کو اچھی طرح پھٹکے گا اور گندم کو بھس سے علیحدہ کرے گا…۔

اِس سے حضرت عیسیٰ کی رسالت کا بنی اسرائیل کے لیے خاص ہونا بھی واضح ہو گیا۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کا خود اپنا اعلان بھی یہی ہے۔ اُنھوں نے جب اپنے حواریوں کو تبلیغ دین کی مہم پر روانہ کیا تو اُن کو غیر بنی اسرائیل کی طرف جانے سے نہایت صاف لفظوں میں روک دیا۔ اُنھوں نے فرمایا کہ ’میں صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں ہی کی تلاش کے لیے آیا ہوں‘۔ ایک غیر اسرائیلی عورت اُن سے دعاے شفا کی طالب ہوئی تو اُنھوں نے اُسے جواب میں یہی کہا کہ ’بچوں کے حصے کی روٹی کتوں کے آگے ڈالنا ٹھیک نہیں۔‘ انجیل میں ضیافت والی جو تمثیل ہے، اُس میں بھی اِسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ آپ کی دعوت جن معروفات پر مبنی تھی، یہ معروفات بنی اسرائیل کے لیے دلیل و حجت بن سکتے تھے، لیکن دوسری قوموں کے لیے اِن کا سمجھنا ممکن نہیں تھا۔ اِس وجہ سے یہ دعوت اپنی فطرت ہی کے لحاظ سے دوسری قوموں کے لیے بالکل ناموزوں تھی۔ چنانچہ واقعہ یہ ہے کہ دوسری قوموں نے، جن کے سامنے یہ دعوت پیش کی گئی، اِس کو بالکل نہیں سمجھا۔ اُنھوں نے انجیلوں سے بس یہ سمجھا کہ حضرت عیسیٰ نے بے شمار معجزے دکھائے ہیں۔‘‘

(تدبر قرآن 2/95)

حضرت مسیح کی وجاہت آپ کی رسالت کا خاص جز تھی۔ مذکورہ آیات میں اِس کے لیے ’وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ‘کے الفاظ آئے ہیں، یعنی آپ دنیا اور آخرت، دونوں میں صاحبِ وجاہت ہوں گے۔ اِس وجاہت کی کیا نوعیت تھی، اِسے امام امین احسن اصلاحی نے لوقا کی انجیل کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’…لوقا کی روایت سے معلوم ہوتاہے کہ 12سال کی عمر میں حضرت مسیح نے پہلی بارہیکل میں تعلیم دی ، لیکن اِس کم سنی کے باوجود اُن کی تعلیم کی حکمت و معرفت، کلام کی بلاغت و جزالت اور لب ولہجہ کی عظمت و جلالت کا عالم یہ تھا کہ فقیہ اورفریسی، سردار و کاہن اورہیکل کا تمام عملہ دم بخود رہ گیا۔ وہ حیرانی کے عالم میں ایک ایک سے پوچھتے پھرتے تھے کہ یہ کون ہے جو اِس شکوہ سے بات کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے اِس کو اختیار ملاہوا ہے۔ یہودیہ کی بستیوں میں جب اُنھوں نے تبلیغ شروع کی تو ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہلچل مچ گئی۔ خلقت اُن پر ٹوٹی پڑتی تھی۔ فقیہ اورفریسی سب پر ایک سراسیمگی کا عالم تھا، وہ اُن کو زچ کرنے اورعوام میں اُن کی مقبولیت کم کرنے کے لیے اُن سے طرح طرح کے سوالات کرتے، لیکن سیدنا مسیح دو دو لفظوں میں اُن کو ایسے دندان شکن جواب دیتے کہ پھر اُن کو زبان کھولنے کی جرأت نہ ہوتی۔ تھوڑے ہی د نوں میں اُن کی وجاہت کا یہ غلغلہ ہوا کہ عوام اُن کو اسرائیل کا بادشاہ کہنے اوراُن کی بادشاہی کے گیت گانے لگے، یہاں تک کہ رومی حکام ـــــ ـ ہیرو دیس اورپیلاطوس ــــــ کے سامنے بھی یہ مسئلہ ایک نہایت اہم مسئلہ کی حیثیت سے آگیا ، لیکن وہ بھی اپنی تمام قوت و جبروت کے باوجود سیدنا مسیح کی عظمت وصداقت اور اُن کی بے پناہ مقبولیت سے مرعوب ہوگئے۔

اِس وجاہت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ باوجود یکہ سیدنا مسیح بن با پ کے پیدا ہوئے اوربن باپ کے پیدا ہونے والے کسی بچے کے لیے عام حالات میں کسی عزت و وجاہت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ، لیکن سیدنا مسیح چونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمۂ ’كُنْ‘ سے پیدا ہوئے تھے، اِس وجہ سے اِس کا معجزانہ اثر یہ ظاہر ہوا کہ روزِ اول سے اُن کو خلق کی نگاہوں میں وہ وجاہت حاصل رہی جو اُس عہد میں کسی کو بھی حاصل نہیں ہوئی۔ وہ زندگی بھر اپنے جانی دشمنوں میں گھرے رہے ، لیکن اِس پہلو سے کسی کو اُن پر طعن کرنے کی جرأت نہیں ہوئی ۔ یہود کے ایک گروہ نے اگر جسارت بھی کی تو بعد کے زمانوں میں کی، اُن کے عہد مبارک میں کسی کو بھی اِس قسم کی جرأت نہ ہوسکی۔ اُن کی اِس وجاہت کی بشارت اُن کی ولادت کی بشارت کے ساتھ ہی حضرت مریم کو اِس لیے دی گئی کہ اُن کو اِس پہلو سے کوئی خلجان نہ ہو کہ بن باپ کے پیدا ہونے کے سبب سے بچے کی یا خود اُن کی وجاہت پر کوئی اثر پڑے گا۔

اِس کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ اِس سے اُن تمام خرافات کی تردید ہورہی ہے، جو انجیلوں میں مذکورہیں کہ یہودیوں نے سیدنا مسیح کے نعوذ باللہ طمانچے لگائے، اُن کا مذاق اڑایا، اُن کو گالیاں دیں، اُن کے منہ پرتھوکا۔ اِن خرافات کا اکثر حصہ، جیسا کہ ہم آگے واضح کریں گے،غلط ہے۔ اللہ کے رسولوں کے دشمن اُن کی توہین و تحقیر کی جسارت تو کرتے ہیں اوراِس سلسلے میں ایک حد تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کو ڈھیل بھی مل جاتی ہے ، لیکن یہ ڈھیل بس ایک خاص حد تک ہی ہوتی ہے ، جب کوئی قوم اِس حد سے آگے بڑھنے کی جسارت کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے اور اُس ناہنجار قوم کا بیڑا غرق کر دیا جاتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن2/92-93)

بہ طورِ رسول آپ کی دعوت

اللہ کے رسول کی حیثیت سے حضرت مسیح علیہ السلام کی دعوت کے بنیادی نکات یہ تھے:

1۔ تورات کی تصدیق،

2۔ بعض حرمتوں کی تحلیل،

3۔ اختلافات کی توضیح،

4۔ آیندہ آنے والے نبی آخرالزماں کی بشارت ۔

قرآن مجید کے مختلف مقامات سے اِنھی کی وضاحت ہوتی ہے۔

سورۂ آل عمران میں آیا ہے کہ آپ کی بعثت کا مقصد تورات کے قوانین کی تائید اور اُس کی پیشین گوئیوں کی تصدیق کرنا تھا۔ اِسی ضمن میں آپ کا کام اُن چیزوں کو لوگوں کے لیے حلال کرنا تھا، جو اللہ کی شریعت میں تو حلال تھیں، مگر علماےبنی اسرائیل نے اُنھیں اپنی جانب سے حرام قرار دے رکھا تھا:

وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَلِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ. اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ. (3: 50-51)

’’اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو مجھ سے پہلے آ چکی ہے اور اِس لیے آیا ہوں کہ تمھارے لیے بعض اُن چیزوں کو حلال ٹھیراؤں جوتم پر حرام کردی گئی ہیں، اور (دیکھو) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں۔ سو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو۔ یقینا اللہ ہی میرا بھی رب ہے اور تمھارا بھی، لہٰذاتم اُسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔‘‘

سورۂ صف میں بیان ہوا ہے کہ آپ کے فرائضِ منصبی میں یہ فریضہ بھی شامل تھا کہ آپ اپنے بعد میں آنے والے رسول کی بشارت دیں۔ چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک کی تصریح کے ساتھ اِس خوش خبری کا اعلان کیا تھا:1

وَاِذْ قَالَ عِيْسَي ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْ اِسْرَآءِيْلَ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَٓ التَّوْرٰىةِ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْم بَعْدِي اسْمُهٗ اَحْمَدُ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ. (61: 6)

’’ (اُن کی یہ ٹیڑھ اِسی طرح قائم رہی)۔ یاد کرو، جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل، میں تمھاری طرف خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تورات کی اُن پیشین گوئیوں کا مصداق ہوں جو مجھ سے پہلے موجود ہیں، اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہو گا۔ مگر اُن کے پاس جب وہ کھلی کھلی نشانیاں لے کر آگیا تو اُنھوں نے کہا: یہ تو کھلا ہوا جادو ہے ۔‘‘

سورۂ زخرف میں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی رسالت کے مقاصد میں ایک مقصد بنی اسرائیل کے مذہبی اختلافات کو رفع کرنا بھی تھا۔ یہ اختلافات اُن کی ظاہر پرستی کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے:2

وَلَمَّا جَآءَ عِيْسٰي بِالْبَيِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَلِاُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ تَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوْنِ. (43: 63)

’’ اور (یاد رکھو کہ) جب عیسیٰ کھلی نشانیوں کے ساتھ آیا تھا تو اُس نے یہ دعوت دی تھی کہ (لوگو)، میں تمھارے پاس حکمت لے کر آگیا ہوں، اِس لیے کہ تم کو دین کی حقیقت سمجھا دوں اور اِس لیے کہ میں تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو۔ سو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو ۔‘‘

معجزات و خوارق سے رسالت کی تائید

حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان معجزات اور خوارق سے لیس کر کے بھیجا تھا۔ وہ اللہ کی مجسم آیت تھے۔ اُن کی پیدایش بھی خارقِ عادت تھی اور اُن کا گہوارے میں کلام کرنا بھی اللہ کی عظیم نشانی تھی۔ پھر جب اُنھوں دعوت کا سلسلہ شروع کیا تو اللہ نے اپنی بینات کو بھی اُس کے ساتھ شامل کر دیا ۔ مزید برآں، باقی رسولوں کی طرح آپ کے لیے بھی روح القدس، یعنی حضرت جبریل علیہ السلام کی مدد کا بندوبست فرمایا۔ سورۂ بقرہ میں ارشاد فرمایا ہے:

وَاٰتَيْنَا عِيْسَي ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ. (2: 87)

’’ اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کو (اِن سب کے بعد) کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اُس کی تائید کی۔‘‘

اِس کے باوجود بنی اسرائیل نے آپ کی رسالت کو ماننے سے انکار کیا۔ معجزات کو اُنھوں نے معاذ اللہ شیاطین اور بھوتوں کے سردار کی کارفرمائی قرار دیا ۔ امام امین احسن اصلاحی سورۂ بقرہ کی اِسی آیت کے تحت لکھتے ہیں:

’’…’بَيِّنٰت‘ سے مراد وہ معجزات ہیں، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیے گئے اور جو اِس قدر واضح تھے کہ اُن کے خدا کی طرف سے ہونے میں کوئی ہٹ دھرم ہی شک کر سکتا تھا ۔ لیکن یہود نے اِن کھلے کھلے معجزات کو بھی تائید ربانی اور فیض روح القدس کا نتیجہ قرار دینے کے بجاے نعوذ باللہ شیطانی تصرف کا نتیجہ قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ معجزے شیطانوں اور بھوتوں کے سردار بعلزبول کی مدد سے دکھاتے تھے۔ قرآنِ مجید نے یہود کے اِسی الزام کی تردید کرتے ہوئے حضر ت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بار بار یہ فرمایا ہے کہ ’اَيَّدْنٰهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ‘ (ہم نے روح القدس سے اس کی مدد کی) ۔ یعنی اُس سے جو معجزے صادر ہوئے، یہ تائید روح القدس کا نتیجہ ہیں، نہ کہ کسی شیطان یا جن کی مدد کا، جیسا کہ یہود سمجھتے ہیں۔‘‘ (تدبر قرآن 1/268)

آل عمران میں اِن معجزات کی تفصیل کی گئی ہے۔ اِس کے مطابق وہ لوگوں کو بتا دیتے تھےکہ وہ کیا کھا کرآئے ہیں ، وہ یہ بھی جان لیتے کہ لوگوں نے اپنے گھروں میں کیا کچھ جمع کر رکھا ہے، وہ مٹی کا پرندہ بنا کر اُس میں پھونک مارتے تو وہ حقیقی پرندہ بن جاتا تھا، وہ پیدایشی اندھے کو بینا کر دیتے، کوڑھ کے مرض میں مبتلا مریض اُن کے پاس آ کر شفا یاب ہو جاتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ مردہ انسانوں کو زندہ کر دیتے تھے۔ اِن تمام معجزات کا ظہور، ظاہر ہے کہ اللہ کے اذن سے ہوتا تھا۔ چنانچہ اللہ نے باذن اللہ کے الفاظ کا مکرر ذکر فرمایا ہے تاکہ اِس معاملے میں ادنیٰ درجے میں بھی کوئی شبہ پیدا نہ ہونے پائے۔ ارشاد ہے:

وَرَسُوْلًا اِلٰي بَنِيْ اِسْرَآءِيْلَ اَنِّيْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ اَنِّيْ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْـَٔةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًام بِاِذْنِ اللّٰهِ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْيِ الْمَوْتٰي بِاِذْنِ اللّٰهِ وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِيْ بُيُوْتِكُمْ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ.(3: 49)

’’ اوراُس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ (چنانچہ یہی ہوا اوراُس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی کہ ) میں تمھارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمھارے لیے مٹی سے پرندے کی ایک صورت بناتا ہوں، پھر میں اُس میں پھونکتا ہوں تو اللہ کے حکم سے وہ فی الواقع پرندہ بن جاتی ہے؛ اور مادر زاداندھے اورکوڑھی کو اچھا کرتا ہوں؛ اوراللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیتا ہوں؛ اورمیں تمھیں بتا سکتا ہوں جو کچھ تم کھا کر آتے ہواورجو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو۔ اِس میں تمھارے لیے یقینا ایک بڑی نشانی ہے، اگرتم ماننے والے ہو۔‘‘

انجیل کا نزول

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام پر اپنی کتاب بھی نازل فرمائی۔ یہ انجیل تھی ، جو اللہ کی حکمت کا خزانہ تھی ۔ اِس میں رأفت و رحمت تھی اور بنی اسرائیل کے لیےہدایت اور روشنی تھی۔اِس نے تورات کو منسوخ نہیں کیا، بلکہ یہ اُس کی مصدق ثابت ہوئی۔ سورۂ مائدہ میں ارشاد فرمایا ہے:

وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًي وَّنُوْرٌ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَهُدًي وَّمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ.

(5: 46)

’’اور ہم نے اُس کو انجیل عطا فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی تھی اور وہ بھی تورات کی تصدیق کرنے والی تھی جو اُس سے پہلے موجود تھی، خدا سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت اور نصیحت کے طور پر۔‘‘

انجیل اپنے بنیادی مقصد کے لحاظ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت تھی۔ استاذِ گرامی نے اِس کے بارے میں لکھا ہے:

’’یہ مسیح علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ اُن کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد آخری نبوت کی بشارت تھی۔ انجیل کے معنی بشارت کے ہیں اور یہ نام اِسی رعایت سے رکھا گیا ہے۔ الہامی کتابوں کے عام طریقے کے مطابق یہ بھی دعوت و انذار کی ضرورتوں کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً نازل ہوتی رہی۔‘‘ (میزان 157)

بنی اسرائیل پر اتمام حجت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رسولوں کی سنت کے مطابق بنی اسرائیل کے بااثر لوگوں کو دعوت دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اُنھوں نے اُن کے علما اور سرداروں کے سامنے حقائق کو پوری طرح واضح کر دیا۔ اِس کے نتیجے میں وہ حضرت مسیح کی رسالت سے پوری طرح آ گاہ ہو چکےتھے۔ وہ آپ کے من جانب اللہ ہونے کا ادراک رکھتے تھے اور آپ کی دعوت کی حقانیت کو درونِ خانہ تسلیم کرتے تھے۔ لیکن اِس کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ آپ پر ایمان نہیں لائے اور آپ کے کفر اور عناد پر کمر بستہ ہو گئے۔ تاہم عام لوگوں کے ایک مختصر گروہ نے آپ کی دعوت کو قبول کر لیا ۔ سورۂ صف میں بیان ہوا ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک بڑا گروہ آپ کے انکار پر جم گیا ، جب کہ ایک چھوٹا گروہ3 آپ کی رسالت پر ایمان لے آیا:

فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْم بَنِيْ اِسْرَآءِيْلَ وَكَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰي عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ.(61: 14)

’’ چنانچہ بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک بڑا گروہ اپنے کفر پر جما رہا۔ پھر ہم نے ایمان والوں کی اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی تو وہی غالب ہو کر رہے۔ ‘‘

امام امین احسن اصلاحی اِس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’…انبیا علیہم السلام کی یہ سنت رہی ہے کہ اول اول تو اُنھوں نے اپنی اپنی قوموں کے با اثر لوگوں کو جھنجھوڑنے اور جگانے کی کوشش کی ہے، لیکن جب اُنھوں نے یہ دیکھ لیا ہے کہ یہ خوابِ غفلت کے مارےلوگ کروٹ بدلنے والے نہیں ہیں تو اُنھوں نے اِن سرمستوں کو اِن کے حال پر چھوڑ کر اپنی ساری توجہ اپنے غریب باایمان ساتھیوں پر مرکوز کر دی ہے۔ قرآنِ مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار سے اعراض کرنے اور اہل ایمان کو تذکیر کرنے کی جو بار بار ہدایت ہوئی ہے، وہ اِسی مرحلے کی بات ہے۔ اور یہی مرحلہ ہے جس میں سیدنا مسیح علیہ السلام نے دریا کے کنارے کے ماہی گیروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے مچھلیوں کے پکڑنے والو، آؤ، میں تمھیں آدمیوں کا پکڑنے والا بناؤں۔

اِس آیت سے حضرات انبیا علیہم السلام کے کردار پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ وہ حالات کے بگاڑ اور قوم کی ہٹ دھرمی سے مایوس اور دل شکستہ نہیں ہوتے، بلکہ خدا کی راہ میں وہ اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ اگر زور و اثر رکھنے والے لوگ اُن کا ساتھ نہیں دیتے تو وہ اپنے غریب، وفادار اور کم زور و بے اثر ساتھیوں ہی کو لے کر اپنا سفر شروع کر دیتے ہیں۔ حالات کی تاریکی اُن کے اندر روشنی اور قوم کی بے مہری اُن کے اندر مزید قوت اور عزم پیدا کرتی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن2/99)

بالآخر حضرت مسیح علیہ السلام اِس امر پر مطلع ہو گئے کہ بنی اسرائیل کے علما اور سردار اُن کی دعوت پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ یہ انکار کا پختہ فیصلہ کر چکے ہیں، اِس لیے اب اِن کے بجاے اپنے حواریوں کی طرف متوجہ ہونا چاہیے تاکہ وہ دعوت کے اگلے مراحل میں آپ کے معاون و انصار بن سکیں۔ چنانچہ آپ نے اُنھیں مدد کے لیے پکارا۔ قرآنِ مجید نے اِس معاملے کو اِن الفاظ میں نقل کیاہے:

فَلَمَّا اَحَسَّ عِيْسٰي مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِيْ اِلَي اللّٰهِ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَاشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ. رَبَّنَا اٰمَنَّا بِمَا اَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ.

( آل عمران 3: 53-52)

’’ پھر جب عیسیٰ نے محسوس کیا کہ یہ لوگ انکار ہی کریں گے تو اُس نے (حواریوں سے) کہا: کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہوتا ہے؟ حواریوں نے جواب دیا: ہم ہیں اللہ کے مددگار، ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اورآپ گواہ رہیے کہ ہم نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ پروردگار، ہم نے اُسے مان لیا ہے جو آپ نے نازل کیا ہے اور (اُس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ) رسول کی پیروی اختیار کرلی ہے۔ سو آپ ہمیں اُس کی گواہی دینے والوں میں لکھ لیں۔‘‘

استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’…مسیح علیہ السلام نے جب بنی اسرائیل کے علما اور سرداروں کے رویے سے یہ محسوس کر لیا کہ اِن پتھروں میں جونک لگانا ممکن نہیں ہے اوراب یہ انکار کا فیصلہ کر چکے ہیں تو اپنے ساتھیوں سے مدد چاہی کہ اللہ تعالیٰ آگے کے مراحل میں جو ذمہ داری بھی اُنھیں دیں، اُس کو پورا کرنے میں وہ اُن کے مددگار بن کر کھڑے ہوں۔ اِس کے لیے جو جملہ اُن کی زبان سے نکلا ہے، اُس سے ، اگر غور کیجیے تو استاذ اما م کے الفاظ میں جس طرح جوش دعوت کا اظہار ہورہا ہے ، اُسی طرح یہ بات بھی نمایاں ہو رہی ہے کہ اِس دعوت کے ساتھ وہ گویا یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ میں تو اپنے رب کی راہ پر ، یہ دیکھو، چل کھڑا ہوا ہوں ۔ اب جس کے اندر حوصلہ ہو، وہ اِس وادی پر خار میں میرا ساتھ دے۔‘‘

(البیان 1/ 356)

بنی اسرائیل کی حق دشمنی بڑھتے بڑھتے اِس آخری حد تک پہنچ گئی کہ اُنھوں نے اللہ کے رسول کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ یہ کام اُنھوں نے اپنی خفیہ سازشوں کے ذریعے سے کیا ۔ اِن سازشوں کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا تھا ، جن کے نتیجے میں آپ صلیب کی سزا کے مستحق قرار پائیں ۔ قرآنِ مجید نے اِن سازشوں کو ’وَ مَكَرُوۡا‘ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یعنی بنی اسرائیل نے حضرت مسیح کے خلاف خفیہ تدبیریں کرنا شروع کر دیں ۔

یہ خفیہ تدبیریں کیا تھیں؟ امام امین احسن اصلاحی نے اناجیل کی روشنی میں اِن کا خلاصہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ایک تو اُنھوں نے آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر اسلاف کی روایات توڑنے اور بزرگوں کی توہین و تحقیر کا الزام لگایا تاکہ عوام کے جذبات اُن کے خلاف بھڑکائے جا سکیں۔

دوسرا جال اُنھوں نے یہ بچھایا کہ اپنے مخصوص آدمی بھیج بھیج کر اُن سے ایسے سوالات کیے، جن کے جوابوں سے اُن کے خلاف کفر و ارتداد کے فتوے کا مواد فراہم ہو سکے۔ یہ کام یہود کے فقیہوں اور فریسیوں نے بڑی سرگرمی سے انجام دیا اور سیدنا مسیح علیہ السلام کی تمثیلوں اور تشبیہوں کے اندر سے اُنھوں نے اپنی دانست میں وہ مواد فراہم کر لیا، جس کی بنیاد پر اُن کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیا جا سکے۔

تیسرا یہ کہ اُس زمانے میں چونکہ ملک پر سیاسی اقتدار رومیوں کا تھا ،اِس وجہ سے اُن کو بھڑکانے کے لیے مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلے تو خراج کی ادائیگی سے متعلق سیدنا مسیح علیہ السلام سے سوالات کیے گئے، جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ یہ شخص لوگوں کو قیصر کو خراج دینے سے روکتا ہے۔ لیکن اِس قسم کے سوالوں کے جواب سیدنا مسیحؑ نے ایسے دندان شکن دیے کہ علماے یہود اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ پھر اُنھوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ شخص اسرائیل کا بادشاہ ہونے کا مدعی ہے۔ اِس کے لیے حضرت مسیح علیہ السلام کے بعض تمثیلی اقوال سے مواد حاصل کرنے اور اِس کے ذریعے سے رومی حکومت کو بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔

چوتھی تدبیر یہ کی گئی کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے بارہ شاگردوں میں سے ایک شاگرد یہودا کو، جو منافق تھا، یہود نے رشوت دے کر اِس بات پر راضی کر لیا کہ وہ آں حضرت علیہ السلام کی مخبری کرے اور اُن کو گرفتار کرائے۔‘‘(تدبر قرآن 2/ 102)

اللہ کی طرف سےحضرت مسیح کی نصرت و بشارت کا اعلان

رسولوں کے باب میں اللہ کی سنت ہے کہ جب اُن کی مخاطب قوم پر اتمام حجت ہو جاتا ہے تو رسول کی اصل ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ اِس کے بعد منکرین کے لیے سزا اور مومنین کے لیے جزا کا وقت آ جاتا ہے ۔ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ قوم کے حالات کے لحاظ سے رسول کی زندگی کے بارے میں فیصلہ فرماتے ہیں۔ اگر جزا و سزا کو رسول کے سامنے برپا کرنا مقصود ہو تو اُسے زندہ رکھا جاتا ہے ، وگرنہ اُسے وفات دے دی جاتی ہے۔ سورۂ مومن اور سورۂ یونس میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اِسی سنت سے آ گاہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ.

(المومن40: 77)

’’ (یہ نہیں مان رہے، اے پیغمبر)، توصبر کرو۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ کا وعدہ بر حق ہے۔پھر جس عذاب کی وعید ہم اِنھیں سنا رہے ہیں، اُس کا کچھ حصہ ہم تمھیں دکھا دیں یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہر کیف اِن کو پلٹنا ہماری ہی طرف ہے۔‘‘

وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِيْدٌ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ.

(يونس10: 46)

’’ ہم جس چیز کا وعدہ اُن سے کر رہے ہیں، اُس کا کوئی حصہ ہم تمھیں دکھا ئیں، (اے پیغمبر)، یا تم کو وفات دیں اور اِس کے بعد اِن سے نمٹیں، بہرکیف اِن کو لوٹنا ہماری ہی طرف ہے، پھر اللہ اُس پر گواہ ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

’’…خطاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس عذاب سے اُن کو ڈرایا جا رہا ہے اور یہ اُس کے مؤخر ہونے کے سبب سے اُس کو خالی خولی دھمکی سمجھ رہے ہیں اور تمھیں زچ کرنے کے لیے اُس کی جلدی مچائے ہوئے ہیں، اگر حکمت الہٰی مقتضی ہوئی تو تمھاری زندگی ہی میں اُن کو اِس کا کچھ حصہ دکھا دیا جائے گا، ورنہ اللہ تعالیٰ تمھیں وفات دے گا اور اُن کی واپسی ہماری طرف ہو گی پھر اللہ اُن کا سارا کچا چٹھا اُن کے سامنے رکھ دے گا۔‘‘(تدبر قرآن 4/ 60)

عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت میں یہ مرحلہ اُس وقت آیا ،جب بنی اسرائیل اپنی منصوبہ بندی کو روبہ عمل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو گئے ۔ اِس موقع پر اللہ نے وفات کی صورت کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اللہ نے آپ کے لیے اپنی نصرت و بشارت کا یہ اعلان فرمایا کہ وہ آپ کی روح کو قبض کر لیں گے اور آپ کی ذاتِ اقدس کو منکرین سے پاک کر یں گے۔ بنی اسرائیل کی جزا و سزا کا معاملہ اِس طرح ہو گا کہ آپ کے ماننے والے ـــــ نصاریٰ ـــــ قیامت تک آپ کے منکرین ـــــ یہود ــــــ پر غالب رہیں گے۔ ارشاد ہے:

وَمَكَرُوْا وَمَكَرَ اللّٰهُ وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ. اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰي اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ.

( آل عمران 3: 55-54)

’’ (یہ ہوا) اور بنی اسرائیل نے (اُس کے خلاف ) خفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں، اور اللہ نے بھی (اِس کے جواب میں ) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ اُس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کردوں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘

مسیح علیہ السلام کی ہجرت

جب اللہ کا رسول اپنے منکرین پر حجت تمام کر دیتا ہے اور وہ اُس کےدلائل و براہین کے آگے بالکل زچ ہو جاتے ہیں تو وہ رسول سے چھٹکارا پانے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ اِس ذلالت اور رذالت کے لیے اُنھیں عموماً دو ہی راستے سجھائی دیتے ہیں : یا وہ پیغمبر کو جلا وطن کر دیں یا اُس کے قتل کے درپے ہو جائیں۔ قرآن سے واضح ہے کہ رسولوں کی قوموں نے یہ دونوں طریقے اختیار کرنے کی جسارت کی ہے۔ سورۂ ابراہیم میں جہاں اللہ کے رسولوں کی سرگذشت بیان ہوئی ہے، وہاں کفار کی طرف سے رسولوں کو جلا وطن کر دینے کی دھمکی بھی نقل ہوئی ہے:

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَا اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا فَاَوْحٰي اِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَ.(14: 13)

’’اِس پر منکروں نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ ہم تم کو اپنی اِس سرزمین سے لازماً نکال دیں گے یا تمھیں بالآخر ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا۔ تب اُن کے پروردگار نے اُن کی طرف وحی بھیجی کہ ہم اِن ظالموں کو ہلاک کر دیں گے۔‘‘

امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’ہر رسول کی زندگی میں بالآخر یہ مرحلہ بھی پیش آیا ہے کہ اُس کی دعوت سے تنگ آ کراُس کی قوم نے اُس کو یہ نوٹس دے دیا کہ یا تو تم ہماری ملت میں واپس آ جاؤ، ورنہ ہم تمھیں اپنی سرزمین سے جلاوطن کر دیں گے۔ جب نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بہ ذریعہ وحی اپنے رسولوں کو یہ بشارت دے دی ہے کہ ہم اِن ظالموں ہی کو ہلاک کر دیں گے اور اِن کے بعد تمھیں زمین میں بسائیں گے۔‘‘ (تدبر قرآن4/ 317)

سورۂ بنی اسرائیل میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کفارِ قریش کی اِنھی کارستانیوں کا ذکر آیا ہے:

وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا.

(17: 76)

’’ یہ اِس سرزمین سے تمھارے قدم اکھاڑ دینے کے درپے ہیں تاکہ تم کو یہاں سے نکال دیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو تمھارے بعد یہ بھی کچھ زیادہ دیر ٹھیرنے نہ پائیں گے۔‘‘

اِسی طرح یہ بات بھی معلوم و معروف ہے کہ جس رات آپ نے مکہ سے ہجرت فرمائی ، اُس رات کفار قریش نے آپ کے قتل کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تو اِس کا اقدام بھی کر دیا گیا تھا۔ سورۂ عنکبوت میں بیان ہوا ہے کہ جب اُن کی قوم کے پاس اُن کی دعوت کا کوئی جواب نہ رہا تو اُس نے اُنھیں قتل کرنے کا فیصلہ کیا اور اُس پر عمل درآمد بھی کر دیا، مگر اللہ تعالیٰ نے اُنھیں پوری طرح محفوظ رکھا:

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖ٘ اِلَّا اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِ. (29: 24)

’’ سو (ابراہیم نے اپنی دعوت پیش کی تو) اُس کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے: اِسے قتل کر دو یا جلا دو۔ پھر اللہ نے اُس کو آگ سے بچا لیا۔‘‘

جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ ہے تو بنی اسرائیل نے اُنھیں قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اِس مقصد کے لیے اُنھوں نے سازشی منصوبہ بنایا۔ اِس منصوبے کو قرآن نے ’وَ مَكَرُوۡا‘ (اُنھوں نےخفیہ تدبیریں کرنا شروع کیں)کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ ویسا ہی منصوبہ تھا، جیسا اُن سے پہلےحضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے بعد نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اُن کی قوموں نے بنایا تھا۔ چنانچہ دیکھیے، قرآن نے حضرت مسیح کے قتل کی سازش کے لیے ’مَكَر‘ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف کی گئی سازش کے لیے ’ كَيْد‘ (چال) کا لفظ استعمال کیا ہے۔4 سورۂ صافات میں ارشاد فرمایا ہے:

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَيْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِيْنَ. (37: 98)

’’سو اُنھوں نے اُس کے ساتھ چال کرنی چاہی تو ہم نے اُنھی کو نیچا دکھا دیا۔‘‘

اللہ کے رسولوں کے ساتھ جب اُن کی قومیں ایسا بہیمانہ سلوک اختیار کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو پھر اللہ اپنے رسولوں کو محفوظ کر کے اُن قوموں کا فیصلہ نافذ کر دیتا ہے۔ اِس موقع پر رسول کو اُس قوم سے الگ کر لیا جاتا ہے۔الگ کرنے کی صورت بہ شکلِ حیات ہجرت الی الارض بھی ہو سکتی اور بہ شکل وفات ہجرت الی السماء بھی ہو سکتی ہے۔ ہر دو صورتوں میں یہ ہجرت الی اللہ ہوتی ہے ، جس کا اظہار اُس کے حکم سے اوراُس کی حکمتِ عملی کے مطابق ہوتا ہے۔ قرآن نے اِسی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے ’مُهَاجِرٌ اِلٰي رَبِّيْ‘ اور ’ذَاهِبٌ اِلٰي رَبِّيْ‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ وہ موقع تھا، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم اُن کو قتل کر دینے اور آگ میں جلا دینے کے درپے ہو گئی تھی:

وَقَالَ اِنِّيْ مُهَاجِرٌ اِلٰي رَبِّيْ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ.

(العنکبوت29: 26)

’’ اور ابراہیم نے (جب یہ دیکھا کہ اُس کے سوا کوئی شخص بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے تو) کہا: میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرتا ہوں۔ بے شک، وہی زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔‘‘

وَقَالَ اِنِّيْ ذَاهِبٌ اِلٰي رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ.(الصافات 37: 99)

’’ ابراہیم نے کہا: (تم لوگوں کو چھوڑ کر اب) میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔‘‘

استاذِ گرامی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اِس ہجرت کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’اپنی قوم پر اتمام حجت کے بعد یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے ہجرت کے فیصلے کا اظہار ہے۔ لوگ داعی حق کی جان کے درپے ہو جائیں تو انبیا علیہم السلام کو اِسی طرح ہجرت کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ آگے کیا پیش آئے گا، اِس طرح کے موقعوں پر اِس کا کچھ اندازہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہر قدم پر ضرورت ہوتی ہے کہ وہی پروردگار رہنمائی فرمائے، جس کے بھروسے پر اتنا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘ (البیان 4/ 275)

حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام کی قوموں پر اتمام حجت کے بعد جب اللہ کے عذاب کا فیصلہ ہوا تواِن رسولوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اُن قوموں سے الگ کر لیا۔ حضرت لوط کو حکم دیا کہ اپنی بیوی کے سوا باقی اہل و عیال کو لے کر اس قوم کے مسکن سے دور نکل جائیں ۔ حضرت شعیب کے حوالے سے فرمایا کہ ہم نے شعیب کو اور اُن پر ایمان لانے والوں کو ظالموں سے نجات عطا فرمائی ہے۔ سورۂ ہود میں بیان ہوا ہے:

قَالُوْا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْ٘ا اِلَيْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ اِنَّهٗ مُصِيْبُهَا مَا اَصَابَهُمْ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ. (11: 81)

’’ فرشتوں نے کہا: اے لوط، ہم تمھارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں۔ (مطمئن رہو)، یہ تمھارے قریب بھی نہیں آسکیں گے۔ سو اپنے اہل و عیال کو لے کر کچھ رات رہے نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ تمھاری بیوی نہیں، اِس لیے کہ اُس پر وہی کچھ گزرنے والا ہے جو اِن لوگوں پر گزرنا ہے۔ اِن (پر عذاب) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ (تم پریشان کیوں ہوتے ہو)؟ کیا صبح قریب نہیں ہے؟ ‘‘

وَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَاَخَذَتِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ.

(11: 94)

’’ (اِس پر) جب ہمارا حکم صادر ہو گیا تو ہم نے شعیب کو اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے، خاص اپنی رحمت سے نجات دی اور جنھوں نے (اپنی جان پر) ظلم ڈھایا تھا، اُن کو کڑک نے آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔‘‘

حضرت مسیح علیہ السلام کو بنی اسرائیل سے نجات دلانے اور اللہ کی طرف ہجرت کرنے کی صورت یہ اختیار کی گئی کہ اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے جسم مبارک کو اُن سے الگ کر کے اپنی طرف اٹھا لیا۔5 سورۂ نساء میں ارشاد فرمایا ہے:

وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًام. بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا. (4: 157-158)

’’ دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی، بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔ اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ ہی نے اُسے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا ہے۔‘‘

ان آیات میں سے ’بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ‘ سے مراد اللہ کا سیدنا مسیح علیہ السلام کی روح قبض کر کے اُن کے جسم کو بنی اسرائیل کے اندر سے اٹھا لینا ہے۔ استاذِ گرامی لکھتے ہیں:

’’…اِس رفع کی وضاحت قرآن نے سورۂ آل عمران (3) کی آیت 55 میں اِس طرح فرمائی ہے کہ وفات کے بعد اللہ تعالیٰ اُنھیں اپنی طرف اٹھا لیں گے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ روح قبض کر کے اُن کا جسم بھی اٹھا لیا جائے گا تاکہ اُن کے دشمن اُس کی توہین نہ کر سکیں۔ مسیح علیہ السلام اللہ کے رسول تھے اور رسولوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون قرآن میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی حفاظت کرتا ہے اور جب تک اُن کا مشن پورا نہ ہو جائے، اُن کے دشمن ہرگز اُن کو کوئی نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ اِسی طرح اُن کی توہین و تذلیل بھی اللہ تعالیٰ گوارا نہیں کرتا اور جو لوگ اِس کے درپے ہوں، اُنھیں ایک خاص حد تک مہلت دینے کے بعد اپنے رسولوں کو لازماً اُن کی دست درازی سے محفوظ کر دیتا ہے۔‘‘ (البیان 1/ 573)

بنی اسرائیل کی جزا و سزا

سیدنا مسیح علیہ السلام کی ہجرت الی اللہ کے بعد سنتِ الٰہی کا آخری مرحلہ یہ تھا کہ ایمان لانے والوں کو اُن کے ایمان کی جزا دی جائے اور منکرین پر اُن کے انکار کے باعث عذاب نازل کیا جائے۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے منکرین، یعنی یہود کو بہ حیثیت قوم تاقیامت مغلوبیت کے عذاب میں مبتلا کر دیا گیا۔ اِس کے اہل ایمان، یعنی نصاریٰ کو یہ جزا دی گئی کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیےیہود پر غالب رہیں گے۔ سورۂ صف میں ارشاد ہے:

فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰي عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ.(61: 14)

’’ پھر ہم نے ایمان والوں کی اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد کی تو وہی غالب ہو کر رہے۔‘‘

آلِ عمران میں اِسی جزا و سزا کو وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے:

وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ. فَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ.(3: 56-55)

’’ اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کردوں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ سو یہی منکرین ہیں جن کو میں دنیا اور آخرت ، دونوں میں سخت سزا دیتا ہوں اور وہ اپنے لیے کوئی مددگار نہیں پاتے۔‘‘

استاذِ گرامی نے اِن آیات کے تحت اِس جزا و سزا کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’یہ بنی اسرائیل کے لیے خدائی دینونت کا ظہور ہے، جسے گذشتہ دو ہزار سال سے ہر شخص بچشم سر دیکھ سکتا ہے۔ اِس غیر معمولی طور پرحیرت انگیز پیشین گوئی کو دنیا کا کوئی تغیر ، زمانے کی کوئی گردش اور وقت کی کوئی کروٹ کبھی ایک لمحے کے لیے بھی باطل نہیں کر سکی ۔ خدا اور اُس کی عدالت کا یہ ایسا صریح ثبوت ہے جو ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔ اِس کے بعد وہ کیا چیز ہے جو قیامت کے بارے میں قرآن کی وعید کو جھٹلا سکتی ہے؟

رسولوں کے منکروں کے لیے اللہ کا قانون یہی ہے کہ اُن کی طرف سے اتمام حجت کے بعد وہ اِسی دنیا میں عذاب سے دو چار ہو جاتے ہیں ۔ پھر بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے شہادت کے جس منصب پرفائز کیا ہے، اُس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اُن کے گناہوں کی سزا اُنھیں دنیا میں دی جائے ۔ چنانچہ قیامت تک کے لیے وہ جس طرح نصاریٰ کے محکوم بنائے گئے ہیں اور اُن پر جو دل ہلا دینے والی آفتیں وقتاً فوقتاً آتی رہی ہیں، وہ سب اِسی قانون کے مطابق ہیں۔‘‘(البیان1/360-359)

[2023ء]

____________

  1. 1۔ استاذ گرامی نے اِس آیت کے تحت ’’البیان‘‘ میں لکھا ہے:

    ’’یعنی تورات کو اپنی نبوت و رسالت کی دلیل کے طور پر پیش کرنے کے بعد اُنھوں نے اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دی۔ یہ بشارت اگرچہ اکثر انبیا نے دی ہے، لیکن آں جناب کی بشارت بعض پہلوؤں سے بالکل مختلف ہے:

    ایک یہ کہ اِس بشارت کو اُنھوں نے اپنی بعثت کا خاص مقصد بتایا ہے، یہ اُن کا کوئی ضمنی کام نہیں تھا۔ چنانچہ اُن پر جو صحیفہ نازل ہوا، اُس کا نام ہی انجیل ہے جس کے معنی یونانی میں بشارت کے ہیں۔ اِس نام سے موسوم ہونے کی کوئی وجہ اگر سمجھ میں آتی ہے تو وہ یہی ہے کہ اُن کا امتیازی وصف اور خاص مشن یہی تھا کہ اپنے بعد آنے والے آخری رسول کی بشارت دیں۔ آسمانی بادشاہت سے وہ اِسی رسول کے عہد مبارک کو تعبیر کرتے اور اپنی تمثیلات میں اُس کے ظہور اور ارتقا کی پوری تصویر کھینچ دیتے ہیں۔

    دوسرا یہ کہ ’يَاْتِيْ مِنْ م بَعْدِي‘ کے الفاظ سے اُنھوں نے اِس رسول کے ظہور کا زمانہ بھی پوری قطعیت کے ساتھ متعین کر دیا ہے۔ چنانچہ کوئی انصاف پسند شخص اِس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے بعد تنہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شخصیت ہے جس پر وہ تمام صفات اور تمثیلات پوری طرح منطبق ہوتی ہیں جو آں جناب نے بیان فرمائی ہیں۔

    تیسرا یہ کہ اُنھوں نے یہ بشارت آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی کی صراحت کے ساتھ دی ہے۔ اِس کے شواہد انجیلوں میں جگہ جگہ دیکھ لیے جا سکتے ہیں۔‘‘

    (5/194-193)

  2. 2۔ اِن اختلافات کی نوعیت امام امین احسن اصلاحی نے ’’تدبر قرآن‘‘ میں اِن الفاظ میں بیان کی ہے:

    ’’…حضرت عیسیٰ علیہ السلام کسی نئی شریعت کے داعی نہیں تھے، بلکہ وہ تورات ہی کے مصدق تھے۔ البتہ اُنھوں نے حکمت، یعنی روح دین اور مغز دین سے بنی اسرائیل کو آشنا کرنا چاہا، لیکن اُنھوں نے اِس کی کوئی قدر نہیں کی۔ بلکہ اپنی اُسی ظاہر پرستی میں مبتلا رہے، جس میں مبتلا تھے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اصل دین تو اُن کے اندر سے غائب ہو گیا، البتہ کچھ رسوم رہ گئے جن کو ادا کر کے وہ مطمئن ہو جاتے کہ اللہ اور اُس کے دین کے تمام حقوق سے وہ سبکدوش ہو گئے۔

    اگر دین کی حکمت غائب ہو جائے، صرف رسوم اور الفاظ باقی رہ جائیں تو اُس کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ دین کے اندر طرح طرح کے اختلافات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، جن کو دور کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہود بھی حکمت دین سے محروم ہو جانے کے بعد اِسی فتنہ میں مبتلا ہو گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تعلیم حکمت کے ذریعہ سے اُن کے اِن مذہبی اختلافات کو دور کرنا چاہا، لیکن یہود نے اِس حکمت کی قدر نہیں کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُن کے اختلافات برابر بڑھتے ہی رہے، یہاں تک کہ وہ اپنے اُس انجام کو پہنچ گئے، جو اُن کی اِن ناقدریوں کا لازمی نتیجہ تھا۔‘‘

    (7/ 246-245)

  3. 3۔ یعنی ایک مختصر سا گروہ ایمان لایا اور ایک بڑا گروہ اپنے کفر پر جما رہا۔ قرینہ دلیل ہے کہ اصل میں جو لفظ ’طَآئِفَةٌ‘آیا ہے، اُس کی تنکیر ایک جگہ تقلیل کے لیے، اور دوسری جگہ تکثیر کے مفہوم میں ہے۔(البیان5/199)
  4. 4۔ استاذِ گرامی نے ’كيد‘کی وضاحت میں لکھا ہے:

    ’’ یعنی آتش کدہ بنا کر کسی بہانے سے اُن کو اُس میں پھینکنا چاہا۔ اِس کی وجہ غالباً یہ رہی ہو گی کہ علانیہ اقدام کی صورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان کی طرف سے مزاحمت کا اندیشہ ہو سکتا تھا۔ چنانچہ معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں بھی قریش کے سرداروں کو اِسی طرح کی تدبیر کرنی پڑی تھی۔‘‘ ( البیان 4/ 275)

  5. 5۔ ایسا غالباً اِس لیے کیا گیا کہ مبادا بنی اسرائیل آپ کے وجود کی بے حرمتی کی جسارت کریں ۔