مواد پر جائیں

باب 3: باب سوم

مناسکِ حج وعمرہ :

نبی ﷺ کا اسوہ اور آپ کی تفہیم وتبیین

سوال: اسلامی شریعت میں حج وعمرہ کے مناسک اور اِن کا طریقہ پیچھے بیان ہوچکا ہے، لیکن اِن عبادات سے متعلق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل سے ہمیں کیا رہنمائی حاصل ہوتی ہے؟

جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایتوں میں حج وعمرہ کے بارے میں جو رہنمائی ہمیں آپ کے قول وفعل سے حاصل ہوئی ہے، اُس کی تفصیلات درج ذیل ہیں :

حالت احرام اور مباح اُمور

روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے وقت خوش بو لگایا کرتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے احرام باندھنے سے پہلے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشک کی خوش بو لگائی اور یوم النحر کو احرام کھول لینے کے بعد بھی، جب آپ طوافِ حج کے لیے مکہ روانہ ہوئے۔ سیدہ کہتی ہیں کہ میں آج بھی آپ کی مانگ میں اُس خوش بو کی چمک گویا دیکھ رہی ہوں ۔ 1

جاننا چاہیے کہ حالتِ احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے ہیں، بالوں کو سنوارا ہے اور سر بھی دھویا ہے۔2

علاوہ ازیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ اجازت دی کہ اُن کے پاس اگر جوتے نہ ہوں تو اِس مجبوری میں وہ اپنے موزے کاٹ کر اُنھیں ٹخنوں سے نیچے تک پہن سکتے ہیں۔ نیز یہ کہ اگر تہ بند کے لیے اَن سلا کپڑا دستیاب نہ ہو تو شلوار یا پاجامہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔3

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت بھی فرمائی ہے کہ حالتِ احرام میں شکار تو بلا شبہ ممنوع ہے، لیکن اگر کسی شخص نے احرام کے بغیر شکار کیا ہو تو مُحرم اُس میں سے کھا سکتا ہے،بشرطیکہ اُس کی کسی ہدایت یا اشارے کو اِس شکار میں کوئی دخل نہ ہو ۔4

نیز آپ نے وضاحت فرمائی ہے کہ احرام میں شکار کی ممانعت کا حکم موذی جانوروں سے متعلق نہیں ہے۔ ایسے جانور احرام کی حالت میں بھی بغیر کسی تردد کے مارے جا سکتے ہیں۔5

حالتِ احرام میں نکاح

احرام کی حالت میں نکاح کرنے، کرانے یا نکاح کی بات طے کرنے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔6

تلبیہ: حج کا شعار

تلبیہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ حج کا شعار ہے۔ 7

تلبیہ کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب کوئی مسلمان تلبیہ پکارتا اور اِس میں ’لبیک لبیک ‘ کی صدا بلند کرتا ہے تو اُس کے دائیں اور بائیں جانب موجود درخت اور پتھر بھی زمین کی آخری حد تک اِسی صدا میں اُس کے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں۔8

تلبیہ کیسے کہا جائے ؟

ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ جبریل امین نے آپ کو ہدایت کی تھی کہ تلبیہ کو بلند آواز سے پکارا جائے۔ 9

طواف سے پہلے وضو

بعض روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ مکہ مکرمہ پہنچ کر طواف سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ہے۔ 10

طواف کےہر چکر میں حجرِاَسود کا اِستلام اور تکبیر

طواف کے ہر پھیرے میں حجرِاَسود کا اِستلام اوراُس موقع پر تکبیر، یعنی’اللہ اکبر‘کہنا بھی بعض روایتوں میں بیان ہواہے۔11

رُکن یمانی کا استلام

بعض روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ طواف کے دوران میں استلامِ حجرِ اسود کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے’ رُکن یمانی‘12 کا استلام بھی کیا ہے ۔ 13

حالت عذر میں سواری پر طواف

سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیماری کے بارے میں بتایا تو آپ نے مجھے ہدایت فرمائی کہ میں سواری پر طواف کرلوں۔14

ابراہیمی پتھر کے پیچھے نفل نماز اور استلام حجرِ اسود

حجۃ الوداع سے متعلق روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ طواف کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابراہیمی پتھر کی طرف بڑ ھے اوراُس کے پیچھے جا کرآپ نے دو رکعت نمازادا کی۔اِس کے بعد آپ دوبارہ حجرِاَسود کے پاس آئے، اُس کا استلام کیا اور پھر دروازے سے صفا کی جانب نکل گئے۔15

سعی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ

صفا ومروہ کی سعی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اُسوہ روایتوں میں نقل ہوا ہے، اُس کی تفصیلات حسبِ ذیل ہیں:

طواف سے فارغ ہو کرآپ صفا کی پہاڑی کی طرف نکلے اوراُس کے اوپر تک چڑھ کر قبلہ رو ہوئے ،پھر اللہ کی وحدانیت اور اُس کی کبریائی بیان کرتے ہوئے فرمایا:’لا إله إلا اللّٰه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا اللّٰه وحده، أنجز وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده‘16،’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اُسی کی ہے اور حمد وشکر بھی اُسی کے لیے ہے۔ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے؛ اُس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تمام منکر گروہوں کو تنہا شکست دے دی ہے۔ ‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کلمات تین مرتبہ دہرائے اور درمیان میں دعا بھی فرمائی۔ اِس کے بعد آپ جبل مروہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جب نشیبی حصہ آیا تو آپ کے قدم قدرے تیز ہوگئے اور جیسے ہی چڑھائی شروع ہوئی تو آپ اپنی معمول کی رفتار میں چلنے لگے۔ مروہ کی پہاڑی پرپہنچ کر بھی آپ نے وہی عمل انجام دیا جو صفا پر دیا تھا اور اِسی طریقے سے آپ نے اپنے ساتوں چکر مکمل کیے۔ 17

وقوفِ عرفہ میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ

روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ یوم عرفہ کی صبح طلوعِ آفتاب کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ سے عرفات کے لیے روانہ ہوئے ۔ وہاں وادی نَمرہ میں آپ کے لیے خیمہ لگایا گیا تھا۔ زوالِ آفتاب تک آپ نے اُس خیمے میں قیام فرمایا۔ پھر وادی کے نشیب میں آکر لوگوں کو خطبہ دیا۔ اِس کے بعد ایک اذان اوردو اقامتوں کے ساتھ ظہر اور عصر کی نماز پڑ ھائی۔ اِن نمازوں کے آگے اورپیچھے آپ نے کوئی نوافل نہیں پڑ ھے۔ پھر جبلِ عرفات کے پاس قبلہ رو ہوکر آپ غروب آفتاب تک کھڑ ے دعا ومناجات کرتے رہے۔ 18

یومِ عرفہ اور تلبیہ و تکبیر

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یوم عرفہ کو لوگ تلبیہ بھی پکارتے رہے اور تکبیرات بھی کہتے رہے ، لیکن کسی پرکوئی نکیر نہیں کی گئی۔19

یومِ عرفہ کی فضیلت

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہوتے ہیں ، فرشتوں کے سامنے اُن پر فخر کا اظہار فرماتے ہیں اور اِس دن سے زیادہ کسی اور دن لوگوں کو جہنم کی آگ سے رہائی نہیں دیتے ۔20

وقوفِ مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ

روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ مزدلفہ کے میدان میں پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشا کی نماز عرفات کی ظہر اور عصر کی نمازوں کی طرح ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑ ھائی۔ پھر صبح تک آپ نے آرام فرمایا۔اِس دوران میں آپ نے کوئی نوافل وغیرہ نہیں پڑ ھے ۔ فجر کی نماز، البتہ آپ نے ذرا سویرے ادا کی۔پھر ’مشعرالحرام‘ کے پاس کھڑ ے ہوکر آپ دعا و مناجات کرتے رہے، یہاں تک کہ روشنی پوری طرح پھیل گئی ۔ سورج نکلنے سے کچھ پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے روانہ ہوئے اور’وادیٔ مُحسَّر‘ سے ذراتیزی کے ساتھ گزر کر آپ منیٰ پہنچ گئے۔ 21

حالتِ عذر میں منیٰ میں رات گزارنے سے رخصت

روایتوں میں یہ نقل ہوا ہے کہ بعض چرواہوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے عذر کی بنا پر، نہ صرف یہ کہ منیٰ میں رات گزارنے سے رخصت دی، بلکہ اُن کو ہدایت فرمائی کہ وہ یوم النحر کو رات کے وقت رمی کر کے چلے جائیں اور ایک دن چھوڑ کر 12/ ذوالحجہ کو واپس آکر باقی دونوں دِنوں کی رمی اکٹھی کرلیں۔22

رمی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ اور آپ کے اوقاتِ رمی

روایتوں میں بیان ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن اپنی رمی چاشت کے وقت کی ہے اورایامِ تشریق میں زوالِ آفتاب کے بعد کی ہے۔ 23

یہ بھی منقول ہے کہ رمی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرے کی جانب منہ کر کے کھڑ ے ہوئے ۔ بیت اللہ آپ کی بائیں جانب اور منیٰ کا میدان دائیں جانب تھا۔ آپ نے سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکر پھینکتے ہوئے آپ نے تکبیر کہی۔ جمرۂ اولی اور جمرۂ وسطیٰ کے پاس آپ کچھ دیر ٹھیرے بھی تھے۔ رمی کے بعد قبلہ رخ ہو کر آپ دیر تک تکبیر و تہلیل، تسبیح وتحمید ا و ردعا ومناجات کرتے رہے ۔ روایتوں میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ آپ جمرۂ عَقبہ کے پاس بالکل نہیں ٹھیرے۔ 24

حلق وقصر

روایتوں میں آیا ہے کہ حجۃ الوداع کے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جو صحابہ ہدی کی قربانی ساتھ لے کر نہیں آئے تھے، عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں ہدایت فرمائی کہ وہ حجامت کراکے اپنا احرام کھول لیں۔25 پھر حج کے دوران میں آپ نے خود بھی سرمنڈوایا اور آپ کے بعض صحابہ نے بھی حلق کرانے ہی کو ترجیح دی ۔26

حلق کی فضیلت

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا حلق کرانے والوں کے لیے تین مرتبہ دعا فرمائی، جب کہ بال کٹوانے والوں کے لیے ایک مرتبہ۔27 اِس سے اشارہ ملتا ہے کہ قصر کے مقابلے میں حلق کی فضیلت بہرحال زیادہ ہے۔

متفرق مسائل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی

سوال: کیا حج وعمرہ کے مناسک سے متعلق مندرجہ بالا توضیحات کے علاوہ بھی کوئی رہنمائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل ہوئی ہے؟

جواب:جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایتوں میں چند باتیں اِن کے علاوہ بھی نقل ہوئی ہیں، جن کا تعلق حج وعمرہ کے بعض متعلقات اور بعض مقامات کےفضائل سے ہے۔ اِن کی تفصیل درجِ ذیل ہے:

طواف اور نماز کا تقابل

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ طواف نمازہی کی طرح ہے، لیکن اِس کے دوران میں اگر کوئی بات کرنا چاہے تو کرسکتا ہے ۔ تاہم یہ بھلائی کی بات ہونی چاہیے۔ 28

نفل طواف کی فضیلت

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں طوافِ بیت اللہ کی یہ فضیلت بھی منقول ہے کہ جس شخص نے طواف کیا اوراِس کے بعد دورکعت نماز ادا کی ، اُس نے گویا اللہ کی راہ میں ایک غلام آزاد کر دیا۔29

حالتِ احرام میں موت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ حالتِ احرام میں کوئی شخص وفات پاجائے تو اُس کو احرام ہی کے کپڑ وں میں دفن کر دیا جائے اوراُس موقع پر آپ نے ہدایت فرمائی کہ نہ اُسے خوش بو لگائی جائے اورنہ ہی اُس کا سر اور چہرہ ڈھانپا جائے ۔ آپ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُس کو تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھائیں گے ۔30

بچوں کاحج

ایک روایت میں یہ واقعہ نقل ہوا ہے کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنا بچہ اٹھایا اور دریافت کیا: کیا یہ بھی حج کر سکتا ہے؟اِس پر آپ نے فرمایا: ہاں، البتہ اِس کا اجر تمھیں ملے گا۔31

حج کے خواہش مندمعذورین کی طرف سے حج

ایک روایت میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:اے اللہ کے رسول، میرے والد پر حج فرض ہے، لیکن وہ اِس قدر ضعیف ہو گئے ہیں کہ سواری پر ٹھیر بھی نہیں سکتے۔ کیا میں اُن کی طرف سے حج ادا کر سکتی ہوں؟ اِس پرآپ نے فرمایا: ہاں، کر سکتی ہو ۔32

حج کی نذر ماننے والے متوفٰی کی طرف سے حج

روایت میں آیا ہے کہ قبیلۂ جُہینہ کی ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: میری والدہ نے حج کی نذر مانی تھی، مگر وہ اِسے ادا کرنے سے پہلے وفات پا گئی ہیں۔ کیا میں اُن کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ اِس پرآپ نے فرمایا: ہاں، ضرور کرو۔ اگر اُن پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اُس کو ادا نہ کرتیں؟ یہ اللہ کا حق ہے، اِس لیے اِسے بھی ادا کرو، کیونکہ اللہ اِس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اُس کا حق ادا کیا جائے۔33

حج بدل کرنے والے کے لیے ایک ہدایت

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے تلبیہ پکارتے ہوئے کہا: ’لبيك عن شبرمة ‘، ’’اے اللہ،میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں‘‘۔ آپ نے فرمایا: یہ شبرمہ کون ہے ؟ اُس نے عرض کیا:یہ میرا ایک بھائی ہے ۔ آپ نے پوچھا : کیا تم اپنا حج ادا کر چکے ہو؟ اُس نےجواب دیا : نہیں ۔اِس پرآپ نے فرمایا : پہلے اپنا حج ادا کرلو، پھر شبرمہ کی طرف سے کرلینا۔34

مسجد حرام کا مقام

مسجدِ حرام میں پڑھی گئی نماز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کے سوا دوسری تمام مسجدوں میں پڑھی گئی ایک لاکھ نمازوں سے افضل قرار دیا ہے۔ 35

مسجدِ نبوی کا مقام

مسجدِ نبوی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری اِس مسجد میں ادا کی جانے والی ایک نماز، مسجد الحرام کے سوا دوسری تمام مسجدوں میں پڑھی جانے والی ہزار نمازوں سے افضل ہے ۔36

  1. 1۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1538، 1539۔ صحیح مسلم ، رقم 1190، 1191 ۔
  2. 2۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1835 ، 1540، 1840۔صحیح مسلم ، رقم 1202 ، 1184، 1205۔
  3. 3۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 842، 843۔ صحیح مسلم ، رقم 1177، 1178، 1179۔
  4. 4۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1824 ۔ صحیح مسلم ، رقم 1196۔
  5. 5۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1826، 1829۔ صحیح مسلم ، رقم 1199۔
  6. 6۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1409۔
  7. 7۔ دیکھیے: سنن ابن ماجہ ، رقم 2923۔
  8. 8۔ دیکھیے: سنن ابن ماجہ ، رقم 2921۔
  9. 9۔ دیکھیے: سنن ابی داؤد ، رقم 1814۔
  10. 10۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1614۔ صحیح مسلم ، رقم 1235۔
  11. 11۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم1509۔سنن ابی داؤد ، رقم1876۔
  12. 12۔ طواف کرتے ہوئے بیت اللہ کی عمارت کا وہ کونا جو حجرِ اسود کے کونے سے پہلے آتا ہے، اُس کو رُکن یمانی کہتے ہیں، اِس لیے کہ وہ یمن کی سمت میں واقع ہے۔
  13. 13۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1606۔ صحیح مسلم ، رقم 1267، 1268۔
  14. 14۔ دیکھیے:صحیح بخاری ، رقم 464۔صحیح مسلم ، رقم 1276۔
  15. 15۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1218۔
  16. 16۔ دیکھیے:صحیح مسلم ، رقم 1218۔
  17. 17۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1218۔
  18. 18۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1218۔
  19. 19۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 970۔ صحیح مسلم ، رقم 1285۔
  20. 20۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1348۔
  21. 21۔ دیکھیے: صحیح مسلم،رقم 1218۔ یہ وادی، منیٰ ومزدلفہ کے ما بین واقع ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں دورانِ حج میں لوگ یہاں بھی ٹھیرتے اور اپنے آبا واجداد کے مفاخر بیان کرتے تھے۔ چنانچہ اللہ کی ہدایت کے مطابق مناسکِ حج میں اُن کی اِس غلط روش کی بھی مخالفت کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے، نہ صرف یہ کہ یہاں قیام نہیں فرمایا، بلکہ اِس وادی سے تیزی سے گزر گئے۔دیکھیے: الشیخ محمد بن صالح بن محمد عثیمین ،الشرح الممتع على زاد المستقنع 7/316۔
  22. 22۔ دیکھیے: مسند احمد، رقم23776، 23777۔ صحیح ابن خزیمۃ، رقم 2975۔ سنن ابی داؤد ، رقم 1976۔
  23. 23۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1746۔صحیح مسلم ، رقم 1299۔
  24. 24۔ دیکھیے: صحیح بخاری، رقم 1748، 1750، 1751، 1753۔صحیح مسلم، رقم 1218، 1296۔
  25. 25۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم1216۔
  26. 26۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1729۔صحیح مسلم ، رقم 1301۔
  27. 27۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم1727۔صحیح مسلم ، رقم1303۔
  28. 28۔ دیکھیے: ترمذی ، رقم 960۔
  29. 29۔ دیکھیے: ابن ما جہ، رقم 2956۔
  30. 30۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم1268۔صحیح مسلم ، رقم 1206۔
  31. 31۔ دیکھیے: صحیح مسلم ، رقم 1336۔
  32. 32۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1513۔صحیح مسلم ، رقم 1334۔
  33. 33۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم1852۔
  34. 34۔ دیکھیے: سنن ابی ابو داؤد ، رقم 1811۔
  35. 35۔ دیکھیے: مسند احمد، رقم 15271۔
  36. 36۔ دیکھیے: صحیح بخاری ، رقم 1190۔صحیح مسلم ، رقم 1394۔