مواد پر جائیں

عورت کی گواہی اور قرآن کی تعلیم

مولانا امین احسن اصلاحی/ جاوید احمد غامدی اردو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَدَایَنۡتُمۡ بِدَیۡنٍ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکۡتُبُوۡہُ ؕ وَ لۡیَکۡتُبۡ بَّیۡنَکُمۡ کَاتِبٌۢ بِالۡعَدۡلِ ۪ وَ لَا یَاۡبَ کَاتِبٌ اَنۡ یَّکۡتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ فَلۡیَکۡتُبۡ ۚ وَ لۡیُمۡلِلِ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ وَ لۡیَتَّقِ اللّٰہَ رَبَّہٗ وَ لَا یَبۡخَسۡ مِنۡہُ شَیۡئًا ؕ فَاِنۡ کَانَ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الۡحَقُّ سَفِیۡہًا اَوۡ ضَعِیۡفًا اَوۡ لَا یَسۡتَطِیۡعُ اَنۡ یُّمِلَّ ہُوَ فَلۡیُمۡلِلۡ وَلِیُّہٗ بِالۡعَدۡلِ ؕ وَ اسۡتَشۡہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمۡ ۚ فَاِنۡ لَّمۡ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّ امۡرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرۡضَوۡنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحۡدٰىہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحۡدٰىہُمَا الۡاُخۡرٰی ؕ(البقرہ۲: ۲۸۲)

اے ایمان والو، جب تم کسی معین مدت کے لیے ادھار کا لین دین کرو تو اس کو لکھ لیا کرو اور اس کو لکھے تمہارے مابین کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ۔ اور جسے لکھنا آتا ہو وہ لکھنے سے انکار نہ کرے بلکہ جس طرح اللہ نے اس کو سکھایا اس طرح وہ دوسروں کے لیے لکھنے کے کام آئے اور یہ دستاویز لکھوائے وہ جس پر حق عاید ہوتا ہے۔ اور وہ اللہ سے، جو اس کا رب ہے، ڈرے اورا س میں کوئی کمی نہ کرے۔ اور اگر وہ، جس پر حق عاید ہوتا ہے، نادان یا ضعیف ہو یا لکھوا نہ سکتا ہو تو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔ اور اس پر اپنے لوگوں میں سے دو مردوں کو گواہ ٹھہرا لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں سہی۔ یہ گواہ تمہارے پسندیدہ لوگوں میں سے ہوں۔ دو عورتیں اس لیے کہ ایک بھول جائے گی تو دوسری یاد دلا دے گی۔

قرآن مجیدمیں سورۃ البقرۃ کی اس آیت کو خواتین کی گواہی سے سلسلے میں پیش کرکے جو احکام سمجھے گئے ہیں اس کے بارے میں علماء میں اختلاف ہوا ہے ۔ عام طور پر جو رائے پیش کی گئی ہے اس کے مطابق یہ کہ :

واضح رہے کہ گواہی (شہادت) کے نصاب کو تین قسم کے معاملات پر تقسیم کیا جاسکتاہے :

جیسے حدِ زنا، حدِ سرقہ، قتل کی سزا وغیرہ، اس میں عورتوں کی گواہی سرے سے مقبول ہی نہیں ہے، خواہ ان کے ساتھ مرد ہوں یا نہ ہوں، اور خواہ عورتوں کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔

وہ معاملات جن پر مرد مطلع نہیں ہوسکتے: جیسے بچے کی ولادت، عورت کا باکرہ ہونا وغیرہ، اس قسم کے معاملات میں تنہا ایک عورت کی گواہی بھی کافی ہے۔

مذکورہ دونوں قسم کے معاملات کے علاوہ دیگر معاملات: جیسے نکاح، طلاق، وکالت، وصیت، ہبہ وغیرہ، اس قسم کے معاملات میں عورتوں کی گواہی مقبول تو ہے، مگر تنہا نہیں، بلکہ دو شرائط کے ساتھ۔ پہلی یہ کہ گواہی دینے والی عورتوں کی تعداد “دو” ہو، اور دوسری یہ کہ ان دو عورتوں کے ساتھ کم از کم ایک مرد بھی گواہی دینے والا ہو۔

لہٰذا دوسری قسم کے معاملات کے علاوہ، کسی بھی جگہ تنہا عورتوں کی گواہی قبول نہیں ہوگی، خواہ اُن کی تعداد کتنی بھی ہوجائے۔

( دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی پاکستان )

اس راے کے مقابلے میں جاوید احمد صاحب غامدی لکھتے ہیں:

اِس آیت سے فقہا کا استدلال ، ہمارے نزدیک دو وجوہ سے محل نظر ہے 🙁 یعنی اسے اس پر غور کرنا چاہیے کہ کہیں غلط تو نہیں )

ایک یہ کہ واقعاتی شہادت کے ساتھ اِس آیت کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ دستاویزی شہادت سے متعلق ہے۔ ہر عاقل جانتا ہے کہ دستاویزی شہادت کے لیے گواہ کا انتخاب ہم کرتے ہیں اور واقعاتی شہادت میں گواہ کا موقع پر موجود ہونا ایک اتفاقی معاملہ ہوتا ہے۔ ہم نے اگر کوئی دستاویز لکھی ہے یا کسی معاملے میں کوئی اقرار کیا ہے تو ہمیں اختیار ہے کہ اُس پر جسے چاہیں گواہ بنائیں ، لیکن زنا ، چوری ، قتل ، ڈاکا اور اِس طرح کے دوسرے جرائم میں جو شخص بھی موقع پر موجود ہو گا ، وہی گواہ قرار پائے گا۔

چنانچہ شہادت ( گواہی ) کی اِن دونوں صورتوں کا فرق اِس قدر واضح ہے کہ اِن میں سے ایک کو دوسری کے لیے قیاس کا مبنیٰ نہیں بنایا جا سکتا۔یعنی واقعاتی گواہی اور دستاویزی گواہی کو ایک جیسا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری یہ کہ آیت کے موقع و محل اور اسلوب بیان میں اِس بات کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ اِسے قانون و عدالت سے متعلق قرار دیا جائے۔ اِس میں عدالت کو مخاطب کر کے یہ بات نہیں کہی گئی کہ اِس طرح کا کوئی مقدمہ اگر پیش کیا جائے تو مدعی سے اِس نصاب کے مطابق گواہ طلب کرو۔ اِس کے مخاطب ادھار کا لین دین کرنے والے ہیں اور اِس میں اُنھیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگر ایک خاص مدت کے لیے اِس طرح کا کوئی معاملہ کریں تو اُس کی دستاویز لکھ لیں اور نزاع اور نقصان سے بچنے کے لیے اُن گواہوں کا انتخاب کریں جو پسندیدہ اخلاق کے حامل ، ثقہ ، معتبر اور ایمان دار بھی ہوں اور اپنے حالات و مشاغل کے لحاظ سے اِس ذمہ داری کو بہتر طریقے پر پورا بھی کر سکتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اِس میں اصلاً مردوں ہی کو گواہ بنانے اور دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ گھر میں رہنے والی یہ بی بی اگر عدالت کے ماحول میں کسی گھبراہٹ میں مبتلا ہو تو گواہی کو ابہام و اضطراب سے بچانے کے لیے ایک دوسری بی بی اُس کے لیے سہارا بن جائے۔ اِس کے یہ معنی ، ظاہر ہے کہ نہیں ہیں اور نہیں ہو سکتے کہ عدالت میں مقدمہ اُسی وقت ثابت ہو گا ، جب کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اُس کے بارے میں گواہی دینے کے لیے آئیں۔ یہ ایک معاشرتی ہدایت ہے جس کی پابندی اگر لوگ کریں گے تو اُن کے لیے یہ نزاعات سے حفاظت کا باعث بنے گی۔ لوگوں کو اپنی صلاح و فلاح کے لیے اِس کا اہتمام کرنا چاہیے ، لیکن مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ کوئی نصاب شہادت نہیں ہے جس کی پابندی عدالت کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ اِس سلسلہ کی تمام ہدایات کے بارے میں خود قرآن کا ارشاد ہے:

ذٰلِکُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّہَادَۃِ وَاَدْنٰی اَلاَّ تَرْتَابُوْا. (البقرہ۲: ۲۸۲)

’’یہ ہدایات اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی برانصاف، گواہی کو زیادہ درست رکھنے والی اور زیادہ قرین قیاس ہیں کہ تم شبہات میں مبتلا نہ ہو۔ ‘‘

ابن قیم اِس کے بارے میں اپنی کتاب ’’اعلام ‘‘ میں لکھتے ہیں :

فہٰذا فی التحمل والوثیقۃ التی یحفظ بہا صاحب المال حقہ، لا فی طریق الحکم و ما یحکم بہ الحاکم، فإن ہٰذا شیء وہٰذا شیء. )۱/ ۱۳۲(

’’یہ گواہی کا بار اٹھانے اور اُس میں مضبوطی سے متعلق ہے جس کے ذریعے سے کوئی صاحب مال اپنے حق کی حفاظت کرتا ہے ، عدالت کے فیصلے سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ یہ اور چیز ہے ، اور وہ اور۔ ‘‘ (برھان۲۹)