مسلمان معاشروں میں بچوں کو حفظ قرآن کرانا ایک بہت بڑی سعادت سمجھا جاتا ہے ۔ اس مضمون میں اس انتہائی اہم موضوع پر مصنف نے دلائل سے واضح کیا ہے ایسا کرنا کیا دین میں مطلوب ہے ؟ قرآن کے حفظ کرنے میں فضائل کی کیا حقیقت ہے اور خود معاشرے اور بچوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟
عہدِ رسالت سے قرآن مجید حفظ و تحریر دونوں طریقوں سے محفوظ اور منتقل کیا گیا ۔صحابہ اپنے ذوق اور استعداد کے مطابق قرآن مجید مکمل یا جزواً یاد کرلیتے تھے۔لیکن رسمی حفظِ قرآن اوربچوں کوبالجبر قرآن یادکرانے کا کوئی تصور نہ تھا۔
مسلمانوں کو ایک طویل عرصے سے یہ باور کرایا گیا ہے حفظِ قران کی سعادت حاصل کرنے کی بہترین عمر بچپن کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک حافظِ قرآن اپنے خاندان کے دس ایسے افراد کو جنت میں لے جانے کا ذریعہ بنے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی۔ حافظِ قرآن کے والدین کو روزِ قیامت ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی روشنی سے بھی زیادہ ہوگی۔ان ترغیبات کے زیر اثر والدین یہ سعادت حاصل کرنے اور جہنم سے بچنے کے لیے ہر قیمت پر اپنے بچوں کو قرآن حفظ کرانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ گلی ،محلوں ، گاؤں اورشہروں میں جگہ جگہ کھلے ہوئے حفظ قرآن کے مدارس ایسے ہی بچوں سے آباد اور ایک بڑے طبقے کے معاش کا ذریعہ ہیں۔
حفظِ قرآن سے متعلق محولہ بالا روایات ضعیف ہیں اور دین کے مسلّمہ اصولوں کے بھی خلاف ہیں۔ قرآن مجید ہر شخص کو اس کے اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ خد ا کی عدالت میں کوئی کسی دوسرے کے کام نہیں آئے گا، وہاں بغیر میرٹ کے کسی کی سفارش نہیں کی جا سکے گی۔
مگر والدین ان برسر خود غلط ترغیبات سے متاثر ہو کر اپنے کم سن بچوں کو زبردستی حفظ کرانے کے لیے کسی مدرسے میں چھوڑ جاتے ہیں۔ بلکہ ترجیحاً اپنے گاؤں، محلے اور گھر سے دور کسی مدرسے میں داخل کراتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اپنے علاقے اور گھر کے قریب کے مدرسے میں بچے کی توجہ اپنے خاندان اور دوستوں سے ملنے کی تڑپ میں منتشر رہتی ہے، چناں چہ کوشش کی جاتی ہے کہ اسے ان سب سے دور بھیج دیا جائے، جہاں وہ کوئی شناسا نہ پائے اور پوری توجہ سے قرآن مجید حفظ کرنے پر مجبور ہو جائے۔
والدین کی شفقت اور احساس تحفظ سے محروم ہو جانے کے بعد ایک اجنبی ماحول میں بچہ جس جذباتی المیے سے گزرتا ہے، اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ بچپن کے لا ابالی پن سے لطف اندوز ہونے کی عمر ایک سخت روٹین کے شکنجے میں پھنس جاتی ہے۔ ایک محدود ماحول میں مقید ہو جانے سے معاشرتی رویے سیکھنے کے مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ مختلف عمر اور مزاج کے لڑکوں اور اساتذہ کے درمیان اس کی معصومیت بھی ہمہ وقت خطرے میں رہتی ہے۔ بچہ جتنا کم عمر ،خوش شکل اور والدین کی خبر گیری سے دور ہوتا ہے، اس کے استحصال کے امکانات اتنے زیادہ ہوتے ہیں۔
راقم کو ایسے والدین دیکھنے کا موقع ملا جن کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی۔ انھیں خبر کی گئی، وہ آئے مگر بچے کو اپنے ساتھ لے جانے کی بجائے اسے تسلی دے کر پھر اسی مدرسے میں چھوڑ کر چلے گئے۔ بہت ہوا تو ایسے ہی کسی دوسرے مدرسے میں اسے داخل کرا دیا، مگر حفظِ قرآن مکمل کرائے بغیر وہ اسے واپس لے جانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ ان کے لیے ایسے حادثات غیر متوقع نہیں تھے۔ ان خدشات کو گوارا کرتے ہوئے ہی وہ اپنے کم سن بچوں کو اجنبی ماحول کے سپرد کرآتے ہیں۔
بچے سے قرآن حفظ کروانے کے لیے والدین نہ صرف خود اس پر تشدد کرتے ہیں بلکہ اساتذہ کو بھی اس کی کھلی اجازت دیتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بے اصل روایت بھی مشہور کرا رکھی ہے کہ جسم کے جس حصے پر استاد کی مار پڑتی ہے اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔ یہ معاملہ یہاں تک بڑھا ہوا ہے کہ تشدد کی صورت میں بچہ اگر زخمی ہو جائے یا، خدانخواستہ، اس کی موت واقع ہو جائے تو والدین عموماً استاد کو معاف کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بچہ خدا کی راہ میں شہید ہو گیا۔ یوں والدین کی آخرت سنور گئی۔ یہی نصب العین تھا جو قبل از وقت حاصل ہو گیا۔ اس” خدمت” کے عوض استاد کو سزا کیوں دی جائے؟ سزا سے مامونیت کی یہ توقع تشدد پسند طبائع کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
کچھ بچوں میں اتنی ذہنی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ پورا قرآن یاد کر سکیں۔ راقم کے تجربے میں ایسے والدین بھی آئے جنھیں بتایا گیا کہ ان کا بچہ حفظ نہیں کر سکتا، لہذا اسے مجبور نہ کیا جائے۔ انھوں نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور بضد رہے کہ بچے کو ہر صورت حفظ کرایا جائے۔ ان کے مطابق، حفظ کرنے کی محنت سے دماغ تیز ہو جاتا ہے۔
ایسے بچوں کو برسوں حفظ کی چکی میں پیسا جاتا ہے۔ سبق یاد نہ کر سکنے کی پاداش میں مار پیٹ اور ذلت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم سبق بچوں کے سامنے وہ نکّو بن کر رہ جاتے ہیں۔ انھیں باور کرایا جاتا ہے کہ وہ گناہ گار ہیں، اسی وجہ سے ان کی یاداشت کام نہیں کر رہی۔ انھیں بتایا جاتا ہے کہ حافظ کے ساتھ عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ شیطان لگے ہوتے ہیں جواسے حفظ کی سعادت سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔
یہ صورت حال کسی اذیت گاہ (ٹارچر سیل) سے کم نہیں ہوتی، جہاں بچہ ہر صبح یہ سوچ کر اٹھتا ہے کہ تشدد اور ذلت کا ایک اور طویل دن اس کا منتظر ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک گناہ گار شخص ہے جس سے اس کے والدین راضی ہیں نہ اساتذہ اور نہ ہی خدا۔ ہم مکتب ساتھیوں کی نظروں میں بھی اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ یہ بچے مدرسے اور گھر سے بھاگ جاتے ہیں تو پکڑ پکڑ کر لائے جاتے ہیں اور بھاگنے پر تشدد اور ذلت الگ سہتے ہیں۔ان کی عزت نفس ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ مکمل طور پر منفی نفسیات میں جیتے ہیں۔ یہ نفسیات ان کی پوری شخصیت کا احاطہ کر لیتی ہے اور مختلف منفی رویوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ بہت سے طلبہ میں انھی وجوہات سے قرآن مجید سے بد مزگی بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
علم نفسیات کے مطابق، خدا کا پہلا تصوروالدین سے ملے تاثرات سے تشکیل پاتا ہے۔ اس میں اساتذہ کی شخصیت کے تاثرات بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ والدین کی شفقت سے محروم اور اساتذہ کی سختیوں سے گھائل ان بچوں میں خدا سے بھی بے زاری، لا تعلقی بلکہ توحُّش کے احساسات پیدا ہو جاتے ہیں۔ والدین کی شفقت اور ان کی دیکھ بھال کے بغیر جینا سیکھ لینے کے بعد وہ خدا کی محبت ، اس کی رحمت اور اس کے سامنے اپنی محتاجی کے احساس سے بھی بڑی حد تک بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ وہ والدین سے ناراض ہوتے ہیں مگر ان کی ناراضی سے ڈرتے بھی ہیں۔ یہی نفسیات خدا کے ساتھ ان کے تعلق میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ وہ خدا سے محبت نہیں کر پاتے، لیکن اس سے ڈر کے احساس کے تحت اس کی رسمی اور قانونی قسم کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی نفسیات لوگوں کے ساتھ ان کے تعلقات میں بھی جھلکتی ہے۔ وہ عام طور پر خوف دلاتے اور جبر اور دھونس سے بات منواتے نظر آتے ہیں۔
بچہ ہو یا بڑا اس کی مرضی کےبغیر اسے کسی ایسی ذہنی یا جسمانی مشقت میں مبتلا کرنا جس کا مطالبہ دین اور عقل نہیں کرتے، اس کا استحصال ہے ۔ حفظ قرآن ان بنیادی مہارتوں کی تعلیم نہیں ہے جن کا سیکھنا ناگزیر ہوتا ہےاوراس بنا پر انھیں بچپن میں بالجبر بھی سکھایا جاتا ہے، جیسے لکھنا پڑھنا، ابتدائی ریاضی وغیرہ۔
دس سے بارہ سال کی وسیع البنیاد تعلیم پانا تعلیمی رجحان رکھنے والے ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ اس کے بعد اس کا خصوصی رجحان دیکھ کر فیصلہ کیا جانا چاہیے کہ اسے کس طرح کی تخصیصی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ حفظ قرآن ایک تخصیصی تعلیم ہے، یہ فرد کی مرضی اور رجحان جانچے بنا بچپن میں نہیں دلائی جا سکتی۔ یہ اپنے ذوق، صلاحیت اور شعوری انتخاب کا معاملہ ہے، جو شعور کی عمر ہی میں کیا جا سکتا ہے۔
یہاں مریم السلام کی پیدایش سے پہلے ان کی والدہ کا انھیں خدا کے نام پر وقف کر دینے کے واقعےسے استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ والدین کو بچوں کے کیرئیر کے انتخاب کا مطلق حق حاصل ہے۔ مریم علیھا السلام کی والدہ کی خواہش تھی کہ وہ اپنے پیدا ہونے والے بچے کو دین کی خدمت کے لیے خدا کے نام پر وقف کر دیں۔ قرآن مجید میں ان کی دعا اسی خواہش کا اظہار ہے۔ مگر مریم السلام پر اس طرز زندگی کو اختیار کرنے کی کوئی پابندی نہیں تھی جس کی خواہش اور دعا ان کی والدہ نے کی تھی۔ ایسے ہی جیسے بچپن میں طے کیے گئے نکاح کو قبول کرنے کی پابندی بچوں پر نہیں ہوتی۔وہ شعور اور بلوغت کی عمر کو پہنچ کر رشتے سے انکار کر سکتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ مریم السلام کی اپنی طبیعت بھی اسی کام کی طرف مائل رہی جس کی خواہش ان کی والدہ نے کی تھی۔یوں ان کی دعا پوری ہوئی۔
پھر یوں نہیں ہوا کہ مریم علیھا السلام کے پیدا ہوتے ہی انھیں دین کے خدّام کے حوالے کر دیا گیا۔ قرآن مجید میں اس کی تفصیلات بیان نہیں ہوئیں۔ تاہم، یہ اقدام ان کی شعور کی عمر کے بعد ہی کیا گیا ہوگا۔ اصولی طور پر اس کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کو جب خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے اسمعیل علیہ السلام کو خدا کے لیے ذبح کر رہے ہیں تو انھوں نےاس پر من و عن عمل کرنے سے پہلے اپنے بیٹے کی راے لی، اور بیٹے کی رضامندی کے بعد ہی اقدام کیا۔
دینی مدارس میں رائج حفظِ قرآن کی کلاس کا طویل دورانیہ بچوں پر سخت گراں بار ہوتا ہے۔ اس سرگرمی میں تنوع نہیں ہوتا کہ بچہ یکسانیت کی بوریت سے نجات پا سکے۔ زبانی یاد کرنے کی ایک ہی سرگرمی اتنے طویل دورانیے تک کرتے چلے جانا، ایک غیر صحت مند طریقہءِ تعلیم ہے۔
کچھے بچوں کو اسکول سے ہٹا کر حفظ کرانے بٹھایا جاتا ہے۔ حفظ کے بعد انھیں دوبارہ سکول میں داخل کرانا ہوتا ہے۔ سکول کی تعلیم کا حرج کم کرنے اور قرآن کا حفظ جلد مکمل کرانے کی خاطر بچے کا زیادہ سے زیادہ وقت حفظ قرآن میں لگایا جاتا ہے۔ اس سے بچے کا ذہنی اور جسمانی استحصال ہوتا ہے۔اس سے بد تر پریکٹس یہ ہے کہ اسکول کے ساتھ حفظ بھی کرایا جاتا ہے۔ یوں بچے والدین کی دو طرفہ خواہشوں کے پاٹوں میں پس کر رہ جاتے ہیں۔انھیں اپنا بچپن جینے کا پوراموقع ہی نہیں ملتا۔
کم سن بچوں کا زیادہ وقت کھیل کود میں گزرنا چاہیے۔ ایسی ہر تعلیمی سرگرمی جس کے اوقات کھیل کے اوقات سے زیادہ ہوں، بچوں کا استحصال ہے۔ بچوں کی یہ عمر کھیل کھیل میں سیکھنے، خود کھوجنے اور سوالات کرنے کی ہے۔لا ابالی پن کی اس حسین عمر کو ایک سخت اور خشک روٹین کی نذر کرنا بچے کے ساتھ بڑا ظلم ہے۔
ایک بار یاد کر لینے کے بعد قرآن مجید کو مستقلاً یاد رکھنا ایک مسلسل محنت طلب کام ہے۔شعبہءِ حفظ سے منسلک حفاظ کسی حد تک قرآن یاد رکھ پاتے ہیں، مگر عام حفاظ جو عملی زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں، ان کے لیے قرآن کو یاد رکھنا بے حد مشکل رہتا ہے۔ ان کی اکثریت بڑی عمر میں پورا قرآن یاد نہیں رکھ پاتی۔ ان کا حفظِ قرآن خود ایک یادگار بن کر رہ جاتا ہے۔
ادھر قرآن کے بھلا دینے پر بعض روایات میں وارد ہونے والی وعیدیں بھی بتائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے پورا قرآن یاد نہ رکھ سکنے والے حفاظ احساس جرم کا شکار رہتے ہیں۔ تاہم،قرآن کو بھلا دینے پر سخت سزاؤں کی وعید بتانے والی روایات ضعیف ہیں۔ مثلاً درج ذیل روایت دیکھیے:
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «عُرِضَتْ عَلَيَّ أُجُورُ أُمَّتِي حَتَّى الْقَذَاةُ يُخْرِجُهَا الرَّجُلُ مِنَ الْمَسْجِدِ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ ذُنُوبُ أُمَّتِي فَلَمْ أَرَ ذَنْبًا أَعْظَمَ مِنْ سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ آيَةٍ أُوتِيهَا رَجُلٌ ثُمَّ نَسِيَهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد (مشکاۃ المصابیح، 720)
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے اعمال کا ثواب مجھ پر پیش کیا گیا، حتیٰ کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے (اس کا ثواب بھی لکھا ہوا تھا)، اور میری امت کے گناہ بھی مجھ پر پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی آدمی کو قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت عطا کی گئی اور اس نے (یاد کرنے کے بعد) اسے بھلا دیا۔
اس میں شبہ نہیں کہ قرآن مجید سے بےاعتنائی برتنا بڑی محرومی کی بات ہے۔ لیکن قرآن کو زبانی یاد رکھنا دین کا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔
حفظِ قرآن کی حقیقت و حیثیت:
عہدِ رسالت میں متنِ قرآن کی کتابت کے ساتھ اس کی حفاظت اور اشاعت کے لیے اسے زبانی یاد کرنے کا رواج تھا۔ اس کی ضرورت اس لیے بھی درپیش تھی کہ عرب معاشرت میں لکھنے پڑھنے کا رواج کم تھا۔ کتابت کے ذرائع بھی عام میسر نہ تھے۔ رسم الخط بھی اس درجہ ترقی یافتہ نہ تھا کہ بغیر قراءت کے متن کی درست پڑھائی ہر ایک کے لیے ممکن ہوتی۔ قرآن مجید سب کو لکھ کر دے بھی دیا جاتا تو بھی یہ ممکن نہ تھا کہ سب اسے دیکھ کر پڑھ سکتے۔ وسیع پیمانے پر قرآن مجید کی حفاظت، تلاوت اور اس کی تعلیم و ترسیل کے لیے اسے زبانی یاد کرنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہ تھا۔
صحابہ کے ہاں بغیر سمجھے قرآن پڑھنے اور حفظ کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ عربی ان کی اپنی زبان تھی اس لیے بنا سمجھے پڑھنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ انھیں قرآن پڑھنے یا یاد کرنے کا کہا گیا تو اس سے قرآن مجید کی بے سمجھ تلاوت یا حفظ مراد لینے کی کوئی گنجایش نہیں نکلتی۔ بعد میں عجمی اقوام جب دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں، تو پہلی بار ان کے ہاں بے سمجھ تلاوت اورحفظ کا آغاز ہوا۔ قرآن مجید کےمتن کی قراءت سیکھنا پہلا کام تھا۔ اس کے بعد انھیں اس کے فہم کی طرف متوجہ ہونا تھا۔ کسی دوسری زبان کی کتاب پڑھنے میں یہی ترتیب اختیار کی جاتی ہے۔ مگر سستی یا بے توجہی کی وجہ سے ان کی اکثریت نے ناظرہ قرآن پر اکتفا کر لیا۔ اس کوتاہی کا جب عام رواج ہو گیا تو اس کے لیے سندِ جواز اختراع کر لی گئی ۔ اِس نئے طرز کے حفظ و قراءت کو اُس تلاوت اور حفظ کا مترادف باور کرا یا گیا جس کی ترغیب احادیث میں وارد ہوئی تھی۔ امام ابوبکر الطرطوشی نے بجا طور پر بے سمجھ حفظ کے اس طرز عمل کو بدعت قرار دیا ہے۔
وہ کہتے ہیں:
“ومما ابتدعه الناس في القرآن، الاقتصار على حفظ حروفه دون التفقُّه فيه۔”
“قرآنِ مجید کے متعلق لوگوں کی ایک بدعت قرآن کے فہم و تفقہ کو چھوڑ کر محض اس کے الفاظ کو حفظ کرنے پر اکتفا کر لینا ہے۔”
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے اور بے سمجھے پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے:
{كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ} (القرآن، 38: 29)
یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے، (اے پیغمبر)، تمھاری طرف نازل کی ہے۔ اِس لیے کہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور اِس لیے کہ عقل والے اِس سے یاددہانی حاصل کریں۔
{أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا} [القرآن،(47: 24 [
سو کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر اُن کے تالے چڑھے ہوئے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ سے مروی ایک صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جس نے تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کر ڈالا اس نے قرآن سمجھا ہی نہیں۔
روایت یہ ہے:
لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاث
اس نے قرآن سمجھا ہی نہیں جس نے تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کر ڈالا۔
عجیب بات ہے کہ اس روایت کی بنا پر قرآن مجید کو تین دن سے کم میں ختم نہ کرنے کی طرح تو ڈالی گئی، مگر روایت کا اصل مقصود، یعنی بے سمجھ تلاوت کی حوصلہ شکنی، اسے باور ہی نہیں کیا گیا اوربےسمجھ تلاوت اور حفظ کو باعث اجر سمجھ لیا گیا!
قراء کے ہاں یہ طریقہ بھی اپنایا گیا کہ کسی آیت کو ادھورا نہ پڑھا جائے۔ پڑھتے ہوئے سانس درمیان میں ٹوٹ جائے تو آیت کو کچھ پیچھے سے دہرا کر اسے مکمل کیا جائے۔ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ آیت کا ادھورا مطلب ادا نہ کیا جائے۔ مگر آیت کا مطلب ہے کیا؟ اس کی طرف التفات نہ ہونے کو بھی جائز بلکہ باعث ثواب سمجھ لیا گیا۔
ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ الف، لام، میم کی تلاوت پر تیس نیکیاں ملتی ہیں۔ اس روایت سے بے سمجھ تلاوت و حفظ کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے۔استدلال یہ ہے کہ الف، لام۔ میم کا معنی معلوم نہیں، پھر بھی ان کی تلاوت پر ثواب ملتا ہے۔ اس لیے بے معنی تلاوت بھی اجر کا باعث ہے۔
یہ روایت مستند نہیں۔ تاہم، اگر اس کی صحت پر کسی درجے میں اطمینان ہو بھی جائےتو بھی اس کا اسلوب تلاوت کی ترغیب دینے کا ہے نہ کہ بے سمجھ تلاوت کی ترغیب دینے کا۔ الف-لام-میم کے اجر کا بیان، ثواب کا حجم بتانے کے لیے بطور مثال ذکر ہوا ہے۔ یہ بات کسی طرح معقول نہیں کہ کسی بامعنی کتاب کو بے سمجھے پڑھنے کی ترغیب دی جائے۔ خصوصاً قرآن مجید جیسی کتابِ ہدایت کے حق میں یہ تصور بالکل بے جا ہے۔ پھر یہ ترغیب ان لوگوں کو کیسے دی جاسکتی ہے جن کے لیے قرآن مجیدان کی اپنی زبان میں ہونے کی وجہ سے اسے بے سمجھے پڑھنا ممکن ہی نہ تھا؟
محولہ بالا مفہوم کی تمام روایات میں سے کوئی روایت بھی سنداً صحیح یا حسن کے درجے کی نہیں کہ کسی درجے میں بھی بنائے استدلال بنائی جا سکے۔ تاہم، انھی روایات میں سے بعض متون میں وہ پوری بات بھی بیان ہوئی ہے جو دین اور عقل دونوں کے مطابق ہے، اور وہ یہ ہے کہ یہ اجر محض بے سوچے سمجھے تلاوت کرنے پر نہیں، بلکہ قرآن مجید پر غور و فکر کرنے، اسے سیکھنے، سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسرے لوگوں کو سکھانے کے مجموعی کام پر بتایا گیا ہے۔
اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:
تَعلَّمُوا الْقُرْآنَ، وَاتْلُوهُ تُؤْجَروا بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ: {الم} [البقرة: 1]، وَلَكِنْ أَلِفٌ، وَلَامٌ، وَمِيمٌ “
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “قرآن مجید کو سیکھو، سمجھو اور اسے پڑھو، تمھیں ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی۔ یاد رہے میں یہ نہیں کہتا الم ( ایک حرف ہے)، بلکہ الف، لام اور میم (الگ الگ حرف) ہیں (یعنی تین حروف ہیں)۔”
احادیث میں وارد ہونے الفاظ “حاملِ قرآن” اور”صاحب قرآن”کا مصداق بھی غلط طور پر اس حافظ کو قرار دے دیا گیا جسے قرآن مجید کے معنی و مفہوم سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔یہ روایت بھی ضعیف ہے ۔تاہم ، اس روایت میں بھی یہ القابات اس شخص کے لیے بیان ہوئےہیں جو قرآن مجید سے اشتغال رکھتا، اس پر عمل کرتا، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتا ہے، یہ شخص ظاہر ہے کہ
قرآن مجید کو سمجھنے والا ہی ہوسکتا ہے۔
روایت یہ ہے:
لِحَامِلُ الْقُرْآنِ إِذَا أَحِلَ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَنْ يَشْفَعَ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتَهُ، كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ(المعجم الأوسط، 5258)
ترجمہ: وہ حافظ قرآن جواس کی حلال کردہ اشیاء کوحلال اور حرام کردہ اشیاء کو حرام کرتا ہے وہ اپنے گھرانے کے دس افراد جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی سفارش کرے گا ۔
فہمِ قرآن محض طبقہ علما کے لیے مخصوص نہیں ہے۔قرآن مجید کے فہم کے مختلف درجات ہیں اور ہر فرد اپنی بساط کے مطابق اس میں سے حصہ وصول کرتا ہے۔ فہمِ قرآن کا ایک دائرہ اعلی سطحی اور فنی نوعیت کا ہے، جومخصوص علمی ذوق رکھنے والی ذہانتوں کا میدان ہے۔تاہم، قرآن مجید کا عام فہم بھی مطلوب ہے۔ یہ تذکیر اور تزکیہ کے حصول کے لیےہے، اور تذکیر و تزکیہ ہی قرآن مجید کا اصل مقصود ہے۔ قرآن مجید کا بیشتر حصہ اسی پر مشتمل ہے اور یہ بہت سادہ اور واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔ اس کے لیے کسی اعلی لسانی اور علمی مہارت کی ضرورت نہیں۔
قرآن مجید کے محفوظ ہو جانے کے قابل اعتمادذرائع میسر آ جانے کے بعد اس کی حفاظت کے لیے اسے زبانی یاد کرنے کی وہ اہمیت اور ضرورت باقی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی حفاظت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رہےاور اس کے لیے حفاظ کی ایک بڑی تعداد دنیا میں موجود رہنی چاہیے، جن کی اجتماعی یاداشت میں پورا قران محفوظ رہے۔ قرآن کی حفاظت کا یہ ایسا ذریعہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔اپنے ذوق اور عبادت میں حلاوت پانے کے لیے قرآن مجید جزوی طور پر یا مکمل حفظ کرنا بھی بڑی سعادت کی بات ہے۔ مگر یہ ذاتی انتخاب کا معاملہ ہے جو سن شعور سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔
بچوں سے قرآن حفظ کرانے کا بہرحال، کوئی جواز نہیں۔ دین کے نام پر یا آخرت کے مزعومہ تحفظ کی خاطر بچوں پر ان کی مرضی کے بغیر، ایسی مشقت مسلط کرنا جس کا حکم یا مطالبہ خدا نے نہیں کیا، ان کا استحصال ہے۔ یہ ہرگز ثواب کا کام نہیں۔۔ اپنا شوق پورا کرنے کے لیے بچوں کو تختہ مشق بنانا زیادتی ہے اور خدا کے ہاں ہر ظلم و زیادتی کا حساب لیا جائے گا۔
حوالہ جات
لِحَامِلُ الْقُرْآنِ إِذَا أَحِلَ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَنْ يَشْفَعَ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتَهُ، كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ(المعجم الأوسط، 5258)
ترجمہ: وہ حافظ قرآن جواس کی حلال کردہ اشیاء کوحلال اور حرام کردہ اشیاء کو حرام کرتا ہے وہ اپنے گھرانے کے دس افراد جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی سفارش کرے گا ۔
اسے علامہ البانی ؒ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ _)ضعيف الجامع الصغير وزيادته ، رقم: 4662(
اسی مفہوم کی ایک دوسری روایت بھی ضعیف ہے:
مَن قرأَ القرآنَ واستَظهرَهُ فأحلَّ حلالَهُ وحرَّمَ حَرامَهُ أدخلَهُ اللَّهُ بِهِ الجنَّةَ وشفَّعَهُ في عَشرةٍ من أهلِ بَيتِهِ كلُّهُم قَد وجبَت لَهُ النَّارُ (الترمذی:2905)
ترجمہ : جس نے قرآن پڑھا، اسے حفظ کیا،اس کی حلال کردہ اشیاء کوحلال اور حرام کردہ اشیاء کو حرام کرتا ہے وہ اپنے گھرانے کے دس افراد جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی سفارش کرے گا ۔
امام ترمذی اس کی سندکو صحیح نہیں بتاتے ۔علامہ البانی ؒ نے اسے سخت ضعیف قراردیا ہے۔ (ضعیف الترمذي، رقم: 2905)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانِ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ، أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا؟ (مشكاة المصابيح: 2139)
معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس نے قرآن پڑھا اور اس کی تعلیمات پر عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے روز ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی اس روشنی سے بھی زیادہ ہو گی جو تمہارے گھروں میں ہوتی ہے اگر وہ تمہارے درمیان ہوتا، (پھر جب اس کے ماں باپ کا یہ درجہ ہے) تو خیال کرو خود اس شخص کا جس نے قرآن پر عمل کیا، کیا درجہ ہو گا”۔ (علامہ البانی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔) (مشكاة المصابيح،رقم: 2139)
{كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ} [القرآن، 74: 38]
ہر متنفس (اُس روز) اپنی کمائی کے بدلے رہن ہو گا۔
وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ (القرآن، 2: 48)
اور اُس دن سے ڈرو، جب کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ اُس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ اُس سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ لوگوں کو کوئی مدد ہی ملے گی۔
إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (آل عمران، 3: 35
اِنھیں یاددلاؤ وہ واقعہ جب عمران کی بیوی نے دعا کی کہ پروردگار، یہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے، اُس کو میں نے ہرذمہ داری سے آزاد کرکے تیری نذر کردیا ہے۔سوتو میری طرف سے اِس کو قبول فرما، بے شک توہی سمیع و علیم ہے۔
قال حافظ زبير على زئي :إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2916 وقال: غريب) و أبو داود (461)۔
ابن جريج مدلس ولم يسمع من مطلب شيئًا والمطلب: لم يسمع من سيدنا أنس رضي الله عنه .
https://islamicurdubooks.com/ur/hadith/hadith-.php?bookid=23&hadith_number=720
وعن سعد بن عبادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من امرئ يقرا القرآن ثم ينساه إلا لقي الله يوم القيامة اجذم.( رواه ابو داود والدارمي)
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قرآن پڑھتا ہو لیکن پھر وہ اسے بھول جائے تو وہ روز قیامت حالت کوڑھ میں اللہ سے ملاقات کرے گا۔ “
قال حافظ زبير على زئي :إسناده ضعيف، و أبو داود (1474) و الدارمي (437/2 ح 3343) يزيد بن أبي زياد: ضعيف و عيسي بن فائد: مجھول، ولم يسمعه من سعد، بينھما رجل مجھول
https://www.islamicurdubooks.com/hadith/hadith-.php?hadith_number=2200&bookid=23&tarqeem=1
مالکی فقیہ اور حافظ، المتوفی: 250 ھجری
ابو بکر الطرطوشی، الحوادث والبدع، ناشر: دار ابن الجوزي، الطبعة: الثالثة، 1419 هـ – 1998 م، ص: 101
ترمذی، رقم: 2949،امام ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے
علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ( صحيح وضعيف سنن الترمذي، 2949)
مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ۔(سنن الترمذي، 2910)
امام ترمذی نے اس حسن صحیح غریب قرار دیا ہے۔ علامہ البانی نے اسے صحیح بتایا ہے( صحيح وضعيف سنن الترمذي، 2910)۔ تاہم، اس کی سند پر کلام قابل لحاظ ہے جو آگے آتا ہے۔
یہ مضمون کُل دو صحابہ سے مروی ہے، ایک عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، دوسرے عوف بن مالک الاشجعی۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے محمد بن کعب روایت کرتے ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود کا انتقال 33 ہجری میں ہوا اور محمد بن کعب کی پیدایش 38 یا 40 ہجری کی ہے، لہذا دونوں میں لازماً انقطاع ہے اِس لیے اس سند سے منقول ساری روایات ضعیف ہیں۔ (التفسير من سنن سعيد بن منصور – محققا (1/ 29)
عوف بن مالک ایک دوسرے صحابی ہیں، اُن سے بھی محمد بن کعب ہی روایت کرتے ہیں، یہاں انقطاع کا مسئلہ نہیں کیونکہ عوف بن مالک کی وفات 73 ہجری میں ہوئی ہے، لیکن اِس سلسلے کی تمام روایات ایک دوسرے راوی، موسی بن عبیدۃ الربذی کے باعث شدید ضعیف ہیں۔ (الذھبی، ديوان الضعفاء، رقم: 4293، ص: 402)۔ مثلاً دیکھیے ، مصنف ابن ابی شیبة، رقم: 29933
التفسير من سنن سعيد بن منصور–مخرجا، 1/ 35، ص 6
مستفاد از تحقیق جناب محمد حسن الیاس، ‘”قرآن مجید کی تلاوت، ہر لفظ پر دس نیکیاں”
https://www.facebook.com/100064626491667/posts/1889002831463250/
علامہ البانی ؒ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (ضعيف الجامع الصغير وزيادته، رقم: 4662)