مواد پر جائیں

لاپتا لیڈیز

وجیہہ حسان واحدی اردو

ہدایت کار: کرن راؤ

مصنف: بپلب گوسوامی

سکرین پلے: سنہا ڈیسائی

دورانیہ : دو گھنٹے دو منٹ

برصغیر میں عورتوں کو کئی ایسے مسائل درپیش ہیں جو ان کی سماجی، اقتصادی اور سیاسی ترقی میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ روایت کی خاطر اولاد کی قربانی ، جہیز کی لعنت ، تعلیم ِنسواں میں رکاوٹ ، بے جا اور اوہام پر بنے رسوم و رواج کی پاس داری ، مرد کی ظالمانہ مردانگی اور معاشرے کی عمومی جہالت۔ان سب مسائل کا اثر بہت گہرا ہے۔ مرد عورت کے عقل و شعور پر پابندیاں لگا کر سمجھتا ہے کہ اس نے عورت کو قابو کر لیا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ اس سے خود اس کی زندگی کس قدر متاثر ہوتی ہے ۔ زیر تبصرہ فلم ان ساری حقیقتوں کو بہت دل چسپ انداز سے سامنے لاتی ہے ۔

فلم “لاپتہ لیڈیز” انسان کے ادبی سفر کا بہت خوب صورت پڑاؤ ہے۔ اس فلم میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ جہالت کے اندھیروں میں جب کوئی اپنا لاپتا ہوتا ہے تو علم کی لو وہ روشنی مہیا کرتی ہے جس سے آگے آنے والی نسلوں تک کو ترقی کی راہ دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔

اس فلم کی ڈائریکٹر کرن راؤ نے مصنف گوسوامی سے مل کر ایسی کہانی بنائی ہے جو آپ کی دل چسپی کوآخری لمحے تک شدت کے ساتھ بر قرار رکھتی ہے ۔پوری فلم کے مکالموں کو سنہا ڈسائی نے بے انتہا سادہ اور کرداروں کی سمجھ بوجھ کے مطابق رکھا ہے لیکن وہ پھر بھی بہت جاندار ہیں ۔ فلم بالی وڈ کے روایتی گلیمر سے بالکل بے نیاز ہے۔ ڈائریکٹر کرن راؤ نے انتہائی کم بجٹ میں بہت سے نئے اداکاروں سے ایسی کام یاب فلم بنا ڈالی ہے جسے ہندستان نے آسکر مقابلے کے لیے بھی نامزد کر دیا ہے ۔

فلم کی کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ ٹرین کے سفر میں ایک ہی ڈبے میں کئی نئی نویلی دلہنیں اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ سفر کر رہی ہیں ۔ سب نے اپنے چہرے رواج کے مطابق مکمل طورپر چھپائے ہوتے ہیں ۔ تقریباً ایک سے لباس پہنے ہیں ۔ اس وجہ سے غلطی سے ایک دلہن کو کوئی دوسرا دولہا لے کر ٹرین سے اتر جاتا ہے اوراصل دلہن در بدر ہو جاتی ہے ۔بچھڑنے والی دلہن ان پڑھ ہے اور دوسری علم کی پیاسی اور ظلم کی ماری۔ ایک کا شوہر لالچی شکاری تو دوسری کا وفا اور محبت کا پتلا ۔

فلم میں بدل جانے والی دلہنیں “جیا” اور “پھول”، تھانے دار انسپکٹر شیام منوہر اور ریلوے اسٹیشن پر مردوں کی ستائی ہوئی مگر ان سے کامیاب مقابلہ کرنے والی دادی منجو مائی، اس فلم کے زور دار کردار ہیں۔ ان پڑھ دلہن پھول اور اس سے بچھڑ جانے والا عام سے شعور والا شوہر دیپک، جس محبت اور اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ بہت دل موہ لینے والاہے ۔

جیا کو آرگینک فارمنگ کی تعلیم حاصل کرنے کا عزم اس کو کسی چیز سے نہیں روک پاتا۔ وہاں پھول ایک انجان اسٹیشن پر دیپک کا انتظار کرتی ہے اور ساتھ ہی منجو مائی کے ٹھیلے پر قلاقند بیچ کر خودمختار ہونے کی اہمیت سیکھتی ہے۔

فلم میں ہندوستان کے ایک امیجنری گاؤں سورج مکھی کی زندگی کو بڑی سادگی اور خوب صورتی سے دکھایا گیا ہے۔ فلم کا ساؤنڈ ٹریک دیکھنے والے کے جذبات کو ابھارتا ہے۔ عورت کی فطرت میں ِپنہاں سبھی نازک جذبات اور انسان کی نیک اور صالح فطرت میں برائی کے باوجود بھلائی کی انگڑائی، لڑکیوں کے تعلیم یافتہ ہونے اور خودمختار ہونے کی امنگ ، یہ سب عناصر فلم “لاپتالیڈیز” کو ایک انتہائی فکر انگیز اور دلکش فلم کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

)تبصرہ: وجیہہ حسان واحدی(