مواد پر جائیں

شفا بنت عبداللہ : عمر فاروق کی مشیر

وجیہہ حسان واحدی اردو

ایک صحابیہ کی زندگی کے چشم کشا گوشے؛ اس سے اسلام کی معاشرت میں خواتین

کے اُس کردار کا علم ہوتا ہے جس سے عام طور پر ہم کوئی واقفیت نہیں رکھتے

عرب کے دور جاہلیت کا سوچ کر خیال آتا ہے کہ اس وقت کی عورت اگر آزاد اورخاندانی ہے تو وہ محض دل لبھانے والی اور مرد کی ملکیت ہو گی اور اگر غلام ہے تو ایک بے حیثیت مزدور یا مالک کے لیے ہر جائز ناجائز طریقے سے کمائی کرنے والی ہوگی ۔ اس کے بالکل برعکس ہم نے ایسی خاتون کے بارے میں پڑھا جواس تصور سے بالکل مختلف ہے ۔ ہماری مراد شفا بنت عبداللہ سے ہے ۔

ان کا تعلق قریش کے قبیلے عدی سے ہے اور وہ مکہ کے ان لوگوں میں سے تھیں جنھیں پڑھنے لکھنے کی مہارت حاصل تھی۔ یاد رہے اس وقت مکہ میں صرف بیس لوگ یہ علم رکھتے تھے۔ حضرت عمر فاروق بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ۔دونوں میں رشتہ داری بھی تھی۔ان کا اصل نام لیلیٰ تھا۔ وہ ساتویں صدی میں جزیرہ عرب کے صحرا میں عبداللہ ابن عبدالشمس اور فاطمہ بنت وہب کی ہاں پیدا ہوئیں۔ بچپن ہی سے علم کی پیاس انھوں نے اپنے والدین سے پائی ۔ آفرین ہے ان والدین پر جنھوں نے عرب کی اس جہالت میں بھی اپنی بیٹی کو علم حاصل کرنے کے روشنی دکھائی اور اس کی ہرقدم پر حوصلہ افزائی کی۔پڑھنے لکھنے کے ساتھ ساتھ لیلیٰ نے فن خطاطی بھی سیکھی تھی ۔ بی بی سی کے مقالہ نگار وقار مصطفیٰ نے احمد بن جابر کی کتاب”فتوح البلدان”کےحوالے سے لکھا ہے کہ وہ مکہ کی پہلی خاتون تھیں جنھوں نے خطاطی میں یہ مہارت سیکھی تھی۔

لیلیٰ کا نام ” شفا” تب پڑا جب انھوں نے ایک اور فن سیکھا اور یہ فن تھا جڑی بوٹیوں کے استعمال سے لوگوں کا علاج کرنا۔ظاہر ہے کہ یہ فن انھوں نے کسی حکیم یاکسی مدرسہ سے نہیں بلکہ اپنے گہرے مشاہدے سے سیکھا تھا۔ یقیناً موجود معلومات کے بعد انھوں نے مختلف بیماریوں میں اس کا استعمال کیا ہوگا اور اس کے نتائج سےاس وقت کی عام بیماریوں میں موثر جڑی بوٹیوں کا پتا لگایا تھا۔ پھر یہی نہیں انھوں نے ان جڑی بوٹیوں کی دستیابی کا بھی بندوبست کیا تھا۔ اپنے مضبوط مشاہدے کی بدولت اللہ نے ان کے ہاتھ میں بے انتہا شفا عطا کی تھی ۔ اسی وجہ سے وہ ” شفا ” یعنی ہیلر کے نام سے جانی جاتی تھی اور ان کا یہ لقب اس قدر مشہور ہوا کہ اصل نام اس کے پیچھے چھپ گیا۔

قبول اسلام

اللہ تعالیٰ نے انھیں علم کی دنیا کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کی فہرست میں بھی شامل ہونے کی توفیق دی۔ انھوں نے ایسے وقت میں اسلام قبول کیا جب مکہ میں ایمان لانے والوں پر سخت ظلم و ستم کیا جارہا تھا۔ انھوں نے اپنے خاوند حضرت ابو حثمہ بن حذیفہ عدوی کے ساتھ بہت ابتدائی دنوں ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ ایمان لانے کے بعدیا اسی وقت انھوں نے حضور ﷺ سے پوچھا تھا کہ کیا وہ جڑی بوٹیوں کے ساتھ علاج کرنے کا مشغلہ جاری رکھیں ؟ تب حضور ﷺ نے انھیں بخوشی اس کی اجازت دی ۔

ایمان لانے کے بعد اس وقت کے حالات کے مطابق کفار نے انھیں تنگ بھی کیا ہو گا لیکن اس کی تفصیل نہیں ملتی۔ البتہ ان کا اوّلِین لوگوں کے ہمراہمدینہ کی طرف ہجرت کر جانا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ انھیں کفار سےسخت خطرہ رہتا تھا۔

مدینہ میں شفاء کی حیثیت

ہجرت کے بعد شفِا ءکی رہائش مدینہ کے بازار کے ساتھ تھی ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ گھر حضور نے انھیں بطور خاص عنایت کیا تھا۔حضرت شفاء کا اس قدر خیال یہ صاف ظاہر کرتا ہے ان کی قابلیتوں کی وجہ سے حضورنےانھیں خصوصی اہمیت دی ۔یہاں وہ اپنےشوہراوربیٹےسلیمان کےساتھ رہتی تھیں ۔

روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ پیغمبر اسلام کئی مرتبہ ان سے ملنے گئے اور گفتگوسے معلوم ہوا کہ وہ خریداری اور کاروبار کے بارے میں بہت اچھی اور مفیدمعلومات رکھتی ہیں ۔ چنانچہ حضور ﷺ نے ان سے کاروبار کے طریقوں کے بارےمیں ان سے مشورے بھی لیے۔ یعنی ایک عورت رسول اللہ کو کاروبار پر مشورے دیتی تھی! دین پر سوالات کرتی تھی! اس سے بات بھی معلوم ہوئی کہ اس زمانے میں خواتین کا گھروں میں بند ہو کر رہنے کا تصور حقیقت کے بالکل خلاف ہے ۔ وہ بازار بھی جاتی تھیں ، لوگوں کا علاج معالجہ بھی کرتی تھیں اور دیگر امور میں بھی حصہ لیتی تھیں ، جس کا تذکرہ آگے آئے گا۔

جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ شفاء حضرت عمر فاروق کی رشتے دار تھیں ، اس لیے وہ حضرت عمر کی بیٹی اور حضور کی اہلیہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ سےبھی ملنے آتی تھیں ۔ روایات میں آتا ہے کہ سیدہ حفصہ کو شفاء ہی نے لکھنا پڑھناسکھایا تھا۔ چنانچہ روایت میں ذکر ہے ایک مرتبہ حضور ﷺ کی موجودگی میں شفاءآئیں تو آپ نے فرمایا کہ شفاء جیسے تم نے حفصہ کو لکھنا پڑھنا سکھایا ، ایسے ہی انھیں ” نملہ ” نامی بیماری کا علاج بھی جڑی بوٹیوں سے کرنا سکھاؤ۔” نملہ” ایک جلدی بیماری ہے ۔ اس میں جسم پر ایک پھوڑا بنتا ہے ، جس کی وجہ سے جسم پر چیونٹیاں چلتی محسوس ہوتی ہیں ۔ عربی میں ” نملہ ” چیونٹی کو کہتے ہیں ۔ اسی وجہ سے بیماری کا نام نملہ ہے ۔

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کے دور میں

خلافت راشدہ میں عورت کی معاشرے میں فعال شرکت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر جب خلیفہ بنے تو شفاء سے اقتصادی پالیسی اور تجارت سےمتعلق مشورے لیا کرتے تھے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت شفاء بازار کا مشاہدہ کرتی رہتی تھیں ۔چنانچہ فتوحات کے بعد مدینہ ایک بڑی ریاست کا دارالحکومت بن چکا تھا ۔ شہر اور اس کا معاشرہ جیسے جیسے ترقی کرتا گیا، اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ بازار میں خریدوفروخت ایمانداری اور دوسری اسلامی اقدار کےمطابق ہو۔ چنانچہ ان کی نظر انتخاب شفاء پر پڑی انھوں نے شفاء کو مدینہ کے بازار کے انتظام یعنی “قضا السوق” اور احتساب یعنی “قضا الحسبہ” کی ذمہ داری سونپی۔ بیان کیاجاتا ہےوہ اوزان کے ٹھیک ہونے سے لے کر قیمتو ں میں توازن رکھنے کا خیال رکھتیں ۔

وقار مصطفیٰ اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ تاجروں کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ اگر انھیں کسی خاص لین دین کی قانونی حیثیت میں کوئی شبہ ہو تو وہ شفاء سے پوچھ لیں ۔

بے شک اس وقت کی اسلامی حکومت ایک قبائلی حکومت تھی اور باقاعدہ محکموں کاکوئی تصور نہ تھا لیکن اس کی سادہ سی ابتدا ضرور ہو گئی تھی اور اس کا باقاعدہ آغاز حضرت عمر ہی کے دور سے ہوا تھا۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں اس ابتدائی دورمیں حضرت شفاء کا مقام خلیفہ دوم کی حکومت کی کابینہ کی معزز رکن اور مشیر کا تھا۔

جمال اے بدوی نے اپنی کتاب ’پیغمبر کے دور میں خواتین کا کردار‘ میں تسلیم کیا ہے کہ شفاء شریعت کے ان قوانین کا علم رکھتی تھیں جن کا تعلق خریدو فروخت اور تجارت سےتھا۔ اور انھیں بازار کی باضابطہ نگران اور محتسب مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اس بات کو یقینی بناتیں کہ سامان کی مناسب قیمت وصول کی جائےاور ناجائز منافع خوری نہ کی جائے۔

ماہر قانون

یوون ریڈلی نے اپنے مضمون ’اقتصادی سرگرمیوں میں مسلم خواتین کی شرکت: ایک نقطہ نظر‘ میں لکھا ہے کہ شفاء ایک قانونی ماہر اور جج کے طور پر بھی جانی جاتیں اور تنازعات کو حل کرتی تھیں۔یاد رہے کہ روایات سے یہی باور ہوتا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ تنازعات خریدو فروخت اور لین دین ہی سے متعلق ہوتے تھے۔

حضرت عمر کا شفا ء کو اپنی ذمہ داری پر بر قرار رکھنا یہ گواہی دیتا ہے کہ ان کاتقرر انتہائی کامیاب رہا۔ ابن عبدالبر نے اپنی کتا ب ا لاستیعاب کی جلد دوم میں لکھا ہے کہ حضرت عمر نے مکہ میں بھی ایک خاتون “سمرہ بنت نہیک” کو قیمتوں کی نگرانی اور جملہ معاملات کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا تھا اور انھیں قانون کیخلاف ورزی کرنے والوں کو موقع ہی پر سزا دینے کا اختیار تھا اور وہ کوڑے مار کریہ سزا دیتی تھیں ۔ ایسا اس لیے تھا کیونکہ پولیس اور تعزیر کا کوئی باقاعدہ محکمہ وجود میں نہیں آیا تھا۔

کچھ عرصے کے بعد حضرت شفاء کی اقتصادی معاملات میں مہارت کو دیکھتے ہوئے لوگ دیگر جھگڑوں کے فیصلوں کے لیے بھی ان کے پاس آنے لگے اور بطور منصف ان کے فیصلوں کوقبول کیا جاتا۔ وقار مصطفیٰ کے مطابق ابنِ اسحاق جومسلمانوں کی تاریخ کے پہلے باقاعدہ مصنف ہیں ،کے حوالے سے لکھا ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ سے لوگ اسلامی قانون سے متعلق امور میں رہنمائی اور مشورے کے لیےشفا ء بنت عبداللہ کے پاس آتے تھے۔

نکولس ایس ہاپکنز اور سعد الدین ابراہیم کی ادارت میں والی کتاب ’اسلام میں خواتین: تاریخی اور عصری تحقیق کے مظاہر‘ میں بھی یہ شہادت ملتی ہے کہ شفاء قانونی ماہر کے طور پر کام کرتی تھیں، انھوں نے بازار میں تنازعات میں ثالث کےطور پر کام کیا اور منصفانہ تجارتی طریقوں کو یقینی بنایا۔

دیگر خدمات

شفا ء کیونکہ بہت ابتدائی دور میں اسلام لا چکی تھیں پھر ان کی زندگی گھر کے ساتھساتھ گھر سے باہر بھی گزری تھی ، اس لیے اسلامی علوم کا گہرا شعور رکھتی تھیں ۔لوگ ان پر اعتبار کرتے کہ وہ انھیں اپنی دانش مندی اور بصیرت سے درسترہنمائی فراہم کرتی ہیں ۔ یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ وہ اپنےوقت کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ خواتین میں سے ایک تھیں

شفا ء کا ایک دوسر ا عزاز یہ ہے کہ ان سے بارہ ا حادیث بھی روایت ہوئی ہیں ۔ آپکو نبیِّ اکرم اور حضرت عمر سے براہ راست روایت کا اعزاز حاصل ہے اور ان کی یہ روایات امام بخاری ، امام نسائی اور ابو داؤد نے اپنی کتب میں درج کی ہیں ۔

شفاء بنت عبداللہ کی وفات حضرت عمر ہی کے دور ِخلافت میں ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹے کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے ۔ بیٹے کا نام سلیمان بن ابی حَثمہتھا۔ شوہر کے مقابلے میں تاریخ کی کتب میں شفاءکا ذکر جس قدر کثرت سے ملتا ہے اس سے واضح ہے کہوہ ایک غیر معمولی خاتون تھیں اورشوہر کے ساتھ بھی ان کے تعلقات بہت مثالی رہے ۔ شفاء کی زندگی میں ان کے شوہر ابو کی دوسری شادی کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

حضرت شِفا ء کےتاریخی کردار کی اہمیت

آج کے دور میں شفا بنت عبداللہ کی سیرت ایک طاقتور یاددہانی ہے ۔ وہ یہ کہ عورت کاتعلیم یافتہ ہونا معاشرتی ترقی اور معاشرتی تبدیلی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اوران کی زندگی اسلامی معاشرت کی اُس تصویر سے یک سر مختلف ہے جس کا عام طورپر ذکر کیا جاتا ہے ۔