نیرج کی ماں نے یہ کہا
ارشد بھی ہے میرا بیٹا
ارشد کی ماں نے بولا
نیرج بھی ہے لعل میرا
نیرج نے اور ارشد نے
بے شک جیتے ہیں تمغے
اپنی اپنی ملت کو
یہ اعزاز جی ہیں بخشے
پر دونوں کی ماؤں نے
ان کی خوب دعاؤں نے
نفرت کے ان نیزوں کو
پھینک کے بیٹوں سے بھی دور
روشن شمعِ الفت کر کے
دے کے محبت کا اک نور
قسم سے دل ہی جیت لیا
کیا ہی معرکہ سر ہے کِیا
کاش ہمارے خطے پر
دھرتی کے اس حصے پر
ان دو ماؤں کا ہو راج
ان کے سر پر ہو یہ تاج
امن کی خاطر کبھی زمیں
اس خطے میں تنگ نہ ہو
یہاں پہ کوئی جنگ نہ ہو
یہاں پہ کبھی جنگ نہ ہو